استحکام مساجد و تحفظ مدارس دینیہ سیمینار
استحکام مساجد و تحفظ مدارس دینیہ سیمینار
علامہ ابتسام الہی ظہیر
انسان جب سے اس کرۂ ارض پر آباد ہوا ہے، تب سے ایک سوال انسانیت کے ذہنوں میں گردش کرتا چلا آ رہا ہے کہ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد کیا ہے؟ اس بنیادی سوال کا صحیح اور حتمی جواب وہی ذات دے سکتی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس حقیقت کو واضح فرما دیا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اس کی عبادت اور بندگی ہے:
اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
﴿ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۰۰۵۶﴾[ الذاریات: 56]
’’میں نے جن و انس کو محض اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں‘‘۔
اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی میں اجتماعیت، یکسوئی اور نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے تواریخِ قدیمہ سے لے کر آج تک اللہ کے گھر (مساجد) تعمیر کیے جاتے رہے ہیں۔
حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کے ساتھ مل کر بیت اللہ کی تعمیر کی، جسے قرآنِ کریم میں بڑے لطیف انداز میں بیان کیا گیا ہے:
﴿ وَ اِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَ اِسْمٰعِيْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۰۰۱۲۷﴾[ البقرة: 127]
’’اور جب ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے کہ اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے‘‘۔
یہ گھر وادیٔ غیر ذی زرع میں بنایا گیا، اور اسی کے قریب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو مستقل طور پر آباد کیا تاکہ وہ اس گھر کو آباد رکھیں، توحید کی شمع روشن رکھیں اور نماز قائم رکھیں ۔ دعائے خلیل اللہ علیہ السلام قرآن میں محفوظ ہے:
﴿ رَبَّنَاۤ اِنِّيْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْۤ اِلَيْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ۰۰۳۷﴾[ ابراهیم: 37]
’’اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد تیرے حرمت والے گھر کے پاس بے کھیتی وادی میں بسائی ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں، پس لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ وہ شکر گزار بنیں‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کو یہ بھی حکم دیا کہ
﴿ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْعٰكِفِيْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۰۰۱۲۵﴾] البقرة: 125[
’’میرے گھر کو طواف کرنے ، اعتکاف کرنے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو‘‘۔
یہ تعلیمات اس بات کی دلیل ہیں کہ مساجد امت کی روحانی، اخلاقی اور تہذیبی زندگی کی بنیادیں ہیں۔
سیرتِ نبوی ﷺ سے بھی اس حوالے سے گرانقدر راھنمائی ملتی ھے
ہجرت کے فوراً بعد رسول اکرم ﷺ نے مسجد قباء کی بنیاد رکھی، اور مدینہ میں سکونت اختیار کرتے ہی مسجد نبوی کی تعمیر کا آغاز کیا۔ صحابہ کرامؓ نے اپنی بساط کے مطابق اس عظیم کام میں حصہ لیا۔ان مساجد کی بنیاد تقوی اور للہیت پر رکھی گئی تھی چنانچہ مساجد کی بنیاد کے مقاصد کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا
﴿ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ﴾] التوبة: 108 [
’’وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہی اس قابل ہے کہ آپ اس میں قیام کریں‘‘۔
مسجد نبوی صرف نماز کی جگہ نہ تھی بلکہ یہ مرکزِ عبادت، درسگاہِ قرآن و سنت، تربیت و تزکیہ گاہ، عدالتی و سماجی معاملات کے حل کا مرکز، فتنوں کی سرکوبی کا مرکز،وفود کے استقبال کا مقام اور امت کی اجتماعی قیادت کا مرکز تھا۔ یہیں سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا ہوتا ہے۔ مساجد انسان کے روحانی ارتقاء کا مقام ہیں، بلکہ یہ فلاحِ انسانیت کے حقیقی مراکز بھی ہیں۔اذان کی ہر نداء انسان کو فلاح (کامیابی) کی طرف بلاتی ہے۔
