جنوری 2026ء

مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ کی رحلت

مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ کی رحلت

ڈاکٹر حافظ ابو عمرو [1]                   

 

ماہ نامہ محدث کے ’’وفیات‘‘ کے کالم میں اہلِ علم و فکر کی رحلت پر مختصر تعزیتی شذرات شایع کیے جاتے ہیں تاکہ قارئین کو ان کی وفات کی اطلاع ہو جائے اور ان کے لیے دعا اور اظہارِ افسوس کا موقع مل سکے؛ اس کالم سے محض اظہارِ تعزیت اور مختصر تذکرہ مقصود ہے۔ کسی عالم، مفکر یا محقق کے احوالِ زیست ، علمی آثار، تحقیقی خدمات اور فکر و منہاج کے مفصل  علمی جائزے کے لیے ’’سیر و سوانح‘‘ یا ’’نقد و نظر ‘‘ کے مستقل کالم مخصوص ہیں جن کے تحت ان تمام پہلوؤں کو شرح و بسط اور تحقیق و تفحص کے ساتھ زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ (ادارہ)

عالمِ اسلام کی ایک جلیل القدر علمی شخصیت شیخ عبدالعزیز بن عبداللّٰہ آلِ شیخ نے  23 ستمبر 2025ء کو ریاض میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ عمر کے بیش تر حصے کو انھوں نے علمِ دین کی خدمت، تدریس، افتا اور خطابت کے لیے وقف کیے رکھا۔ ان کا شمار ان رہ نماؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے استقامت، علم اور وقار کے ساتھ امت کی روحانی تربیت اور دینی رہ نمائی کی ذمہ داری نبھائی۔ انھوں نے اپنے علم و فہم اور فکر و تدبیر سے ایک طویل زمانے تک اہلِ علم اور  مسلم امہ کو سہارا دیا۔ ان کی رحلت سے علمی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ آسانی سے پُر ہوتا نظر نہیں آتا۔

شیخ عبدالعزیز بن عبداللّٰہ آلِ شیخ 30 نومبر 1943ء کو مکہ مکرمہ میں ایک ایسے معزز علمی گھرانے میں پیدا ہوئے جو کئی نسلوں سے دین کی خدمت، افتا اور تعلیمِ شریعت کا علَم اٹھائے ہوئے تھا۔ خاندانِ آل الشیخ کی علمی روایت کی بہ دولت ان کے اندر کم سنی ہی سے علم کا ذوق اور دین سے وابستگی کا شعور پیدا ہو گیا۔ ابتدائی برسوں میں انھیں قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور پھر وہ اسی ماحول میں بنیادی دینی متون، عقیدہ اور فقہ کی ابتدائی تعلیم سے آشنا ہوئے۔ گھر کا علمی رنگ، بزرگوں کی تربیت اور قرآن سے ابتدائی شغف نے ان کی شخصیت کا وہ رخ متعین کر دیا جس پر آگے چل کر ان کی پوری علمی زندگی کی بنیادیں استوار ہوئیں۔

شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ بچپن ہی میں جب کہ ان کی عمر سات آٹھ سال تھی، اپنے والد شیخ عبداللّٰہ کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے تھے۔ شیخ کی والدہ، سارہ بنت ابراہیم الجہیمی، نے غیر معمولی محنت اور صبر سے ان کی تربیت کی۔ وہ نہایت دین دار، عبادت گزار اور اپنے بچے کے معاملے میں بے حد مخلص تھیں۔ شیخ کی بینائی بچپن ہی سے کم زور تھی۔ ان کی والدہ کا معمول تھا کہ نمازِ فجر کے وقت انھیں ہر روز مسجد لے کر جاتیں، خود ساتھ بیٹھی رہتیں اور نماز ختم ہونے کے بعد واپس گھر لاتیں۔ اسی مسلسل توجہ اور تربیت نے کم سنی ہی میں ان کے اندر عبادت کا ذوق اور دین سے وابستگی پیدا کر دی جو تمام عمر ان کی شخصیت کا لازمی حصہ رہی۔

