مارچ 2026ء

اللہ ہے نا

اللہ ہے نا

 

نام کتاب

اللّٰہ ہے نا

مصنف

محمد اکبر

اشاعت

اول: 2024ء

صفحات

324

ملنے کا پتا

ادارۃ النور، دکان نمبر 2، 3 أنور مینشن، جمشید روڈ، بالمقابل جامع مسجد بنوری ٹاؤن، کراچی، رابطہ نمبر: 03242855000

محمد اکبر ان جواں سال اہلِ علم میں سے ہیں جنھیں اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن سے ایسی قلبی وابستگی عطا فرمائی ہے جو آدمی کے علم میں روشنی اور اس کے بیان میں اثر پیدا کر دیتی ہے۔ دینی  سنجیدگی، جدید ذہن کی حساسیت اور عملی زندگی کے سوالات کو سمجھنے کی صلاحیت ان کی شخصیت میں ایک ساتھ جمع ہو گئے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے اندر وہ قرآنی فہم پیدا ہوا ہے جو محض مطالعے کا نتیجہ نہیں لگتا بل کہ ایک عطیۂ خاص معلوم ہوتا ہے۔ وہ آیت پڑھتے ہیں تو اس کے پیچھے کارفرما حکمت کو دل میں محسوس کرتے ہیں، پھر اسے اس زبان میں بیان کرتے ہیں جس میں اخلاص بھی ہوتا ہے، سادگی بھی اور وہ وقار بھی جو دعوت کی روح ہے۔ ان کی تحریر میں ایک طرف رجوع الی اللّٰہ کی تذکیر ہے اور دوسری طرف یہ احساس کہ قرآن آج بھی زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی رہ نمائی کرتا ہے۔ان کی زیرِ نظر کتاب اللّٰہ ہے نا اسی قرآنی نسبت، اسی اخلاصِ فکر اور اسی دعوتی شعور کا ثمر ہے جس کے ذریعے وہ قاری کے دل میں یہ اعتماد پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ انسان کی اصل پناہ اس کے رب ہی کا دامن ہے اور اسی تعلق کی مضبوطی میں اس کی دنیا اور آخرت دونوں کی کام یابی پوشیدہ ہے۔ یہ ان کی دوسری کتاب ہے؛ اس سے پہلے اسی نوعیت کی تصنیف آؤ رب سے باتیں کریں، بھی شایع ہو کر عوام و خواص میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔

اس کتاب کی ایک نمایاں ترین خوبی اس کی سادہ زبان اور عام فہم اسلوبِ بیان ہے۔ مصنف نے نہ وعظ کی ثقالت اختیار کی ہے، نہ ادبی تصنّع کا سہارا لیا ہے بل کہ ایسی صاف، رواں اور بے تکلف زبان میں بات کی ہے جو آج کی نوجوان نسل کے لیے بڑی آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ مگر ان کے طرزِ تحریر کی سادگی سطحیت کی عکاس نہیں ہے بل کہ یہ سہل ممتنع کی حیثیت رکھتا ہے جس سے مفہوم و مطلب میں نکھار پیدا ہوا ہے۔ وہ قرآنی حکمت کو موجودہ زمانے کے محاورے میں یوں بیان کرتے ہیں جس سے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب اس کی اپنی زبان میں اس سے ہم کلام ہے۔ کہیں کہیں انگریزی الفاظ بھی اس طرح آ جاتے ہیں کہ اسلوب کی روانی میں اضافہ ہوتا ہے، جیسے وہ سورۂ جاثیہ کی آیت 23: ﴿ اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾ کا مفہوم یوں ادا کرتے ہیں کہ اس شخص کو دیکھو جس نے اپنی فیلنگز اور ڈیزائرز کو خدا بنا لیا ہے۔ یہ ترجمہ لفظی نہیں بل کہ تفہیمی ہے اور جدید ذہن کے قریب تر ہے۔ اسی طرح وہ مثالیں بھی اسی دنیا سے لیتے ہیں جس میں آج کا نوجوان جیتا ہے؛ کہیں کرکٹ کا حوالہ، کہیں معروف کاروباری شخصیات کے نام، کہیں روز مرہ کے تجربات۔ اس طرح قرآن کا پیغام خشک نصیحت کی صورت کے بجاے زندگی کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دل میں جگہ بناتا ہے۔ مصنف نے اسی فطری، شفاف اور بے تصنع اسلوب کے ذریعے اُس فاصلے کو کم کیا ہے جو نئی نسل اور دینی متون کے درمیان پیدا ہو گیا ہے اور یہی اس کتاب کی سب سے نمایاں اور روشن ادبی اور دعوتی خوب صورتی ہے۔ قرآن مجید سے تذکیر کا جو حصول آسان بنایا گیا ہے، مصنف نے اسے کام یابی کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔

زیرِ نظر کتاب کا ایک عمدہ پہلو اس کے مضامین اور مشمولات کی مختصر ساخت ہے جس میں مصنف نے طوالت سے پورا اجتناب کیا ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے مضامین ہیں اور ہر مضمون اپنی جگہ ایک مکمل فکری پیغام کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ بیش تر مباحث ایک یا دو صفحات ہی میں سمٹ آتے ہیں؛ چند ہی مضامین ہیں جو تین صفحات تک جاتے ہیں۔ یہ اختصار اسلوبیاتی رجحان  سے بڑھ کر  ایک دعوتی حکمت عملی کا عکاس ہے۔ مصروفیت سے بھرپور زندگی میں انسان کے لیے مسلسل مباحث اور لمبی عبارتیں پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن مختصر، مرتّب اور واضح پیغام فوراً دل میں اتر جاتا ہے۔ مصنف نے اسی فطری ضرورت کو سامنے رکھ کر مضامین کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ قاری جہاں سے چاہے کتاب کھول لے، اسے ایک مکمل غذا مل جائے۔ یہ ترتیب قاری کو ذہنی بوجھ سے آزاد رکھتے ہوئے اسے اس بات کی سہولت دیتی ہے کہ وہ چند لمحوں میں ایک مضمون پڑھ کر اپنے دل و دماغ کو تازہ کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب مسلسل مطالعے کی محتاج نہیں؛ قاری ایک نشست میں ایک مضمون پڑھ لے یا چند مضامین، ہر صورت میں روحانی سرشاری ضرور حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ اسلوب دعوت کو آسان بھی بناتا ہے اور دل تک اس کی تاثیر اور رسائی کو بھی بڑھاتا ہے۔

مصنف کتاب کے ہر موضوع کو بہ راہِ راست قرآن سے مربوط کرتے ہیں۔ وہ کسی خیال کو مجرد انداز میں نہیں چھیڑتے بل کہ ایک مختصر عنوان لیتے ہیں، اسے سادہ اور رواں زبان میں کھولتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ مناسب قرآنی آیات کو اس طرح پرو دیتے ہیں کہ مضمون میں فکری گہرائی کے ساتھ ساتھ قاری کے دل میں قرآن کے ساتھ ایک تازہ وابستگی بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کے یہاں آیت محض حوالہ نہیں ہوتی بل کہ مضمون کی اصل روح بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ دکھاتے ہیں کہ قرآن انسان کی روز مرہ زندگی سے کس قدر قریب ہے؛ دکھ، بے سمتی، خوف، تذبذب اور عملی معاملات میں یہ کتاب کس طرح قاری کے باطن پر دستک دیتی ہے اور اسے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ سجھاتی ہے۔ قاری جان لیتا ہے کہ قرآن آج بھی اسی طرح اس سے ہم کلام ہے جس طرح اس کے پہلے مخاطبین سے تھا اور اگر انسان اپنے دل کے در کو وَا رکھے تو قرآن کی ہدایت اس کے لیے بھی اسی طرح مؤثر اور کارگر ہو سکتی ہے جیسے پہلے لوگوں کے لیے تھی۔

