مارچ 2026ء

طلاقوں کی بڑھتی ہوئی شرح ؛ اسباب اور حل

طلاقوں کی بڑھتی ہوئی شرح ؛ اسباب اور حل

(تمام  مکاتب ِ فکر کے علماء کرام سے مکالمہ )

خطبہ مسنونہ  کے بعد !

پچھلے دنوں ہمارے  معاشرے کا ایک بہت ہی سلگتا ہوا مسئلہ میرے سامنے آیا ہے  ، جس نے میں مجھےبہت زیادہ دکھ اور پریشانی میں مبتلا کردیا ہے ، تو میں نےسوچا کہ اپنے  علمائے کرام کے سامنے یہ  مسئلہ رکھوں کیونکہ وہ انبیاء کے وارث ہیں ۔ امت کی قیادت اور  سیادت کرنا علماء کی ذمہ داری ہے۔اور اس مسئلہ میں الحمد للہ کسی قسم کا کوئی اختلاف بھی نہیں،بالکل متفق مسئلہ  ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں   کثرت کے ساتھ خاندانوں میں طلاقیں واقع ہو رہی ہیں ۔ طلاق سے صرف میاں بیوی کے درمیان ہی جدائی  نہیں ہوتی بلکہ پورا گھر تباہ ہوتا ہے ، دو خاندانوں میں   نفرت اور بغض کی چنگاریاں  سلگنے لگتی  ہیں اور اس کے اثرات اولادپر بھی پڑتے ہیں ۔ بچوں کی نشوونما  ، تعلیم اور تربیت برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔  ہمارےمعاشرے میں اتنی کثرت سے طلاقیں  واقع ہو رہی ہیں  کہ فیصل آباد کی یونین کونسلوں کے ذریعے ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے اس کے مطابق پچھلے چھ ماہ میں  پچیس ہزار طلاقیں  ہوئیں ۔ گزشتہ ایک ماہ  میں چار ہزار طلاقیں  ہوئیں ہیں۔یہ صرف ضلع فیصل آباد کی حالت ہے باقی شہروں اور صوبوں کی کیا حالت ہوگی ؟

 ہمیں سوچناچاہیے کہ اس تباہ کن صورتحال کا سبب اور حل کیا ہے ؟میرے خیال کے مطابق اس کی دو وجوہات ہیں :

پہلی وجہ یہ ہے  ہمارے ہاں   نکاح کے موقع پر    تو عالم کو بلایا جا تا ہے اور اس کی موجودگی میں نکاح ہوتا ہے  ، لیکن طلاق دیتے وقت بالکل علماء کرام سے رہنمائی نہیں لی جاتی  ۔ حالانکہ  جس طرح  نکاح کا ایک طریقہ ہے اسی طرح  طلاق کا بھی ایک خاص طریقہ کار اور مخصوص احکام ہیں ۔اگر طلاق دیتے ہوئے بھی  کسی عالمِ دین سے رہنمائی لی جائے تو طلاقوں کی شرح میں بڑی حد تک فرق پڑ سکتا ہے ۔

طلاق اگرچہ  فی نفسہ اچھی چیز نہیں ہے ،  آپ سب جانتے ہیں کہ شیطان سب سے زیادہ  خوش اپنے ان شتونگڑوں سےہوتا ہے جو میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے  ہیں ۔ جادو گروں کا حملہ بھی سب سےزیادہ  اسی پر   ہوتا ہے ،﴿ مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ ﴾ [البقرة:102]   ’’وہ خاوند اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کراتے ہیں ‘‘۔  ایک حدیث بھی ہے جسے بعض محدثین نے مرسل اور بعض  نے موصول کہا ہے:

أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى الله تَعَالَى الطَّلَاقُ.[1]

یعنی طلاق حلال چیز ہے لیکن سب سے زیادہ اللہ کو نا پسند ہے۔

طلاق کے بھی مختلف احکام ہیں ، لہٰذا طلاق کے معاملے میں علماء کرام سے رہنمائی لینی چاہیے ۔

دوسری بڑی وجہ تین طلاقیں اکٹھی دینا ہے ۔ ہمارے عوام الناس خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے  ہوں میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی فرق نہیں ہے ، ان کی جہالت کا یہ  حال ہے کہ  سمجھتے ہیں  جب تک تین طلاقیں نہیں دیں گے ، عورت سے جان نہیں چھوٹے گی ۔اس لیے جب کسی مرد کے جذبات کو اس کے  اہل خانہ کی طرف سے ٹھیس پہنچتی ہےتو  وہ فوراً تین طلاقیں دے دیتا ہے ۔