1381ھ میں جب ان کی آنکھ کا آپریشن ہوا تو والدہ مسلسل ان کے ساتھ رہیں۔ آپریشن کام یاب نہ ہوا تو بہت رنجیدہ ہوئیں اور معالج سے یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر ممکن ہو تو وہ اپنی ایک آنکھ بیٹے کو دے دیں۔ اس موقع پر مفتیِ اعظم شیخ محمد بن ابراہیم نے ان کی دل جوئی کی اور فرمایا کہ یہ اللّٰہ کا فیصلہ ہے، ہم سب اسی کی تقدیر کے محتاج ہیں۔ والدہ نے نہایت خلوص سے جواب دیا کہ اگر مجھے یقین ہو جاتا کہ میری آنکھ بیٹے کو فائدہ دے گی تو میں فوراً اسے دینے پر آمادہ ہوں۔ وہ شیخ کے ساتھ ہر سال حج میں شریک رہتیں اور انھوں نے چالیس حج ان کے ہم راہ ادا کیے۔ 1436ھ میں سو برس کے قریب عمر پا کر اس دنیا سے رخصت ہو ئیں۔

شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ کی باقاعدہ علمی تربیت ان عظیم اساتذہ کے زیرِ نظر ہوئی جنھوں نے جزیرۂ عرب کی علمی روایت کو اپنے علم، تقویٰ اور تدبر سے جاری رکھا ہوا تھا۔ شیخ محمد بن سنان سے قرآنِ مجید حفظ کرنے کے بعد انھوں نے ۱۳۷۳ھ میں قراءت اور ابتدائی دینی مباحث پڑھے۔ اسی دوران خاندان کے بزرگ اور معروف مفتی سماحۃ الشیخ محمد بن ابراہیم آلِ شیخ کے حلقۂ درس سے وابستگی نے ان کے فکری اور علمی رجحانات کو ایک مثبت سمت عطا کی۔ وہ  ۱۳۷۴ھ سے ۱۳۸۰ھ تک ان کے زیرِ تربیت رہے اور کتاب التوحید، الأصول الثلاثة اور الأربعین النوویة جیسے بنیادی متون باقاعدہ پڑھ کر علمی بنیادوں کو مضبوط کیا۔

بعد کے برسوں میں انھیں شیخ عبدالعزیز بن باز جیسے بلند پایہ محدث اور فقہ و اِفتا کے عظیم المرتبت امام کی صحبت بھی نصیب ہوئی جن سے انھوں نے ۱۳۷۷ھ اور ۱۳۸۰ھ میں علمِ فرائض کے دقیق مباحث سمجھے اور جن کے درس نے ان کے اندر علمی سنجیدگی، مسئلہ فہمی اور فقہی توازن کو نئی جہتیں عطا کیں۔ شیخ نے  ۱۳۷۵ھ اور ۱۳۷۶ھ میں شیخ عبدالعزیز بن عبداللّٰہ الشثری سے عمدة الأحکام اور زاد المستقنع جیسے اہم حدیثی وفقہی کی تحصیل کی۔ ۱۳۷۹ھ میں انھوں نے شیخ عبدالعزیز بن صالح المرشد سے فرائض، نحو اور توحید کے مضامین کا درس لیا۔ ان تمام اساتذہ کی علمی صحبت نے ان کی شخصیت کو ایک ایسے عالم کے طور پر تیار کیا جو روایتِ علم سے گہرے رشتے میں منسلک تھا اور جس کے مزاج میں نصوصِ شریعت کے فہم کے ساتھ ساتھ حکمتِ دین کا وقار بھی گندھا ہوا تھا۔

رسمی تعلیم کے ابتدائی مرحلے میں شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ نے معہد امام الدعوۃ العلمی سے آغاز کیا جہاں وہ اصولِ دین، فقہ اور عربی زبان کی بنیادی تعلیم سے آراستہ ہوئے۔ بعد ازاں وہ جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ میں شریعہ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے داخل ہوئے اور یہاں سے شریعہ اور عربی زبان میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ اس جامعہ کے اساتذہ اور علمی ماحول نے ان کے ذوقِ تحقیق اور فہمِ دین کو پختہ کیا۔اسی تعلیم سے ان کے اندر فقہ، اصول اور دینی قیادت کے وہ اوصافِ عالیہ پیدا ہوئے جنھوں نے آگے چل کر ان کی علمی شخصیت کی بنیادوں کو مزید مستحکم کیا۔

