اجڑتے گھر اور ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ ۲۰۲۶ء
اجڑتے گھر اور ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ ۲۰۲۶ء
اسلام کا تصورِ حقوق العباد، مغربی ہیومن رائٹس کے تصور سے یکسر مختلف ہے۔حقوق العباد کی اساس ’وحی‘، جبکہ ہیومن رائٹس کی بنیاد ’انسانی عقل‘ ، بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے ’انسانی خواہش‘ پر اٹھائی گئی ہے۔عبد خدائے یکتا کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے، اس کے برعکس ہیومن خودمختار اور علی الاطلاق آزاد ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرہ اس وقت اپنی اسلامی اساس اور مغربی یلغار کے مابین کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ اسلامی حدود تحریری طور پر موجود ہیں،لیکن عملاًیکسر معطل۔ عدالتوں کی پیشانیوں پر ’’ ان الله یامربالعدل‘‘ تحریر ہے، لیکن عملاً اسلام کا نظام عدل مکمل طور پر مفلوج۔ان حالات میں اسلام کا خاندانی نظام بلاشبہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارےمعاشرے کا یہ حسین پہلو سیکولرز، لبرلز اور ملحد طبقے کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اورمغربی یلغار کے زیرِ اثر کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے۔اس پر مستزاد ایسے قوانین تشکیل دیے جارہے ہیں، جنہیں بالبداہت رد کرنا تو شاید ممکن نہیں، لیکن ماہرینِ عمرانیات انہیں پاکستانی معاشرے کی اسلامی ساکھ اور خاندانی نظام کے لیے زہر ِقاتل قرار دے رہے ہیں۔
ہمارا خاندانی نظام باہمی ہمدردی، خیر خواہی، وفاداری اور باہمی محبت جیسی مضبوط اساس لیے ہوئے ہے۔ جس کا بنیادی اصول تیسیر (آسانی فراہم کرنا)، عدم حرج (تنگی دور کرنا)، قلتِ تکلیف اور نقصان سے تحفظ ہے۔اسلام کا دیا گیا خاندانی نظام محض قانونی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مضبوط مقدس سماجی اکائی ہے، جس کی بنیاد تقویٰ ہے۔ قرآنِ کریم میں رشتہ داریوں کے احترام اور ان سے متعلق اللہ وتعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا ہے:
﴿وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ﴾ [النساء: 1]
’’اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتوں (کو کاٹنے) سے بچو‘‘۔
گویا ہمارےخاندانی نظام کی بنا اور بقا تقویٰ ہے۔
اسی طرح نکاح اور خاندانی زندگی کا اصل مقصد باہمی محبت ومودت کے ذریعے ایک دوسرےکو سکون اور راحت فراہم کرنا ہے۔
﴿وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً﴾
[الروم: 21]
’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی‘‘۔
یہ "محبت اور رحمت" وہ بنیاد ہے جو خاندان کو کسی بھی تشدد یا بدسلوکی سے دور رکھتی ہے۔مزید یہ کہ اسلام نے خاندان کے ہر فرد کے حقوق اور فرائض متعین کر دیے ہیں تاکہ کوئی کسی پر ظلم نہ کر سکے۔
﴿ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ﴾ [البقرة: 228]
’’اور ان عورتوں کےبھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے حقوق ہیں بھلے طریقے کے ساتھ، البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے‘‘۔
میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے لباس قرار دے کر انتہائی بلیغ تمثیل ذکر کی گئی ہے۔
﴿ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾ [البقرة: 187]
’’وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس کی حیثیت رکھتے ہو‘‘۔
لباس کا کام پردہ پوشی، حفاظت ، زینت اور سکون مہیا کرنا ہے ، اسی طرح اسلامی خاندانی نظام میں میاں بیوی ایک دوسرے کے رازوں کے امین، کمزوریوں کے محافظ اور ایک دوسرے کی شخصیت کے لیے باعثِ سکون و زینت ہوتے ہیں۔ لہٰذا میاں بیوی کوبھی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو ذہنی اذیت، نفسیاتی بدسلوکی اور ہر طرح کی بداخلاقی سے محفوظ رکھیں۔ پس جو شریکِ حیات ایک دوسرے کے لیے ’’لباس‘‘بن جاتے ہیں، وہاں خوف اور بے اعتمادی کی جگہ صبر، شکر اور دائمی سکون لے لیتا ہے۔
گھر ایک ادارہ ہے جو ایک سسٹم کے تحت چلتا ہے اور سسٹم کے لیے ضروری ہے کہ ایک سربراہ ہو اور باقی اس کی اطاعت کریں ، لہٰذا گھر کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے خالق کائنات نے مرد کو سربراہ بنایا ہے :
﴿اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ﴾ [النساء: 34]
مرد عورتوں پر ذمہ دار اورمنتظم ہیں۔
لیکن مردوں کو مطلق العنان نہیں چھوڑا بلکہ انہیں عورتوں سے بہتر طرزِ زندگی اختیار کرنے کا حکم دیا :
﴿وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾ [النساء: 19]
’’اور ان عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو‘‘۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي[1].
