فہرست مضامین

سیرتِ طیبہ کا ایک پہلو

موجودہ حالات میں ہم قومی سطح پر جن مسائل سے دوچار ہیں اور اخلاقی لحاظ سے جس تنزل کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسوۂ رسول ﷺ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور سیرتِ طیبہ کی روشنی سے ہم نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ سیرتِ طیبہ اور شریعتِ محمدیہ علی صاحبہا افضل التحیۃ والسلام کو اگر آج بھی ہم اپنا رہنما بنا لیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے معاشرتی، تمدنی، معاشی، سماجی، اخلاقی، سیاسی تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ آئندہ صفحات میں اسی مقصد کے پیشِ نظر سیرت طیبہ کے ایک پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت پر لاکھوں نہیں کروڑوں صفحات لکھے جا چکے ہیں۔ کروڑوں لکھے جا رہے ہوں گے اور اربوں کھربوں آئندہ لکھے جائیں گےمگر سیرت کا مطالعہ کرنے والوں کو تاقیامت تشنگی محسوس ہوتی رہے گی۔

وَرَفَعًنَا لَكَ ذِكرَكَ

کا تقاضا ہی یہ ہے کہ حبیب ﷺ کبریا کی شان کبھی ختم نہ ہو۔ آپ ﷺ کی زندگی کے جس پہلو کو بھی ایک بار پڑھ لینے کے بعد اگر کوئی شخص دوسری بار پڑھے گا تو ہر بار علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی نئی راہیں کھلیں گی۔ زندگی کے اندھیروں کو منور کرنے کے لئے نئی روشنی میسر آئے گی۔ آئیے آج اس جذبے سے سیرت طیبہ ﷺ کے ایک پہلو کا مطالعہ کریں اور یہ تہیہ کریں کہ مطالعہ کے بعد ہم اپنے عمل سے آنحضرت ﷺ کے اتباع کا ثبوت بہم پہنچائیں گے۔

سفید پوشی اور خود ستائشی نے آج کل ہمیں اس قدر متساہل اور آرام پسند بنا دیا ہے کہ اگر خاندان کا کوئی بچہ مڈل یا میٹرک کر جائے تو وہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو عار سمجھتا ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں انہیں قابلِ نفرت گردانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مزدور کو صحیح مقام میسر نہیں اور محنت مزدوری کرنے والے شخص کو لوگ حقیر جانتے ہیں اس بات کو دیکھ کر اور بھی دکھ ہوتا ہے کہ مغربی ممالک کی تقلید میں ہم اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ اگر کوئی تحریک مغرب میں جنم لے تو ہم اس بات کو اپنانے اور اس پر عمل کرنے کو عین سعادت سمجھتے ہیں۔ دشمن کے سنگریزوں کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے تو دیکھتے ہیں مگر چودہ سو سال سے جو لعل و گہر اسلامی تاریخ اور اپنے اسلاف کی بدولت ہماری جھولیوں میں موجود ہیں ہم نے کبھی انہیں حقیقت کی آنکھ سے دیکھنا گوارا نہیں کیا۔

۱۹۶۳؁ء کی بات ہے پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے SOCIAL AND MANUAL WORK کے نام سے ایک سکیم یونیورسٹی کے طلبا و طالبات اور مغربی پاکستان کے ڈگری کالجوں میں نافذ کی گئی۔ اس کے روحِ رواں اس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر حمید احمد خاں مرحوم تھے۔ انہوں نے اس سکیم کی ابتدا کرتے ہوئے خود اپنے ہاتھ سے یونیورسٹی میں صفائی کی مہم شروع کی۔ طلبا و طلبات نے یونیورسٹی میں پھولدار نمائشی گملوں پر روغن کیا یونیورسٹی کے احاطہ میں طلبا و طالبات نے جھاڑو دے کر احساس کمتری کے اس بت کو توڑنے کی کوشش کی کہ اعلیٰ تعلیم ہاتھ سے کام کرنے کی راہ میں حائل ہے۔ یونیورسٹی اور ملحقہ کالجوں کے طلباء کو مختلف دیہات میں بھیجا گیا۔ ۳ روپے یومیہ پر طلباء و طالبات دس پندرہ دنوں کے لئے دیہات میں پھیل جاتے جہاں وہ اجتماعی ترقیاتی سکیموں کے تحت تعمیر ہونے والی عمارات پر مزدوروں کی طرح کام کرتے تھے وہ اینٹیں ڈھوتے اپنے سروں پر گارے کی بھری تگاریاں اٹھا کر لاتے اور معمار تک پہنچاتے تھے۔ مقصد اس سکیم کا یہ بتایا گیا کہ طلباء میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ہاتھ سے کام نہ کرنے کی جو روش چل نکل ہے اسے کچلا جائے اور ان میں یہ احساس بیدار کیا جائے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان اگر اپنے ہاتھ سے کام کرے تو یہ عار نہیں بلکہ فضیلت و شرف کا ایک پہلو ہے۔ سوشل ورک کے لئے طلباء دیہاتیوں میں گھل مل جاتے اور انہیں ان کے روز مرہّ کاموں میں مفید مشورے دیتے تھے انہیں باہم مل جل کر زندگی بسر کرنے کی اہمیت پر لیکچر دیتے تھے۔

اخبارات میں پڑھا کہ یہ سکیم طلباء میں اس لئے رائج کی گئی کیونکہ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں طلباء تعطیلات کے دنوں میں دیہاتوں میں پھیل جاتے ہیں۔ یومیہ اجرت پر کسانوں اور مزدوروں کا روپ دھارلیتے ہیں اور لوگوں کے گھروں میں قلعی کر کے، کھیتوں میں محنت مزدوری کر کے تعلیمی سال (ACADEMIC YEAR) کے لئے فیسوں کا انتظام خود کر لیتے ہیں۔ اس طرح وہ محنت و مشقت کی زندگی کے عادی بنتے ہیں۔ اور والدین پر بوجھ بھی نہیں بنتے۔ امریکہ کی اسی تقلید میں ہم نے بھی یونیورسٹی فنڈ سے پیسے دے کر طلباء کو دیہاتوں میں بھیجا۔ یہ سکیم تقریباً چار سال تک نافذ رہی۔ اب علم نہیں اس کا کیا حشر ہوا۔ اتنا یاد ہے کہ ستمبر ۱۹۶۵؁ء کی جنگ کے بعد متاثرہ علاقوں میں طلباء نے نہایت جانفشانی سے کام کیا اور وہاں متاثر لوگوں کی بحالی کے سلسلے میں حکومت نے جو مکانات تعمیر کیے ان میں طلباء کی محنت بہرحال یاد گار رہے گی۔

