منہجِ سلف کے راہ نما اصول و اقدار

منہجِ سلف کے راہ نما اصول و اقدار

حمد و صلاۃ کے بعد

أعوذ بالله من الشیطن الرجیم ، بسم الله الرحمن الرحیم

﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًاۙ۰۰۷۰يُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا۰۰۷۱﴾ [الْأَحْزَابِ: 70،71]

شاعر نے کہا تھا :

المتَّقونَ قَومٌ فَعَلوا خَيْرًا فَعَلَوا            وعَلى دَرَجِ العُليا دَرَجوا

و  لَهُم   في   الدُّنيا   فيها   أَرَجٌ                  تَحيا و  تَعيشُ  بِها  المُهَجُ

’’پرہیزگار وہ لوگ ہیں جنہوں نے نیکیاں کیں اور اعلیٰ مراتب کی سیڑھیوں پر چڑھ گئے

اور ان کے لیے دنیا میں بھی خوشبو ہے۔جس خوشبو سے دل زندہ اور روحیں تروتازہ رہتی ہیں‘‘۔

اس پرفتن دور میں راہ حق کی تلاش ضروری ہے!

اے مؤمنو کی جماعت!

اس دور میں جب دنیا فتنے اور بے چینی سے بھری ہوئی ہے، آزمائشوں اور جھگڑوں سے معمور ہے، انسان کو ضرورت ہے کہ وہ نجات کا راستہ تلاش کرے۔ چنانچہ ہر دانشمند، ہوشیار اور عقل مند کو ایک روشن طریقہ درکار ہے جس سے وہ راستہ پہچان سکے؛ تاکہ وہ کوتاہ فہمی  سے بچ سکے، درست درجے تک پہنچے اور سالکین کے مدارج میں ترقی کرتے ہوئے رب العالمین کی رضا حاصل کر سکے۔یہ کام نا ممکن ہے ،جب تک آدمی اس طرح کے مضبوط ایمان،صحیح عقیدہ اور درست منہج کا حامل نہ ہو، جیسا  عقیدہ و منہج ہمارے سلف صالحین ﷭ کا تھا ۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود ﷜سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ[3].

’’سب سے بہتر ین  زمانہ میرا  زمانہ ہے، پھر جو ان کے بعد  ہیں، پھر جو ان کے بعد آئیں گے‘‘۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ﷜نے فرمایا:

مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ، أَبَّرَهَا قُلُوبًا، وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا، قَوْمٌ اخْتَارَهُمُ اللهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ صلّى الله عليه وسلم وَنَقْلِ دِينِهِ، فَتَشَبَّهُوا بِأَخْلَاقِهِمْ وَطَرَائِقِهِمْ فَهُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانُوا عَلَى الْهُدَى الْمُسْتَقِيمِ[4].

’’جو شخص کسی کا طریقہ اختیار کرنا چاہتا ہو، اسے ان کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ،جو وفات پا چکے ہیں کیونکہ جو زندہ ہیں وہ فتنوں  سے محفوظ نہیں۔فوت شدگان سے مراد، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں ؛ جو قلبی طور پر سب سے پاکیزہ،علمی طور پر سب سے پختہ اور  کم ترین تکلف سے متصف ہیں۔ صحابہ کرام ہی وہ جماعت ہیں ،جسے اللہ عزوجل نےرسول اللہ  ﷺ کی صحبت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے  منتخب فرمایا،چنانچہ انہی کے طریقہ کار کو اپناؤ کیونکہ وہ سیدھی راہ پر ہیں۔‘‘

امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز ﷫نے فرمایا:

«سَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُلَاةُ الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِهِ سُنَنًا، الْأَخْذُ بِهَا اتِّبَاعٌ لِكِتَابِ اللهِ تَعَالَى...[5].

