امام رزینؒ اور ان کی کتاب کا تعارف

امام رزینؒ اور ان کی کتاب کا تعارف

 ابن بشیر الحسینوی

 

ہمارے طلبانِ حدیث جب مشکوۃ  المصابیح پڑھتے ہیں تو وہ کئی مقامات  پر ’’رواہ رزین  ‘‘ لکھا ہوا پاتے  ہیں۔ لیکن طلبہ کو نہ امام رزین کا تعارف کرایا جاتا ہے اورنہ ان کی کتاب کے متعلق کوئی معلومات ملتی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امام رزین  اندلس (موجودہ اسپین ) کے رہنے والےتھے ، لیکن ان کی کتاب وہاں کے حوادث کا شکار ہو کر   مفقود ہوگئی ،جس کی وجہ سے بعد کے زمانے کے لوگ ان سے زیادہ متعارف نہ ہوسکے۔علم و تحقیق کے محب اور یکتائے روز گار ، جامعہ لاہور الاسلامیہ (البیت العتیق) ، محدث لائبریری کے مدیر ، میرے استاذ محترم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حمزہ مدنی﷾نے مجھے امام رزین اور ان کی کتاب کے تعارف  سے اگاہی کا حکم دیا تو میں نے ثانوی کتب کی مدد سے  ایک جواب تیار کرکے ریکارڈ کرادیا۔ اب  حال ہی میں امام رزینؒ کی مفقود کتاب تجرید الصحاح الستة زیور طبع سے آراستہ ہو کر مارکیٹ میں آئی   ہے،تو استاذ محترم نے فوراً  وہ کتاب خرید کر مجھے مہیا کی۔ میں نے اس کے منہاج کا مطالعہ کیا اور بہت زیادہ اضافہ جات کے ساتھ  یہ مضمون قارئین محدث کے پیش خدمت ہے ۔   

امام رزین کا نام

ابو الحسن رزین بن معاویة بن عمار العبدری الا ندلسی السر قسطی

علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں :

الامام المحدث الشهیر ابو الحسن العبدری الاندلسی[1].

’’ امام ، محدث جو ابو الحسن عبدری اندلسی کے نام سے معروف ہوئے ‘‘۔

دوسری جگہ امام ذہبیؒ نے  انہیں ’’ الحافظ ‘‘ بھی  کہا ہے ۔ 

احمد بن یحیی بن احمد بن عمیرۃ الضبیؒ ۔(وفات 599ھ)نے اندلس کے رجال پر ایک کتاب تحریر کی ہے، جس کا نام  بغیة الملتمس فی تاریخ رجال أهل الاندلسہے ، اس میں انہوں نے امام رزین کا بھی مختصر تذکرہ کیا ہےاورآپ  کو’’محدث ‘‘کے لقب سے یاد کیا ہے۔

تعلیم و تعلم

امام رزین بن معاویہ ﷫طویل عرصہ تک مکہ مکرمہ میں ٹھہرےرہے، وہاں   عیسیٰ بن ابی ذر ﷫ سے صحیح بخاری اور امام ابو عبداللہ الطبری ﷫سے صحیح مسلم کا سماع کیا ۔

 اساتذہ

آپ نے بہت سے شیوخ سے علم حاصل کیا ان میں سے چند اساتذہ کے نام درج ذیل ہیں:

  • ابو مکتوم عیسیٰ بن ابی ذر الہروی﷫
  • حسین بن علی الطبری ﷫
  • ابوالحجاج یوسف بن علی القضاعی الاندلسی﷫
  • علی بن محمد الفارسی  ﷫

 شاگرد

آپؒ نے زندگی کا ایک بڑا حصہ مکہ مکرمہ میں گزارا ، اس مبارک سرزمین میں حج اور عمرہ پر تشریف لانے والے کتنےہی طلبہ و علماء نے آپ سے علم حاصل کیا ، البتہ چند معروف شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں ۔

  •  ابو المظفر محمد بن علی الطبری﷫( حرم کے قاضی)
  •  احمد بن محمد بن قدامہ﷫
  •  امام ابن عساکر﷫ (مؤلف ’’تاریخ د مشق‘‘)       
  • حافظ ابو موسی المدینی﷫

مقام و مرتبہ

آپ کے مقام و مرتبہ پر بہت سے اقوال ملتے ہیں ان میں سے چند ایک  یہاں نقل کیے جاتے ہیں ۔

ابو موسی المدینی ؒنے کہا :

  له معرفة بالحدیث والرجال والفقه[2].