ان سب باتوں کے پیش نظر یہ خیال پیدا ہوا کہ اہلِ وطن یورپی ملکوں کی تقلید کو شائستگی، تہذیب اور اعلیٰ کردار کی خوبی گردانتے ہیں مگر خود اپنی تاریخ کی گرانما یہ دولت ان کی نگاہوں سے ہنوز پوشیدہ ہے۔ آئیے ہم سیرۃ النبی ﷺ کی روشنی میں جائزہ لیں کہ مغرب نے تو یہ سب کچھ حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات کی خوشہ چینی سے حاصل کیا۔ وہ کتابیں اور علمی جواہر پارے تو ہمارے اپنے آباؤ اجداد کی میراث ہیں جن کی بدولت مغرب نے اخلاق اور شائستگی کا سبق سیکھا جنہیں یورپ میں دیکھ کر شاعرِ مشرق علیہ الرحمۃ کا دل پارہ پارہ ہوا۔ ؎

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر حضرت رسولِ اکرم ﷺ تک جتنے بھی انبیاء اور رسول آئے سب نے اپنے ہاتھوں اپنے گھر کے کام سنوارے، امت کے کام آئے۔ محنت و مزدوری کر کے پیٹ پالتے رہے۔ اپنے ہاتھ سے کام کر نے کو کبھی عیب نہ جانا بلکہ رزقِ حلال کی خاطر اپنے ہاتھ سے محنت و مشقت کر کے امت کے سامنے ایک نمونہ پیش کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیت اللہ کے معمار ہونے کا شرف حاصل کیا۔ ذرا تصوّر کیجیے کہ وہ کون تھا جو خانہ کعبہ کی تعمیر کے لئے سر پر گراں پتھر اُٹھا کر لاتا تھا اور وہ کونسی ہستی تھی جو اپنے دستِ مبارک سے گارا لگا لگا کر ان پتھروں سے کعبہ کی دیواریں اُٹھا رہی تھی؟ اگر نہیں جانتے تو قرآن سے پوچھئے وہ بتاتا ہے کہ باپ بیٹا جن میں سے ایک مزدور اوردوسرا معمار تھا وہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کے جد امجد ہی تو تھے۔

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (سورہ بقرہ۔ ۱۲۷)

اور وہ وقت بھی یاد کیجیے جب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ خدا کے گھر کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے ؎

وہ دنیا میں گھر سب سے پہلا خدا کا

خلیل ایک معمار تھا جس بنا کا

حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا۔

وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا (سورہ ھود: ۳۷)

(اے نوحؑ! ہماری ہدایت اور حکم کے مطابق ہمارے سامنے کشتی تیار کرو)

خدا تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں حضرت نوحؑ نے بڑھئی کا فریضہ ادا کیا اور قوم نے یہ مذاق بھی کیا کہ اے نوحؑ تو پیغمبر تھا اور آج پیغمبر سے بڑھئی بن گیا ہے۔

حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں خدا کہتا ہے:

وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ (10) أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ (السباء: ۱۰-۱۱)

(اور ہم نے داؤدؑ کے لئے لوہے کو نرم کر دیا اور حکم دیا کہ تم پورے بدن کی (حفاظت کے لئے) زر ہیں تیار کرو اور ان کی کڑیاں ترتیب کے ساتھ جوڑو)

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِنْ بَأْسِكُمْ (الانبیاء: ۸۰)

(اور ہم نے داؤد علیہ السلام کو تمہارے (بدن کی حفاظت کی خاطر) لباس تیار کرنے کا طریقہ سکھایا تاکہ یہ لباس (زرہیں) لڑائی میں تمہارے کام آئے)

گویا امت کی خاطر حضرت داؤدؑ کو ''لوہار'' بنا دیا۔ اور ساری عمر زرہیں بنا بنا کر روزی کا سامان کرتے رہے۔ حدیثِ رسول ﷺ اس بات کی تائید کرتی ہے۔

إن نبي اللّٰہ داود کان یأکل من عمل یده۔ (بخاری شریف)

(اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کے ذریعے لوہا کوٹ کوٹ کر روٹی کا سامان کیا کرتے تھے)

ذرا سوچیے کہ ایک پیغمبر حدّاد بن کر سارا دن زرہیں ڈھالتا اور ان کی اجرت سے روزی کماتا تھا۔ ایک لوہار کی محنت اور مشقت کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔ ہتھوڑے کی ضربوں سے بدن کا ایک ایک جزو چور ہو جاتا ہے۔ بھٹی کی آگ سے جسم کا رواں رواں دہک اُٹھتا ہے، آگ کی تپش سے جسم کا خون تک کھول اُٹھتا ہے۔ مگر یہ سب کام پیغمبر کرتے رہے۔

حضرت زکریا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے۔

کان زکریا علیه السلام نجاراً۔ (مسلم شریف)

(حضرت زکریا علیہ الصلوٰۃ والسلام بڑھئی کا پیشہ اختیار کیے ہوئے تھے)۔

حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کو معمار مزدور، حضرت نوحؑ اور حضرت نوحؑ اور حضرت زکریاؑ کو بڑھئی اور حضرت داؤدؑ کو لوہار بنا دینے سے آخر خدا تعالیٰ کی کیا منشا تھی؟

حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور حضرت رسول اکرم ﷺ بکریاں چراتے رہے، ان اولو العزم پیغمبروں کو بکریاں چرانے کی خدمت سونپنے کا کیا مقصد تھا؟

صرف اور صرف یہی کہ عوام الناس اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کو حقیر نہ جانیں۔ حضرت رسول اکرم ﷺ کی ساری زندگی اور زندگی کا ایک ایک گوشہ چھان لینے کے بعد ہم پر یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت رسولِ اکرم ﷺ نے محنت مزدوری کرنے والوں کے لئے بہترن نمونہ چھوڑا۔ زندگی کا وہ کون سا پہلو ہے جس کے بارے میں ہمیں اسوۂ رسول ﷺ سے رہنمائی نہ ملتی ہو۔

