منبر ومحراب کی قیمت
منبر ومحراب کی قیمت
مسلم معاشرے کی بقاء اور استحکام میں مساجد اور آئمہ کرام کا کردار مرکزی نوعیت کا رہا ہے۔جیسے متمدن ممالک میں ریاست اپنے نظامِ حکومت، دفاع اور نظمِ عامہ کو برقرار رکھنے اور بہتر سے بہتر بنانے کے لیے افواج، پولیس، عدلیہ، بیوروکریسی اور دیگر انتظامی ادارے قائم کرتی ہے اور ان کے اہلکاروں کی تربیت کے لیے باقاعدہ اکیڈمیاں قائم کرتی ہے، جہاں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ قومی خدمت، دیانت، نظم اور اخلاقی ذمہ داری کا شعور پیدا کیا جاتا ہے، مسلم معاشروں میں یہی کردار اپنی اعلیٰ ترین شکل میں ’’مسجد‘‘ ادا کرتی ہے۔ اسلامی معاشروں میں مسجد صرف مرکزِ عبادت ہی نہیں ہوتی، بلکہ تعلیم، عدل، مشاورت اور اجتماعی شعور کی درسگاہ کی ذمہ داری بھی نبھاتی ہے۔مسجد بلاشبہ ایمان کی حفاظت، علم کی ترویج، عمل کی ترغیب، کردار کی تعمیر اورخدمتِ خلق جیسے امور کے فروغ کی ضامن ہے۔
اجتماعیات میں مسجد کے اسی متحرک کردار کے پیش نظر سیدنا آدم نےسب سے پہلی مسجد بیت اللہ کی تعمیر کی، بعد میں سیدنا ابراہیم نے اس کی بنیادیں اٹھائیں، اللہ تعالیٰ نے اسے باعثِ برکت اور جہانوں کے لیے مرکز ہدایت قرار دیا۔
نبی کریم ﷺنے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو سب سے پہلے وہاں مسجد تعمیر کی۔ اور وہاں صرف پنج وقتہ نماز ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ اسلامی ریاست کا بنیادی مرکز تھا جہاں سے تعلیم،دعوت، عدل، مشاورت، سیاست اورقیادت کے شعبے پروان چڑھے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسجد نبوی ہی کے فیض یافتگان نے اسلام کی روشنی سے عرب کے گوشے گوشے کو منور کر دیا، پھر ہر بستی، ہر گاؤں اور ہر شہر میں مساجد تعمیر کی گئیں۔بعد ازاں جب عرب کی سرزمین سے باہر نورِ اسلام پھیلا تو اس روشنی کا منبع بھی یہی مراکز و مساجد تھیں ۔ یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ مسلم معاشرے میں ہمیشہ مساجد علمی و روحانی بقا کاذریعہ بنی رہیں اور اسی اعتبار سے انہیں تقدّس و احترام حاصل رہا ۔
بعد میں جب مساجد سے اُن کی یہ مرکزی حیثیت چھین لی گئی، ان کی جگہ شاہی درباروں کو عزّت و عظمت کی علامت سمجھ لیا گیاتو امت پر زوال و ادبار کے سائے منڈلاتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ آج ہم اس دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہمہ جہتی زوال نے ہر طرف اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔
خالق کائنات کو اپنی کائنات میں سب سے پسندیدہ مقام مساجد ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا[1].
’’اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب جگہیں مساجد ہیں‘‘۔
مساجد کی آبادکاری کو ایمان کی دلیل قرار دیا گیا ہے، فرمایا:
﴿اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ﴾ [التوبة :١٨]
’’ مساجد صرف وہ تعمیر کرتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور یوم آخرت پر ۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہیں کسی آدمی کے متعلق معلوم ہو کہ وہ مسجد کی دیکھ بھال کرتا ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دے دو[2]۔ تاریکی میں مسجد جانے والوں کے لیے کامل نور کی بشارت ہے[3]۔ نبی کریم ﷺ نے مساجد میں آنے والوں کو اللہ کے مہمان قرار دیا ہے[4]۔ مساجد سے دل لگانے والے روزِ قیامت باری تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہونگے[5]۔ [ذکرِ الٰہی یا جماعت کے انتظار میں ] مساجد میں محض بیٹھنا ہی گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے[6]۔مسجد میں جو مقصد لے کر جائیں پورا ہوتاہے[7]۔ اس طرح کے بہت سے دلائل مساجد کی اہمیت کو واضح کرتےہیں۔
مسجد مسلمانوں کی دینی ضرورت کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے پاکیزہ اور پائیدار معاشرے کی تشکیل کرتی ہے، جس میں افراد باہمی ہمدردی، ایثار اور غمگساری کے جذبات سے سرشار ہوتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بے قرار ہو جاتا ہے[8]۔ باہمی ہمدردی کے اس جذبے کو پروان چڑھانے میں مسجد بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
دورِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ سماجی، انتظامی اور مشاورتی مرکز بھی تھی۔
خوفِ خدا، معاشرتی اصلاح اور اخلاقی تربیت کے تناظر میں مسجد کے کردار کو دیکھا جائے تو وہ یقیناً یونیورسٹیز، کالجز اور سکولز سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔ مساجد کے آئمہ کرام، خطباء عظام اور قراء کرام کی محنت اور ان کا کردار ہر سطح کے اساتذہ اور موٹیویشنل سپیکرز سے ہر اعتبار سے بڑھ کر ہے۔
پنجاب حکومت نے آئمہ مساجد کے لیےماہانہ تنخواہ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام اس اعتبار سےیقینا ًخوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ جو کام آج تک کسی حکومت کی ترجیح نہیں رہا وہ موجودہ حکومت سرانجام دینے جارہی ہے۔ اس بارے اگرچہ بہت سے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں، لیکن اصولی طور پر اس اقدام کو سراہا جانا چاہیے۔ تاہم یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ قدم جس انداز سے اٹھایا جارہا ہے، کہیں اس مقدس پیشے کی تضحیک اور تحقیر کا سبب تو نہیں بن جائے گا؟اس کی تفصیل میں جانے سے قبل مسجد کے کردار اور اہمیت کو جاننا ضروری ہے، تاکہ اس کی اصل حیثیت ہمارے سامنے رہے۔
مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں مساجد اور مساجد کے متعلقین کے لیے حکومتی کاوشوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
- ہماری رائے میں مساجد کے آئمہ کرام کے لیے پچیس ہزار روپے کی تنخواہ نہ صرف ان کے ساتھ مذاق ہے، بلکہ ان کی حیثیت کو غلط طور پر جانچنے کا نتیجہ ہے۔پنجاب حکومت آئمہ کرام کی یہ خدمت ایسے وقت میں سرانجام دے رہی ہے جب اس نے خود چند ہفتے پہلے مزدور کی کم ازکم ماہانہ اجرت چالیس ہزار روپے مقرر کی ہے۔ اس کے برعکس حکومتی عہدوں پر فائز بہت سے ملازمین لاکھوں میں تنخواہ لے رہے ہیں۔صحافیوں، فنکاروں، گلوکاروں، شاعروں، ادیبوں اور رقاصوں کے علاوہ فروغِ کلچر کے لیے قائم اداروں اور دیگر بہت سے ملازمین کے لیےکروڑوں کے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ سب سے مقدس پیشے سے وابستگان محض پچیس ہزار کے حق دار ٹھہرے ہیں۔
- آئمہ و خطباء کی سرپرستی بجا طور حکومتی ذمہ داری ہے، لیکن خدشہ ہےکہ باقاعدہ کوئی نظام وضع کیے بغیر یہ خدمت کلفت نہ بن جائے۔ اس لیے باقاعدہ نظام وضع کیا جانا چاہیے جس میں میرٹ ہو اور اسے خویش نوازی، اقربا پروری اور بدعنوانی سے مکمل محفوظ رکھا جائے۔
- اعانت کا اعلان صرف پینسٹھ ہزار مساجد کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ ٹائمز آف کراچی اور بعض دیگر ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ اقتصادی مردم شماری ۲۰۲۳ء کے اعداد وشمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں مساجد کی تعدا تین لاکھ ستائس ہزار دو سو ایک ہے۔ سوال یہ ہے کہ اعانت کے لیے مساجد کا انتخاب کیسے ہوگا؟اس کے لیے وہ کون سا میرٹ ہے جس کے تحت اس عمل کی شفافیت کو ملحوظ رکھا جاسکتا ہے؟
- یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا آئمہ و خطباء کی ماہانہ اعانت مستقل طور پر جاری بھی رہ پائے گی یا یہ محض وقتی ہے؟اور یہ بھی کہ کیا آئندہ کی حکومتیں بھی اسے قائم رکھ سکیں گی یا نہیں؟ اس لیے کہ اس اعانت کے بعد لوگوں کا یہ رجحان بن جائے گا کہ امام صاحب تو حکومت سے تنخواہ لے رہے ہیں، لہٰذا وہ چندہ جمع کرنے کے ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔ اور اگر کچھ عرصہ بعد یا اگلی حکومت نے اسے ختم کردیا تو یہ عمل مساجد کے نظام کو بگاڑ کے رکھ دے گا۔
- اس اعانت کے بعد اگر حکومت ترکی یا عرب ریاستوں کی طرح مساجد کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کرے اور لادینی اور سیکولر سوچ کے تحت مساجد کو چلانے لگے تو یہ عمل ایک نئے انتشار کا باعث ہوگا، جو کسی طوربھی ریاست کے مفاد میں نہیں۔ مساجد کا کنٹرول مسلم معاشرے کے ہی سپرد رہنا چاہیے اگر برصغیر میں انگریز تسلط کے بعد سے لے کر آج تک مسلم معاشرہ مساجد کے بارے میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہا ہےتو آئندہ بھی مایوسی نہیں ہوگی۔