 ’’آپ کو حدیث ، رجال اور فقہ کی معرفت  حاصل تھی‘‘ ۔

ابن بشکوال ؒنے کہا:

 کان رجلا فاضلا عالما بالحدیث وغیره وله فیه توالیف حسان [3].

’’ آپ فاضل شخصیت تھے اور  حدیث وغیرہ کے  عالم تھے ۔آپ کی اس فن میں عمدہ کتب بھی ہیں‘‘ ۔ 

علامہ ذہبی ؒنے کہا :

 کان امام المالکیین بالحرم. ’’ آپ حرم مکی   میں مالکیوں کے امام بھی تھے‘‘۔

امام ذہبیؒ نے اپنی سند سے ایک حدیث بیان کی ہے جس کے   روات  میں امام رزین   کا ذکر  بھی ہے۔

أخبرنا عبد الحافظ، أخبرناابن قدامة، أخبرنا أبی أحمد بن محمد، أخبرنا رزین بن معاویة، أخبرنا الحسین بن علی، أخبرنا عبد الغافر بن محمد، أخبرنا محمد بن عیسی، أخبرنا ابن سفیان، حدثنا ابن قعنب، حدثنامالک، عن یحی بن سعید، عن محمد بن ابراهیم، عن علقمة بن وقاص ، عن عمر، قال رسول الله صلی الله علیه وسلم:انما الا عمال بالنیات، وانما لامریء مانوی، فمن کانت هجرته الی الله و رسوله، فهجرته الی الله و رسوله، ومن کانت هجرته لدنیا یصیبها أو امراة  یتزوجها، فهجرته الی ماهاجرالیه[4].

وفات

امام رزین بن معاویہؒ محرم کے مہینے مکہ مکرمہ میں ہی 535ھ کوفوت ہوئے۔

کتب

امام رزین بن معاویہؒ  نے متعدد فنون پر کتب لکھیں لیکن اکثر مفقود ہیں ، دوسری کتب میں  آپ  کی تین  کتابوں کے نام ملتے ہیں  ۔تجرید الصحاح الستہ ،  اخبار مکہ اور اخبار مدینہ ۔

’تجرید الصحاح الستہ فی الحدیث‘     کا تعارف اور منہج

رواہ رزین سے کون سی کتاب مراد ہے ؟

علامہ خطیب تبریزی ؒ ’مشکوۃ المصابیح‘‘، امام ابن کثیر ؒ ’’مسند الفاروق‘‘ اور بعض دیگر محدثین اپنی کتب میں ’’رواہ رزین ‘‘ کہہ کر جو  حوالہ دیتے ہیں اس سے امام رزین کی کتاب تجرید الصحاح الستة مراد ہی ہے ۔

جیساکہ حافظ ذہبی  ﷫ نے کہا : 

وله مصنف مشهور جمع فیه الکتب الستة. 

 ’’امام رزین کی ایک مشہور  تصنیف ہے جس میں انہوں نے کتب سۃکو جمع کیا ہے‘‘۔

’ تجرید الصحاح الستة فی الحدیث‘ کی گمشدگی

امام رزین کی کتاب تجرید کئی صدیوں سے مفقود تھی، اس لیے  علامہ البانی ؒ نے مشکوۃ کی تحقیق میں وہ روایت جو محض رزین کے حوالے سے ہے اس پر ضعیف ہونے کا حکم لگایا ہے ۔ اسی طرح  علامہ مبارکپوریؒ نے مرعاة المفاتیح  شرح مشکوة المصابیح  میں ’رواہ رزین ‘‘ پر بحث کرتے ہوئے  لکھا ہے :

 ذكر هذا الأثر والذي قبله رزين في تجريده من غير سند ولم أقف على من أخرج أثر علي[5].