آنحضرت ﷺ نے ساری زندگی کبھی ہاتھ سے کام کرنے کو عیب نہ جانا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں نہ صرف اپنے بلکہ لوگوں کے کام بھی سنوارے اور کبھی ہاتھ ہلانے کو عار نہ سمجھا مگر ہم ہیں کہ خود نمائی اور خود پسندی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں سے اگر ایک طالب علم میٹرک پاس کر لے تو وہ اپنے گھر کا کام کاج کرنے سے جی چراتا ہے۔ وہ اس احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے کہ اگر اس نے اپنے ہاتھوں سے کام کیا تو لوگ کہیں گے کہ دیکھو فلاں لڑکا میٹرک کرنے کے بعد بھی اپنے ہاتھوں سے کام کر رہا ہے۔

ہمارے ملک میں بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہر میٹرک۔ ایف اے۔ بی اے یا ایم اے یہ سمجھتا ہے کہ اس کے لئے کرسی ہو۔ ایک دفتر ہو جہاں بیٹھ کر وہ صرف حکم چلا سکے یا پھر کرسی پر بیٹھ کر قلم کے ذریعے فائلوں کے انبار میں کھویا رہے۔ گویا کلرک بننا اس کے لئے باعثِ فخر اور باعثِ عزم و احترام ہے۔ سفید پوشی نے اس حد تک ہمیں گمراہ کیا ہے کہ ہم اپنے گھر کا کام کاج بھی اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہوئے ڈرتے ہیں اور ہمارے ذہنوں پر یہ خوف طاری رہتا ہے کہ اگر ہمیں کسی دوست یا عزیز نے کام کرتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ سمجھے گا کہ ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ ایک نوکر بھی نہیں رکھ سکتے یا ڈگری حاصل کر لینے کے بعد اگر ہم کرسی پر بیٹھنے کی بجائے کسی دوکان میں بیٹھ گئے، کوئی تجارت شروع کر لی، یا کھیتی باڑی میں ہی لگ گئے یا اور کوئی ہنر اپنا لیا تو دوست احباب ہمیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ کیجیے کہ اگر ہم لوہار بن گئے، بڑھئی کا پیشہ اپنا لیا یا معمار اور مزدور کی سی زندگی بسر کرنے کا تہیہ کر لیا تو لوگ ہمیں طعنہ دیں گے کہ اتنی تعلیم کے بعد اگر یہی کام ہی کرنا تھا تو پھر تعلیم حاصل کیوں کی؟ ہم نے دل میں طرح طرح کے جھوٹے خیالات کی پرورش تو کی مگر ذہن سے اس حقیقت کو جھٹک دیا کہ جب انبیاء نے یہ سارے پیشے اپنائے ہیں تو ہمیں عار کس بات کی؟ احساس کمتری اور طعنوں کے اس خوف نے ہمیں فاقہ کشی تک پہنچا دیا مگر ہاتھ ہلا کر کسی پیشے کے ذریعے کسبِ معاش کرنے کی اجازت نہ دی۔ یہ محض خود فریبی ہے کہ ہم محنت مزدوری کو عیب، تجارت صنعت و حرفت اور کاشتکاری کو قابلِ نفریں گردانتے ہیں۔ سیرت پاک کا مطالعہ کر کے دیکھیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود فریبی کے ان جھوٹے اور خود تراشیدہ بتوں کو کس طرح پاش پاش کیا ہے۔

حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے پہلے کی زندگی بھی اتنی صاف اور پاکیزہ تھی کہ کوئی معترض آج تک اس پر حرف گیری نہیں کر سکا۔ اس جوانی کے ذمانہ میں جس میں اکثر لوگ بہک جاتے ہیں آنحضرت ﷺ ''صادق'' اور ''امین'' تسلیم کیے جا چکے تھے۔ اس زمانے کی بات ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی اور حجرِ اسود کو نصب کرنے کا مرحلہ درپیش تھا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ تلواریں میانوں سے باہر نکل آئی تھیں۔ اس وقت بھی رسول اکرم ﷺ خانہ کعبہ کی تعمیر کے لئے کعبہ کی چار دیواری میں موجود تھے۔ دوسری صبح آپ ﷺ کے ناخنِ تدبیر نے ہی اس گتھی کو سلجھایا تھا کہ حجرِ اسود کو اس کے مقام پر کون نصب کرے۔ آپ ﷺ نے اپنی چادر مبارک بچھائی۔ حجرِ اسود کو اس میں رکھا اور سردارانِ قریش سے کہا کہ سب مل کر اس چادر کو اُٹھائیں۔ جب حجرِ اسود کے مقام پر پہنچی تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے اُٹھا کر اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔

سیرتِ پاک کے مطالعے سے اگرچہ واضح ہے کہ آپ ﷺ نے تمام عمر اپنے ہاتھوں سے محنت و مشقت کرنے کو کبھی عیب نہ جانا مگر چند واقعات ایسے بھی ہیں جن کا بیان موجودہ دَور کے اُں خود پسند اور فریب خوردہ شاہینوں کے لئے سامانِ عبرت ہے جو اپنے ہاتھوں کام کرنے کو کسرِ شان تصوّر کرتے ہیں۔

جب آپ ﷺ نے مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو مدینہ طیبہ سے تین میل دور وادی قبا میں آپ ﷺ نے چودہ دن تک قیام فرمایا۔ یہاں آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی اس مسجد کو قرآن نے ''لمسجد اسس علی التقویٰ'' کی شان سے سرفراز کیا۔

