مولانا اصلاحی کی تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘  میں

فکری تضادات و تناقضات قسط 4

مولانا اصلاحی کی تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘  میں

فکری تضادات و تناقضات

13۔ کیا ائمہ اربعہ کا اتفاق رائے دین میں حجت ہے ؟

صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کے فکری تضادات میں یہ بھی ہے کہ وہ  کبھی  تو ائمہ اربعہ  کے متفقہ فقہی مسائل کو دین میں حجت اور واجب العمل قرار دیتے ہیں اور کبھی اس کا  صاف انکار کر دیتے ہیں ۔

ائمہ اربعہ کی متفقہ فقہی  آراء کو دین میں حجت اور واجب العمل قرار دیتے ہوئے  فرماتے ہیں :

’’ ایک انطباق تو وہ ہے جس پر خلفائے راشدین اپنے دور کے اہل علم و تقویٰ کے مشورے کے بعد متفق ہو گئے ہیں ۔ یہ اسلام میں اجتماع کی بہترین قسم ہے اور یہ بجائے خود ایک شرعی حجت ہے ۔ اسی طرح ایک انطباق وہ ہے جس پر ائمہ اربعہ متفق ہو گئے ہیں۔ یہ اگر چہ درجے میں پہلی قسم کے اجماع کے برابر نہیں ہے ، تاہم چونکہ یہ اُمت من حیث الامر ان ائمہ پر متفق ہو گئی ہے ، اس وجہ سے ان ائمہ  کے کسی اجماع کو محض اس دلیل کی بنا پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ معصوم نہ تھے ۔ یہ معصوم تو بے شک نہ تھے لیکن ان کے معصوم نہ ہونے کے معنی ہر گز یہ نہیں ہیں کہ کسی امر پر ان  کا اتفاق دین میں حجت نہ بن سکے‘‘۔[1]

لیکن  ائمہ اربعہ کا جو  اتفاق ا ن کے مزاج کے خلاف ہوا اس کا بلاتأمل  انکار کر دیا، چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

1۔ شادی شدہ زانی کے لیے حد رجم کا انکار :

 شادی شدہ زانی کےلیے   حد رحم پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے۔ الفقه علی مذاهب الاربعة میں لکھا ہے :

اتفق الأئمة على ان من كملت فيه شروط الإحصان ثم زنا بامرءة قد كملت فيها شروط الاحصان بان كانت حرة، بالغة،عاقلة،مدخولابها في نكاح صحيح و هي مسلمة، فهما زانيان محصنان يجب على كل واحد منهما الرجم حتى يموت [2].

’’ ائمہ  کا اس پر اتفاق ہے کہ جس شخص میں احصان کی سب شرطیں پائی جائیں اورپھر وہ کسی ایسی عورت سے زنا کا مرتکب ہو جس میں بھی احصان کی تمام شرائط موجود ہوں یعنی وہ آزاد ،بالغہ، عاقلہ ہو اور نکاحِ صحیح کے بعد مدخولہ ہو چکی ہو اور مسلمان بھی ہو۔ تو ایسے شادی شدہ زانی مرد  اور شادی شدہ زانیہ  عورت میں سے ہر ایک کورجم کرنا واجب ہے ۔‘‘

  • فقہ کی معروف کتاب بدایۃ المجتہد میں ہے:

 فإن الثيب الأحرار المحصنون فإن المسلمين اجمعوا على أن حدهم الرجم[3].

 ’’رہے  آزاد شادی  شد ہ زانی  تو بلاشبہ  مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ان کی سزا  رجم ہے‘‘۔

  •  الدکتور و ہبہ زہیلی لکھتے ہیں :

 اتفق العلماء على أن حد الزاني المحصن هو الرجم [4].

’’ علمائے اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی حد شرعی ہے ‘‘ ۔

لیکن صاحبِ تدبر قرآن نے ائمہ اربعہ کے اتفاق و اجماع کے برخلاف  شادی شدہ زانی کے لیے  حدِ رجم کا  یہ کہہ  کر  انکار کیا ہے کہ شادی شدہ زانی کی اصل سزا  تازیانہ  ہے[5]۔

2۔ مرتد کے لیے سزئے قتل :

ائمہ اربعہ کا اس امر پر بھی اتفاق ہے کہ اسلامی شریعت میں مرتد کی سزا قتل ہے ۔

  • علامہ عبدالرحمن الجزائری ؒ نے لکھا ہے :

واتفق الأئمة الأربعة عليهم رحمة الله تعالىٰ: على أن من ثبت ارتداده عن الإسلام والعياذ بالله وجب قتله، وأهدر دمه[6].

