جنوری 2026ء

مسئلہ فلسطین پر سعودی عرب کا ہمہ جہتی کردار

 (تاریخی حقائق کا جامع مطالعہ)

مسئلہ فلسطین پر سعودی عرب کا ہمہ جہتی کردار

 (تاریخی حقائق کا جامع مطالعہ)

ڈاکٹر آصف جاوید

موجودہ فلسطین اور مزعومہ اسرائیل کا علاقہ، اسلامی تاریخ میں بلاد شام کہلاتا تھا۔ جو چار سو سال (1517 تا 1917) تک ،سلطنت عثمانیہ کے زیر انتظام رہا ہے۔ اس عرصے میں آبادی کا اكثريتی حصہ مسلمان  اور مسیحیوں پر مشتمل تھا جبکہ یہود  صرف پانچ فیصد تھے ی ۔ جنگ عظیم اول (18۔ 1914)کے دوران عثمانیوں کو شکست دے کر، 1917 میں  برطانیہ بلاد شام پر قابض  ہو گیا ۔ 1920 ء میں لیگ آف نیشنز کے تحت برطانوی مینڈیٹ آف فلسطین قائم ہوا اور صیہونی تحریک کو کھلے عام زمین خریدنے اور آبادی بڑھانے کا خوب موقع دیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم (45-1939)کے اختتام پر، لیگ آف نیشنز کی جگہ اقوام متحدہ کا قیام عمل  میں آیا، جس نے 1947 ء میں برطانوی مینڈیٹ کا خاتمہ کر کے فلسطین کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا ۔ تقسیم میں فلسطینی ریاست کو ٪44  جبکہ یہودی ریاست کو ٪56 علاقہ دیا گیا ۔ عربوں نے   تقسیم  کے اس منصوبہ کو مسترد کر دیا، جبکہ صیہونی تحریک نے اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا، جس پر پہلی عرب اسرائیل جنگ (1948) ہوئی۔

 سعودی عرب کا   علمی اور عسکری کردار:

برطانوی مینڈیٹ آف فلسطین کے دوران ، فلسطین میں یہود  کی آباد کاری  کا منظم سلسلہ شروع ہوا اور یہودی ، منہ مانگے دام دے کر  زمین خریدنے  لگ گئے ۔اس وقت بھی  علمائے نجد نے یہود کو زمین فروخت کرنا نہ صرف  حرام قرار دیا  بلکہ  اس بیع کو  اسلام اور اہل اسلام  کے ساتھ خیانت سے تعبیر کیا۔ علمائے نجد کے  فتویٰ میں سے متعلقہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

بیع الارض الفلسطینية لليهود حرام، لما فيه من تقوية العدو وتمكینه من بلاد المسلمين، ومن فعل ذلك فقد خان الله ورسوله والمومنین.[1]

 ’’یہود کو فلسطینی زمین بیچنا حرام ہے کیونکہ اس سے اہل اسلام کی زمین پر، دشمن کو تمکین و تقویت حاصل ہوتی ہے اور جو شخص بھی یہ کرے گا اس نے اللہ ،رسول اور اہل اسلام کے ساتھ خیانت کا ارتکاب کیا ۔‘‘

1935 میں علمائے حرمین  نے  یہ موقف اختیار  کیا کہ   فلسطین کا مسئلہ  اہل فلسطین  ہی کا نہیں بلکہ  تمام  اہل اسلام  کا مسئلہ ہے اور   فلسطین کے حق میں  کوتاہی،   حرمین شریفین کی حق  تلفی کےمترادف ہے۔ مکہ کانفرنس  (1935 ) کے موقع پر علمائے حرمین نے  یہ اعلامیہ جاری کیا:

قضية فلسطين هي قضية جميع المسلمين، والتفريط في ذلك تفريط فى اول القبلتين وثالث الحرمين.[2]

’’مسئلہ فلسطین، جملہ اہل اسلام کا مسئلہ ہے اور اس بارے میں کوتاہی کرنا ، پہلے قبلہ اور تیسرے حرم کے متعلق کو تاہی ہے‘‘ ۔

1936 میں علمائے نجد نے جہاد  فلسطین  کو   امت مسلمہ پر فرض کفایہ  قرار دیا اور   خصوصی طور سے  مسلم ریاستوں پر  لازم کیا کہ  وہ  اہل فلسطین  کی مدد کریں۔علما ئے نجد کا فتویٰ ملاحظہ  فرمایئے:

الجهاد في فلسطين واجب على المسلمين كفاية، و علی الدول الاسلامية ان تمد اهلها بالمال والسلاح. [3]

’’فلسطین میں جہاد کرنا ، اہل اسلام  پر فرض کفایہ ہے اور اسلامی ممالک پر لازم ہے کہ وہ اہل فلسطین کو مال اور اسلحہ فراہم کریں ‘‘۔

پہلی عرب اسرائیل جنگ (1948 ء )  کے موقع پر  ، سعودی علماء نے  فلسطین کے حق میں فتویٰ دیا کہ   جنگ میں ، اہل  فلسطین   کے ساتھ کھڑے ہونا فرض ہے اور  مظلوم فلسطین کا ساتھ چھوڑ دینا حکم الہی کے خلاف ہے۔ سعودی علماء کے فتوی کی عبارت یہ ہے:

الوقوف مع فلسطين فريضة دينية، ومن تخلف فقد خالف امر الله فى نصرة المظلوم .[4]

’’فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونا دینی فریضہ ہے  اور جو شخص پیچھے ہٹا ، اس نے مظلوم کی نصرت بارے حکم الہی  کے خلاف عمل کیا ‘‘۔

جدید سعودی ریاست  1932 کو  معرض وجود میں آئی  جبکہ  شاہ سعود کے دور ( 1953 )میں  دار الافتاء کا ادارہ قائم کیاگیا، جس کے تحت  مفتی اعظم کا منصب  وجود میں آیا۔ 1953 سے لیکرآج تک   کے تمام سعودی مفتیان عظام اپنے فتوی جات میں اپنے عوام ،  دیگر اہل اسلام  اور  مسلم ممالک کو  اہل فلسطین کی مدد کے لیے  برابر متوجہ کرتے رہے ہیں ۔[5]

سعودی عرب نے علم و افتاء کے میدان میں ہی نہیں بلکہ  شمشیر و سناں کے مقتل میں بھی اہل فلسطین کا بھر پور ساتھ دیا چنانچہ  پہلی عرب اسرائیل جنگ  (1948 )کے موقع پر ، شام ،مصر اور اردن کے ساتھ مل کر  فلسطین کے جنوبی محاذ پر  سعودی دستوں نے عملاً شرکت  کی اور   مالی امداد  کے علاوہ  عرب افواج کو اسلحہ بھی فراہم کیا۔[6]

1956 میں اسرائیل ،  برطانیہ  اور   فرانس نے مصر پر حملہ کر دیا ۔ یہ دوسری عرب اسرائیل جنگ تھی، جسے سویز بحران کا نام بھی دیا جاتا ہے۔سعودی عرب نے اس جارحیت کے خلاف احتجاج کے طور پر، تیل سپلائی بند کر کے مغربی طاقتوں پر دباو ڈالا۔[7]

تیسری عرب اسرائیل جنگ ( 1967)  کے موقع پر ، سربراہی اجلاس خرطوم میں بھی سعودیہ نے،  عرب اتحاد   کے عزم کا  نہ صرف اعادہ کیا  بلکہ  اردن اور  مصر کی افواج کیلیے بھر پور مالی تعاون بھی فراہم کیا۔[8]

چوتھی عرب اسرائیل جنگ ( 1973)   یوم کپور کے موقع پر،  سعودی عرب  نے مصر اور شام وغیرہ کی  بھرپور سیاسی اور مالی  حمایت کی اور اسرائیلی  حمایت  کنندگان کے خلاف ، تیل کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے واضح  اعلان کیا کہ  ہم ، اسرائیل کے حمایتی ممالک کو  تیل فروخت نہیں کریں گے،  جو ہمارے فلسطینی عربی بھائیوں  کے خلاف جارحیت میں شریک ہیں۔  تیل بندی کا  یہی  وہ سعودی اقدام تھا، جس  کے نتیجہ میں، عالمی سطح پر تیل کا مشہور بحران (OPEC Oil Embargo) پیدا ہوا ۔  تیل  کے اس بحران  نے مغربی دنیا کو جھنجوڑ  کر رکھ دیا اور اس حکمت عملی سے سعودی عرب نے  مسئلہ فلسطین، عالمی سطح پر  اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔[9]

  فلسطینی تنظیمات میں سعودی کردار :

1959 ء میں یاسرعرفات نے فتح کے نام سے ایک قومی جماعت بنائی، جو فلسطین کی سب سے بڑی جماعت ثابت ہوئی۔ بنیادی طور پر فتح، حرکة التحریر الفلسطینی کا مخفف ہے، جس کے قیام کا بنیادی مقصد ، مسلح جد وجہد  کے ذریعہ فلسطین کی مکمل آزادی تھا۔ فلسطینی کاز کے لیے  سعودی کردار، مالی اور سیاسی حمایت پر مبنی تھا، اسی وجہ سے سعودی عرب کسی مسلح انقلابی تنظیم کے ساتھ براہ راست  تعاون میں ہمیشہ ہی سےمحتاط رہا ہے۔  البتہ  سیاسی اور سفارتی محاذ پر  اس نے  اپنا کردار  جاری رکھا،  چنانچہ  سعودی عرب نے مسلح انقلاب  کی بجائے  مسلم اتحاد کے ذریعہ،  حرکة التحریر الفلسطینی کوفلسطین تنظیم آزادی کے روپ میں نہ صرف تسلیم کیا بلکہ  رباط اجلاس  1974 کے موقع پر اسے، فلسطین کا  واحد قانونی نمائندہ بنانے اور منوانے میں بھی اہم کردار ادا  کیا۔ [10]

