سالانہ تقریبات جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ)

سالانہ تقریبات جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ)

 

 جامعہ لاہور الاسلامیہ المعروف جامعہ رحمانیہ     ملک عزیز پاکستان کی ایک معروف دینی ومرکزی تعلیمی درسگاہ ہے، جہاں قرآنِ کریم اور علومِ شریعت کی تدریس  50 سال سے زائد عرصہ سے خالص علمی مزاج کے ساتھ جاری ہے۔ ہر سال ادارے میں مختلف علمی و تربیتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد طلبہ وطالبات کی تعلیمی محنت کا اظہار اور قرآنی علوم کی عملی صورتوں کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ 2025ء میں بھی جامعہ کے متعدد شعبہ جات کی جانب سے سالانہ اہم تقریبات منعقد ہوئیں۔ ان کی تفصیلات حسبِ ذیل ہیں:

  • تقریب ِتکمیلِ صحیح بخاری و اختتام قراءات عشرہ (صغریٰ وکبریٰ)

ہر سال کی طرح امسال بھی جامعہ لاہور الاسلامیہ  (رحمانیہ) سے فارغ التحصیل علماء کرام کے اعزاز میں  عدیم النظیر اور فقید المثال تقریب تکمیل صحیح بخاری  کا اہتمام  کیا گیا۔

14 جنوری2025ء  بروز بدھ، بعد نمازِ مغرب جامعہ  رحمانیہ،  واقع جمال چوک، خیابانِ جناح، نشیمنِ اقبال، لاہور میں ایک نہایت باوقار تقریب کا انعقاد ہوا۔ یہ تقریب تکمیلِ صحیح بخاری اور تکمیل قراءاتِ عشرہ صغریٰ وقراءات  کبریٰ کے اختتام کے سلسلے میں منعقد کی گئی، جس میں طلبہ اور طالبات دونوں نے بھرپور شرکت کی۔ سرد موسم کی وجہ سے یہ تقریب جامعہ کی مسجد کے وسیع ہال میں پر شوکت انداز میں منعقد ہوئی۔ مسجد کا ہال اساتذہ، طلبہ، والدین اور مہمانانِ گرامی سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تکمیل کرنے والے طلبہ سفید لباس اور سرخ رومال سجائے اسٹیج کی ایک جانب باوقار انداز میں بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ اسٹیج پر اکابر اساتذہ اور کبار مشائخ کے نورانی چہرے اس پروگرام کو جلال بخش رہے تھے۔

تقریب کا آغاز   قاری مدثر عزیزی مدرس ادارہ ہذا کی  تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔

اس سال صحیح بخاری مکمل کرنے والے طلبہ کی تعداد 46 اور طالبات کی تعداد 15 تھی۔  اسی طرح قراءات عشرہ مکمل کرنے والے طلبہ وطالبات کی تعداد  54تھی ۔ تمام طلبہ وطالبات نے اپنی صحیح بخاری اور قراءات کی اسانید باقاعدہ طور پر پیش کیں ۔

سیرت ِامام بخاری اور ان کی علمی خدمات

شارح صحیح بخاری فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رمضان سلفی ﷾ (سابق شیخ الحدیث جامعہ  رحمانیہ، لاہور)نے اپنی علمی گفتگو میں امام بخاری ﷫کی خدمات کو جامع اور محققانہ انداز میں پیش کیا۔ آپ  نے فرمایا کہ اہل علم نے لکھا ہے کہ صحیح بخاری کو آب زر کے ساتھ  لکھا جانا چاہیے  کیونکہ امام بخاری ﷫نے اس قدر باریک بینی، دقیق تحقیق اور محنت طلب کام کیا کہ آج امت مسلمہ کے لیے یہ کتاب ایک نہایت قیمتی اور لازمی اثاثہ ہے۔
صحیح بخاری کا مقام قرآن کریم کے بعد سب سے زیادہ بلند ہے۔اس کے مطالعے اور تدبر سے علمِ حدیث اور دین کی اصل روشنی حاصل ہوتی ہے۔شیخ  محترم نے طلبہ کو تنبیہ فرمائی کہ آپ نے بخاری شریف سے جو سیکھا ہے، اسے اپنی عملی زندگی میں بروئے کار لائیں، ورنہ علم کا حقیقی مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔

درسِ بخاری

 کے لیے عالم ربانی فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم ﷾    (سابق شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ فیصل آباد)تشریف لائے۔ آخری کلاس کے طالبعلم قاری صائم بشیر نے شیخ الحدیث جامعہ ہذا مولانا عبد الرشید تونسوی سے لے کر امام بخاری ﷫ تک اور پھر رسول اللّٰہ ﷺ  تک ان کی سند کے ساتھ آخری حدیث کی قراءت کی ۔ اس کے بعد  شیخ الحدیث مولانا حافظ مسعود عالم ﷾نے عالمانہ و فاضلانہ گفتگو  ارشاد فرمائی ، جس میں انہوں نے  امام بخاری کی علمی جلالت پر روشنی ڈالی ، صحیح بخاری کے  اُمّت ِمسلمہ کے ہاں  مقام  کو واضح کیا اور ساتھ ساتھ دفاع صحیح بخاری کے حوالے سے بھی علمی نکات پیش کئے۔ بخاری کی آخری حدیث پر سند و متن ہر دو اعتبار سے محققانہ گفتگو فرمائی ۔ شیخ محترم کا درسِ بخاری عام روایتی انداز سے ہٹ کر تھا۔ انہوں نے نہایت سادہ اور دل نشین اسلوب میں آخری حدیث کے ایسے نادر پہلو واضح کیے جو عموماً سننے کو نہیں ملتے۔  

حافظ صاحب  نے امام بخاری ﷫کی سیرت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ امام بخاری دنیا داری کی طرف کبھی مائل نہ ہوئے اور علمِ حدیث کے حصول میں تقریبا ۱۰۸۰ اساتذہ سے احادیث سیکھیں ۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ امام بخاری نے اپنی فطری صلاحیت اور اخلاص کے ذریعے علمِ حدیث کا   استحضار کیا ۔ صحیح بخاری وہ کتاب ہے جسے قرآن کریم کے بعد سب سے معتبر اور مقبول کہا گیا ہے اور بغیر اس کے مطالعہ اور عمل کے کوئی   عالم نہیں کہلا سکتا۔امام بخاری نے اپنی اس  کتاب میں تقریباً ۳۸۸۲ ابواب قائم کئے۔ ان ابواب کو انہوں نے بڑی محنت، شبانہ روز مطالعہ اور تحقیق کے بعد ترتیب دیا۔

حافظ مسعود عالم  ﷾نے  متنِ حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح، اس کی صفات اور یکتا ہونے کا ذکر ہر حدیث میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر عیب و نقص سے پاک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور وہ ہمیشہ موجود ہے۔ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین کلام میں شمار ہوتا ہے اوراسی کی برکت سے کائنات کو رزق حاصل ہوتا ہے۔شیخ محترم نے  طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ ہمیشہ علماء سے جڑے رہیں، ان سے مشاورت کرتے رہیں، کیونکہ یہ ایک جاری صدقہ ہے جو علم کی روشنی کو نسل در نسل منتقل کرتا ہے۔ درس کے اختتام پر حضرت  حافظ صاحب  نے طلبہ کو   خصوصی دعاؤں سے نوازا  ۔

