غامدی صاحب کے أصول تفسیر قسط 2

غامدی صاحب کے أصول تفسیر قسط 2

 

قرآن مجید ، اسلامی شریعت کی اساس و بنیاد ہے ، جو عربی مبین میں فصیح ترین لہجہ میں  نازل ہوا ہے ،  جو بات بھی کہتا ہے کھل کر اور واضح انداز میں کہتا ہے ، لیکن انسانی کلام کی بجائے رحمانی کلام ہے،دوسرا وہ  قیامت تک کے انسانوں کے لیے  رہنمائی ہے ، اس لیے وہ ایسے الفاظ و جمل اور انداز  استعمال کرتا ہے  کہ    زیر بحث مسئلہ بھی حل ہوجائے اور بعد میں پیش آمدہ مسائل کی تفہیم میں بھی اس سے استفادہ کیا جاسکے ۔  یہ اعراز صرف قرآن مجید کو حاصل ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ اپنے لغوی معانی ، اصطلاحی تفہیم اور شرعی نقطہ نظر کو واضح کرتا ہے۔ بعض اوقات ایک ہی لفظ  مختلف جہتوں سے  مختلف معانی دیتا ہے اور ہر معنیٰ اپنے  محل میں بالکل فٹ بیٹھتا ہے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے  رسول  ﷺ کو اس کا مفسر و شارح بنا ، فرمایا: ﴿ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ ﴾ [النحل: 44] ’’اور ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لیے واضح کریں جو ان کی طرف نازل ہوا ہے‘‘۔اس لیے خود رسول اللہ ﷺ بھی قرآن مجید کی تفسیر و تشریح فرماتے تھے اوربعض دفعہ  صحابہ کرام کو  عربی النسل ہونے کے باوجود فہم قرآن میں  رسول اللہ ﷺ سے  رہنمائی لینے کی ضرورت پڑ جاتی تھی ۔بعد میں جس طرح دوسرے علوم مدون ہوئے اسی طرح اصول تفسیر بھی مدین کیے گئے ، ان میں حدیث رسول کو اولین بلکہ  فائنل اتھارٹی حاصل تھی ۔ خیرون القرون میں علماء تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں تھا ، بعد میں جب فرقوں کا ظہور شروع ہوا تو ہر فرقے نے اپنے اپنے نظریات کے تحفظ  کے لیے ایک طرف حدیث کے تفسیری ذخیرے کا انکار کیا اور دوسری طرف اپنے من پسند  اصول تفسیر کو ترتیب دینا شروع کیا ۔ایسے ہی ایک نظریے کے موجد ہندوستان کے مولانا عبد الحمید فراہی ہو گزرے ہیں ، جنہوں نے فہم قرآن کے لیے حدیث رسول کے بالمقابل دور جاہلیت کی شاعری کو اولین مأخذ قرار دیا، ان کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی نے انہی اصولوں کی روشنی میں تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘ تحریر کی ۔ان کے شاگرد  جاوید احمد غامدی نے انہی اصولوں کی توضیح  و تنقیح کرکے پیش کیا ہے اور ان کی روشنی میں’’ البیان ‘‘ کے نام سے ایک تفسیر لکھی ہے۔

 ڈاکٹر حافظ محمد زبیر جو غامدی صاحب کے افکار و نظریات پر ایک مفصل اور ضخیم کتاب لکھ چکے ہیں ، اب انہوں نے غامدی صاحب کے اصول تفسیر پر قلم اٹھایا ہے ، جسے ہم قسط وار ماہنامہ محدث میں ہدیہ قارئین کررہے ہیں ۔ ادارہ

پہلا اصول: عربی معلی

جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’’میزان ‘‘  میں  ’’مبادی تدبر قرآن‘‘ کے عنوان سے  دس اصول تفسیر بیان کیے ہیں؛ عربی معلی، زبان کی ابانت، اسلوب کی ندرت، میزان اور فرقان،  کتابا متشابہا، دین کی آخری کتاب، پیغمبر کی سرگذشت انذار، نظم کلام، سبع مثانی اور تاریخ کا پس منظر۔   ہم اپنے  سلسلہ وار مضمون میں غامدی صاحب کے ان اصول تفسیر کی تحلیل وتجزیہ پیش کریں گے۔ اس سلسلے کی  پہلی قسط میں غامدی صاحب کے تدبر قرآن  کے پہلے اصول’’  عربی معلیٰ ‘‘  پر بحث کی گئی ہے۔غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’اس لیے اس کتاب کا فہم اب اس زبان کے صحیح علم اور اس کے صحیح ذوق ہی پر منحصر ہے، اور اس میں تدبر اور اس کی شرح وتفسیر کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی اس زبان کا جید عالم اور اس کے اسالیب کا ایسا ذوق آشنا ہو کہ قرآن کے مدعا تک پہنچنے میں کم سے کم اس کی زبان اس کی راہ میں حائل نہ ہو سکے‘‘۔[1]

غامدی صاحب اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ عربی معلی سے ان کی مراد عربی لغات، اسلامی دور   کی  نثر وشاعری  اور جدید زمانے کی   عربی نہیں ہے۔  وہ لکھتے ہیں:

’’یہ حقیقت تو اِس سے زیادہ وضاحت کی محتاج نہیں، لیکن اِس زبان کے بارے میں یہ بات، البتہ اِس کے ہر طالب علم کو پوری وضاحت کے ساتھ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ وہ عربی نہیں ہے جو حریری و متنبی اور زمخشری و رازی نے لکھی ہے یا اِس زمانے میں مصر و شام کے اخبارات میں شائع ہوتی اور اُن کے ادیبوں اور شاعروں کے قلم سے نکلتی ہے۔ یہ بھی ایک قسم کی عربی ہی ہے، لیکن وہ عربی جس میں قرآن نازل ہوا ہے اور جسے بجا طور پر عربی معلّٰی کہنا چاہیے ،اُس میں اور اِس زبان کے لب و لہجہ، اسلوب و انداز اور الفاظ و محاورات میں کم و بیش وہی فرق ہے، جو مثال کے طور پر، میرو غالب اور سعدی و خیام کی زبان اور ہمارے اِس زمانے میں ہند و ایران کے اخبارات و جرائد کی اردو اور فارسی میں ہے۔ لہٰذا یہ حقیقت ہے کہ اِس سے قرآن کی زبان کا کوئی ذوق نہ صرف یہ کہ پیدا نہیں ہوتا، بلکہ الٹا یہ اُس سے بے گانہ کر دیتی ہے اور اگر اِسی کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا جائے تو قرآن مجید کے فہم سے بسا اوقات آدمی بالکل محروم ہو جاتا ہے‘‘[2]۔

واضح رہے کہ غامدی صاحب، غلام احمد  پرویز سے اختلاف کرتے ہیں۔  ان کے بقول غلام احمد پرویز  سے اُن کا اختلاف فروعی نہیں، اصولی نہیں بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر فکر کے  بنیادی مآخذ کا اختلاف ہے۔ امین احسن اصلاحی  ﷫کے بقول جس عربی زبان کو سامنے رکھ کر غلام احمد پرویز  قرآن کی تفسیر کیا  کرتے ہیں، وہ انہوں نے گھر میں بیٹھ کر بنائی تھی۔[3]   اب سوال یہ ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک اُس  عربی معلی کے مآخذ کون سے ہیں کہ جس کی روشنی میں قرآن مجید پر تدبر ہو گا؟ غامدی صاحب کے بقول عربی معلی کے مآخذ تین ہیں؛ قرآن، حدیث نبوی و آثار صحابہ  اور ادب جاہلی۔ اب ہم اس پر ایک ایک کر کے گفتگو کرتے ہیں۔

پہلا ماخذ: قرآن مجید

بلاشبہ  قرآن فہمی و تدبر قرآن کا پہلا مصدر و ماخذ خود قرآن ہی ہے۔ اہل علم  نے علوم قرآن،   اصول تفسیر ، قواعد تفسیر اور تفاسیر کے مقدمات میں اس اصول کو بیان کیا ہے کہ قرآن کا بعض ، بعض کی تفسیر کرتا ہے اور یہ ان کے ہاں متفق علیہ اصول ہے۔  مولانا حمید الدین فراہی ﷫ لکھتے ہیں:

«أجمع أهل التأويل من السلف إلى الخلف أن القرآن ‌يفسر بعضه بعضاً» [4]

’’سلف سے لے کر خلف تک تمام اہلِ تفسیر کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن ، خود قرآن کی تفسیر کرتا   ہے (یعنی قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصے کی وضاحت کرتا ہے)‘‘۔

مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ  تفسیر القرآن بالقرآن کے باب میں مکتب فراہی کی خدمات اہل روایت کی نسبت کافی کم ہیں۔ مولانا حمید الدین فراہی ﷫ کی مجموعہ تفاسیر فراہی، مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کی تدبر قرآن اور جاوید احمد غامدی صاحب کی البیان دیکھ لیں،  آپ کو قرآن کی کسی آیت کی تفہیم میں قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے استشہاد کم نظر آتا ہے۔ اس باب میں اگر کوئی کام دیکھے جانے  اور سراہے جانے  کے لائق ہے تو وہ امام راغب متوفی ۵۰۲ھ  ﷫کی المفردات في غريب القرآنہے۔ اس کتاب  میں انہوں  نے قرآن مجید کے ۱۵۸۹  مادوں پر بحث کی ہے جبکہ قرآنی  الفاظ کی تعداد کہ جن کے معانی ومفاہیم بیان کیے ہیں،  اس سے کئی گنا  ہے۔اس کے برعکس مولانا حمید الدین فراہی ﷫ کی  مفردات القرآن   میں ۱۲۱ الفاظ قرآنی کے بارے بحث موجود ہے۔  

امام راغب اصفہانی ﷫ کا منہج یہ ہے کہ الفبائی ترتیب پر  پہلے ایک مادے (root word) کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر  اس کی وہ   تمام صور (forms) جو قرآن مجید میں نقل ہوئی ہیں، انہیں آیات کی صورت میں پیش  کرتے ہیں۔   پھر  ان آیات کی روشنی میں   اس مادے کا  ایک مرکزی معنی ومفہوم متعین کرتے ہیں کہ جسے وہ اصلِ معنی کہتے ہیں۔  اور پھر اس  اصلِ معنی کی روشنی میں قرآن مجید کی آیات کو واضح کرتے چلے جاتے ہیں۔  اس معاملے میں وہ کسی قدر  ابن فارس متوفی ۳۲۹ ھ ﷫کے منہج سے متاثر معلوم ہوتے  ہیں۔ البتہ امام راغب   اور ابن فارس   کے منہج میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ابن فارس اپنی کتاب مقاييس اللغة   میں اصلِ معنی ایک سے زائد بھی بنا لیتے ہیں جبکہ امام راغب کے نزدیک اصلِ معنی ایک ہی رہتا ہے۔ اس پہلو سے امام راغب کی کتاب ایک شاہکار تصنیف ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ امام راغب کی توجہ   قرآن مجید کی زبان   پر ہے جبکہ ابن فارس کا موضوع لغت عرب ہے۔ امام راغب کی المفردات فی غریب القرآن، قرآن مجید کی عربی معلی کو،  خود قرآن ہی سے سمجھنے کے لیے ایک بے مثال مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔

رہا مکتب فراہی کا معاملہ تو وہ قرآن فہمی میں قرآن  کے کسی  لفظ کے نظائر،  قرآن ہی  سے تلاش کرنے یا  سمجھنے کے منہج کو نظر انداز کر جاتے ہیں یعنی اپنے ہی اصول کی مخالفت کر جاتے  ہیں۔مثال کے طور سورۃ لہب کی تفسیر میں مولانا حمید الدین فراہی ﷫  لکھتے ہیں :

’’(ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے)  نہ تو بددعا ہے اور نہ اس میں کوئی پہلو ہجو اور مذمت کا ہے بلکہ ابو لہب کا ذکر کنیت کے ساتھ کیا گیا ہے، جس سے عزت واحترام کا پہلو نکلتا ہے، اس لیے اس آیت کی ظاہر تاویل یہ ہے کہ یہ دشمنان خدا کے سرغنہ اور قریش کے فرعون کی ہلاکت کی بشارت ہے۔اسی طرح (نہ اس کا مال کام آیا اور نہ اس کی کمائی)  بھی ایک پیشین گوئی ہے جس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ہم نے ابو لہب کو اس امت کا فرعون کیوں کہا، حالانکہ آنحضرت صلعم اور آپ ؐکے صحابہ کی مخالفت میں ابولہب کی سرگرمیاں ابو جہل اور ابو سفیان کی سرگرمیوں اور صف آرائیوں کے مقابل میں کوئی وزن نہیں رکھتی ہیں؟  ‘‘ [5]۔

مولانا کے اس اقتباس میں ابو جہل کے ساتھ ابو سفیان کا نام جمع کرنے کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ مولانا کے علم میں یہ بات نہ آ سکی ہو  کہ حضرت ابو سفیان ﷜نے اسلام قبول کر لیا تھا۔   آگے بڑھنے سے پہلے ہم ایک وضاحت کر دیں کہ جب  ہم غامدی صاحب کے مبادی تدبر قران  کا تجزیہ پیش کر رہے  ہیں تو یہاں فراہی صاحب کا حوالہ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ غامدی صاحب اصول وفروع میں اپنی نسبت مکتب فراہی  کی طرف کرتے ہیں۔  اور  فراہی صاحب  کے شاگرد اصلاحی صاحب،   اور اصلاحی صاحب  کے شاگرد   غامدی صاحب نے بھی ان کی تقلید میں اس سورت کے یہی معانی ومفاہیم بیان کیے ہیں جیسا کہ آگے چل کر ہم  نقل  کر رہے ہیں۔ لہٰذا فراہی اور اصلاحی صاحب کے حوالہ جات اس لیے ساتھ میں نقل ہو رہے ہیں  تا کہ غامدی صاحب کی فکر کے  بنیادی مصادر یا پورے مکتب فراہی   پر بھی تبصرہ ہو جائے ۔   غامدی صاحب کا خیال  ہے کہ اصل فکر اور دلیل  تو ان کے  استاذ امین احسن اصلاحی ﷫اور ان کے  بھی استاذ  حمید الدین  فراہی ﷫پیش کر گئے ہیں، وہ  تو محض  ان کے خلاصے نقل کر رہے ہیں۔ غامدی صاحب اپنی کتاب میزان کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:

’’اِس کی ہر محکم بات کو پروردگار کی عنایت اور میرے جلیل القدر استاذ امام امین احسن اصلاحی کے رشحات فکر سے اخذ واستفادہ کا نتیجہ سمجھیے‘‘۔[6]

مولانا فراہی کی طرح مولانا اصلاحی اور غامدی صاحب بھی سورۃ لہب کی پہلی آیت کو ابو لہب کی مذمت اور ہجو شمار نہیں کرتے بلکہ اسے دین اسلام کے غلبہ  اور آپ ﷤  کے دشمنوں کے خاتمے کی پیشین گوئی سمجھتے ہیں۔ مولانا فراہی کے نقش قدم پر    مولانا  اصلاحی بھی  سورہ لہب کی تشریح میں لکھتے ہیں:

’’ یہاں  ایک سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ ابو لہب کے اقتدار کے زوال کی پیشین گوئی کے لیے تو ﴿تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ۰۰۱﴾کے الفاظ بظاہر بالکل کافی ہیں، پھر اس کے بعد﴿ وَّ تَبَّ﴾ کا لفظ لانے کا کیا خاص فائدہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں ا س کی سیاسی قوت کے ٹوٹ جانے کی پیشین گوئی ہے اور اس کے دوسرے میں ا س کی اپنی ذات کے خاتمہ کی طرف اشارہ ہے‘‘۔[7]

جاوید احمد غامدی صاحب سورہ لہب کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’یعنی اس کے اعوان وانصار ہلاک ہوئے اور اس کا اقتدار ختم ہو گیا۔ اس مفہوم کے لیے یہ تعبیر اردو زبان میں بھی موجود ہے[8]‘‘۔

غامدی صاحب کے مبادی تدبر قرآن کے اصول کے مطابق عربی معلی میں سب سے پہلے قرآن مجید ہے، پھر احادیث وآثار اور پھر ادب جاہلی۔ اب فراہی صاحب، نہ اصلاحی صاحب اور نہ ہی غامدی صاحب نے قرآن مجید کے نظائر سے اس محاورے کا معنی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو شاید  انہیں  ایسی تفسیر کرنے کی نوبت ہی پیش نہ آتی۔ سورہ لہب کی پہلی آیت میں دو بنیادی الفاظ کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک تو ابو لہب کے دو ہاتھ اور دوسرا لفظ’’تب‘‘  کہ جس کا مادہ ’’ت۔ب۔ب ‘‘ ہے۔  قرآن مجید کے محاورے میں دونوں ہاتھوں کاذکر،  اِن ہاتھوں سے کیے جانے والے اعمال  کے ذیل میں ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدٰكَ ﴾[الحج: 10] اور ﴿ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ ﴾  [الكهف: 57] اور ﴿ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ ﴾ [النبأ: 40]  اور ﴿ بَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَآءُ ﴾ [المائدة: 64] اور  ﴿ قَالَ يٰۤاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ﴾ [ص: 75]  اور ﴿ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ ﴾ [الروم: 41] ۔ اس کے علاوہ بھی بیسیوں آیات ہیں جو اس معنی ومفہوم پر شاہد ہیں۔ اس آیت مبارکہ کی تفہیم میں دوسرا اہم لفظ ﴿ تَبَّ﴾ ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں خسارے اور ہلاکت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ ﴿ وَ مَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِيْ تَبَابٍؒ۰۰۳۷﴾ [غافر: 37]  اور ﴿ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ۰۰۱۰۱﴾ [هود: 101]  میں ہے۔  پس پہلی آیت کا معنی ومفہوم یہ ہوا کہ ابو لہب کے اعمال ضائع ہوں اور وہ خود بھی ہلاک ہو۔