عرب لیگ  کے سربراہی اجلا س  (1964) میں طے کیا گیا کہ فلسطینی عوام کی  ایک مشترک نمائندہ تنظیم بنانا  ضروری ہے چنانچہ 31 مئی 1964 کو یروشلم کے مقا م پر PLO کا قیام عمل  میں لایا گیا ، PLO  در اصل Palestine Liberation Organization کا مخفف  ہے ، اردو میں اسے فلسطینی تنظیم آزادی  کا نام دیا جاتاہے۔PLO میں فلسطین کے مختلف  سیاسی اور مزاحمتی گروپ شامل تھے جن میں  سب سے مضبوط اور مؤثر گروپ فتح کا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ  1969 میں فتح کے راہنما یاسر عرفات کو  PLO کا  چئیرمین منتخب کیا گیا۔  سعودی عرب PLO کے محرک بانی ارکان میں  شامل تھا۔  لہٰذا اس نے  باضابطہ طور پر  PLO کو  فلسطینی عوام کا واحد نمائندہ تسلیم کیا اورسعودی شہر ریاض میں تنظیم آزادی کا باقاعدہ دفتر بنایا گیا، جسے  بعد میں فلسطینی ریاست کے سفارت خانہ  میں بدل دیا گیا۔ سعودی عرب نے مذکورہ  تنظیم  کو مالی، سیاسی اور سفارتی سطح پر سپورٹ کیا تاکہ  اسے عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کی نمائندہ آواز بنایا جاسکے۔ CIA  نے اپنی رپورٹ  میں سعودی تعاون کا تذکرہ  کیا ہے:

Saudi Arabia possesses considerable financial lever_age over Fatah and the PLO but generally has avoided using the blatant pressure tactics employed by other.[11]

1993میںPLO اور اسرائیل کے درمیان اوسلو معاہدہ طے پایا ، جس کے نتیجے میں Palestinian Authority  قائم ہوئی تاکہ  غزہ اور مغربی کنارے پرمشتمل،عبوری حکومت  کا ڈھانچہ بنایا جا سکے۔ او سلو  معاہدے میں سعودی عرب  براہ راست  شریک نہ ہوا مگر اس نےمالی تعاون کے ذریعہ PA کی بھر پورمدد یہاں تک کہ   نوے  کی د ہائی میں  اتھارٹی کے بجٹ کا بڑا حصہ سعودی تعاون ہی سے پورا ہوتا رہا ہے۔سعودی عرب نے فلسطینی اتھارٹی کے قیام کیلئے  300 کے قریب منصوبہ جات کی مد میں 5 ارب ڈالر سے متجاوز تعاون دیا  اور نہ صرف 30 ملین ڈالر دے کر  اتھارٹی کو مالی بحران سے نکالا بلکہ اسے مالی اعانت فراہم کرنے کی غرض سے عالمی سطح  پر ایمرجنسی فنڈ بھی قائم کیا اور اپنی طرف سے اس فنڈ میں 90 ملین ڈالر ز تعاون کرنے کا وعدہ کیا۔[12]

1987 ء کو حماس کے نام سے ایک مزاحمتی تحریک وجود میں آئی، جو فلسطینی سرزمین پر اخوان کے زیر اثر قائم ہوئی تھی۔ سعودی عرب نے ابتدا میں، حماس کو فلسطینی  جدو جہد آزادی کا حصہ سمجھا اور بعض رفاہی اور دینی اداروں کے ذریعہ اس کے ساتھ تعاون کیا ۔ بعد میں ایک وقت آیا کہ حماس کے حد درجہ عسکری کردار کی وجہ سے حماس سعودی تعلقات میں کھچاؤ پیدا ہو گیا اس  کے باوجود انتخابی جیت کے نتیجہ میں قائم ،  حماسی حکومت کو سعودی عرب  نے تسلیم کیا۔

2006 کے پارلیمانی انتخاب میں، حماس نے اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی مگر حماس اور فتح کے درمیان، سکیورٹی معاملات اور اسرائیلی تعلقات کے مسئلہ پر شدید اختلاف ہوا،  جس کی وجہ سے فلسطین  میں خانہ جنگی کے حالات پیدا ہو گئے ۔ اس نازک موقع پر سعودی عرب نے فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی اور شاہ عبد اللہ نے اپنی ضمانت اور میزبانی میں، فلسطین کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا،  جسے مکہ معاہدہ 2007ء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[13]

 عربی تنظیمات اور امریکی معاہدات میں سعودی کردار:

دوسری جنگ عظیم (45۔1939) کے دوران، آزادی کے لیے  تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں چنانچہ برطانوی اور  فرانسیسی تسلط کے خلاف، دنیائے عرب میں بھی اتحاد کی ضرورت محسوس ہوئی اور اسی ضرورت کے تحت ، عرب  لیگ (1945 )کا قیام عمل میں لایا گیا۔ عربی اتحاد کے ساتھ ساتھ ،مسئلہ فلسطین پر مشترکہ موقف اختیار کرنا  بھی، عرب لیگ کا بنیادی مقصد تھا۔  یہی وجہ ہے کہ فلسطین ،اس کے ابتدائی اجلاسوں کا سر فہرست ایجنڈا تھا۔سعودی عرب نے شروع ہی سے، عرب لیگ کو مسئلہ فلسطین کے حل کا فورم قرار دیا  اور  فلسطین سے متعلقہ اجلاسوں میں انتہائی فعال کردار ادا کیا۔ سعودی عرب    نے اس فورم پر سب سے زیادہ نہ صرف فلسطین کے تحفظ پر زور دیا بلکہ عرب لیگ کے بانی  رکن کی حیثیت میں، مالی تعاون سے بھی دریغ نہیں کیا۔[14]

