مارچ 2026ء

زکٰوۃ کے مال سے محتاج طلبہ کے لیے دینی کتب خریدنا

زکٰوۃ کے مال سے محتاج طلبہ کے لیے دینی کتب خریدنا

سوال :

دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی بہت بڑی تعداد مستحق بچوں کی ہوتی ہے۔ ان طلبہ و طالبات کے لیے قرآن كريم سمجھنے کے لیے ایک کتاب معلم القرآن ہدیہ کرنے کا ارادہ ہے تاکہ یہ طلبہ و طالبات قران کریم کو سمجھ کر پڑھیں۔چونکہ یہ بچے کتا بیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس لیے ہم انہیں اپنے مال زکاۃ میں سے معلم القران اور دیگر دینی علوم کی کتب  بڑی تعداد میں فراہم کرنا چاہتے ہیں۔  کیا یہ امر مصارف زکاۃ میں داخل ہے اور ہم زکاۃ   کے مال سے یہ کتابیں حاصل کر کے تقسیم کر سکتے ہیں؟                                                                   

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن مجیدمیں زکاۃ کے مستحق  افراد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا  گیا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِيْنَ وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۰۰۶۰﴾ ]التوبة: 60[

’’صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے‘‘۔

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں زکاۃ کے آٹھ   مصارف بیان کیے گئے ہیں ، ان میں ایک  فقیر اور  دوسرا مسکین ہے ، لہٰذا اگر طالب علم مسکین ہے تو بالاتفاق  اسے زکوۃ دی جاسکتی ہے یا  کتب خرید کر بھی دی جاسکتی ہیں۔ اگر  کوئی طالب علم مسکین کی زمرے میں نہیں آتا تب بھی علماء کے  قول کے مطابق اسے زکوۃ دی جاسکتی ہے ۔اور اس کی دو وجوہات ہیں : ایک جس طرح زکوۃ کے محکمے میں کام کرنے والے کو زکوۃ سے تنخواہ دی جاتی ہے ، کیونکہ وہ وقت نکالتا  اور محنت کرتا ہے ، اسی طرح طالب علم بھی علم دین  حاصل کرنے کے لیے وقت نکالتا ہے اور محنت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿لِلْفُقَرَآءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ﴾ [البقرة: 273]

’’(یہ صدقات ) ان محتاجوں کے لیے ہیں جو اللہ کے راستے میں روکے گئے ہیں ، زمین میں سفر نہیں کرسکتے ، ناواقف انہیں سوال سےبچنے کی وجہ سے مالدار سمجھتا ہے‘‘ ۔

 اسی بنیاد پر فقہاء نے لکھا ہے :

أَنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ يَجُوزُ لَهُ أَخْذُ الزَّكَاةِ وَلَوْ غَنِيًّا إذَا فَرَّغَ نَفْسَهُ لِإِفَادَةِ الْعِلْمِ وَاسْتِفَادَتِهِ لِعَجْزِهِ عَنْ الْكَسْبِ وَالْحَاجَةُ دَاعِيَةٌ إلَى مَا لَا بُدَّ مِنْهُ [1].

’’ طالبِ علم کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے، اگرچہ وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو، بشرطیکہ وہ علم کی افادیت اور اس سے استفادہ کے لیے اپنے آپ کو فارغ رکھے، کیونکہ وہ کمانے سے عاجز ہوتا ہے اور حاجت اس چیز کی داعی ہوتی ہے جس سے چارہ نہیں‘‘۔

اسی طرح ایک مصرف   فِي سَبِيلِ اللَّهِ  ہے۔   مفسرین نے اس لفظ کے دو معنی بیان کیے   ہیں: ایک،  جہاد فی سبیل اللہ اوردوسرا معنیٰ یہ ہے کہ   ہر خیر  کا کام  فی سبیل اللہ میں داخل ہے۔