’’تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہتر ہے ،اور میں اپنے اہل خانہ کےساتھ تم میں سب سے بہتر سلوک کرنے والا ہوں ‘‘۔
ایک موقع پر جب رسول اکرم ﷺ سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی بیویاں بھی تھیں۔ایک غلام انجشہ نے اونٹوں کو تیز چلانے کے لیے حدی (اشعار پڑھنے)شروع کی تو اونٹ بھاگنے لگے، تو آپ ﷺ نے عورتوں کے نازک مزاج ہونے کی وجہ سے انہیں شیشوں سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا :
«رويدك يا أنجشة، لا تكسر القوارير»[2]
’’ انجشہ ! آہستہ چلاؤ ، ان آبگینوں کو توڑ نہ دینا (یعنی اونٹوں دوڑانے سے عورتوں کو نقصان نہ ہو)‘‘۔
اسلام کے خاندانی نظام میں ہی نہیں، بلکہ بالعموم معاشرت کا ایک اصول یہ بیان کردیا گیا ہے کہ اپنے سے چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں کی توقیر کی جائے۔
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيرِنَا[3].
’’وہ ہم میں سے ہیں جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کا احترام نہیں پہچانتا‘‘۔
یہ حکم جہاں انسان کی امارگی کے سامنے بند باندھتا ہے وہاں کِبر و نخوت کی نفسیات کا بھی شافی علاج ہے۔
چونکہ ’’ظلم‘‘ کی کوئی صنف نہیں ہوتی؛ ظالم ظالم اور مظلوم مظلوم ہوتا ہے ، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔اسلامی خاندانی نظام کی مضبوطی اس بات میں ہے کہ وہ طاقتور کو ظلم سے روکتا اور کمزور کو سہارا دیتا ہے۔ ناحق اذیت رسانی پر کچھ یوں وعید سنائی گئی ہے:
﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِيْنًاؒ۰۰۵۸﴾[الاحزاب: 58]
’’اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی گناہ کےستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے‘‘۔
اسلامی تعلیمات جہاں جسمانی اذیت سے ممانعت کی تلقین کرتی ہیں، وہاں ذہنی و نفسیاتی اور ہر طرح کی قولی و زبانی تکلیف سے بھی روکتی ہیں، بلکہ مسلمان کی تو تعریف ہی یہ کی گئی ہے:
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.[4]
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔
سورۃ الحجرات میں ہر طرح کی تذلیل کی ممانعت کردی گئی ہے۔یہ تذلیل تمسخر کی صورت میں ہو یا لعنت و ملامت کی شکل میں، برے القابات کی صورت میں ہو یا طعنہ زنی کی شکل میں،غیبت کی صورت میں ہو یا بہتان ، ٹوہ میں رہنا ہو یا جاسوسی کرنا، منہ پر ہو یا عدم موجودگی میں ہر اعتبار سے کسی کو اذیت دینا جائز نہیں۔ فرمایا:
﴿اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ وَ مَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۰۰۱۱﴾ [الحجرات :11]
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کوئی قوم کسی قوم سے مذاق نہ کرے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ کوئی عورتیں دوسری عورتوں سے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ اپنے لوگوں پر عیب لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں کے ساتھ پکارو، ایمان کے بعد فاسق ہونا برا نام ہے اور جس نے توبہ نہ کی سو وہی اصل ظالم ہیں‘‘۔
تکریم انسانیت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ انسان ہر طرح کے جسمانی ،ذہنی ،جنسی اور مالی تشدد سے محفوظ رہے۔