ذرا تصور کیجیے اس مسجد کی تعمیر میں صبح و شام منہمک مزدور اور معمار کون تھے؟ تاریخ شاہد اور چشمِ فلک گواہ ہے کہ حضرت رسولِ اکرم ﷺ عام مزدوروں کی طرح مسجد کی تعمیر میں مصروف تھے۔ بھاری بھر کم پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے جسمِ اطہر خم ہو جاتا۔ جانثارانِ شمع رسالت آتے، عرض کرتے، آپ ﷺ تکلیف نہ کیجیے۔ وہ بڑھ کر پتھر آپ ﷺ کے ہاتھوں سے لے لیتے مگر دوسرے لمحے رحمۃٌ للعالمین اس وزن کا پتھر پھر اُٹھا لیتے۔ اس واقعہ سے ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا حضرت رسول اکرم ﷺ کے پاس مزدور نہ تھے؟ کیا آپ ﷺ کے جانثاروں کی تعداد کم تھی؟ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ جوہر وقت آپ ﷺ کی اک جنبش ابرو کے منتظر رہا کرتے تھے۔ وہ جو آپ ﷺ کے اشارے پر مال و دولت، جاہ و حشمت، عزیز و اقارب اور وطن جیسی عظیم شے کو تج کر آئے تھے۔ اور وہ جو کتنے دنوں سے اپنی آنکھیں فرشِ راہ کیے ہوئے تھے وہ جو ''ثنیات الوداع'' کی گھاٹیوں سے طلوع ہونے والے بدر منیر کی خاطر انتظار کی لذتیں اُٹھا رہے تھے وہ سب ایک جنبشِ لب پر جانیں نثار کر سکتے تھے مگر رحمۃ للعالمین کو یہ احساس تھا کہ کل کوئی مزدور یہ نہ کہہ سکے کہ وہ معاشرے کا حقیر ترین فرد ہے۔ اور کوئی حاکم یہ نہ سمجھ لے کہ اسلام آقا اور غلام میں تمیز کا قائل ہے۔ مگر آج ہم نے محنت و مزدوری کر کے پیٹ پالنے والوں کو ذلت و حقارت کی نگاہوں سے دیکھا۔ ہم نے حلال روزی کمانے والے انسان کی عظمت کو للکارا۔ ہم نے خون پسینہ ایک کر کے بال بچوں کے لئے روٹی کا سامان کرنے والے کو محض ''مزدور'' جانا۔ ہم نے کبھی یہ خیال نہ کیا کہ یہ تو اسوۂ رسول ہے یہ تو انبیاء کی سنت ہے۔ وادیٔ قبا میں مسجد بنی، آنحضرت ﷺ نے سب سے پہلا خطبۂ جمعہ یہیں ارشاد فرمایا اس کے بعد مدینہ پہنچے۔

مدینہ طیبہ میں قیام کے چند روز بعد یہاں بھی آپ ﷺ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ خانۂ خدا کے لئے زمین حاصل کی۔ مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔ فلک پر ہی نہیں جن و انس، آسمان کے فرشتے، عرش و کرسی اس منظر کو حیرت و استعجاب سے دیکھ رہے تھے کہ سید الاولین والاخرین محبوب رب العالمین اور شہنشاہِ دو عالم ایک دفعہ پھر مزدور کے روپ میں ہیں۔ جانثاروں کی تعداد کم نہ تھی۔ مزدوروں کا شمار نہ تھا لیکن رحمتِ دو عالم کو یہ گوارا نہ تھا کہ عرب کی چلچلاتی دھوپ میں ساتھی تو سختیاں سہیں مشقتیں اُٹھائیں اور وہ خود سائے میں کھڑے انہیں دیکھتے رہیں۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں آنحضرت ﷺ جب صحابہؓ کے ہمراہ بھاری پتھر اُٹھا کر لاتے تھے تو صحابہ یہ رجزیہ شعر پڑھتے تھے۔

أفلح من یعالج المساجد

ویقرء القراٰن قائِمًا وقاعدا

(جو خدا کے گھر کی تعمیر کرتا ہے اور قیام و قعود کی حالت میں قرآن پڑھتا ہے وہ نجات پا گیا) تو حضور اکرم ﷺ فرماتے:

اللھم لا خیر إلا خیر الآخرة

فاغفر الأنصار والمهاجرہ

(اے اللہ اصلی زندگانی تو آخرت کی زندگانی ہی ہے پس تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے)

تیسرا اور سب سے اہم واقعہ خندق کی کھدائی کا ہے۔ ۵ ؁ھ میں کفار کے تمام قبائل نے مل کر مسلمانوں پر ضرب کاری لگانے کا منصوبہ بنایا تو حضرت رسول اکرم ﷺ نے اس حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے صحابہؓ سے مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کی رائے کو تسلیم کر لیا گیا کہ مدینہ کے گرد خندق کھود کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے تین ہزار صحابہؓ کے ہمراہ خندق کی کھدائی شروع کی۔ دس دس آدمیوں میں دس دس گز زمین تقسیم کر دی گئی۔ خندق کی گہرائی پانچ گز رکھی گئی۔ تین ہزار مقدس ہستیوں نے بیس دن کے اندر کھدائی مکمل کر لی۔

ساتوں آسمان، سورج، چاند، ستارے، جن و ملک، حور و پری اور کائنات کا ایک ایک ذرہ اس منظر پر لرزہ براندام تھا کہ پیغمبر کائنات، نبی آخر الزمان، سرور دنیا و دین ذو قعدہ کی آٹھ تاریخ کو پھر اپنے ہاتھ میں کدال لیے صحابہؓ کے ساتھ خندق کھودنے میں مصروف ہیں۔ چشم فلک نے کبھی وہ نظارہ کیا تھا کہ عرب کی چلچلاتی دھوپ اور بادِ صرصر کے تھپیڑوں میں خا کا یہ محبوب مسجد قبا اور مسجد نبوی کی تعمیر کے لئے پتھر اُٹھا اُٹھا کر لا رہا ہے۔ مگر آج منظر اور بھی دلخراش اور جگر سوز تھا۔ یہ وہ منظر تھا کہ جس کی تفصیل سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جسم و جاں پر ایک لرزہ طاری ہو جاتا ہے ۔ آج چشم فلک کیا دیکھتی ہے؟ حور و غلمان اور فرشتے اس بات پر انگشت بدنداں ہوں گے کہ سردیوں میں یخ بستہ راتیں ہیں، مدینہ طیبہ کے ان مزدوروں اور مجاہدوں کو تین دن فاقے سے گزر گئے ہیں حال یہ ہو گیا ہے کہ کمر سیدھی رکھنے کے لئے پیٹ پر پتھر باندھنا پڑے ہیں مگر یہ مزدور بھی کیا مزدور ہیں اور ان مزدوروں کا آقا بھی کیسا آقا ہے کہ سب بھوکے ہیں یہاں آقا اور مزدور میں کوئی فرق نہیں۔ یہاں مالک اور مملوک میں کوئی فاصلہ نہیں۔ یہاں غلام اور آقا میں مساوات ہے۔ یہاں سپہ سالار اور ادنیٰ سپاہی دونوں کے دستر خوان نانِ جویں سے بھی محروم ہیں۔ مگر کام ہو رہا ہے۔ مہاجرین و انصار خندق سے مٹی اٹھا اٹھا کر باہر پھینک رہے ہیں۔ بھوک سے گرچہ نڈھال ہیں مگر کام اسی چستی اور قوت سے جاری ہے، جوشِ محبت میں صحابہؓ یک زبان ہو کر یہ نعرہ لگاتے ہیں۔