یہ بھی یاد رہے  کہ مکتب فراہی کا ایک اہم  اصول  نظم قرآن کا بھی ہے ۔ اس  اصول  کے مطابق قرآن  کے کسی لفظ کو اس کے سیاق وسباق میں رکھ کر سمجھنا ضروری  ہے جیسا کہ وہ کسی جملے اور پیراگراف میں استعمال ہو رہا ہوتا ہے  نہ کہ اسے ایک مفرد لفظ کی طرح دیکھنا جیسے کہ وہ کسی لغت میں اکیلا  پڑا ہوتا ہے ۔ سورہ لہب کی دوسری  آیت بھی پہلی آیت کے اِس  معنی ومفہوم پر مہر ثبت کر دیتی ہے  کیونکہ اس میں بھی ابو لہب کے اعمال کے ضیاع کا بیان ہے جیسا کہ  ارشا د باری تعالی ہے: ﴿ مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ۰۰۲﴾ [المسد: 2]۔ پس  قرآن ہی کی عربی معلی اور نظم کلام  کی روشنی میں اس آیت کا معنی ومفہوم یہ ٹھہرتا ہے کہ ابو لہب کے اعمال ضائع ہوں اور وہ ہلاک ہو۔یہ ابو لہب کے حق میں ایک بد دعا اور اس کی مذمت  وہجو ہے کہ جس کا انکار پورا مکتب فراہی کر رہا ہے۔

ہمیں غامدی صاحب سے  اس مسئلے میں اتفاق ہے  کہ قرآن مجید پر غور وفکر کرتے ہوئے سب سے پہلے خود قرآن ہی کی طرف دیکھنا چاہیے لیکن ہمیں شکوہ  یہ ہے کہ وہ     اپنے ہی  اس اصول پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔

رہا عربی معلی کا دوسرا مصدر یعنی احادیث وآثار تو وہ بھی اسی معنی کی تائید کر رہے ہیں جو معنی قرآن کی عربی معلی  اور نظم کلام سے واضح ہو رہا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ﷠سے روایت ہے کہ جب آپ ﷤ پر ﴿ وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَۙ۰۰۲۱۴﴾ [الشعراء: 214]  نازل ہوئی تو آپ ﷤ نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر قریش کے قبائل کو ایک ایک کر کے  پکارا۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ ﷤ نے ان سے کہا کہ اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ پہاڑی کی دوسری طرف سے دشمن کا لشکر تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات کا اعتبار کرو گے؟  تو سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نے آپ( ﷤) کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔ اس پر آپ ﷤ نے کہا  کہ میں تمہیں ایک شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں۔اس پر ابو لہب نے کہا:

تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا، فَنَزَلَتْ: ﴿ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ۰۰۱مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ۰۰۲﴾ [9].

’’ابو لہب نے آپ ﷤  کو «تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا» کہا تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ۰۰۱ مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ۰۰۲﴾ ‘‘۔

اور یہی معنی سلف صالحین  کے آثار سے بھی ثابت ہے۔ ابن جریر طبری متوفی ۳۱۰ھ لکھتے ہیں:

عن قتادةَ: ﴿  تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ۰۰۱﴾   قال: خَسِرت يدا أبي لهب وخَسِر.[10]

’’قتادہ سے مروی ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ خسارے میں رہے اور وہ خود بھی خسارے میں رہا‘‘۔

مولانا فراہی لکھتے ہیں کہ  قرآن مجید کے بقول رسول اللہ ﷺ کے اخلاق اتنے اعلیٰ ہیں کہ آپ  ﷤سے بعید تر  ہے کہ آپ اپنے چچا  کو بددعا دیں یا اس کی مذمت کریں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’یہ صحیح ہے کہ ابو لہب نے ذات رسالت کی شان اقدس میں نہایت سفیہانہ اور گستاخانہ الفاظ استعمال کیے تھے لیکن قرآن مجید جاہلوں سے در گزر کرنے اور ان سے عمدہ وشائستہ لب ولہجے میں خطاب کرنے کی تعلیم دیتا ہے …  پھر یہ کس طرح ممکن تھاکہ آپ ﷤اس اعلی اور پاکیزہ روش کو چھوڑ کر کوئی اور روش اختیار فرماتے‘‘۔[11]

ایک طرف تدبر قرآن کی دعوت  اور دوسری طرف کتنی سامنے کی بات کو فراہی صاحب نظر انداز کر رہے ہیں کہ ﴿تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ۰۰۱﴾ نبی کریم ﷺ  کا کلام نہیں بلکہ اللہ عزوجل کا کلام ہے۔ اور یہ اُس  اللہ عزوجل کا کلام ہے  کہ جس نے یہ کلام بھی فرمایا ہے: ﴿ وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍۙ۰۰۱۰ هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيْمٍۙ۰۰۱۱ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍۙ۰۰۱۲ عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍۙ۰۰۱۳﴾ [القلم: 10-13] اور ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۱۶۱﴾ [البقرة: 161]  اور ﴿ قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِيْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ اُولٰٓىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ۰۰۶۰﴾ [المائدة: 60] 

رہا عربی معلی کا تیسرا مصدر یعنی ادب جاہلی تو اس سے مولانا فراہی نے  اپنی وضاحت  کے حق میں ایک شعر نقل کیا ہے لیکن وہ  شعر بھی اپنے  صحیح محل ومقام پر نہیں ہے۔  مولانا حمید الدین فراہی ﷫لکھتے ہیں:

’’عربی زبان میں تبت يداه  کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مقابلہ کرنے سے عاجز ہو گیا۔ کیونکہ كسر يد  (ہاتھ توڑ دینا) کسی کا زور توڑ دینے اور اس کو عاجز کر دینے کی ایک تعبیر ہے۔ فند الزمانی کا شعر ہے: وتركنا ديار تغلب وكسرنا من الغواة الجناها۔ ( ہم نے تغلب کی سر زمین کو چٹیل میدان بنا کے چھوڑ دیا، اور ان کے سرکشوں کے بازو توڑ ڈالے)‘‘۔[12]

سورۃ لہب کی تفسیر میں  ادب جاہلی سے جو   ایک عدد  شعر پیش کیا گیا ہے، اس میں تبت کا لفظ بھی نہیں ہے اور  يد  کا لفظ  بھی نہیں ہے بلکہ تبت کی جگہ کسر کا لفظ ہے اور ید کی بجائے   جناح  کا لفظ ہے جو پرندے کے پَر کو کہتےہیں۔ شعر میں تو  تبت يد   کی بجائے  كسر جناح کی بات ہو رہی ہے۔  سامنے کی بات ہے کہ پرندے کا پَر  توڑنا اس کی قوت پرواز توڑنے کے مترادف ہے لہذا عربی زبان میں ’’كسر جناح‘‘کی ترکیب کسی کی قوت توڑنے کے  معنی میں استعمال ہو جاتی  ہے، بس اس حد تک یہ مفہوم اس شعر سے ثابت ہو رہا ہے۔ لیکن عرض یہ ہے کہ آیت مبارکہ میں موجود نہ تو لفظ  يد  کا معنی جناح ہے اور نہ ہی لفظ  تب کا معنی كسر   ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ آیت مبارکہ میں ہاتھ یا ہاتھوں کا نہیں بلکہ دو ہاتھوں کا ذکر ہے یعنی صیغہ مفرد یا جمع کا نہیں بلکہ تثنیہ کا ہے۔ دو ہاتھوں سے مراد ایسا عمل ہو سکتا ہے جو انسان دونوں  ہاتھوں سے کرتا ہے جیسا کہ نیکی کے اعمال۔ اور بنو ہاشم حاجیوں کو پانی پلانے کا کام کرتے تھے، یہ بات تاریخ میں اظہر من الشمس ہے۔ تو جیسے ہی ابو لہب نے آپ ﷤کو بد دعا دی اور آپ ﷤ کی ہجو کی  تو قرآن مجید نے بدلے میں   اسے یہ خوشخبری سنائی کے اس کے تمام اعمال اکارت گئے اور وہ خود بھی ہلاکت کا شکار ہوا۔