فقاہتِ امام بخاری

جامعہ کے جلیل القدر استاذ شیخ الحدیث مولانا محمد شفیق مدنی ﷾نے فقاہتِ امام بخاری پر تفصیلی گفتگو کی ۔ اُنہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کی حضرت ابو ہریرہ ؓ،امام زہری اور امام بخاری   کو منکرین حدیث اس لیے ہدف تنقید بناتے ہیں کیونکہ علم حدیث میں جس قدر ان ہستیوں کی جہود نمایاں ہیں،کسی اور کی نہیں ۔ حضرت ابوہریرہ﷜صحابہ کرام میں روایتِ حدیث کے حوالے سے امتیازی شان رکھتے ہیں جبکہ امام زہری﷫  تابعین میں بلند پایہ مقام کے حامل ہیں اور امام بخاری  کی کتاب’’أصح الکتب بعد کتاب الله‘‘ کے عظیم الشان لقب سے ملقب ہے۔ امام بخاری ﷫محض کسی ایک فقہی مسلک کے  ترجمان نہیں تھے بلکہ وہ مجتہدِ مطلق تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن و سنت کی براہِ راست فہم کی غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ ان کا فقہی مزاج تقلیدِ جامد کا نہیں بلکہ دلیل اور نص کے تابع اجتہاد کا تھا۔ اسی لیے صحیح بخاری میں ہمیں صرف احادیث کا ذخیرہ ہی نہیں ملتا بلکہ امام بخاری ﷫کی فقہی بصیرت بھی جھلکتی ہے، جو ابواب کے تراشے ہوئے عنوانات اور احادیث کے انتخاب میں نمایاں نظر آتی ہے۔ امام بخاری ﷫کا یہ عظيم الشان كام  ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اہلِ علم کو تعصب سے بالاتر ہو کر قرآن و سنت کو معیار بنانا چاہیے اور حق کو جہاں دیکھیں اسے قبول کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔

علماء کی ذمہ داریاں

قائد اہل حدیث علامہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر ﷾ (چئیرمین قرآن وسنہ موومنٹ، پاکستان)نے علماء کی  ذمہ داریوں کے موضوع پر نہایت جامع، دل نشیں اور فکرانگیز خطاب کیا ۔انہوں نے فرمایا کہ عقل اور نقل میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ عقل کا اصل کام یہ ہے کہ وہ وحی کو سمجھے، اس پر غور کرے اور اس کے مطابق زندگی کو سنوارے۔ عقل ، وحی کے مقابلے کی کوئی چیز نہیں ہے ۔

علامہ صاحب نے منکرینِ حدیث کے موقف کا  نہایت مدلل اور مؤثر رد فرمایا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں نماز کا حکم موجود ہے، لیکن نماز کی رکعتیں، قیام، رکوع، سجدہ اور ان کی ترتیب ہمیں قرآن سے نہیں  ملتی ،بلکہ وہ نبی کریم ﷺ کی سنت اور حدیث سے ملتی ہے۔ اگر حدیث کو چھوڑ دیا جائے تو نماز جیسی بنیادی عبادت بھی عملی طور پر قائم نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح قرآن مجید صرف  زکوۃ  کا حکم دیتا ہے جبکہ  حدیث اس کی عملی  تفصیلات سمجھاتی ہے۔علماءکرام  پر امت کی فکری اور عملی رہنمائی کی بھاری ذمہ داری ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ  لوگوں کو نہ صرف علم سکھائیں بلکہ  ان کے شبہات کا ازالہ بھی کریں، منکرینِ حدیث اور جدید فتنوں کا علمی انداز میں رد کریں اور نئی نسل کو قرآن و سنت سے مضبوطی کے ساتھ جوڑیں۔

اعزازات

جامعہ کی انتظامیہ کی جانب سے  ممتاز شیوخ الحدیث کو تدریسِ حدیث، خدمتِ دین اور دفاعِ سنت میں ان کی عظیم خدمات کے اعتراف میں  اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا۔    شیخ الحدیث حافظ مسعود عالم، شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان سلفی، شیخ الحدیث مولانا محمد شفیق مدنی، شیخ الحدیث مولانا زید احمد، شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید تونسوی  اور  علامہ ابتسام الٰہی ظہیر  کی خدمت میں شیلڈز پیش کی گئیں ۔ مزید برآں  امسال فارغ ہونے والے  61 طلبہ وطالبات کو  کبار مشائخ  واساتذہ کرام کے ہاتھوں اعزازات  اور علمی کتب سے نوازا گیا۔

تقریب کے آخری مرحلے میں قراءات عشرہ صغریٰ وکبریٰ کے اختتامی اسباق پیش کیے گئے۔ پہلے طلبہ نے قراءات عشرہ صغریٰ کاآخری سبق فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر قاری انس نضر مدنی ﷾کو سنایا۔  شیخ محترم نے  اپنی علمی گفتگو میں  فرمایا کہ قرآن و قراءات کی  سند کو لوح محفوظ کے واسطے کے بغیر  اللہ   تک  براہِ راست  پہنچانا چاہیے۔

بعد ازاں طلبہ نے قراءات عشرہ کبریٰ کی سند  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی ﷾سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک پڑھی اور اپنا آخری سبق سنایا ۔ استاد محترم نے  قراءات عشرہ کبریٰ کا تعارف اور علمی نکات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ علم طلبہ کو قرآن کی صحیح قراءات، سند کی حفاظت اور امت مسلمہ کے لیے ایک مضبوط علمی ورثہ فراہم کرتا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے تکبیرات کی فنی حیثیت پر  بھی مفید گفتگو فرمائی۔

  • تقریب تکریم رحمانیین؍ نمائندگان فضلاء جامعہ

جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) کے زیر اہتمام  7؍  اکتوبر2025 ء  بروز منگل ،بعد از نمازِ مغرب ایک پُروقار اور یادگار عشائیہ پروگرام بعنوان تکریمِ رحمانیین منعقد ہوا۔یہ پروگرام اُن باکمال نمائندہ فضلائے جامعہ کے اعزاز میں ترتیب دیا گیاجنہوں نے  سیلابی حالات اور رفاہی سرگرمیوں میں خاص قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئےمادرِ علمی کے وقار میں اضافہ فرمایا۔ یہ پروگرام مین پائن ایونیو روڈ، نزد ویلنشیاء ٹاؤن لاہور (فارم ہاؤس) کے کشادہ اور خوبصورت گراؤنڈ میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا پہلا حصہ  فضلاء کےباہمی تعارف پر مشتمل تھا۔تمام شیوخ اور فضلاء جامعہ نے اپنے اپنے تعارف میں بتایاکہ وہ جامعہ رحمانیہ سے کس سال فارغ التحصیل ہوئے اور اس وقت کس شعبے میں خدمتِ دین کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔یہ تعارف کا سلسلہ نہایت دلچسپ رہا،جس سے معلوم ہوا کہ جامعہ کے فضلاء دنیا کے مختلف گوشوں میں علم و خدمت کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ نمازِ عشاء کی امامت فخر جامعہ فضیلۃ الشیخ قاری صہیب احمد میر محمدی ﷾نے فرمائی۔

نماز عشاء کے بعد رسمی پروگرام کا آغاز ہوا۔ میزبان پروگرام  جناب ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی ﷾نے تمام مہمانانِ گرامی اور فضلائے جامعہ کو خوش آمدید کہا اور فرمایا کہ رحمانیین  جہاں کہیں بھی ہوں، وہ اپنے علم، کردار اور خدمت سے روشنی پھیلاتے ہیں۔ یہ محفل انہی چراغوں کی روشنی کو سلام پیش کرنے کے لیےمنعقد کی گئی ہے۔ اس کے بعد بعض منتخب  فضلاء نے دو سے تین منٹ کی گفتگو کیں، جن میں درج ذیل فضلاء شامل تھے:

  • حافظ عبدالوحید شاہد روپڑی(امیر جماعت اہل حدیث پنجاب)           •                   حافظ نعیم الرحمن ناصف (پیغام ٹی وی)
  • ڈاکٹر قاری شفیق الرحمن زاہد (چیئرمین قرآن و سنہ پنجاب)           •    ڈاکٹر عبدالباسط بلوچ(ڈائریکٹر آغازِ سحر)   • حافظ عبدالرب سلفی   (ڈائریکٹر المحسنین یوتھ سکواڈ، پاکستان )      •    سید شہباز شاہ  (ناظم الحمد ویلفیئر فاؤنڈیشن)   

ان کے بعد  دیگر کئی نمایاں فضلاء  نے بھی  اظہارِ خیال کیا۔ پروگرام کا مرکزی حصہ تین اہم قراردادوں پر مشتمل تھا، جو آئندہ مستقبل میں جامعہ و فضلاء کے باہمی تعاون کا خاکہ پیش کرتا ہے:

قرارداد  نمبر 1 :  رحمانیین رفاعی تنظیموں کے مابین رابطہ

تمام تنظیموں کو معاونت و اشتراکِ عمل کی بنیاد پر ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی تجویز پیش کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ سماجی و خدمت خلق کے کاموں میں تمام رحمانیین اور فضلاء تنظیموں  کے درمیان مقابلے کی بجائے باہمی   تعاون کا تعلق  ہونا چاہیے   ۔ یہ قرارداد ڈاکٹر عبدالباسط بلوچ  ﷾نے پیش کی۔

قرارداد نمبر 2 : رحمانیین ٹیچر ریلیف فنڈ کا قیام

   شیخ زبیر عقیل ﷾ نے  یہ قرارداد پیش کی اور فرمایا کہ تکریم رحمانیین پروگرام میں جمع ہونے کے مقاصد میں ایک بڑا ہدف اولاً  کبار اساتذہ رحمانیہ ، پھر تمام اہل حدیث مدارس کے  سینئر اساتذہ کرام کی تکریم وریلیف کے لیے  خدمت پیش کرنا ہے اور فضلاء جامعہ رحمانیہ کو اس مقصد کے لیے کھڑا کرنا ہے۔

 پروگرام کے بعدانتظامیہ جامعہ کی طرف سے 200000 روپے کی ابتدائی رقم سے یہ فنڈ فوری قائم کردیا گیا ہے اور درج ذیل فضلاءنے سالانہ  12000 روپے یا ماہانہ 1000 روپے دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے:

الشیخ زبیر عقیل                          ڈاکٹرحافظ انس نضر                         ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی

قاری خالد فاروق                پروفیسر عبد الرحیم تونسوی               سید شہباز شاہ

ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد                 حافظ نعیم الرحمن ناصف                    قاری ظہیر ادریس

پروفیسر علی اکبر                        محمد عرفان حافی                            حافظ محمد چاند وغیرہ

یہ سلسلہ خیر ابھی جاری ہے ۔اس کام کو مستحکم کرنے کی ترتیب یوں لگائی گئی ہے کہ آغاز ’خدمت ِانسانیت فورم‘ کے  53؍افراد سے کریں کہ سب اپنی تنخواہ کا سالانہ  ایک فیصد یا سالانہ 12000 روپے مخصوص فرمائیں گے۔   دوسرا مرحلہ 1980 تا 2025 کے فضلاء نمائندگان کلاسز کی ذہن سازی کا ہوگا۔ انہیں بھی 1000 یا 500 روپے ماہانہ اس فنڈ میں شامل کرنے کی دعوت دی  جائے۔ تیسرے مرحلہ پر فضلاء جامعہ کے سابقہ 46 بیچز کے واٹس ایپ گروپس میں امراء کلاسز کے ذریعے   2000 سے زائد فضلاء جامعہ کو اس کار خیر پر آمادہ کیا جائےگا۔

جامعہ کے مرحوم اساتذہ کرام کی فیملیز کی کفالت کے لیے ’رحمانیین ٹیچر ریلیف فنڈ‘  قائم کر دیا گیا  ہےجس کی ذمہ داری شیخ زبیر عقیل ﷾کے سپرد ہوئی، جبکہ مرحوم اساتذہ کے بچوں کی میٹرک تک کی تعلیم اور کفالت کے اخراجات کی ذمہ داری پروفیسر علی اکبر﷾ ڈائریکٹر’وزڈم ہوپ فاؤنڈیشن لاہور ‘نے اپنے ذمے لی۔

قرارداد نمبر 3 : اساتذہ و مشائخ کرام کے لیے پلاٹس کی تقسیم

ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی﷾ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےجامعہ رحمانیہ کی برانچ مرکز النور لاہور کی طرف سے ان مشائخ کے لیے  پانچ مرلے کے پلاٹس مختص کرنے کے لیے اپنے عزم اور جدوجہد کا خصوصی اظہار کیا جنہوں نے ادارے میں طویل عرصہ خدمات سرانجام دی ہیں یا اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا  ہے کہ ان مبارک سوچوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین  

وعظ و نصائح

پروگرام میں   قدیم ابناء الجامعہ میں سے دو جلیل القدر مشائخ الشیخ قاری عبدالحلیم بلال ﷾ (ریاض، سعودی عرب) اور مولانا شیخ محمد ادریس مدنی ﷾ (یو کے)  نے آن لائن شرکت کی اور بہت قیمتی نصائح ارشاد فرمائے۔ اسی طرح الشیخ قاری صہیب احمد میرمحمدی ﷾نے اللہ کی رضا ، اخلاص، مخلوق سے بے نیازی اور خدمت انسانیت کے سلسلہ میں با وقار رویوں  کے موضوع پر ایمان افروز  گفتگو فرمائی۔ بعد ازاں ڈاکٹر نصیر احمد اختر صاحب نے اختتامی گفتگو فرمائی۔ اس موقعہ پر شرکائے مجلس کے لیے بہترین ضیافت کا اہتمام کیا گیا ۔

  • تقریب تکمیل القراءات العشر الصغیر والکبیر والقراءات العشرَین المغربية

قرآن کریم امت مسلمہ کے لیے رہنمائی، تزکیہ نفوس اور علمی و روحانی روشنی کا سرچشمہ ہے۔ اس کی تلاوت، حفظ اور علوم قرآنیہ کی تعلیم میں بے شمار برکتیں مضمر ہیں۔ عصر حاضر میں تکنیکی وسائل نے دنیا کو نہایت قریب کر دیا ہے اور قرآن کی خدمت کے مواقع کو عالمی سطح پر قابل رسائی بنا دیا ہے۔

جامعہ لاہور الاسلامیہ کے شعبہ کلیۃ القرآن  الکریم و العلوم الاسلامیہ کے  پرنسپل ڈاکٹر  قاری حمزہ مدنی﷾ کے مغرب (براعظم افریقہ )میں رائج متواتر قراءات کے آخری سلسلے القراءات العشرَین المغربية کی تکمیل  کے مبارک موقع پر 12 ؍اکتوبر2025ء  بروز اتوار بعد نماز عشاء رات آٹھ بجے تا بارہ بجے اس  عظیم الشان عالمی آن لائن پروگرام  کا  انعقاد کیا گیا ، جس میں عالم اسلام کے  متعدد کبار مشائخ قراءات نے شرکت فرمائی۔

 اس پروگرام میں کلیۃ القرآن آنلائن کے زیر اہتمام مغاربہ  كے ہاں رائج متواتر قراءات کی تکمیل کے تین الگ الگ  سیشنز کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا آغاز   قاری احمد ہاشمی مدرس ادارہ ہذا کی  تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔

  ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی  ﷾عصرِ حاضر میں فنِ قراءات کے ان نابغہ روزگار ماہر قراء میں سے ہیں جنہیں قدرت نے گویا اس عظیم امانت کی حفاظت اور خدمت کے لیے چن لیا ہے۔ اندرونِ ملک اکابر مشائخ سے اجازات و اسناد کا وافر حصہ اور بیرونِ ملک جلیل القدر مشائخ قراء کرام سے استفادہ و اتصال نے آپ کی علمی شخصیت کو ایک ایسا وقار عطا کیا ہے جو کم ہی کسی کے حصے میں آیا ہے۔ علومِ قراءات کے دقیق پہلوؤں میں مہارت، اسانید و اجازات علمیہ  کی وسعت اور متون فنون ِ تجوید وقراءات پر عمیق نگاہ نے آپ کو اس بحرِ بیکراں کا گوہرِ نایاب بنا دیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے  برصغیر پاک وہند میں وہ قراءات متواترہ بھی متعارف کروائیں جن کے نام تک سےپاکستانی قراء ناواقف تھے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے جہابذۂ قراء کرام سے علمی روابط قائم کر کے دن رات اس فنِ عظیم کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔

 یہ بلا شبہ بڑے حوصلے اور عظیم ہمت رکھنے والوں کا کام ہے اور آج آپ کا شمار ان چند اہلِ علم قراء میں ہوتا ہے جن کی علمی وجاہت اور عملی خدمات پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں فنِ قراءت کی آبرو اور شان سمجھی جاتی ہیں۔ شیخ محترم نے   طویل عرصہ  عالم اسلام شرق وغرب کے تقریبا 50 کبار قراء کرام سے علمی تلمذ اختیار فرمایا اور ان سے کسب فیض حاصل کرتے ہوئے قراءات عشرہ صغریٰ، قراءات عشرہ کبریٰ، قراءات عشرہ صغیر (عشرہ نافعیہ)، قراءات عشرہ کبیر، قراءات اربعہ شاذہ اور متون تجوید وقراءات، رسم وضبط  میں اجازات حاصل فرمائے۔  كثَّر الله أمثاله

  1. سماع الدرس الأخير للقراءات العشرَین المغربية

پروگرام کے آغاز میں  الشیخ ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی ﷾  نے قراءات عشرین میں ختمہ قرآن  کے آخری سبق کی تلاوت  براعظم افریقہ کے شیخ القراء  والقراءات  فضیلۃالشیخ المسند مبارک ضاحی الکَرکوری ﷾  پر پیش کی ۔ شیخ کَرکوری﷾ نے تکمیل قرآن کی دعا فرمائی اور  علمِ قراءات کے تاریخی مراحل، مغرب و مشرق کے سندی روابط اور تلاوت میں ضبطِ اصول کی ضرورت پر مدلل گفتگو فرمائی ۔

  1. سماع الدرس الأخير للقراءات العشر الکبیر المغربية

شیخ محمد شریف السحابی﷾، شیخ القراء بالمغرب الاسلامی (مراکش) نے تکمیل قراءات عشرہ کبیر کے آخری سبق کی سماعت فرمائی۔ شیخ سحابی﷾ کا شمار شیخ مبارک الکرکوری﷾ کے بعد   براعظم افریقہ کے بڑے مسند قراء میں ہوتا ہے۔ انہوں نے تلاوت کی تصحیح کے ساتھ ساتھ سندی تسلسل، مغربی ضبط و تحقیق کے مناہج اور مغاربہ کے ہاں رائج متواتر قراءات کے تین مختلف ڈسپلنز کا تعارف اور  ان کے علمی امتیازات پر عالمانہ روشنی ڈالی۔

اساتذہ کلیہ میں سے قاری شہریار الحسن صدیقی اورقاری عثمان اکرم  نے آخری سبق سنانے کی سعادت حاصل کی اور شیوخات میں سے قاریہ عبیرغرشین ،قاریہ عبیرہ نواز  اورقاریہ فاطمہ نواز  نے تلاوت پیش کی ۔

  1. سماع الدرس الأخير للقراءات العشر الصغیر النافعية

قراءات عشرہ صغیر نافعیہ کے آخری درس کی سماعت عظیم ماہر فن  فضیلۃ الشیخ عمر بن احمد المزوکی ﷾ نے فرمائی، جو  مغرب اسلامی میں قراءات عشرہ صغیر، قراءات عشرہ کبیر اور القراءات العشرین کے جلیل القدر استاد ہیں۔ تلاوت کا معیار، ضبطِ روایات اور اصولِ اداء کی باریکیاں ان کے سامنے پیش کی گئیں۔قراءات عشرہ صغیر کا آخری سبق سنانے والی  قاریات کے نام درج ذیل ہیں :

قاریہ آمنہ فاروق      قاریہ فاطمہ مسعود       قاریہ حفصہ ولایت       قاریہ اقرأ عظیم            قاریہ پاکیزہ نور

قاریہ اسیرہ عبد الصمد         قاریہ کائنات ظہیر         قاریہ ماہ نور             قاریہ سعدیہ نصیر   قاریہ ایمان سعد 

شیخ نے حسنِ اداء، التزامِ قواعد اور تواضعِ علمی کی نصیحت فرمائی اور سند کے احترام پر خصوصی گفتگو کی۔

کلیہ کا تعارف

اس بابرکت پروگرام میں کلیۃ القرآن آنلائن کا اردو میں تعارف  قاری ظہیر ادریس    اور عالمی مہمانوں کے لیے عربی تعارف  ڈاکٹر قاری فہد اللہ مراد  نے پیش کیا ، جس میں انہوں نے  کلیہ کے  پاکستان اور عالمی سطح پر    خدمات ِقراءات  پر روشنی ڈالی۔

علمی خطابات

خطاب الشیخ محمد شریف السّحابی المغربی ﷾

شیخ نے القراءات العشر النافعیہ کے تعارف اور حجیت کے حوالے سے غیرمعمولی علمی گفتگو فرمائی اور مغربِ اسلامی  اور عالم مشرق کی قراءاتی روایت کے تعلقات کو اجاگر کیا۔

خطاب فضیلۃ الشیخ عبد الحق الحدادی   مراکشی ﷾

شیخ نے  القراءات العشر الکبیر اور خصوصاً القراءات  العشرَین کے فروق و امتیازات بیان کیے۔ یہ خطاب علمی تحقیق اور قراءت کے اصولی مطالعے کے لحاظ سے نمایاں تھا۔

خطاب ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی ﷾

  شیخ محترم نے مغاربہ کے ہاں رائج قراءتِ عشرہ نافعیہ کی حجیت پر اردو زبان میں علمی خطاب فرمایا۔ یہ خطاب مختصر مگر علمی نکات سے بھرپور تھا اور شرکاء کو قرآنی بصیرت فراہم کرنے والا تھا۔

مذکورہ مشائخ  کے علاوہ اس پروگرام میں درج ذیل عالمی مشائخ کرا م نے بھی خصوصی شرکت فرمائی:

  • ڈاکٹر حامد اکرم بخاری﷾ (مدینہ منورہ)نے  عشرہ  نافعیہ کے علمی پس منظر وتعارف پر گفتگو فرمائی ۔
  • شیخ عمرو عبداللہ الحلوانی﷾ (مصر)نے طرق عشرہ نافعیہ کی حجیت اور اصولی قواعد کی وضاحت کی ۔
  • ڈاکٹر محمد علی علی عطفائی﷾(مراکش)نے علم رسم اور ضبط وشکل کے علمی مناہج پر مدلل گفتگو کی ۔
  • ڈاکٹر علی بن سعد الغامدی ﷾(مکہ مکرمہ)نےمغاربہ کی سندی روایت اور تعارف پر روشنی ڈالی۔
  • ڈاکٹر ابوبکر الکافی﷾ (الجزائر)نے قراءاتِ عشرہ کبیر کی حجیت پر ریکارڈنگ کے ذریعہ خطاب کیا۔
  • الشیخ منصور بلحاج ﷾(الجزائر) نے مغاربہ کے ہاں رائج متواتر قراءات کے امتیازات کو اجاگر فرمایا۔
  • الشیخ قاری صہیب احمد میرمحمدی﷾ نے آغاز پروگرام میں تمام معزز مہمانوں کے سامنے استقبالیہ کلمات ارشاد فرمائے اور تحریک کلیۃ القرآن  کے عالمی مشن اور  پیغام کو  عربی زبان میں پیش فرمایا ۔
  • كلية القرآن الكريم للبنات کی سالانہ قرآن کانفرنس اور  کانووکیشن 2025  

انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ہے اور خاندان کی بنیاد عورت ہے۔ عورت وہ ذات ہے جو  نسل کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کی ذمہ دار ہے۔ اس لیے خواتین کی دینی تعلیم محض سماجی ضرورت نہیں، بلکہ نسل انسانی اور معاشرے کی حفاظت کی ضمانت ہے۔ایک جاہل عورت بچوں کی جسمانی نگہداشت تو کر سکتی ہے، لیکن انہیں ایمان اور اخلاق کی روشنی  نہیں دے سکتی ، جبکہ ایک علم یافتہ ماں اپنی اولاد کو دین، اخلاق اور قرآن کی تعلیم سے آراستہ کرتی ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 ﴿ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾ ]الزمر: 9[

’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘

اسی وجہ سے اسلام نے عورت پر مرد کی طرح علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ﴾[الأحزاب: 34]

 ’’ اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو‘‘

 نبی کریم ﷺ نے بھی خواتین کی تعلیم کا خصوصی انتظام فرمایا تھا [1]۔

موجودہ دور میں خواتین کی اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے جامعہ لاہور الاسلامیہ کے شعبہ کلیۃ القرآن الکریم نے خواتین کے لیے سنہ 2018  میں ایک مخصوص ڈیپارٹمنٹ قائم کیا، جہاں طالبات کو کبار مشائخ اور اساتذہ کرام کی نگرانی میں قرآن و حدیث، تجوید و قراءات، عقیدہ و فقہ اور اسلامی تاریخ و تربیت کے کورسز فراہم کیے جاتے ہیں۔ زمینی ادارے میں طالبات کے لیے بہترین کلاس رومز، لائبریری، علمی وسائل اور تربیتی ورکشاپس کا انتظام موجود ہے، تاکہ طالبات  نظریاتی اور عملی دونوں طرح کے علوم سے مکمل طور پر مستفید ہو سکیں۔  کردار سازی، روحانی تربیت،عملی اسلامی زندگی کے اسباق کے علاوہ طالبات کے لیے عصری تعلیم میٹرک تا   بی اے کی لازمی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں ادارے نے اپنی تعلیمی خدمات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آن لائن پلیٹ فارم پر بھی منتقل کیا ہے تاکہ دور دراز علاقوں کی طالبات بھی گھر بیٹھے معیاری دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔آن سائٹ اور آن لائن کے دونوں سیٹ اپ مل کر ایک جامع ، مؤثر اور محفوظ تعلیمی ماڈل پیش  کرتے ہیں۔ ہر سال سیکڑوں طالبات قرآن و حدیث کے مختلف شعبوں میں تعلیم مکمل کر کے مدارس، اداروں، معاشروں  اورگھروں میں روشنی اور خیر کی کرن بنتی ہیں۔ الحمد للہ اس سال کلیۃ القرآن الکریم للبنات آن لائن سیٹ اپ  سے  1600  سے زائد طالبات فن تجوید و قراءات کے مختلف کورسز سے فارغ ہوئی ہیں ۔ الحمد للہ

8؍ نومبر بروز ہفتہ آنلائن قرآن کانفرنس اینڈ کانووکیشن 2025ء   کا انعقاد ہوا۔ یہ پروگرام ان طالبات کی علمی کامیابی کے اعتراف میں ترتیب دیا گیا جنہوں نے اسی جامعہ سے مختلف قرآنی و شرعی شعبوں میں اپنی تعلیم مکمل کی، جن میں تجوید، قراءات،  علوم القرآن رسم وضبط اور وقف وفواصل، حفظ قرآن وحدیث، عریبک لرننگ اور متعدد تربیتی کورسز شامل ہیں۔ ان طالبات کی مجموعی تعداد 1600 سے متجاوزہے جنہیں اس موقع پر اسناد اور سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔تقریب میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی جس میں طالبات، ان کی معلمات، شعبۂ تعلیم سے تعلق رکھنے والی مہمان خواتین اور مختلف اداروں کی نمائندگان شامل تھیں۔ شریک مہمانوں نے کلیہ کے تدریسی نظم و ضبط، علمی معیار، تربیتی ماحول اور آن سائٹ کے ساتھ ساتھ آن لائن نظامِ تعلیم کا  مکمل جائزہ لیا اور اسے نہایت مفید اور مؤثر قرار دیا۔

 یہ اجتماع خواتین میں دینی شعور، قرآنی تعلیمات کی طرف رغبت اور  فن تجوید وقراءات کی علمی اہمیت کو اجاگر کرنے کے مقصد کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس کے ذریعے یہ بات واضح ہوئی کہ خواتین کے لیے اعلیٰ دینی تعلیم کا حصول نہ صرف ممکن ہے بلکہ عصر حاضر میں ناگزیر ضرورت بھی ہے اور کلیۃ القرآن الکریم للبنات اس ضرورت کو باقاعدہ تنظیم اور مناسب معیار کے ساتھ پورا کر رہا ہے۔

ذیل میں اس آنلائن   کانفرنس اور کانووکیشن کی تفصیلی روداد پیش کی جاتی ہے:

تلاوت قرآن کریم  وخطبہ استقبالیہ

 پروگرام کا  آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جس کی سعادت مراکش کے مشہور  خوش الحان قاری الشیخ الیاس حجری ﷾ نے حاصل کی۔

قاری داود منشاوی ﷾  نے قرآن او راہل قرآن کی فضیلت پر بہترین  منظوم کلام پیش کیا ۔

خطبہ استقبالیہ کلیۃ القرآن الکریم، جامعہ ہذا کے پرنسپل  ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی ﷾ نے پیش کیا، جس میں انہوں نے دینی تعلیم کی اہمیت، طالبات کی تربیت میں علمی اداروں کے کردار اور کلیہ کے مشن پر روشنی ڈالی۔

خواتین قاریات کی محفل تجوید وقراءات

پروگرام میں درج ذیل آٹھ قاریات نے  حدر میں تلاوات پیش کیں، جن میں مختلف روایات کی تلاوت کے ذریعے سامعات کو قراءات کے علمی اور عملی پہلوؤں سے روشناس کرایا :

