سیکولرزم؛اسباب و آثار

سیکولرزم؛اسباب و آثار

 

نام کتاب

سیکولرزم : اسباب و آثار

مصنف

ڈاکٹر محمد رشید ارشد

ناشر

غزالی فورم  ؛289 ۔ این بلاک ، ماڈل ٹاؤن ، لاہور۔ 03091404386

’’سیکولرزم اسباب وآثار‘‘ پاکستان کے ایک تحریکی خانوادے کے قابل ِفخر فرزند جناب ڈاکٹر رشید ارشد کے رشحات فکر کا اظہاریہ ہے۔ آپ ان لائق اہلِ علم میں شامل ہیں جن پر یہ امید کی جاسکتی ہے  کہ عصر حاضر کے نوجوان کے لیے مثالی رہ نما بن سکیں۔ دین و دنیا کے تمام ڈسکورسز  کے مطالعے اور تجزیے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ پیشہ ورانہ طور پر جامعۂ پنجاب میں فلسفے کے استاد ہیں اور لمبے عرصے سے قرآن اکیڈمی، لاہور سے بہ طور معلم وابستہ ہیں۔ آپ اپنی علمی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے ایک الگ ادارے غزالی فورم کی داغ بیل ڈال چکے ہیں، جہاں آپ سمیت بہت سے دیگر اہل علم کے گراں قدر فکری اور تربیتی دروس سے طالبانِ حق اپنے قلوب کی آب یاری کا سامان کررہے ہیں۔ آپ نے خود بھی کئی ایک علمی اور فکری موضوعات پر سلسلہ وار محاضرات کا اہتمام کیا ہے؛ شائقین علم کو ان کی طرف بھی اعتنا کرنا چاہیے۔

زیرِ نظر کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصۂ اول سیکولرزم کے تعارفی مباحث کے لیے وقف ہے۔ دوسرے حصے میں سیکولرزم کے غلبہ و نفوذ کی وجوہات بیان ہوئی ہیں اور تیسرے حصے میں اس امر کا جائزہ پیش کیا گیا ہے کہ عالم اسلام پر سیکولرزم کے اثرات کس طرح مرتب ہوئے یا ہو رہے ہیں۔

مصنف کتاب کے لیے سب سے اہم سرمایہ جناب احمد جاوید صاحب کی تقریظ ہے جس میں انھوں نے یہ کہہ کر قارئین کے لیے اس کتاب کے مطالعے کی ضرورت کو واضح کر دیا ہے کہ مصنف پر اب کوئی یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ سیکولرزم کے بارے میں سطحی علم رکھتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص جو علمی سطح پر سیکولرزم کے بارے میں کچھ درست تعارف حاصل کرنا چاہتا ہے، اُس کے لیے یہ کتاب انتہائی مفید ہے۔

کتاب کے مندرجات پر نظر ڈالی تو ابتدائی حصے میں سیکولرزم کی تعریف، اس کے  تقاضے، سیکولرزم کے مختلف مکاتبِ فکر اور ان کے نتیجے میں برپا ہونے والی فکری اور عملی تحریکات کا تعارف پیش کیا گیا ہے جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جدید مغربی دنیا میں زمانی، مکانی اور نظریاتی اعتبار سے کسی ایک نظریے کے بارے میں  کس قدر تنوع پایا جاتا ہے۔ حصۂ اول میں اس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اسلامی ممالک میں سیکولرزم کے پھیلنے کے اسباب کیا ہیں۔ یہ حصہ ہمارے مذہبی طبقے کو خصوصی طور پر دعوت ِفکر دیتا ہے کہ اہل دین کی ناہنجاریوں کے سبب بھی دنیا میں عموماً اور پاکستانی سماج میں خصوصاً سیکولرزم کو پاؤں پھیلانے کا پورا موقع ملا ہے۔

دوسرے باب میں سیکولرزم کے نفوذ کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے دنیا میں سیکولر فکر کی ترویج کا اولین ملزم عیسائیت کو قرار دیا گیا ہے۔ سیکولرزم کے نفوذ کی دوسری وجہ ’’جدید افکار پر مبنی اطوار جدید‘‘ لکھی ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جدید افکار کے مرہون احسان پیدا ہونے والی فکر اور اس کے برگ و بار نے سیکولرزم کو غالب کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ پھر ان جدید اداروں اور تحریکوں پر بھی گفت گو کی ہے جو سیکو لرزم کا محرک بنی ہیں اور یہ بتایا ہے کہ مغرب میں پیدا ہونے والے سیاسی نظریات، سائنسی انقلاب، تحریک اصلاح مذہب، تحریک تنویر، صنعتی انقلاب، مشینی زندگی، معاشروں کی پبلک اور پرائیویٹ زندگی کی درجہ بندی، بیورو کریسی اور اس کے فسادات، جدید کلچر، قومی ریاست اور بے محابا ٹیکنالوجی کی ترقی جیسے امور نے اس دنیا میں سیکولرائزیشن کے عمل کو مکمل کیا ہے۔