مذکورہ بالاصحیح بخاری کی روایت  سے یہ بھی معلوم ہواکہ سورہ لہب  آپ ﷤کی دعوت کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی جبکہ مکتبِ فراہی کا اصرار یہ ہے کہ یہ سورہ مبارکہ آپ ﷤کی ہجرت کے وقت نازل ہوئی تھی۔ ان کا یہ اصرار کیوں ہے، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی وہ بنیادی کنجی ہے کہ جس کو جان کر آپ کو معلوم ہو گا کہ مکتبِ فراہی میں قرآن مجید کے غریب اور شاذ معانی کے بیان پر اس قدر  زور  کیوں صَرف  کیا جاتا ہے جبکہ ان کے بیان کردہ  معانی خود قرآن مجید، احادیث وآثار اور ادب جاہلی کی عربی سے بھی متضاد ہوتے ہیں۔ فہم قرآن میں  مکتب فراہی کی  اصل بنیاد ان کی قرآن مجید کی  سورتوں کی گروپس اور جوڑوں میں الل ٹپ تقسیم ہے کہ جس پر تفصیلی بحث اس سلسلہ وار مضمون میں آگے آئے گی، ان شاء اللہ۔ قرآن  در اصل انسان کے جذبات  کو مَس کر کے اس میں ایمان کی شمع روشن کرتا ہےنہ کہ اس کی عقل  کی تسکین کے رستے اسے خدا تک پہنچاتا ہے۔ ہماری نظر میں مکتب فراہی کی اصل خرابی یہی ہے کہ وہ قرآن کی ایپروچ کو سمجھنے میں غلطی کھا گئے ہیں۔ انہوں نے قرآن کو  انسانی عقل کو  تسکین فراہم کرنے والا ایک فلسفیانہ نظام  سمجھ لیا ہے نہ کہ انسانی جذبات کو مَس کرنے والا معجزانہ خطاب۔ جاوید احمد غامدی صاحب  لکھتے ہیں:

اللھب- الاخلاص: یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون میں تواَم ہیں۔ پہلی سورہ قریش کے ائمہ کفر کی ہلاکت اور دوسری رسول اللہﷺکی طرف سے اُس عقیدے کا فیصلہ کن اعلان ہے جس کے منکرین کے لیے ہلاکت کی یہ پیشین گوئی کی گئی ہے… اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہجرت وبراءت اور فتح ونصرت کی بشارت کا جو مضمون الماعون اور الکوثرسے شروع ہوا تھا، وہ ان سورتوں میں اتمام کو پہنچ گیا ... دونوں سورتوں میں  روئے سخن قریش کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ   ام القری   مکہ میں یہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے مرحلہ  ہجرت وبراءت کے خاتمے پر نازل ہوئی ہیں۔ [13]

پس مکتب فراہی قرآن مجید کو سات گروپوں، سورتوں کے جوڑوں اور ذیلی مضامین میں تقسیم کر کے ایک وحدت کے طور دیکھتا ہے ۔ اور پھر قرآن مجید کے جو معانی اس وحدت کے مطابق  ہوں تو ان کو قبول کرتا ہے، ورنہ رد کر دیتا ہے، بھلے وہ خود قرآن سے ظاہر وباہر ہو، یا احادیث وآثار میں صراحت سے مروی  ہو ، یا ادب جاہلی سے ثابت ہو۔ اگر کسی آیت کا معنی ان کی وحدت  کہ جسے وہ نظام کا نام دیتے ہیں، کے خلاف جا رہا ہو  تو وہ اس  آیت کی دور ازکار   تاویلات  کر کے اسے اپنی اس کُل اور وحدت میں سمونے کی کوشش کرتے ہیں۔  ان کی یہ کُل اور وحدت  مبنی بر تعقل ایک  ایسا  فلسفیانہ نظام ہے کہ جس کا ثبوت نہ تو خود قرآن کے اندرونی نظام سے ملتا ہے اور نہ ہی  خارجی دلائل اس پر شاہد بن پاتے ہیں۔اس مکتب فکر کا دوسرا مسئلہ فکری انتہا پسندی بھی ہے کہ یہ اپنے فہم وفلسفے کو ایک عاجزانہ رائے (humble opinion) کے طور پیش نہیں کرتے بلکہ اپنے لب ولہجے کی قطعیت اور حتمیت کے ذریعے اپنے فکر وفلسفے کو قرآن کا قطعی وحتمی مفہوم ثابت کرنے پر تُل جاتے ہیں یعنی قرآن مجید قطعی الدلالۃ ہے اور اس کا مطلب ان کے ہاں  یہ ہوتا  ہے کہ جو انہیں  سمجھ میں آیا ہے، وہی اس کا قطعی مفہوم ہے، باقی سارے جھک مار رہے ہیں۔

دوسرا ماخذ: احادیث وآثار

غامدی صاحب کے نزدیک عربی معلی کے تین مصادر میں دوسرے نمبر پر احادیث اور آثار صحابہ ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

قرآن مجید کے بعد یہ زبان حدیث نبوی اور آثار صحابہ کے ذخائر میں ملتی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ روایت بالمعنٰی کی وجہ سے اِن ذخائر کا بہت تھوڑا حصہ ہی ہے جسے اب زبان کی تحقیق میں سند و حجت کی حیثیت سے پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ جتنا کچھ بھی باقی ہے ،اہل ذوق کے لیے متاع بے بہا ہے۔ یہ افصح العرب و العجم اور فصحاے صحابہ کی زبان ہے اور اپنے الفاظ و محاورات اور اسلوب بیان کے لحاظ سے اُس زبان کا بہترین نمونہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا ہے۔ نبی ﷺ کی دعاؤں، تمثیلات اور صحابہ کے ساتھ آپ کے مکالمات میں چونکہ بالعموم روایت باللفظ کا اہتمام ہوا ہے ،اِس وجہ سے اِس زبان کے نظائر سب سے زیادہ اِنھی کی روایت میں ملتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کی زبان کے طلبہ اگر اِس بحر زخار میں غواصی کریں تو اپنے لیے بہت کچھ لولوے لالا جمع کر سکتے ہیں اور قرآن کی لفظی اور معنوی مشکلات کو حل کرنے میں اِس ذخیرے سے اُن کو بڑی مدد مل سکتی ہے۔ [14]

مکتب فراہی اس معاملے میں بھی اپنے اصول پر صحیح معنوں میں  عمل پیرا نہیں ہے۔ اس کی واضح مثال  سورہ الکوثر کی تفسیر ہے۔اس کی تفسیر کرتے ہوئے مکتب فراہی میں کوثر سے مراد خانہ کعبہ لیا گیا ہے۔ اور یہ صرف اس وجہ  سے ہے کہ اگر وہ یہ مراد نہ لیں تو ان کا قرآن فہمی کا فلسفیانہ نظام گر جاتا ہے۔اس لیے وہ یہ معنی مراد لینے کے تکلف اور غیر ضروری تفصیل  سے کام لیتے ہیں۔  غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’ الماعون-الکوثر: یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے تواَم ہیں۔ پہلی سورۃ قریش کے سرداروں، خاص کر ابو لہب کی فرد قرار داد جرم بیان کرتی اور دوسری اِن جرائم کی پاداش میں حرم کی تولیت سے اُن کی معزولی کا اعلان کرتی ہے۔ دونوں کے مضمون سے واضح ہے کہ پہلی سورہ ام القری یعنی مکہ میں نبی کریم ﷺ کی دعوت کے مرحلہ ہجرت وبراءت میں قریش کے لیے آخری تہدید کے طور پر اور دوسری آپ کے لیے ایک عظیم بشارت کی حیثیت سے نازل ہوئی ہے۔ پہلے سورۃ- الماعون- میں روئے سخن قریش کی طرف ہے اور اِس کا موضوع اُن کی قیادت، خاص طور ابولہب کو یہ بتانا ہے کہ اُن کے جرائم کی پاداش میں تباہی اُن کا مقدر ہو چکی ہے۔ دوسرا سورۃ- الکوثر- میں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ اور اس کا موضوع آپ کو یہ خوش خبری دینا ہے کہ حرم کی تولیت اب آپ کو حاصل ہو گی اور آپ کے دشمنوں کی جڑ ہمیشہ کے لیے دنیا سے کٹ جائے گی‘‘۔ [15]

وہ مزید لکھتے ہیں:

’’اصل میں لفظ ’’الْكَوْثَرَ‘‘آیا ہے۔ ﴿ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ۰۰۲﴾ کے جملے میں آگے اس کا حق بیان ہوا ہے۔ اُس سے واضح ہے کہ اِس سے بیت الحرام مراد ہے، اس لیے کہ یہ دونوں عبادات پوری شان کے ساتھ اِسی میں جمع ہوتی ہیں… قرآن نے جب یہ اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالی نے خیر کثیر کا یہ خزانہ آپ کو عطا کر دیا ہے تو اس کے معنی یہ تھے کہ قریش معزول ہوئے۔ حرم کی بدولت سرزمین عرب میں جو اقتدار انھیں حاصل رہا ہے، وہ اُن سے چھین لیا جائے گا اور خدا کے اِس گھر کی تولیت اُن سے لے کر نبی ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو سونپ دی جائے گی۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تویہ ایک عظیم بشارت تھی جو اپنی قوم سے ہجرت وبراءت کے موقع پر آپ کو دی گئی، جبکہ دور دور تک اِس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے کہ یہ کبھی واقعہ بن سکے گی‘‘[16]۔