نحن الذین بایعوا محمدا علی الجھاد ما بقینَا أبدا

سرورِ کونین ﷺ اس رنگ و روپ میں نظر آتے ہیں۔ مٹی اٹھاتے اٹھاتے سر مبارک غبار آلود ہو گیا ہے۔ چہرۂ انور مٹی سے اٹا ہوا ہے۔ شکمِ اطہر پر مٹی کی تہیں جم گئی ہیں اور جونہی صحابہؓ کے رجز کی آواز سنائی دیتی ہے تو جواباً فرماتے ہیں:

واللّٰہ لو لا اللّٰہ ما اھتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا

إن الأولٰی بغوا علینا إذا أرادوا فتنة أبینا

(قسم بخدا اگر خدا ہمیں ہدایت نہ دیتا تو نہ ہم نماز پڑھتے نہ روزہ رکھتے۔ بے شک کفار نے ہی ہم پر جنگ مسلط کی ہے اور جب انہوں نے فتنہ و فساد کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو ہم اس فتنے کا انکار کرتے ہیں یعنی ہم اس کو روکیں گے)

''ابینا'' کے لفظ پر آواز اور بلند ہو جاتی تھی۔ اسی لفظ کو بار بار دہراتے تھے اور انصار و مہاجرین کو یوں دعا دیتے تھے۔

اللھم إنه لا خیر اإلاخیر الآخرة فتبارك الأنصار والمهاجرہ

خندق کی کھدائی کے دوران ایک سخت چٹان آگئی۔ صحابہؓ نے اس کو توڑنے کی بہت کوشش کی مگر چٹان ٹوٹے نہ بنتی تھی۔

آنحضرت ﷺ سے التجا کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ فاقہ کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے ہیں باوجود پورا زور صرف کرنے کے چٹان ٹوٹتی نظر نہیں آتی۔ حضرت رسول اکرم ﷺ تشریف لائے۔ تین دن کا فاقہ ہے۔ کدال ہاتھ میں لے کر نعرۂ تکبیر بلند کیا اور چٹان کے سینے پر بھرپور وار کیا۔ ایک ہی وار سے چٹان تودۂ خاک تھی۔ جب صحابہؓ نے آپ ﷺ کے سامنے فاقہ کا حال بیان کیا تو آنحضرت ﷺ نے انہیں کوئی جواب تو نہ دیا مگر اپنے بطنِ مبارک سے کرتہ اٹھایا۔ میرا ایمان کہتا ہے کہ اس دلدوز منظر پرزمین و آسمان کانپ اُٹھے ہوں گے۔ عرش و کرسی لرز گئے ہوں گے اور حور و غلمان اور فرشتے تڑپ گئے ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ کے پیٹ مبارک پر بھی اسی طرح پتھر بندھا ہوا ہے جس طرح آپ کے جانثاروں کے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے ہیں۔ ہمارے معاشرے نے مزدور اور جفا کش لوگوں کی عزت و عظمت کا اعتراف کرنے سے انکار کیا، رزق حلال کھانے والے انسانوں کو ذلت اور پستی میں دھکیل دیا۔ ادھر رحمتِ دو عالم ﷺ نے خود محنت و مشقت کر کے اس پیشے کو اعلیٰ و ارفع ہونے کی سند فضیلت عطا کی۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

لأن یأخذ أحدکم حبله ثم یأتي الجبل فیأتي بحزمة من حطب علی ظھرہ فیبیعھا فیکف اللّٰہ بھا وجھه خیر له بمنان یسأل الناس أعطوہ أم منعوه۔ (أخرجه البخاری)

(تم میں سے اگر کوئی اپنی رسی لے کر پہاڑوں کی طرف چلا جائے اور وہاں سے اپنی کمر پر لکڑیوں کا گٹھا لاد کر لائے اور اسے بیچ دے تو اس کے اس فعل (محنت اور مشقت کے ذریعے حلال کی کمائی) کی وجہ سے خدا تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھیں تو یہ بات لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بہتر ہے یہ پتہ نہیں کہ ہاتھ پھیلانے پر کچھ تو اسے دے دیں اور کچھ اسے نہ دیں)

دوسری جگہ آپ ﷺ نے فرمایا:

لأن یحتطب أحدکم حزمة علی ظھرہ خیر له من أن یسأل أحدًا فیعطیعه أم یمنعه۔ (اخرجہ البخاری)

(تم میں اگر کوئی اپنی پشت پر ایندھن کا گٹھا لاد لائے تو یہ بات کسی ایسے شخص کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بدرجہا بہتر ہے کہ جو ممکن ہے اس کی ہتھیلی پر چند سکّے رکھ دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اسے دھتکار دے)

ایک جگہ فرمایا:

''ما أکل أحد طعامًا قط خیرًا من أن یأکل من عمل یدیه۔ (اخرجہ البخاری)

(اس انسان سے بہتر کھانا کبھی کسی نے نہیں کھایا جو پانے ہاتھوں محنت مزدوری کر کے کھاتا ہے)

کتنی ہی آیات و احادیث اس بات پر گواہ ہیں کہ کسی پیغمبر نے بھی اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو کسرِ شان نہیں سمجھا بلکہ خود محنت مزدوری کے ذریعے رزقِ حلال کھاتے رہے اور اپنی اپنی امتوں کے لئے یہی نمونہ چھوڑ گئے۔

حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان تین موقعوں پر ہی اپنے دستِ مبارک سے کام نہیں کیا بلکہ آپ ﷺ کی ساری زندگی اور زندگی کا ہر دن جدوجہد اور پیہم عمل کی ایک لمبی داستان ہے۔ تاریخ کے اوراق آپ کی سیرتِ طیبہ کے ایسے واقعات سے بھرے ہوئے ہیں جن میں ہم آپ کو ایک عام انسان کی طرح اپنے گھر کے کسی کام کاج میں مصروف پاتے ہیں۔ کھانا پکانے میں آپ ﷺ امہات المومنین کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ نہ صرف اپنے گھر کے لئے بازار سے سودا سلف لایا کرتے بلکہ پڑوسیوں سے بھی ان کی ضروریات دریافت کر کے انہیں مہیا فرماتے۔