’’ ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص اسلام سے پھر جائے ، اس کو قتل کرنا واجب ہے اور اس کا خون رائیگاں ہوگا‘‘۔

  • اسلامی فقہ کے اجماعی مسائل پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا ’ موسوعۃ الاجماع ‘ میں لکھا ہے :

اتفقوا علی أن من کان رجلا مسلما حرا... ثم ارتد الی دین کفر... أنه حل دمه[7].

’’ اس پر تمام فقہائے اسلام کا اتفاق ہے کہ آزاد مسلمان مرد مرتد ہوجائے تو اس کا خون بہانا جائز ہے ‘‘۔

  • ڈاکٹر وہبہ زحیلی مرتد کی سزا کے حوالے سے لکھتے ہیں :

وقد اتفق العلماء على وجوب قتل المرتد، لقوله صلّى الله عليه وسلم:« مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ »[8] وقوله عليه السلام: « لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ »[9]. وأجمع أهل العلم على وجوب قتل المرتد[10].

’’ علما کا اس پر اتفاق ہے کہ مرتد کا قتل  واجب ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’جو مسلمان اپنا دین بدل لے ، اسے قتل کر دو‘‘ ۔ نیز  آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ’ ’کسی مسلمان کا خون  حلال اور مباح نہیں ہوتا مگر تین صورتوں میں : ایک یہ  کہ وہ  شادی شدہ زانی ہو،دوسرے یہ کہ وہ کسی جان کا قاتل ہو اور تیسرے یہ  کہ وہ  دین کو چھوڑ دے(اور)   مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے‘ ‘ ۔ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ مرتد واجب القتل ہے‘‘۔

مذکورہ بالا شرعی دلائل کی تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی شریعت میں مرتد کی سزا قتل ہے اور اس پر اجماع امت ہے۔

مگر صاحب ’’تدبر قرآن ‘‘ مرتد کو واجب القتل نہیں مانتے ، وہ صرف مسلح باغی مرتد کو واجب القتل قرار دیتے ہیں ۔ اس طرح وہ ائمہ اربعہ  کے اتفاق رائے سے اختلاف کر کے تضاد کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :

’’ارتداد بھی اسی زمرے کا ایک جرم بلکہ بہت بڑا جرم ہے ۔ اور اس پر جو سزا ایک اسلامی نظام میں دی جاتی ہے وہ اس بات پر نہیں دی جاتی کہ ایک شخص کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے بلکہ اس بات پر دی جاتی ہے کہ اس نے خدا کی حکومت اور اس کے قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے‘‘۔[11]

اس سے معلوم ہوا کہ اُن کے نزدیک ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے بلکہ بغاوت کے جرم کی سزا قتل ہے ۔

3۔ مطلقہ ثلاثہ کا پہلے خاوند سے نکاح کی شرط

اس امر پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ مطلقہ ثلاثہ  صرف اس صورت میں اپنے پہلے شوہر سے  دوبارہ نکاح کر سکتی ہے جب کہ اس کے دوسرے شوہر نے اس سے نکاح کے بعد جماع بھی کیا ہو اور پھر اُسے طلاق دی ہو یا وہ  فوت ہو گیا ہو۔ مگر صاحبِ ’’تدبر قرآن ‘‘  جماع کی اس شرط کو نہیں مانتے ، اس کے بغیر ہی اسے پہلے خاوند سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے ہیں[12]۔