یوں تو انسانی حقوق کی پامالی پر سزائیں قوانین میں درج ہیں، لیکن گھریلو سطح پر انہیں بطور ِ خاص انسداد و تحفظ برائے گھریلو تشدد ایکٹ، 2026" [Domestic Violence (Prevention and Protection) Act, 2026] کی صورت میں نافذ کیا گیا ہے۔جو کہ اب پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ۲۷۔ جنوری ۲۰۲۶ء کو صدرِ پاکستان کے دستخطوں کے ساتھ قانون کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔یہ قانون اگرچہ فی الوقت وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے لیے ہے، لیکن پورے ملک میں اس کا نفاذ کچھ دور محسوس نہیں ہوتا۔اس قانون کے مطابق گھریلو تشدد کی بعض شکلوں کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل 2012-13 اور پھر 2020-21 میں بھی اس نوعیت کے قوانین آچکے ہیں۔ ان میں کیا ارتقا ہوا ہے، اس پر الگ سے ایک مضمون کی ضرورت ہے، فی الوقت حالیہ پاس ہونے والے ایکٹ پر مختصر تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔
قانون کا دائرہ کاراور اس کی ہمہ گیریت:
اس قانون کےمطابق گھریلو زندگی میں کسی بھی شخص کے حقوق متاثر ہوں تو وہ اس قانون سے مستفید ہوسکے گا، چاہے وہ عورت ہو یا مرد، بچہ ہو یا بزرگ یا کوئی بھی دوسرا شخص۔ شق ۲ (i) میں مذکور ہے:
’’متاثرہ شخص سے مراد کوئی بھی خاتون، مرد، ٹرانس جینڈر، بچہ، کمزور شخص، یا کوئی بھی دوسرا فرد بشمول معذور یا بزرگ شخص ہے، جو مدعا علیہ کے ساتھ گھریلو تعلق میں ہے یا رہا ہے اور جو الزام لگاتا ہے کہ اسے مدعا علیہ کی طرف سے گھریلو تشدد کے کسی عمل کا نشانہ بنایا گیا ہے‘‘۔
اس سے اس پروپیگنڈے کی نفی بہرحال ہوجاتی ہے، جس میں اس قانون کو صرف خواتین تک محدود کہا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون کسی ایک صنف تک محدود نہیں ہے۔ مزید برآں شق ۲ (xxii) کے تحت کمزور شخص کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے:
"کمزور شخص (Vulnerable Person) سے مراد وہ شخص ہے جو بڑھاپے، ذہنی یا جسمانی بیماری، سیکھنے کی (learning)، نفسیاتی و سماجی یا کسی دوسری معذوری، یا کسی اور خاص وجہ سے کمزور ہو۔‘‘
گویا بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیا جانا خلافِ حقیقت ہے کہ اس قانون میں صرف خواتین کو نوازنے کی کوشش کی گئی ہے۔
گھریلو تشدد (Domestic Violence)کا مفہوم:
ایکٹ کے مطابق ’’گھریلو تشدد‘‘ کی تعریف میں ایسے جرائم آتے ہیں جوگھر میں آباد کسی بھی شخص کے لیے خوف یا جسمانی و نفسیاتی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ بشرطیکہ یہ جرائم پاکستان کے دیگر قوانین میں مذکور جرائم کے علاوہ ہوں ۔شق ۳ میں بیان ہوا ہے:
’’گھریلو تشدد سے مراد جسمانی، نفسیاتی اور جنسی بدسلوکی (abuse) کے وہ تمام افعال ہوں گے، سوائے ان جرائم کے جو پاکستان پینل کوڈ یا کسی اور قانون کے تحت بیان کیے گئے ہیں، جو مدعا علیہ کی طرف سے خواتین، مردوں، ٹرانس جینڈرز، بچوں، کمزور افراد یا کسی بھی ایسے شخص کے خلاف کیے جائیں جس کے ساتھ مدعا علیہ کا گھریلو تعلق ہے یا رہا ہے اور جو متاثرہ شخص کے لیے خوف، جسمانی یا نفسیاتی نقصان کا باعث بنیں۔‘‘
شق ۳ (c) میں "نفسیاتی اور زبانی بدسلوکی" کی مزید وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے:
’’نفسیاتی اور زبانی بدسلوکی وہ ہے جہاں متاثرہ فرد تسلسل کے ساتھ مدعا علیہ کے تذلیل آمیز یا توہین آمیز رویے سے دوچار ہو اور اس میں شامل ہے (مگر ان تک محدود نہیں): (i) جنونی حسد (jealousy) کا بار بار اظہار جس سے متاثرہ شخص کی پرائیویسی، آزادی، سالمیت اور سیکیورٹی میں بار بار مداخلت ہو؛ (ii) متاثرہ شخص کی توہین یا تضحیک کرنا؛ (iii) شریک حیات یا مشترکہ گھرانے کے دیگر افراد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکیاں دینا؛ (iv) پاگل پن یا بانجھ پن کے بے بنیاد الزام پر طلاق یا دوسری شادی کی دھمکیاں دینا؛ (v) مشترکہ گھرانے کی کسی خاتون رکن یا کسی بھی رکن کے کردار پر جھوٹا الزام لگانا؛ (vi) متاثرہ شخص کو جان بوجھ کر یا غفلت سے چھوڑ دینا (abandonment)؛ (vii) پیچھا کرنا (Stalking)؛ (viii) ہراساں کرنا؛ اور (ix) بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی اور کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا۔
