جنوری 2026ء

قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام کل  جماعتی

استحکامِ مساجد و  تحفظ ِ مدارسِ دینیہ سیمینار

قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام کل  جماعتی

استحکامِ مساجد و  تحفظ ِ مدارسِ دینیہ سیمینار

 

اَلْحَمْدُ ِللهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ، وَالصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلٰى خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِيْنَ وَعَلٰى آلِهٖ وَأَصْحَابِهٖ أَجْمَعِيْنَ، أَمَّا بَعْدُ 

اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ

روئے زمین پر ’مساجد‘ مقدس ترین مقام ہیں[1]، جن کے اوّلین بانی انبیاء کرام ہیں[2]۔ جو مساجد کے قیام اور اس کے قریب رہنے کی تمنا کیا کرتے[3]۔ مساجد کی  تعمیروآباد کاری [4]،  عبادت و اذکار[5]، صفائی ستھرائی [6]  اور ان کا تحفظ ودفاع  کرنا ایمان وتقویٰ   کی علامات  ہیں [7]۔ مساجد کو گرانا، ان سے روکنا اور ان میں تخریب وفساد کرنا [8] وغیرہ بدترین گناہ ہیں۔

مساجد و مدارس اسلامی تہذیب کی اساس اور دینی شناخت کی علامت ہیں، خصوصاً اسلامی معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر کے اصل مراکز بھی ہیں[9]۔ نبی کریم ﷺاور خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین مساجد کی آباد کاری میں غیر معمولی دلچسپی لیا کرتے تھے[10]  اور بہت سے اہم ریاستی امور کو مساجد ہی میں طے کیا جاتا تھا۔ زوال ِامت کے اس دور میں صحیح معنوں میں یہی ادارے قرآن کی روشنی ، سیرت کا پیغام ، اتحادو اخوت کا شعور، کردار سازی کی بنیاد، نوجوان نسل کی تربیت [11]اور معاشرتی استحکام کا سرچشمہ ہیں۔ ان کا وجود صرف مذہبی ضرورت ہی نہیں بلکہ قومی و سماجی بقا کی ضمانت بھی ہے۔ ریاستی سطح پر ان کا تحفظ ، آزادی اور معاونت اسلامی تقاضا ہے، جس کے بغیر نہ دین کی بقا ممکن ہے اور نہ  ہی معاشرے کی درست سمت میں پیش رفت ۔

تاریخ شاہد ہے کہ اسپین میں آٹھ سو سالہ اسلامی تہذیب کے خاتمے اور آنے والی نسلوں کو اسلامی تعلیم سے محروم رکھنے کے لیے مساجد و مدارس کو ہدف بنایا گیا۔ مساجد و مدارس اسلام کے قلعے ہیں۔ ان کے وقار کو برقرار رکھنا ملک وملت کو مضبوط اور مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

ضروری تجاویز

مساجد ومدارس کے استحکام اور تحفظ  کو یقینی بنانے کے لیے  چند اہم تجاویز درجہ ذیل ہیں:

  • مساجد میں منظّم انداز سے مردو خواتین[12] کے لیے تلاوت کلام پاک اور کتاب  وسنت کا حفظ وفہم ، تعلیم  وتربیت اور تزکیۂ نفوس  کااہتمام کروایا جائے[13]اور ابلاغِ  دین کایہ عمل شرع و قانون [14]اور اخلاق و حکمت[15]کے دائرے میں انجام دیا جائے۔تاکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ [16]مؤثر طریقے سے سر انجام دیا جا سکے۔
  • مساجد میں ابلاغ دین کے فریضہ کو ریاستی وحکومتی مخالفت ، تقریر وتحریر میں مذہبی و سیاسی  منافرت اور فرقہ وارانہ اشتعال [17]  کے  بجائے امن وسلامتی ، محبت وخیرخواہی  اور اخوت وبھائی چارے کو فرو غ دینے والے ضابطوں میں لایا جائے کہ یہی مسجد کے اعلیٰ مقاصد اور وجود کا  تقاضا ہیں [18]۔
  • مساجد میں  اسلام اور آئین پاکستان [19] کے تقاضوں کے مطابق توحید و رسالت ، عقیدہ ختم نبوت [20] ، مقدس شخصیات  اور شعائر اللہ[21] کے تحفظ  و دفاع کو     ریاست سے متصادم نہ سمجھا جائے ۔ نیز مساجد ومدارس کو ریاست وحکومت کا حریف سمجھنے کے بجائے اسلامی معاشرے کی  تعمیروترقی کا علم بردار سمجھا جائے اور اس حوالے سے پائی جانے والی بدگمانی کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے[22]۔
  • اسلام اور آئین پاکستان کی رو سے کسی قادیانی کو خود کو مسلمان ظاہر کرنے ، اذان دینے، اسلامی شعائر استعمال کرنےاور اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے طور پر منسوب کرنے کی اجازت نہیں[23]۔
  • مساجد و مدارس میں پڑھائے جانے والا نصاب حکومت سے منظور شدہ ہے۔ وفاق المدارس کے زیرِ اہتمام چلنے والے تمام ادارے ماہر اساتذہ اور قابل علماء کی زیر ِنگرانی چل رہے ہیں لہذا نصابِ تعلیم اور اساتذہ کے بارے میں منفی مہم چلانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
  • مساجد و مدارس کی خود مختاری یا ان کےدائرہ کار کو محدود کرنے کے لیے کی گئی کسی بھی مالی معاونت کو مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
  • حکومت مساجد و مدارس کی زمین، تعمیرات، رجسٹری، نقشہ اور تمام قانونی دستاویزات کے مراحل کو آسان بنائے، قبضے اور تنازعات جیسے معاملات کا تصفیہ حکومتی سرپرستی میں فورا ًکروایا جائے۔
  • مساجد و مدارس کو عصری جامعات کی طرح آزاد تشخص دیا جائے اور ریاست ایسے ضوابط نافذ نہ کرے جو غیر ضروری پابندیوں کا باعث بنیں یا عبادت و تعلیم کے ماحول میں رکاوٹ پیدا کریں۔
  • مسجد کی سیکیورٹی، سی سی ٹی وی، روشنی اور داخلی سہولیات کا مناسب انتظام کیا جائے ، خصوصاً شہری علاقوں میں حفاظتی انتظامات جدید تقاضوں کے مطابق ہوں۔
  • ملک بھر میں مساجد و مدارس کی سیکیورٹی کے لیے مستقل نیشنل پروٹیکشن فریم ورک ترتیب دیا جائے جس میں سیکیورٹی، نگرانی، لائسنسنگ ، رجسٹریشن اور تنازعات کے حل کے لیے واضح اور آسان اصول طے کیے جائیں۔
  • ملک بھر میں قائم مساجد و مدارس سے وابستگی رکھنے والے کسی شخص کی منفی سرگرمی کی وجہ سے مساجد و مدارس کے خلاف منفی مہم جوئی درست نہیں۔ کسی بھی مشکوک شخص کی تفتیش کے راستے میں دینی ادارے حائل نہیں، تاہم تفتیش اور احتساب کے لیے ماورائے عدالت اقدامات کی بجائے عدالتی راستے کو اختیار کیا جائے۔
  • مساجد اور دینی مدارس کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے اور میڈیا کی منفی مہمات کی مؤثر روک تھام کے لیے مختلف دینی جماعتوں کے نمائندہ اہلِ علم کا ایک تھنک ٹینک ترتیب دیا جائے جو ٹھوس حقائق اور مثبت پیغام رسانی کے ذریعے کا تدارک اور غلط فہمیوں کا ازالہ کرے۔
  • بجلی، پانی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی بلوں میں مساجد و مدارس کو خصوصی سبسڈی دی جائے تا کہ عبادت گاہوں کا مالی بوجھ کم ہو اور انتظامی امور آسانی کے ساتھ سرانجام پائیں۔
  • مساجد کی انتظامیہ امن ، محبت ، اخوت، رواداری اور خیر خواہی کے اسلامی اصولوں کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
  • مساجد و مدارس کی انتظامیہ کو چاہیے کہ امام، خطیب، مؤذن اور اساتذہ کے معاشی معاملات مستحکم کرے، انہیں ایسا معقول وظیفہ دیا جائے کہ وہ فکری اور معاشی اضطراب سے بے نیاز ہو کر دین کی خدمت پر پوری توجہ دے سکیں۔
  • دینی مدارس کے تعلیمی نصاب، دستاویزات اور امتحانی معیارات کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید بہتر بنانے کے لیے وفاق المدارس اور ذمہ دار علماء اپنا کردار ادا کریں۔
  • دینی مدارس میں ٹیکنیکل اسکلز، کمپیوٹر تعلیم اور زبانوں کے کورسز کے لیے ماہرینِ تعلیم کی زیرِ نگرانی خصوصی پروگرام تیار کیے جائیں تا کہ فارغ التحصیل طلبہ معاشی میدان میں باعزت شرکت کر سکیں۔
  • شہر کی تمام سوسائٹیز میں مساجد و مدارس کی تعمیر میں تمام سنی مکاتب فکر کو مساوی حقوق دیے جائیں۔ اسی طرح تمام حکومتی اداروں میں تمام مسالک کو یکساں نمائندگی دی جائے۔ تاکہ فرقہ وارانہ مسائل سر
    نہ اُٹھا پائیں۔