4۔ رہن کا مسئلہ

اس امر  پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ سفر و حضر دونوں  حالتوں میں  مسافر اور مقیم کوئی شے رہن   رکھ کر لین دین کر سکتا ہے[13] ۔ اس کی بنیاد  رسول اللہ ﷺ کے واضح اور ثابت شدہ عمل پر ہے کہ آپ نےمدینہ میں رہتے ہوئے رہن کے ذریعے یہود ی تاجر سے  لین دین کیا تھا [14]۔مگرصاحبِ ’’تدبیر قرآن‘‘   صرف سفر  کی حالت میں  رہیں کے معاملے کو جائز مانتے  ہیں ، لیکن  مقیم کے لیے رہن کے ذریعے لین دین کو    ناجائز قرار دیتے  ہیں ،
  وہ لکھتے ہیں :

’’ رہی حدیث تو اس سے بھی رہن کے عام جواز پر استدلال کسی طرح صحیح نہیں ہے‘‘۔[15]

5۔  قتلِ عمد کے مرتکب کے لیے جہنم کی ابدی سزا

اس امر پر نہ صر ف ائمہ اربعہ متفق ہیں کہ آخرت میں شرک کے سوا ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے اور یہ کہ کوئی مسلمان جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا ، بلکہ اپنے جرائم کی سزا بھگتنے کے بعد  جنت میں داخل ہوگا ۔ رہا جہنم میں ہمیشہ کے لیے عذاب میں مبتلا رہنا تو یہ صرف کفار و مشرکین کےلیے  ہوگا ۔

مگر صاحب ِ ’’تدبر قرآن ‘‘ کی رائے یہ ہے کہ قتل ِعمد کا مرتکب مسلمان بھی کفار کی طرح ہمیشہ جہنم ہی میں رہے گا (یہ عقیدہ اہل سنت کے مقابلے میں خوارج کا تھا )۔ وہ لکھتے ہیں :

’’ جو مسلمان کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا اس کی سزا جہنم ہے ، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر خدا کا غضب اور اس کی  لعنت ہے اور اس کے لیے عذاب دردناک خدا نے تیار کر رکھا ہے۔ یہاں قتل عمد کے جرم کی  جو سزا بیان  ہوئی ہے وہ بعینہ وہی سزا ہے جو کٹر کافروں کے لیے قرآن  میں بیان
 ہوئی ہے‘‘۔ [16]

 6۔  فرشتے حکم شرعی کے مکلّف نہیں

ائمہ اربعہ کا اس  مسئلے  پر اتفاق رائے ہے بلکہ اس  پر اجماع امت بھی ہے کہ  صرف انسان اور جنات مکلف ہیں اور آخرت میں اپنے اعمال کے جواب دہ  ہیں، باقی رہے فرشتے  تو وہ انسانوں اور جنات کی طرح عاقل مخلوق تو  ہیں  لیکن  وہ کسی شرعی حکم کے مکلف ہیں  نہ آخرت میں جوابدہ ہیں ۔ لیکن صاحب ِ ’’ تدبر قرآن  ‘‘ نے لکھا ہے :

’’ قرآن مجید نے مکلّف مخلوقات کی حیثیت سے تین مخلوقات کا ذکر کیا ہے ۔ فرشتے ، جنات اور بنی آدم  ‘‘۔[17]

یہاں محض صاحب ِ ’’ تدبر قرآن  ‘‘ کے تناقضات کو واضح کرنا تھا ، ورنہ امت کے ان تمام  مجتہدین فقہا اور محققین اہل علم کی متفقہ  رائے ہے  کہ ائمہ اربعہ کے علم و تقویٰ کے باوصف اور اُن کی جلالت قدر کے باوجود کسی فقی مسئلے میں ان کا اتفاق رائے نہ  تو دین اور  اسلامی شریعت  میں حجت ہے اور نہ اسے  اجماع امت کی  حیثیت حاصل ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ امام بخاری ؒ، امام ابن  حزم ظاہری ؒ، امام ابن تیمیہ ؒ اور امام شوکانیؒ  جیسے اکابر مجتہدین وفقہا  نے سو (100) سے زیادہ فقہی مسائل میں ائمہ اربعہ کی متفقہ آراء  سے اختلاف کا اظہار کیا ہے۔

14۔کیا موسی ٰاور ہارون ﷦ دونوں ہی رسول تھے ؟

تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘  میں ایک فکری تضاد یہ بھی ہے کہ اس میں کہیں  موسیٰ ﷤کے بھائی ہارون ﷤ کو نبی مانا گیا ہے ، رسول نہیں مانا گیا ۔ اور  کہیں اُنہیں موسیٰ ﷤کی طرح رسول قرار دیا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