شق ۳(d) میں جنسی بدسلوکی کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے:
’’جنسی بدسلوکی ‘‘ میں جنسی نوعیت کا کوئی بھی ایسا رویہ شامل ہے جو کمزور شخص یا کسی بھی دوسرے شخص کے وقار کو مجروح کرے، تذلیل کرے، رتبہ گھٹائے یا کسی اور طریقے سے پامال کرے ۔
وضاحت II: اس سیکشن کے تحت مدعی علیہ کے کسی فعل، کوتاہی، ارتکاب یا رویہ کو "گھریلو تشدد" قرار دینے کے لیے کیس کے مجموعی حقائق اور حالات کو مدنظر رکھا جائے گا ۔
جسمانی تشدد اور علیحدگی اختیار کرنا:
ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ میں ہر طرح کے تشدد پر سزا تجویز کی گئی ہے، جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ’’ نشوز ‘‘ کی صورت میں خاوند کا بیوی کونصیحت کرنا، نہ ماننے کی صورت میں عارضی طور پر چھوڑنا اور پھر بھی نہ ماننے کی صورت میں مارنے کا حق تو خود قرآن مجید نے دیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ الّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا۰۰۳۴﴾ [النساء: 34]
’’اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو ، پس اگر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللہ بلند بڑا ہے‘‘۔
گھر بھی ایک طرح کا ادارہ ہے جس کا سربراہ مرد ہوتا ہے اور عورت کو بہرصورت اس کی اطاعت، فرمانبرداری اور وفاداری کرنا ہے۔اور نافرمانی کی صورت میں عورت کو سمجھانے کے لئے سب سے پہلے وعظ ونصیحت کی جانی چاہیے۔ اس کے بعد بھی اگر نشوز، باغیانہ رویہ یا نافرمانی موجود رہے تو اس سے وقتی اور عارضی علیحدگی اختیار کی جا سکتی ہےجو کہ باشعور عورت کے لئے بہت بڑی نصیحت ہوتی ہے۔ اس سے بھی نہ سمجھے تو ہلکی سی مار کی بھی اجازت ہے۔ بشرطیکہ وحشیانہ نہ ہو جیسا کہ جاہل لوگوں کا طریقہ ہے۔ اگر وہ اصلاح کر لے تو پھر راستہ تلاش نہ کرو یعنی مار پیٹ نہ کرو تنگ نہ کرو، یا طلاق نہ دو، گویا طلاق کا مرحلہ تب شروع ہوتا ہے جب کوئی اور چارۂ کار باقی نہ رہے۔
تسلسل کے ساتھ ایذا رسانی: قانون میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ بدسلوکی کو ایک آدھ بار کی بدسلوکی نہیں، بلکہ تسلسل کے ساتھ ذہنی وزبانی اذیت کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔
بار بار حاسدانہ اور توہین آمیز طرزِ عمل کا اظہار: ایسا حاسدانہ اور توہین آمیز رویہ جس سے انسان ذہنی اذیت میں مبتلا ہوجائے اور اس سے متاثرہ شخص کی پرائیویسی، آزادی، سالمیت اور سیکیورٹی میں بار بار مداخلت ہو۔یہاں سوال یہ ہے کہ اس کا تعین کیسے ہوگا کہ جس شخص پر حاسدانہ طرزِ عمل کا الزام لگایا جارہا ہے، آیا وہ واقعی یہ طرزِ عمل حسد یا توہین کی بنا پر اختیار کررہا ہے یا اصلاح کے لیے؟ اگر ایک گھر میں رہنے والے افراد میں باپ اولاد کی منفی سرگرمیوں پر روک لگاتا ہے یا شوہر بیوی کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے تو اس کا تعین کس طرح ہوگاکہ وہ مجرمانہ رویہ رکھتا ہے یا مصلحانہ؟ اگر اس کا رویہ مصلحانہ بھی ہو تو منفی سرگرمیوں پر اولاد اور بیوی اسے پرائیویسی اور آزادی میں مداخلت قرار نہیں دے گی؟اس اعتبار سے کیا باپ ، خاوند ، گھر کے سربراہ یا گھر کےکسی بھی مصلح شخص کے پاس اصلاح کا حق باقی رہے گا یا نہیں؟وہ جب جب گھر میں قائم دیوثیت سے روکے گا اس پر بآسانی ڈومیسٹک وائیلنس کا مقدمہ قائم نہیں کیا جاسکے گا؟
