اتحاد امت ...!
محدث گوندلوی کے ارشادات کی روشنی میں
اتحاد امت ...!
محدث گوندلوی کے ارشادات کی روشنی میں
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
کتاب کا تعارف:
محدث العصر حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی ( متوفی ۱۹۸۵ء) اپنے وقت کے عظیم محقق، بلند پایہ عالم اور بے مثال محدث تھے۔ معاصر جماعت اہل حدیث کے کبار علماء ، شیوخ الحدیث، مفتیان کرام اور محققین کی اکثریت بالواسطہ یا بلاوسطہ حضرت حافظ صاحب ہی کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ جب ایک بریلوی مصنف نے ’’جواز الفاتحة علی الطعام‘‘ اور ’’حنفیہ پاکٹ بک حصہ دوم‘‘کے نام سے دو کتابیں لکھیں اور اس میں اہل حدیث کو ایک فرقہ قرار دیتے ہوئے جہنمی قرار دیا تو حضرت حافظ صاحب نے ان دو کتابوں کے جواب میں ’’الاصلاح‘‘کے نام سے کتاب لکھی کہ جس میں مذکورہ بریلوی مصنف کے رد کے ساتھ ساتھ بدعت، اہل بدعت، تقلید، اجتہاد ، قیاس، حنفی و اہل حدیث اختلاف کی حقیقت ، جماعتی حزبیت ، مسلکی تعصب اور اتحاد واتفاق امت کی اہمیت کے حوالے سے گراں قدر تحقیقات اور سیر حاصل ابحاث بھی شامل کتاب ہوئیں جو ان کے تفقہ وتحقیق اور وسعت نظر ومطالعہ کی مظہر ہیں۔ ام القری پبلی کیشنز، گوجرانوالہ نے اسے شائع کیا ہے۔
کتاب کی تحقیق وتخریج کے فرائض مرکز التربیۃ الاسلامیہ فیصل آبادمیں تخصص کرنے والے طلبہ(حافظ عبد الرووف بن محمد یعقوب، ابراہیم بن بشیر الحسینوی اور محمد فیاض آسی) نے اپنے فاضل اساتذہ فضیلۃ الشیخ حافظ محمد شریف ، فضیلۃ الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری اور فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم کی زیر نگرانی اور مشاورت میں سر انجام دیے ہیں۔
استاد محترم حافظ عبد المنان نور پوری () نے کتاب کی مراجعت فرمائی ۔ جہاں لفظی ومعنوی اصلاح کی ضرورت تھی، اس پر تنبیہ فرمائی۔ اس سے اس طبعہ کی استنادی حیثیت میں مزید اضافہ ہو گیاہے۔کتاب پر تقدیم اور مقدمہ لکھنے کا شرف حافظ صلاح الدین یوسف اور ڈاکٹر عبد الرحمن فریوائی ﷾ کو حاصل ہوا۔
بدعت کی تعریف:
بدعت کی تعریف میں اہل علم کی مختلف ارا ء ہیں ۔ حافظ محمد گوندلوی بدعت کی تعریف میں ایک خاص اصطلاح ’’سنتِ ترکیہ‘‘ استعمال کرتے ہیں جو ان کی بدعت کی تعریف سمجھنے میں کنجی (key word) کا مقام رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ ایک ’’سنتِ فعلیہ‘‘ہے یعنی وہ کام جو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے کیا اور دوسری ’’سنتِ ترکیہ‘‘ہے یعنی وہ کام جو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے نہیں کیا۔
حضرت حافظ محمد گوندلوی ’’سنتِ ترکیہ‘‘ کو بھی سنت شمار کرتے ہیں یعنی اس کا ترک کرنا سنت ہے جیسا کہ ’’سنتِ فعلیہ‘‘ کا کرنا سنت ہے۔ جب ’’سنتِ ترکیہ‘‘ کا ترک کرنا سنت ہوا تو اس کا کرنا بدعت ہوا۔ اس وضاحت کے بعد حضرت حافظ محمد گوندلوی کی درج ذیل عبارت پڑھیں:
“ ہر بدعت، سنتِ ترکیہ کے خلاف ہوتی ہے۔ سنتِ ترکیہ کا مطلب یہ ہے کہ قرن اول میں جب کسی کام کے کرنے کا سبب موجود ہو اور اس کے کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہواور بعد میں کوئی نیا سبب پیدا نہ ہو جو اس کام کے کرنے کا مقتضی ہو، باوجود اس کے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں وہ فعل ثابت نہ ہو، یعنی شریعت نے اس کے جواز پر قول وفعل یا تقریر سے کوئی دلیل قائم نہ کی ہو تو ایسے فعل کو ترک کرنا "سنتِ ترکیہ" کہلاتا ہے۔جیسے عید میں اذان کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں اس کا ثبوت نہیں ملتا، حالانکہ اذان کہنے کا سبب (لوگوں کو آگاہ کرنا) اس وقت موجود تھا اور اذان کہنے سے کوئی امر مانع بھی نہیں تھا اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نیا سبب اذان کہنے کا پیدا بھی نہیں ہوا۔ اب اس صورت میں عید میں اذان کہنا، سنت ترکیہ کے خلاف ہو گا۔ یہی حال ہر بدعت کا ہے، مثلا ہر نماز کے لیے غسل، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور مجلس میلاد بصورت خاص، ان سب کے کرنے کے اسباب (غسل کے لیے پاکیزگی، ایصال ثواب کے لیے میت کو نفع پہنچانا اور مجلس میلاد میں نبی کی تعظیم) آنحضرت ﷺ کے زمانے میں موجود تھے، ان کے کرنے سے کوئی بندش بھی نہ تھی اور آپ کے بعد ان کے کرنے سے کوئی نیا سبب پیدا بھی نہیں ہوا، اس لیے یہ سب کام سنتِ ترکیہ کے خلاف ہوں گے۔ اگر نیا سبب ہماری غلطی سے پیدا ہوا ہو تو اس صورت میں بھی ہم کوئی نیا کام نہیں کر سکتے، بلکہ ہم کو چاہیے کہ اپنی غلطی چھوڑیں، جیسے عید میں سنت ہے کہ خطبہ نماز کے بعد ہو[1]۔”
دنیاوی امور میں احداث (نئی اختراع )بدعت نہیں
حضرت حافظ محمد گوندلوی کے ہاں دنیاوی امور میں احداث بدعت نہیں ہوتے بلکہ بدعت، دینی امور میں احداث کو کہتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:
“اکثراہل بدعت عام طور پر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ مانعین ہر نئے کام کو بدعت قبیحہ کہتے ہیں، خواہ دین کا ہو یا دنیا کا، یہ سراسر بہتان اور افترا ہے۔ مانعین اس نئے کام کو بدعت قبیحہ کہتے ہیں، جو دین میں بدون اذن شرع، حادث ہو، جس کا مقتضی آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بدون معارض موجود ہو، اور نیا مقتضی بدون معصیتِ عباد پیدا نہ ہوا ہو، نہ کوئی سابق مانع اٹھا ہو، جیسے عیدین کی اذان[2]۔”