المجمع الفقهی الإسلامی (جس میں دنیا بھر سے کبار فقہا شامل ہیں ) نے اپنے دسویں اجلاس میں، جو مکہ مکرمہ میں 27/4/1408ھ تا  8/5/1408ھ  منعقد ہوا،اللہ تعالیٰ کے فرمان: (وَفِي سَبِيلِ الله) کے مفہوم، اس کی دلالت اور علماء کے درمیان اس کے معنی میں پائے جانے والے اختلاف کا مطالعہ کیا اور دوسرے معنیٰ کو ترجیح دی ہے ، وہ لکھتےہیں :

’’ اس مسئلے میں علماء کی مختلف آراء ہیں ،پہلا قول:( فِي سَبِيلِ اللهِ) سے مراد صرف اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے (مجاہدین) ہیں۔ یہی جمہور علماء اور اکثر فقہاء کا موقف ہے۔ ان کے نزدیک یہ مصرف صرف مجاہدین تک محدود ہے، اس میں کوئی اور داخل نہیں۔دوسرا قول: (فِي سَبِيلِ اللهِ) ایک عام اور وسیع مفہوم رکھتا ہے، جو اللہ کے راستے کے ہر کام کو شامل ہے، جیسے: مساجد کی تعمیر و مرمت، مدارس کا قیام، سرحدوں کی  حفاظت ، راستوں کی تعمیر اور وہ تمام امور جن سے دین اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچے۔ یہ قول بعض متقدمین سے منقول ہے اور بعض معاصر علماء نے بھی اسے اختیار کیا ہے۔مجمع نے دلائل پر غور و خوض اور تفصیلی بحث کے بعد درج ذیل نکات کی بنا پر اسی  قول کو ترجیح دی:

  • بعض علماء نے دوسرے قول کو اختیار کیا ہے اور بعض آیات میں اس کی گنجائش بھی نظر آتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ َ ﴾ [البقرة: 262]

’’ جو  لوگ  اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر اپنے خرچ کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے ہاں اجر ہے ‘‘۔

رسول اللہ ﷺ نے ام معقل﷝ سےحج پر نہ جانےکی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس ایک ہی اونٹ ہے جسے میرے خاوند نے سبیل اللہ وقف کردیا تھا ،  یعنی کوئی دوسرا  اونٹ تھا ہی  نہیں اس لیے میں حج پر نہیں جاسکی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الْحَجَّ فِي سَبِيلِ الله [2].

’’ پس تو اسی پر حج  کے لیے کیوں نہیں گئی ، بلاشبہ حج بھی فی سبیل اللہ  میں شامل ہے‘‘ ۔

  • جہاد بالسلاح (ہتھیار کے ذریعے جہاد) سے مقصود اللہ کے کلمے کو بلند کرنا اور اس کے دین کی دعوت پھیلانا ہے۔ تو داعیانِ دین  کی تیاری، ان کی مدد اور ان کے کام کو مضبوط بنانا بھی اسی مقصد میں شامل ہے، لہٰذا یہ سب جہاد ہی کی اقسام ہیں۔اس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے:

جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ، وَأَنْفُسِكُمْ، وَأَلْسِنَتِكُمْ[3].

’’مشرکین سے اپنے مال، جان اور زبان کے ذریعے جہاد کرو‘‘۔

  • آج اسلام فکری اور اعتقادی یلغار کا شکار ہے، جو ملحدین، یہود و نصاریٰ اور دیگر دشمنانِ دین کی طرف سے ہے اور ان کے پیچھے مادی اور فکری دونوں قسم کی مدد موجود ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اسی نوعیت کے ہتھیار کے ذریعے مقابلہ کریں جس سے اسلام پر حملہ کیا جا رہا ہے، یہ زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔
  • موجودہ دور میں اسلامی ممالک میں جنگیں مخصوص وزارتوں کے تحت ہو تی ہیں اور ہر ریاست کے بجٹ میں فوج اور اسلحہ کے لیے مستقل مالی وسائل ہوتے ہیں، جبکہ دعوت و تبلیغ کے لیے اکثر ممالک میں نہ تو باقاعدہ بجٹ ہوتا ہے اور نہ ہی مناسب تعاون۔

