آہ! مولانا فضل الرحیم اشرفی  ﷫

آہ! مولانا فضل الرحیم اشرفی  ﷫

 

حال ہی میں عالمِ اسلام اور خصوصاً دینی مدارس کی علمی دنیا ایک نہایت متوازن، باوقار اور للّٰہیت سے معمور شخصیت سے محروم ہو گئی؛ مولانا فضل الرحیم اشرفی، مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات محض ایک فرد کی جدائی نہیں بل کہ ایک ایسے علمی منہاج، ادارہ جاتی توازن اور دینی وقار کے ایک روشن باب کے بند ہونے کے مترادف ہے جو شور و غوغا سے دور خاموش خدمت پر یقین رکھتا تھا۔

مولانا مرحوم ایک جلیل القدر علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے وہ معروف عالمِ دین مفتی محمد حسن ﷫ کے فرزند تھے۔ یہ نسبت ان کے لیے محض تعارف کا ذریعہ نہیں تھی بل کہ ایک ذمہ داری اور امانت تھی جسے انھوں نے پوری دیانت اور وقار کے ساتھ نبھایا۔ انھوں نے علمی وراثت کو جمود کا شکار نہیں ہونے دیا اور اسے عصری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھتے ہوئے آگے بڑھایا۔

ان کی علمی و تدریسی تشکیل مدارسِ دینیہ کی اس روایت میں ہوئی جس میں علم، عمل اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ تدریس کے میدان میں ان کی شناخت ایک سنجیدہ، متوازن اور مربی استاد کی تھی ، وہ محض نصاب پڑھانے کے قائل نہ تھے بل کہ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور عملی تشکیل کو مقصد سمجھتے تھے۔

جامعہ اشرفیہ لاہور کے ساتھ ان کی وابستگی محض انتظامی نوعیت کی نہیں تھی؛ انھوں نے بہ طور مہتمم ادارے کی علمی روایت، نظم و ضبط اور مسلکی وقار کو ہر حال میں محفوظ رکھا۔ وہ ادارے کو افراد کے تصادم یا مسلکی کشاکش کا میدان بنانے کے بجاے ایک دعوتی، تعلیمی اور تربیتی مرکز کے طور پر دیکھتے تھے۔

قومی سطح پر بھی ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سمیت مختلف علمی و دینی ذمہ داریوں پر فائز رہے مگر ان تمام مناصب کے باوجود ان کی شخصیت میں نہ تصنع آیا اور نہ نمود و نمایش۔ وہ کم گو، محتاط اور باوقار انداز میں بات کرنے والے عالم تھے، جن کی بات میں سنجیدگی بھی ہوتی تھی اور خیر خواہی بھی۔

مولانا فضل الرحیم اشرفی ؒ کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ آسانی سے پُر ہونے والا نہیں۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ان کے تلامذہ اور تمام وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے؛ آمین۔ ( ادارۂ محدث)