دینی امور میں احداث کے ساتھ بدعت کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دینی امور میں اصل ممانعت ہے جبکہ دنیاوی امور میں اصل اباحت ہے لہٰذا دینی امور میں احداث بدعت اور دنیوی امور میں احداث بدعت نہیں ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں:
“اہل بدعت مخالفِ دین اس امر کو سمجھتے ہیں جس کی ممانعت وارد ہو چکی ہو، امر دینی اور امر دنیا میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ یہ ان کی زبردست غلطی ہے کیونکہ دینی اور دنیاوی امور میں اختلاف ہے۔ دینی امور میں یہ قانون ہے کہ جب تک شریعت سے کوئی امر ثابت نہ ہو، اس کا کرنا منع ہوتا ہے۔ اور دنیوی امور میں اصل یہ ہے کہ جب تک ممانعت وارد نہ ہو، اس وقت تک اس کا کرنا جائز ہوتاہے۔ دینی امور میں اصل ممانعت ہے اور دنیوی امور میں اصل اباحت ہے[3]۔”
عبادات میں احداث بدعت ہیں ، وسائل عبادات میں نہیں
حضرت حافظ محمد گوندلوی کا کہنا یہ ہے کہ امور دینیہ میں بھی صرف عبادات میں احداث بدعت ہے جبکہ وسائل عبادات میں احداث بدعت نہیں ہے جیسا کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے صرف ن حو کی تعلیم اور احسان کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے لطائف ستہ وذکر خفی کا اہتمام وسیلے میں شامل ہے نہ کہ بذاتہ عبادت ومقصود ہے۔ لہٰذا جب تک ان کو وسائل سمجھے اور عبادت ومقصود کا درجہ نہ دے تو یہ بدعت نہیں ہیں ۔ حضرت حافظ لکھتے ہیں:
“ علوم عربیہ کا بقدر ضرورت اشتغال اور اشغال صوفیہ کا بقدر حاجت استعمال جیسے تحریک لطائف ستہ وذکر خفی یا مثل یاداشت کے جس کو پاس انفاس کہتے ہیں یا دل کی طرف ہمیشہ خیال رکھنا، جن سے حقیقت احسان (جس کا کتاب وسنت میں ذکر ہے) میں مدد ملتی ہے یا جیسے آلات حرب کا استعمال مثلا توپ، بندوق، طمانچہ بقدر کفایت، یہ امور بدعت نہیں، کیونکہ یہ سب امور دین میں داخل نہیں ، اگر کوئی شخص انھیں دین سمجھ کر ان پر عمل کرے تو بدعت ہوں گے۔ امر دین سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان امور کو وسائل ہونے کے علاوہ محامد دینیہ قرار دے[4]۔”
حضرت حافظ محمد گوندلوی کا کہنا یہ بھی ہے کہ عبادات کے وسائل کو اگر ضرورت سمجھے تو یہ بدعت نہیں ہیں جیسا کہ اذان کے لیے لاوڈ اسپیکر کا استعمال کرنا، لیکن اگر انہیں عبادت کی تکمیل کا ذریعہ اور وسیلہ سمجھ لے تو یہ بھی بدعت شمار ہوں گے ،یعنی اس میں نیت کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“نیز وسائل دو قسم کے ہوتے ہیں: ۱۔ وہ جو مقاصد کے لیے تکمیل کا باعث ہوں، جیسے غسل اور نئے کپڑے اور عطر لگانا جمعہ وعیدین کے لیے اور اذان کہنے کے لیے مینار پر چڑھنا۔ ۲۔ وہ جو ضرورت کے لیے ہیں، جیسے کنویں سے پانی کھینچنا۔ اس سے وضو کی تکمیل نہیں ہوتی، صرف ضرورت کے لیے ہے اور اگر ضرورت نہ ہو توپانی کھینچنا کوئی نیک کام نہیں۔ بایں طور علوم آلیہ واشغال صوفیہ اور آلات مخترعہ قسم ثانی سے ہیں۔ اور جو انھیں پہلی قسم میں شمار کرے تو یہ اس کی نسبت سے بدعت حقیقیہ وصفیہ سے ہوں گے۔” (الاصلاح، ص۵۲۷)
بدعت اور مصلحت میں فرق:
حضرت حافظ محمد گوندلوی بدعت اور مصلحت میں فرق کر کے بدعت کی پہچان میں مزید نکھار لاتے ہیں۔ ان کے نزدیک بدعت کا تعلق مقاصد یعنی اعتقادات اور عبادات سے ہے جبکہ مصلحت کا تعلق مبادی یعنی ان مقاصد کے حصول کے لیے وسائل کے باب سے ہے۔ بدعت جائز نہیں ، کیونکہ اعتقادات اور عبادات کے ثبوت کے لیے متعین شرعی دلیل کا ہونا ضروری ہے جبکہ مصلحت کا جواز ہے کیونکہ وسائل کے اثبات کے لیے کسی جزئی شرعی دلیل کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ شریعت کے عمومی دلائل سے بھی مصلحت کے جواز پر استدلال کیا جا سکتا ہے بلکہ مصلحت کا وجود ہی اس کے جواز کے لیے کافی ہوتا ہے۔ آپ ؒ فرماتے ہیں:
“ امر دین دو قسم کے ہیں: ایک مبادی اور ایک مقاصد۔ مبادی میں مصلحت حادثہ کی بنا پر کسی کام کا نکالنا جائز ہے اور مقاصد میں منع ہے۔ اعتقادات اور عبادات مقاصد میں داخل ہیں۔ صرف ونحو، درس وتدریس، وعظ وتبلیغ، مبادی میں داخل ہیں۔ مبادی میں کسی نئے مقتضی کی بنا پر احداث جائز ہے۔ پس اخبار اگر تبلیغ دین کے لیے ہو تو بہر کیف مبادی میں داخل ہے اور مبادی میں احداث، مصلحت وقتیہ کی بنا پر جائز ہے۔ حدیث کا لکھنا اور اس کے لیے تفصیلی طور پر قواعد وضوابط بنانا اور کتابوں کا مختلف صورتوں میں لکھنا اور آج کل طبع کرانا اور تبلیغ کے لیے جلسے قائم کرنا مصلحت وقتیہ کی بنا پر جائز ہے، مگر عبادات میں احداث جائز نہیں … پس عبادات میں یہی بات محقق ہے کہ اس میں نئے کام کا احداث جائز نہیں۔ اگر کوئی دینی امر عبادات کے قبیل سے نہ ہو تو اس میں نیا مقتضی پیدا ہو سکتا ہے ۔ اور اس نئے مقتضی کے مقتضی ہونے پر عمومات سے استدلال کرنا درست ہے۔ اب مندرجہ ذیل امور میں جو احداث کیا گیا ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں نیا مقتضی پیدا ہو گیا ہے۔ اور مقتضی کا مقتضی ہونا عموم ادلہ سے ثابت ہے مثلا ًحدیث کی کتابت کا اس قدر اہتمام یہ حادث ہے، اس کا مقتضی ضیاع کا خطرہ ہے۔ اور اس مقتضی کا ہونا حفظ شریعت کے ادلہ سے ثابت ہوتا ہے، اگرچہ اس پر قرن اول وثانی میں شاذ ونادر اعتراض کیے گئےمگر جمہور علماء نے اس وقت اس کو بنظر استحسان دیکھا۔ پھر قرن ثالث میں اس پر اجماع ہو گیا کیونکہ حفظ شریعت، واجب ہے۔ اور اس وقت کا حفظ کا طریقہ یہی تھا جو انھوں نے اختیار کیا اور مقدمہ واجب کا، واجب ہوتا ہے۔مبادی کے صحیح یا باطل ہونے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ مقصد کی طرف پہنچاتے ہیں یا نہیں؟ اس قدر یہ مسئلہ عقلی ہوتا ہے نہ کہ شرعی۔ ہاں اس لحاظ سے یہ مسئلہ دینی بن جاتا ہے کہ اس کے کرنے پر ثواب کی امید رکھی جائے۔ اب اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے، مگر عبادات کی طرح اس میں خاص دلیل کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کی بنا مصلحت پر ہے، اس لیے عموم ادلہ سے بھی یہاں کام چل سکتا ہے، اس واسطے یہاں خاص دلیل نہ ہونے سے سنت ترکیہ کی مخالفت لازم نہیں آتی۔ اور امور دنیا کی بنا چونکہ مصلحت پر ہے (اگرچہ اس کا علم شریعت سے ہوا ہے، جیسے کھجوروں کی تلقیح کے بارے میں جو حدیث گزر چکی، اس سے معلوم ہوتا ہے)، اس واسطے مجرد مصلحت کے متحقق ہونے سے اس کی اباحت ثابت ہو جاتی ہے، اس میں کسی خاص یا عام دلیل کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، اس واسطے صورت مذکورہ میں سنت ترکیہ کی مخالفت لازم نہیں آتی، مگر جس وقت کسی امر کی ممانعت ہو تو اس صورت میں اس کا کرنا منع ہو گا، یا کسی امر کو اپنی طرف سے واجب وسنت یا حرام ومکروہ سمجھنے لگیں تو اس صورت میں وہ کام ممنوع ٹھہرے گا[5]۔”
خیر القرون میں عبادات کی قبیل سے بعض چیزوں کا رائج ہونا بدعت ہے؟
بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ خیر القرون میں بھی تو عبادات کی قبیل سے بعض چیزوں کو رائج کیا گیا لہٰذا عبادات میں بھی مصلحت کے تحت احداث جائز ہے۔ حضرت حافظ صاحب اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ کسی فعل کا خیر القرون میں ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ بدعت نہیں ہے جیسا کہ بعض سلف سے متعہ کا جواز بھی ملتا ہے۔ اب متعہ کو اس لیے بدعت نہ سمجھنا کہ یہ خیر القرون میں بھی ملتا ہےتو یہ درست نہیں ہے۔ خیر القرون میں رائج ہونے والا وہ عمل بدعت نہیں ہوگا جس پر خیر القرون میں کوئی نکیر موجود نہ ہو جیسا کہ رمضان المبارک میں تراویح کی جماعت کی مثال دی جا سکتی ہے کہ کسی صحابی نے اس کا انکار نہیں کیا ہے۔
حضرت حافظ صاحب اس کی وضاحت یوں فرماتے ہیں کہ خیر القرون میں کوئی عمل کسی سبب کی بنیاد پر وجود میں آیا کہ جو سبب آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں موجود تھا لیکن اس کے ساتھ کوئی مانع بھی تھا لہٰذا آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس مانع کے سبب سے اس پر عمل نہ کیا۔ لیکن آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی وفات سے اس مقتضی کا مانع جاتے رہنے سے اس کے کرنے کا جواز پیدا ہو گیا جیسا کہ رمضان المبارک میں تراویح کی جماعت کی نماز کی مثال دی جا سکتی ہے کہ اس کا مقتضی آپ علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھا لیکن اس کی فرضیت کا مانع آڑے آ رہا تھا کہ جس وجہ سے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف سے تراویح کی جماعت کا اہتمام نہیں کیا گیا لیکن جب آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی وفات کے ساتھ وہ مانع رخصت ہو گیا تو اب اس کا مقتضی پھر سے لوٹ آیا لہٰذا خیر القرون میں اس پر عمل کر لیا گیا۔ حضرت حافظ صاحب فرماتے ہیں:
“مقاصد یعنی عبادات نماز، روزہ، صدقہ اور تلاوتِ قرآن مجید میں کسی امر کا احداث کسی مصلحت کی بنا پر جائز نہیں۔ اور امر مطلق کے جمیع جزئیات کو اس طرح ادا کرنا جائز ہے کہ ان میں تقیید اور تخصیص تشریع کی صورت اختیار نہ کرے، جیسے نوافل میں لوگوں کو بلا کر اہتمام کے ساتھ جماعت کرانا اور کھانا رکھ کر قرآن پڑھنے کو متعین کرنا، تیسرا، ساتواں اور چالیسواں دن صدقہ کے لیے مقرر کرنا، اسی طرح کے امور (جو عبادات میں بصورت التزام کیے جاتے ہیں، جن میں تشریع کا اعتقاد یا تشریع کا وہم پڑتا ہے)، مطلق یا عام ادلہ کے نیچے نہیں رہتے۔ ان بدعات کو مبادی پر، جن میں مصالح مرسلہ کی بنا پر احداث جائز ہے، قیاس نہیں کر سکتے۔ یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ مانعین کا یہ مذہب نہیں کہ اگر کسی چیز کا وجود قرون ثلاثہ (صحابہ وتابعین وتبع تابعین کے زمانے) میں ہو تو وہ بدعت نہیں رہتی بلکہ اس چیز کو بدعت سے خارج کرتے ہیں جو ان زمانوں میں بلاانکار رائج ہو، ان پر کوئی نہ کوئی شرعی دلیل پائی جاتی ہے، جیسا کہ تتبع اور استقراء سے معلوم ہوتا ہے، کیونکہ جو چیزیں ان زمانوں میں بلا انکار رائج ہوئیں یا تو مصالح مرسلہ کی قبیل سے ہیں، جس کے لیے عام ادلۃ پائی جاتی ہیں، (اور ) اگر عبادات سے ہیں تو ایسی چیزیں ہیں جن کا مقتضی آنحضرت ﷺ کے وقت تھا، مگر ان کے کرنے سے اس وقت کوئی مانع تھا، جو آنحضرت ﷺ کے بعد اٹھ گیا، اور بدعات میں یہ دونوں باتیں نہیں ہوتیں[6]۔”
بدعت کی اقسام:
حضرت حافظ صاحب بدعت کو پہلے بدعت اصلی اور بدعت وصفی میں تقسیم کرتے ہیں۔ اور پھر بدعت وصفی کو مزید بدعت حقیقی اور بدعت حکمی میں تقسیم کرتے ہیں۔ حضرت حافظ صاحب فرماتے ہیں:
“بدعات کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ بدعات جن کا اصل بھی شرع میں ثابت نہیں، ان کو بدعاتِ اصلیہ کہتے ہیں۔ اور بعض بدعات ایسی ہیں جن کا اصل تو ثابت ہے مگر اس کے بعض تعینات ثابت نہیں، ان کو بدعاتِ وصفیہ کہتے ہیں۔ پھر ان کی دو قسمیں ہیں: ایک حقیقیہ اور دوم حکمیہ۔ پہلی قسم کا تعلق اعتقاد سے ہے، اگر کسی بدعت کے متعلق اس کے سنت یا واجب کا اعتقاد رکھے تو وہ حقیقی بدعت ہے۔ اگر اس کو بدعت ہی سمجھے مگر اس پر التزام سنت کی طرح کرے تو یہ حکمی بدعت ہو گی۔ بدعات اگرچہ سب کی سب قابل مذمت ہیں مگر حقیقی بدعت کے مرتکب کو ہی بدعتی کہا جاتا ہے[7]۔ ”
بدعتی کون ہے؟