1969 میں ایک صیہونی انتہا پسند نے مسجد اقصی کو آگ لگا دی، جس کے خلاف   مسلم دنیا میں شدید رد عمل سامنے آیا اور اسی نازک موقع OIC  (Organization of Islamic Cooperation)قائم ہوئی۔ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی حفاظت کے لیے  اجتماعی کوشش کرنا اور مظلوم فلسطینی عوام کے لیے  سیاسی و سفارتی حمایت حاصل کرنا ،اسلامی تنظیم  کا بنیادی مقصد  تھا۔ سعودی عرب OIC کے بانی ممالک میں شامل تھا بلکہ رباط کے تاسیسی اجلاس میں شاہ فیصل نے بنیادی کردار ادا کیا ۔ اسلامی تنظیم کا مرکزی دفتر جدہ، سعودی عرب میں واقع ہے۔ سعودی عرب ، تنظیم کی ہمیشہ ہی سے مالی مدد کرتا آیا ہے اور اس نے مسئلہ فلسطین کو اسلامی تنظیم کا سب سے اہم ایجنڈا بنا ئے رکھا ہے۔[15]

2002 میں عرب امن مہم کا منصوبہ سامنے آیا جس کا تصور، سعودی فرمانروا شاہ عبد الله بن عبد العزیز نے دیا تھا اور جسے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس منعقدہ بیروت میں منظور کیا گیا۔اس منصوبے کا حاصل یہ تھا کہ اسرائیل، 1967 کے مقبوضہ فلسطینی علاقہ جات سے مکمل انخلا کرے اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے ،جس کے عوض تمام عرب ممالک، اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں گے اور اس کے ساتھ مکمل تعلقات قائم کریں گے ۔ عرب امن منصوبہ پیش کرنے اور اسے اقوام متحدہ تک پہنچانے میں، سعودیہ نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ آج بھی عرب امن  مہم کا منصوبہ ، سعودی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے۔[16]

جنوری 2020 میں امریکی صدر ٹرمپ نے  مسئلہ فلسطین حل کرنے  کا  امن منصوبہ پیش کیا  جسے (Deal of the Centaury) کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق  ،  مغربی کنارے پر  اسرائیل کا  کنٹرول ہو گا اور اسرائیل کا دار الحکومت یروشلم ہو گا جبکہ  حماس  وغیرہ کو غیر مسلح ہونا پڑے گا۔ مذکورہ امن منصوبہ ،جانب دار شرائط  پر مبنی تھا چنانچہ  متنازع قرار پایا  ،جسے   فلسطینی اتھارٹی نے مسترد کر دیا کہ   یروشلم برائے فروخت نہیں ہے۔  ٹرمپ منصوبے کے متعلق   سعودی   عرب کا موقف یہ تھا  کہ  ہم ،   ٹرمپ کی امن جد و جہد کو سراہتے ہیں مگر  ریاض، فلسطینی موقف سے پیچھے نہیں  ہٹے گا  کیونکہ اصل امن،  فلسطینی عوام کی  رضا  ہی سے ممکن ہے۔[17]

اگست 2020 میں  امریکی صدر ٹرمپ نے  ابراہیمی  معاہدات  (Abraham Accords)  کا آغاز کیا جس کے بنیادی مقاصد میں، اقتصادی اور عسکری اہداف  کے ساتھ ساتھ ، عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات استوار  کرنا  بھی شامل تھا۔ چند عرب ممالک ؛ بحرین، مراکش، سوڈان، اردن وغیرہ  ابراہیمی معاہدات میں شامل ہوگئے مگر امریکی دباو کے باوجود سعودی عرب ، معاہدات میں  شامل نہیں ہوا  کیونکہ اس کے نتیجہ میں،  مسئلہ فلسطین کا دو  ریاستی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا  ۔چنانچہ ابراہیمی معاہدات کے متعلق سعودی حکام  نے واضح  کیا  کہ سعودی عرب ، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گا جب تک،1967 سے قبل کی  سرحدوں  پر  آزاد فلسطینی ریاست قائم  نہ ہو جائے ، جس کا دار الحکومت مشرقی یروشلم ہو۔[18]

مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ میں سعودی کردار:

اقوام متحدہ کے اجلاس  منعقدہ 1947ء کے ایجنڈا میں مسئلہ فلسطین بھی شامل تھا۔ جس کے نتیجہ میں بلاد شام (فلسطینی زمین  ) کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔اس موقع پر فلسطین کے متعلق سعودی عرب کا پہلا باضابطہ کردار سامنے آیا چنانچہ جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس (28 اپریل تا 15 مئی 1947) میں، تقسیم فلسطین کی مخالفت کرتے ہوئے واضح الفاظ  میں اپنا موقف دیا کہ فلسطین عرب زمین ہے اور وہاں یہودی ریاست قائم کرنا ظلم ہے، جس کے نتیجہ میں جنگ اور بد امنی ہو گی۔ سعودیہ نے تقسیم فلسطین کی قرار داد کے خلاف ووٹ دیا اور سعودی نمائندہ نے قرار داد پر  زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا:

Starting with the orignal sin of deciding on 29 November, 1947. on the dismemberment of the people most directly and intimatiety...The Question of Palestine pertains to the fate of the Palestinian Arab peoples their entisty. The sons of this People belong to this land of Palestine.[19]

’’اصلی گناہ جرم کا آغاز کرتے ہوئے،  27 نومبر 1947 کو فلسطینی تقسیم کا فیصلہ اس کے انتہائی براہ راست اور دلچسپی کے حامل عوام کی اجازت کے بغیر کیا گیا۔ فلسطین کا مسئلہ در حقیقت، فلسطینی عرب عوام کی تقدیر مستقبل سے متعلق ہے اور اس قوم کے  بیٹے اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔

پہلی عرب اسرائیل جنگ ( 29 دسمبر 1948)کے دوران اقوام متحدہ (سکیورٹی کونسل)  نے ایک قرار داد منظور کی، جس کے ذریعہ مصر اور اسرائیل سے سیز فائز کا فوری مطالبہ کیا گیا اور جنگ بندی پر عملدر آمد یقینی بنانے کی غرض سے قرار دیا گیا کہ جو فریق بھی سیز فائز کی خلاف ورزی کرے گا، سکیورٹی کونسل اس کے خلاف اقدامات کرے گی، سکیورٹی کونسل کی جانب سے  مذکورہ قرارداد  کے  متعلق سعودیہ کو باضابطہ طور پر مطلع کیا گیا، جس کے جواب میں نائب وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری  جنرل کو ٹیلی گرام کر کے سعودی موقف بیان کیا کہ سعودی حکومت پہلے ہی سے، فلسطین میں جنگ بندی اور قیام امن کے لیے  کام کر رہی ہے۔ فلسطین میں انصاف اور امن کو یقینی بنانے کے لیے  ہم، سکیورٹی کونسل کے ساتھ تعاون پر تیار ہیں البتہ ریکارڈ درستی کے لیے  نوٹ کروانا چاہتے ہیں کہ سیز فائر کی خلاف  ورزی عربوں  نے نہیں بلکہ یہود نے کی ہے۔ مذکورہ ٹیلی گرام کا متن یہ ہے:

The Saudian Arabian Government have taken note of the said resolution but they observe that it was the Jews and not the Arabs who have violated the Truce. The Suadi Arabian Government togather with the States of the Arab League who are willing for peace and working for the stabilization of security and truce in Palestine are ready to co-operative with the Security Council in all that ensurance peace and justice and settlement in Palestine. SU, Searity Council.[20]

تیسری عرب اسرائیل جنگ (1973) کے بعد بھی سعودیہ نے مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھائے رکھا  اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے   ہر  فورم پر آواز اٹھائی، چنانچہ سعودی و زیر خارجہ عمر السقاف نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا:

إن قضية فلسطين هي قضية العرب الأولى، والمملكة العربية السعودية تدعم حق الشعب الفلسطینی في تقرير مصيره واقامة دولته على ترابه  الوطنی.[21]

’’مسئلہ فلسطین عربوں کا سرفہرست  مسئلہ ہے اور سعودی مملکت، فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور اپنی سرزمین پر ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہے‘‘۔

1982ء میں شاہ فہد  نے مسئلہ فلسطین سے متعلق ایک امن  منصوبہ پیش کیا اور یہی امن منصوبہ، اقوام متحدہ میں سعودی  موقف کی بنیاد   سمجھا جاتا ہے چنانچہ شاہ فہد نے اقوام متحدہ سے خطاب میں فرمایا:

المملكة تؤمن بأن السلام لا یتحقق الا بانسحاب اسرائیل من جميع الاراضي العربية المحتلة عام 1967، وبقيام الدولة الفلسطیينة المستقلة وعاصمتها القدس.[22]

’’مملکت کو یقین ہے کہ جب تک اسرائیل، 1967ء میں عرب کی تمام مقبوضہ زمینوں سے انخلا نہ کرے اور جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو جائے، جس کا دار الحکومت القدس ہو، اس وقت تک امن کا قیام  ناممکن ہے‘‘۔

95-1993میں اسرائیلی حکومت اور فلسطینی تنظیم آزادی  کے مابین او سلو معاہدہ طے پایا ۔ سعودی عرب نے اوسلو معاہدے کی مشروط حمایت کی اورقرار دیا کہ  اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ، فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلا کرے۔سعودی وزیر خارجہ سعود فیصل نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں، اقوام متحدہ کی قراردادوں  پر عمل  کے لیے  دنیا سے اپیل کرتے ہوئے کہا:

توكد المملكة دعمها لحق الشعب الفلسطینی في اقامة دولته المستقلة على ارضه، وتدع المجتمع الدولي الى ضمان تنفيذ قرارات الشرعية الدولية ...[23]

’’سعودی مملکت، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ،فلسطینی عوام کے حق کی حمایت کرتی ہے اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کر تی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا نفاذ یقینی بنائے ‘‘۔

 عرب لیگ کے اجلاس (منعقدہ2002) میں ،سعودی شہزاد ے  عبداللہ بن عبدالعزیز نے عرب امن منصوبہ پیش کیا۔اس منصوبے میں مسئلہ فلسطین کا  دو ریاستی مشروط حل تجویز کیا گیا تھا، جسے عرب لیگ نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ اسی منصوبہ  کے بنیادی مضمون کو  دو ریاستی حل کی قرارداد بنا کر ، سعودیہ کی مشاورت اور تائید سے اردن نے جنرل اسمبلی میں جمع کروا دیا، جسے اقوام متحدہ نے امن کے فریم ورک کے طور پر  ایجنڈے میں شامل کیا اور تاریخ میں پہلی بار مسئلہ فلسطین کو  نہ صرف اقوام متحدہ کے  ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا  بلکہ دو ریاستی حل کی  مذکورہ قرار داد  منظور بھی ہوئی، جس کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کے دو ریاستی حل کو سراہا گیا ، 1967 میں اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر سمجھا گیا  اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا فلسطینی حق خودارادیت تسلیم کیا گیا۔  قرارداد کے   متعلقہ اقتباسات پیش خدمت ہیں:

Welcoming the vision of two States: Israel and Palestine, living side by side within secured and recognized borders... Reaffirming the necessity of ending the Israeli occupation that began in 1967…. Reaffirming the right to self- determination and to their independent State of Palestine.[24]

2009 میں  اسرائیل نے   غزہ کے خلاف (Operation Cost Lead)  کے نام پر بڑی جارحیت کا مظاہرہ کیا، اس کا مقصد  حماس  کے عسکری ڈھانچے کو  مکمل تباہ کرنا تھا۔ آپریشن  کے نتیجے میں   عام فلسطینی ،ہزار  وں کی تعداد میں شہید ہوئے اور غزہ کو تہس نہس کر دیا گیا  ، جس  کے خلاف  انسانی حقوق   کی تنظیمات نے آواز  اٹھائی  اور اقوام متحدہ   کو سکیورٹی  کونسل  کا اجلاس بلانا پڑا۔ سکیورٹی کونسل کے خصوصی اجلاس (منعقدہ 2009 )میں سعودی عرب نے موقف اپنایا کہ جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کرنا کونسل کی ذمہ داری ہے ۔ سعود یہ نے تشویش کا اظہار کیا کہ غزہ میں جاری تنازع، انسانی المیہ میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہوتا جارہا ہے لہٰذا غزہ میں تشدد ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنا اور تصادم بچاؤ کے لیے  ہنگامی بنیادوں پر  کار روائی کرنا سکیورٹی کونسل کا فرض ہے۔  اس کے نتیجہ میں 18 جنوری 2009 کو فریقین کے مابین   سیز فائر ہو گیا[25]۔

اقوام متحدہ ،جنرل اسمبلی نے 2012 میں ایک قرار داد منظور کی، جس کے تحت فلسطین کو غیر رکن مبصرریاست کا درجہ دیا گیا ۔ یہ قرار دار فلسطینی صدر  محمود عباس نے پیش کی تھی، جس پرووٹنگ سے قبل، سعودی مندوب نے مذکورہ قرار داد کی نہ صرف کھل کر حمایت کی بلکہ اس نمائندگی کو فلسطینی عوام کے جائز حق کی توثیق قرار دیا۔ سعودی مندوب عبداللہ معلمی کے بیان کا اقتباس ملا حظہ فرمایئے:

The Kingdom of Suadi Arabia fully supports the Palestinian application to upgrade this status in the United Nations. This is a gitmate and overdue step towards recognizing their right to self-determination and statehood.[26]

’’مملکت سعودی عرب ،فلسطینی حیثیت میں بہتری کےلیے ، اقوام متحدہ میں دائر درخواست کی مکمل حمایت کرتی ہے، جو ان کے قیام ریاست کے مسلمہ حق ،حق خود ارادیت  کو تسلیم کرنے کی جائز اور دیرینہ خواہش ہے ‘‘۔

اقوام متحدہ ،جنرل اسمبلی نے 2013 میں سعودی عرب کو دو سال (15۔2014) کےلیے سکیورٹی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا، مگر اگلے ہی روز سفارت سعودی وزارت خارجہ نے اس رکنیت سے انکار کر دیا ۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں، سعودی انکار کے اس علامتی احتجاج کو غیر معمولی فیصلہ سمجھا گیا۔ رکنیت قبول نہ کرنے کا ایک بنیادی سبب یہ بھی تھا کہ سکیورٹی کونسل منصفانہ بنیادوں پر مسئلہ فلسطین حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لہٰذا جب تک کونسل میں ضروری اصطلاحات نہ کر دی جائیں، جو اسے موثر طور پر اپنے فرائض ادا کر نے قابل بناتی ہوں ، سعودی مملکت اس کی رکنیت سے اجتناب انکار کرتی ہے ۔ سعودی وزیر خارجہ کا سرکاری بیان مطالعہ کیجئے !

