مارچ 2026ء

تراویح میں تکمیل قرآن اور دعا ختم القرآن

تراویح میں تکمیل قرآن اور دعا ختم القرآن

فقہاے کرام نے مستحب قرار دیا ہے کہ تراویح میں کم از کم ایک بار قرآن ختم کیا جائے؛  جو اس پر اضافہ کرے، وہ افضل اور بہتر ہے؛ معروف فقہی مسالک کے  ائمۂ مذہب نے اسی کی تصریح کی ہے۔ امام نوویؒ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ تراویح میں ختمِ قرآن مستحب ہے اور یہی چاروں مذاہب کے فقہا کی راے ہے۔ اس کی غایتِ شرعی یہ ہے کہ لوگوں کو پورا قرآن سُنوا دیا جائے۔

امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ہے کہ ہر رکعت میں دس آیات پڑھنا مسنون ہے تاکہ مہینے بھر میں ایک مرتبہ قرآن مکمل ہو جائے، اگرچہ اس سے کم بھی جائز ہے۔ علامہ سرخسیؒ تراویح کی رکعت میں قرأت کی مقدار پر گفت گو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس بارے میں ہمارے مشایخ کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا کہ اتنی قرأت ہو جتنی مغرب میں ہوتی ہے تاکہ تخفیف کا پہلو غالب رہے کیوں کہ نوافل کا ہلکا ہونا بہتر ہے۔ یہ بات اس پہلو سے بھی پسندیدہ ہے کہ اس سے قرآن ختم کرنے کی سہولت بھی رہتی ہے اور تراویح میں ختمِ قرآن سنت ہے۔ بعض علما کا کہنا ہے کہ ہر رکعت میں بیس سے تیس آیات پڑھی جائیں۔  اس کی بنیاد حضرت عمرؓ سے مروی اس روایت پر ہے کہ انھوں نے تین ائمہ کو بلایا؛ ایک کو ہر رکعت میں تیس آیات پڑھنے کا حکم دیا، دوسرے کو پچیس، اور تیسرے کو بیس آیات۔ حسنؒ، امام ابو حنیفہؒ سے روایت کرتے ہیں کہ امام ہر رکعت میں دس آیات یا اس کے قریب پڑھے؛ اور یہی زیادہ مناسب ہے کیوں کہ تراویح میں ختمِ قرآن سنت ہے‘‘۔[1]

علامہ کاسانیؒ  فرماتے ہیں :

’’ ہر رکعت میں دس آیات پڑھی جائیں؛ یہی حسن نے امام ابو حنیفہؒ سے روایت کیا۔ بعض نے کہا ہے کہ اس میں اتنی قرأت ہو جتنی ہلکی ترین فرض نماز، یعنی مغرب میں ہوتی ہے؛ اور بعض نے کہا کہ عشا کے برابر پڑھی جائے کیوں کہ تراویح عشا ہی کے تابع ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر رکعت میں بیس سے تیس آیات پڑھنی چاہئیں جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت عمرؓ نے تین ائمہ کو بلایا اور ہر ایک کو مختلف مقدار میں قرأت کا حکم دیا: پہلے کو تیس آیات، دوسرے کو پچیس اور تیسرے کو بیس آیات فی رکعت پڑھنے کا کہا۔ امام ابو حنیفہؒ نے جو مقدار فرمائی، وہ سنت ہے کیوں کہ تراویح میں ایک بار قرآن ختم کرنا مسنون ہے۔ البتہ، حضرت عمر﷜کا حکم فضیلت کے باب سے تھا کہ قرآن دو یا تین بار ختم کیا جائے اور یہ ان کے زمانے میں تھا‘‘۔[2]

ملا علی قاریؒ نے بھی تراویح کے سنت ہونے کی تصریح کی ہے۔[3]

علامہ ابن عابدین شامیؒ نے لکھا ہے :

’’ تراویح میں قرآن کا ختم سنت ہے؛ ان کے مطابق ہدایہ میں اکثر مشایخ کا قول یہی بتایا گیا ہے؛ کافی میں اسے جمہور کی طرف منسوب کیا گیا ہے‘‘۔[4]

شیخ دردیر مالکیؒ  رقم طراز ہیں:

’’ امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ تراویح میں پورے مہینے میں ایک بار قرآن ختم کرے تاکہ مقتدیوں کو مکمل قرآن سنا دے؛  اور اگر پورے مہینے میں صرف ایک سورت ہی پڑھی جائے تو وہ بھی کافی ہے، اگرچہ یہ خلافِ اولیٰ ہے‘‘۔[5]

امام خلیل المالکیؒ نے المختصر میں مستحبات کا ذکر کرتے ہوئے تراویح کو بھی ان میں شمار کیا ہے۔

ابن علیشؒ لکھتے ہیں :

’’امام کے لیے مستحب ہے کہ پورے رمضان کی تراویح میں پورا قرآن ختم کرے تاکہ مقتدیوں کو مکمل قرآن سنایا جا سکے‘‘۔[6]

امام نوویؒ کے مطابق قرأت کے باب میں مختار اور معمول بہ قول یہی ہے کہ تراویح میں مکمل قرآن پورے مہینے میں ختم کیا جائے۔[7]

شافعی مسلک کی کتاب شرح المحلی علیٰ منہاج الطالبین پر لکھے گئے  حاشیہ قلیوبی میں اسنوی سے منقول ہے کہ تراویح بالاجماع سنت ہے؛ اور ابن الصلاح و ابن عبد السلام کا فتویٰ ہے کہ پورے رمضان میں قرآن ختم کرنا اس سے بہتر ہے کہ ہر رکعت میں تین بار سورۂ اخلاص پڑھی جائے۔