آپ ﷺ نے اپنی رہائش بھی مسجد نبوی سے متصل رکھی اور پانچوں نمازوں کی امامت کے ذریعے امت کی تعلیم و تربیت فرماتے رہے۔اسی لیے مساجد کا قیام، آبادکاری اور مقاصد کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
قرآن وسنت کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ جو دل مسجد کی آبادکاری سے خوش ہو، وہ ایمان والا دل ہے؛ اور جو مسجد سے نفرت کرے، وہ نفاق اور سرکش کے راستے پر ھے اور مساجد میں خلل ڈالنے والا اللہ کے ارشاد کے مطابق بہت بڑا ظالم ہے۔
بدقسمتی سے بعض عناصر مساجد کو ان کے اصل مقاصد سے دور کرنے، ان پر بے جا پابندیاں لگوانے اور حکومت و مساجد کے درمیان بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر قرآن و سنت موومنٹ نے 18 نومبر کو مرکز قرآن و سنت، لارنس روڈ میں ایک کل جماعتی سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔
- سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بطور چیئرمین قرآن و سنت موومنٹ میں نے واضح کیاکہ:
- ہم الحمدللہ آئین و قانون پر یقین رکھتے ہیں اور تبدیلی کے لیے تشدد یا انتشار کے راستے کے کسی بھی طور پر حامی نہیں۔
- مساجد و مدارس دین کے قلعے ہیں۔یہ اخوت، اتحاد اور رواداری کی تعلیم دیتے ہیں۔
- یہ مراکز دین کی تبلیغ، تعلیم، تربیت، اصلاح اور امر بالمعروف کے عظیم فریضے کی ادائیگی کرتے ہیں۔ان کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا
- تمام مکاتبِ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ معاشرے میں شریعت کا نفاذ اور حدود و تعزیرات کا نظام قائم ہو اور قراردادِ مقاصد اور آئین کے مطابق قرآن و سنت کو سپریم لاءکی حیثیت سے نافذ کیا جائے۔
- ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دینی تعلیم، تدریس اور تبلیغ کے فریضے کو جاری رکھیں گے اور اس حوالے سے کسی قسم کےمالی دباؤ اور پابندی لگانے کی کوشش بلاجواز ہو گی۔ لہٰذا مساجد کی خودمختاری اور حریت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔
اس موقع پر
- حافظ عبدالغفار روپڑی (امیر جماعت اہل حدیث، پاکستان) نے فرمایا:
- حکومت جان لے کہ چند ہزار روپے دے کر علماء کو خریدا نہیں جا سکتا۔ اگر حکمران احکامِ الٰہی کے خلاف چلیں گے تو علماء حق ان کے سامنے ڈٹ جائیں گے۔
- محمدجاوید قصوری (امیر جماعت اسلامی پنجاب) نے فرمایا:
- حکومت تعلیمی اداروں سے لے کر مساجد و مدارس تک ہر چیز کو محدود کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ہر مسجد کی تعمیر کا ایک واضح قانونی طریقہ کار ہے جسے بدنام نہ کیا جائے۔
- حکمرانوں کی پرانی خواہش ہے کہ مساجد اور مدارس پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔ایک عرصے سے مدارس کومختلف انداز سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔قوانین کی آڑ میں پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اکاؤنٹس کے مسائل کھڑے کیے گئے اور مسلسل پروپیگنڈا بھی کیا گیالیکن مدارس کے پانچوں بورڈز کے اتحاد کی وجہ سے حکومت کو اپنے اقدامات میں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
- پاکستان میں اسلامائزیشن کو کنٹرول کرنے کے لیے امریکہ، برطانیہ اور دیگر بیرونی طاقتیں مداخلت کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران بھی نظامِ تعلیم سے لے کر مساجد و مدارس تک، ہر شعبے کا گلا گھونٹنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
- میاں جلیل احمد شرقپوری (ایم پی اے )نے فرمایا:
- حکومت کا علماء اور ائمہ مساجد کو فنڈ دینے کا فیصلہ دراصل سانحۂ مریدکے میں ہونے والے ظلم
