شرح كتاب التوحيد (صحيح بخاری) قسط (12)
شرح كتاب التوحيد (صحيح بخاری) قسط (12)
بَابُ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: ﴿ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا﴾ [النساء: 134]
اللہ تعالیٰ کا ارشاد :’’اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے بہت سننے والا ، بہت دیکھنے والا ہے ۔ “
امام بخارینے مذکورہ باب میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات سمیع اور بصیر کو دلائل سے ثابت کیا ہےاور ان لوگوں کا رد کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر ہیں یا لفظ سمیع و بصیر کو مانتے ہیں لیکن عملی صفات کا انکار کرتے ہیں ۔ ان دونوں ناموں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی سمع (سننا) اور بصر (دیکھنا) جیسی صفاتِ ذاتیہ کے اثبات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
قرآن مجید میں السمیع کا لفظ 44 مرتبہ آیا ہے ۔ جن میں سے 31 مرتبہ علیم کے ساتھ مل کر اور 11 بار بصیر کے ساتھ مل کر ۔ایک مرتبہ سمیع الدعاء (مضاف مضاف الیہ ) اور ایک ہی بار لفظ قریب کے ساتھ مل کر ﴿ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ﴾آیا ہے۔
دوسری صفت البصیر ، قرآن مجید میں 41 مرتبہ آئی ہے۔دوسری صفات کے ساتھ مل کر بھی اور بندوں کےاعمال کی طرف مضاف ہو کر بھی ۔
یہ دونوں معنوی اور عقلی صفات کہلاتی ہیں۔ صفات معنویہ اور عقلیہ میں سات صفات آتی ہیں : حیات،قدرت،علم ،ارادہ ، سمع، بصر اور کلام ۔
سمع و بصر تکمیل اور خوبی ہے جبکہ سمع و بصر سے خالی ہونا نقص ہے ۔ اسی لیے ابراہیم نے اپنی قوم کے بتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے انہی نقائص کی طرف اشارہ کیا تھا ، فرمایا:
﴿اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَ لَا يُبْصِرُ وَ لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔا۰۰۴۲﴾ [مريم: 42]
”جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا : ابا جان ! آپ ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ تمہارے کسی کام آسکتی ہیں ۔“
کان اور آنکھوں کا اثبات
سمع و بصر کان اور آنکھ کے افعال ہیں ، کتاب و سنت میں اللہ تعالیٰ کےلیے عین (آنکھ )اور اذن (کان ) کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں ، ارشاد فرمایا:
﴿ وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا ﴾ [هود: 37]
”اور ہماری آنکھوں کے سامنے ایک کشتی بناؤ ۔“
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَا أَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ»[1].
”اللہ تعالیٰ کسی بات کے لیے اس قدر کان نہیں لگاتا جس قدر وہ نبی کی طرف کان لگاتا ہے جب وہ خوب صورت/بلند آواز سے قرآن پڑھتا ہے ۔“
حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا ۔۔۔۔ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۰۰۵۸﴾[النساء: 58] فَيَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ وَيَقُولُ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ أُصْبُعَيْهِ [2].