’’اس اثر کو اور اس کے ما قبل اثر کو رزین نے اپنی تجرید میں بغیر کسی سند کے ذکر کیا ہے اور میں نے اطلاع نہیں پائی کہ سیدنا علی ﷜کے اثر کو کس نے روایت کیا ہے ‘‘۔

تجرید الصحاح الستة فی الحدیثکی طباعت

ہمیں پنے قارئین کو یہ بتاتےہوئے خوشی محسوس  ہورہی ہے  کہ امام رزین بن معاویہؒ کی یہ کتاب جو صدیوں سے  مفقودتھی دکتور محمد اسحاق محمد الابراہیم کی تحقیق سے حال ہی میں  5جلدوں میں شائع ہو گئی ہے ۔ اس میں انہوں نے کتب ستہ سے احادیث کا ایک انتخاب جمع کیا ہے ۔

 امام رزین کے ہاں کتب ستہ سے مراد کون سی کتب ہیں ؟

محدثین کے ہاں کتب ستہ سے مراد ؛صحیح بخاری ، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی ، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ ہیں۔البتہ بعض محدثین’’ کتب ستہ‘‘ کی اصطلاح میں  سنن ابن ماجہ کی بجائے موطأ امام مالک کو شامل کرتے ہیں ۔  امام زرین بن معاویہ نے بھی اسی اصول کے مطابق ’’ تجرید الصحاح الستہ ‘‘  میں سنن ابن ماجہ کی بجائے موطا امام مالک کی احادیث  کو داخل کیا ہے۔جیساکہ محدث ابو اسحاق الحوینی ﷫ نےکہا :

 جمع کتابا سماه تجرید الصحاح الستة وهی الکتب الستة الا ابن ماجه فانه جعل بدلها موطأ مالک.

’’اس نے ایک کتاب جمع کی جس کا نام ’ تجرید الصحاح الستة‘ رکھااور اس میں چھ اصل حدیثی کتابوں (کتب ستہ ) کو جمع کیا ،البتہ ابن ماجہ کی جگہ اس نےموطأ امام مالک کو شامل کیا ہے‘‘۔

اس کی چند وجوہات سمجھ  میں آتی ہیں ۔

  • امام رزین مالکی ؒ [6]تھے اس لیے انھوں نے سنن ابن ماجہ کی بجائے امام مالک کی کتاب موطا کا انتخاب کیا ۔اور موطاسے کافی احادیث و آثار لائے ۔
  • مغاربہ کے علمائے کرام سنن ابن ماجہ سے واقف نہیں تھے اس لیے وہ کتب ستہ میں موطا کوداخل کرتے تھے ۔ جیسا کہ زرکشی ؒنےکہا ہے [7]۔ واللہ اعلم بالصواب

کتب ستہ یا صحاح ستہ

ہمارے ہاں کتب ستہ کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے،حالانکہ اصولی طور پر سنن اربعہ کو صحاح میں شمار کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ صحیح  بخاری اور صحیح مسلم کے صحیح ہونے پر تو محدثین کا اتفاق ہے جب کہ سنن اربعہ میں ضعیف روایات بھی ہیں ، لہذاانہیں ’’صحاح ستہ ‘‘کی بجائے ’’کتب ستہ‘‘ یا ’’اصول ستہ ‘‘کہنا چاہیے، جیساکہ محدث البانی ﷫نے بھی اپنی کتب میں اس حوالے سے تنبیہ کی ہے۔لیکن قدیم علماء کرام شاید اس وجہ سے ان کے لیےصحاح ستہ کا لفظ استعمال کرتے تھے کہ سنن اربعہ میں اکثر احادیث صحیح ہیں اور اسی بنیاد پر  امام رزین بن معاویہ ؒنے بھی اپنی کتاب کا نام(تجرید الصحاح الستہ) رکھا ہے۔

تجرید الصحاح السۃ کا سماع  کرنے والے

امام رزین ؒسے مکہ مکرمہ میں در ج ذیل اہل علم نے تجرید الصحاح الستة کا سماع کیا :

خلف بن فرخج القنطری، محمد بن عبدالرحمن العبدی اور عمر بن العباد الیحصبی  وغیره[8].