سب علمائے کرام  جانتے ہیں   کہ  طلاق کی بنیادی طور پر دو قسمیں کی  ہیں؛ طلاق سُنی اور  طلاق بدعی ۔ تمام فقہائے کرام نے بلا اختلاف  یہ تقسیم کی ہے ۔

طلاق بدعی کا معنی یہ ہے کہ آدمی ایسے طریقے سے  طلاق دے رہا ہے کہ  جس میں  اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کررہا ہے ۔اور طلاق سنی، جو  قرآن و سنت کی روشنی میں دی گئی ہو۔

ایک دفعہ میرے پاس  ایک بڑے بزرگ تشریف لائے ، جن کی عمران کے بقول  75 سال تھی ،ان کے پوتے اور نواسےبھی  تھے ۔ آنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے : میری بیوی سے کچھ ناراضگی ہوئی تو  میں نے تینوں طلاقیں دے دیں،   میں نے پوچھا  آپ  نے ایک طلاق کیوں نہیں دی ، کہنے  ایک طلاق سے میری جان نہیں چھوٹنی تھی، اس لیے  میں نے سوچا کہ تینوں ہی دے دوں۔

ہماری یونین کونسلز اور کچہریوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہاں کوئی شخص طلاق کی غرض سے  جاتا ہے تو  وہ   تین اشٹام پیپرز  پر الگ الگ تاریخیں ڈال کر سائن کروا لیتے ہیں اور  پھر ہر مہینے  ایک ایک پیپر عورت کو بھیجتے رہتے ہیں ، کیونکہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر جان نہیں چھوٹے گی ۔ یہ سب  جذبات اور جہالت کے کرشمے ہیں۔ پھر انہیں کن  کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؟کس طرح گھر تباہ  ہوتے اور  کس طرح بچے برباد ہوتے ہیں ؟  یہ سب آپ حضرات کے سامنے ہیں۔

اس حوالے سے  علمائے کرام کے سامنے  دست بستہ دو گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں  :

  • علماء کرام کو چاہیے کہ وہ عوام کو  بتائیں کہ آپ کو  طلاق دینے کی  ضرورت پڑ جائے تو وہ طریقہ اختیار کریں  جو قرآن وسنت سے ثابت ہے ، آپ بدعی طریقہ اختیار کرکے گناہ گار کیوں ہوتے ہیں۔بدعی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ،اکٹھی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں یا ایک ،یہ  الگ بحث ہے ۔ اس میں آپ جس موقف کو راجح سمجھتے  اس کے مطابق فتویٰ دیں ، لیکن یہ تو انہیں  بتائیں کہ تین طلاق اکٹھی دینا بدعت ہے ۔ اور  ایک طلاق سے بھی آپ کی جان چھوٹ سکتی ہے، تین طلاقیں دینے کی ضرورت نہیں ۔
  • طلاق دینے کا مسنون طریقہ جو میں سمجھا ہوں ، یہ ہے کہ طلاق دینے سے پہلے آدمی دیکھے کہ میری بیوی کسی حالت میں ہےاگر وہ حیض میں ہےتو اس  حالت میں طلاق دینا  بدعی طلاق ہے۔ جمہور کے قول کے مطابق اگر  وہ واقع ہو بھی جائے تو بھی  وہ گنہگار تو ہو گا، کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کی ہے۔ہم اسے گناہ سے تو بچائیں ۔اگر وہ دیکھتا ہےکہ اس کی بیوی  ایام طہارت میں ہے ، تو  اس میں شرط ہے: (لم یمسهافیه)کہ اس طہر میں اس نے اپنی بیوی سے جنسی تعلق قائم نہ کیا ہو ۔پھر وہ ایک طلاق دے ۔ یہ سنت طریقہ ہے اور یہ طلاق حسن اور احسن ہے ۔ اگر وہ بیوی کو اس کے حیض کے ایام میں طلاق دیتا ہے یا ایسے طہر میں طلاق دیتا ہے جس میں اس نے بیوی سے تعلق قائم کیا ہے تو یہ طلاق بدعی ہوگی اور وہ گناہ گار ہوگا۔
  • تیسری شرط یہ ہے کہ طلاق دیتے ہوئے گواہ بنائے ۔ قرآن مجید میں ہے: ﴿ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ﴾ [الطلاق: 2]’’ اور دو عادل لوگوں کو گواہ بناؤ ‘‘۔حدیث میں  ہے کہ سیدنا عمران بن حصین﷜ کےپاس ایک آدمی آیا ، اس نے کہا  میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر  میں نے رجوع کر لیا ہے، وہ فرمانے لگے: کیا  گواہ بھی بنائے تھے وہ کہنے لگا: نہیں ، توآپ ؓ نے فرمایا : (طلقتَ لغير سنة، وراجعتَ لغير سنة)’’ تو نے طلاق بھی سنت سے ہٹ کر دی اور رجوع بھی خلاف سنت کیا ‘‘۔