ان سوالوں کا ممکنہ جواب یہ ہوسکتا ہے کہ شق نمبر ۳ کی وضاحت نمبر ۲ میں درج ہے کہ ’’اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا مدعا علیہ کا کوئی فعل، کوتاہی، ارتکاب یا رویہ اس سیکشن کے تحت 'گھریلو تشدد' بنتا ہے، کیس کے مجموعی حقائق اور حالات (Overall facts and circumstances) کو مدنظر رکھا جائے گا‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت صرف ایک واقعے یا باپ یا شوہر کی طرف سے دی جانے والی ایک نصیحت کو بنیاد نہیں بنائے گی، بلکہ یہ دیکھے گی کہ کیا یہ رویہ واقعی اصلاح کے لیے ہے یا اس کا مقصد تذلیل کرنا اور ذہنی اذیت دینا ہے۔ اور یہ کہ قانون میں لفظ’’Abuse ‘‘استعمال ہوا ہے، جو کہ اصلاح اور خیرخواہی سے یکسر مختلف ہے۔اصلاح کا مقصد بہتری لانا اور خاندان کو برائی سے بچانا ہوتا ہے۔ اس میں لہجہ ناصحانہ اور مقصد شخصیت کی تعمیر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بدسلوکی کا مقصد تذلیل، تحقیر اور دوسرے کی عزتِ نفس کو کچلنا ہوتا ہے۔ اگر باپ یا شوہر اپنی اولاد یا گھر والی کو کسی بری عادت سے روکتا ہے تو وہ اس کا قانونی اور شرعی حق ہے، لیکن اگر وہ اس بہانے اسے مستقل گالیاں دیتا ہے یا نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے، تو وہ بدسلوکی کے زمرے میں آسکتا ہے، لیکن باپ، شوہریا گھر کے سربراہ کے خلاف تھانے کچہری اور عدالتوں کا رخ کرنافی نفسہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، کیونکہ چھوٹے موٹے گھریلو مسائل گھر اور خاندان کی سطح پر ہی حل ہونے چاہییں۔ ان مسائل کو تھانے کچہری لے جانے سے مسائل مزید گھمبیر ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ایک جواب تو یہ ہے کہ قانون میں جنونی حسد (Obsessive jealousy) کا ذکر ہے ۔ جنونی حسد وہ ہے جو بلاوجہ شک کی بنیاد پر ہو اور جس کا مقصد محض دوسرے کو اذیت دینا ہو۔اگر شوہر یا باپ کے پاس اپنی نگرانی کے لیے معقول وجوہات موجود ہوں، تو اسے قانوناً "حاسدانہ طرزِ عمل" ثابت کرنا ممکن نہ ہوگا۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تعین کیسے ہوگا؟، تو عدالت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا ’’متاثرہ شخص‘‘ اس قانون کو اپنی من مانی آزادی حاصل کرنے کے لیے بطور ڈھال تو استعمال نہیں کر رہا۔ نیز محض الزام کافی نہیں، بلکہ مدعی پر یہ لازم ہوگا کہ وہ ثابت کرے کہ مدعا علیہ کا رویہ واقعی تذلیل آمیز تھا۔
بلاشبہ یہ معاملہ عدالت کے سامنے پیش ہونے اور وہاں ثابت کیے جانے سے متعلق ہے، لیکن اس سے پہلے محض شکایت کی بنیاد پر پولیس جو کارروائی کرے گی اور اس کے نتیجے میں ایک شریف انسان کی جو تذلیل ہوگی، اس سے مدعا علیہ کو تحفظ کیسے حاصل ہوگا؟ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی ہدایات کی روشنی میں گھریلو معاملات کو براہِ راست قانون کی گرفت میں لانے سے پہلے خاندان کے معزز افراد اور مذہبی ماہرین پر مشتمل ایک ثالثی (Mediation) کمیٹی قائم کی جائے، جو مدعا علیہ کے ’’مصلحانہ‘‘ اور ’’مجرمانہ‘‘ رویے کے درمیان واضح فرق کر سکے۔ بہر صورت یہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں، کیونکہ گھریلو مسائل عموماً تھانے، کچہری اور عدالتوں میں جا کر حل ہونے کے بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔
طلاق یا دوسری شادی کی دھمکیاں اور ہراساں کرنا:
اسلام میں کسی بھی مسلمان کو خوفزدہ کرناجائز نہیں ہے۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا.[5]
’’کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو خوفزدہ کرے‘‘۔
اگر منفی بات کی اصلاح مقصود ہو تو اس کے لیے نرمی، پیار، محبت اور خاندان یا دیگر مصلح افراد کو درمیان میں ڈال کر مسئلےکو سلجھانے کی کوشش ہونی چاہیے۔ ویسے بھی دھمکی حسنِ معاشرت کے منافی ہے۔ گھر کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے دھمکی آمیز لہجہ کسی صورت قرینِ مصلحت نہیں۔ مزید برآں بانجھ پن یا پاگل پن جیسے الزامات یا کسی سطح پر حقیقت بھی ہوتو بھی اس پر طعنہ دینا یا طلاق یا یادوسری شادی کی دھمکی دینا انتہائی بداخلاقی ہے۔اگرچہ طلاق اور دوسری شادی شرعاً جائز ہیں، لیکن انہیں کسی کو ذہنی اذیت دینے، بلیک میل کرنے یا ذلیل کرنے کے لیے بطور ’’ہتھیار‘‘ استعمال کرنا انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہے۔
الزام لگانا
اسلام میں کسی کی شخصیت پر جھوٹا الزام لگانا گناہِ کبیرہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ۰۰۴﴾ [النور: 4]
’’جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ پیش کرسکیں تو انھیں اَسّی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں‘‘۔
اگر کوئی خاوند اپنی بیوی پر الزام لگاتا ہے تو اس کے لیے لعان کی صورت رکھی گئی ہے جس میں وہ پانچ قسمیں کھا کر اپنا مقدمہ ثابت کرسکے گا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے برائی ہوتے دیکھی ہے۔ اس کے قسمیں اٹھانے سے عورت پر حد واجب ہوجائے گی الا یہ کہ وہ بھی پانچ قسموں کے ساتھ دعوے کا رد کردے۔ اس کی مزید تفصیل سورۃ النور آیات ۶ تا ۱۰ دیکھی جاسکتی ہے۔
پیچھا کرنا Stalking
ایکٹ میں موجود اس اصطلاح کا مطلب تعاقب کرنا، مسلسل پیچھا کرنا، اس کے راستے میں کھڑے ہونا اور ہراساں کرنے کی حد تک اس کے گرد چکر کاٹنا وغیرہ شامل ہے۔ اسے محض گھورنے تک محدود خیال کرنا درست نہیں۔ہاں البتہ گھورنا مسلسل ہو اور ہراسگی کی حد تک ہو تو وہ بھی کسی صورت Stalking میں آجائے گا۔ اسلام میں بدگمانی اوربے جا تجسس کی ممانعت پہلے سے موجود ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا ﴾
[الحجرات:۱۲]
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بہت سے گمان سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہیں اور جاسوسی بھی نہ کرو‘‘۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا .[6]
’’بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی بڑی ہی جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو، کسی کی جاسوسی مت کرو اور کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ اور حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو،بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو‘‘۔
اہل تقویٰ اور نیک لوگوں کے متعلق بدگمانی اور ان کی جاسوسی کرنے سے منع کیا گیا ہے، البتہ جہاں تک فساق و فجار اور بدکردار لوگوں کی بات ہے تو ان کے شر سے بچنے اور معاشرے کو بچانے کے لیے ان کی طرف سے چوکنا رہنا، ان کی نگرانی رکھنا کچھ غلط نہیں ہے۔ امام قرطبیؒ مذکورہ بالا اآیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
أن الظن القبيح بمن ظاهره الخير لا يجوز، وأنه لا حرج في الظن القبيح بمن ظاهره القبح[7].