اگرچہ مکتب فراہی میں حوض کوثر سے متعلق روایات کو بھی اس طرح جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کوثر سے مراد خیر کثیر ہے اور  یہ خیر کثیر  خانہ کعبہ ہے ۔ مولانا حمید الدین فراہی ﷫لکھتے ہیں:

’’معراج میں نہر کوثر، آنحضرت ﷺ کو مشاہدہ کرائی گئی تھی، اس کی صفات پر جو شخص بھی غور کرے گا، اس پر یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ نہر کوثر در حقیقت کعبہ اور اس کے ماحول کی روحانی مثال ہے‘‘[17]۔

مولانا حمید الدین فراہی ﷫ لکھتے ہیں:

’’جو روایات مروی ہیں، ان کی مشترک حقیقت یہ ہے، کہ کوثر ایک نہر ہے، اس کے کناروں پر مجوف موتیوں کے محل ہیں، اس کی زمین یاقوت ومرجان اور زبرجد کی ہے۔ اس میں ظروف ہیں جو آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں، برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر چڑیاں اترتی ہیں، جن کی گردنیں قربانی کے جانوروں کی طرح ہیں … اب ایک لمحہ توقف کر کے کعبہ اور اس کے ماحول کے مشاہدات پر غور کرو، جب تمام اکناف عالم سے جان نثاران توحید کے قافلے، عشق ومحبت الہی کی پیاس بجھانے کے لیے اس چشمہ خیر وبرکت کے پاس اکٹھے ہوتے ہیں، کیا ان کے احساس روحانی میں اس مقدس وادی کے سنگریزے، یاقوت وزمرد سے زیادہ پرجمال، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار اور اس کے ارد گرد حجاج کے خیمے مجوف موتیوں کے قبوں سے زیادہ حسین وخوبصورت نہیں ہیں؟ پھر حجاج اور ان کے ساتھ قربانی کے اونٹوں کی قطاروں پر ایک نظر ڈالو، کیا یہ ایک چشمہ کے کنارے لمبی گردن والی چڑیوں کا جھنڈ نہیں ہے؟ … ایک نگاہ تعمق اس تشبیہ کے محاسن پر بھی ڈالو، حوض پر اترنے والی چڑیوں کو، قربانی کے اونٹوں سے تشبیہ دے  کر اور ان کے کھانے والوں کا ذکر  کر کے اشارہ کر دیا کہ چڑیوں سے مقصود یہی قربانی کےاونٹ ہیں، پھر اشارہ کتنا لطیف ہے، چڑیوں کی گردنوں کو قربانی کے اونٹوں کی گردن سے تشبیہ دی ہے کہ اس جز سے پورے کل پر روشنی پڑ جائے‘‘۔[18]

خیر خود مولانا فراہی کو بھی اندازہ ہو گیا کہ  وہ حوض کوثر کی روایات کی اپنی   نظام القرآن کی تفسیر کے ساتھ مماثلت ثابت کرنے کے لیے  احادیث کی  جس  قدر  تاویل کر رہے ہیں، معاملہ    کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے۔ لہذا اس کے معاً بعد کہتے ہیں:

’’تم پوچھ سکتے ہو  کہ اتنی رازداری اور اس قدر اشارات وکنایات کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب یہ ہے  کہ تا کہ عقل سلیم اس سے حقائق کا استنباط کرے‘‘۔[19]

آسان الفاظ میں مولانا فراہی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حوض کوثر کے بیان میں جو روایات ہیں، ان سےآپ ﷤  کی  مراد خانہ کعبہ تھا،لیکن آپ ﷤نے یہ معنی واضح طور بیان کیوں نہ کر دیا اور اسے اتنے اشاروں اور کنایوں میں چھپا کر کیوں رکھا کہ کوئی بھی اس تک نہ پہنچ پایا، یہ اس لیے تھا  کہ  مکتبِ  فراہی ان قرآنی   حقائق کا استنباط کر سکے  جن تک  سلف وخلف میں کوئی پہنچ نہیں پایا۔

مکتب فراہی کا مسئلہ یہ ہے کہ جس حدیث اور روایت کا کوئی ایسا معنی انہیں سوجھ گیا  ہو جو اُن کے نظام القرآن کی تفسیر سے مطابقت اور میل کھاتا ہو تو وہ اس حدیث کو اپنی ہی اس تاویل  کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن جس حدیث کی انہیں کوئی ایسی تاویل نہ سوجھے جو ان کے نظام القرآن کے معانی ومفاہیم کے مطابق ہو تو وہ اس کو قرآن کے مخالف حدیث  کا  عنوان دے کر رد کر دیتے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی ﷫لکھتے ہیں:

’’اس تفصیل سے واضح ہوا کہ جنت کے حوض کوثر اور خانہ کعبہ میں نسبت حقیقت اور مجاز کی ہے۔یہی خانہ کعبہ جنت میں حوض کوثر کی صورت میں ان لوگوں کو ملے گا جو اس پر پہنچنے  کے شوق میں بیت اللہ کے حج کرتے رہے‘‘۔[20]

چونکہ حوض کوثر کے بارے روایات تواتر  معنوی کے درجے کو پہنچ جاتی ہیں، شاید اس لیے مکتب فراہی کے لیے  ان کا انکار ممکن نہ تھا۔ لیکن ان احادیث  کی جو بودی  قسم کی تاویل کی گئی ہے، روایات پہلےہی وہلے میں  اس تاویل کا انکار کر دیتی ہیں۔ اس بات کو جاننے  کے لیے ذیل میں ہم حوض کوثر سے متعلق  چند روایات اور ان کا ترجمہ پیش کرتے ہیں کہ جنہیں پڑھ کر ایک قاری خود اندازہ لگا سکتا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کیا کہہ رہے ہیں  اور مکتب فراہی ان روایات کی تاویل کر کے انہیں اپنے فلسفیانہ نظام  میں ملانے کے لیے کیسے  تکلف اور تاویل  سے کام لے رہا ہے۔صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ ہیں:

أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ، قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا ‌الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَإِذَا طِينُهُ أَوْ طِيبُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ»[21].

’’حضرت انس بن مالک ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب میں جنت میں چل رہا تھا تو میں نے ایک نہر دیکھی جس کے دونوں کنارے کھوکھلے موتیوں کے قُبے   ہیں۔میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟جبرائیل نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے ربّ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔(پھر فرمایا:) اس کی مٹی یا اس کی خوشبو خالص مشک ہے‘‘۔

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَ:«سَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ ‌الْكَوْثَرَ﴾ قَالَتْ: نَهَرٌ أُعْطِيَهُ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم، شَاطِئَاهُ عَلَيْهِ دُرٌّ مُجَوَّفٌ، آنِيَتُهُ كَعَدَدِ النُّجُومِ»[22].

’’ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ﷞سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الكَوْثَرَ﴾کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ ایک نہر ہے جو آپ کے  نبی ﷺ کو عطا کی گئی ہے، جس کے دونوں کنارے موتیوں کے گنبدوں سے آراستہ ہیں اور اس کے برتن  آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں‘‘۔

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: « بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا. فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ. فَقَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴿ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ۰۰۱ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ۰۰۲ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُؒ۰۰۳﴾ ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا ‌الْكَوْثَرُ؟ فَقُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عز وجل عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ. هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي»[23].

’’حضرت انس ﷜سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کیں (ہلکی سی نیند یا غشی طاری ہوئی)، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور تبسم فرمایا۔ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا آپ ﷺ نے فرمایا:  ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے تلاوت فرمائی: ﴿ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ۰۰۱ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ۰۰۲ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُؒ۰۰۳﴾پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: ا للہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:  یہ ایک نہر ہے جس کا وعدہ میرے ربّ نے مجھ سے کیا ہے،اس پر بہت زیادہ خیر و برکت ہےاور یہ وہ حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے دن آئے گی‘‘۔

 روایات اس باب میں بہت واضح ہیں کہ سورۃ کوثر  میں جو کوثر آپ ﷺ کو دینے کی بشارت دی گئی  ہے، اس سے مراد آخرت کا حوض کوثر ہے جو آپ کو دے دیا گیا ہے۔ روایات میں باقاعدہ سورۃ کوثر  کو بیان کر کے اس  میں موجود لفظ کوثر کی وضاحت کی گئی ہے کہ وہ آخرت کا حوض ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی بیان صریح اور مبین نہیں ہو سکتا۔  البتہ بعض سلف صالحین نے  یہ واضح کیا ہے کہ کوثر کے لغوی معنی اور نبوی معنی میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ لغت عرب میں کوثر کا معنی خیر کثیر ہے جبکہ نبوی معنی بھی اسی لغوی بنیاد ہی پر کھڑا  ہے کیونکہ  حوض کوثر، اُسی خیر کثیر ہی میں شامل ہے۔ اوپر صحیح مسلم کی روایت میں آپ ﷺ نے بھی اس حوض  کو خیر کثیر ہی قرار دیا ہےکیونکہ اس حوض سے اس امت کو بہت خیر ملے گا، جیساکہ ابن  عباس ﷠سے مروی ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنه قَالَ: «‌الْكَوْثَرُ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللهُ إِيَّا ُ» قَالَ أَبُو بِشْرٍ قُلْتُ لِسَعِيدٍ: إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: النَّهَرُ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي أَعْطَاهُ اللهُ إِيَّاهُ[24].