The Kingdom of Saudi Arabia is refraining from membership of the United Nations Security Council until? it has been reformed and enable to carry out its duties and assume its responsibilities to resolve the Palestine Case for over Sixty-five years.[27]

2024میں  فلسطینی اتھارٹی نے درخواست دی کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے۔ اس فلسطینی درخواست کو الجزائر نے سکیورٹی کونسل میں جمع کروایا ۔ سکیورٹی کونسل کے 15 / 12  ارکان نے مذکورہ سفارش کی حمایت کی مگر  اسے امریکہ نے ویٹو کر دیا اور قرار داد منظور نہ ہو سکی،  جس پر اظہارافسوس کرتے ہوئے سعودی عرب نے ویٹو  اقدام کو  اسرائیلی قبضہ کے جواز بلکہ دوام سے تعبیر کیااور مذکورہ قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنا موقف دہرایا۔سعودی وزارت خارجہ کے بیان کا اقتباس یہ ہے :

The Kingdom of Saudi Arabia expresses its regeret over the failure of the United Nations Security Council to accept the State of Palestine,s full membership. This contributes to perpetuating the intransigence of the Israeli occupation.[28]

امریکی ویٹوکے رد عمل میں سعودی عرب، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے   دوبارہ متحرک ہو گیااور مختلف عربی، اسلامی اور یورپی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد’’اتحاد برائے تنفیذ دو ریاستی حل ‘‘  کے نام سے ایک عالمی فورم بنایا اور سعودی عرب نے اقوام متحدہ، جنرل اسمبلی کے اجلاس( 27 ستمبر 2024ء )میں بین الاقوامی اتحاد کا اعلان کر دیا، جو اتحاد کا محض رسمی اعلان ہی نہ تھا بلکہ فلسطین کے متعلق سعودی عرب کے اہم سفارتی اقدام کی علامت بھی تھا  ۔چنانچہ  سعودی وزیر خارجہ نے دیگر ممالک کو اتحاد شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا :

اليوم نيابة على الامم العربية والاسلامية و مع شركائنا الاورو یبين، نعلن اطلاق: التحالف الدولي لتنفيذ حل الدولتين، ندعوكم للانضمام إلى هذا المبادرة[29].

سعودی عرب نے  بین الاقوامی اتحاد  برائے تنفیذ دو ریاستی حل  کے موقع پر فلسطینی ریاست سے متعلق    اپنا موقف دہرایا کہ  1967 سےقبل کی سرحدوں پر  قائم ہو ،جس کا دار الحکومت  مشرقی یروشلم ہو۔سعودی وزیر خارجہ نے سکیورٹی کونسل پر واشگاف الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ  فلسطینی بحران ختم کرنے کا  اخلاقی اور قانونی ذمہ دار ، سکیورٹی کونسل کا ادارہ ہے مگر اس موضوع پر مباحثے، سیاسی مفادات  کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور انہی مفادات  نے  سکیورٹی کونسل کو  اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روک رکھا ہے۔[30]

جنرل اسمبلی نے خصوصی اجلاس (دسمبر 2024)میں قرار دیا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں  کے مطابق، مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر غور کے لیے  عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا ، چنانچہ کانفرنس ہذا کے شریک چیئرمین/ چیئرپرسن  کے طور پر سعودی عرب کو منتخب کیا گیا ۔ سعودی عرب نے مجوزہ طریقہ کار کے مطابق، کانفرنس کے انعقاد میں شریک چیئر اور سفارتی قائد کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجہ میں 30۔ 28 جولائی 2025 کو، نیو یارک میں اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے اختتام پر، دو ریاستی  پرامن حل کے لیے   اعلامیہ جاری کیا گیا۔ نیو یارک اعلامیہ کے حاصل نکات یہ ہیں:

This Declaration commits to taking tangible, time-bound and irreversible steps for the peaceful settlement of The Question of Palestine and the implementation of the Two-state Solution…… We agreed to take collective action to end the war in Gaza, to achieve a Just, Peaceful and lasting settlement of the Israeli-Palestinian Conflict…… The only way to address the legitimate aspirations of both Israelis and Palestinians is though the two-state formula ….. Any refusal to accept the two-State solution by any party must be firmly rejected.[31]

’’اعلامیہ ہذا ،مسئلہ فلسطین کے پر امن اور دو ریاستی حل کے لیے  مضبوط ، مؤقت اور ناقابل واپسی  اقدامات کرنے کا عہد کرتا ہے ۔۔۔۔۔  غزہ  میں سیز فائر کرا نے اور اسرائیل، فلسطین تنازعے کا منصفانہ،پر امن اور دیرپا حل ممکن بنانے کی خاطر، مشترکہ کاروائی  کرنے پر ہم  نے اتفاق کیا ہے۔۔۔۔۔۔ دوریاستی فارمولہ ہی کے ذریعہ فریقین (اسرائیل،فلسطین) کے جائز مطالبات کا حل ممکن ہے ۔۔۔۔ کسی فریق کی جانب سے دوریاستی حل سے انکار کو سختی سے مستردکیا جانا چاہیے‘‘۔