ان تمام اسباب کی بنا پرمجلس نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ (فِي سَبِيلِ الله) سے مراد ۔ وسیع مفہوم میں ۔ دعوت الیٰ اللہ دینا اور اس سے متعلق تمام معاون سرگرمیاں  شامل ہیں۔ واللہ اعلم  [4]۔

دین کی نشر و اشاعت علم اور جہاد دونوں طریقوں سے  ہوتی ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو اختیار کرنے  کی  اکٹھی ترغیب دی ہے ، فرمایا:

﴿ وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَآفَّةً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَ لِيُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَؒ۰۰۱۲۲﴾ [التوبة: 122]

 ’’مناسب نہیں کہ مومن سب کے سب (جہاد کے لیے ) نکل جائیں ، سو ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلے تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم کو ڈرائیں ، جب ان کی طرف واپس جائیں ، تاکہ وہ بچ جائیں ‘‘۔

یعنی سارے لوگوں کو جہاد کے لیے نہیں جانا چاہیے ، بلکہ کچھ لوگوں کو علم حاصل کرنے کے لیے بھی نکلنا چاہیے ، تاکہ وہ قوم کی رہنمائی کرسکیں ۔

مزید ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ﴾] التحريم: 9[

’’اے نبی! کفار اور منافقین سے جہاد کر اور ان پر سختی کر ‘‘۔

مذکورہ بالا آیت میں منافقین کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے  ۔ ظاہر بات ہے کہ منافقین کے خلاف  جہاد علم سےہوتا  ہے ، اسلحہ سے نہیں ہے۔  اس لیے علم کی نشر واشاعت بھی جہاد  میں داخل ہے ۔

مزید برآں رسول اللہ ﷺ نے علم سیکھنے کو بھی ’’فی سبیل اللہ ‘‘  میں شامل کیا ہے ۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ العِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ».[5]

’’ حضرت انس بن مالک ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جو علم حاصل کرنے کے لیے نکلا تو وہ فی سبیل اللہ میں ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے ‘‘۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، لَمْ يَأْتِهِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ الله.[6]

’’ حضرت ابوہریرہ ﷜ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرمارہے تھے : جو شخص میری اس مسجد میں آیا اوراس کا مقصد صرف خیر سیکھنایا سکھانا تھا تو وہ  مجاہد فی سبیل اللہ کے درجے میں ہے‘‘۔

مندرجہ بالا گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ محتاج اور اور غیر محتاج  طلبہ کے لیے زکاۃ کے مال سے ان  دینی کتب کی خریداری  کرنا جن کی انہیں اشد ضرورت ہو    جائزہے۔

اس کے علاوہ یہ مسئلہ بھی پیش نظر رہے کہ مال زکوۃ کے مصارف بیان  کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے  لامِ تملیک کا  ذکر کیا ہے ، جس کا مطلب  یہ ہے کہ ان افراد کو زکاۃ کے مال کا مالک بنانا ضروری ہے،تاکہ وہ اپنی حاجت اور ضرورت کے مطابق اسے خرچ کر سکیں اور  وہ اپنی ضرورتوں کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں۔ لہٰذا  بہترین طریقہ  یہ ہے کہ زکاۃ کا مال ادارے کے مدیر کو دے دیا جائے جو پوری طرح سے امین اور دیانت دار ہو،  وہ مستحق بچوں کی ضرورت کے مطابق ان پر خرچ کرے۔اگر مدیر خود کہے کہ ہمیں فلاں فلاں کتابیں چاہئیں تو پھر آپ انہیں مطلوبہ   کتابیں لے کر دے دیں۔والله أعلم بالصواب.

