مولانا اصلاحی کی تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘ میں
فکری تضادات و تناقضات قسط 3
مولانا اصلاحی کی تفسیر ’’ تدبر قرآن ‘‘ میں
فکری تضادات و تناقضات قسط 3
پروفیسر محمد رفیق
10۔مرتد کی سزا میں تضاد
اہل علم جانتے ہیں کہ اسلام میں سنت کی رو سے’’ مرتد کی سزا قتل ہے‘‘ [1] اور اس پر امت کا اجماع واتفاق ہے۔ لیکن صاحبِ ’’تدبر قرآن‘‘ مرتد کی سزا کے بارے میں الجھاؤ(Confusion) کا شکار بھی ہیں اور تضاد بیانی سے بھی کام لیتے ہیں۔کبھی مرتد کو واجب القتل قرار دیتے ہیں اور اس کی تائید میں تورات کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ موسوی شریعت میں بھی مرتد کے لیے قتل ہی کی سزا تھی ۔ پھر پینترا بدل کر کہتے ہیں کہ قتل کی سزا صرف اس مرتد کو دی جا سکتی ہے جو ارتداد کے ساتھ ساتھ بغاوت کا بھی مرتکب ہو۔ وہ باغی اور غیر باغی مرتد کی تفریق کر کے یہ الجھاؤ پیدا کرتے ہیں کہ اسلام میں مرتد کی سزا کا سبب ارتداد نہیں بلکہ بغاوت ہے۔
- چنانچہ انہوں نے سورہ البقرہ کی آیت 217کے الفاظ ﴿ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ﴾ (تو یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے۔)کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’جو شخص مرتد ہو جاتا ہے وہ اسلامی ریاست میں جملہ شہری حقوق سے محروم جاتا ہے ، ریاست پر اس کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی ۔ چنانچہ اسی اصول پر اسلامی تعزیر ات کا وہ قانون مبنی ہے جو مرتدوں کی سزا سے متعلق ہے [2] ‘‘۔
- سورۃ البقرۃ (2/54) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ ارتداد کی سزا حضرت موسی ؑ کی شریعت میں بھی قتل ہی تھی[3]‘‘۔
مذکورہ دونوں حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا اصلاحی مرتد کے لیے سزائے قتل کے قائل ہیں ۔مگر دوسرے مقام پروہ اپنے اس موقف سے انحراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام میں مرتد کو اُس کے ارتداد پر نہیں بلکہ اُس کی بغاوت کے جرم میں قتل کی سزادی جاتی ہے ۔ یعنی جو مرتد بغاوت نہ کرے اسے قتل نہیں کیا جاسکتا ۔
سوره البقر (2/256) میں﴿ لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ﴾ ( دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے) کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’ارتداد بھی اسی زمرے کا ایک جرم بلکہ بہت بڑا جرم ہے ۔ اور اس پر جو سزا ایک اسلامی نظام میں دی جاتی ہے وہ اس بات پر نہیں دی جاتی کہ ایک شخص کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے بلکہ اس بات پر دی جاتی ہے کہ اس نے خدا کی حکومت اور اس کے قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے۔[4]‘‘
لیکن مولانا صاحب کے اس مبہم اور غیر واضح موقف کی وضا حت اُن کے ایک شارح اور ترجمان جاوید احمد غامدی نے اپنی کتاب ’’میزان ‘‘ میں اس طرح کر دی ہے:
’’ موت کی سزا قرآن کی رو سے قتل اور فساد فی الارض کے سوا کسی جرم میں بھی نہیں دی جاسکتی۔[5]‘‘
غامدی صاحب مزید اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں:
’’ ہمارے فقہا کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے قرآن و سنت کے باہمی ربط سے اس حدیث ( مَنْ بَدِّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ) صحیح بخاری (6922) کا مدعا سمجھنے کی بجائے اسے عام ٹھہرا کر مرتد کی سزا موت قرار دی اور اس طرح اسلام کے حدود و تعزیرات میں ایک ایسی سزا کا اضافہ کر دیا ، جس کا وجود ہی اسلامی شریعت میں ثابت نہیں ہے [6]‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ استاد اور شاگرد دونوں ہی ارتداد کی سزائے قتل کے منکر ہیں اور صرف باغی مرتد کو فساد فی الارض کے جرم میں واجب القتل ٹھہراتے ہیں ۔یوں وہ اپنے اس فکری تضاد کا ثبوت خود اپنی تحریروں سے ہی پیش کردیتے ہیں ۔
11۔ اجماع امت کا اقرار بھی انکار بھی ؟