’’جس شخص کا ظاہر بھلائی پر ہو، اس کے بارے میں برا گمان رکھنا جائز نہیں ، البتہ جس کا ظاہر ہی برا ہو، اس کے متعلق برا گمان رکھنے میں حرج نہیں ہے‘‘۔
کسی اور کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا
ہمارے بعض احباب نے اسے بھی غلط سمجھا ہے اور قرار دیا ہے کہ اس سے مراد خاندانی نظام کے اندر اگر عورت بوڑھے والدین یا دیگر اہل خانہ سے الگ رہنا چاہے تو مرد اسے باقی لوگوں کے ساتھ رکھنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔یہ قانون میں استعمال ہونے والے الفاظ کا بالکل غلط مفہوم ہے۔ قانون کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
Compelling wife to cohabit with and body other than husband
اس کا سادہ مفہوم عورت کو خاوند کے علاوہ افراد کے ساتھ جنسی اشتراک رکھنے پر مجبور کرنا ہے۔
اسلام میں نکاح کا مقصد عفت اور عصمت کی حفاظت ہے۔ شوہر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کوحجاب اورستر فراہم کرے۔ اسے کسی اجنبی یا غیر محرم کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا دیوثیت کے زمرے میں آتا ہے، جس کی اسلام میں سخت ترین مذمت کی گئی ہے۔اس شق کا مقصد ایسے امور کی روک تھام ہےجہاں بعض اوقات معاشی لالچ یا قرضوں کی ادائیگی کے عوض خواتین کو غلط کاموں یا غیر مردوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اسلام ایسی کسی بھی سرگرمی کو سختی سے منع کرتا ہے۔
اس سے اس خدشے کا بھی ازالہ ہوجاتا ہے کہ ’’اس طرح بوڑھے والدین کا کیا بنے گا؟‘‘ اسلام میں بوڑھے والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ رہنا سعادت ہے۔ اگر کوئی عورت محض والدین کی موجودگی کو بنیاد بنا کر اسےبدسلوکی کہے گی، تو قانون اسے قبول نہیں کرے گا کیونکہ والدین کے ساتھ رہنا پاکستان کے سماجی ڈھانچے اور اسلامی اقدار کا حصہ ہے۔تاہم، اسلامی فقہ کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے ایسی خلوت کا مطالبہ کر سکتی ہے جہاں اس کا ستر محفوظ ہو اور وہ آزادانہ رہ سکے۔ اگر شوہر اسے زبردستی ایسے حالات میں رکھتا ہے جہاں اس کی پرائیویسی پامال ہو رہی ہو، تو وہ شرعاً بھی مطالبہ کر سکتی ہے، مگر اس کا مطلب والدین کو چھوڑنا نہیں بلکہ مناسب رہائش کا انتظام کرنا ہے۔
جنسی تشدد:
ایکٹ کی شق ۳ (d) میں وضاحت ہے کہ جنسی تشدد میں جنسی نوعیت کا ہر ایسا رویہ شامل ہے جو کمزور شخص یا کسی بھی دوسرے شخص کے وقار کو مجروح کرے، تذلیل کرے، رتبہ گھٹائے یا کسی دوسرے طریقے سے پامال کرے۔
اسلامی معاشرت میں ازدواجی تعلق کی بنیاد حیا، باہمی احترام اور پردہ پوشی پر ہے، جسے قرآنِ کریم نے ایک دوسرے کے لیے’لباس ‘ کی خوبصورت تمثیل سے بیان کیا ہے۔ لباس کا اصل مقصد حفاظت، زینت اور عیوب کی پردہ پوشی ہے۔مزید برآں گھر کی آبادی ایک دوسرے کے مزاج کی تفہیم اور پھر اس کے مطابق ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنے سے ممکن ہوتی ہے۔ جب خاوند بیوی ایک دوسرے کے لیے سکون کا باعث ہیں تو اس مقدس رشتے کو صبر وشکر ، ایثار وقربانی اور تسلیم ورضا کے اصول پر استوار ہونا چاہیے۔
مذکورہ شق ایک دوسرے کی تذلیل جیسے رویوں کی روک تھام کی ایک کوشش ہےجو کہ اسی لباسِ تقویٰ اور انسانی تکریم کے تحفظ کی جانب ایک اقدام ہے۔ تاہم اس قانون کے نفاذ میں یہ پہلو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ قانونی مداخلت بذاتِ خود گھر کے تقدس اور رازداری کے اس پردے کو چاک کرنے کے مترادف ہے، جس کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہےہیں۔ لہٰذا اس شق کا اطلاق عدل اور احتیاط کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ یہ ’حیا‘ کے تحفظ کا ذریعہ بنے، نہ کہ اسے مزید مجروح کرنے کا سبب۔مزید یہ کہ ایسی کسی بات کا گھر کی چاردیواری سے باہر نکلنا ہی باعثِ اذیت ہے۔ اس لیے ایسے امور کا تھانے کچہریوں اور عدالتوں میں جانے کے بعد گھروں کا آباد رہنا ممکن نہیں رہے گا۔