حضرت حافظ محمد گوندلوی کے بقول بدعت کا مرتکب ہرحال میں بدعتی نہیں کہلاتا اور نہ ہی اس پر بدعتی کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ بدعتی صرف وہ ہے جو بدعت کا عقیدہ بھی رکھے یعنی جو کسی بدعتی عمل کو دین یا سنت سمجھ کر کرے تو وہ بدعتی ہے۔ اور جو اس کو دین یا سنت سمجھ کر نہ کرے تو وہ بدعتی نہیں ہےوہ فرماتے ہیں:
“اب قابل وضاحت بات یہ ہے کہ جس طرح نفاق اور کفر حقیقی بعض سے صادر ہو تو ان پر لفظ کفر ونفاق تو بولا جائے گا مگر کفر ونفاق حقیقی کے احکام ان پر مرتب نہیں کر سکتے۔ اسی طرح اگرچہ بدعات بہت زیادہ ہیں مگر لفظ مبتدع یا صاحب بدعت اس کو کہیں گے جس میں بدعت کا عقیدہ ہو ۔ اور حدیث شریف میں جو اہل بدعت کے متعلق احکام :حبط اعمال، عدم توقیر، ان کی عیادت سے اجتناب اور انہیں سلام کہنے سے اجتناب وارد ہوئے ہیں، یہ سب بدعت کا عقیدہ رکھنے والے کے
متعلق ہیں[8]۔”
مزید براں حضرت حافظ کی پچھلی عبارس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدعت حقیقی کا مرتکب ہی بدعتی ہے ۔ بدعت حکمی کا مرتکب نہ بدعتی کہلاتا ہے نہ اس پر بدعتی کے احکام جاری کرنا درست ہے۔
اہل بدعت کے ساتھ تعامل کے اصول:
بدعتی کو تبلیغ کرنے کے حوالے سے یہ اصول ذہن میں رکھیں کہ اگرکسی بدعتی کے بارے میں ( اس کی کم عقلی ،کم علمی یا ضد کی وجہ سے) یہ امکان غالب ہو کہ وہ بدعت (جسے وہ ثواب سمجھ کر کر رہا ہے) چھوڑ کر بے دینی اور الحاد کی طرف چلا جائے گا تو اسے اس کی بدعت سے نہیں روکا جائے گا کہ شاید اسے آخرت میں اس بدعت کے ارتکاب میں شبہ کا فائدہ مل جائے۔ لیکن اگر وہ بے دینی اور الحاد کی طرف چلا جاتا ہے تو یہ بدعت سے بڑا منکر ہے کہ جس میں اسے آخرت میں کسی شبہے کا فائدہ ملنے کا امکان بھی نہیں معلوم پڑتا ۔ایسے حالات میں حکمت دین کا تقاضا یہی ہے کہ اس بدعتی کی بدعت پر نکیر نہ کی جائے۔ حضرت حافظ صاحب فرماتے ہیں:
“اگر کوئی ایسا شخص ہو کہ اس کی نظر میں بدعت ہی نیکی اور اسلام کی خوبی ہو، اس کے متعلق یہ خطرہ ہو کہ اگر اس کو اس بدعت سے پھیرا جائےتو شاید اس کی حالت اس سے ابتر ہو جائے تو ایسے آدمی کو ایسی بدعت سے نہیں روکنا چاہیے، کیونکہ وہ اس وجہ سے اس منکر سے زیادہ برے کام یا ترکِ واجب یا ایسے مندوب کے ترک میں گرفتار ہو جائے گا جو اس بدعت سے بھی زیادہ برا کام ہے[9]۔”
احناف اور اہل حدیث میں کوئی اختلاف نہیں :
عوامی سطح پر اہل حدیث اور احناف کو متحارب گروہ سمجھا جاتا ہے ، لیکن شریعت کی بنیادوں پر نظر رکھنے والے علما کرام کے نزدیک دونوں اہل سنت ہی ہیں ، ان کے درمیان کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہے ۔ حافظ محمد گوندلوی بھی عمیق النظر عالم ہیں ، وہ بھی فرماتے ہیں کہ حنفی اہل حدیث اختلافات دونوں طرف سے غالیوں کے مابین ہیں ، دونوں طرف کے معتدل علما کے ہاں یہ اختلاف نہ ہونےکے برابر ہے۔ملاحظہ فرمائیں:
“برادران اسلام پر مخفی نہیں کہ ہندوستان کے اکثر حصے میں اہل سنت کے دو گروہ ہیں: ایک اہل حدیث اور ایک حنفیہ، اگرچہ ان دونوں گروہوں کے غالی افراد کی تحریر وتقریر سے ان میں بہت بڑا فرق نظر آتا ہے مگر انصاف پسند حضرات کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں نہ کوئی اصولی اختلاف ہے اور نہ فروعی، بلکہ صرف اختلافِ فہم ہے[10]۔ ”
اس عبارت کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ صلاح الدین یوسف کہتے ہیں کہ احناف کے تین گروہ ہیں ،ان میں سے ایک گروہ وہ ہے کہ جن کا اصول وفروع میں اہلحدیث سے اختلاف نہیں ۔ اور یہ متقدمین ائمہ احناف ہیں یا وہ لوگ ہیں جو شاہ ولی اللہ دہلوی کے منہج پر ہیں۔ حافظ صلاح الدین یوسف فرماتے ہیں:
“حضرت حافظ صاحب ۔ قدس اللہ روحہ۔ کی علمی پرواز چونکہ نہایت بلند تھی، حلقہ درس میں بھی ان کے وسعت مطالعہ اور دقت نظر کا اس طرح کا اظہار بالعموم ہوتا رہتا تھا کہ کم فہموں کو ان کے سمجھنے میں دشواری پیش آتی تھی۔ چناچہ ان کی اس فاضلانہ تالیف میں بھی ان کے علم وفقاہت کا وفور اور استنباط واستدلال کی قوت عام اہل علم کے لیے شاید حیرت واستعجاب کا باعث ہو… بالخصوص ابتدا ہی میں ان کا بیان کردہ ایک نکتہ شاید بہت سے لوگوں کے لیے ذہنی خلجان کا باعث بنے، اس لیے مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوا کہ فی الحال کم از کم اس کی توضیح کر دی جائے۔ اور وہ نکتہ یہ ہے کہ حضرت حافظ صاحب نے ’’اہل حدیث اور حنفیہ میں اصول اختلاف ہے نہ فروعی‘‘ عنوان قائم کر کے لکھا ہے: اہل حدیث کے اصول کتاب وسنت، اجماع اور اقوال صحابہ ہیں… یہی مسلک امام احمد بن حنبل اور دیگر ائمہ اور اہلحدیث کا ہے[11]۔”
حافظ صلاح الدین یوسف مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“حضرت حافظ صاحب کی زندگی حدیث پڑھاتے ہوئے گزری ہے اور اس میں قدم قدم پر حدیث وفقہ کا ٹکراو سامنے آتا ہے۔اس لیے حافظ صاحب کا فرمان یوں ہی سطحی سا نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ایک طرف ان کے جذبہ وحدت امت کا غماز ہے، جیسا کہ ان کا درس بخاری اس کا شاہد عدل ہے، راقم کو خود اختتام بخاری پر ان کا درس بخاری سننے کا شرف حاصل ہے۔ اس میں شاہ ولی اللہ دہلوی کے حوالے سے اس موقف کو تفصیل سے بیان فرماتے تھے جو شاہ ولی اللہ نے احناف اور اہل حدیث کے درمیان توافق کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔دوسرا حافظ صاحب کا یہ بیان ان کے نہایت گہرے مطالعے اور وسعت کا مظہر ہے۔ اور وہ اس طرح کہ جہاں تک امام ابو حنیفہ اور ان کے جلیل اقدر تلامذہ (امام محمد اور قاضی ابو یوسف وغیرہ رحمہم اللہ) کا اور ان کا سا طرز فکر وعمل اختیار کرنے والوں کا تعلق ہے، اس کو اگر سامنے رکھا جائے تو واقعہ اہلحدیث اور احناف کے اصولوں میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔ اور فروع، اصول کے تابع ہوتے ہیں، اس لیے فروع میں اختلاف بھی کوئی معتد بہ حیثیت نہیں رکھتا[12]۔”
