غیر مسلم تہواروں پر مبارک باد دینے کا مسئلہ
(یورپین کونسل براے افتا و تحقیق)
غیر مسلم تہواروں پر مبارک باد دینے کا مسئلہ
(یورپین کونسل براے افتا و تحقیق)
ترجمہ :ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
زیرِ نظر مضمون یورپین کونسل براے افتا و تحقیق کی ایک قرار داد کا ترجمہ ہے جو کونسل کے چھٹے فقہی اجلاس میں منظور کی گئی؛ یہ اجلاس 28جمادی الاولیٰ تا 3 جمادی الآخرۃ 1421ھ بہ مطابق 28 اگست تا یکم ستمبر 2000ء کو ڈبلن، آئرلینڈ میں منعقد ہوا۔ یہ کونسل معتمد اور ذمہ دار علما و فقہا پر مشتمل فقہی اور تحقیقی ادارہ ہے جن میں ڈاکٹر صہیب حسن جیسے صاحبِ بصیرت اہلِ علم بھی شامل ہیں۔ ماضی میں محدث حافظ ثناء اللّٰہ مدنیؒ بھی اس کے رکن رہے ہیں۔ ان ثقہ علما کا اشتراک اس بات کی ضمانت ہے کہ کونسل کی جانب سے پیش کی جانے والی آرا علمی تحقیق اور فقہی تدبر پر مبنی ہیں۔یہ مضمون بالخصوص ان خطوں کے مسلمانوں کے لیے رہ نمائی فراہم کرتا ہے، جہاں وہ غیر مسلم معاشروں میں اقلیت کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور معاشرتی معاملات میں روز مرہ کی سطح پر غیر مسلم اکثریت سے ان کا تعامل ناگزیر ہے۔ ایسے ماحول میں دینی احتیاط، فقہی بصیرت اور حکیمانہ توازن کے ساتھ مسائل کا حل پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی پس منظر میں یہ تحریر ایک معتبر فقہی نقطۂ نظر کے طور پر پیش کی جا رہی ہے تاکہ اہل علم و نظر اس پر غور و فکر کر سکیں اور زمان و مکان اور عرف کی تبدیلیوں کی بنا پر شرعی احکام کے اطلاق میں متنوع آرا کی تفہیم کر سکیں۔ (ادارۂ محدث) |
یہ مسئلہ بلا شبہہ نہایت اہم اور نازک ہے، خاص طور پر اُن مسلمانوں کے لیے جو مغربی ملکوں میں رہتے ہیں۔ مجلسِ علمیہ کو اس بارے میں ان بھائی بہنوں کی طرف سے جو یورپ کے مختلف خطوں میں آباد ہیں اور جنھیں روز مرّہ کی زندگی میں غیر مسلموں سے واسطہ رہتا ہے، متعدد سوالات موصول ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ بعض تعلقات ناگزیر ہیں جیسے: رشتہ داری، سسرالی نسبت، ہمسایگی، رفاقتِ کار یا تعلیم اور درس گاہ کا تعلق۔
بعض مرتبہ مخصوص احوال و ظروف میں ایک مسلمان خود کو غیر مسلم کا احسان مند بھی محسوس کرتا ہے، مثلاً وہ استاد جو طالبِ علم کی راہ نمائی کرتا ہے یا ڈاکٹر جو مریض کا علاج کرتا ہے۔ انسان فطرتاً احسان کا اثر قبول کرتا ہے، جیسے یہ مقولہ ہے: إن الإنسان أسير الإحسان یعنی انسان احسان کا قیدی ہے۔ ایک شاعر نے خوب کہا ہے:
احسن إلى الناسِ تستعبد قلوبَهم
فطالما استعبدَ الإنسانَ إحسانُ
لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو، ان کے دلوں کو تابع کر لو گے ،ہمیشہ انسان کو احسان نے مسخر کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسے غیر مسلموں کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے جو اِن کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں، دشمنی کی روش نہیں اپناتے؛ دین کے معاملے میں اذیت نہیں دیتے؛ اِنھیں ان کے گھروں سے نہیں نکالتے اور اِن کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرتے؟
قرآنِ کریم نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلق کا ضابطہ نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ سورۂ ممتحنہ کی دو آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے اس معاملے کی بنیادیں طے کر دی ہیں؛ یہ آیتیں بت پرست مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ لَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَيْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۰۰۸اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۰۰۹﴾]الممتحنة: ۸۔۹[