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  مفتی حافظ  عبد الستار حماد ﷾                      فضیلۃ الشیخ  مفتی محمد شفیق مدنی  ﷾

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  عبد الرحمن یوسف مدنی ﷾                             فضیلۃ الشیخ  قاری عبد الحلیم بلال ﷾

 فضیلۃ الشیخ  ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد   ﷾                           فضیلۃ الشیخ مفتی عبدالخالق ﷾    

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی ﷾                               فضیلۃ الشیخ محمد ادریس اثری ﷾

اذان کے بعد بازاروں میں نماز کا  اعلان کرنا

سوال :میری یہ عادت ہےکہ میں   فجر کی اذان کے بعد گلیوں میں گھوم پھر کر حی علی الصلاة کی صدائیں لگاتا ہوں اور میرے اس عمل کا مقصد لوگوں کو نماز کے لیے جگانا اور تیار کرنا ہے ، بعض لوگوں نے مجھے کہا یہ  عمل بدعت ہے۔  اس حوالے سے مفتیان کرام سےمیرا سوال یہ ہے :

  • کیا قرآن وسنت کی رو سے میرا یہ عمل واقعی بدعت کے زمرے میں آتا ہے ؟
  • اگر یہ عمل بدعت ہے تو گھروں میں والدین اپنے بچوں کو   جگاتے ہیں یا مدارس میں اساتذہ کرام طلبہ کو جگاتے ہیں  تو کیا وہ بھی بدعت ہوگا ؟
  • میں نے سعودیہ میں بھی دیکھا ہے کہ وہاں ایک باقاعدہ محکمہ ہے جو ہر اذان کے بعد بازاروں میں گھوم  پھر کر دوکانیں بند کراتے اور لوگوں کو مساجد کی طرف بھیجتے ہیں ، ان  کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟

جواب    

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت عبد اللہ بن عمر ﷠فرماتے ہیں  :

كَانَ المُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا المَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ اليَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلاَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ»[7].

’’ جب مسلمان مدینہ تشریف لائے تو نماز کے وقت کا اندازہ کرکےاس کے لیے جمع ہوا کرتے تھے کیونکہ اس وقت  اذان کا اہتمام نہ تھا ۔ ایک دن انہوں نے اس کے متعلق باہم مشورہ کیا تو کسی نے کہا : عیسائیوں کی طرح ایک ناقوس بنا لیا جائے ، اور کچھ نے کہا : یہودیوں کے بگل کی طرح ایک نرسنگھا رکھ لیا جائے ، مگر حضرت عمر﷜  نے کہا : آپ ایک آدمی کو کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کے وقت کی اطلاع دیا کرے ؟  رسول اللہ ﷺ نے (اسے پسند کیا اور ) فرمایا: اے بلال ! اٹھو  نماز کی اطلاع دو ‘‘۔

اس کے بعد نماز کے لیے باقاعدہ اذان مقرر کی گئی اور اسےشعار ِ  اسلام  قرار دیا گیا  ،  ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ ﴾ [الجمعة: 9]

’’ اے ایمان والو! جمعہ کے دن جب  نماز کے لیے اذان کہی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو ‘‘۔

﴿ وَ اِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ۰۰۵۸﴾[المائدة: 58]

’’اور جب تم نماز کےلیے اذان کہتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور کھیل بناتے ہیں ، یہ اس لیے کہ یہ لوگ عقل نہیں رکھتے ‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ نماز کی اطلاع دینے   کے لیے شریعت نے اذان ہی مقرر کی ہے ۔ اذان کے الفاظ میں نہ تبدیلی کی جاسکتی ہے اور  نہ اس مقصد کےلیے  اذان چھوڑ کر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔حضرت مجاہد﷫  فرماتے ہیں :

كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، قَالَ:«اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ»[8].

’’میں حضرت ابن عمر﷜ کے ساتھ (ایک سفر میں )تھا ( ہم ایک مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا )  کہ آدمی ظہر یا عصر پرتثویب کررہاتھا۔تو ابن عمر ؓ فرمانے لگے : مجھے یہاں سے نکالو، بلاشبہ یہ بدعت ہے ‘‘۔

علماء کرام نے تثویب کے دو معانی کیے ہیں :

ایک ، صبح کی اذان میں الصلاة خیر من النوم   کہنا ۔ چونکہ  شریعت نے یہ  الفاظ  اذان فجر کے ساتھ خاص کیے ہیں ، جبکہ  وہ شخص ظہر یا عصر کی اذان کے بعد    الصلاة خیر من النوم   کے الفاظ استعمال کر  رہا تھا ، اس لیے حضرت ابن عمر ﷠نےاسےبدعت قرار دیا ۔