  • قاریہ نائلہ امین نے سورۃ الحشر( 18-24) تلاوت کی۔ ان کی تلاوت روایت حفص عن عاصم کے طریق کتاب لتجرید، سکتہ مطلق اور توسط منفصل پر مشتمل تھی۔
  • قاریہ زینب حامد نے  روایت حفص عن عاصم طریق الشاطبیہ میں سورۃ فاطر ( 27-35 )تلاوت کی۔
  • قاریہ فاطمہ نواز نے قراءة ابی جعفر مدنی من طریق الطیبہ میں سورۃ الانبیاء ( 93-111 )تلاوت کی۔
  • قاریہ عاصمہ رفیق نے روایت خلف عن حمزہ طریق الشاطبیہ میں سورۃ النجم ( 1-25 ) تلاوت کی ۔
  • قاریہ سعدیہ اللہ دتہ نے سورۃ فاطر ( 29-35 )تلاوت کی۔ ان کی تلاوت روایت ادریس عن خلف العاشر من طریقَي الدرة والطيبة،  سکتہ مطلق پر مشتمل تھی۔
  • قاریہ عبیر غرشین نے روایت خلف عن حمزہ من طریق کتاب الکامل للہذلی میں  سکتہ عام اور امالہ تائے  تانیث کے ساتھ سورۃ النازعات مکمل تلاوت کی۔
  • قاریہ روحہ مریم نے سورۃ ابراہیم ( 27-43) روایت ورش عن نافع   میں بطریق شاطبیہ تلاوت کی۔
  • قاریہ مریم ربانی نے روایت سوسی عن ابی عمرو میں سورۃ یوسف ( 105-111 )تلاوت کی۔

علمی  خطابات اور تربیتی نشستیں

  • شيخ القراء ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی ﷾ نے حجیت  قراءات کے خوب صورت عنوان پر  گفتگو فرمائی۔
  • الشیخ قاری صہیب احمد میرمحمدی﷾ نے تعارف قرات کے موضوع پرعلمی خطاب فرمایا۔
  • باجی عائشہ مدنی  ( مدیرہ کلیۃ القرآن الکریم للبنات)نے کہا کہ تعلیمِ قرآنی صرف نصاب کی تکمیل نہیں بلکہ کردار سازی اور عملی زندگی میں قرآنی اصولوں کے اطلاق کا ذریعہ ہے۔
  • آپا جی رضیہ مدنی  نے فرمایا کہ طالبات کو علم کے ساتھ ساتھ اخلاق اور عمل پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

ان کے علاوہ تین کبار مشائخ گرامی الشیخ ڈاکٹر عبد القیوم سندھی ( استاذ القراءات حرم مکی) ، الشیخ المقری محمد صدیق السانسرودی ( شیخ القراء بالہند) اور  شیخ القراء قاری محمد ابراہیم میرمحمدی    نے  بھی  پروگرام میں نہایت علمی خطابات ارشاد فرمائے، جن کا خلاصہ مضمون کے آخر میں پیش کیا جا  رہا ہے۔

رزلٹ اور تقسیم اسناد

پروگرام کے دوران طالبات میں 1600 سے زائد سرٹیفکیٹس   تقسیم کیے گئے، جن میں مختلف کورسز میں  کامیابی حاصل کرنے والی طالبات شامل تھیں۔ کلیہ کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں بہترین کارکردگی دکھانے والی طالبات  کو شہادات کے علاوہ  انعام واکرام سے بھی  نوازا گیا۔

    امسال آنلائن کلیہ کے تحت کروائے جانے والے کورسز اور  ان سے مستفید ہونے والی طالبات کی تفصیل درج کی جاتی ہے۔  تقریب میں   کل سرٹیفکیٹس    1623 تقسیم کیے گئے، جن کی تفصیل یہ ہے:

1۔  المقدمہ الجزریہ کورس  از الشیخ ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی                                 52سرٹیفکیٹس

2۔ قراءات اربعہ متداولہ کورس  (جولائی تا دسمبر)                                 8 سرٹیفکیٹس

3۔  ایک سالہ ترتیل القرآن لیول 3                                                       21 سرٹیفکیٹس

4۔   6 ماہی تجوید القرآن لیول  2 ( بیچ 4)                                             13 سرٹیفکیٹس

5۔  6 ماہی تجوید القرآن لیول 1( بیچ 7   )                                                       27 سرٹیفکیٹس

6۔تجوید القرآن لیول 1 بیچ 6 (جولائی تا دسمبر)                                      23 سرٹیفکیٹس

7۔  دو سالہ قراءات عشرہ صغری  کورس( مرد حضرات)                        9 سرٹیفکیٹس  

8۔  دو ماہی قرآنی سورتوں کا نظم جلی کورس                                                 46سرٹیفکیٹس

9۔  3 ماہی علم الوقف والابتداء  اسپیشل کورس                                                 88 سرٹیفکیٹس  

10۔ اسپیشل لیول 2 کورس سیشن 2024                                               52 سرٹیفکیٹس

11۔    ایک سالہ دقایق تجویدیہ لیول 5 (دو بیچز)                                    46 سرٹیفکیٹس 

12۔  ایک سالہ دقایق تجویدیہ لیول 4(  بیچ 1)                                        10 سرٹیفکیٹس

13۔  دورہ روایت حفص عن عاصم                                                     21 سرٹیفکیٹس

14۔  دورہ تحفۃ الاطفال                                                                              10 سرٹیفکیٹس

15۔ دورہ قصیدہ خاقانیہ                                                                             39 سرٹیفکیٹس

16۔ دورہ قصیدہ سخاویہ                                                                            24 سرٹیفکیٹس

17۔ روایت شعبہ (مکمل قرآن کریم)                                          11 سرٹیفکیٹس

18۔  دورہ فوائد مکیہ از الشیخ ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی                               218 سرٹیفکیٹس

19۔6 ماہی تجوید لیول 6                                                                            52 سرٹیفکیٹس

20۔ اسپیشل دورہ برائے فن نبر                                                          114 سرٹیفکیٹس   

21۔   6 ماہی تجوید لیول 2 (بیچ 5)                                                               27  سرٹیفکیٹس  

22۔ حفظ  کتاب اربعین النووی                                                                     12 سرٹیفکیٹس  

23۔ دورہ فوائد مکیہ از الشیخ قاری شہریار الحسن                                   22 سرٹیفکیٹس  

24۔  6 ماہی علوم القرآن کورس                                                                   5 سرٹیفکیٹس  

25۔  دو سالہ قراءات عشرہ کبری (بیچ 4 )                                            12 سرٹیفکیٹس  

26۔  دو سالہ قراءات عشرہ کبری (بیچ 5)                                             3 سرٹیفکیٹس 

27۔  دو سالہ قراءات عشرہ صغری (بیج 6)                                           14 سرٹیفکیٹس 

28۔  دو سالہ قراءات عشرہ صغری (بیج 7)                                           8سرٹیفکیٹس  

29۔  تربیتی کورس: جنت کا راستہ                                                                7 سرٹیفکیٹس 

30۔ تفسیر القرآن کورس                                                                   24 سرٹیفکیٹس 

31۔ قراءات  عشرہ نافعیہ (بیچ 2)                                                       20 سرٹیفکیٹس  

32۔ اجازات  امام حفص عن عاصم از الشیخ قاری حمزہ مدنی                     7 سرٹیفکیٹس  

33۔  دورہ روایت حفص عن عاصم  من طریق طیبۃ النشر                            21سرٹیفکیٹس  

34۔ ختمہ عاصم من جمیع طرق  الطیبہ ( کل 52 طرق میں)                       5 سرٹیفکیٹس  

35۔  ایک سالہ دقائق تجویدیہ لیول 5 (بیچ 3)                               27 سرٹیفکیٹس 

36۔  ایک سالہ دقائق تجویدیہ لیول 5 (بیچ2)                                6 سرٹیفکیٹس  

37۔  ایک سالہ دقائق تجویدیہ لیول 4 (بیچ 2)                               21 سرٹیفکیٹس  

38۔  دورہ روایت قالون عن نافع                                                         9 سرٹیفکیٹس 