تعلیم کی تکمیل کے بعد شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ نے تدریس کو اپنے عملی سفر کا پہلا میدان بنایا۔ معہدِ امام الدعوۃ العلمی میں ان کی تقرری نے انھیں نو آموز علما کی علمی تربیت کا موقع دیا اور وہ یہاں کئی برس تک فقہ، اصول اور عربی زبان کے بنیادی مباحث پڑھاتے رہے۔ بعد میں انھوں نے جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ اور المعہد العالی للقضاء میں تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں جہاں ان کی تعلیم کا دل آویز اسلوب، علمی پختگی اور توضیحی انداز طلبہ کے لیے خاص کشش کے حامل تھے۔ درس و تدریس کے انھی مرحلوں میں ان کی علمی بصیرت، اعتدال اور فقہی فہم مزید نکھرتا گیا اور رفتہ رفتہ وہ ایسے استاد کے طور پر معروف ہوئے جن کے درس سے طلبہ کو دین کی بنیادوں کا درست فہم، فکری توازن اور علمی مباحث کو سمجھنے کا سلیقہ پیدا ہوتا تھا۔

امامت و خطابت کے میدان میں شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ کی خدمات بہت طویل عرصے پر محیط ہیں۔ انھوں نے ریاض کی مرکزی جامع مسجد میں سالہا سال خطابت کے فرائض انجام دیے اور مسجد نمرہ میں یومِ عرفہ کا خطبہ تقریباً پینتیس برس تک ان کے حصے میں آیا جو وعظ و ارشاد میں ان کے پُر تاثیر انداز اور علمی مقام کی روشن دلیل ہے۔ یہ اعزاز اس قدر طویل مدت تک تاریخِ اسلام میں کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ وعظ و نصیحت میں ان کا طریقہ نہ خطیبانہ جوش پر مبنی تھا، نہ لفظی صنعت گری پر بل کہ سادگی، وقار اور دل میں اتر جانے والی حرارت ان کی خطابت کا امتیاز تھی۔ وہ آیات و احادیث کو نہایت سلاست کے ساتھ بیان کرتے اور سامعین کو جذبات کے بجاے فہم، تذکیر اور عمل کی طرف متوجہ کرتے تھے۔ ان کے خطبات کی بنیادی شان یہ تھی کہ وہ بات کم کہتے مگر مؤثر انداز میں کہتے اور دلوں میں فکر و اصلاح کا جذبہ بیدار کر دیتے۔

شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ کے مزاج میں اہلِ علم کے لیے غیر معمولی احترام، محبت اور نیکی کا جذبہ تھا؛ چناں چہ جو ائمۂ علم مختلف اسباب سے حج ادا نہ کر سکے، شیخ مرحوم نے ان کی طرف سے حج کیا۔ انھوں نے ابن عبدالبر المالکی، ابن حزم الظاہری، علامہ المنذری، امام نووی الشافعی اور ابن رجب الحنبلی کی طرف سے حج ادا کر کے علما کے ساتھ وہ محبت اور وفا دکھائی جو کم ہی کسی کو میسر ہوتی ہے۔

درس و ارشاد کے رسمی حلقوں کے ساتھ ساتھ شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ نے ابلاغ کے جدید ذرایع کو بھی دین کی خدمت کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ ریڈیو پر نشر ہونے والا پروگرام نور علی الدرب ان کی علمی شناخت بن گیا جہاں وہ نہایت دل جمعی اور وضاحت کے ساتھ عوام کے سوالات کا جواب دیتے اور لوگوں کے دینی اشکالات دور کرتے تھے۔ اسی طرح قومی نشریاتی چینلز پر ان کی نشستیں، فتاویٰ کے پروگرام اور موضوعاتی دروس ہزاروں اہلِ علم اور سامعین کے لیے رہ نمائی کا مستقل ذریعہ رہے۔ ان کی گفت گو میں غیر ضروری تفصیل کے بجاے   مختصر، صاف اور دلیل کے ساتھ بیان کرنے کا سلیقہ نمایاں نظر آتا تھا۔ ان نشری دروس نے ان کے علمی اثر کو محدود حلقوں سے نکال کر پوری مسلم دنیا تک پہنچایا؛ ان کے بیانات دل میں اترتے اور ذہن کو روشن کر دیتے تھے۔