تیسرے فریق کی مداخلت:
ایکٹ کی شق ۵(۱) میں بیان ہوا ہے کہ متاثرہ شخص یا متاثرہ شخص کی طرف سے مجاز کوئی دوسرا شخص عدالت میں درخواست پیش کر سکتا ہے۔
اگرچہ قانون تیسرے شخص کو مجاز ہونے کی صورت میں درخواست کا حق دیتا ہے، لیکن خاندانی معاملات میں بیرونی نمائندوں کی شمولیت گھر کی رازداری کو مجروح کرکے رکھ دے گی۔ نیز انسان اپنے گھر کے امور کو زیادہ بہتر جانتا ہے، وہ کبھی ایسی حکمت عملی اختیار کرتا ہے جس سے امور کی اصلاح ہوجاتی ہے، جبکہ تیسرا شخص ان تمام امور سے لاعلمی کی بناء پر معاملے کی صرف ایک جہت دیکھتا ہے جس سے گھر ٹوٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
بیانِ حلفی پر کارروائی:
شق ۷(۲) میں بیان ہوا ہے: ’’اگر عدالت مطمئن ہو کہ درخواست بادی النظر میں (prima facie) یہ ظاہر کرتی ہے کہ جواب دہندہ نے گھریلو تشدد کا ارتکاب کیا ہے یا اس بات کا امکان ہے کہ جواب دہندہ گھریلو تشدد کا ارتکاب کر سکتا ہے، تو وہ متاثرہ شخص کے بیان حلفی (affidavit) یا کسی دوسرے ثبوت یا مواد کی بنیاد پر، سیکشن 8، 9اور 10 کے تحت فراہم کردہ طریقے سے جواب دہندہ کے خلاف حکم جاری کر سکتی ہے‘‘ ۔
کسی شخص کے محض بیان حلفی پر کارروائی کسی طور قرینِ انصاف نہیں۔کیونکہ اس پر مالی بوجھ ڈالنا، بچوں کی حوالگی یا اس پر دیگر پابندیاں عائد کرنااسے نفسیاتی، معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے مجروح کرنا ہے، جس سے عین ممکن ہے کہ وہ گھر کو مزید نہ بچا سکے اور گھر بکھر جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی ٹرائل مکمل ہونے کے بعد کی جائے۔
جھوٹے مقدمات کا تدارک:
ایکٹ کا جھکاؤ واضح طور پر ایک سمت میں دکھائی دے رہا ہے اور وہ کسی بھی صاحبِ شعور سے مخفی نہیں۔ مثلاً اگر کوئی فریق گھر کے تقدس کو پامال کرکے جھوٹی درخواست دائر کردے تو اس پر کیا سزا ہوگی؟ اس حوالے سے قانون بالکل خاموش ہے جو اس کے ایک طرف جھکاؤ کو واضح کرتی ہے ۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا کوئی بھی مقدمہ گھر کی بنیادوں میں دراڑ ضرور ڈال دے گا اور غالب امکان ہے کہ اس کے بعد گھر قائم نہ رہ سکے گا۔
خلاصہ:
- ایکٹ میں موجود اصطلاحات انتہائی مبہم ہیں، جن کا اطلاق مسائل کے حل کے بجائے ان میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
- باپ، شوہر، گھر کے سربراہ یا کسی نیک صفت شخص کے مصلحانہ کردار کو مجرمانہ قرار دینا کچھ مشکل نہیں رہے گا۔
- گھر کے داخلی امور میں پولیس کی مداخلت فی نفسہ تفریق کا سبب ہے۔ اس سے مفاہمت کی راہیں مسدود ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔
- محض بیان حلفی پر کارروائی خاندانوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔
- جھوٹے مقدمے پر ایکٹ میں کوئی سزا بیان نہیں کی گئی جو ایکٹ کے ایک طرف جھکاؤ کی واضح دلیل ہے۔
- بادی النظر میں یہ ایکٹ من چاہی آزادی کے حصول میں معاون دکھائی دیتا ہے۔
- جب میاں بیوی کی نجی گفتگو اور رویے عدالت کے کٹہرے میں زیرِ بحث آئیں گے، تو وہ ’’لباس‘‘ جس کا کام عیوب کو ڈھانپنا تھا، تار تار ہو جائے گا۔ یہ قانون دراصل علاج کے نام پر وہ زہر فراہم کر رہا ہے جو مرض تو شاید ختم نہ کرے لیکن مریض (خاندان) کی موت کا باعث ضرور بن سکتا ہے۔
[1] سنن الترمذی :3895
[2] صحيح البخاری: 6211، صحيح مسلم :2323
[3] سنن الترمذی:1920
[4] صحيح البخاری :10، صحیح مسلم :41
[5] سنن ابی داود :5004
[6] صحيح البخاری:5143، صحیح مسلم :2563
[7] تفسير القرطبی :16/ 332