  • وہ پہلے ہارون ﷤ کو صرف نبی مانتے ہوئے سورة طہ (20/47) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

﴿ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ ﴾   ۔ اگر چہ رسول کی حیثیت صرف حضرت موسیٰ﷤ ہی کو حاصل تھی ، حضرت ہارون﷤ صرف ایک نبی تھے لیکن یہاں علی سبیل التغلیب دونوں ہی حضرات کے لیے رسول کا لفظ استعمال  ہوا ہے‘‘۔[18]

 مزید  سورہ مریم (53/19) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ:

’’ حضرت موسیٰ  ﷤پر یہ فضل خاص بھی ہوا کہ کار نبوت کی انجام دہی میں ان کی مدد کے لیے
اللہ تعالیٰ نے اُن کے بھائی حضرت ہارون﷤کو ان کا وزیر اور مددگار بنایا اور ان کی یہ مدد محض رضاکارانہ نہیں، خدا کے ایک   مامور و مسئول نبی کی حیثیت سے تھی ۔ کسی رسول کی مدر کے لیے کسی نبی کا وزیر اور شریک کار کی حیثیت سے مقرر کیا جانا ایک امتیاز ِخاص ہے جو حضرات انبیائے کرام کی تاریخ میں حضرت موسی ٰکے سوا اور کسی کے لیے معلوم نہیں‘‘۔ [19]

  • پھر موسیٰ اور ہارون ﷦  دونوں کا ذکر نبیوں کی بجائے دو  رسولوں کے طور پر کیا ہے ۔ چنانچہ سورة الفرقان(25/35،36) کی تفسیر  کے تحت لکھا ہے : 

’’اس میں نبی ﷺ کے لیے یہ تسلی ہے کہ جن کے دل مسخ ہو چکے ہوتے ہیں وہ کسی طرح بھی ہدایت قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ دو، دو رسولوں اور ان کے تمام معجزات کی بیک وقت تکذیب کر دیتے ہیں‘‘۔[20]

علماء کرام کے ہاں رسول اور نبی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ، دونوں نام ایک دوسرے کے لیے استعمال ہوتے ہیں ، لیکن  اصلاحی صاحب  نے امت سے ہٹ کر نبی اور رسول کی نئی تعریفات کیں ۔ ان کے نزدیک نبی وہ ہوتا ہے جسے خدا اپنی طرف سے ہدایت دیتا ہے تاکہ وہ خود ہدایت یافتہ ہو اور لوگوں کو بھی ہدایت کی راہ بتائے، جبکہ  رسول وہ ہوتا ہےجس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنی حجت تمام کرتا ہےا ور  جس قوم میں حجت پوری کر دیتا ہے تو پھر ان کے لیے دنیا میں عذاب کا فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے۔اس لیے ان کا  حضرت ہارون ﷤ کو کبھی نبی اور کبھی رسول  قرار دینا کھلا تضاد ہے ۔

15۔ قدیم عرب ذہین لوگ تھے یا جاہل وحشی ؟

تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘  میں یہ تضاد بھی موجود  ہے کہ ایک جگہ دور جاہلیت کے عربوں کو ذہین تسلیم کیا ہے اور دوسری جگہ اُنہی کو جاہل وحشی قرار دیا گیا ہے ۔ مثلاً

ایک جگہ لکھا ہے کہ :

’’ عرب کے لوگ نہایت ذہین تھے اس وجہ سے وہ  کلام کے اندر سے ان تمام اجزا کو حذف کر دیتے تھے جن کو ایک ذہین سامع خود سمجھ لیتا ہے یا اُسے سمجھ لینا چاہیے‘‘۔[21]

مگر دوسری جگہ سورہ بنی اسرائیل (31/17)  کی تفسیر کرتے ہوئے انہی ذہین لوگوں کو جاہل اور وحشی قرار دیا ہے ، وہ لکھتے ہیں :