”ابو یونس بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ سے سنا کہ آپ نے آیت کریمہ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا ... ﴾ پڑھتے ہوئے سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا پر اپنے انگوٹھے اپنے کانوں پر اور ساتھ والی انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں ، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے اپنی انگلیاں ( کان اور آنکھ پر ) رکھتے دیکھا ہے ۔‘‘
یعنی نبی ﷺ نے اللہ کے سمیع ہونے سےمراد اللہ کے کان اور بصیر ہونے سے آنکھ مراد لی ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے سمیع و بصیر ہونے کاانکار
بعض لوگ کہتے ہیں کہ کان کی جھلی سے آوازکا ٹکرانا سمع ہے ، اور آنکھ کی شعاع کا مقابل کی چیز پر پڑنے اور ریفلکٹ ہونے کا نام بصر ہے ۔چونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسی چیزوں کاثابت کرنا اس کی شان کے خلاف ہے، اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے سمع و بصر کا انکار کردیا ۔
کائنات کی تخلیق وسائل اور ذرائع پر کی گئی ہے ، سننے اور دیکھنے کا یہ سسٹم دراصل مخلوق کے لیے ہے ،تاکہ وہ اس کو سمجھ سکے اور اگر ان میں خرابی پیدا ہوتو اس کا علاج کرسکے ۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ سمجھنا کہ خالق بھی ایسے ہی سنتا اور دیکھتا ہے یا وہ بھی سننے اور دیکھنے کے لیے ان چیزوں کا محتاج ہے ، قطعاً غلط ہے ۔ باقی رہا کہ وہ کیسے سنتا اور دیکھتا ہے تو ہم کہیں گے کہ جیسے اس کی شان کے لائق ہے ۔
اللہ کےسمیع و بصیر ہونےکی تأویل
بعض لوگ ان صفات ِ الٰہیہ کی تأویل کرتے ہیں کہ سمع و بصر سے مراد سننا اور دیکھنا نہیں، بلکہ کسی چیز کے متعلق علم رکھنا ہے۔یہ بات بھی قطعاً غلط ہے ، کیونکہ اندھا بھی جانتا ہے کہ کائنات میں رنگ ہیں ،دن روشن اور رات تاریک ہوتی ہے ، لیکن دیکھ نہیں سکتا۔ بہرہ جانتا ہے کہ کائنات میں آوازیں ہیں ، لیکن سنتا نہیں ہے۔ جاننے کے باوجود اندھا اور بہرہ ہونا نقص ہے، لہٰذا سمیع و بصیر کا معنی ٰ جاننا کریں تو یہ اللہ کے لیے نقص ہوگا۔
یہ صفات اللہ تعالیٰ کےلیے خاص نہیں ہیں بلکہ مخلوقات کے لیے بھی ثابت ہیں ، ارشاد گرامی ہے :
﴿اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۰۰۲﴾ [الإنسان: 2]
’’ہم نے انسان کو (مرد اور عورت کے ) مخلوط نطفہ سے پیدا کیا جسے ہم الٹ پلٹ کرتے رہے پھر اسے سننے اور دیکھنے والا بنا دیا۔‘‘
یہ صفات اللہ کے لیے ثابت ہوں گی تو اس کی ذاتی اور اس کی شان کےمطابق ہوں گی ، جب انہیں مخلوق کےلیے ثابت مانیں گے تو مخلوق اور عطائی ہوں گی ۔
اللہ تعالیٰ عرش معلیٰ پر ہونے کے باوجود ہر چیز کو دیکھتا اور ہر آواز کو سنتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿اِنَّهٗ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ۰۰۵۰﴾ [سبأ: 50]
’’وہ یقیناً سب کچھ سننےوالا ہے اور قریب ہے۔‘‘
اسی بات کو ثابت کرنے کے لیے امام بخاری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موقوف روایت معلقاًً لائے ہیں :
وَقَالَ الأَعْمَشُ، عَنْ تَمِيمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: الحَمْدُ لِلهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الأَصْوَاتَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ﴿قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [المجادلة: 1]
’’امام اعمش ، سیدنا تمیم سے، وہ عروہ سے وہ سیدہ عائشہ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کی سماعت ہر قسم کی آواز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔( پھر خولہ بنت ثعلبہ کا قصہ بیان کیا ) ،جس پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ..﴾ ”یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے متعلق آپ سے جھگڑ رہی تھی۔‘‘
یہ معلق روایت ہے کیونکہ اعمش (ابن سلمہ الکوفی) صغیر تابعی ہیں ، امام بخاری براہ راست ان کے شاگرد نہیں ہیں ، یعنی امام بخاری نے اپنے اور اعمش کے درمیان کی سند کو حذف کردیا ہے۔ البتہ احمد ، نسائی اور ابن ماجہ نےاسے موصول اور پورے سیاق سے بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَاءَتْ خَوْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا، فَكَانَ يَخْفَى عَلَيَّ كَلَامُهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ﴿قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِيْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ﴾ [المجادلة: 1][3].