صاحبِ ’’تدبر قرآن‘‘ کے فکری و عملی تضا دات میں ایک واضح تضادیہ ہے کہ وہ ایک طرف اجماع امت کو حجت اور واجب العمل قرار دیتے ہیں اور اس کی مخالفت کو ناجائز کہتے ہیں مگر دوسری طرف اجماع امت سے ثابت شدہ احکام و مسائل کی خلاف ورزی اور ان کا انکار بھی کرتے ہیں۔
چنانچہ سورہ النساء(4/59) کی تفسیر میں اجماع کے بارے میں لکھا ہے کہ :
’’ارباب حل و عقد یا ان کی اکثریت کا صاحبِ امر یعنی خلیفہ اور امام کی رہنمائی میں ، کسی امر کے اوفق بالشریعت ہونے پر اتفاق کر لینا شریعت میں اجماع کہلاتا ہے ،جو رفع اختلاف کے لیے ایک منصوص طریقہ ہے اور اس کی مخالفت کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔[7]‘‘
مزید انہوں نے حاشیہ میں اپنی کتاب ’’اسلامی قانون کی تدوین‘‘ کی مراجعت کا مشورہ دیا ہے۔ جب ہم نے وہاں دیکھا تو وہاں ہمیں ان کی درج ذیل تحریر ملی ہے :
’’ تدوین قانون کے کام کے ہر مرحلے میں یہ حقیقت پیش نظر رکھی جائے کہ مسلمان کتاب و سنت کی جن تعبیروں پر اعتماد رکھتے ہیں ، انہی تعبیروں پر مبنی ضابطہ ٔقانون بنایا جائے ۔ اگر اپنی طرف سے نئی تعبیریں محض شوق ِاجتہاد میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کو لوگ ہر گز قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں گے اور اگر غلط طریقوں سے ان کو لوگوں پر لادنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج مضر بلکہ مہلک ہوں گے[8]‘‘۔
اپنی ایک اور کتاب میں اجماع کی دو قسمیں بیان کیں اور دونوں کے حجت اور واجب العمل ہونے کے بارے میں لکھا ہے کہ :
’’ ایک انطباق تو وہ ہے جس پر خلفائے راشدین اپنے دور کے اہل علم و تقویٰ کے مشورے کے بعد متفق ہو گئے ہیں ۔ یہ اسلام میں اجتماع کی بہترین قسم ہے اور یہ بجائے خود ایک شرعی حجت ہے ۔ اسی طرح ایک انطباق وہ ہے جس پر ائمہ اربعہ متفق ہو گئے ہیں۔ یہ اگر چہ درجے میں پہلی قسم کے اجماع کے برابر نہیں ہے ، تاہم چونکہ یہ اُمت من حیث الامر ان ائمہ پر متفق ہو گئی ہے ، اس وجہ سے ان ائمہ کے کسی اجماع کو محض اس دلیل کی بنا پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ معصوم نہ تھے ۔ یہ معصوم تو
بے شک نہ تھے لیکن ان کے معصوم نہ ہونے کے معنی ہر گز یہ نہیں ہیں کہ کسی امر پر ان کا اتفاق دین میں حجت نہ بن سکے [9]‘‘۔
سورۃ النساء (4/115) کی تفسیر میں صحابہ کرام و اہل ایمان کے طریقے کی پیروی کے بارے میں لکھا ہے :
’’سبیل المومنین‘‘ میں مومنین سے مراد صحابہ رسول ﷺہیں ۔ انہوں نے زندگی کا جو طریقہ اختیار کیا وہ سر تا سر ہدایت الہٰی پر مبنی تھا اس وجہ سے اس کی اتباع ہی اللہ اور اس کے رسول کی اتباع ہے ۔ اس سے ہٹ کر کوئی راہ نکالنا گمراہی ہے [10]‘‘۔
مذکورہ حوالوں سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے اور موصوف اجماع کو حجت اور واجب العمل مانتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی کو گمرا ہی سمجھتے ہیں ،لیکن اجماع امت سے ثابت شدہ مسائل میں سے جو ان کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتےان کا انکار کر دیتے ہیں ۔ مثلاً
- انہوں نے اجماع امت کے خلاف شادی شدہ زانی کے لیے جد رجم یعنی سنگساری کی سزا کا یہ کہہ کر انکار کیا ہے کہ شادی شدہ زانی کی اصل سزا تازیانہ ہے[11] ۔
- اجماع امت سے سبعہ قراءات ( بلکہ عشرہ قراءات ) ثابت ہیں ، لیکن وہ قراءت حفص کے علاوہ قراءات کا انکار کرتے ہیں ، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ ہمارے نزدیک متواتر اور مشہور قراءت صرف مصحف ہی کی قراءت ہے[12]‘‘۔
- اس امر پر اجماع امت ہے کہ سفر و حضر دونوں حالتوں میں مسافر اور مقیم کوئی شے رہن (Pledge) رکھ کر لین دین کیا جا سکتا ہے[13] ۔ حالت سفر میں رہن رکھ کر لین دین کرنے کا تذکرہ قرآن مجید میں ہے جبکہ حضر میں رہن کے ذریعے لین دین کرنے کا تذکرہ حدیث میں موجود ہے ، ملاحظہ ہو:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ، بِثَلاَثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ[14].