افتا اور تحقیق کے میدان میں شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ کی خدمات نہایت وسیع اور قابل قدر ہیں۔ ان کی فقہی و علمی بصیرت ہی کی بنا پر انھیں هيئة کبار العلماء کی رکنیت کے لیے منتخب کیا گیا۔  کچھ عرصے بعد وہ اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والإفتاء کے رکن مقرر ہوئے جہاں ان کے فتاویٰ، علمی آرا اور شریعت کے دقیق مسائل میں ان کے بصیرت افروز تحقیقات کو خاص اہمیت حاصل رہی۔ علمی مجالس میں ان کا انداز ہمیشہ متوازن، واضح اور نصوصِ شرعیہ کے ساتھ گہری وابستگی پر قائم رہتا تھا۔ انھی اوصاف کے باعث بالآخر وہ سعودی عرب کے مفتیِ اعظم کے منصب تک پہنچے اور سعودی عرب کی اعلیٰ دینی قیادت یعنی   هيئة کبار العلماء اور رئاسة البحوث العلمیة والإفتاء کے سربراہ کی حیثیت سے ایک طویل دور تک امت کی فکری و علمی رہ نمائی کرتے رہے۔

شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ کے علمی و فقہی منہاج کی نمایاں خصوصیت وضاحت، احتیاط اور نصوصِ شرعیہ پر کامل اعتماد تھا۔ وہ کسی مسئلے میں جلد بازی اور عجلت میں راے دینے کے قائل نہ تھے بل کہ دلیلِ شرعی، سابقہ اقوالِ ائمہ اور حالاتِ زمانہ تینوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے۔ ان کے فتاویٰ میں اس بات کا خاص اہتمام ملتا ہے کہ عوام کے لیے سہولت پیدا ہو اور ساتھ ہی شریعت کے حدود بھی برقرار رہیں۔ مشکل مسائل میں ان کا موقف نہ تو سختی اور شدت کا عکاس ہوتا اور نہ بے جا توسع اور آزادی کا آئینہ دار بل کہ اعتدال، حکمت اور حقیقت پسندی ان کے طرزِ استدلال کا مستقل وصف تھی۔ یہی توازن ان کی علمی رہ نمائی کو قابلِ اعتماد بناتا تھا اور اسی کے باعث ان کی آرا نہ صرف سعودی عرب میں بل کہ پورے عالمِ اسلام میں سنجیدگی سے دیکھی اور سنی جاتی تھیں۔

تصنیف و تالیف کے میدان میں اگرچہ شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ نے زیادہ تر دروس، خطبات اور فتاویٰ ہی کو اپنا ذریعۂ اظہار بنایا مگر ان کی یہی گفت گوئیں بعد میں مستقل مجموعوں کی صورت اختیار کر گئیں۔ عقیدہ، عبادات، حج، زکات، روزہ اور مسائلِ طہارت سے متعلق ان کے بیانات اور فتاویٰ کئی کتابوں میں مرتب ہو چکے ہیں جو آج بھی علما اور طلبہ کے لیے معتبر مراجع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خطباتِ عرفہ کا سلسلہ خصوصاً اہم ہے جن میں وہ ہر سال امت کو نصیحت، اتحاد، تقویٰ اور عدل و احسان کی طرف متوجہ کیا کرتے تھے۔ ان کے یہ خطبات ایک مستقل مجموعے کی شکل میں الجامع لخطب عرفۃ کے عنوان سے شایع ہوئے ہیں۔

 فتاویٰ نور علی الدرب کے سلسلے کے تحت شیخ کے فتووں کا ایک جامع مجموعہ کئی جلدوں میں طبع ہوا ہے۔ اسی طرح فتاویٰ الصیام، فتاویٰ الحج، فتاویٰ الزکاۃ اور فتاویٰ الطہارۃ کے عنوانات سے مخصوص فقہی مباحث کو الگ الگ مرتب کر کے بھی طبع کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ ان کی بعض مختصر تالیفات بھی اہلِ علم میں مقبول ہیں جن میں الکتاب الله تعالیٰ ومکانتُه العظیمة اور حقیقة شَهادة أنَّ محمداً رسولُ الله  جیسے رسائل خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ کی رحلت صرف ایک شخص کی جدائی نہیں بل کہ ایک عہد کا خاتمہ ہے؛ انھوں نے تمام عمر دین و ملت کی خدمت میں بسر کی اور ہمیشہ امت کی خیر و اصلاح کے لیے کوشاں رہے۔ اپنے حکیمانہ اسلوب، علمی وقار اور اخلاص کے ساتھ انھوں نے جس طور اہلِ اسلام کی رہ نمائی کا فریضہ انجام دیا، وہ آیندہ نسلوں کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف کرے، درجات بلند کرے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے؛ آمین۔