حضرت حافظ محمد گوندلوی کاکہنا یہ ہے کہ برصغیر پاک وہند میں اہل حدیث فکر کے بانی علماء حنفی نسبت رکھتے تھے۔ اور قرین قیاس بھی یہی ہے کہ ہم اہل حدیث حضرات کو کوئی نسبت اختیار کرتے ہوئے مالکی، شافعی یا حنبلی نسبت کی بجائے حنفی نسبت کو ترجیح دینی چاہیے۔ حضرت حافظ محمد گوندلوی لکھتے ہیں:
“اسی طرح اہلحدیث، حنفیہ کی طرف بہ نسبت شافعیہ کے زیادہ مائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی درس گاہوں میں فقہ حنفی موجود ہے۔ مولانا محمد حسین صاحب مرحوم بٹالوی اپنے آپ کو حنفی اہل حدیث کہلایا کرتے تھے۔ میاں صاحب سید نذیر حسین مرحوم کے فتاوی کا اکثر حصہ فقہ حنفی کی کتب سے ماخوذ ہے[13]۔”
مزید لکھتے ہیں:
“حق یہ ہے کہ حنفیہ میں بھی اہلحدیث ہو گزرے ہیں مگر کم ہیں۔ ہندوستان میں چونکہ حنفی مذہب زیادہ ہے، اس لیے ہندوستان کے اہل حدیث مالک، شافعی اور احمد بن حنبل کی طرف منسوب نہیں ہوئے۔ قرین قیاس یہ ہے کہ ان کو امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب ہونا چاہیے مگر عدم تقلید کی وجہ سے، جو حنفی مذہب کی آج کل حزو بن گئی ہے، ان کی طرف منسوب نہیں ہوئے[14]۔ ”
ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی ﷾ ا س کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
“ہندوستان میں کئی ایسے مشہور اور نامور اہل حدیث علماء کا نام لیا جا سکتا ہے جن کی علمی تربیت وپرداخت حنفی مذہب پر ہوئی اور فقہ وفتاوی میں وہ حنفیت کی نسبت کے ساتھ اور حنفی اصول وفروع کی کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے کھلم کھلا عمل بالحدیث کے قائل اور تقلید شخصی کو ناجائز کہنے والے تھے۔ اس سلسلے میں چند نام قابل ذکر ہیں: سید نذیر حسین دہلوی … ان کے شاگرد رشید مشہور محقق اور اپنے وقت کے نامور عالم دین مولانا محمد حسین بٹالوی ہیں، جو سنت کی تائید اور مسلک اہل حدیث کی ترویج واشاعت میں اپنی مثال آپ تھے، اور مجتہدانہ شان کے ساتھ مسائل میں اتفاق واختلاف کرتے اور اپنی حنفی نسبت کے ساتھ ساتھ بلاجھجک عمل بالحدیث خود کرتے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتے تھے۔ تیسرا نام مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری کا ہے جو فاضل دیوبند تھے[15]۔”
امت مسلمہ میں افتراق کا سبب؛ غالی احناف اور اہل حدیث:
حضرت حافظ محمد گوندلوی کا کہنا ہے کہ امت مسلمہ میں افتراق ونتشار کا باعث غالی اور متعصب قسم کے افراد ہیں جو ہر دو گروہوں یعنی احناف اور اہل حدیث میں پائے جاتے ہیں۔ حضرت حافظ صاحب فرماتے ہیں:
“غالی گروہ کے افراد دو قسم کے ہیں: ایک زندیق جو مختلف اغراض کی بنا پر اہل اسلام میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بعض دنیا کمانے کے لیے اس کو بہت موزوں سمجھتے ہیں، بعض دشمنان ملک وملت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، انھی کو شریعت محمدیہ میں منافق کہا جاتا ہے… دوسرا گروہ جو در اصل منافق نہیں مگر غلطی کی وجہ سے غالی ہو گیا ہے۔ ان میں بعض کی غلطی اس وجہ سے ہے کہ دوسرے غالی گروہ کو دیکھ کر کسی ایک فرد کی ڈبل غلطی ومعصیت پر مطلع ہو کر سب کو ایک ہی طرح خیال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ قیاس شبہ ہے، جو علماء کے نزدیک باطل ہے۔قرآن مجید میں اس قسم کا قیاس کفار سے منقول ہے: ﴿اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ﴾ ]البقرۃ: ۲۷۵ [بعض کا غلو اس وجہ سے ہے کہ اس نے غالی گروہ کے ہاں تربیت پائی… اب وہ ان چیزوں کو، جس پر اس نے اپنے آباء واجداد کو پایا، بنظر استحسان دیکھتا ہے اور قوت فکریہ اور عقل سے کام نہیں لیتا۔ اس گروہ کی طرف قرآن مجید نے بایں الفاظ اشارہ کیا ہے: ﴿ وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ﴾ ]البقرة: ۱۷۰[.. یاد رہے کہ غالی گروہ کی شاخیں ہر دو جماعت میں موجود ہیں۔ ترقی کے لیے عام طور پر یہی سدباب ہیں[16]۔”
حضرت حافظ محمد گوندلوی ہر دوفریقین کے متعصب افراد کو اتحاد امت کے لیے زہر قرار دیتے ہیں:
“اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر دو فریق میں غالی افراد موجود ہیں، جو ائمہ دین کے حق میں گستاخانہ کلمات کہتے ہیں، جیسے بعض امام ابو حنیفہ اور بعض امام بخاری کو برا کہتے ہیں۔ فریقین کے معتدل اصحاب ان کو بنظر استحسان نہیں دیکھتے بلکہ ان کو رافضیوں کی طرح خیال کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ امت کے اتحاد کے لیے سم قاتل ہیں۔ بعض افراد کی غلطی دیکھ کر تمام افراد کو برا کہنا تحقیق کے خلاف ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی ہندو بعض مدعیانِ اسلام کی بعض حرکات دیکھ کر اسلام پر اعتراض کرے[17]۔”
حضرت حافظ محمد گوندلوی حنفی متعصبین کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“نیز یاد رکھنا چاہیے کہ اہل حدیث کا مذہب اگرچہ مدون مذہب ہے اور اس کے اصول دوسرے مذاہب کے اصول سے سنجیدہ اور پختہ ہیں … اہل حدیث مذہب جو کتب حدیث کی صورت میں مدون اور مرتب ہے، جس میں قیاسات بعیدہ سے کام نہیں لیا گیا، اس کو مذہب کی فہرست سے خارج کر دیتے ہیں اور یہ فتوی صادر کر دیتے ہیں کہ مذاہب صرف چار ہیں، ان کے سوا اہل سنت کا کوئی
مذہب نہیں[18]۔”