’’سیدہ عائشہ فرماتی ہیں :تمام تعریفیں اللہ کی ہیں ، جس کی سماعت تمام آوازوں کو محیط ہے۔ بلاشبہ سیدہ خولہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے خاوند کا شکوہ کیا ، (میں اسی کمرے میں ہونے کے باوجود ) ان دونوں کی بات مجھے سنائی نہ دی ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا: ﴿قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ..﴾ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملے میں آپ سے بحث کررہی تھی اور اللہ کے سامنے( اپنے مسئلہ کا ) شکوہ کررہی تھی اور اللہ تعالیٰ آپ دونوں کی گفتگو سن رہا تھا ۔‘‘
اس میں اللہ تعالیٰ کی صفت سمع کا اثبات ہے۔
7386 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَكُنَّا إِذَا عَلَوْنَا كَبَّرْنَا، فَقَالَ:ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا، تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا قَرِيبًا»، ثُمَّ أَتَى عَلَيَّ وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، فَقَالَ لِي: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ، قُلْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الجَنَّةِ، - أَوْ قَالَ أَلاَ أَدُلُّكَ بِهِ .
’’ہمیں سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہمیں حماد بن زید نے بیان کیا، انہیں ایوب سختیانی نے ، انہیں ابو عثمان نہدی نے اور انہیں ابو موسیٰ اشعری نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو بلند آواز سے اللہ اکبر کہتے ۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا : لوگو! اپنے آپ پر رحم کرو ! اللہ بہرا نہیں ہے اور نہ وہ دور ہے ۔ تم بہت سننے ، بہت واقف کار اور قریب رہنے والی ذات کو پکار رہے ہو ۔ پھر آنحضرت ﷺ میرے پاس آئے ۔ میں اس وقت دل میں لا حول ولا قوة الا با لله کہہ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اے عبد اللہ بن قیس ! لا حول ولا قوة الا با لله کہا کرو کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں(جنت کے خزانے کے متعلق) نہ بتادوں؟(پھر آپﷺ نے لا حول ولا قوة الا با لله پڑھنے کا حکم دیا)‘‘۔
شرح الحدیث
’’أربعوا‘‘ کا مطلب ہے:نرمی کرو ، آہستہ بولو۔
صحابہ کرام سفر میں بلندی پر چڑھتے ہوئے بلند آواز سے تکبیرات پڑھ رہے تھے ، تو رسول اللہ ﷺ نے آہستہ آواز میں ذکر کرنے کا حکم دیا ،اور ساتھ فرمایا: تمہارا رب بہرا اور غائب نہیں کہ تم اسے اتنے زور زور سے پکار رہے ہو ، وہ تو سمیع قریب ہے ، لہٰذا آہستہ آواز میں اس کا ذکر کرو ۔
اللہ تعالیٰ نے نماز کے حوالے سے بھی یہی تعلیم دی ہے ، فرمایا:
﴿وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۰۰۱۱۰﴾ [الإسراء: 110]
’’اور اپنی نماز نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھ نہ بالکل پست ، بلکہ درمیانہ انداز اختیار کیجئے ۔‘‘
مزید اللہ تعالیٰ حضرت زکریا کے واقعہ میں دعا کے آداب بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا۰۰۳﴾ [مريم: 3]
’’جب زکریا نے اپنے پروردگار کو چپکے چپکے پکارا ۔‘‘
جب رسول اللہ ﷺ نے آہستہ آواز میں ذکر کرنے کا حکم دیا تو حضرت ابو موسیٰ دل میں لاحول و لا قوة الا بالله پڑھنے لگے ۔ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے عبد اللہ بن قیس ! لاحول ولا قوة الا بالله پڑھا کرو ، بلاشبہ یہ جنت کے خزانوں میں سےہے ۔ یہاں پر یہ حدیث لانے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت ابو موسیٰ جو دل میں ذکر کررہے تھے اللہ تعالیٰ نے اسے سن کر اس کی فضیلت کے حوالے سے اپنے رسول پر وحی نازل فرمادی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بے پناہ سماعت کی دلیل ہے ۔
« أَوْ قَالَ أَلاَ أَدُلُّكَ بِهِ »
یعنی دوسری سند میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کی خبر نہ دوں ؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ ذکر اور اس کی فضیلت بتائی ۔
حدیث سے کئی فوائد ملتے ہیں:
- سفر میں ذکر الٰہی پر مداومت اختیار کرنی چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیادہ بلند آواز سے نہیں کرنا چاہیے بلکہ نارمل انداز میں کرنا چاہیے۔
- بلندی پر چڑھتے ہوئے الله اکبر اور دوسری حدیث کے مطابق نیچے اترتے ہوئے سبحان الله کہنا چاہیے۔
- لاحول ولا قوة الا بالله جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
7387 -7388 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي، قَالَ: «قُلِ:اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَغْفِرَةً ، إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ».