’’حضرت ابن عباس ﷠سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کوثر وہ بہت بڑی بھلائی (خیرِ کثیر) ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔ (راوی ابو بشر کہتے ہیں:) میں نے (ابن عباس کے شاگرد )سعید بن جبیر سے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کوثر جنت کی ایک نہر ہے۔سعید بن جبیر نے فرمایا: جنت میں جو نہر ہے، وہ اسی بھلائی میں سے ہے  جو اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عطا کی ہے‘‘۔

 ان سلف صالحین  کے بقول کوثر سے مراد حوض کوثر ہے اور چونکہ حوض کوثر سے امت کو بہت خیر ملے گا لہذا کوثر سے مراد خیر کثیر لینا بھی درست ہے کہ لغت میں بھی اس کا معنی یہی ہے۔ پس قرآن نے ایک عام لفظ بیان کیا یعنی کوثر کہ جس کا معنی خیر کثیر تھا۔ نبی کریم ﷺ  نے اس کے معانی میں سے ایک  خاص معنی متعین کر دیا یعنی حوض کوثر جو خیر کثیر ہی کی ایک شکل اور صورت ہے۔ اب اگر کوئی شخص قرآن کے لفظ کو اس کے لغوی یعنی عمومی معنی پر باقی رکھے تو آپ ﷺ  کے بیان کردہ خصوصی  معنی کا انکار نہیں ہوتا  کیونکہ  وہ خاص معنی، اس عمومی معنی ہی کا ایک جزو ہے اور اس عمومی معنی میں شامل ہے۔ مثال کے طور ایک شخص تنور والے سے روٹی مانگے اور دوسرا اسے کہے کہ مجھے خمیری چاہیے تو یہ خمیری بھی روٹی ہی کی ایک قسم ہی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ دونوں روٹی نہیں مانگ رہے بلکہ دونوں روٹی ہی مانگ رہے ہیں۔ ایک شخص تنور والے سے کہتا ہے کہ مجھے نان چاہیے اور دوسرا کہتا ہے کہ روغنی چاہیے تو دونوں نان ہی کا تقاضا کر رہے ہیں۔ جیسے  خمیری روٹی میں روٹی اور  روغنی نان میں نان شامل ہے ، اسی طرح حوض کوثر میں خیر کثیر شامل ہے۔

 مکتب فراہی احادیث اور آثار سے قرآن کے عموم کی تخصیص کا قائل نہیں ہے البتہ اپنے ذوق اور فلسفیانہ فکری نظام سے قرآن کے عموم کی تخصیص بہت سکون سے کرلیتا ہے۔  اور پھر اس مخصوص معنی کو  قرآن مجید کا قطعی معنی بھی قرار دے دیتا ہے۔ ان کی فکر میں  پیغمبر کے پاس تو  یہ اختیار نہیں ہے  کہ وہ  قرآن کے کسی عام کو خاص کر سکے البتہ ان کے پاس یہ اختیار وافر مقدار میں موجود ہے کہ جہاں چاہیں اور جب چاہیں، اپنے نظام القرآن کے فلسفے کے مطابق  قرآنی الفاظ کے معانی کو ڈھالنے کے لیے  قرآن کے کسی عام کو خاص کر لیں اور منصوص خاص کا انکار کرکے اسے  عام معنیٰ پر  محمول کرلیں۔   فراہی صاحب سورہ کوثر کی تفسیر میں آخری جملے  لکھتے ہوئے فرماتے  ہیں اور اس میں ذرا لفظ ہی  کے استعمال  پر غور کریں:

’’یہ تمام باتیں اشارہ کر رہی ہیں کہ اس سورہ میں کوثر سے مراد خانہ کعبہ ہی ہے‘‘۔[25]

تیسرا ماخذ: ادب جاہلی

غامدی صاحب کے نزدیک عربی معلی کا تیسر ابڑا ماخذ ادب جاہلی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اِس کے بعد اِس زبان کا سب سے بڑا ماخذ کلام عرب ہے ۔یہ امر ؤالقیس ،زہیر ،عمرو بن کلثوم، لبید، نابغہ، طرفہ، عنترہ، اعشیٰ اور حارث بن حلزہ جیسے شاعروں اور قس بن ساعدہ جیسے خطیبوں کا کلام ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ اِس کا بڑا حصہ شعرا کے دواوین اور ’’اصمعیات ‘‘ ، ’’مفضلیات ‘‘ ، ’’حماسہ‘‘، ’’سبع معلقات ‘ ‘ اور جاحظ و مبرد اور اِس طرح کے دوسرے اہل ادب کی کتابوں میں جمع ہے۔  اِس زمانے میں شعراے جاہلیت کے ایسے بہت سے دواوین بھی شائع ہوئے ہیں جو اِس سے پہلے ناپید تھے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ عربی زبان کے بیش تر لغات اہل زبان کے اجماع و تواتر سے نقل ہوئے ہیں اور اِن کا ایک بڑا ذخیرہ لغت کی امہات:’’التہذیب  ‘‘، ’’المحکم  ‘‘ ،’’الصحاح ‘‘ ، ’ ’الجمہرۃ‘‘  اور ’’النہایۃ  ‘‘ وغیرہ میں محفوظ ہے ،لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ لغت عرب کا جو ذخیرہ اِس طرح متواتر نہیں ہے، اُس کی تحقیق کے لیے سب سے زیادہ مستند ماخذ یہی کلام عرب ہے۔اِس میں اگرچہ کچھ منحول کلام بھی شامل ہے ،لیکن جس طرح نقدحدیث کے علما اُس کی صحیح اور سقیم روایتوں میں امتیاز کر سکتے ہیں ،اِسی طرح اِس کلام کے نقاد بھی روایت و درایت کے نہایت واضح معیارات کی بنا پر اِس کے خالص اور منحول کو ایک دوسرے سے الگ کر دے سکتے ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ لغت وادب کے ائمہ اِس بات پر ہمیشہ متفق رہے ہیں کہ قرآن کے بعد یہی کلام ہے جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اور جو صحت نقل اور روایت باللفظ کی بنا پر زبان کی تحقیق میں سند و حجت کی حیثیت رکھتا ہے‘‘ ۔[26]

غامدی صاحب نے عربی معلیٰ  کی بابت کہا کہ اس کا سب سے بڑا ماخذ  کلام عرب یعنی ادب جاہلی  ہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ درست بات یہ ہے کہ عربی معلی کا سب سے  اہم ماخذ تو  خود قرآن  اور حدیث ہیں جبکہ سب سے بڑا ماخذ آثار  صحابہ وتابعین ہیں۔ قرآن مجید کی لغوی تفسیر میں جس قدر آثار صحابہ وتابعین مروی ہیں، ادب جاہلی کے اشعار  اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔   دوسری بات یہ کہ غامدی صاحب نے جس  ترتیب سے مدون ادب جاہلی کو بیان کیا ہے ، وہ دماغ میں سیدھا  تیر کی طرح جا کے لگتی ہے۔  آپ اصول حدیث کے باب میں گہری اور علمی بحث کے دعویدار ہوں اور لکھ یہ رہے ہوں کہ مقطوع ، مرفوع اور موقوف روایت،  تو  آپ کی اس ترکیب  ہی سے کسی اچھے عالم کو وحشت پیدا ہو جائے گی۔ وہ یہ سوچے گا کہ مولف  میں یا تو حس جمال نہیں ہے یا فن کی گہرائی سے ناواقف ہے کہ اس نے صرف نام سن رکھے ہیں۔ اصل میں ترتیب وہ نہیں ہے جو غامدی صاحب نے بیان کی ہے بلکہ ترتیب یوں ہے: سبع معلقات، مفضلیات اور اصمعیات ۔معروف روایت کے مطابق سبع معلقات کو حماد الراویہ متوفی ۱۵۶ھ نے سب سے پہلے  جمع کیا تھا کہ جس میں  دور جاہلیت کے سات  چوٹی کے شعراء کا کلام تھا۔ سبع معلقات کے شعراء میں امرو القیس، طرفہ بن العبد البکری، زہیر بن
 ابی سلمی المزنی، لبید بن ربیعہ العامری، عمرو بن کلثوم التغلبی، عنترہ بن شداد العبسی، الحارث بن حلزہ الیشکری معروف ہیں۔ بعض نے ان میں تین کا اضافہ کر کے دس کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان تین میں الاعشی، النابغہ الذبیانی اور عبید بن الابرص شامل  ہیں۔   مفضلیات کے شاعری مجموعے  کو المفضل بن محمد الضبی متوفی ۱۶۸ھ نے جمع کیا تھا کہ جس میں  ۶۷ شعراء کا ذکر ہے۔ ان میں سے اکثر وبیشتر جاہلی دور کے شعراء ہیں۔ اصمعیات کا  شعری مجموعہ عبد الملک بن قُریب الاصمعی متوفی ۲۱۷ھ کا مرتب کردہ ہے اور اس میں ۷۲ شعراء کا ذکر ہے کہ جن میں سے اکثر وبیشتر دور جاہلیت کے شعراء ہیں۔