’’رسول اللہ ﷺ نے ایک طریقہ جاری فرمایا اور آپ کے بعد خلفاء نے بھی اسے اپنایا۔   سنت کے اس طریقہ کار کو اختیار کرنا دراصل کتاب اللہ کی اتباع ہے۔‘‘

 لہٰذا اس سنت میں تغیر پیدا کرنا یا اس کے خلاف کسی عمل کا سوچنا ،مخلوق میں سے کسی کے لیے  روا نہیں ہے۔ چنانچہ جو سنت کی راہ پر چلے گا،وہی ہدایت یافتہ ہو گا اور جو اس سنت کے ذریعہ نصرت چاہے گا، وہی منصور ہو گا اور جو اسے چھوڑ دےگا اور اہل ایمان سے ہٹ کرکسی دسرے  راستہ کو اختیار کرے گا، اللہ عزوجل بھی اس کے اختیار کردہ راستے پر اسے چھوڑ دے گا اور اسے جہنم میں داخل کرے گا، جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔

امام مالک ﷫سے صحیح سند سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا:

لن يصلح أمر آخر هذه الأمة إلا بما صلح به أولها[6].

 ’’اس امت کے آخری حصے کی اصلاح بھی ، اسی سے  ہو گی ،جس سے اس کے ابتدائی حصے کی اصلاح ہوئی تھی‘‘۔

اے اہل اسلام !

 جو شخص بھی  ہمارے سلف صالحین کے منہج پر غور کرے گا، وہ چند قیمتی اصول اور نمایاں اقدار ملاحظہ کرے گا، یہی اقدار اور اصول گویا منہج سلف کی برتر خصوصیات ہیں، جو کسی دوسرے منہج میں موجود نہیں  ہیں:

پہلا اصول ؛ توحید خالص کا اہتمام کرنا

منہج سلف کا سب سے پہلا اصول  ہے:اللہ ہی  کےلیے  توحید خالص  کا اہتمام کرنا۔ جس کا کوئی شریک ہے، نہ سہیم،  کوئی  مثیل ہے نہ نظیر! فرمان  رب العالمین ہے:

 ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۰۰۱۱﴾ [الشورى: 11]

’’ اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سب سننے والا اور سب دیکھنے والا ہے‘‘۔

 چنانچہ کسی بت کی پوجا نہیں کی جائے گی، نہ کسی قبر کی پرستش ہو گی، نہ کسی  مزار کا قصد کیا جائے گا اور نہ تقرب کی غرض سے مردوں کو پکارا جائے گا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ﴾ [الزمر: 3]

’’خبردار! خالص دین صرف اللہ  ہی کے لیے ہے‘‘۔

قول و عمل میں اخلاص، توحید کی چوٹی ہے۔فرمان رب العالمین ہے :

 ﴿وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ حُنَفَآءَ ﴾ [البينة: 5]

’’اور انھیں یہی حکم دیا گیا کہ وہ  مخلص اور یکسوہوکر  اللہ ہی کی عبادت کریں‘‘۔

اور مخلص اہل توحید اپنے رب کو آخرت میں کھلی آنکھوں دیکھیں گے؛اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 ﴿وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ۰۰۲۲ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ۰۰۲۳﴾ [القيامة: 22-23]

’’ اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے ،اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے ‘‘۔

صحیحین میں جریر بن عبداللہ ﷜سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:

خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ البَدْرِ، فَقَالَ:إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لاَ تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ[7].

’’رسول اللہ ﷺ چاند کی چودھویں رات ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: قیامت کے دن تم اپنے رب کو  ضرور دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی‘‘۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنے چہرۂ کریم کے دیدار سے نوازیں!

دوسرا اصول ؛ قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا

منہج سلف  کے اصول اور  اقدار میں سے ایک یہ ہے کہ ہر چھوٹی بڑی چیز میں قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا؛جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

 ﴿ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًاؒ۰۰۵۹﴾ [النساء: 59]

’’ پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے  بہت زیادہ اچھا ہے‘‘۔

علمائے سلف کے نزدیک قرآن ،اللہ کا نازل کردہ کلام ہے، مخلوق نہیں ہے۔ارشاد ربانی ہے:

﴿ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًاۚ۰۰۲۳﴾ [الإنسان: 23]

’’بے شک ہم نے آپ پر قرآن کو بتدریج نازل کیا‘‘۔

وہ متشابہ کو محکم کی طرف اور مجمل کو مبیّن کی طرف لوٹاتے  تھے۔ نصوص کے ظواہر اور ان کے مقاصد کے درمیان اور عقل و نقل کے درمیان ہم آہنگی پیدا  کرتے تھے ۔ یہ ان کے منہج کا بنیادی اصول تھا۔ چنانچہ جو نکتہ، قرآن و سنت کے موافق ہوتا اسے مانتے اور جو ان کے خلاف ہوتا اسے رد کردیتے تھے۔ نہ وہ نص  صحیح سے ہٹتے، نہ ہی اسے خواہش یا عقل سے ٹکراتے اور نہ  وحی کی نصوص پر عقل کو حاکم بناتےتھے۔