’’ ہمیں یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ،کہ مجھے ابن وہب نے بیان کیا ، کہ مجھے عمرو نے یزید کے واسطے سے خبر دی ، انہیں ابو الخیر نے ، انہوں نے عبد اللہ بن عمرو سے سنا کہ ابو بکر صدیق نے نبی ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو:(جس کا ترجمہ یہ ہے:)’’اے اللہ ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی نہیں بخشتا۔ اپنی جناب سے میرے گناہ بخش دے ۔ بلا شبہ آپ بڑے مغفرت کرنے والے ، بڑا رحم کرنے والے ہیں ‘‘۔
لطائف الاسناد
سیدنا ابوبکر صدیق سب سے پہلے ایمان لائے ، ساری زندگی سفر وحضر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے۔اس کے باوجود ان کی روایت کردہ محض پانچ احادیث ہم تک پہنچی ہیں ۔ منکرین حدیث نے اس کی بنیاد پر کہنا شروع کردیا ہےکہ اگر احا دیث شریعت کی بنیاد ہوتی تو ابوبکر اتنی تھوڑی احادیث کیوں بیان کرتے ؟ اس کی وجہ بڑی سادی ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ منتخب ہوئے تو عرب قبائل نے بغاوت کردی ، بعض نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ، اس کے علاوہ جھوٹی نبوت کے دعوے دار اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ پہلے دن سے ہی ان شورشوں اور بغاوتوں کا قلع قمع کرنے میں لگ گئے اور صرف اڑھائی سال بعد آپ کی وفات ہوگئی ۔ یعنی حالات نے آپ کو روایت حدیث کا زیادہ موقع نہیں دیا۔
شرح الحدیث
اس حدیث میں تشہد کے آخر پر سلام پھیرنے سے پہلے ایک دعا پڑھنے کا تذکرہ ہے ۔ یہ موقع دعا کی قبولیت کا ہے ، جیساکہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:
ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ، فَيَدْعُو [4].
’’ (تشہد پڑھے ) پھر جو دعا اسے پسند ہو وہ کرے۔‘‘
احادیث مبارکہ میں اس موقع کے لیے بہت سی د عائیں وارد ہیں، ان میں ایک دعا یہ ہے جو اس حدیث میں مذکورہے:
اس دعا میں غور طلب بات یہ ہےکہ ابو بکر صدیقانبیاء کے بعد سب سے عظیم المرتبت شخصیت ہیں۔ ان کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا : تمہیں جنت کے آٹھوں دروازوں سے بلایا جائے گا‘‘[5]۔ اس کے باوجود نبی ﷺ نے ا ٓپ کو جو دعا سیکھائی اس میں ہے(إني ظَلَمتُ نفسي ظلماً کثیراً)’’ میں نے بہت زیادہ اپنی جان پر ظلم کیا ہے ‘‘۔ اگر ابوبکر صدیق کے گناہوں کو زیادہ کہا گیا ہے تو ہمارے حالت کیا ہوگی ؟ اس لیے کبھی گناہ کو معمولی اور حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
حدیث کا باب سے تعلق
اعتراض کیا گیا کہ اس حدیث کا تعلق باب (اللہ کی سمع و بصر) سے نہیں ہے۔ لیکن غور کریں تو امام بخاری کی باریک فہمی کو داد دینی پڑے گی ، زیر بحث حدیث کاکئی وجوہ سے مذکورہ باب سے تعلق ہے :
- جب کو ئی شخص اللہ کو مخاطب کرکے دعا مانگتا ہے ، تو پہلے وہ اللہ کے سمیع و بصیر ہونےکا اقرار کرتا ہے۔
- نماز میں دعائیں آہستہ پڑھی جاتی ہیں تو اس سے اللہ تعالیٰ کا سمیع و بصیر ہونا از خود ثابت ہوجاتا ہے۔
- امام ابن بطال نے جواب دیا کہ:
اس دعا کا سکھانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دعا کو سنتا ہے اور اس پر جزا دیتا ہے۔
دعا کی قبولیت سمع و بصر پر موقوف ہے۔
جب بعض گناہ سنے اور بعض دیکھے جاتے ہیں تو ان کی مغفرت سمع و بصر کے بعد ہی ممکن ہے۔
نبی ﷺ کا حضرت ابو بکر کو دعا سکھانا اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ سمیع و بصیر ہے، دعا کرنے والے کو دیکھتا اوراس کی فریاد کو سنتا ہے۔
جب ہم کسی سے بات کریں، تو لازماً وہ سننے اور دیکھنے والا ہو،ورنہ یہ کلام بے فائدہ ہو گا ۔لہٰذا یہ دعا بھی اللہ کے سمع و بصر پر دلالت کرتی ہے[6]۔و اللہ اعلم
7389-حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، حَدَّثَتْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ نَادَانِي قَالَ: إِنَّ اللهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ.