دوسرا ، اذان کے بعد لوگوں کو نماز کے لیے آوازیں دےکر بلانا ۔ چونکہ شریعت  نے جماعت کا  وقت بتانے  کے لیے اذان مقرر کی ہے ، لہٰذا اس مقصد کے لیے کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنا بدعت ہو گا ۔

مذکوہ دلائل کی بنیاد پر اذان کے بعد بازاروں میں ڈھول پیٹ کر یا آوازیں  لگا لگا کر لوگوں کو نماز کی طرف بلانا یقیناً بدعت شمار ہوگا ۔جیساکہ شیخ الحدیث عمر فاروق سعیدی ﷾  نے مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھا ہے :

’’تثویب سے مراد ایک تو وہ کلمہ ہے جو فجر کی اذان میں کہا جاتا ہے یعنی[ الصلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النوم] یہ حق اور مسنون ہے مگر یہاں اس سے مراد وہ اعلانات وغیرہ ہیں جو اذان ہو جانے کے بعد لوگوں کو مسجد میں بلانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کچھ حیلہ بھی کیا جاتا ہے ۔ مثلاً کہیں درود شریف پڑھا جاتا ہے اور کہیں تلاوت قرآن کی جاتی ہے اور کہیں صاف سیدھا اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ جماعت میں اتنے منٹ باقی ہیں تو ایسی کوئی صورت بھی جائز نہیں۔ مسلمانوں پر واجب ہے کہ نماز کا وقت ہو جانے کے بعد بروقت نماز کے لیے حاضر ہوں ۔ ہاں مسجد کی طرف راہ چلتے ہوئے کسی سوئے ہوئے کو جگانا یا غافل اور سست لوگوں کو متنبہ کر دینا کہ اٹھو نماز کے لیے چلو، بلا شبہ جائز اور مطلوب ہے۔ یہ منوعہ تثویب میں شمار نہیں ‘‘[9]۔

بعض علماء کرام کا یہ بھی خیال  ہے کہ اذان کہنے کے بعد مسجد ہی میں  کھڑے ہو کر اعلان کرنا تو بلاشبہ بدعت ہے کیونکہ یہ اذان کا بدل ہے ۔لیکن کسی دوسری جگہ پر لوگوں کو نماز کے لیے کہنا اس حکم میں نہیں آتا۔ بہرحال بازاروں میں نماز کے لیے باقاعدہ  آوازیں لگانےسے پرہیز بہتر ہے ۔

جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہےکہ والدین اپنے بچوں کو یا  اساتذہ اپنے طلبہ کو  نماز کے لیے عملاً جگاتے ہیں تو ا س میں حرج نہیں ہے ۔کیونکہ یہ اذان کے مقابلے کا کوئی عمل نہیں بلکہ اذان جس کام کی دعوت ہے اس کے لیے عملاً تیا رکرنا   ہے ۔  رسول اللہ ﷺ نے  اس کا باقاعدہ حکم دیا ہے ،  فرمایا:

«مُرُوا الصَّبِيَّ بِالصَّلَاةِ إِذَا بَلَغَ سَبْعَ سِنِينَ، وَإِذَا بَلَغَ عَشْرَ سِنِينَ فَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا»[10].

’’بچہ جب سات برس کا ہوجائے تو اسے نماز کی تلقین کرواور جب دس برس کا ہوجائے تو  نماز میں کوتاہی پر اسے مارو۔‘‘

اسی طرح صاحب اختیار کا  کسی کو  نماز میں سستی پر ڈانٹ ڈپٹ کرنا یا سزا دینا   امر بالمعروف اور نہی عن  المنکر میں شامل ہے ۔ جیساکہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ، فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ، فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ [11].