’’اللّٰہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاو کرو جنھوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے؛ اللّٰہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ تمھیں جس بات سے روکتا ہے، وہ یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کر و جنھوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے اور تمھارے اِخراج میں ایک دُوسرے کی مدد کی ہے؛ اُن سے جو لوگ دوستی کریں، وہی ظالم ہیں۔‘‘
ان آیتوں نے غیر مسلموں کے دو طبقے الگ کر دیے ہیں: ایک وہ جو مسلمانوں سے خیر خواہی اور پر امن تعلق رکھتے ہیں؛ دوسرے وہ جو دشمنی پر تُلے ہوئے ہیں۔
پہلے گروہ کے بارے میں قرآن نے تلقین کی ہے کہ ان کے ساتھ نیکیاور عدل و انصاف کا برتاو کیا جائے۔ عدل یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کا پورا حق دیا جائے، اس میں کوئی کمی نہ کی جائے۔ نیکی سے مراد احسان اور فضل ہے جو عدل سے ایک درجہ بلند ہے کہ آدمی اپنے حق میں سے کچھ چھوڑ کر دوسرے پر فضل و احسان کرے۔
دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن سے تعلق رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ وہ ہیں جنھوں نے مسلمانوں سے دشمنی کی اور ان پر جنگ مسلط کی؛ انھیں ناحق ان کے گھروں سے نکالا؛ ان کا جرم محض اتنا تھا کہ وہ کہتے تھے: ہمارا رب تو اللّٰہ ہے۔ یہی ظلم قریش اور مکہ کے مشرکین نے رسول اللّٰہ ﷺ اور آپ ؐکے صحابہؓ پر ڈھایا تھا۔
قرآنِ مجید نے ان غیر مسلموں کے ساتھ تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے جو مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہیں، ایک نہایت بامعنی لفظ اختیار کیا ہے؛ فرمایا: ﴿اَنْ تَبَرُّوْهُمْ ﴾ یعنی ان کے ساتھ نیکی کرو۔ یہی لفظ بِرّ اُس رشتے کے لیے بھی آیا ہے جو انسان پر اللّٰہ تعالیٰ کے بعد سب سے بڑا حق رکھتا ہے، یعنی والدین کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کا واقعہ مذکور ہے کہ وہ رسولِ اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! میری والدہ مجھ سے ملنے آئی ہیں؛ وہ مشرکہ ہیں مگر مجھ سے تعلق رکھنا اور کچھ (تحائف وغیرہ)دینا چاہتی ہیں؛ کیا میں ان سے صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
نَعَمْ، صِلِي أُمَّكِ [1].
’’اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو‘‘۔
یہ اس حال میں فرمایا گیا کہ وہ عورت مشرکہ تھی جب کہ یہ معلوم شدہ حقیقت ہے کہ اہلِ کتاب کے ساتھ اسلام کا رویہ مشرکین کی نسبت کہیں زیادہ نرم ہے۔ قرآنِ کریم نے اہلِ کتاب کے ساتھ تعلق کو صرف حسنِ سلوک تک محدود نہیں رکھا بل کہ ان کے ساتھ کھانے پینے اور رشتہ داری کی اجازت بھی دی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَ طَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ ﴾]المائدة: ۵[
’’اہلِ کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے؛ اور پاک دامن عورتیں بھی تمھارے لیے حلال ہیں، خواہ وہ اہلِ ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی‘‘۔
اس نکاح کے لوازم اور نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان محبت و الفت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً﴾
] الروم: ۲۱[
’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی‘‘۔
آخر ایک شخص اپنی بیوی سے محبت کیوں نہ کرے جو اس کی شریکِ حیات ہے، اس کے گھر کی منتظم ہے اور اس کے بچوں کی ماں ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے باہمی تعلق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾] البقرة: ۱۸۷[
’’وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے‘‘۔
اس نکاح کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ دونوں خاندان سسرالی رشتے میں جُڑ جاتے ہیں اور یہ انسانوں کے درمیان ان دو بنیادی قدرتی رشتوں میں سے ایک ہے جن پر معاشرت کی بنیاد قائم ہے۔ قرآن نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا:
﴿وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا﴾]الفرقان:54[
’’اور وہی ہے جس نے پانی سے بشر پیدا کیا، پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے‘‘۔