’’عبد اللہ بن یوسف نے ہمیں بیان کیا ، کہ ابن وہب نے ہمیں خبر دی ، کہ مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہ مجھے عروہ نے بتایا کہ سیدہ عائشہ نے انہیں کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جبرئیل ؑ نے مجھے پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی بات اور جو انہوں نے آپ کو جواب دیا سن لیا ہے‘‘۔
شرح الحدیث
جب اہل طائف نے نبی کریم ﷺ کی بات سننےسے انکار کردیا اور آپ پرظلم کیا تو جبریل ملک الجبال کے ساتھ حاضر ہوئے اور کہا :
إِنَّ اللهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ [7].
’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کاجواب سن لیا ہے اور آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے ، آپ جو چاہیں ان کے متعلق حکم دیں ، (وہ تعمیل کرے گا ) ۔۔۔ ‘‘
امام کرمانی فرماتے ہیں :
’’امام بخاری کا ان احادیث کو اس باب میں لانے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی سمع اور بصر (سننے اور دیکھنے) کی صفات کو ثابت کرنا ہے۔یہ دونوں قدیم اور اللہ کی صفاتِ ذات میں سے ہیں۔جب کوئی سنی یا دیکھی جانے والی چیز پیدا ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کی یہ صفات اس پر متعلق ہو جاتی ہیں۔لیکن معتزلہ (فرقہ) نے دعویٰ کیا کہ یہ دونوں صفات حادث (نئی پیدا کی گئی) ہیں،مگر قرآن و حدیث کی ظاہری نصوص ان کا رد کرتی ہیں۔‘‘
فوائد :
- سمع و بصر اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات میں سے ہیں ۔
- یہ صفات مخلوق کو بھی حاصل ہیں ، لیکن اللہ کی یہ صفات اس کی ذات کا حصہ ہیں ، جبکہ مخلوق کی یہ صفات عطائی اور مخلوق ہیں ۔
- قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے ان دونوں صفات کا کثرت سےاستعمال ہوا ہے۔
- اللہ تعالیٰ کے لیے کان اور آنکھ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے ۔
- اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ کہنا کہ وہ بھی سمع و بصر کے لیے کانوں اور آنکھوں کا محتاج ہے ، قطعاً غلط ہے ۔
بہت بلند آواز سے دعا نہیں کرنی چاہیے ۔بلکہ دعا کا ادب یہ ہے کہ سرگوشی کے انداز میں کی چائے۔
[1] صحيح بخاری :7544
[2] سنن أبی داؤد:4728،التوحيد لابن خزيمة:1/ 98، و اللفظ له
[3] سنن النسائی:3460
[4] صحيح بخاری :835
[5] صحيح بخاری :1897 ، صحيح مسلم:1027
[6] المختصر من شرح کتاب التوحید از علامہ عبدالحق ہاشمی :50
[7] السنن الكبرى للنسائي (7/ 144):7659،المعجم الأوسط (8/ 370):8902