شیخ الاسلام زکریا انصاریؒ لکھتے ہیں:

’’ تراویح میں پورا مہینا قرآن پڑھنا اس سے افضل ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ اخلاص کو بار بار دہرایا جائے۔ ابن الصلاحؒ کے مطابق ایسا اس لیے ہے کہ یہ سنت سے زیادہ قریب تر ہے‘‘۔[8]

حنبلی فقیہ علامہ مرداویؒ  کہتے ہیں:

’’  امام کے لیے مستحب یہی ہے کہ ایک ختم سے تجاوز نہ کرے، الا یہ کہ مقتدی خود اس کی خواہش کریں؛ اور ایک ختم سے کم بھی نہ ہو۔ مذہبِ حنابلہ میں صحیح قول یہی ہے‘‘۔[9]

علامہ بہوتیؒ کی راے میں یہ مستحب ہے کہ تراویح میں ایک ختم سے کم نہ کیا جائے تاکہ لوگ پورے قرآن کو سن سکیں۔ [10]

شیخ ابن بازؒ نے جبریلؑ کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ دورۂ قرآن سے بھی استدلال کرتے ہوءے فرمایا:

’’اس سے یہ مفہوم بھی نکل سکتا ہے کہ رمضان میں امام کا مکمل قرآن پڑھ کر جماعت کو سنانا بھی اسی مدارَسَہ (باہمی دَور) کی ایک صورت ہے کیوں کہ اس میں مقتدیوں کے لیے پورے قرآن سے استفادے کا موقع ہے۔ اسی لیے امام احمدؒ کو پسند تھا کہ جو ان کی امامت کرے، وہ ان کے ساتھ قرآن ختم کرے۔ سلف کو پورے قرآن کے سماع کا جو شغف تھا، یہ اُسی ذوق کی جھلک ہے‘‘۔[11]

شیخ ابن باز﷫سے دعاے ختم قرآن کا حکم پوچھا گیا  توفرمایا:

’’سلفِ صالحین ہمیشہ سے قرآن ختم کرتے آئے ہیں اور رمضان کی نماز میں دعاے ختم قرآن بھی پڑھتے رہے ہیں؛ ہم نے نہیں سنا کہ اس باب میں ان کے درمیان کوئی اختلاف ہوا ہو‘‘۔

حکومت کویت کے شایع کردہ فقہی انسائیکلوپیڈیا کے اندراج کے مطابق حنابلہ اور احناف کے اکثر مشایخ اس پر متفق ہیں کہ سنت یہی ہے کہ تراویح میں قرآنِ کریم مکمل ختم کیا جائے تاکہ لوگ اس نماز میں پورے قرآن کی سماعت کر سکیں۔[12]

دعاے ختم قرآن

امام ابن قدامہ حنبلی﷫نے المغنی میں ختمِ قرآن کی فصل کے تحت لکھا ہے:

’’فضل بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے امام احمدؒ سے پوچھا: میں قرآن ختم کروں تو کیا وتر میں کروں یا تراویح میں؟ فرمایا: تراویح میں کرو تاکہ ہمارے لیے دو رکعتوں کے درمیان دعا کا موقع ہو۔ میں نے عرض کیا: کیسے کروں؟ فرمایا: جب آخری آیت پوری کر لو تو رکوع سے پہلے ہاتھ اٹھاؤ اور نماز ہی میں ہماری دعا کرواؤ اور قیام کو طویل رکھو۔ میں نے پوچھا: کس چیز کی دعا کروں؟ فرمایا: جو چاہو! چناں چہ میں نے ویسا ہی کیا اور امام احمدؒ میرے پیچھے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ بلند کیے ہوئے دعا کرتے رہے‘‘۔

حنبل کہتے ہیں کہ میں نے ختمِ قرآن کے متعلق امام احمدؒ سے سنا :

’’جب سورۂ ناس ختم کر لو تو رکوع سے پہلے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤ۔ میں نے پوچھا: اس بارے میں آپ کے موقف کی بنیاد کیا ہے؟ فرمایا: میں نے اہلِ مکہ کو ایسا کرتے دیکھا ہے اور سفیان بن عیینہؒ بھی مکہ میں ان کے ساتھ مل کر یہی کرتے تھے۔ عباس بن عبد العظیم کہتے ہیں: ہم نے بصرہ اور مکہ میں لوگوں کو یہی کرتے دیکھا ہے۔ اہلِ مدینہ بھی اس بارے میں کچھ نہ کچھ روایت کرتے ہیں اور اس کے متعلق حضرت عثمان﷜سے بھی منقول ہے‘‘۔[13]

 

[1]    المبسوط، ٤/ ١٤٨

[2]    بدائع الصنائع، ۱ /۲۸۹

[3]    مرقاة المفاتيح، ٣/ ٩٧١

[4]    حاشیہ ابن عابدين،٢ /٤٦

[5]    الشرح الكبير، ۱/ ۳۱۵

[6]    منح الجليل شرح مختصر خليل، ١/ ٣٤٢

[7]         الأذكار، ص٢٤٣

[8]         أسنى المطالب، ۱/ ۲۰۱

[9]         الإنصاف، ٢/ ١٨٤

[10]        كشاف القناع، ١/ ٤٢٨

[11]   مجموع فتاوى ابن باز، ١٥/ ٣٢٤

[12]      الموسوعة الفقهية، ٢٧/ ١٤٨

[13]        المغنی، ۲/ ۱۲۶