کیا یہ واقع نہیں کہ جب مکے کی گلیوں اور کوچہ و بازار میں ابوجہل اور ابو لہب نے یہ منادی کرا دی کہ (نعوذ باللہ) محمد ﷺ جادوگر ہیں۔ ہر خاص و عام کو متنبہ کیا گیا کہ وہ آپ ﷺ کے جادو سے بچ جائیں۔ عین انہی ایام میں ایک بوڑھی عمر کی بدوی عورت نے مکے کے بازار سے سودا سلف خریدا۔ گٹھڑی بوجھل ہو گئی اس کا اٹھانا دشوار ہو گیا۔ اس خوف سے چھپتی پھرتی ہے کہ کہیں جادوگر کا اس پر جادو نہ چل جائے مگر قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ آنحضرت ﷺ سے ملاقات ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا اماں جی! کدھر کا ارادہ ہے؟ لائیے گٹھڑی میں اٹھا لیتا ہوں۔ بڑھیا نے ساری صورتِ حال کہہ سنائی۔ آپ ﷺ نے نہایت سعادت مندی کے ساتھ بوجھل گٹھڑی سر پر رکھی اور مائی کے ہمراہ چل دیئے۔ مکہ سے باہر جب بڑھیا کی کٹیا تک جا پہنچے تو واپسی کے وقت بڑھیا نے دعائیں دینی شروع کیں۔ بولی، اے بچے تو بہت نیک خو ہے مگر مجھے خوف ہے کہ کہیں اس جادوگر کے پھندے میں نہ پھنس جائے جو مکہ کے کوچہ و بازار میں پھرتا رہتا ہے لہٰذا میں تجھے نصیحت کرتی ہوں کہ اس سے بچ کے رہنا۔ آنحضرت ﷺ نے پوچھا۔ اماں جی وہ جادوگر کون ہے؟ اس کا نام کیا ہے؟ بڑھیا نے کہا لوگ اسے محمدؐ محمدؐ کہتے ہیں۔ فرمایا۔ اماں جی! وہ تو میں ہی ہوں، بوڑھی حیرت زدہ ہو گئی۔ جہاندیدہ تھی کہنے لگی تمہاری طرح کا انسان جادوگر نہیں ہو سکتا۔ فوراً کلمۂ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو گئی۔

بڑے کار ساز نکلے غمِ عاشقی کے شعلے

جو بچا رہے تھے دامن وہی زد میں آگئے ہیں

فی زمانہ لفظ ''قلی'' کے لبوں پر آتے ہی ہمارے دلوں میں ایک ایسے انسان کی تصویر اُبھرتی ہے جو صرف ریلوے سٹیشنوں پر اور بازاروں میں امراء کا سامان اٹھانے کے عوض چند سکوں کا محتاج نظر آتا ہے مگر۔ ذرا انصاف سے کہے۔ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیے کہ حضرت رسولِ اکرم ﷺ نے ایک بڑھیا کی گٹھڑی بلا معاوضہ اٹھا کر قلی کے پیشے کو مقدس نہیں بنا دیا تھا۔

اس بات پر مجھے نہایت افسوس اور دکھ ہوتا ہے کہ ہم سیرتِ طیبہ کے زریں اوراق سے چشم پوشی کر کے ان محنت اور مزدوری کے پیشوں کو قابلِ نفرت گردانتے ہیں جنہیں رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے اسوۂ حسنہ کے ذریعے سند فضیلت عطا کی ہے۔

لفظ ''مزدور'' جونہی ہمارے لبوں پر آتا ہے تو ایک ایسے افلاس زدہ، فاقہ کش، نحیف و نزار اور نیم مردہ انسان کی تصویر ہماری لوح دماغ پر کیوں ابھرتی ہے جس کے جسم و جان کے معاشرے نے اس کا خون تک نچوڑ لیا ہو؟ کیا یہی وہ پیشہ نہیں جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص سے بہتر کھانا کبھی کسی نے نہیں کھایا جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتا ہے؟ کیا حضرت رسولِ اکرم ﷺ نے مسجد قبا، مسجد نبوی اور خندق کی کھدائی میں خود پتھر اٹھا اٹھا کر مزدور کی عطت اور عظمت کا جواز مہیا نہیں کیا؟

''چرواہے'' کا نام زبان پر آتے ہی ہمارے دل و دماغ میں ایک اُجڈ، گنوار اور غریب و مسکین شخص کو تصویر کیوں ابھرتی ہے؟ کیا حضرت رسولِ اکرم ﷺ نے خود بکریاں چرا کر ایک چرواہے کی عظمت و فضیلت کا احساس نہیں دلایا، وہ سادہ دل، سادہ لباس، سادہ فطرت انسان کیوں ہماری محبت و شفقت کا مرکز نہیں بن سکتا؟ صرف اس لئے کہ وہ غریب ہے امیر نہیںِ وہ سادہ لباس پہنتا ہے۔ ہماری طر سفید پوش نہیں؟ مگر بحیثیت انسان وہ افضل ہے کہ پیغمبروں کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔

ایسے تمام پیشوں کو اگر الگ الگ بیان کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔ مختصراً یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ حضرتِ رسولِ اکرم ﷺ باوجود جانثار صحابہ کی موجودگی کے جوہر آن اور ہر لحظہ خدمت کے لئے دست بستہ درِ اقدس پر موجود ہوتے تھے۔ اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔

کان یخدم نفسه (آپ ﷺ اپنی خدمت خود کیا کرتے تھے)