دکتور زغلول النجار مصری کی وفات

ماہِ نومبر 2025 کی 9 تاریخ کو دکتور زغلول النجار بانوے برس کی عمر میں اردن کے دارالحکومت عمان میں انتقال کر گئے۔ وہ اپنے فکری منہاج، دینی وابستگی اور فکر اسلامی میں نمایاں خدمات کے باعث علمی حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی وفات سے وہ آواز خاموش ہو گئی جس نے نصف صدی تک اہلِ علم اور نوجوان نسل کو قرآن کے فکری افق اور کائنات کے اسرار پر غور و فکر کی دعوت دی۔

دکتور زغلول النجار کی ولادت  17 نومبر 1933 کو مصر کے صوبۂ غربیہ میں ایک علمی اور دینی ماحول میں ہوئی ۔ ان کے دادا امام مسجد تھے اور والد اور چچا ازہر کے فضلا تھے۔ انھوں نے آٹھ برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور والد کی نگرانی میں ابتدائی علوم میں امتیاز حاصل کیا۔ اعلیٰ تعلیمی مراحل میں ان کی علمی قابلیت مزید نکھری اور انھوں نے عربی زبان و ادب کے ساتھ ساتھ طبیعی علوم سے بھی گہری دل چسپی لینا شروع کر دی۔ 1955ء میں قاہرہ یونی ورسٹی سے علومِ ارض (Geology) میں گریجویشن کیا اور اس میں نمایاں کام یابی حاصل کی۔ اسی میدان میں مزید تحقیق کے لیے وہ برطانیہ گئے اور University of Wales سے 1963ء میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ارضیات کے تحقیقاتی مباحث، خصوصاً وادی ِ نیل کے طبقاتِ ارض اور قدیم حیاتیاتی آثار پر ان کا کام بین الاقوامی جامعات میں بہ طورِ حوالہ اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

وہ تحریکی رجحانات بھی رکھتے تھے اور جمال عبدالناصر کے عہد میں الاخوان المسلمون سے وابستگی کی بنا پر نو ماہ قید بھی رہے، جہاں اسلامی تحریک کے متعدد قائدین سے ان کی ملاقاتیں رہیں۔ ان کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ وہ تھا جب وہ ستر کی دہائی میں امریکا گئے اور یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا میں پروفیسر کی حیثیت سے کام کیا۔ اس دوران وہ امریکا کی مختلف یونی ورسٹیوں میں گئے، علمی نشستوں میں شریک ہوئے اور متعدد مقامات پر فلسطین کے مسئلے پر لکچرز دیے۔ وہ اپنی پوری زندگی اس قضیے کے ثابت قدم حامی اور پرجوش ترجمان رہے۔

انھوں نے مختلف ملکوں کی اہم جامعات میں خدمات سر انجام دیں۔ وہ قطر یونی ورسٹی میں شعبۂ ارضیات کے سربراہ رہے؛ سعودی عرب میں کنگ فہد یونی ورسٹی آف پیٹرولیئم اینڈ منرلز میں تدریس کی؛ یمن کی الاحقاف یونی ورسٹی کے علمی نظم میں شریک رہے اور امریکا کی کیلیفورنیا یونی ورسٹی (یو سی ایل اے) میں بہ طور وزٹنگ پروفیسر کام کیا۔ اسی طرح اردن اور مصر کی متعدد علمی مجالس اور تحقیقی اداروں سے بھی ان کی وابستگی رہی۔ ان کی علمی و دعوتی خدمات کے اعتراف میں انھیں مصطفیٰ برکہ ایوارڈ براے علومِ ارض دیا گیا اور 2006 میں دبئی انٹرنیشنل قرآن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ وہ اسلامی سائنسی اکیڈمی کے فیلو اور متعدد عالمی ارضیاتی انجمنوں کے رکن رہے۔