 قرآن و سنت ان کے نزدیک وہی شیریں وادی ہے ،جس سے ہر پیاسا سیراب ہوتا ہے اور  ہدایت کا ہر طالب ان کی طرف رجوع کرتا ہے تاکہ گمراہی اور بد بختی کا شکار نہ ہو !

كُنْ في أُمورِكَ كلِّها متمسِّكًا  بالوَحيِ لا بزَخارِفِ الهَذَيانِ

وانصُرْ كِتابَ اللهِ والسننَ التي          جاءت عنِ المبعوثِ بالفُرقانِ

’’اپنے تمام معاملات میں وحی (قرآن و سنت) کو مضبوطی سے تھامے رہو،نہ کہ لغویات  کی ملمّع سازی کو ۔اور کتاب  اللہ اور سنتوں کی مدد و نصرت کرو،جو فرقان (حق و باطل کے بیچ فیصلہ کرنے والے) نبی ﷺ کے ذریعے  پہنچی ہیں‘‘۔

تیسرا اصول ؛ علم و معرفت پر متوجہ ہونا

منہج سلف کا ایک عظیم اصول ، علم اور معرفت پر متوجہ ہونا بھی ہے۔ ہمارے جوطلبہ اپنا تعلیمی سال شروع کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ علم کی قدر و قیمت کو محسوس کریں۔ اور  ہمارے اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے تدریسی فرائض میں  اسلامی اقدار  اور فکری شعور کے فروغ پر زور دیں۔

چوتھا اصول؛ جماعت اور امامت کو لازم پکڑنا

 جماعت اور امامت کو لازم پکڑنا یعنی ان کے احکام سننا اور اطاعت کرنا، یہ سلف صالحین کے منہج کا نمایاں شعار بلکہ اس کا روشن مینار ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا﴾ [آل عمران: 103]

’’اور  سب مل کر  حبل اللہ کو مضبوطی سےتھام لو اور فرقوں میں نہ پڑو‘‘۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ﷜نے فرمایا: ’’حبل اللہ سے مراد جماعت ہے‘‘[8]۔

حضرت عبداللہ بن عمر ﷠سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَنْ تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى الضَّلَالَةِ أَبَدًا، فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ يَدَ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ[9].

’’میری امت  گمراہی پر جمع نہ ہوگی؛چنانچہ تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے‘‘۔

عبداللہ بن مسعود ﷜نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

إن الذي تكرهون في الجماعة خير من الذي تحبون في الفُرقة[10].

’’بلاشبہ ناپسندیدہ چیزوں کے ساتھ جماعت  میں رہنا بہتر ہے کہ تم فرقے میں پڑ کر پسندیدہ چیزیں حاصل کرلو ‘‘۔

اور امام طحاوی ﷫نے فرمایا:

وَنَرَى الْجَمَاعَةَ حَقًّا وَصَوَابًا، وَالْفُرْقَةَ زَيْغًا وَعَذَابًا[11].

’’ہم جماعت کو حق اور درست سمجھتے ہیں جبکہ تفرقے کو گمراہی اور عذاب‘‘۔

اہل اسلام  کے حکام اور  ائمہ کےلیے  دعا کرنا بھی لزوم جماعت میں شامل ہے۔امام احمد﷫نے فرمایا:

لو أعلم أن لي دعوة مستجابة لصرفتها للإمام[12].

’’مُجھے اگر معلوم ہو جائے کہ میری ایک دعا قبول ہو گی،تو  میں اسے حاکم کے لیے مخصوص کردیتا‘‘۔

 میرے ایمانی بھائیو!  صحیح عقیدہ کے حاملو!  واضح منہج کے رکھوالو!