39۔ القراءات العشر الصغیر (جمع وارداف مع  الشیخ عمر المزوکی)             5 سرٹیفکیٹس 

40۔  القراءات العشر الکبیر( جمع وارداف مع الشیخ عمر المزوکی)               6 سرٹیفکیٹس 

41۔    القراءات العشر الکبریٰ اجازہ  تنزیلہ شفیق   مع الشیخ قاری شہریار      1 سرٹیفکیٹ

42۔ القراءات العشر الصغری اجازہ  شائستہ رحمان مع الشیخ قاری  محمد فیاض         1 سرٹیفکیٹ

43۔ دورہ القراءات العشرالصغریٰ برائے اساتذہ کی تیاری                          4 سرٹیفکیٹس 

44۔   حسن کارکردگی سرٹیفکیٹس برائے اساتذہ کرام                                15 سرٹیفکیٹس  

45۔  اعزازی سرٹیفکیٹس برائے  انتظامی سٹاف کلیہ                                6 سرٹیفکیٹس  

46۔ سورة النجم فی روایۃ خلف عن حمزہ    (شارٹ کورس)                       75سرٹیفکیٹس  

47۔ سورة الرحمن فی روایۃ  ورش عن نافع (شارٹ کورس)                       62 سرٹیفکیٹس

48۔ تحفیظ قصار السور فی روایۃ ورش عن نافع (شارٹ کورس)                 16 سرٹیفکیٹس

49۔ دورة قراءۃ امام  كسائی  ( مکمل قرآن )                                           14 سرٹیفکیٹس

50۔  دورہ تكبيرات امام احمد بزی ( عشرہ ذی الحج میں)                                     56 سرٹیفکیٹس

51۔ دورة القراءات للمقصرين فی المنفصل بیچ 1   ( مکمل قرآن )                           12 سرٹیفکیٹس

52۔ حفظ  تیسواں پارہ  روایت سوسی میں                                             13 سرٹیفکیٹس

شیخ القراء قاری محمد صدیق السانسرودی الفلاحی﷾(انڈیا)  کا خطاب

حمد وصلاۃ کے بعد !

تکمیلِ قراءاتِ مختلفہ متواترہ کی اس پاکیزہ اور روح پرور محفل میں نامور علماء، فنی عباقرہ، قراءت کے ماہر اساتذہ اور خوش نصیب طالبات کی بڑی تعداد کی موجودگی حقیقتاً باعثِ مسرت ہے۔ آج 1600سے زائد طالبات کا اسنادِ فراغت اور کئی طالبات کا اسنادِ اجازہ حاصل کرنا اللہ کی عظیم رحمت اور اس شریف فن کی بقا کی واضح نشانی ہےکہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اپنے دین کی حفاظت ایسے ہی باہمت طبقے کے ذریعے فرماتا ہے۔

اسلامی علوم کی حفاظت میں خواتین کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کے 43 جلدوں پر مشتمل الوفاء بأسماء النساء میں نو ہزار محدثات کا تذکرہ اس پر گواہ ہے۔ اسی طرح تاریخِ قراءت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہمارے اکابر مثلاً حضرت قاری عبد المالکؒ کی آواز، اداء اور فاطمہ نامی مصری نابینا قاریہ کے انداز کی نقل تک سلف کی فنی محنت کا حصہ تھی۔  مولانا اشرف علی تھانویؒ جیسے جلیل القدر عالم کا ان سے فاطمہ کے انداز میں تلاوت کی فرمائش کرنا اس فن کی عظمت اور ہمارے اسلاف کے ذوق پر دلیل ہے۔

آج بھی یہی حقیقت قائم ہے کہ قراءتِ متواترہ کے مشکل مسائل کو سمجھنے اور جمع حرفی کے طریقے کی تحقیق بھی بالآخر ایک  خاتون عالمہ ہند شلَبی کی کتاب سے آسان ہوئی۔ اسی طرح نئی فنی تحقیقات مثلاً ’ائمۂ قراء سے امالہ کے اسباب‘ پر مشتمل علمی کام بھی ایمان بنتِ صبحی ادلبی جیسی خواتین کے زیرِنگرانی ہوا۔ یہ دلیل ہے کہ طالباتِ قراءت اللہ کے فضل سے بڑے سے بڑا علمی و فنی کارنامہ انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

 اختتام پر میں معلمات، طالبات اور ان کے اولیاء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ قرآن و قراءت کی ایسی تاریخی تعداد میں تکمیل ہورہی ہے جو امتِ مسلمہ کا مستقبل سنوارنے کا ذریعہ بنے گی۔ ہمارے عزیز بھائی، عاشقِ فنِ قراءت، شب و روز اس کی اشاعت میں مصروف الشیخ  ڈاکٹرقاری حمزہ مدنی ﷾ آپ کی غیر معمولی محنت پر دل سے دعا اور عقیدت پیش کرتا ہوں۔ آپ نے اس بابرکت محفل میں مجھ ناقص کو یاد فرمایا، یہ آپ کا عظیم احسان ہے، جس پر ہر تشکر کم ہے۔ تمام شرکاء سے درخواست ہے کہ مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

شیخ القراء ڈاکٹر قاری عبد القیوم السندی﷾ (مكہ مكرمہ)  کا خطاب

حمدہ و صلاۃ کے بعد!

سب سے پہلے میں جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مؤسس گرامی قدر جناب فضيلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ اور کلیۃ القرآن الکریم کے ڈین جناب ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی وفقہ اللہ اور ان کی پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے کلیۃ القرآن الکریم آنلائن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اس عظیم الشان قرآن کنونشن اور تقریب تقسیم اسناد و اجازات کے پر مسرت اور مبارک موقعہ پر بندہ کو یاد فرمایا اور شرکت کی دعوت دی۔

جامعہ لاہور الاسلامیہ کے کلیۃ القرآن کا طالبات کے لیے علوم القرآن والقراءات کے متعدد تخصصات کا میدان کھولنے میں ایک اہم کردار ہے۔ مختلف کورسز کی تمام خریجات کو تہہ دل سے مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ میں آپ سب، آپ کے والدین اور تمام اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کو روشن مستقبل نصیب فرمائے۔

 کالج انتظامیہ کی طرف سے کتاب اللہ کے ان بابرکت علوم کے ساتھ نمایاں لگن سے میں بہت متاثر ہوا ہوں جس میں قراءات عشر صغریٰ، عشرہ کبریٰ، عشرہ نافعیہ اور مختلف روایات، علم تجوید ( متعدد متون اور منظومات کی روشنی میں) علم الوقف والابتداء وغیرہ ہیں۔ یہ ایسا اقدام ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر میں بے مثال ہے۔ اس مناسبت سے میں جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) کو اگر پاکستان کا جامعہ از ہر کہوں  تو مبالغہ نہیں ۔

میری بیٹیو! آپ لوگ مستقبل کے رجالات ہیں،آپ جیسی اہل قرآن سے بہت امیدیں وابستہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس عظیم مقصد ، عظیم فضیلت اور نفع بخش تجارت کے لیے چنا ہے ۔

میں اس مناسبت سے کلیہ کے ڈین گرامی قدر جناب ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی ﷾کے اصرار پر اردو میں چند گذارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، امید ہے کہ آپ سب ان سے مستفید ہوں گی ۔