’’ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے تو آپ کی درعہ ایک یہودی کے پاس تیسن صاع جو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی ۔ ‘‘
مگرصاحبِ ’’تدبیر قرآن‘‘ مقیم کے لیے رہن کے ذریعے لین دین کو ناجائز قرار دیتے ہیں ، لکھتے ہیں :
’’ رہی حدیث تو اس سے بھی رہن کے عام جواز پر استدلال کسی طرح صحیح نہیں ہے[15]‘‘۔
- اس امر پر اجماع ِامت ہے کہ مطلقہ ثلاثہ اس شرط کے ساتھ پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے کہ دوسرے شوہر نے اس سے نکاح کے بعد جماع بھی کیا ہو، پھر اُسے طلاق دی ہو یا وہ فوت ہو گیا ہو۔ اجماع امت کی بنیادوہ حدیث ہے ، جس میں ہے کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، تو دوسرے آدمی نے اس سے شادی کرلی ، لیکن چند دنوں کے بعد خاتون نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر خاوند کے جنسی طور پر کمزور ہونے کی شکایت کی اور پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لاَ، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ [16].
’’ نہیں ! یہاں تک کہ تو خاوند کا مذا چکھ لے اور خاوند تیرا مذا چکھ لے ‘‘۔
لیکن صاحبِ ’’تدبر قرآن‘‘ حدیث اور اجماع امت سے ثابت شدہ اس جماع والی شرط کا انکار کرتے ہیں اور اس کے بغیر ہی پہلے شوہر کے لیے عورت سے نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں ، وہ لکھتے ہیں کہ :
’’آخر ی طلاق دے چکنے کے بعد اگر کوئی شخص پھر اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو یہ اس کا حکم بیان ہو رہا ہے کہ جب تک وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے اور وہ اس کو طلاق نہ دے اس وقت تک یہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے جائز نہیں ہو سکتی ... رہی یہ بات کہ ایسی عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے صرف اس صورت میں جائز ہوگی جب اس کا دوسرا شوہر اس کو وطی کے بعد طلاق دے تو کم از کم اس وطی کے لیے قرآن سے کوئی ثبوت نہیں نکلتا ... ہمارے نزدیک حدیث سے جو استدلال کیا گیا ہے وہ بھی نہایت کمزور ہے[17]‘‘۔
یعنی ’صاحبِ ’’تدبر قرآن‘ ‘جس قوت سے اجماع ِامت کا اقرار کرتے ہیں اتنے ہی زور سے وہ اس کا انکار بھی کر دیتے ہیں۔
12 - کیا خلفائے راشدین کا اتفاق یعنی تعامل صحابہ حجت ہے؟
صاحبِ ’’تدبر قرآن‘‘ کا ایک فکری و عملی تضاد یہ بھی ہے کہ وہ خلفائے راشدین کے اتفاق رائے کو اجماع ، شرعی حجت اور واجب العمل مانتے ہیں لیکن دل نہ چاہے تو ان کے کئی متفقہ فیصلوں کو بلڈوز بھی کر دیتے ہیں ۔
اصولی طور پر وہ خلفائے راشدین کے اتفاق رائے کو اجماع اور شرعی حجت قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ ایک انطباق تو وہ ہے جس پر خلفائے راشدین اپنے دور کے اہل علم و تقویٰ کے مشورے کے بعد متفق ہو گئے ہیں ۔ یہ اسلام میں اجماع کی بہترین قسم ہے اور یہ بجائے خود ایک شرعی حجت ہے ۔ اسی طرح ایک انطباق وہ ہے جس پر ائمہ اربعہ متفق ہو گئے ہیں [18]‘‘۔
دوسری طرف وہ ان مسائل کو جن پر خلفائے راشدین کا اتفاق موجود ہے صریحاً خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ اس کی چند مثالیں ذیل میں دی جاتی ہیں :