مذکورہ قرار داد کے حق میں 142اور  مخالفت میں 10 ریاستوں نے ووٹ دیا،  جن میں امریکہ اور اسرائیل بھی شامل تھا جبکہ 12 ریاستیں قرار داد سے غیر متعلق رہی ہیں۔نیو یارک اعلامیہ کا  ایک بنیادی نکتہ،  غزہ  میں سیزفائر بھی تھا۔  اعلامیہ میں واضح کیا گیا تھا کہ   جنگ بندی کے لیے  امریکہ ، مصر اور قطر کا کردار  اہم ہو گا اور ہم   اس کی حمایت کرتے ہیں۔ امریکہ نے ریاستی سطح پر اگرچہ ،  نیو یارک قرارداد کے خلاف ووٹ دیا  تھا تاہم  امریکی صدر ٹرمپ نے ذاتی حیثیت میں  دلچسپی لے کر، 13 اکتوبر 2025 کو  غزہ جنگ بندی  معاہدے کا اعلان کر دیا ، جس کے لیے  مصر، قطر اور ترکی  نے ضامن کا  کردار نبھایا۔  سعودی عرب نے   غزہ  میں جنگ بندی  کا مقدم کیا اور سیز فائر کو  خوش آئند قرار دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین  کے متعلق    اپنے تاریخی موقف  کا  اعادہ بھی کیا۔ سیز فائر  کی حد تک سعودی موقف اگرچہ ، ٹرمپ منصوبہ سے ہم آہنگ ہے تاہم  مسئلہ فلسطین کے   پر امن اور دیرپا حل کے لیے ، سعودی  عرب کا موقف زیادہ جامع ہے  ا ور بین الاقوامی   اصول و ضوابط پر مبنی ہے!

 

[1]              فتاوی علمائے نجد: 6/190

[2]               وثائق موتمر مكة المكرمة : 1935

[3] فتاوی کبار علمائے نجد، رسائل: 1936

[4] منشورات رابطة علماء الحجاز : 1948

[5]              تفصیلات کے لیے   درج ذیل لنک  ملاحظہ کیا جا سکتا ہے : https://alifta.gor.sa_

[6] King Abdulaziz Foundation …Saudi Role in Palestine 1948

[7] Leage of Arab States Communique, Cairo, November 1956

[8] Khartoum Arab Summit, Final Communique, 1Sep. 1967

[9]              Time Magazine: Interview with King Faisal, October 1973

[10]              Sayiga, Yezid. Armed Struggle and the Search for State: The Palestinian
   National Movement, -1949-93. Oxford University, 1947, pp. 95-102

[11]                             CIA documents: Arab States Influence on the Palestine………

[12]             https://www.aranews.com / https://www.aa.com.tr

[13]             BBC news. Mecadeal for Palestinian Unity Al Jazeera Archive Meeca Agreement 

8 Feb 2007

[14]                             Resolution Issued by the Extraordinary Arab and Islamic Summit.

https://www.mofa.gov.sa

[15]             Saudi Arabia Announces Monthly Financial Support… In the Gaza Strip and its

Surroundings. https://una.oic.org.

[16]                             The Palestinian Cause and Reginal Leadership, 7  Feb 2024. https://www.iai.it.

[17]             Saudi Press Agency, 28 Jan 2020,Al Arabia Feb 2020

[18]             https://www.Almonitor.com

[19]                             UN Resulation: Palestine Question  GA debate Verbatim Reord. No. 181. 1947

[20]                             unrestricted S/1202, 11  January, 1949

[21]             UN General assembly, 29th Session, 1974, Official Records (A/PV. 2261)

[22]             UN Document A/37/Pv.57, 1982-Statement by the Delegation of Saudi Arabia.

[23]                             UN General Assembly, 54th Session, 1999- Statement by H.R.H   Prince saud Al

Faisal (UN Doc A/54/PV.53)

[24]             United Nations General Assembly Resolution No.A/RES/57//110 “Peaceful

Settelement of the Question of Palestine”.

[25]             United Nations SC to End Violance in Gaza dated:6 janvery 2009

[26]             UN General Assembly, 67th Session, A/67/PV  44  Dated:29  Nov 2012

[27]                             Saudi Ministry of Foreign Affairs, Riyadh 18  Oct 2013. Reported by Ruters & Al-

Arabia

[28]             Saudi Ministry of Foreign Affairs, Anadolu Agency,19  April 2024

[29]                         فيصل بن فرحان آل سعود ،وزير الخارجية السعودي الجزیرة 27 ستمبر 2024

[30]             United Nations General Assembly, 79th Sesion, New York, dated: 27 Sep 2024

[31]                             Draft Decision: New York Declaration on the Quation of Palestine (A/80/L.1)

UN High- level International Conference…. : A/CONF. 243/2025/1