’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ  میں میری جان ہے ، میں نے پروگرام بنایا ہے کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں ، لکڑیاں اکٹھی ہوجائیں تو اذان کہنے کا حکم دوں ، پھر کسی کو جماعت کرانے کا کہوں ، پھر میں ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو گھر وں میں بیٹھے ہیں ان سمیت ان کے گھر جلا ڈالوں ‘‘۔

سعودی عرب میں ادارہ ’ ہیئۃ الأمر بالمعروف ‘ والوں کا اذان کے بعد بازاروں میں دوکانیں بندکرانا یا لوگوں کو مسجد جانے کی  ترغیب دیناامر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حصہ ہے ، جو   اسلامی حکومت پر فرض ہے ۔[12]

 اس کے برعکس ہمارے ہاں  بعض مساجد میں  فجر کی جماعت سے چند منٹ پہلے  اسپیکر میں  الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہتا جاتا ہے ۔یہ انداز یقیناً بدعت ہے ،کیونکہ یہ اذان کے الفاظ ،  اذان کے انداز میں اور اذان ہی کی جگہ پر  کہے جارہے ہیں ، جیساکہ مؤطا امام مالک میں ہے:

قال مَالِكٌ؛ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ جَاءَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُؤْذِنُهُ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَهُ نَائِماً. فَقَالَ: الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ. فَأَمَرَهُ عُمَرُ يَجْعَلُهَا فِي نِدَاءِ الصُّبْحِ[13].

’’امام مالک﷫  فرماتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ مؤذن حضرت عمر بن خطاب﷜کے پاس  نماز فجر کی جماعت کا وقت ہونے کی اطلاع دینے کے لیے آیاتو دیکھا کہ وہ سو رہے ہیں ، تو اس نے کہا : الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، تو حضرت عمر ﷜ نے فرمایا: اسے فجر کی اذان ہی میں کہا کرو‘‘  ۔

 لہٰذا اگر کوئی شخص گلی محلے میں چل پھر کر اذان کے کلمات دہرائے یا اس  سے ملتے جلتے کلمات کہے  تو یہ بدعت ہے  ۔ البتہ اذان کے بعد  سستی  کرنے والوں کو تنبیہ کرنے میں  حرج نہیں ہے۔والله أعلم بالصواب.

 مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  مفتی حافظ  عبد الستار حماد ﷾                      فضیلۃ الشیخ  مفتی محمد شفیق مدنی  ﷾

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  عبد الرحمن یوسف مدنی ﷾                             فضیلۃ الشیخ  قاری عبد الحلیم بلال ﷾

 فضیلۃ الشیخ  ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد   ﷾                           فضیلۃ الشیخ مفتی عبدالخالق ﷾    

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی ﷾                               فضیلۃ الشیخ محمد ادریس اثری ﷾

 

[1]         الدر المختار وحاشية ابن عابدين :2/ 340

[2]         سنن  ابو داؤد:1989، صحیح

[3]         مسند احمد :12246 ، سنن ابی  داود:2504 ، صحیح

[4]         https://alshatiby.org/index.php?s=blog&id=8

[5]         سنن الترمذی :2647، امام ترمذی نے اسے حسن غریب کہا ہے ۔

[6]         سنن ابن ماجہ :227، زوائد میں اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہاہے ۔

[7]         صحيح البخاری :604، صحيح مسلم:377

[8]         سنن ابو داود:538، حسن

[9]        شرح سنن ابو داؤد، دارالسلام (1/438):538

[10]    سنن ابو داؤد:494، حسن صحیح

[11]       صحيح بخاری:644، صحيح مسلم :651

[12]       سورة النور: 55، 56

[13]       موطأ  امام مالك ، کتاب الصلاة، باب ماجاء فی النداء للصلاة: 232، و سنده منقطع

اہل تشیع کو اس حدیث سے یہ غلطی لگی اور انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ (الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ) کے الفاظ حضرت عمر ﷜  نے اذان میں داخل کیے ہیں ۔حالانکہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ کے دور سے اور آپ ﷺْ کے  حکم سے   اذان فجر میں کہے  جا رہے تھے ۔[ سنن أبی داود :500]