مغربی تہذیب کے پرستاروں سے میرا یہ سوال ہے کہ تم نے SERVICE BEFORE SELF کا محاورہ کہاں سے ایجاد کیا؟ آج جب بھی ہم کسی دعوت میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں ''اپنی خدمت آپ'' ہم طلباء کو یہی فقرہ سنا کر انہیں کہتے ہیں کہ اپنی خدمت آپ کرنا سیکھو۔ سکاؤٹوں کے اندر یہی جذبہ پیدا کیا جاتا ہے مگر خدارا ذرا یہ بتاؤ کہ کبھی ہم نے طلباء کو یہ بتایا کہ ''اپنی خدمت آپ'' کا یہ اصول ہم نے کہاں سے سیکھا ہے۔ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے تہذیب اور شائستگی کے ان تمام اصولوں کو مغرب کی تقلید سمجھ کر تو قبول کیا مگر یہ جاننے کی توفیق کبھی نصیب نہ ہوئی۔ کہ یہ جوہر ہائے آبدار تو اپنی تاریخ کی زینت ہیں۔ یہ لعل و جواہر تو اپنی میراث ہیں۔ جنہیں ہم نے غیر کے نام سے منسوب کر دیا۔ میں عربی کے طالب علموں سے اور علماء سے پوچھتا ہوں کہ تم ہی بتاؤ کہ حضرت رسولِ اکرم ﷺ کے بارے میں حضرت عائشہؓ کے ان الفاظ کا کیا ترجمہ کیا جائے گا۔ ''کان یخدم نفسه''

تاریخ کے صفحات میں سیرت طیبہ کے یہ اوراق آج جگمگا رہے ہیں کہ حضرت رسولِ اکرم ﷺ کپڑوں میں اپنے ہاتھ سے پیوند لگا لیا کرتے تھے۔ گھر میں خود جھاڑو دے لیتے تھے۔ بکریوں کا دودھ اپنے ہاتھ دودھیا کرتے تھے، جوتا مبارک پھٹ جاتا تو اس میں خود ٹانگے لگا لیا کرتے تھے۔ کنویں کے ڈول کو خود سی دیا کرتے تھے، اونٹوں کو چارہ ڈالنا، انہیں پانی پلانا، انہیں ان کے کھونٹے پر باندھنا یہ سب باتیں حضور اکرم سے ثابت ہیں۔

حضرت انسؓ جو خدمت اقدس میں س سال تک متواتر رہے وہ فرماتے ہیں ایک دن میں حضرت رسولِ اکرم ﷺ کو اونٹ کے بدن پر تیل لگاتے ہوئے دیکھا۔ ایک دفعہ یہ دیکھا کہ بیت المال کے اونٹوں کو داغ لگا رہے ہیں۔ ایک دفعہ یہ دیکھا کہ بکریوں کو داغ دے رہے ہیں۔

ازواج مطہرات کے ساتھ کام کاج میں شریک ہو جاتے تھے۔ چولہے میں خود آگ جلا دیا کرتے۔ بخاری شریف میں ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے آٹا گوندھا۔ ایک دفعہ صحابہؓ کے ہمراہ سفر فرما تھے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ صحابہؓ نے کھانا پکانے کے لئے ایک بکری ذبح کی اور کام آپس میں بانٹ لئے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ''جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کر کے میں لاؤں گا۔'' صحابہؓ نے نہایت ادب و احترام سے گزارش کی کہ ہم خود لکڑیاں بھی لے آئیں گے آپ ﷺ زحمت نہ کیجئے۔ مگر رحمۃٌ للعالمین نے فرمایا ''میں امتیاز پسند نہیں کرتا۔''

ہر بات کو (AMERICAN SYSTEM) کا نام دینے والو خدارا ذرا سوچو ہم کہاں سے کہاں آگئے ہیں۔ ہم اپنی میراث کو غیر کے گھر میں دیکھ کر پھولے نہیں سماتے اور سمجھتے ہیں کہ ہماری عظمت اور بلندی کا راز اسی میں مضمر ہے کہ ہم اسے مغربی تہذیب سمجھ کر اپنائیں۔

ایک سفر میں آپ ﷺ کے جوتے مبارک کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ آپ ﷺ اس کو ٹانکنے لگے تو ایک صحابی نے عرض کی فداک امی وابی (میرے ماں باپ قربان ہوں) مجھے خدمت کا موقع دیجیئے، میں جوتا درست کر دیتا ہوں لیکن شاہِ دو عالم فرمانروائے عرب و عجم نے فرمایا: یہ خود پسندی ہے (کہ میرا جوتا کوئی دوسرا گانٹھے) اور مجھے یہ پسند نہیں ہے۔''

''AMERICAN SYSTEM'' کا ورد کرنے والو خدارا بتاؤ اس کو کس ''SYSTEM'' سے تعبیر کرو گے؟ کیا تم یہ کہہ سکو گے کہ یہ محمد عربی علیہ افضل التحیۃ والسلام کا طریقہ ہے؟

مسند امام احمد بن حنبلؒ میں یہ واقعہ موجود ہے دو صحابی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اپنے دستِ مبارک سے اپنے مکان کی مرمت فرما رہے تھے۔ ہم بھی ساتھ شریک ہو گئے جب کام ختم ہو گیا تو آنحضرت ﷺ نے ہمارے حق میں دعائے خیر فرمائی۔

قارئین کرام! یہ تو ایک جھلک ہے سیرتِ طیبہ کی کہ حضرت رسولِ اکرم ﷺ اپنے کام اپنے ہاتھوں انجام دیا کرتے تھے مگر آنحضرت ﷺ تو دوسروں کے کام بھی اپنے ہاتھوں کو دیا کرتے تھے، وہ دو جہانوں کی رحمت کیا ہوئی جو صرف اپنے ہی گرد و پیش تک محدود ہو۔ طبقات ابنِ سعد میں واقعہ موجود ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت خبیبؓ کو جب ایک غزوہ پر بھیجا تو خود ہر روز صبح سویرے حضرت خبیبؓ کے گھر جا کر ان کی بکریوں کا دودھ دوہتے رہے۔ مدینہ طیبہ کی لونڈیاں آپ ﷺ کی خدمت میں آتیں اور کہتیں۔ ''اے اللہ کے رسولﷺ! میرا یہ کام ہے۔'' آنحضرت ﷺ نے انہیں کبھی مایوس نہ لوٹایا۔ مسلم اور ابو داؤد میں ہے۔ مدینہ کی گلیوں میں ایک پاگل لونڈی پھرا کرتی تھی، ایک دن حضرت رسول اکرم کے پاس آئی اور آپ کا دست مبارک پکڑ لیا آپ ﷺ نے فرمایا۔ ''مدینہ کی جس گلی میں تو چاہے بیٹھ میں تیرے کام آؤں گا۔'' حتیٰ کہ آپ ﷺ مدینہ کی ایک گلی میں اس کے ساتھ گئے اور اس کا کام سر انجام دیا۔