مخطوطات کی تفصیل

اس کتاب کےمتعدد قلمی نسخے مختلف مکتبوں میں پائے جاتے ہیں مثلا

  •  نسخہ مکتبہ کوبریلی ۔  ترکی ، محقق نے اس کو اصل بنایا ہے ۔
  •  نسخہ تعز  یہ مکتبہ احمد بن محمد بن علی المجاہد میں موجود ہے ۔

اس کی نقل مدینہ یونیورسٹی ، کویت اور ام القری میں بھی موجود ہے۔

  •  نسخہ جامع عتیق سلیمانیہ  ترکی ۔
  •  نسخہ جا معہ امام محمد بن سعود سعودی عرب
  •  نسخہ جامع کبیر صنعاء یمن

فاضل محقق دکتور محمد اسحاق محمد آل ابراہیم نے ان تمام نسخوں سے فائدہ لیا ہے ۔ فجزاہ اللہ خیرا

تجرید کے نسخوں کے اختلاف کا سبب ؟

امام رزین ؒنے اس بات کی مقدمہ میں وضاحت کی ہے کہ بعض لوگوں نے جلدی کرتے ہوئے میرے مسودہ کی کاپیوں سے تجرید کی تکمیل سے پہلے نقل کرلی ، حالانکہ بہت سی تقدیم و تاخیر کے ساتھ بہت سے اضافہ جات بھی میں  نےبعد میں کیے ، میرا وہ نسخہ معتبر ہے جو  502ھ میں مکمل ہوا ، اس میں امام نسائی کی سنن کبری  کی روایات اور باقی بہت سی امہات سے فوائد کو جمع کیا ہے ۔سنن نسائی صغری کے فوائد پہلے جمع کردیے تھے ،  اگر کوئی نسخوں میں اختلاف پائے تو اس کا یہ سبب ہے ۔ (مقدمہ تجرید 1/ 108 )

مقدمہ تجرید الصحاح الستہ

امام رزین نے اس کتاب کے شروع میں مفصل مقدمہ لکھا ہے جو جلد اول کے صفحات 75تا 110 تک ہے۔   جس میں انھوں نے اتباع قرآن و حدیث پر بہت زور دیا ہے اور اس پر متعدد دلائل جمع کیے ہیں نیز انھوں نے اس میں اپنی کتاب کا منہج بھی واضح کیا ہے ۔

رموز کا استعمال

امام رزینؒ نے بعض احادیث کے شروع میں چند رموز کا استعمال کیا ہے اور مقدمہ میں خود ان رموز کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

و علمت علی ما فی موطا مالک ب (ط) و مسلم ب (م) والبخاری ب (خ ) فی اول الحدیث[9].

’’میں نے حدیث کے شروع میں موطاکے لیے( ط) ، صحیح مسلم کے لیے (م) اور صحیح بخاری کے لیے (خ)  بطور علامت  مقرر کی ہے ‘‘۔

  اسی طرح  سنن النسائی کے لیے (نس) کی علامت مقرر کی ہے [10]۔

’ط ‘اور ’م ‘کااستعمال زیادہ کرتے ہیں، ’ خ ‘ کا استعمال بہت کم کرتے ہیں ۔

 پھر فرماتے ہیں کہ مکمل کتاب میں علامتیں دو قسم کی ہیں ۔ پہلی قسم : جو علامت لگائی ہے وہ متن اور سند میں منفرد ہے اور یہ بہت زیادہ ہے یا ان دونوں (متن اور سند )میں سے ایک کے منفرد ہونے کی وجہ سے ۔

دوسری قسم : جس پر علامت نہیں لگائی گئی یہ وہ احادیث ہیں جو معنی یا لفظ کے لحاظ سے متفق ہیں اور یہ بہت زیادہ ہیں یا وہ احادیث ہیں جن میں امام بخاری منفرد ہیں[11] ۔