حضرت گوندلوی ؒ حنفی اہل حدیث دونوں فریقین کے متشدد افراد کی مثال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“... اگر کوئی یہ کہے کہ مذکور شخص نے دین میں تحریف کی ہے اور جو دین میں تحریف کرے، وہ جہنمی ہے، اس لیے مذکور شخص جہنمی ہے۔ ہمارا یہ مطلب نہیں کہ شخص مذکور پر فتوی صادر کریں، بلکہ اس کا طرز استدلال بیان کرنا مقصود ہے کہ ایسا طرز استدلال ٹھیک نہیں ، ایسے استدلال سے مغالطہ عامۃ الورود کی طرح ہر شخص وفرقہ کو ناری وغیرہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثال بعینہ آج کل کے بعض متشدد اہل حدیث بلکہ غالی ظاہریوں کی طرح ہے۔ جو کہتے ہیں کہ حنفی چونکہ فاتحہ نہیں پڑھتے تو ان کی نماز نہ ہوئی، جب نماز نہ ہوئی تو بحکم حدیث ’’من ترک الصلوة متعمدا فقد کفر‘‘(جو عمدا نماز چھوڑے، وہ کافر ہے) وہ کافر ہوئے۔ اس قسم کی روش سے اہل علم کو بچنا چاہیے۔ آپس میں اتفاق واتحاد کی کوشش کرنی چاہیے[19]۔ ”
ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی ﷾اس کی وضاحت فرماتے ہیں کہ اہل حدیث حضرات نے تو ہمیشہ احناف اور جماعت اسلامی کے معاملے میں بھی وسعت ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنے اسٹیج اور پلیٹ فارم پر ان کو جگہ دے کر اتحاد واتفاق کی راہیں ہموار کیں۔ مثلا :
’’میں نے خود متعدد بار (ہندو ستان میں اہل حدیث کی مرکزی درس گاہ جامعہ سلفیہ بنارس میں) مختلف اجتماعات میں اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ہمیشہ اسٹیج پر مرکزی جماعت اسلامی ہند، دار العلوم ندوۃ العلماء، جامعۃ الفلاح، دار العلوم دیوبند اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ وغیرہ سے نسبت رکھنے والے حضرات نمائندہ مقام پر نظر آئے۔میں نے از خود جامعہ سلفیہ میں قاری محمد طیب، مولانا اسعد مدنی، مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی،مولانا ابو العرفان ندوی، مولانا محمد یوسف امیر جماعت اسلامی ہند، مولانا رابع ندوی ، وغیرہم علماء کو دیکھا، سنا اور ان سے شرف ملاقات بھی حاصل ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل حدیث نے اپنے اسٹیج پر مختلف مسالک اور جماعتوں کے ذمہ داران کو اکٹھا کر کے اتحاد واتفاق عملی کا درس دیا… آج بھی اہل حدیث مدارس میں ابتدائی درجات سے انتہائی درجات میں فقہ اور اصول فقہ کی ساری بنیادی کتابیں حنفی مذہب ہی کی پڑھائی جاتی ہیں۔ راقم الحروف نے قدروی، شرح وقایہ، ہدایہ اور نور الانوار اور اصول الشاشی جامعہ رحمانیہ اور جامعہ سلفیہ بنارس میں نصاب تعلیم ہی میں پڑھی ہے۔ ایسے ہی ندوہ نے جو عربی زبان وادب سے متعلق کورس تیار کیا ہے، وہ سارے اہل حدیث مدارس میں داخل نصاب ہے۔ ابتدائی درجات میں جماعت اسلامی کے نصاب کی مختلف کتابیں اہل حدیث مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں جماعت اہل حدیث نے نفاذ شریعت کے نام پر لڑے جانے والے انتخابات میں شرکت کرنے والی جماعت اسلامی اور اس کے ہم خیال فورم کی تائید کی۔(لیکن افسوس کہ اہل حدیث حضرات کی اس فراخ دلی پر احناف کی طرف سے کوئی مثبت رد عمل دیکھنے کو نہیں ملا بلکہ مزید تعصب ہی دیکھنے کو ملا)[20]۔
افتراو انتشار کا اصل سبب
حضرت حافظ صاحب کے نزدیک دونوں جماعتوں کے درمیان افتراق و انتشار کا اصل سبب یہ ہے کہ دونوں طرف کے علماء نے اپنے اجتہادات کو مذہب اور دین قرار دے دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں :
“آج کل ہر دو فریق اہل حدیث اور حنفی بھائیوں میں اس قسم کے افراد موجود ہیں جو معمولی معمولی مسائل کی بنا پر سخت تعصب کرتے اور ایک دوسرے کو دیکھنا نہیں چاہتے کیونکہ انھوں نے اپنے بعض اجتہادات کو مذہبی رنگ دے لیا ہے۔ اللہ تعالی کے بندے ہر دو فریق میں بہت کم ہیں۔ ایسی ایسی باتیں دونوں جماعتوں میں موجود ہیں جن کی وجہ سے خلیج افتراق دن بدن ترقی کر رہی ہے[21]۔‘‘
اتحاد میں سب سے بڑی روکاوٹ
حضرت حافظ محمد گوندلوی کا کہنا ہے کہ امت میں اتحاد واتفاق مطلوب ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اس میں سب سے زیادہ رکاوٹ وہ جمعیتیں، جماعتیں اور تحریکیں بن جاتی ہیں ۔ یہ امت میں افتراق انتشار زیادہ پیدا کر رہی ہیں بنسبت اتحاد واتفاق کی راہیں کھولنے کے۔ حضرت حافظ صاحب جماعت اور جمعیت کو ذریعہ سمجھتے ہیں نہ کہ مقصد۔ اس لیے اگر مقصد یعنی اتحاد واتفاق امت میں کوئی جمعیت اور جماعت رکاوٹ بن رہی ہو تو ا سکی بساط لپیٹنے کو اس کے وجود سے بہتر خیال کرتے ہیں۔ حضرت حافظ محمد گوندلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’زیادہ تکلیف دہ یہ چیز ہے کہ شیرازہ بندی کی صورت ہی میں آج کل افتراق ظاہر ہو رہا ہے۔ اور آج کل چونکہ جماعتی دور ہے اور لوگوں کی طبیعتیں اس طرف مائل ہیں، صحیح اور غلط راستے کی پہچان بسبب فقدان علم بہت کم ہے، جو شخص چاہتا اپنے خیالات کو شیرازہ بندی کی صورت پیش کرتا ہے، ہر طرف سے مختلف آوازیں آ رہی ہیں، کوئی پیری مریدی کی صورت میں شیرازہ بندی کو پیش کرتا ہے، جیسے اہلحدیث میں امامت دہلویہ ہے، اس اس نے آہستہ آہستہ تقلید کی صورت اختیار کر لی ہے، جس سے اہلحدیث ہمیشہ منع کرتے آئے ہیں، ان کے معتقدین سوائے اپنے امام کے کسی مسئلہ میں دوسرے عالم سے مسئلہ پوچھ کر عمل کرنے کو تیار نہیں، انھوں نے اپنے امام کو شارع مستقل سمجھ لیا ہے، اس امامت کے خیال کو اتنا درجہ دیا ہے کہ اس وجہ سے دوسروں سے اتنا تعصب کرتے ہیں جتنا افتراق کی وجہ ایک فرقہ کو دوسرے فرقہ سے ہوتا ہے۔ اسی طرح پنجاب کے پیروں اوران کے مریدوں کی حالت ہے، بے پیر کو بالکل تقوی سے خالی قریب قریب فاسق ہی خیال کرتے ہیں۔ اب سیاسی صورت میں یہ فرقے مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئے ہیں، مثلا جماعت احرار، جماعت خاکسار اور جماعت اتحاد ملت وغیرہ، ان سے اہل اسلام کے اتحاد میں سخت رکاوٹ ہو رہی ہے۔ عوام بے چاری حیرت میں ہے، اس کو اتنا ملکہ نہیں کہ ان میں سے کسی فرقہ کی اصلیت سے آگاہ ہو، اس لیے بعض بے چارے اس جماعت اور انجمن کو فتنہ خیال کرنے لگ گئے ہیں اور اتحا دمسلمین ایک عنقا کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ بعض مذہبی لوگوں کا خیال ہے کہ بساط تنظیم کو اٹھا دینا چاہیے کیونکہ یہی اختلاف وافتراق کا باعث ہے[22]۔”
