مولانا اصلاحی کا دینی اصطلاحات کے معانی بدلنا
مولانا اصلاحی کا دینی اصطلاحات کے معانی بدلناپروفیسر محمد رفیق صاحبِ ’تدبر قرآنٗ کےخود ساختہ منہج میں ایک بہت بڑا نقص اور گمراہی یہ پائی جاتی ہے کہ وہ صدیوں چلی آتی دینی اصطلاحات کے بالمقامل اپنی اصطلاحات ایجاد کرتے ہیں بلکہ دین کی بنیادی اصطلاحات اور ان کے جو معانی امت کے ہاں صدیوں سے معروف ہیں انہیں بدل کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ اور یہ بھی تعجب ہے کہ وہ ایک طرف قرآنی اور دینی معروف اصطلاحات کے معنی تبدیل کرنے کی وجہ سے منکرین حدیث پر برستے ہیں، ملاحظہ فرمائیں : ’’ جہاں تک قرآن مجید کی مزید مطالعہ
مولانا اصلاحی کی تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘ میں
فکری تضادات و تناقضات قسط 4
مولانا اصلاحی کی تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘ میںفکری تضادات و تناقضات13۔ کیا ائمہ اربعہ کا اتفاق رائے دین میں حجت ہے ؟صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کے فکری تضادات میں یہ بھی ہے کہ وہ کبھی تو ائمہ اربعہ کے متفقہ فقہی مسائل کو دین میں حجت اور واجب العمل قرار دیتے ہیں اور کبھی اس کا صاف انکار کر دیتے ہیں ۔ائمہ اربعہ کی متفقہ فقہی آراء کو دین میں حجت اور واجب العمل قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ ایک انطباق تو وہ ہے جس پر خلفائے راشدین اپنے دور کے اہل علم و تقویٰ کے مشورے کے بعد متفق ہو گئے ہیں ۔ یہ اسلام میں مزید مطالعہ
مولانا اصلاحی کی تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘ میں
فکری تضادات و تناقضات قسط 3
مولانا اصلاحی کی تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘ میںفکری تضادات و تناقضات قسط 3پروفیسر محمد رفیق10۔مرتد کی سزا میں تضاداہل علم جانتے ہیں کہ اسلام میں سنت کی رو سے’’ مرتد کی سزا قتل ہے‘‘ [1] اور اس پر امت کا اجماع واتفاق ہے۔ لیکن صاحبِ ’’تدبر قرآن‘‘ مرتد کی سزا کے بارے میں الجھاؤ(Confusion) کا شکار بھی ہیں اور تضاد بیانی سے بھی کام لیتے ہیں۔کبھی مرتد کو واجب القتل قرار دیتے ہیں اور اس کی تائید میں تورات کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ موسوی شریعت میں بھی مرتد کے لیے قتل ہی کی سزا تھی ۔ پھر پینترا بدل کر کہتے ہ مزید مطالعہ