احادیث کو جمع کرنے میں منہاج

انھوں نے کتب اور ابواب میں صحیح بخاری کو بنیاد بنا کر  تین کتب ؛ موطا امام مالک ، صحیح البخاری اور صحیح مسلم کی احادیث جمع کیں، پھر سنن ابوداود اور سنن الترمذی سے وہ روایات لائے جو پہلی تین میں  نہیں تھیں۔ہر  حدیث کے متعلق دیگر احادیث کے اضافہ جات کو بھی جمع کردیا ... مزید وضاحت کرتے ہیں کہ میں نے سندوں کو حذف کردیا ہے اور  تلخیص تیار کی ہے تاکہ اس سے استفادہ کرنا اور یاد رکھنا آسان ہو اور یاد رکھا جاسکے ۔ [12]

تجرید میں بعض غیر معروف زیادات ؟

امام رزین کو چاہیے تھا کہ وہ کتاب کے نام اور منہج کے مطابق وہی احادیث لاتے جو کتب ستہ میں موجود ہیں لیکن انہوں نے اپنی کتاب میں کچھ ایسی روایات بھی جمع کردیں جو  غیر معروف ہیں ۔اس حوالے سے بہت سارے علماء نے ان پر تنقید بھی کی ہے ، ملاحظہ فرمائیں :

  •  علامہ ذہبی﷫ نے کہا :

أدخل کتابه زیادات واهیة لوتنزه عنهالأجاد. 

’’انھوں نے اپنی کتاب میں کمزور زیادات کوبھی جمع کیا ہے، اگر وہ  اپنی کتاب کو ان سے بچاتے تو  بہت اچھا  ہوتا‘‘۔

  •  امام شوکانی ﷫ نے  تو بڑے سخت الفاظ میں اس کا تذکرہ کیا ہے  :

ولقد أدخل فی کتابه الذی جمع فیه بین دواوین الاسلام بلایا وموضوعات لاتعرف ولا یدری من این جا ء بها و ذلک خیانة للمسلمین[13].

’’انہوں نے اپنی اس کتاب میں اسلام کے دواوین کو جمع کیا ہے بڑی بڑی مصیبتیں اور من گھڑت روایات کو بھی جمع کر دیا ہے جن کے متعلق کوئی معلومات نہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ ان روایات کو کہاں سے لائے ہیں؟ انھوں نے مسلمانوں کو ساتھ یہ خیانت کی ہے‘‘۔

نیز کہا :

وقد اخطأ ابن الأثیر خطأ بینا بذکر ما زاده رزین فی جامع الأصول ولم ینبه علی عد م صحته فی نفسه إلا نادرا[14].

’’امام ابن الاثیرؒ  نے اپنی کتاب جامع الاصول میں امام رزین کی زیادات کو ذکر کرنے کے ساتھ بہت بڑی غلطی کی ہے اور پھر ان کی عدم صحت پر متنبہ بھی نہیں کیامگر بہت کم  ‘‘۔

  •   محدث البانی ﷫  لکھتے ہیں:

فاعلم أن كتاب رزين هذا جمع فيه بين الأصول الستة: الصحيحين و موطأ مالك  و سنن أبي داود والنسائي والترمذي، على نمط كتاب ابن الأثير المسمى’’جامع الأصول من أحاديث الرسول‘‘إلا أن في كتاب’’التجريد‘‘أحاديث كثيرة لا أصل لها في شيء من هذه الأصول كما يعلم مما ينقله العلماء عنه مثل المنذري في ’’الترغيب والترهيب‘‘[15].

’’پس جان لو کہ رزین کی یہ کتاب (یعنی تجريد) اس نے چھ بنیادی ماخذوں صحیح بخاری، صحیح مسلم، موطأ امام مالک، سنن ابی داود، سنن نسائی اور جامع ترمذی سے  جمع کر کے تیار کی ہے ۔ یہ کتاب ابن الاثیر کی تصنیف ’’جامع الأصول من أحاديث الرسول ‘‘ کے انداز پر ہے۔البتہ کتاب التجريد  میں بہت سی ایسی احادیث پائی جاتی ہیں جن کی کوئی اصل ان بنیادی ماخذوں میں موجود نہیں — جیسا کہ اہلِ علم نے اس کی نقلوں سے واضح کیا ہے، مثلاًامام منذری نے اپنی کتاب ’’الترغيب والترهيب‘‘ میں کیا ہے‘‘۔

  •  محدث ابو اسحاق الحوینی ﷫نےکہا :

وقد زاد احادیث کثیرة لیست فی هذه الکتب لاتعرف[16].