بیسویں صدی میں جب جدید علوم کی ترقی نے انسانی فکر کے سامنے نئے سوالات کھڑے کیے تو مذہب اور سائنس کی تطبیق کا ایک خاص رجحان پیدا ہوا۔ مسلم دنیا میں خصوصاً قرآن کریم کی سائنسی تفسیر کا بڑا غلغلہ اٹھا اور متعدد اہلِ علم نے یہ کوشش کی کہ کائنات کے نئے انکشافات کو قرآن کے بیانیے سے ہم آہنگ کر کے دکھایا جائے۔ دکتور زغلول النجار اس رجحان کی نمایاں ترجمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ رابطۃ العالم الإسلامی کے ذیلی ادارے  الهيئة العالمية للإعجاز العلمي في القرآن والسنة النبوية (قرآن و سنت میں سائنسی اعجاز کی عالمی مجلس) کے بانی اراکین میں شامل تھے۔ ارضیات اور طبیعی علوم میں ان کی مہارت اور قرآن کے ساتھ گہری وابستگی نے انھیں اس طرف مائل کیا کہ جدید سائنسی حقائق کو آیاتِ قرآنیہ کے تناظر میں سمجھا جائے اور اس سے قرآن کی صداقت کو واضح کیا جائے۔ ان کی درجنوں تصانیف اور بے شمار مقالات میں یہی زاویۂ فکر غالب ہے۔ وہ کائنات کی تخلیق، زمین کی ساخت، حیاتیاتی ارتقا، فلکی حرکیات اور طبیعی قوانین جیسے مباحث کو قرآنی آیات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ جدید سائنس، اپنے درست استعمال کی صورت میں، وحیِ الٰہی کے بیانات کی تائید کرتی ہے۔ اس رجحان نے عوام اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں قرآن فہمی کا ایک نیا ذوق ضرور پیدا کیا اور پیچیدہ سائنسی مباحث کو سادہ زبان میں بیان کرنے کی ان کی صلاحیت نے ان کی تحریر اور گفت گو کو بہت مقبولیت بھی دلوائی۔

دکتور زغلول النجار نے اپنے اسی نقطۂ نظر کو ثابت کرنے کے لیے چالیس سے زائد کتابیں اور ڈیڑھ سو سے زیادہ مقالات تحریر کیے۔ الاعجاز العلمی فی القرآن، الاعجاز العلمی فی السنة، حقائق علمیة فی القرآن اور من آیات الإعجاز فی الکون جیسی تصانیف عرب دنیا میں نہایت مقبول رہیں۔ اسی سلسلے میں سنن الله فی الآفاق، اسماء الله الحسنیٰ بین العلم والإیمان، من أسرار القرآن اور التناسق البدیع بین الکتاب المنظور والکتاب المسطور جیسی کتابوں نے بھی وسیع پذیرائی حاصل کی اور ان کے اس رجحان کو مزید عام کیا۔ اپنی ان تحریروں میں وہ کائنات کے مختلف مظاہر اور جدید سائنسی معلومات کو آیاتِ قرآنیہ پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ میڈیا، جامعات اور بین الاقوامی سیمی ناروں میں ان کے خطابات نے بھی اس طرزِ فکر کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا اور بہت سے نوجوانوں میں قرآن فہمی کا نیا ذوق پیدا ہوا۔

دکتور زغلول النجار کی نیت، اخلاص، قرآن سے محبت اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو دین کے قریب لانے کی خواہش اپنی جگہ نہایت قابل قدر ہے اور یہی وہ جذبہ تھا جس نے انھیں ارضیات کے میدان سے آگے بڑھ کر قرآن کے سائنسی اعجاز کے مباحث کی طرف متوجہ کیا مگر ان کا یہ اندازِ فکر پورے طور سے قابل قبول نہیں گرادنا جا سکتا بل کہ یہ بحث و نظر کا متقاضی ہے۔

قرآن مجید اصلاً کتابِ ہدایت ہے نہ کہ سائنسی بیانات کا مجموعہ؛ اور نہ اس کا مقصد جدید نظریات کی توثیق کرنا ہے۔ دکتور النجار نے جیالوجی میں اپنی مہارت اور جدید طبیعی علوم کے مشاہدات کو قرآن کی آیات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی لیکن اس طرزِ استدلال کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سائنس کی ماہیت تغیر پذیر ہے۔ جب قرآنی آیات کو کسی مخصوص سائنسی نظریے کے ساتھ مربوط کر دیا جائے تو جیسے ہی سائنسی تحقیق آگے بڑھتی ہے، پہلے سے قائم کی گئی مطابقت خود قرآن کے بیان کو مشتبہ بنا دیتی ہے حالاں کہ اصل کم زوری قرآنی متن میں نہیں بل کہ اس تطبیقی منہج میں ہوتی ہے۔ اس کا دوسرا اثر یہ پڑتا ہے کہ ایمان بالغیب کی اساس کم زور پڑ جاتی ہے کیوں کہ وحی کی صداقت کا مدار سائنسی شہادت پر رکھ دیا جاتا ہے جب کہ قرآن کا مقصد تدبر، تذکیر اور اخلاقی و روحانی راستے کی طرف انسان کی رہ نمائی کرنا ہے نہ کہ تجرباتی سائنس کا حوالہ بننا۔ مزید یہ کہ اس طرزِ بیان سے معاندین کو بھی یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ عارضی سائنسی معلومات کو بنیاد بنا کر قرآن پر اعتراضات کھڑے کریں۔ اس لیے دکتور النجار کے جذبے اور ان کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہنا ناگزیر ہے کہ اعجازِ علمی کا منہج علمی احتیاط کے معیار پر پورا نہیں اترتا اور تفسیر و دعوت کے معتبر اصولوں کے مطابق اسے مضبوط طریقۂ استدلال نہیں کہا جا سکتا۔