جماعت کی عظمت اور باہمی الفت کو محسوس کرو؛کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

 ﴿وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِيْحُكُمْ ﴾ [الأنفال: 46]

’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو  اور آپس میں  اختلاف نہ کرو،ورنہ بزدل ہو جاؤ گےاور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘۔

یہ ہے اسلاف کا روشن منہج، ان کا درخشاں راستہ، سب سے اعلیٰ طریقہ، نہ حزبیت، نہ عصبیت، نہ فرقہ بندی ، نہ مسلک پرستی!

سلف کا منہج اپنی فطرت میں ہمہ وقت ترو تازہ رہنے والا ہے، اس کی بنیاد وہی نظریہ ہے، جو اسلام کے احکام اور مقاصد کے بالکل مطابق ہے۔ یہ کسی فرد، کسی جماعت یا کسی ملک کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ یہ  ایک عالمگیر دعوت ہے، ظاہر و باطن میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع کےلیے ، صحابہ کرام کی اقتدا  کے لیے ، بدعات و خرافات سے اجتناب کے لیے ، نفس پرستوں اورگمراہوں کی مخالفت کےلیے !۔ رسول اللہ ﷺ سے  سچی محبت یہ ہے کہ آپ کی ہدایت اور  سنت کی پیروی کی جائے؛جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 ﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ﴾ [آل عمران: 31]

’’کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو  تو میری تابعداری کرو ،اللہ تعالی خود تم سے محبت کرے گا اور تمھارے گناہ بخش  دے گا‘‘۔

            تَمَسَّكْ بِحَبْلِ اللهِ وَاتَّبِعِ الْهُدَى      لَا   تَكُنْ   بِدْعِيًّا   لَعَلَّكَ   تُفْلِحُ

وَدِنْ بِكِتَابِ اللهِ وَالسُّنَنِ الَّتِي                 أَتَتْ عَنْ رَسُولِ اللهِ تَنْجُ وَتَرْبَحُ

’’اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھامے رہو اور ہدایت کی پیروی کرواور بدعتی نہ بنو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔اللہ کی کتاب اور اُن سنتوں کو دین بناؤ،جو رسول اللہ ﷺ سے آئی ہیں،  (اسی سے ) نجات پاؤ گے اور فائدہ اٹھاؤ گے‘‘۔

پانچواں اصول؛ مشاجرات صحابہ کرام پر خاموش رہنا

منہج سلف کا ایک عظیم اصول یہ ہے؛ کہ تمام صحابہ کرام ﷢سے ہم  راضی رہیں، ان پر طعن نہ کریں، ان کے باہمی معاملات میں خاموش رہیں اور اہلِ قبلہ میں سےکسی کو بھی کبیرہ گناہ کے سبب کافر قرار نہ دیں ،جب تک کہ وہ اسے حلال نہ سمجھتا ہو !          شاعر نے کہا تھا:

وَقُلْ خَيْرَ قَوْلٍ فِي الصَّحَابَةِ كُلِّهِمْ                  وَ لَا  تَكُنْ طَعَّانًا  تَعِيبُ وَ تَجْرَحُ

فَقَدْ  نَطَقَ  الْوَحْيُ  الْمُبِينُ  بِفَضْلِهِمْ               وَفِي الْفَتْحِ آيٌ لِلصَّحَابَةِ تُـمْدَحُ

’’اور کہو تمام  صحابہ کے بارے میں بہترین بات اور طعنہ زَن نہ بنو کہ عیب لگاؤ اور زخم پہنچاؤ۔کیونکہ واضح وحی ان کے فضائل کے ساتھ بول چکی ہےاور سورۂ فتح میں صحابہ کی  مدح  میں کئی آیات ہیں‘‘۔

خبردار! اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ کے بندو! اور  سلف کے منہج کو تھامے رکھو تاکہ کامیاب ہو جاؤ اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹ سکو۔

﴿وَاَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۰۰۱۵۳ ﴾ [الأنعام: 153]

’’اور یقیناً یہی میرا رستہ ہے ،جو سیدھاہے،لہٰذا اسی راہ  پر چلواور دیگر رستوں پر مت چلو،ورنہ وہ تمھیں اللہ کی راہ سے ہٹا دیں گے۔اسی کا تمھیں اللہ نے تاکیدی حکم دیا ہےتاکہ تم پرہیز گاری اختیار کرو‘‘۔

منہج سلف سے وابستگی میں ہی  عافیت ہے۔

اے اہل اسلام!