اس نکاح کے نتائج و ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے ماں کا رشتہ قائم ہوتا ہے اور اس کے وہ تمام حقوق بھی جو اسلام نے اس کی اولاد پر بڑی تاکید کے ساتھ مقرر کیے ہیں۔ اب سوچیے کہ اگر کسی مسلمان کی ماں غیر مسلم ہو اور اس کے ہاں کوئی بڑا تہوار آئے تو کیا نیکی اور حسنِ سلوک کا تقاضا یہی ہے کہ بیٹا اس موقع کو یوں ہی گزر جانے دے اور اسے مبارک باد تک نہ دے؟
پھر ماں کی طرف کے دوسرے رشتہ دار جیسے نانا، نانی، ماموں اور خالہ اور ان کی اولاد بھی خونی تعلق اور قریبی رشتہ داری کے حقوق رکھتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے:
﴿ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ﴾ ]الانفال:75 [
’’مگر اللّٰہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں‘‘۔
نیز ارشاد ہے:
﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى ﴾ ]النحل:90 [
’’بے شک اللّٰہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘‘۔
جب امومت (ماں کے تعلق)اور قرابت داری کے یہ حقوق مسلمان مرد اور عورت دونوں پر یہ ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنی ماں اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ ایسا تعلق رکھیں جو ان کے حسنِ خلق، کشادہ ظرفی اور رشتہ داری کے حقوق کی ادایگی کے رویے پر گواہ ہو تو اسی طرح دیگر عمومی حقوق کی رُو سے مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر حال میں ایک خوش اخلاق انسان کی حیثیت سے پیش آئے۔
رسولِ کریم ﷺ نے حضرت ابوذَرؓ کو ان الفاظ میں وصیت فرمائی تھی:
اتَّقِ اللهَ حيثُما كنتَ ، وأتبِعِ السَّيِّئةَ الحسَنةَ تَمْحُهَا ، وخالِقِ النَّاسَ بخُلُقٍ حَسنٍ[2]
’’تم جہاں کہیں بھی ہو اللّٰہ سے ڈرو؛ برائی سرزد ہونے کے بعد نیکی کرو کہ وہ اسے مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آؤ‘‘۔
قابل غور ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ؛ یہ نہیں فرمایاکہ مسلمانوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔
نبی کریم ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ برتاو میں نرمی کی تعلیم دی ہے اور سختی اور درشتی سے منع فرمایا ہے۔ ایک مرتبہ چند یہودی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کے الفاظ کو بگاڑ کر یوں کہا: السام علیک یا محمد۔ السام کا مطلب ہلاکت اور موت ہے۔ ام المؤمنین عائشہؓ نے یہ سنا تو جواب میں کہا: وعلیکم السام واللعنة، تم پر بھی ہلاکت اور لعنت ہو۔ رسول کریم ﷺ نے اس پر انھیں ملامت کی اور فرمایا کہ عائشہ ذرا ٹھہرو، اللّٰہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ یا نبی اللّٰہ! آپ نے نہیں سنا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں سنا کہ میں ان کی بات کو انھی پر لوٹا دیتا ہوں اور کہہ دیتا ہوں کہ تم پر بھی ہو[3]۔
غیر مسلم اگر مسلمان کو اس کے تہواروں پر مبارک باد دیتے ہوں تو ایسی صورت میں ان کے تہوار پر انھیں مبارک باد دینااور بھی زیادہ تاکیدی ہو جاتا ہے۔ ہمیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دیں اور سلام کا اس سے بہتر یا کم از کم ویسا ہی جواب دیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَ اِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا﴾ ]النساء: ۸۶[
’’اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمھیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح‘‘۔
یہ بھی مسلمان کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اخلاق اور کشادہ دلی میں غیر مسلم سے کم تر ہو۔ اصل تو یہ ہے کہ مسلمان ہی کا اخلاق سب سے بہتر اور کامل ہونا چاہیے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے:
أكملُ المؤمنين َإيمانًا أحسنُهُم خُلقًا [4]
’’ایمان میں سب سے کامل وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو‘‘۔
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الأَخْلاقِ[5].