داعیان

    علامہ  ابتسام الٰہی ظہیر (چیئرمین قرآن و سنہ پاکستان)                          مولانا محمد شفیق مدنی      (مفتی جماعت پاکستان)

       ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی (وائس چیئرمین قرآن و سنہ پاکستان  )                    ڈاکٹر نصیر احمد اختر (سرپرست تنظیم الاساتذہ )

          ڈاکٹر حافظ  شفیق الرحمن زاہد (چیئرمین قرآن و سنہ پنجاب)                                                                      ڈاکٹر حافظ  انس نضر (ناظم دعوت و تبلیغ پاکستان)

 

[1]      ﴿ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ﴾]آل عمران: 96)

          ((أَحَبُّ البِلادِ إلى اللهِ مَساجِدُها، وَأَبْغَضُ البِلادِ إلى اللهِ أَسْواقُها))(صحيح مسلم: 671)

[2]      ﴿ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ﴾]آل عمران: 96[

          ((أَحَبُّ البِلادِ إلى اللهِ مَساجِدُها، وَأَبْغَضُ البِلادِ إلى اللهِ أَسْواقُها))(صحيح مسلم: 671)

[3]       ﴿ رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ﴾                                          ]ابراهیم: 37[

[4]        أنَّ عُثْمانَ بنَ عَفّانَ، أرادَ بناءَ المَسْجِدِ، فَكَرِهَ النّاسُ ذلكَ، فأحَبُّوا أنْ يَدَعَهُ على هَيْئَتِهِ، فَقالَ: سَمِعْتُ رَسولَ اللهِ ﷺ يقولُ: مَن بَنى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنى اللَّهُ له في الجَنَّةِ مِثْلَهُ.

(صحيح مسلم: 533)

[5]       ﴿ فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ۰۰۳۶رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءِ الزَّكٰوةِ يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ۰۰۳۷﴾

 [النور: 36 - 37]

[6]       ﴿ وَّ طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْقَآىِٕمِيْنَ۠ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ﴾                                             ]الحج: 26[

                   ﴿ لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ١ؕ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ﴾(التوبة: 108)

[7]        ﴿ اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ﴾                                      ]التوبة: 18[

((سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ في ظِلِّهِ، يَومَ لا ظِلَّ إلّا ظِلُّهُ: الإمامُ العادِلُ، وشابٌّ نَشَأَ في عِبادَةِ رَبِّهِ، ورَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ في المَساجِدِ...))     (صحيح البخاري: 660)

[8]        ﴿ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِيْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا  خَآىِٕفِيْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ﴾                  ]البقرة: 114[

          ﴿ وَ مَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾           ]أنفال: 24[

                   ﴿وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِيَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا﴾                            ]الحج: 40[