’’اور اس نے بہت سی ایسی احادیث کا اضافہ کیا جو ان (چھ) کتابوں میں موجود نہیں (اور ) وہ غیر معروف  ہیں‘‘۔

مذکورہ بالا علماء کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ’’ تجرید الصحاح السته‘‘ میں شائد بہت ساری احادیث غیر معروف نقل کی ہیں ، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ راقم نے امام رزین کی کتاب تقریبا ساری دیکھی ہے میرے علم کے مطابق بمشکل د س کے قریب ایسی روایات ہوں گی جن کے متعلق محقق کتاب نے وضاحت کی ہے کہ مجھے یہ نہیں ملیں ۔ چند روایات درج ذیل ہیں تجریدسے ان کےنمبر درج ذیل ہیں ۔ 1079، 3740،3989 ،  4769 ، 4406 وغیرہ ۔

اس حوالے سے دو سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں :

  • اگر غیر معروف روایات دس کے قریب ہیں تو پھر مذکورہ کبار علماء کرام نے انہیں کثیر کیوں کہا اور اتنی سخت جرح کیوں کی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ علماء کرام کو یہ کتاب دستیاب نہ  تھی۔ ان کی عبارات سے واضح ہوتا ہےکہ انہوں نے دوسری کتب میں تجرید کی احادیث دیکھی ہیں ۔
  • امام رزین ؒ یہ روایات کہاں سے لائے ہیں ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے پاس موطا کے متعدد نسخے تھے ، جیسا کہ انھوں نے خود مقدمہ(1/107 ) میں وضاحت کی ہے ۔ممکن ہے و ہ روایات موطا کے کسی نسخہ سے ہوں گی ، جو ہمارے پاس فی الوقت نہیں ہے ، واللہ اعلم بالصواب

موطا کی بعض روایات تجرید میں نہیں ہیں

یہ بات  قابل ذکر ہے کہ امام رزین نے تجرید میں بعض روایات پر’ ط ‘لکھا ہے یعنی یہ موطا کی روایات ہیں حالانکہ وہ موطا کےمتداول کسی بھی نسخے میں نہیں ہیں مثلا دیکھیں تجرید کی احادیث نمبر 3846 ، 3944  یہ بھی دلیل ہے کہ زیادات بھی موطا کے بعض نسخوں سے لائےہیں جو اب تک مفقود ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب

کل احادیث  کی تعداد

تجرید الصحاح الستہ میں کل احادیث 7501 ہیں ۔

تجرید میں سندوں کو حذف کیوں کیاگیا؟

امام رزینؒ  ایک اعتراض نقل کرتے ہیں کہ اگر کوئی کہے کہ آپ نے اس مختصر کا قصد کیوں کیا کہ ایسی کتاب جس میں سندوں اور تکرار کو حذ ف کیا جائے اور صرف احادیث پر اکتفا کیا جائے ؟

پھر اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں   کہ ہر زمانے کے اپنے لوگ ہوتے ہیں اور ہر موقع اور حالت کے لیے ایک خاص بات ہوتی ہے ۔  ان (سلف محدثین)کے زمانہ میں احادیث کو کثرت طرق اورسندوں کے ساتھ ضبط کرناان پر فرض عین تھا ، اب اللہ تعالی نے یہ کام ساقط کردیا ہے ، اگر ہمیں ایسا کام سونپا جاتا تو ہم وہ نہ کرسکتے اور نہ ہی ہم اس کے اہل ہیں ۔ جس چیز کی تصحیح میں انھوں نے محنت و توجہ کی وہ صحیح ہے[17] ۔

تجرید الصحاح الستہ میں کیا تمام احادیث صحیح ہیں ؟

امام رزینؒ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 ومن ارتاب فی أمر من صحة ما أدخلناه[18].