علماء کرام  کے پاس  ایسےکئی  لوگ آتے ہیں کہ  بیوی کہتی ہے کہ خاوند نے مجھے طلاق دی ہے جبکہ  خاوند کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی ۔ اب مفتی کےلیے الجھن پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ کیا کرے ۔ چونکہ طلاق خاوند کا حق ہے اور وہ طلاق دینے سے انکاری ہے اور بیوی کے پاس گواہ نہیں ہیں ۔جب  مفتی عدم طلاق کا فتویٰ دیتا ہے تو بیوی کہتی کہ جب میں نے پورےہوش و حواس کے ساتھ اپنے کانوں سےطلاق سنی ہے تو میں کیونکر  اس کے ساتھ رہوں؟اس لیے طلاق دینے والے کے لیے ان تین شروط کا پورا کرنا ضروری ہے : طلاق طہر میں ہو، دوسری  ایسے  طہر میں ہو  جس میں خاوند بیوی نے جنسی تعلق قائم نہ کیا ہو ، تیسری شرط کہ گواہ بنائے جائیں ۔ یہ آخری شرط اگرچہ سنت کے درجے میں ہےلیکن اس کی عدم موجودگی میں طلاق بدعی ہوگی ۔یہ ایسامسئلہ  ہے جس میں اہل سنت کے مکاتب فکر کے درمیان  کوئی اختلاف نہیں  ہے۔اب اگر مرد  عدت کے اندر رجوع نہیں کرتا تو عورت اس کی زوجیت سے نکل جائے گی ، یہ  بھی آزاد اور وہ  بھی آزاد ، وہ  جہاں چاہیں شادی کر لیں ۔

سنت طریقے کے مطابق طلاق دینے سے خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی بھی ہوجاتی ہے اور اگر وہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر دوبارہ ملنا چاہیں تو نیا نکاح کرسکتے ہیں ۔ اس میں بھی کسی مکتب فکرکا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن ہمارے عوام الناس  غصے اور جلد بازی میں  تینوں طلاقیں دیتے ہیں  ، یہ سمجھ کر کہ   تین کے بغیر میری جان نہیں چھوٹے گی ، اس کی وجہ سے بہت  سارے مفاسد پیدا ہورہے  ہیں ۔ خواہ ایک ہی دفعہ دے یا مہینے مہینے کے بعد دے، ایک ہی حکم ہے ۔

میری گزارش یہ ہے کہ آپ  علماء کرام  انبیاء ﷩کے وارث ہیں ہمیں اپنے خطبوں میں، دروس یا شارٹ کورس میں سب سے پہلے تو  لوگوں کو  یہ  بتانا چاہیے کہ  گھر میں سکون اور راحت پیدا کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ طلاق سے بچنے کے راستےکیا ہیں؟   اور اگر طلاق دینا ضروری ہوجائے تو ایک ہی طلاق دیں ۔ اس لیے کہ  یہی سنت طریقہ ہے اور  دوسری بات یہ ہے کہ ایک طلاق دینے سے عدت کے اندر اندر رجوع اور عدت کے بعد نئے نکاح کا راستہ کھلا رہتا ہے ۔  مہینوں بلکہ سالوں بعد بھی اگر یہ میاں بیوی آپس میں دوبارہ ملنا چاہیں تونئے  نکاح کے ساتھ وہ دوبارہ میاں بیوی بن سکتے ہیں، گھر آباد کرسکتے ہیں ،  اپنے بچوں کو سنبھال سکتے ہیں۔

 علماء کرام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ  اپنے سائنوں  کے ساتھ یہ  مسئلہ لکھ کر کونسلوں اور کچہریوں کو  بھیجیں۔ اس مسئلہ میں وکیل بھی اہم کردار ادا رکرتے ہیں ، لہٰذا علماء کرام کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے  وکیلوں کے مجلس کریں اور انہیں  سمجھائیں کہ اگر آپ کے پاس  کوئی طلاق کا قضیہ لے کر آتا ہے تواسے تین طلاقوں کا مشورہ نہ دیں  بلکہ ایک طلاق کا مشورہ دیں جو سنت سےثابت ہے۔ ہمیں یہ تحریک چلانی چاہیے، حکومت کے ذمہ داران سے بھی بات کریں تاکہ یہ ایک قانونی راستہ بن جائے ۔ہم کوشش کریں کہ  جذباتی طلاقوں کےفتنے کو کم کریں تاکہ گھر برباد ہونے سے بچ جائیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو  ۔ آمین

 

[1]   سنن أبی داود :2178، سنن ابن ماجہ :2018