’’جاہل عربوں کی طرح موجودہ زمانے کا متمدن انسان بھی اپنے آپ  کو دوسروں کا رازق سمجھ بیٹھا ہے۔  قرآن نے﴿ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِيَّاكُمْ ﴾  فرما کر اس گمراہی کی اصلاح کی ہے۔ عرب کے وحشی تو اس حقیقت کو سمجھ گئے اور انہوں نے اپنی اصلاح بھی کر لی لیکن اس زمانے کے پڑھے لکھے جناتوں کو کون سمجھائے ؟[22] ‘‘۔

16۔ نبی پر جادو ہونا

صاحبِ  ’’تدبر قرآن ‘‘میں ایک  یہ تضاد بھی شامل  ہے  کہ وہ ایک جگہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی ﷺ  پر تو کبھی جادونہیں ہوا، اس حوالے سے آنے والی صحیح   بخاری اور صحیح  مسلم  کی روایات کو  ضعیف قرار دیتے ہیں ۔ پھر دوسری جگہ وہ یہ اقرار و اعتراف بھی کر لیتے ہیں کہ نبی ﷺ پر وقتی اور عارضی طور پر جادو ہو سکتا ہے ۔

چنانچہ سورۃ الفلق  کے شان نزول کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :

 ’’یہ سورہ کسی شان نزول کی محتاج تو نہیں ہے لیکن اس کے تحت لوگوں نے ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نبی ﷺ  پر العیاذ باللہ کچھ یہودیوں نے ایک زمانہ میں جادو کر دیا تھا جس سے آپ بیمار ہو گئے تو آپ کو یہ سورہ سکھائی گئی اور آپ اس جادو کے اثرات بد سے محفوظ ہوئے...میرے نزدیک اس شان نزول کو رد کرنے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ یہ اس مسلمہ عقیدے کے بالکل منافی ہے جو قرآن نے انبیائے علیہم السلام سے متعلق ہمیں تعلیم دی ہے۔ عصمت ،حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی  ان خصوصیات میں سے ہے جو کسی وقت بھی ان سے متفق نہیں ہو سکتیں۔ اس عصمت کو اس امر سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا کہ  نبی ﷺکے دندانِ مبارک شہید ہو گئے، یا وہ زخمی ہو گیا ، یا وہ قتل کر دیا گیا ۔ ان میں سے کوئی چیز بھی اس کی نبوت میں قادح نہیں ہے کہ اس کو آپ اس امر کی دلیل بنائیں کہ جب نبی ان چیزوں میں مبتلا  ہو سکتا ہے تو مسحور بھی ہو سکتا ہے ... شان نزول کے اس واقعے کو اگر روایت کے اصولوں پر جانچا جائے تو اس میں نمایاں ضعف
موجود ہے‘‘    ۔[23]

 پھر آگے چل کر اسی سورہ کی تفسیر میں موصوف اپنے دعوے کے خلاف لکھتے ہیں :

’’صحاح کی کسی روایت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر یہ جادو ہوا تو حضور ﷺ پر اس کا اثر کتنا عرصہ رہا۔ اس کے برعکس ان تینوں کتابوں ( بخاری ، مسلم اور ابن ماجہ) کی متفق علیہ روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ  حتى اذا كان ذات يوم او ذات ليلة دعا رسول الله صلی الله علیه وسلم، ثم دعا ، ثم دعا.( یہاں تک کہ جب ایک دن یا ایک رات گزر گئی تو رسول اللہ ﷺ نے پے در در پے دعا کی) اس سے معلوم ہوا کہ اگر اس کا کوئی اثر آپ کی قوت متخیلہ پر پڑا بھی تو وہ چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہا۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ  سے بار بار دعا کی اور یہ اثر جاتا رہا ۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بالکل اسی قسم کی بات ہوئی جیسا کہ حضرت موسیٰ ﷤ نے جادو گروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپ سمجھ لیا اور وقتی طور پر گھبرا گئے ۔ اس طرح کی کیفیات تھوڑی دیر کے لیے طاری ہو جانا نا ممکن نہیں ہوتا ۔ یہ کیفیات بطور امتحان بھی نبی کو پیش آسکتی ہیں لیکن ہوتی یہ وقتی اور عارضی ہیں تا کہ نبی کی عصمت مجروح نہ ہو‘‘۔[24]