  • خوفِ خدا اور تقویٰ: عقیدہ، علم اور عمل میں کتاب و سنت پر قائم اور ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہیں۔
  • اخلاص: اخلاص ہی عمل کو مقبول اور اثر انگیز بناتا ہے۔
  • علم پر عمل: امام احمد بن حنبلؒ فرماتے تھے: مَا كَتَبْتُ حَدِيْثاً إِلاَّ وَقَدْ عَمِلتُ بِهِ [2]” میں نے کوئی حدیث نہیں لکھی مگر اس پر عمل کیا ‘‘۔ سلف کا یہی طریقہ تھا کہ وہ علم کو عمل سے زندہ رکھتے تھے۔
  • تزکیۂ باطن: قلب کی اصلاح کریں، کیونکہ دل درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے۔ تکبر، ریا، حسد سے بچیں اور تواضع اختیار کریں۔
  • وقت کی قدر: وقت ضائع نہ کریں۔امام عبداللہ بن المبارکؒ سے پوچھا گیا کب تک پڑھتے رہیں گے؟ فرمایا: ’’موت تک‘‘[3]۔
  • عملی نمونہ بننا: امام حسن بصریؒ نے غلام آزاد کرنے کے فضائل پر تب خطاب کیا جب خود غلام آزاد کر لیا، تاکہ قول و فعل میں فرق نہ رہے۔ اساتذہ و استانیوں کو بھی طالبات کے لیے بہترین نمونہ ہونا چاہیے۔
  • حسنِ اخلاق اور دنیا سے بے رغبتی: دنیا کو ہاتھ میں رکھیں دل میں نہیں۔ جو اللہ کے پاس ہے اسی کی طلب کریں۔ حسد، کینہ، شہرت کی خواہش سے بچیں اور لوگوں کے عیبوں کے بجائے اپنی اصلاح کریں۔
  • دین پر فخر اور کفار کی مشابہت سے بچاؤ: لباس، گفتگو، چال چلن میں غیر مسلموں کی نقالی سے بچیں۔ مسلمان عورت اپنے دین، اقدار اور اخلاق پر فخر کرے۔
  • باہمی تعاون اور رابطہ: نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں اور فارغ ہونے  کے بعد آپس کا تعلق قائم رکھیں۔ موجودہ دور میں اس کی بہت ضرورت ہے۔
  • اساتذہ کا حق: اپنے اساتذہ و استانیوں کو ہمیشہ دعاؤں میں یاد رکھیں، یہ آپ کے روحانی والدین ہیں۔

شیخ القراء قاری محمد ابراہیم میر محمدی ﷾کا اظہار خیال

آپ سے پہلے کلیۃ القرآن  للبنات کی سرپرست اعلیٰ آپا رضیہ مدنی  نےاپنی گفتگو میں  محبت بھرے انداز میں یہ ذکر کیا کہ قاری محمد ابراہیم میر محمدی ﷾مدینہ منورہ میں مقیم تھے ، جب انہیں پاکستان میں آکر تدریس کرنے کی دعوت دی تو وہ سب کچھ چھوڑ کر پاکستان تشریف لے  آئے ۔ اسی اخلاص وقربانی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ ادارہ اس مقام پر کھڑا ہے۔ اس پر شیخ نے عاجزی سے فرمایا کہ وہ  اپنے آپ کسی قابل نہیں سمجھتے، مگر اکابرین جامعہ کی خلوص بھری دعائیں ان کے ساتھ رہیں اور دلوں کی صفائی سے ہی اللہ اصلاح فرما دیتا ہے۔

 شیخ محترم نے بتایا کہ مدینہ چھوڑنا آسان نہیں تھا، مگر اللہ نے جب دین کی خدمت کے لیے بلایا تو وہ چل پڑے۔ مکہ مکرمہ سے بھی ایک بڑی پیشکش ہوئی کہ  جامعہ ام القریٰ کے شعبہ قراءات  میں رہ کر تدریس کریں مگر انہوں نے معذرت کی اور پاکستان آ جانے کا فیصلہ کیا ۔

 دین کا کام ایک ہاتھ سے نہیں چلتا، یہ سب کے تعاون سے آگے بڑھتا ہے ۔ یہ ادارہ بھی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے جس میں رئیس الجامعہ ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ ، استاد محترم  شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی ﷫، شیخ الحدیث  مولانا  محمد شفیق مدنی ﷾ ،شیخ التفسیر  مولانا عبدالسلام فتح پوری ﷫اور دیگر اساتذہ، طلبہ اور مخلص ساتھیوں کی کوششیں شامل ہیں۔ میں آپ کو بھی یہ نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی یہ نہ سمجھنا کہ میں نے یہ  کیا اور وہ کیا ہے ، اصل کرنے والا اللہ ہے، ہم اس کے خادم ہیں، مالک نہیں۔ اخلاص کی تین نشانیاں ہیں : (1) تعریف ومذمت دونوں برابر ہوں، (2)  عمل میں خود پسندی نہ ہو ، (3) بدلہ صرف اللہ سے چاہا جائے

 اہل قرآن وہ ہیں جو قرآن سے جڑے رہتے ہیں، جس نے قرآن کو تھام لیا اسے دنیا و آخرت کی عزت ملتی ہے، اللہ اس کے دل میں محبت ڈالتا ہے اور اسے آزمائشوں میں صبر عطا کرتا ہے۔

قرآن کی سات منزلیں ہیں جن کا خلاصہ فمي بشوق ہے ، طالبات کو  چاہیے کہ اس کے مطابق  مکمل قرآن  کی ایک ہفتہ میں  تلاوت کیا کریں ۔یاد رکھیں کہ  علم دین اللہ کا نور ہے، جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکالتا ہے، آپ سب بیٹیاں اللہ کے نور سے حصہ پا رہی ہیں جنہوں نے تجوید پڑھی، راتوں کو جاگ کر عبادت کی اور مسلسل تعلیم دین میں مشغول رہیں۔ قرآن شفا ہے، اسے پڑھ کر بیماروں کے لیے دعا کیا کریں۔

علم کے ساتھ تزکیہ ضروری ہے، اصل کامیابی اسی میں ہے کہ خلوت اور جلوت دونوں پاکیزہ ہوں۔ علم اخلاق، حیا، نرم روی، پاکیزہ عادات اور گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں نظر آنا چاہیے۔ ہر عمل میں اخلاص پیدا کریں، پانچ وقت کی نماز کی پابندی کریں، تلاوتِ قرآن کو روزانہ کا معمول بنائیں کیونکہ قرآن شفا، رحمت اور برکت ہے؛ اس کا ہر حرف نیکی ہے اور یہ دلوں کو سکون و روشنی دیتا ہے۔ قرآن کے بغیر دینی علوم میں برکت نہیں آتی، اسی لیے سلف زیادہ قرآن پڑھتے تھے۔ صبح و شام کے اذکار  مومن کی ڈھال ہیں، ذکر دل کو زندہ کرتا ہے اور اللہ کے عذاب سے نجات دیتا ہے۔  بزرگ  علما ءفرمایا کرتے تھے کہ قرآن زیادہ پڑھو، اس سے حدیث اور دیگر علوم سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

  اہلِ قرآن کی یہ مجلس بہت مبارک ہے، ایسی مجالس پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور خوش نصیب وہ بیٹیاں ہیں جنہیں اللہ نے قرآن کے لیے چن لیا۔ علم نعمت بھی ہے اور امانت بھی، جس کا حق اخلاص، تقویٰ اور تواضع سے ادا ہوتا ہے۔ شیخ محترم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو دنیا و آخرت میں عزت، برکت، استقامت اور علمِ نافع عطا فرمائے اور آپ کو قرآن والی زندگی نصیب فرمائے۔

 

[1]   صحیح بخاری: 101

[2]   سير أعلام النبلاء :11/ 213

[3]   جامع بيان العلم وفضله (1/ 406):586