’’مجھے صرف اسی لیے بھیجا گیا ہے کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں‘‘۔
یہ بات اس وقت اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے جب ہم چاہتے ہوں کہ وہ اسلام سے قریب آئیں اور مسلمانوں سے مانوس ہوں کیوں کہ یہ کام بے رخی اور لاتعلقی اختیار کرنے سے نہیں ہو سکتا بل کہ حسنِ تعلق اور اچھے برتاو ہی سے ممکن ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے پورے مکی دور میں مشرکین قریش کے ساتھ نہایت شریفانہ اور پاکیزہ برتاو رکھا حالاں کہ وہ آپؐ کو اذیتیں دیتے رہے اور آپؐ اور آپؐ کے اصحاب کے خلاف کھلم کھلا دشمنی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ اس کے باوجود آپ ﷺ پر ان کے اعتماد کا عالم یہ تھا کہ وہ اپنی قیمتی امانتیں جن کے متعلق ضایع ہونے کا اندیشہ ہوتا، آپؐ ہی کے سپرد کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو حضرت علی کو مکہ میں چھوڑا اور انھیں حکم دیا کہ یہ امانتیں ان کے مالکوں کو واپس پہنچا دیں۔
پس اس میں کوئی مضایقہ نہیں کہ کوئی مسلمان فرد یا اسلامی مرکز ایسے مواقع پر مروجہ الفاظ و کلمات کے ساتھ غیر مسلموں کو مبارک باد دے، بہ شرطے کہ ان الفاظ میں ان کے دین کی تائید یا اس پر رضامندی کا کوئی پہلو نہ ہو۔
ان کی طرف سے آنے والے تحفے قبول کرنے اور ان کو جوابی تحائف دینے میں بھی کوئی امرمانع نہیں ہے کیوں کہ نبی کریم ﷺ غیر مسلموں کے ہدایا قبول فرماتے تھے، جیسے وہ تحائف جو مصر کے قبطی حکم ران مقوقس وغیرہ نے بھیجے تھے۔ البتہ یہ شرط ضرور ملحوظ رہنی چاہیے کہ تحفے میں کوئی ایسی چیز شامل نہ ہو جو مسلمان کے لیے حرام ہو، جیسے شراب یا خنزیر کا گوشت۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بعض فقہا جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور ان کے شاگرد علامہ ابن قیمؒ نے مشرکین اور اہلِ کتاب کے تہواروں اور ان میں شرکت کے بارے میں سخت راے اختیار کی ہے۔ ہم بھی اس بات میں ان کے ہم خیال ہیں کہ مسلمانوں کو مشرکین یا اہلِ کتاب کے مذہبی تہوار نہیں منانے چاہییں۔ افسوس کہ بعض غفلت شعار مسلمان کرسمس کو ایسے مناتے ہیں جیسے عید الفطر یا عید الاضحیٰ مناتے ہیں بل کہ کبھی تو اس سے بھی بڑھ کر؛ مگر یہ جائز نہیں ہے کہ ہمارے اپنے تہوار ہیں، ان کے اپنے تہوار ہیں۔
البتہ ہمارے نزدیک اس میں کوئی قباحت نہیں کہ ایک مسلمان اُن غیر مسلموں کو ان کے تہواروں پر مبارک باد دے جن سے متعلق قرابت، ہمسایگی، رفاقتِ کار، ہم نشینی یا کسی اور سماجی تعلق کی بنا پر اچھا اور شریفانہ رویہ مطلوب ہوتا ہے جو ایک صالح عرف میں پسند کیا جاتا ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔
جہاں تک قومی اور سماجی نوعیت کے تہواروں کا تعلق ہے، مثلاً یومِ آزادی یا یومِ یک جہتی یا بچوں اور ماں کے دن جیسے مواقع، تو مسلمان کے لیے ان کی مبارک باد دینے یا ان ممالک کے شہری یا وہاں مقیم فرد کے طور پر ان میں شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں؛ لیکن یہ لازم ہے کہ ان تقریبات میں جو امور شرعاً ممنوع ہوں، ان سے اجتناب کرے۔
[1] صحیح بخاری :2620، صحیح مسلم :1003
[2] مسنداحمد : 21354، 21403، 21536؛ ترمذی: 1987؛ الدارمی: 2688؛الحاكم: 178۔ قال الترمذي: حديث حسن صحيح، وصححه الحاكم.
[3] صحیح بخاری: 6032؛ صحیح مسلم: 2165)
[4] مسنداحمد: 7402، 10106، 10817؛ سنن ابو داود: 4682؛ ترمذی: 1162؛ الدارمی: 2689. قال الترمذي: حديث حسن صحيح.
[5] مسند احمد: 8952؛ الأدب المفرد: 273؛ البزار: 2470 – كشف الأستار، واللفظ له، وإسناده صحيح. وصححه ابن عبدالبر في التمهيد،24/ 333