ادب جاہلی میں الحاق

معروف مستشرق مارگولیتھ نے کہا تھا کہ دور جاہلیت کی شاعری  عباسی دور میں  وضع ہوئی ہے ۔  اس کے بقول دور جاہلیت کی شاعری میں  عربی زبان کی جو پختگی نظر آتی ہے، وہ قرآن کے بعد کے زمانے میں ہی  ممکن ہے۔ طہ حسین مصری  متوفی ۱۹۷۳ء نے اسی بات کو اٹھا لیا  اور اس پر کتاب لکھ دی اور دعوی کیا کہ دور جاہلیت کے شعراء کی شاعری ایک ہی لہجے یعنی قریش کی زبان میں ہے جبکہ ان شعراء کا تعلق مختلف قبائل سے تھا لہذا یہ بعد میں  وضع ہوئی ہے۔ اس  کی کتاب   في الشعر الجاهلي  نے مصر میں طوفان برپا کر دیا تھا۔  اس کتاب پر نقد آیا تو انہوں نے کچھ چیزیں نکال کر اسے دوبارہ   في الأدب الجاهلي کے نام سے شائع کیا۔ اس کتاب  کا مقدمہ بھی یہی تھا کہ ادب جاہلی نام کی کوئی  چیز نہیں ہے اور جو موجود ہے، وہ مابعد زمانے کا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر  خورشید رضوی صاحب نے اپنی کتاب میں  طہ  حسین مصری کی  کتاب کا خلاصہ نقل کیا ہے۔ (خورشید رضوی، ڈاکٹر، عربی ادب قبل از اسلام، ادارہ اسلامیات، لاہور)  ادب جاہلی   میں منحول  کلام موجود ہے اگرچہ سب کا سب موضوع اور منگھڑت نہیں ہے، یہ سب نے مان لیا ہے بلکہ غامدی صاحب نے بھی مان لیا ہے جیسا کہ اوپر ان کے اقتباس میں یہ بات موجود ہے۔ البتہ انہوں  نے اس کی  توجیہ یہ  کر لی کہ جس  طرح محدثین صحیح اور ضعیف میں تمیز کر لیتے ہیں تو ایک اچھا شاعر یہ معلوم کر لیتا ہے کہ کیا منقول ہے اور کیا منحول۔لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس سبب سے آپ احادیث اور آثار سے فرار ہوئے تھے کہ ان کا ثبوت قطعی نہیں ہے تو وہی چیز آپ کے گَلے پڑ گئی ہے۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:

«والمعروف اليوم، أن حمادا الراوية، هو الذي جمع القصائد السبع المذكورة، وأذاعها بين الناس. وهو من حفظة الشعر ورواته وممن اشتهروا وعرفوا برواية الشعر القديم. وكان من المتكسبين بالشعر. وقد اتهم بالوضع وبالدس على الجاهليين وبالكذب عليهم: وهو نفسه لم ينكر ذلك، ولم يبرئ نفسه من الدس على الجاهليين والوضع عليهم. ولكنه كان بإجماع أنصاره وخصومه من أفرس الناس بالشعر، ومن أعلمهم بالشعر الجاهلي وبطرقه ودروبه وأساليبه، ولعل علمه هذا بالشعر، ورغبته في التفوق والتصدر على أقرانه المتعيشين مثله على رواية الشعر، كانا في رأس الأسباب التي حملته على الوضع والدس والافتعال»[27].

’’آج یہ بات مشہور ہے کہ حمّاد الراویہ ہی وہ شخص تھا جس نے ان سات قصائد (معلقات) کو جمع کیا اور لوگوں میں عام کیا۔ وہ شعر کے حافظوں اور راویوں میں سے تھا، اور قدیم عربی شعر کی روایت کے حوالے سے مشہور اور معروف تھا۔ وہ شعر سے روزی بھی کماتا تھا۔ اس پر جعلی اشعار گھڑنے اور  دور جاہلیت کے  شاعروں پر جھوٹ باندھنے کے حوالے سے  جعل سازی کے الزامات لگائے گئے۔ اور اس نے خود بھی اس الزام  کی تردید نہیں کی اور  نہ ہی اپنے آپ کو جاہلی شعرا  پر وضع اور جعل سے بری قرار دیا۔ تاہم، اس کے حامیوں اور مخالفوں کا اتفاق تھا کہ وہ شعر کے معاملے میں سب سے زیادہ فہم رکھنے والا اور شعرِ جاہلی، اس کے طریقوں، راہوں اور اسالیب کا گہرا عالم تھا۔ غالباً یہی اس کا گہرا علم اور اپنے ہم پیشہ رواة پر برتری و شہرت حاصل کرنے کی خواہش تھی جو اسے جعلی اشعار گھڑنے اور روایت میں دخل دینے پر آمادہ کرتی تھی‘‘۔

ادب جاہلی اور عرب تہذیب وتمدن

 غامدی صاحب کا کہنا یہ بھی ہے کہ ادب جاہلی نہ صرف قرآن مجید کے الفاظ کے معانی ومفاہیم  کو سمجھنےکے لیے ممد ومعاون ہے بلکہ دور جاہلیت کی اس تہذیب  اورتمدن کو سمجھنے میں بھی مدد گار ہے کہ جس کی روشنی میں قرآن کے سیاق وسباق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اہل جاہلیت کا یہ کلام صرف زبان اور اُس کے اسالیب ہی کا ماخذ نہیں ہے، اِس کے ساتھ عرب کی اُس تہذیب و ثقافت کا بھی آئینہ دار ہے جس کا صحیح تصور اگر ذہن میں موجود نہ ہو تو قرآن مجید میں اشارہ و تلمیح اور تعریض و کنایہ کے اُن اسالیب کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے جو اِس شہ پارۂ ادب میں اصل سرمایۂ بلاغت ہیں۔ اہل عرب کی معاشرت کے بنیادی خصائص کیا تھے؟ وہ کن چیزوں کو معروف اور کن چیزوں کو منکر قرار دیتے تھے؟ اُن کے معاشرے میں خیر و شر کے معیارات کیا تھے؟ اُن کے مذہب اور رسوم و روایات کس نوعیت کے تھے؟ اُن کا تمدن کن بنیادوں پر کھڑا تھا اور اُن کے سماج کی تشکیل کن عناصر سے ہوئی تھی؟ اُن کے سیاسی نظریات اور روز و شب میں اُن کی دل چسپیاں اور مشاغل کیا تھے؟ وہ کیا ڈھور ڈنگروں کا ایک گلہ ہی تھے جنھیں اسلام نے اٹھایا اور جہاں بانی کے منصب پر فائز کر دیا یا اپنی اِس وحشت کے باوجود بعض ایسے اوصاف و خصائص کی حامل ایک قوم بھی تھے جن کی بنا پر قرآن جیسی کتاب اُنھیں دی گئی اور وہ خدا کی طرف سے پوری دنیا کے لیے شہادت حق کے منصب پر فائز ہوئے؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جن کا صحیح جواب اِسی کلام میں ملتا ہے اور یہی جواب ہے جس کی روشنی میں قرآن مجید کے اشارات و تلمیحات اور تعریضات و کنایات اپنے بے مثال ادبی حسن اور کمال معنویت کے ساتھ اُس کے طلبہ اور محققین پر واضح ہوتے ہیں[28]۔

غامدی صاحب کی بات ایک حد تک ٹھیک ہے لیکن اس سے زیادہ نہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا بھی ضروری ہے تا کہ بات میں توازن رہے۔ سوال یہ ہے کہ   امرؤ القیس کی شاعری میں جو فحش پن تھا تو کیا وہ عرب کی عمومی تہذیب اور کلچر تھا؟ اور اسے عام طور ادب جاہلی کا  سب سے بڑا شاعر  سمجھا جاتا ہے  اگرچہ بعض  نے نابغہ یا اعشی کو بھی کہا ہے۔ پس  کسی دور کی شاعری ضروری نہیں اس زمانے  کی  قوم کی تہذیب اور کلچر   ہی بیان  کر رہی ہو بلکہ زیادہ تر وہ   اس دور کے شعراء  کے تخیل کی پرواز  ہی ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ دور جاہلیت کے شعر کے بڑے موضوعات مفاخرت، مدح، ہجو، فطرت، غزل، مرثیہ، اعتذار، تشبیہ،  حکمت   اور شراب وغیرہ ہیں۔