ہمارے اس  زمانے میں، سچ اور جھوٹ خلط ملط ہو گئے ہیں۔  قرآن و سنت اور سلف صالحین کے منہج سے ہٹانے والی چیزیں  بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ شبہات، دھوکہ پر مبنی الفاظ اور گمراہ کن اصطلاحات عام ہو چکی  ہیں ۔ اکثر لوگ صرف ظاہری نمود  و نمائش پر اکتفا کر بیٹھے ہیں۔اس وقت کہ جب سلف کے طریقے پر قائم لوگوں پر طعن و تنقید بڑھ گئی ہے، تب لازم ہے کہ سلف صالحین کے منہج پر جمے رہو۔ باطل کی کثرت دیکھ کر دھوکہ نہ کھاؤ اور حق کے راستے پر گامزن تھوڑےمسافروں کو دیکھ کر تنہائی محسوس نہ کرو۔ ان کے اصول و اقدار کو مضبوطی سے تھامے رکھو تاکہ اسلامی اخوت، اسلامی اتحاد قائم ہو، تفرقہ و اختلاف ختم ہو، شدت  پسندی، دہشت گردی اور مسلح جدوجہد سے بچا جا سکے! خواہ اس کا نام  بغاوت ہو  یا انقلاب، یہ امت کو تباہی اور بربادی سے دو چار کرتے  ہیں۔ ان کے قائلین ،نہ اسلام کو نفع پہنچاتے ہیں، نہ کفر کو نقصان دیتے ہیں، نہ دین کی اصلاح کرتے ہیں اور نہ دنیا باقی رکھتے ہیں!!!

مسئلہ فلسطین اجاگر کرنا وقت کی ضرورت ہے!

 ہمیں اس بات پر بھی زور دینا چاہیے کہ مسلمانوں میں باہمی تعاون اور یکجہتی ہواور ان کے مسائل کو اہمیت دی جائے۔ ان مسائل میں سب سے اہم، فلسطین کا مسئلہ ہے۔ یہ مسلمانوں کا عظیم مسئلہ ہے، اس کی ایک دینی اور تاریخی حیثیت ہے۔ ہم سب پر واجب ہے کہ ان کی مدد کےلیے  کوشش کریں اور تمام ممکن اسباب اختیار کریں۔ چنانچہ مہاجرین، محصورین اور بھوک و پیاس کے شکار لوگوں کو سہارا دینا اور ان کی تکلیف دور کرنا ہمارا  دینی اور اخلاقی فرض ہے۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ کثرت سے ان کےلیے  دعا کریں اور ایک دوسرے کو اس پر ابھاریں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اہل اسلام کے مسائل کی پرواہ نہیں کرتا، وہ ان میں سے نہیں ہے!

آخر پر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حرمین شریفین کو ہمیشہ توحید کا گھر، سنت کا منارہ اور حقیقی سلفیت کا شعار  بنائے رکھے۔دیگر تمام اسلامی ممالک کو ہرقسم کے شر اور نقصان سے محفوظ  فرمائے۔ دشمن کی سازشوں اور حملہ آوروں کی برائیوں سے بچائے۔ یقیناً وہ دعا سننے والا، اور وہی قبول کرنے والا ہے!

 

[1]   شیخ عبدالرحمن السدیس امام و خطیب حرم مکی نے  یہ خطبہ  خانہ کعبہ میں ماہ ستمبر 2025 کے آغاز میں ارشاد فرمایا۔

[2]   فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور

[3]   صحيح  بخاری : 2652

[4]   حلية الأولياء لأبی نعیم الأصفهانی:1/ 306

[5]   الشريعة للآجري (1/ 408):92

[6]   تفسير المنار:  1/ 326

[7]   صحيح بخاری:7436

[8]   التفسير من سنن سعيد بن منصور:(3/ 1084)  520

[9]   المعجم الكبير للطبرانی :(12/ 447) 13623

[10] الاعتصام للشاطبی : 3/ 210

[11] متن الطحاوية بتعليق الألباني:85

[12] دراصل یہ قول فضیل بن عیاضؒ کا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہے : لو كان لي دعوة ما جعلتها إلّافي السلطان. موسوعة مواقف السلف في العقيدة والمنهج والتربية:10/ 560