کو کیموفلاج کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔ یہ علماء کے ضمیر خریدنے کی کوشش ہے۔
- ریاست نے کلمہ طیبہ کے حقیقی مفہوم کی تعلیم میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جبکہ اربوں روپے فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی اور سائنسی علوم پر خرچ کرنے کے باوجود ملک آج بھی ان میدانوں میں غیروں کا محتاج ہے۔
- علماء دینی مسائل میں ہمیشہ خود کفیل رہے ہیں، انہوں نے ہمیشہ اپنی مدد آپ ہی کے تحت دین کی خدمت کی۔
- گزشتہ دو ڈھائی برس سے قرآن پاک کی توہین کے سنگین واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں مگر بار بار توجہ دلانے کے باوجود حکومت نے نہ کوئی تدارک کیا اور نہ سنجیدگی دکھائی۔ جو حکومتی غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی کی بدترین مثال ہے۔
- ڈاکٹر حافظ حسن مدنی (چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ ، پنجاب یونیورسٹی )نے فرمایا:
- حکومت نے ائمہ مساجد کو دس نکاتی معاہدےکا پابند کیا ہےجن میں بعض نکات سراسر
ناقابل قبول اور دستور و شریعت کے خلاف ہیں۔ ایسے معاہدوں کو قبول کرنا جائز نہیں ۔
- حکومت کا ائمہ اور خطباء سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لیں۔ جبکہ سیاسی مؤقف دینے پر پابندی کا مطالبہ بنیادی حقوق اور جمہوریت کیخلاف ہے۔
- حافظ نصیر احمد احرار (سیکٹری جنرل جمعیت علماء اسلام ،پاکستان)نے فرمایا:
- پاکستان کی تعمیر اور استحکام میں مساجد و مدارس کا کردار بے مثال رہا اور مستقبل میں بھی رہے گا لیکن منبر و محراب کی خودمختاری اور آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
- حکومتی وظیفے اور شرائط کو قبول کرنے کا مطلب ہے کہ حکمرانوں کے خلافِ شرع احکامات و اقدامات پر اُن سے تائید و اتفاق کیا جائے اور ان کے خلاف بات نہ کی جائے۔
- ہمارا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ حکومت کا کوئی بھی ایسا اقدام جس سے مسجد، مدرسے کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ کرنا پڑے، ہم اسے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھیں گے اور کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
- مولانا عزیز الرحمن ثانی (رہنما عالمی مجلس ختم نبوت ، پاکستان)نے فرمایا:
- اس وقت حکومت نے مدارس اور مساجد کے حوالے سے جو ایجنڈا تیار کیا ہے، ہمارے تمام اکابرین نے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
- مولانا فداء الرحمن (راہنما اہل سنت و الجماعت ، پاکستان)نے فرمایا:
- حکومت ِوقت اگر چاہتی ہے کہ 25 ہزار میں علماء کی زبانوں کو بند کیا جائے یا خرید لیا جائے تو یہ ان کی بھول ہے۔ جب سامراجی نظام آیا تھاتو اس وقت بھی علماء نے اپنی جانیں پیش کر کے اسلام کے علم کو بلند کیاتھا۔ ان شاءاللہ حکومت کے یہ ہتھکنڈے خود ہی دم توڑ جائیں گے، مگر مساجد و مدارس میں محبت اور مودّت کا علم ہمیشہ لہراتا رہے گا۔
اس موقع پر مولانا مفتی محمد شفیق مدنی، ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی، ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد،مولانا مفتی محمدشفیع طاہر،ڈاکٹرمفتی منیر احمد وقار، مولانا ابن بشیر الحسینوی، ڈاکٹر عتیق الرحمن شہزاد، قیم الٰہی ظہیر، حافظ حنین قدوسی اور دیگر علماء و رہنماؤں نے اہم نکات پر روشنی ڈالی اور قائدین کی مشاورت سے بعض سفارشات پیش کی گئیں جو قارئین محدث کی خدمت پیش خدمت ہیں۔
سیمینار کے شرکاء نے امید ظاہر کی کہ حکومت ان نکات کو سنجیدگی سے لے گی اور دینی اداروں کے وقار، کردار اور استحکام کو مضبوط بنانے میں عملی اقدامات کرے گی اور مساجد کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنے میں کوئی روکاوٹ پیدا نہیں کرے گی ،ان شاء اللہ