قرآن مجید کی آیات پر مکمل ارتکاز کے باوصف جہاں ضرورت ہو، وہاں مصنف حدیث اور سیرت کے روشن واقعات سے بھی وہی حرارت اور روشنی حاصل کرتے ہیں جو دلوں کی دنیا بدل دیتی ہے۔ ان کے بیان کیے ہوئے واقعات قاری کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ دین کا پیغام کسی نظری بحث کا موضوع نہیں بل کہ انسانی زندگی کے رگ و پے میں اتر جانے والی حقیقت ہے۔ قرآن میں تدبر کیسے کریں؟ کے زیرِ عنوان انھوں نے مجمع الزوائد کی وہ روایت نقل کی ہے جس میں حضرت اوس بن حذیفہ ثقفی ؓبیان کرتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں دین سیکھنے کے لیے مدینہ میں آئے۔ رسول اللّٰہ ﷺ ہر روز عشا کے بعد ہمیں تعلیم دیتے۔ آپ ﷺ نے اپنے یومیہ معمول میں قرآن کے ایک متعین حصے کی تلاوت لازم کر رکھی تھی۔ ایک شب مقررہ وقت کے بعد تشریف لائے تو ارشاد فرمایا کہ مجھے مناسب نہ لگا کہ اپنا حصہ پڑھے بغیر تمھارے پاس آؤں؛ اس لیے پہلے اس کی تکمیل کی پھر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں[1]۔مصنف اس روایت کو محض حکایت کے طور پر نہیں لاتے بل کہ اس سے وہ مقصدیت کا درس لیتے ہیں کہ قرآن کے ساتھ حقیقی تعلق جذبات اور خواہشات کے بھروسے قائم نہیں ہوتا؛ اس کے لیے نظم، اہتمام اور استقلال وہ بنیادی ستون ہیں جن پر تدبر کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ان کی تحریر قاری کے دل میں یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اگر رسول اللّٰہ ﷺ جیسے مصروف انسان نے بھی اپنے معمول میں کمی گوارا نہ کی تو ایک عام مسلمان کے لیے اس راستے کی پابندی کتنی زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔ اس سے وہ  قاری کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ قرآن میں تدبر کی توفیق اور اس کا فہم اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب اسے زندگی کا مقصد بنا کر اس کے لیے باقاعدہ وقت نکالا جائے اور سستی اور کوتاہی سے دامن بچایا جائے۔

اس کتاب کی اصل قدر و قیمت اس پیغام میں ہے کہ انسان جتنا بھی بکھرا ہوا ہو، اس کے دل میں امید کا چراغ بجھنا نہیں چاہیے۔ مصنف نے قرآنی آیات، روشن مثالوں اور نہایت سادہ مگر دل نشین زبان کے ساتھ یہ حقیقت بڑے خوب صورت انداز میں واضح کی ہے کہ ایمان کا راستہ کسی ایک طبقے کے لیے نہیں بل کہ ہر اس انسان کے لیے کشادہ ہے جو اپنے رب کی طرف جھکنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ کتاب قاری کو بتاتی ہے کہ دل کی پریشانیاں، زندگی کی الجھنیں اور زمانے کے شب و روز کے دباو سب اسی وقت ہلکے ہوتے ہیں جب انسان اپنے رب سے اپنا رشتہ مضبوط کر لے۔ قرآن کے ساتھ یہ تعلق ہی وہ سہارا ہے جو آدمی کو نہ صرف اندھیروں میں راہ دکھاتا ہے بل کہ اس کے اندر یہ حوصلہ بھی پیدا کرتا ہے کہ وہ مایوسی سے نکل کر امید اور عمل کی دنیا میں قدم رکھے۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مصنف نے اسے جس اخلاص اور سادگی کے ساتھ پیش کیا ہے،  وہ حد درجہ لائق تحسین ہے۔

یہ کتاب ہر عمر اور ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے یک ساں طور پر مفید ہے۔ اسے ہر گھر اور ہر لائبریری میں جگہ ملنی چاہیے اور بالخصوص اسکول، کالج اور یونی ورسٹی کے طلبہ و طالبات تک اسے ضرور پہنچانا چاہیے تاکہ نوجوان نسل قرآنی تعلیمات سے بہ طور خاص بہرہ ور ہو سکے۔

آداب اختلاف

حافظ دارقطنی﷫ کی بغداد میں ابو بکر باقلانی اشعری سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے انھیں گلے لگایا، ان کے چہرے اور آنکھوں کو چوما اور فرمایا: یہ مسلمانوں کے امام اور دین کے سچے پاسبان ہیں۔علامہ ذہبیؒ سیر اعلام النبلاء (17 /558) میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بغداد میں یہی بزرگ تھے جو سنت اور اہلِ حدیث کے طریق و منہاج کے دفاع میں پوری قوت کے ساتھ مناظرے کیا کرتے تھے۔ ان کے سامنے معتزلہ، روافض، قدریہ اور مختلف قسم کے بدعتی گروہ موجود ہوتے مگر وہ دلیل اور برہان کے ہتھیار سے ان سب کا مقابلہ کرتے۔ وہ کرامیہ کی تردید اور ان کے مقابلے میں حنابلہ کی تائید و نصرت میں پیش پیش رہتے تھے۔ اہلِ حدیث کے ساتھ ان کا تعلق بڑا خوش گوار تھا، اگرچہ بعض نازک مسائل میں ان کا اختلاف بھی ہو جاتا تھا۔ اسی پس منظر کی بنا پر دارقطنیؒ ان سے توقیر و احترام سے پیش آئے۔( سیر اعلام النبلاء:       17/558)

 

 

[1]    مجمع الزوائد،2/ 272