گویا انھوں نے اس باب میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ سیکولرازم کے نفوذ کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے بل کہ عیسائیت سمیت  جدید دور میں پیدا ہونے والے تمام تر فکری اور علمی اسکولز اور اس کے عملی نتائج نے مل کر دنیا میں سیکولرائزیشن کے عمل کوانجام دیا ہے۔ یہ اس حوالے سے انتہائی اہم کوشش ہے کہ ہمارے ہاں سیکولرائزیشن کی سطحی تفہیم سے اوپر اٹھ کر حقیقی اسباب کی کھوج لگانے کی قابل قدر کاوش کی گئی ہے اور واضح طور پر یہ دکھایا گیا ہے کہ مغرب کا تمام تر  سیاسی، ادارہ جاتی اور معاشی بندوبست یہ سب سیکولرزم کے غلبے اور نفوذ کی تحریکیں ہیں۔

حصۂ سوم میں عالم اسلام پر سیکولرزم کے اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ کون سی عملی تبدیلیاں ہیں جن کی بنا پر عالم اسلام پر سیکولرزم کے اثرات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس میں قومی ریاستیں، ڈیمو کریسی پر مضبوط اعتقاد، آئین کی تقدیسیت، انسان کا جدید تصور، سرمایے کی پرستش، نظام تعلیم کی ثنویت اور مسلمانوں کے کچھ اندرونی فکری مسائل ہیں جو سیکولرزم کے نفوذ کا ذریعہ بنے ہیں۔ آخر میں گزارشات کے ضمن  میں اہل مذہب میں پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ کرتے ہوئے انھیں یہ بتایا گیا ہے کہ مذہب اور اہل مذہب میں اب بھی کس قدر قوت موجود ہے کہ وہ سیکولرزم کا مقابلہ کرسکتے ہیں؛ گویا مغرب اور اس کے ادارہ جاتی  غلبے کو ابدی نہیں کہا گیا بل کہ ایک شیطانی جال سمجھا گیا ہے جس کے خلاف بہ ہر حال مسلمان اگر سنجیدہ کوششیں شروع کر دیں تو تبدیلی کے امکان بہت واضح اور نمایاں ہیں۔

ایک طالب علمانہ مطالعہ کے دوران جن چیزوں پر  ذہن میں کھٹکا  پیدا ہوا ہے، ان کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری معلوم  ہوتا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ کتاب کا مجموعی تاثر معلومات کو جمع کرنے کا ہے۔  مباحث کے درمیان گہرا تجزیاتی ربط مفقود ہے؛ یعنی ہر بات الگ اور بکھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ کوئی باقاعدہ تحریر نہیں بل کہ تقریر کو تحریرکے قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر پہلے حصے کا مشاہدہ کیا جائے تو سیکولرزم کی تعریفات کرتے ہوئے ان کے مابین کسی فکری اکائی کی دریافت کے لیے کوئی تجزیہ نہیں کیا گیا۔

دوسرے حصے میں سیکولرزم کے نفوذ کی وجوہات میں عیسائیت کو جس طرح ملزم ٹھہرایا گیا ہے، اس میں تحقیق کی کمی کا احساس ہوتا ہے، خصوصاً سینٹ پال پر عائد کی جانے والی فرد جرم انتہائی کم زور محسوس ہوئی ہے۔ قسطنطین کے عیسائیت کے قبول کو ایک سازشی  تھیوری سے تعبیر کیا گیا ہے جب کہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ کہیں  عیسائیت کی علمی اور اخلاقی فتح کی داستان تو نہیں ہے؟ البتہ سیکولرزم کے حوالے سے عیسائیت  میں ثنویت بہ ہرحال پائی جاتی تھی لیکن قریباً تیرہ سو برس تک دنیا میں مذہبی شناخت کو قائم رکھنا، یہ یقیناً عیسائیت کی بہت  بڑی قوت اور فتح ہے؛ جب کہ اہل اسلام فکری سطح پر استعماریت کا ایک جھٹکا بھی سہہ نہیں پائے۔

ہماری نظر میں عیسائیت کی حقیقی شکست اور مذہب کا عملاً پسپا ہوجانے کا سب سے اہم دور نشاَتِ ثانیہ کا ہے۔ اس میں مذہبی سطح پر عیسائیت میں کچھ ایسی فکری اور عملی تبدیلیاں رونما ہو گئی تھیں جنھوں نے عیسائیت کی شکست کے تابوت میں میخیں گاڑ دی تھیں۔ نشاَت ثانیہ کا سیکولرزم کی تحریک میں تجزیہ کرنا ہماری دانست میں سب سے ضروری حصہ تھا جسے قابلِ التفات نہیں سمجھا گیا بل کہ اس وقت مسلمان عوام اور علما  فکر و عمل کی جن خرابیوں میں مبتلا ہو کر عملاً سیکولرزم کے خلاف برسر پیکار ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس کے زیادہ تر اسباب وہی ہیں جو عیسائی فکر و عمل میں نشاَتِ ثانیہ میں پیدا ہوئے تھے۔

آخری عرض یہ ہے کہ جناب رشید ارشد صاحب کے اس کام کو ہم ان کے علمی قد و قامت کو سامنے رکھتے ہوئے خشتِ اول کا نام دیں گے اور توقع کریں گے وہ اس کام کو مزید آگے بڑھائیں  اور اسلامی فکر  و علم کی روشنی میں سیکولرزم اور اس کے پیدا شدہ اثرات کے جائزے  کے ساتھ ساتھ امت پر اس سے نجات کے راستوں کی مزید نشان دہی کریں۔