امت مسلمہ میں اتحاد واتفاق کی راہیں:
حضرت حافظ محمد گوندلوی کا کہنا ہے کہ عظیم تر مقاصد کے حصول کی خاطر حنفی اہل حدیث سے بڑھ کر شیعہ سنی اتحاد بھی ہو سکتا ہے۔ وہ اس کے طریق کار کے بارے میں لکھتے ہیں:
“اہل اسلام کا اتحاد کیسے ہو سکتا ہے؟ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ تنظیم اور اتحاد کے بغیر کسی کو زندگی نہیں مل سکتی اور جماعت کی صورت میں ہی اتحاد ہو سکتا ہے۔ اس کوشش میں رہنا چاہیے کہ اہل اسلام کا اتحاد ہو جائے، حنفیہ کا اتحاد ہو جائے، دیوبندیہ کا اتحاد ہو جائے، اہلحدیث کا اتفاق ہو۔ اس کی یہی صورت ہے کہ ہر شخص اور ہر فرقہ اپنی امتیازی خصوصیت کو ایک زائد امر خیال کرے، یا کم از کم دوسرے کو معذور سمجھے۔ یہ اتفاق ہونا حنفیہ اور اہل حدیث میں بہت آسان ہے، اہل سنت اور شیعہ میں بھی کوئی بعید نہیں۔ حنفی اور اہلحدیث اپنی خصوصیات کو امر زائد خیال کریں، شیعی اور سنی ایک دوسرے کو معذور سمجھیں[23]۔”
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اہل حدیث اور احناف کے مابین جب تقلید کے مسئلے میں بنیادی اختلاف کے ہوتے ہوئے اتحاد کیسے ممکن ہے؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت حافظ محمد گوندلوی فرماتے ہیں :
“اہل حدیث اور احناف میں تقلید کا اختلاف: سوال: حنفیہ تقلید کی طرف دعوت دیتے اور اسے واجب کہتے ہیں، اور اہل حدیث تقلید کی مذمت کرتے اور اسے حرام کہتے ہیں تو پھر اتحاد کیسے؟ جواب: حرمت اور وجوب کے قائل دو قسم کے لوگ ہیں: ۱- غالی: جن کےدرمیان نزاع حقیقی ہے۔ ۲- محققین: در اصل ان میں نزاع لفظی ہے۔ جس تقلید کی اہل حدیث مذمت کرتے ہیں اور اس کو حرام کہتے ہیں۔ان کے ادلہ کو اگر دیکھا جائے تو ایسی تقلید کی حرمت ومذمت کا محققین حنفی بھی اقرار کرتے ہیں۔ اور جس تقلید کو حنفیہ واجب کہتے ہیں، اس کےا دلہ کو اگر دیکھا جائے تو ایسی تقلید سے اہل حدیث کو بھی مفر نہیں [24]۔”
حضرت حافظ محمد گوندلوی کا کہنا ہے کہ حنفی فقیہ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ اگر حنفی کسی مسئلے میں اپنے امام کے فتوی کو چھوڑ کر صحیح حدیث پر عمل کر لے تو بھی حنفی ہی رہتا ہے، وہ حنفی مذہب سے باہر نہیں ہو جاتا لہٰذا دونوں فریقین میں اتحاد واتفاق کی یہ راہ قابل عمل ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“سوال: کیا صحیح حدیث اگر مذہب کے خلاف ہو تو اس پر عمل کرنے سے حنفی، حنفیت سے خارج نہیں ہوتا ہے؟ جواب: اس کتاب (رد المحتار از علامہ شامی)میں صاف صاف تصریح فرماتے ہیں کہ جب صحیح حدیث مذہب کے خلاف ہو تو اس پر عمل کر لینا چاہیے، اس وجہ سے وہ حنفیت سے خارج نہیں ہو گا، کیونکہ یہ صحیح حدیث امام کا مذہب ہے۔ جب صحیح حدیث مذہب کے خلاف ہو تو حدیث پر عمل کرے اور یہ اس کا مذہب ہو گا اور اس کا مقلد حدیث پر عمل کرنے سے حنفیت سے خارج نہ ہو گا۔ آپ سے بسند صحیح مروی ہے کہ جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔ یہ بات ابن عبد البر نے ابوحنیفہ اور دیگر ائمہ سے نقل کی ہے۔ امام شعرانی نے بھی ائمہ اربعہ سے اس کو نقل کیا ہے۔ یہ اس شخص کے بارے میں جس کو نصوص میں غور فکر کرنے اور محکم، منسوخ پہچاننے کی اہلیت ہو۔ جب حنفی یا شافعی مثلا دلیل کو دیکھ کر اس پر عمل کرے تو اس کی نسبت مذہب کی طرف صحیح ہے کیونکہ صاحب مذہب نے اذن دیا ہے[25]۔”
حضرت حافظ محمد گوندلوی کا کہنا ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے حنفی اہل حدیث اتفاق کی راہیں کھولنے کے لیے درج ذیل منہج بیان کیا ہے:
“مجھے رسول اللہ ﷺ نے معلوم کرایا کہ حنفی مذہب میں ایک عمدہ طریقہ ہے جو اس سنت معروفہ کے ساتھ ملتا جلتا ہے جو امام بخاری وغیرہ کے زمانہ میں جمع کی گئی ہے۔ تینوں اماموں (ابو حنیفہ، ابویوسف، محمد ) کے اقوال سے اس امام کا قول لیا جائے جو سنت کے زیادہ قریب ہو، اس کے بعد ان فقہائے حنفیہ کے اقوال کی جستجو کی جائے جو علم حدیث کے واقف گزرے ہیں۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن سے اصول میں ائمہ ثلاثہ نے سکوت کیا ہے اور احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں، تو اس کو ضرور ثابت کرنا چاہیے اور یہ سب حنفی مذہب ہے[26]۔ ”
یعنی فریقین اپنے ان محققین کے طرز استدلال کی پیروی کریں جو ایک دوسرے کے منہج کو رد کرنے کی بجائے اس سے استفادے کے قائل ہیں:
“ائمہ محققین کا طرز استدلال: سوال: محقق کا طرز استدلال کیا ہے؟ جواب: ہم نے اہل الرائے اور اہل حدیث کاطرز استدلال الگ الگ نقل کر دیا ہے۔ان کے بین بین محققین کا طرز استدلال ہے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں: ہر زمانے کےمحققین علماء دونوں طریق پر کاربند رہے ہیں۔ بعض پر اہل الرائے کا طرز استدلال غالب رہا اور بعض پر اہل حدیث کا طرز استدلال۔ کسی کو بھی بالکلیہ ترک نہیں کرنا چاہیے، جیسے فریقین سے بہت ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ صریح حق یہی ہے کہ ایک کو دوسرے کے موافق کریں اور ایک کا خلل دوسرے سے پورا کیا جائے[27]۔”