- آئمہ مساجد کے لیےپچیس ہزار روپے کے اس اعلان کے بعد عوامی حلقوں میں بہت سی تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ سانحہ مریدکے کے بعد حکومت اس اعانت کو مذہبی کارڈ کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ اور یہ کہ حکومت اپنی پالیسیوں کی وجہ سے اپنے دائیں بازو کے ووٹر کو اپنے مخالف کرچکی ہے اور ائمہ کی اعانت کی بدولت اس ووٹر کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اعانت کا مقصد وقف املاک پر تسلط جمانا ہے۔ نیز یہ کہ ہارڈسٹیٹ بنانے کے لیے مساجد کو پابند کرنا مقصود ہے۔ ہمارے نزدیک یہ سب ظنون محض گمان اور امکانات ہیں، امید ہے کہ حکومت یہ سب نیک نیتی کے ساتھ کررہی ہے اور اگر حکومت اپنے ان اقدامات کے پیچھے معمولی سی بھی بدنیتی رکھتی ہے تو نہیں بھولنا چاہیے کہ مساجد میں خرابی کا ارتکاب اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتےہیں:
﴿ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِيْ خَرَابِهَا اُولٰٓىِٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىِٕفِيْنَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۱۴﴾ [البقرة: 114]
’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام ذکر کرنے سے روکے اور اس کی خرابی کے درپے ہو ؟ انہیں تو یہ چاہیے تھا کہ مسجدوں میں اللہ سے ڈرتے ڈرتے داخل ہوتے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے‘‘۔
ہماری نظر میں آئمہ مساجد کی ماہانہ تنخواہ کا حکومتی اقدام یقینا خوش آئند ہے، بشرطیکہ یہ منبرومحراب کے تقدس اور ان کے مقام ومرتبے کو درست طور پر چانچنے کے بعد کیا جائے۔ منبر و محراب کی حرمت اتنی بلند ہے کہ اس کا مول جنت سے کم نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ یہ منبر اُن دلوں کی امانت ہے جو علم کے نور اور ایمان کی حرارت سے منوّر ہیں۔اس کے حقیقی ورثاءعلمائے حق ہیں، جن کی قیمت دنیا کے خزانے نہیں چکا سکتے، کیونکہ اُن کے ضمیر آسمانی امانتوں کے امین ہیں اور آسمانی امانتیں زمینی سکّوں سے نہیں خریدی جاسکتیں۔
مساجد کے ساتھ جو مسلمانوں کے دل جڑے ہوئے ہیں اور منبر رسول ﷺ کی جو عظمت اہل ایمان کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہے ، کہ وہاں سے اٹھنے والی آواز تقدس کے ساتھ ساتھ ایک اثر اور قبولیت بھی رکھتی ہے ، تو حکومت کو چاہیے کہ منبر و محراب کے ورثا کے ساتھ مخاصمت کا رویہ رکھنے یا اس آواز کو محدود کرنےیا کی بجائے اسے قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے استعمال کرے اور امت کے اتحاد و اتفاق کا ذریعہ بنائے ۔
ستائیسویں ترمیم اور استثنا کا مسئلہ
پاکستان کی مقننہ کی تاریخ بھی دوسرے اداروں سے کم افسوس ناک نہیں ہے ۔ قوم کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے قانون بناتے ہوئے ہمیشہ قوم کی بجائے اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہیں ۔ ان میں بعض اعلیٰ عہدوں پر متمکن شخصیات کے استثنا کا مسئلہ ہے ۔ پہلے قانون میں انہیں اپنے عہدوں پر رہتے ہوئے استثنا حاصل تھا ، لیکن ستائیسویں ترمیم میں انہیں تاحیات استثنا دے گیا ہے ۔ایک طرف ملک میں کرپشن بڑھتی جارہی ہے اور دوسری طرف جن کےہاتھ میں ملک کی باگ ڈور ہے وہ قانون ، عدالت اور قوم کو جواب دہ ہی نہیں ہیں ، ایسی صورت میں کرپشن کیونکر ختم ہوگی اور ملک کیونکر چلے گا !!
استثنا کی شرعی حیثیت کے لیے ملاحظہ فرمائیں :ماہنامہ محدث ،مارچ 2012ء ،صفحہ 70،مضمون بعنوان : ’’صدارتی استثنا اور اسلام‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔
(ڈاکٹر جواد حیدر)
[1] صحیح مسلم ، کتاب باب أحب البلاد الی الله ...:670/288
[2] سنن ترمذی، أبواب التفسیر ، باب تفسیر سورة التوبة :3093
[3] سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة ، باب ماجاء فی المشی الی الصلاة فی الظلام :561
[4] سلسلة أحادیث صحیحة:1169
[5] صحیح البخاری،کتاب الأذان ، باب من جلس فی السجد ینتظر الصلاة ...:660
[6] سنن تر مذی ، کتاب الصلاة ، با ب ماجاء فی العقود فی المساجد :330
[7] سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب فی فضل العقود فی المسجد :472
[8] صحیح بخاری ، کتاب الأدب ، باب رحمة الناس و البهائم :6011، صحیح مسلم : 2586