[9]        قول ابن تيمية: وكانت مواضع الأئمة، ومجامع الأمة؛ هي المساجد، فإن النبي ﷺ أسس مسجده على التقوى، ففيه الصلاة، والقراءة، والذكر، وتأمير الأمراء، وتعريف العرفاء، وفيه يجتمع المسلمون عنده لما أهمهم من أمر دينهم ودنياهم"( فتاوى ابن تيمية : 9/ 196)

[10]     أبو سعيد الخدري قال: "كُنّا نَنْقُلُ لَبِنَ المَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكانَ عَمّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ ، فَمَرَّ به النبيُّ ﷺ، وَمَسَحَ عن رَأْسِهِ الغُبارَ...         (صحيح البخاري: 2812)

عبد الله بن عمر أخبر: "أَنَّ المَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفُهُ الجَرِيدُ، وَعُمُدُهُ خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ: وَبَنَاهُ عَلَى بُنْيَانِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالجَرِيدِ وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً: وَبَنَى جِدَارَهُ بِالحِجَارَةِ المَنْقُوشَةِ، وَالقَصَّةِ وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقَفَهُ بِالسَّاجِ"      (صحيح البخاري: 446)

[11]      ((علِّموا أولادَكُمُ الصلاةَ إذا بلَغُوا سبعًا، واضربوهم عليها إذا بلغوا عشْرًا، وفرِّقُوا بينهم في المضاجِعِ))  ( صحيح الجامع: 4026،  صححه  الألباني)

[12]     جاءَتِ امْرَأَةٌ إلى رَسولِ اللَّهِ ﷺ فَقالَتْ: يا رَسولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجالُ بحَديثِكَ، فاجْعَلْ لَنا  مِن نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فيه تُعَلِّمُنا ممّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَقالَ: اجْتَمِعْنَ في يَومِ كَذا وكَذا في مَكانِ كَذا وكَذا، فاجْتَمَعْنَ، فأتاهُنَّ رَسولُ اللَّهِ ﷺ، فَعَلَّمَهُنَّ ممّا عَلَّمَهُ اللَّهُ.(البخاري: 7310)

[13]      ﴿ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ‏ ﴾         ]آل عمران: 164[

[14]     ﴿ وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا﴾                 ]الجن: 18[

[15]     ﴿اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ﴾       ]النحل: 125[

[16]      ﴿ وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾

(آل عمران: 104)

[17]       ﴿ وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١﴾               ]آل عمران: 103[

[18]      ﴿ فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ﴾                                           ]النور: 36[

 [19]     کسی بھی مذہب ، انبیاء، مقدس شخصیات اور شعائر کی توہین پرپاکستان پینل کوڈ (PPC) کا سیکشن “295-A”  لاگو ہوتا ہے ،   جو کوئی بھی آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ   کی شان میں بالواسطہ یا اشارے و کنائے میں گستاخی کرے تو اس پر “295-C” لا گو ہوتا  ہے اور خاص شخصیات ( صحابہ کرام ، ازواج مطہرات ، اہل بیت       اور  خلفائے              راشدین y) کی توہین کرے تو “298-A” کے تحت قانونی کاروائی کی جاتی ہے۔ 

[20]     ﴿ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ﴾        ]الأحزاب: 40[

     «أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي»              (سنن أبي داؤد: 4252)

[21]       ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْيَ وَ لَا الْقَلَآىِٕدَ وَ لَاۤ آٰمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا  مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا﴾    ]المائدة: 02[

     ﴿ ذٰلِكَ وَ مَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ﴾ ]الحج: 32[

     قوله تعالى: ﴿ لَا تُحِلُّوْا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ﴾، لأن الله نهى عن استحلال شعائره ومعالم حدوده وإحلالها نهيًا عامًّا (تفسیر طبری: 9/465)

 [22]     ((إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الحَدِيثِ))         (صحيح البخاري : 6724)

[23]     اگر کوئی قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے ، اذان دے، اسلامی شعائر استعمال      کرے، صحابہ کے القابات اپنے لیے استعمال کرے یا اپنی عبادت گاہ کو مسجد سے منسوب یا موسوم کرے  تواس پر پاکستان پینل کوڈ (PPC) کا سیکشن “298-B&C”لا گو ہوتا ہے۔