حافظ صلاح الدین یوسف اس حوالے سے وضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے دونوں فریقین کے غالیوں یعنی جامد مقلدین اور ظاہر پرستوں دونوں کی نفی کی ہے اور حق کو ان دونوں کے مابین قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“میں ان سے کہتا ہوں جو خود کو فقہاء سمجھتے ہیں اور ان میں انتہائی تقلیدی جمود آچکا ہے کہ جب ان کو امت میں معمول بہ صحیح حدیث پہنچتی ہے تو اس پر عمل سے انھیں صرف تقلید جامد روک دیتی ہے۔ اور بالکل ظاہر پرست حضرات سے بھی کہتا ہوں جو ایسے فقہاء کا انکار کرتے ہیں جو حاملین علم اور ائمہ دین ہیں کہ یہ دونوں فریق غلط راہ پر جا رہے ہیں۔ یہ کم فہمی کی راہ ہے اور معاملہ (حق) ان دونوں کے بین بین ہے[28]۔”
مزید شاہ ولی اللہ کا قول نقل کرتے ہیں:
“فروعات میں وہ چیزیں لے لی جائیں جن پر علماء متفق ہو جائیں۔ بالخصوص حنفی، شافعی فقہ سے نماز اور طہارت کے متفقہ مسائل لے لیے جائیں۔ اور اگر اتفاق نہ ہو سکے تو پھر ظاہر حدیث اور معروف حدیث کے مطابق عمل کیا جائے۔ ہم کسی صاحب علم کی تحقیر نہیں کرتے، سب طالب حق تھے، تا ہم نبی اکرم ﷺ کے علاوہ ہم کسی اور کی عصمت کا اعتقاد نہیں رکھے۔ اور خیر وشر کی معرفت کے لیے میزان ہمارے نزدیک اللہ کی کتاب اور معروف سنت ہی ہے نہ کہ علماء کے اجتہاد اور صوفیہ کے اقوال[29]۔”
حافظ صلاح الدین یوسف کا کہنا یہ ہے کہ بعض احناف ، حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے اس تجویز کردہ منہج کو تلفیق کا نام دے کر مذموم قرار دے سکتے ہیں لیکن یہ تلفیق مذموم نہیں بلکہ جائز تلفیق ہے کہ جس پر حنفی فقہاء نے بھی عمل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“یہ مذموم تلفیق نہیں، جائز تلفیق ہے: بعض لوگ شاید اس نقطہ نظر کو تلفیق قرار دے کر اسے مسترد کر دیں لیکن یہ رویہ صحیح نہیں۔ تلفیق کا مطلب ہے کہ ایک مذہب کا حامل شخص دوسرے مذہب کی باتیں اختیار کر لے۔ یہ تلفیق مطلقا مذموم نہیں۔ صرف اس وقت مذموم ہے جب مقصد صرف سہولتوں کی تلاش ہو… ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں: حناطی وغیرہ نے ابو اسحاق کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جو شخص ہر مذہب سے آسانیاں اور رخصتیں ہی پسند کرے گا تو اس طرح وہ فاسق ہو جائے گا۔ اور امام ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اس سے وہ فاسق نہیں ہو گا۔ صرف رخصتیں تلاش کرنا بھی امام صاحب کے نزدیک فسق نہیں تو نصوص شریعت کی بالادستی اور عوام کی سہولتوں کے نقطہ نظر سے مختلف مذاہب کی باتیں اختیار کرنا کیسے غلط ہو گا؟ چنانچہ ہر دور میں علماء نے ایسا کیا ہے، خود پاک وہند کے حنفی علماء نے زوجہ مفقود الخبر کے بارے میں فقہ حنفی کی بجائے مالکی فقہ کا مسلک اپنا کر اسے چار سال کے انتظار کے بعد چار مہینے دس دن کی عدت گزار کر نکاح کرنے کی اجازت دی ہے… وہ (مولانا تقی عثمانی صاحب) لکھتے ہیں: ایسی خواتین جنہوں نے نکاح کے وقت تفویض طلاق کے طریقے کو اختیار نہ کیا ہو، اگر بعد میں کسی شدید مجبوری کے تحت شوہر سے گلو خلاصی حاصل کرنا چاہیں، مثلا شوہر اتنا ظالم ہو کہ نہ نفقہ دیتا ہو، نہ آباد کرتا ہو، یا وہ پاگل ہو جائے، یا مفقود الخبر ہو جائے، یا نامرد ہو جائے، اور از خود طلاق یا خلع پر آمادہ نہ ہو، تو اصل حنفی مسلک میں ایسی عورتوں کے لیے شدید مشکلات ہیں، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والا کوئی قاضی موجود نہ ہو، ایسی عورتوں کے لیے اصل حنفی مسلک میں شوہر سے رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے … حضرت حکیم الامت (مولانا تھانوی) قدس سرہ نے ایسے بیشتر مسائل میں مالکی مذہب کے مطابق فتوی دیا ہے[30]۔”
حافظ صلاح الدین یوسف کا کہنا یہ ہے کہ احناف کے اس گروہ اور اہل حدیث میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“حقیقت یہ ہے کہ یہ وہی طرز فکر وعمل ہے جو امام حنیفہ اور ان کے ارشد تلامذہ نے اختیار کیا اور اس میں کوئی خرابی نہیں بلکہ یہ نہایت پسندیدہ، مستحسن اور ایک مسلمان سے مطلوب ہے۔ اور احناف کا یہی وہ گروہ ہے کہ جس کی بابت زیر نظر کتاب میں کہا گیا ہے کہ ان کے اور اہل حدیث کے مابین نہ کوئی اصولی اختلاف ہے اور نہ ہی فروعی[31]۔”
[1] الاصلاح، ص ۲۸۱-۲۸۲
[2] الاصلاح، ص ۲۸۷
[3] الاصلاح، ص ۲۹۳
[4] الاصلاح، ص ۵۲۶
[5] الاصلاح، ص ۳۰۵۔۳۰۶
[6] الاصلاح، ص ۳۰۶-۳۰۷
[7] الاصلاح، ص ۳۴۲
[8] الاصلاح، ص 524
[9] الاصلاح، ص ۳۴۳
[10] الاصلاح، ص ۱۳۱
[11] الاصلاح، ص ۱۲
[12] الاصلاح، ص ۱۴
[13] الاصلاح، ص ۱۵۴
[14] الاصلاح، ص ۱۸۸
[15] الاصلاح، ص ۹۲-۹۳
[16] الاصلاح، ص ۱۳۲، ۱۳۳، ۱۳۴
[17] الاصلاح، ص ۲۲۷
[18] الاصلاح، ص 184
[19] الاصلاح، ص 214
[20] الاصلاح، ص 97۔98
ڈاکٹر صاحب نے مقدمۃ الکتاب میں اس کی چند مثالیں بھی پیش کی ہیں ، پاکستانی معاشرے میں اہل حدیث کی طرف سے احناف کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور اس کے جواب میں احباب دیوبند کے تعصبات کی مثالوں کے لیے ملاحظہ فرمائیں :
1۔ احباب دیوبند کی کرم فرمائیاں ، از علامہ احسان الٰہی ظہیر ؒ
2۔ اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں ، از عمر فاروق قدوسی
[21] الاصلاح، ص ۲۱۸
[22] الاصلاح، ص ۲۱۹
[23] الاصلاح، ص ۲۱۹-۲۲۰
[24] الاصلاح، ص158
[25] الاصلاح، ص 170
[26] الاصلاح، ص 171
[27] الاصلاح، ص162
[28] الاصلاح، ص 20۔21
[29] الاصلاح، ص23
[30] الاصلاح، ص ۲۷، ۲۸، ۲۹
[31] الاصلاح، ص ۲۹