بخاری اور ابو داؤد میں ہے کہ آپ ﷺ ایک دفعہ نماز کے لئے کھڑے ہوئے، ایک بدو آیا اور آپ ﷺ کا دامن تھام لیا، آپ ﷺ نے پوچھا کیا چاہتا ہے؟ اس نے کہا۔ ''میرا تھوڑا سا کام باقی رہ گیا ہے وہ آپ ﷺ کر دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھول جاؤں۔'' آپ اسی وقت اس کے ہمراہ مسجد سے باہر تشریف لے گئے اور اس کا کام مکمل کرنے کے بعد آکر نماز ادا کی۔

ذرا غور کیجیے! یہ کیا نبی ہے؟ یہ کیسا رسول ہے؟ پاگل لونڈیاں اور بدّو تک بھی اپنے کام کے لئے اس کا دامن تھام لیتے ہیں مگر چہرۂ انور پر شکن نہیں آتی بلکہ ان کے کام کرنے کے لئے کمال مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حالی مرحوم نے کیا خوب کہا۔

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کاماویٰ یتیموں کا وال غلاموں کام مولیٰ

اب ذرا ٹھنڈے دل سے غور کیجئے اور اپنے نفس کا محاسبہ کیجیے کہ ہم نے اسوۂ رسول ﷺ کو کس حد تک اپنے دل میں جگہ دی۔ آج اگر کوئی خادم اپنے آقا سے کسی کام میں ہاتھ بٹانے کی گزارش کر دے تو آقا اسے قہر آلود نگاہوں سے یوں دیکھتا ہے گویا اس کا بس چلے تو اسے کچا نگل جائے۔

ہم دوسروں کے کام آنے سے تو رہے، اپنے کام اپنے ہاتھوں سر انجام دینا بھی ہم کسرِ شان سمجھتے ہیں بلکہ تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ اگر کوئی نیک نفس انسان اونچے مرتبہ پر فائز ہونے کے بعد اپنے گھر کے کام کاج میں خود مصروف ہو تو لوگ اسے یوں گھورتے ہیں گویا وہ سرِ عام کوئی گناہ کر رہا ہے۔ ان کی نگاہیں زبانِ حال سے پکار پکار کر کہتی ہیں کہ تم کیسے انسان ہو، تم کیسے افسر ہو کہ اپنے گھر کا کام خود کر رہے ہو؟تم ایک نوکر بھی نہیں رکھ سکتے۔ گویا وہ ''یخدم نفسہ'' نہیں کر رہا بلکہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے۔

یہ کیسی بدبختی اور کیسی کوتاہ نظری ہے کہ ہم سیرت طیّبہ کی پیروی کرنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ اور کتنی بڑی حماقت ہے کہ آنحضرت ﷺ تو لوگوں کے کام آنے کو سعادت سمجھتے رہے مگر ہم انانیت اور خود فریبی میں کھو کر عزت و عظمت اور شایان و شوکت (PRESTIGUE) کے خود ساختہ بتوں کی پوجا کرتے رہے۔

نسائی اور دارمی شریف میں ہے۔ ''ولا یأنف یمشي مع الأرملة والمسکین فیقضي له الحاجة۔''

(آنحضرت ﷺ کو کسی بیوہ یا مسکین کے ساتھ جا کر اس کا ہاتھ بٹانے میں کوئی عار نہ تھی۔)

آج حالات کی ستم ظریقی دیکھیے اگر کوئی جج، وکیل، کوئی استاد یا کوئی پروفیسر بازار سے اپنے گھر کے لئے ہاتھ میں تھیلا لیے خرید و فروخت کرتا ہوا نظر آجائے تو افسر کے ماتحت یا استاد کے شاگرد چہ مے گوئیاں کریں گے۔ وہ اشاروں کنایوں سے ایک دوسرے کو بتائیں گے کہ دیکھو فلاں افسر یا فلاں پروفیسر خود سامان خرید رہا ہے۔ گویا ایک افسر، استاد یا پروفیسر کی شان کے خلاف ہے کہ وہ عام انسانوں کی طرح اپنے گھر کے لئے سبزی خریدے یا گوشت لائے۔ گویا ضروریاتِ زندگی خریدنا اس کے وقار (STATES) کے منافی ہے۔ لیکن حضرت رسولِ اکرم ﷺ اپنے گھر کے لئے ہی نہیں بلکہ اپنے ہمسایوں کے لئے بھی سودا سلف خرید لایا کرتے تھے،جو بھی حاجتمند آتا اس کا کام کرنے میں کبھی پس و پیش نہ کرتے، وہ تو اپنے مہمان کی میزبانی کا شرف بھی کسی دوسرے کو دے کر راضی نہ تھے۔ آنحضرت ﷺ کے پاس حبش سے چند مہمان آئے صحابہؓ نے ان کی میزبانی کا شرف حاصل کرنا چاہا مگر آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے میرے دوستوں کی خدمت کی ہے میں خود ان لوگوں کی خدمت کروں گا۔

۹ ؁ھ میں وادیٔ طائف سے بنو ثقیف کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، یہ وہی سنگدل تھے جنہوں نے آنحضرت پر پتھر برسائے تھے اور جسمِ اطہر کو خونناب کیا تھا، مگر آج وہ مہمان بن کر آئے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور خود ان کی مہمانی کے فرائض ادا کرتے رہے۔

قارئین کرام! ان واقعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر

1. SOCIAL AND MANUAL WORK SCHEME

2. SERVICE BEFORE SELF

3. AMERICAN SYSTEM

ایسی مغربی اصطلاحات کا جائزہ لیں تو حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہیں کہ ہم مغرب کی تقلید میں اس قدر اندھے ہو گئے ہیں کہ اگر اسلامی تعلیمات کو مغربیت کا لبادہ پہنا دیا جائے تو وہ عین ''شریعت'' اور ''قابلِ اتباع'' اور تہذیب وشائستگی کا معیار قرار پاتی ہیں۔ مگر ہائے افسوس، ہماری آنکھوں کا کیا ہوا، اپنی تاریخ، اپنے تمدن، اپنی معاشرت اور اپنے ہی اسلاف کے اخلاق کریمانہ اور اپنے ہی نبی ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے وہ گوہر آبدار جن کی چمک چودہ صدیاں گزرنے پر بھی ماند نہیں پڑی وہ ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ ہم نے مغرب کی جدت پسندیوں کو تو طوقِ گلو کر لیا مگر سیرت النبی ﷺ کے لعل و گہر سے گلے کی مالا نہ بنا سکے۔