اس واضح  تضاد کو دیکھئے  کہ پہلےیہ کہہ کر صحیحین کی  روایت کو ضعیف اور عصمت نبوی کے خلاف قرار دیا ، پھر یہ ان ساری باتوں کاامکان مان بھی لیا کہ اس سے نبی کی عصمت مجروح نہیں ہوتی ۔

17۔  تفسیر  تدبر قرآن کی تیاری کی مدت میں تضاد

 اصلاحی صاحب صرف فکر اور عمل  میں ہی نہیں بلکہ   اپنے ذاتی معاملات میں بھی تضادات کا شکار ہیں ۔ تفسیر ’’تدبر قرآن‘ ‘ کی تیاری کی مدت میں بھی تضاد پایا جاتا ہے ، یک جگہ پر چالیس (40) سال اور دوسری جگہ پر پچپن (55) سال ظاہر کیا گیا ہے ۔چنانچہ  پہلے تو اس کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ :

’’میں بلا کسی شائبہ فخر کے محض بیان واقعہ کے طور پر ، عرض کرتا ہوں کہ یہ  کتاب میری چالیس سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ میں نے اپنی جوانی کا بہترین زمانہ اس کتاب کی تیاریوں میں بسر کیا ہے اور اب اپنے بڑھاپے کی ناتوانیوں کا  دور اس کی تحریر و تسوید میں بسر کر رہا ہوں   ‘‘۔[25]

پھر آخری جلد 9  میں لکھا ہوا ہے کہ :

’’ اس کتاب کی تحریر کا کام تو جیسا کہ عرض کیا گیا  1958ء میں شروع ہوا ،لیکن اس کے لیے فکری تیاریوں میں 1925ء ہی سے میں لگ گیا تھا۔ یہی سال ہے جس میں مجھے مولانا فراہی ﷫ سے شرف تلمذ حاصل ہوا جس کا سلسلہ پورے پانچ سال قائم رہا ۔ اس کے بعد سے قرآن مجید میرے غور و فکر کا مستقل موضوع بن گیا ۔ اس پہلو سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ یہ کتاب میری پچپن سال کی کاوشوں کا نچوڑ ہے  ‘‘۔[26]

ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہیے

خریدارانِ محدث توجہ فرمائیں !

دسمبر 2025سےجن حضرات کا  زرسالانہ ختم ہوچکا  ہے ان سے  گزارش ہےکہ زرتعاون  بھیج کر تجدید کروائیں مارچ 2026ءتک تجدیدنہ ہونے کی صورت میں ان کے نام  ترسیل بند کردی جائے گی ۔مدت خریداری ختم ہونے کی اطلاع لفافے  پر چسپاں شدہ ایڈریس میں  کی گئی ہے۔

 

 

[1]      عائلی کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ :58

[2]    الفقه على المذاهب الأربعة لعبد الرحمن الجزیری(م 13060):5/ 57

[3]    بداية المجتهد لإبن رشد:2/426

[4]    الفقه الاسلامی وادلته: 6/40

[5]     تدبر قرآن:5 /374

[6]      الفقه على المذاهب الأربعة (5/ 372).......

[7]    موسوعة الإجماع  :1/436

[8]    صحيح بخاری :3017

[9]    صحيح مسلم :25/1676

[10]   الفقه الإسلامي وأدلته لدكتور وهبة الزحيلي:7/ 5580

[11]    تد بر قرآن:1/ 593، 594

[12]   ملاحظہ ہو:   تدبر قرآن:1/538

[13]    موسوعة الاجتماع فی الفقه الاسلامی : 1/ 459  

[14]   صحيح بخاری :2916

[15]    تدبر قرآن:1/ 644  

[16]   تدبر قرآن:2/ 360

[17]   تدبر قرآن:1/ 165

[18]   تدبر قرآن:5/54

[19]   تدبر قرآن:4/664

[20]   تدبر قرآن:5/467

[21]   تدبر قرآن، مقدمہ :1/23

[22]   تدبر قرآن :4 /499

[23]       تدبر قرآن:9/665،666

[24]   تدبر قرآن:9/666

[25]   تدبر قرآن ، مقدمہ :1/41

[26]   تدبر قرآن ، دیباچہ ، طبع اول : 9/7