- خلفائے راشدین کااتفاق ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں مگر صاحبِ ’’تدبر قرآن‘‘ نے قرآن کی ایک سے زیادہ متواتر قراءتیں ہونے کا انکار کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ
’’ ہمارے نزدیک متواتر اور مشہور قراءت صرف مصحف ہی کی قراءت ہے اور ہم غیر متواتر قراءت پر قرآن کی کسی آیت کی تأویل کو صحیح نہیں سمجھتے[19]‘‘۔
- خلفائے راشدین اس امر پر متفق ہیں کہ سنت کی رو سے شادی شدہ زانی کے لیے حد رجم ہے اور انہوں نے ایسے مجرموں کو بالفعل رجم کیا ہے، مگر صاحبِ ’’تدبر قرآن‘‘ زانی کے لیے حد رجم کے منکر ہیں[20]۔
- خلفائے راشدین کے نزدیک از روئے سنت مرتد کے لیے قتل کی سزا مقرر ہے مگر صاحب ’’تدبر قران ‘‘ کہتے ہیں کہ اسلام میں قتل کی سزا مرتد کو نہیں بلکہ باغی شخص کو دی جا سکتی ہے[21]۔
- خلفائے راشدین کا اتفاق ہے کہ مطلقہ ثلاثہ پہلے شوہر سے تب دوبارہ نکاح کر سکتی ہے جب دوسرے شوہر نے اس سے نکاح کے بعد جماع بھی کیا ہو،اس کے بعد اس نے اُسے طلاق دی ہو یا وہ فوت ہو گیا ہو ۔ مگر ’’صاحبِ ’’تدبر قرآن‘‘ اس شرط کے بغیر ہی اسے پہلے شوہر سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے ہیں[22] ۔
- خلفائے راشدین متفق ہیں کہ سفر و حضر دونوں حالتوں میں رہن (Pledge) رکھ کر کوئی لین دین کر سکتا ہے ۔ مگر صاحب تدبیر قرآن مقیم کے لیے رہن کے معاملے کو ناجائز قرار دیتے ہیں [23]۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ :’’ہر وہ قتال (لڑائی) جس میں فساد، اصلاح پر غالب ہو جائے، وہ فتنہ کی لڑائی ہے‘‘۔ مزید فرماتے ہیں کہ:’’ جب کسی عمل میں فائدہ (مصلحت) اور نقصان (مفسدہ) دونوں شامل ہوں، تو شارع جو حکیم ہے، اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر اس عمل کا فائدہ نقصان پر غالب ہو تو شریعت اسے جائز قرار دیتی ہے، لیکن اگر نقصان فائدے پر غالب ہو تو شریعت اسے جائز قرار نہیں دیتی، بلکہ اس سے منع کرتی ہے‘‘۔ [المجموع: ج١١/ص٦٣٢] یہ اقتباس ایک فقہی اور اصولی قاعدہ کو واضح کرتا ہے کہ:شریعت کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے، جس کام میں فائدہ زیادہ ہو، شریعت اسے جائز قرار دیتی ہے اور جس میں نقصان زیادہ ہو، شریعت اس سے منع کرتی ہے۔ اسی لیے اگر کوئی جنگ یا قتال اصلاح سے زیادہ فساد پیدا کرے تو وہ جائز نہیں، بلکہ فتنہ ہے۔ |
نوٹ یہ شمارہ 3 ماہ دسمبر 2025 تا فروری 2026 کا ہے |
[1] صحیح بخاری، کتاب استتابة المرتدین، باب حکم المرتد..: 6922، ابوداؤد 4502
[2] تدبر قرآن :1/513
[3] تدبر قرآن :1/214
[4] تد بر قرآن:1/ 593، 594
[5] میزان: 283 ، طبع دوم اپریل 2002ء ، لاہور ۔میزان : 611 ، طبع سوم ، مئی 2008ء ، لاہور
[6] جاوید احمد غامدی، برہان : 143 ، طبع چہارم ، جون 2006ء ، لاہور
[7] تدبر قرآن :2/ 325
[8] اسلامی قانون کی تدوین: 135
[9] عائلی کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ:58
[10] تدبر قرآن : 2/ 382
[11] تدبر قرآن:5 /374
[12] تدبر قرآن:5/99
[13] موسوعة الاجتماع فی الفقه الاسلامی لسعدی أبی حبیب: 1/ 459
[14] صحيح بخاری :2916
[15] تدبر قرآن:1/ 644
[16] صحیح بخاری :2639، صحیح مسلم : 3526
[17] تدبر قرآن:1/538 -537
[18] عائلی کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ : 58
[19] تدبر قرآن:5/ 99
[20] تدبر قران:5/ 374
[21] تدبر قران:1/593
[22] تدبر قرآن:1/538
[23] تدبر قرآن :1/ 644