رب کریم ان کی علمی و دعوتی کاوشوں کو قبول فرمائے؛ بشری کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا کرے؛ آمین۔

 دکتور احمد عمر ہاشم کی وفات

علمِ حدیث کے ممتاز ماہر اور جامعہ ازہر کے سابق صدر دکتور احمد عمر ہاشم 7 اکتوبر 2025ء کو قاہرہ میں وفات پا گئے۔ وہ 6 فروری 1941 کو پیدا ہوئے اور علم و فکر اور تعلیم و دعوت کے انس و حرارت سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد چوراسی برس سے زائد کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ مجلس البحوث العلمية  اور ازہر شریف کی هيئة کبار العلما کے معزز رکن بھی رہے اور معاصر علمی دنیا میں ایک روشن مقام رکھتے تھے۔ حسنی مبارک کے دور میں وہ مصری پارلیمان کے رکن بھی رہے۔

دس برس کی عمر میں حفظ قرآن مجید کی تکمیل کے بعد انھوں نے زیادہ تر تعلیم ازہر ہی سے حاصل کی اور  1961ء میں جامعہ ازہر کے کلیۂ اصول الدین سے فراغت پائی۔ پھر  1969ء میں ایم اے اور 1973ء میں پی ایچ ڈی کی سند امتیاز کے ساتھ حاصل کی۔ علومِ حدیث ان کا اختصاصی میدان تھا اور  اس فن میں ان کی متعدد محققانہ تصانیف ہیں۔ مرحوم نے فیض الباری کے نام سے صحیح بخاری کی شرح لکھی جو آٹھ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے۔ دیگر کتابوں میں   السنة النبوية وعلومها، قواعد أصول الحديث، المحدثون في مصر والأزهر، قبس من الحديث النبوي، أزمة الخليج في ميزان الإسلام، محنة الخليج، مناهج المحدثين خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ حدیث وسنت،  سیرتِ طیبہ اور فکرِ اسلامی کے دیگر موضوعات پر ان کی علمی نگارشات درجنوں میں ہیں جو فکری حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

تدریس و تعلیم ان کی زندگی کا مرکزی محور تھا۔ انھوں نے ازہر کی مختلف کلیات میں تدریس سے آغاز کیا؛ پھر 1987 میں کلیۂ اصول الدین زقازیق کے ڈین مقرر ہوئے۔ 1995ء سے2003ء تک وہ جامعہ ازہر کے صدر رہے۔ وہ اپنے طلبہ کے درمیان ایک نرم خو اور شفیق استاد کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔

ان کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو ان کا ادبی ذوق تھا۔ وہ خطیب بھی تھے اور شاعر بھی۔ ان کی شاعری کا دیوان نسمات ایمانیة کے نام سے چھپ چکا ہے جس کے اشعار محبتِ رسول ﷺ اور ایمانی لطافت سے لبریز ہیں۔ منبر ہو یا میڈیا، جہاں بھی اظہار کا موقع ملا، وہاں ان کے بیان میں فصاحت، تاثیر اور حسنِ ادا کے اوصاف نمایاں دکھائی دیتے تھے۔