’’جس کی صحت میں کوئی شک تھا وہ ہم نے داخل نہیں کی ‘‘۔

یعنی آپ کا منہج اس کتا ب میں صرف صحیح احادیث لانے کا تھا ،  لیکن وہ اس شرط پر پورا نہیں اتر سکے ، بلکہ کافی احادیث ضعیف بھی ہیں ۔لیکن یہ  بھی تو ممکن  ہے کہ وہ احادیث موصوف کے نزدیک صحیح ہوں  جبکہ دیگر محققین کے ہاں وہ ضعف ہیں اور یہ چیز محققین کے ہاں معروف ہے۔

آثار سلف

امام رزین ؒاحادیث کے ساتھ ساتھ آثار سلف بھی لائے ہیں مثلا دیکھیں حدیث نمبر 43،  1098 ، 1460، 4390، 4391 ۔

مسندابی رزین کا تعارف

ایک صحابی جن کا نام ابو رزین العقیلی ﷜ ہے ان سے مروی احادیث کے  مجموعہ کو مسند ابی رزین کہا جاتا ہے،  وہ’’المسند الصحیح‘‘ کے نام سے مطبوع بھی ہے ۔ یہ مجموعہ مسند احمد میں مسند ابی رزین کے نام سے درج ہے ۔

امام ابو نعیم اصفہانی ﷫ نے مسند ابی رزین کے حوالے سے لکھا ہے :

أکثر روایاته مسائل،سأل عنهاالنبی ﷺ فی التوحید والأصول[19].

’’مسند ابی رزین کی اکثر روایات مسائل پر مشتمل ہیں جو انہوں  نے رسول اللہ ﷺ سے توحید اور اصول کے متعلق پوچھے تھے‘‘۔

اس مسند کا  ہمارے زیر بحث امام رزین بن معاویہ العبدری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

 

[1]               سیر اعلام النبلاء 20 / 204

[2]     توضیہ المشتبہ 6/111

[3]     الصلة فی تاریخ ائمة  الاندلس:185

[4]     سیر اعلام النبلاء :20/206

[5]              مرعاۃ المفاتیح: 6/279

[6]      امام رزین ؒ کا انتساب  اگر چہ مالکی فقہ کی طرف ہے لیکن  وہ معروف معنوں میں مقلد نہیں تھے بلکہ متبع سنت تھے ، وہ اسی کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :فلوکان ممالیس له الا وجه واحد یحمل علیه لما کان ینبغی أن یجعل قول أحد فی مقابلة قول رسول الله صلی الله علیه وسلم  ولا معترضا علیه ولو ارتفع ما ارتفع فی علمه و زمانه... ’’اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جس کی تعبیر اور معنی صرف ایک پہلو پر محمول ہوتو پھر کسی کے قول کو رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے بالمقابل پیش کرنا یا اس کے قول کے ذریعے حدیث پر اعتراض کرنا  درست نہیں ، خواہ  وہ شخص اپنے علم کے اعتبار سے اور اپنے وقت میں کتنا ہی بلند مرتبہ کیوں نہ ہو  ‘‘۔

[7]              نکت الزرکشی علی مقدمۃ ابن الصلاح 1/ 380

[8]            التکملة  لکتاب الصلة: 4/ 32 ، نفح الطیب لأبی العباس المقری: 3/ 123

[9]                مقدمة تجرید الصحاح الستة 1/ 104

[10]           مقدمة تجرید 1۔ 105

[11]             تجرید الصحاح الستة،المقدمة: 1/ 104۔105

[12]              تجرید الصحاح الستة: 1/ 104۔105

[13]             الفوائد المجموعة :49

[14]          الفوائد المجموعة :49

[15]          السلسلة الضغيفة:1/373

[16]             نثل النبال :1/595

[17]          مقدمة تجرید الصحاح الستة:  1/ 105، 106

[18]             مقدمة تجرید الصحاح الستة: 1/ 106

[19]             معرفة الصحابة :5/2418