ہمیں ثقافتی معانی (cultural meaning) کو  سمجھنا ہے لیکن ان کا اصل مصدر ادب جاہلی  نہیں بلکہ شان نزول کی روایات ہیں۔ مثال کےطور  انصار حج سے واپسی پر اپنے گھروں کے پچھواڑے سے گھروں میں داخل ہوتے تھے، سامنے کے دروازوں سے نہیں۔ قرآن مجید کی آیت مبارکہ ﴿ وَ لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى وَ اْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا ﴾ [البقرة: 189]   میں اس حکم  کا  تہذیبی پس منظر موجو دنہیں ہے۔ یہ پس منظر کیا  ہمیں ادب جاہلی سے  ملے گا؟ جب قرآن نازل ہو رہا ہے تو وہ ان واقعات اور احوال  کے بارے نازل ہو رہا ہے جو اس کے نزول کے وقت موجود ہیں۔ اور اس واقعے کے شاہدین صحابہ کرام ہیں کہ جنہوں نے اس واقعے کو شان نزول یا سبب نزول کی روایات میں تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ اب ہم اس واقعے کو  کہ  جس پر قرآن کا نزول ہوا ہے،  اس کے وقوعے  سے سوسال پہلے کی شاعری میں تلاش کرنے کو عقلمندی کہہ سکتے ہیں!    

قرآن مجید کی تفسیر میں ادب جاہلی کا مقام

واضح رہے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ادب جاہلی قرآن فہمی کا کوئی مصدر نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک بھی یہ  قرآن فہمی کا ایک مصدر ہے لیکن اس کا درجہ احادیث، آثار اور شان نزول کی روایات کےبعد کا ہے ، نہ کہ پہلے کا۔  اگر ایک معنی احادیث، آثار اور شان نزول کی روایات سے متعین ہو کر سامنے آ جائے تو اب ادب جاہلی سے اس معنی کی تصحیح نہیں ہو گی۔ اور  ادب جاہلی سے اگر کوئی معنی متعین ہو رہا ہو تو احادیث، آثار اور شان نزول کی روشنی میں اس معنی پر اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس کی تحدید وتخصیص بھی ہو سکتی ہے۔ تو بنیادی مسئلہ احادیث وآثار کے بالمقابل  ادب جاہلی کی حیثیت اور مقام کی تعیین کا ہے۔  غامدی صاحب لکھتے ہیں:

یہی بات سیدنا عمر فاروق ﷜نے اپنے منبر سے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی ہے:ياأيهاالناس، علیکم بدیوانکم، شعر الجاهلية، فإن فيه تفسیر کتابکم ومعاني کلامکم[29].) ۔’’ لوگو، تم اپنے دیوان،یعنی اہل جاہلیت کے اشعار کی حفاظت کرتے رہو، اِس لیے کہ اُن میں تمھاری کتاب کی تفسیربھی ہے اور تمھارے کلام کے معانی بھی‘‘۔  صحابہ میں دین کے جلیل القدر عالم ابن عباس ﷜ نے فرمایا ہے : إذا خفي علیکم شيء من القرآن فابتغوه في الشعر، فإنه دیوان العرب[30].  ’’قرآن کی کوئی چیز تم پر واضح نہ ہو رہی ہو تو اُسے (جاہلی) اشعار میں تلاش کرو، اِس لیے کہ یہی شاعری درحقیقت، اہل عرب کا دیوان ہے‘‘[31]۔

بلاشبہ صحابہ کرام نے ادب جاہلی کو قرآن فہمی کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہم بھی اس کا انکار نہیں کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ اس کی حیثیت کی تعیین کا ہے۔ غامدی صاحب نے حضرت عبد اللہ بن عباس ﷠سے جو قول نقل کیا ہے،خود اس پر ذرا غور کر لیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ﷠ نے کہا ہے  کہ اگر قرآن کے کسی لفظ کے معانی تم پر مخفی ہو جائیں تو اسے شعر میں تلاش کرو۔ اس کا مطلب ہے کہ آثار میں صحابہ کرام کے بیان کردہ معانی کو  ادب جاہلی کے معانی پر ترجیح حاصل ہے۔  قرآن مجید صحابہ کرام کی زبان میں نازل ہوا ہے تا کہ وہ سمجھ سکیں  جیسا کہ خود قرآن مجید میں ہے: ﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾  [يوسف: 2]۔لہذا قرآن مجید صحابہ کرام  کو سمجھ میں آتا تھا لیکن اگر قرآن کا کوئی لفظ  ان سے مخفی ہو جاتا تو اس کا معنی وہ شعر عربی میں  بھی تلاش کر لیا کرتے  تھے تو اس بات  سے کس کو اختلاف  ہو سکتا ہے۔

  یہ واضح رہے کہ صحابہ کی ایک لغوی تفسیر ہے یعنی وہ قرآن مجید کے لغوی معنی  کومتعین کرتے ہیں، صحابہ کی اس لغوی تفسیر  کو ادب جاہلی پر ترجیح دینی چاہیے کیونکہ وہ قرآن کی عربی بھی جانتے تھے اور ادب جاہلی کی عربی بھی۔ دوسرا صحابہ کرام  کی اجتہادی تفسیر ہے، اس سے اختلاف ممکن ہے۔ تیسرا یہ بھی ہمارے علم میں ہے کہ صحابہ کرام  اسرائیلیات سے بھی قرآن مجید کی تفسیر کر جاتے ہیں، اس سے بھی اختلاف جائز ہے۔  چوتھی بات یہ کہ  صحابہ کرام کی تفسیر اور تاویل میں سند کو بھی دیکھ لینا چاہیے ورنہ ضعیف سند سے مروی آثار کے حجت ہونے میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ پانچواں نکتہ یہ کہ  صحابہ کرام لغت سے  قرآن مجید کی جو  تفسیر کرتے ہیں تو بعض اوقات لفظ کا معنی بیان کرتے ہیں اور بعض اوقات معنی  کے ایک جز و یا مثال کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں لہٰذا اس تفسیر  پر بھی اضافہ جائز ہے اور تنوع کا اختلاف شمار ہو گا نہ کہ تضاد کا۔ اس قسم کی تفصیلات  اہل علم  اصول تفسیر کے باب میں بیان کر چکے ہیں۔ اس موضوع پر الدکتور مساعد الطیار  کی کتاب’’التحرير في أصول التفسير‘‘میں کافی کچھ نکات جمع ہو گئے ہیں۔ (جاری ہے)

 

[1]    غامدی، جاوید احمد، میزان، المورد، لاہور، 2014،  ص 16

[2]    میزان، ص 16

[3]  Title: Ghulam Ahmed Pervez, Bunyadi Ikhtilaf-Javed Ahmed Ghamidi,
Channel: Ghamidi Center Of Islamic Learning, URL:  https://www.youtube.com/watch?v=o7N7pvOAgKM , Timings: 28:00-34:00, Date Accessed: 10 November, 2025.

[4]    مفردات القرآن للفراهي: ص29

[5]    مجموعہ تفاسیر فراہی، ص ۴۸۷

[6]    دیباچہ، میزان، ۲۰۱۴ء

[7]    امین احسن اصلاحی، مولانا، تدبر قرآن، ۹/۶۳۴، فاران فاؤنڈیشن، لاہور

[8]    غامدی، جاوید احمد، البیان، ۵/۵۶۲، جولائی ۲۰۱۸ء، المورد، لاہور

[9]    صحیح بخاری: 6/111، الطبعة السلطانية، مصر

[10]   تفسير الطبري: 24/ 715

[11]   مجموعہ تفاسیر فراہی: ۴۹۳-۴۹۴

[12]   مجموعہ تفاسیر فراہی: ص ۴۸۶

[13]   البیان: ۵/ ۵۶۰

[14]   میزان، ص ۱۷-۱۸

[15]   البیان: ۵/۵۴۴

[16]   البیان: ۵/۵۴۷-۵۴۸

[17]   مجموعہ تفاسیر فراہی: ص ۴۱۹

[18]   مجموعہ تفاسیر فراہی: ص ۴۲۲

[19]   مجموعہ تفاسیر فراہی: ص ۴۲۲

[20]   تدبر قرآن: ۹/۵۹۶

[21]   صحيح البخاری : 6581

[22]   صحيح البخاری : 4965

[23]   صحيح مسلم:400

[24]   صحيح البخاری :4966

[25]   مجموعہ تفاسیر فراہی: ۴۶۲

[26]   میزان، ص ۱۸-۱۹

[27]  المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام: 18/ 77

[28]  میزان، ص ۲۰

[29] الجامع لاحکام القرآن، القرطبی۱۰ /۱۱۰

[30]  المستدرک، الحاکم، رقم ۳۸۴۵

[31]   میزان، ص ۱۹-۲۰