فکری اعتدال، علمی وقار اور مزاج کی نرمی ان کی شخصیت کے بنیادی عناصر تھے۔ وہ ہمیشہ معتدل اسلامی فکر کے نمایندہ رہے اور اپنے خطبات و بیانات میں انتہا پسندی اور شدت کو دلیل اور نرمی کے ساتھ رد کرتے رہے۔ ان کے اسلوب میں علم و تحقیق کے ساتھ تربیت و اصلاح کا رنگ بھی نمایاں تھا۔ وہ برسوں تک مصری ذرایع ابلاغ پر معتدل مذہبی نظریات کے ترجمان رہے اور عالمی سطح پر متعدد علمی فورمز میں ازہر کی نمایندگی کرتے رہے۔

قرآن و سنت اور اسلامی علوم سے متعلق ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں انھیں کئی قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا جن میں جائزة الدولة التقديرية، وسام العلوم والفنون اور جائزة دبي الدولية للقرآن الکریم شامل ہیں۔

اہ ! مولانا عتیق اللہ سلفی

معروف دینی ادارے مرکز الدعوۃ السلفیہ، ستیانہ بنگلہ کے ناظم و مہتمم مولانا عتیق اللّٰہ سلفی 18 اگست 2025ء کو اٹھتر برس کی عمر میں اس دنیاے دُوں سے رخصت ہوئے؛ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا کی شخصیت اس دَور میں دینی وابستگی، ذوقِ عبادت اور زہد و ورع کی ایک روشن مثال تھی۔ وہ ہمیشہ جدت پسندی سے دامن بچا کر رہے اور اس پہلو سے خصوصاً عہدِ سلف کی سادگی اور وقار کے امین تھے۔ سادہ لباس، معمولی غذا اور بے تکلف طرزِ زندگی ان کی عملی شناخت تھی۔ نمازِ پنجگانہ کی باجماعت ادائیگی، تہجد اور شب بیداری پر دوام اور ذکر و اذکار کی پابندی ان کے معمولات میں اس طرح رچی بسی تھی کہ اس میں کبھی کوتاہی نہ آتی۔ طبیعت میں ایسی رقت اور گداز تھا کہ تذکرۂ سلف اور ذکرِ آخرت پر ان کی آنکھیں نم ہو جاتیں اور دل خشیت سے لبریز ہو جاتا۔

مالی معاملات میں غیر معمولی احتیاط مولانا مرحوم کے کردار کا نمایاں پہلو تھی۔ مدرسہ کے مال سے ایک لقمہ لینے کے بھی روادار نہ تھے اور اپنے خطابات میں علما کو اسی باب میں سخت تاکید کرتے تھے۔ گفت گو سادہ، مختصر اور پر تاثیر ہوتی۔ رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی ان کا خاص وصف تھا؛ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں وہ عدل کے بجاے احسان کی روش پر قائم رہتے تھے۔

اخلاقی اوصاف کے باب میں وقت کی قدر شناسی اور غیبت سے سخت احتراز ان کی سیرت کے نمایاں پہلو تھے۔ وہ زندگی کے ہر لمحے کو امانت سمجھتے تھے اور فضول گفت گو یا بے مقصد مصروفیت سے حتی المقدور بچتے تھے۔ عبادت، مطالعہ، طلبہ کی تربیت، ادارہ جاتی امور اور لوگوں کے حقوق، ہر چیز کے لیے وقت متعین تھا مگر ایسی مجلس آرائی سے ہمیشہ کنارہ کش رہے جو انسان کو لغویات یا گناہ کی سرحد پر لے جائےان کی زندگی وقت کے مفید استعمال اور زبان کی پاکیزگی کا ایک عملی نمونہ تھی جو آج کے پُر انتشار ماحول میں خاص طور پر قابلِ تقلید ہے۔زندگی میں متعدد دینی اور رفاہی اداروں کی سرپرستی اور انتظام و انصرام میں مصروف رہے اور تمام عمر دین کی ترویج و اشاعت کے لیے بسر کر دی۔ مدرسہ اور مساجد کے علاوہ سماجی بہبود کے متعدد ادارے بھی ان کی سرپرستی میں بہ روے کار تھے جن میں الشفا ہاسپٹل، فلاحی انجمن براے اعانتِ غربا و مساکین، مسلم ماڈل اسکول اور مسلم ماڈل سائنس کالج (طلبہ و طالبات) نمایاں ہیں۔ ان کے چاروں بیٹے عالم اور  خدمتِ دین میں مصروفِ کار ہیں۔ ان کے قائم کردہ ادارے اور ہزاروں شاگرد ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کی مساعی کو قبولیت عطا فرمائے۔

 

[1]      فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ، رحمانیہ