کسی آدمی کی طرف سے طواف یا حج وعمرہ ادا کرنا
کسی آدمی کی طرف سے طواف یا حج وعمرہ ادا کرنا
ترتیب: حافظ حبیب الرحمن مدنی
قرآن کریم میں مسلمانوں کو اپنے دینی مسائل میں علماء کرام کی طرف رجوع کرنےکا حکم دیا گیا ہے۔ معتبر اور جید علماء کرام کے فتاویٰ جات کی اشاعت ماہنامہ محدث کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ پاکستان کے نامور مفتی حافظ ثناء اللہ مدنی کے فتاویٰ محدث ہی کے صفحات پر عرصہ شائع ہوتے تھے اوراسی بدولت ’ماہنامہ محدث ‘کو تمام مجلات پر علمی تفوق حاصل تھا ۔ اب ’ماہنامہ محدث‘ کے قارئین اور محدث ویب سائٹ کے وزٹر حضرات کے سوالات کے جوابات مفتیان کرام کا ایک بورڈ دیتا ہے ، جس میں مفتی جماعت مولانا حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی سربراہی میں کبار علماء مولانا مفتی محمد شفیق مدنی ﷾ ، مولانا قاری عبد الحلیم بلال ﷾، ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ﷾، مفتی عبدالخالق﷾ اور مولاناجاوید اقبال سیالکوٹی ﷾ وغیرہ شامل ہیں۔ قارئین اپنے سوالات https://urdufatwa.com/ask-question پر ہمیں ارسال کرسکتے ہیں ۔ ادارہ |
سوال : کیا کوئی شخص( جو حج یا عمرہ پر گیا ہو) کسی زندہ شخص کی طرف سے طواف کر سکتا ہے اور کیا کسی دوسرے شخص کی طرف سے عمرہ یا حج بھی ادا ہو سکتا ہے؟
جواب : الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
عبادت میں وہی کام کرنا جائز ہوتا ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہو ۔چونکہ کسی زندہ یا مردہ کی طرف سے اکیلا طواف کرنے کی کوئی دلیل قرآن وسنت میں موجود نہیں ہے،لہٰذا کسی دوسرے شخص کی طرف سے طواف نہیں کیا جاسکتا ،یہ بالکل ایسے ہی ہےجیسے نماز کسی دوسرے شخص کی طرف سے نہیں پڑھی جا سکتی ۔البتہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے حج یا عمرہ ادا کرنا ثابت ہے ، لہٰذا اگر کوئی شخص کسی دوسرےکی طرف سے حج یا عمرہ ادا کرتا ہے تو( حج یا عمرہ میں کیا ہوا ) طواف اس شخص کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔
زندہ شخص کی طرف سے عمرہ یا حج (چاہے فرض ہو یا نفل) اس صورت میں ہو سکتا ہے جب وہ خود (بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے) اپنی ساری زندگی میں حج یا عمرہ ادا کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو ۔ اگر وہ فی الوقت بیمار ہو اور اس کے تندرست ہونے کا امکان ہو تو وہ تندرست ہو کر خود حج یا عمرہ اداکرے گا، کسی دوسرے آدمی کا اس کی طرف سے حج یا عمرہ ادا کرنا جائز نہیں ہے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا:
إِنَّ فَرِيضَةَ الله عَلَى عِبَادِهِ فِي الحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ[1].
’’ اللہ تعالیٰ کا فریضہ حج جو اس کے بندوں پر عائد ہے، اس نے میرے بوڑھے باپ کو پالیا ہے مگر وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟آپ نے فرمایا:ہاں! ۔‘‘
اسی طرح اگر کوئی شخص حج کیے بغیر فوت ہوگیا تو اس کی طرف سے حج کیا جاسکتا ہے ۔سیدنا ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا:
لبيك عن شُبْرُمَةَ، قال:من شُبْرُمَة؟ قال: أخٌ لي، أو قريبٌ لي، قال:حججتَ عن نفسِك؟قال:لا، قال:حج عَنْ نفسِكَ ثم حُجَّ عن شُبْرَمَة.[2]
’’میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔“ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ” شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا (اس نے کہا)میرا قریبی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہے؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(پہلے) اپنی طرف سے حج کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔“ والله أعلم بالصواب.
صفا و مروہ کی سعی کے بغیر چلے جانے کا حکم
سوال : ایک شخص حج کےلیے گیا، اس نے حج کے تمام اعمال ادا کرلیے، مگر صفا و مروہ کی سعی نہیں کر سکا، اسی حالت میں پاکستان آ گیا، اب اس شخص کےلیے کیا کفارہ ہے؟
جواب : الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جس شخص نے حج کے تمام اعمال سر انجام دیے لیکن سعی نہیں کی، اس کا حج مکمل نہیں ہے، کیونکہ سعی کرنا حج کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اس کے بغیر حج نامکمل ہے۔
سیدہ حبیبہ بنت ابی تجراہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اسْعَوْا، فَإِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ[3].
’’(صفا اور مروہ کے درمیان)سعی کرو، بلاشبہ اللہ تعالی نے تم پر سعی کرنا فرض کیا ہے۔‘‘
لہٰذا اگر اس شخص نے جان بوجھ کر سعی نہیں کی تو اس پر لازم ہے کہ وہ دوبارہ مکہ مکر مہ جا کر سعی کرےاور دم بھی دے۔ اگر سعی کرنا بھو ل گیا تھا تو صرف سعی کرنا ضروری ہے دم لازم نہیں آئے گا۔
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْه[4].
’’بلاشبہ اللہ تعالی میری امت سے غلطی، بھول اور مجبوری پر مؤاخذہ نہیں کرے گا۔‘‘
مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے بھول کر یا لا علمی کی وجہ سے شرعی حکم کی مخالفت کی وہ معاف ہے؛ خطا کار میں جاہل اور لا علم شخص بھی شامل ہے؛ کیونکہ ہر وہ شخص خطاکار ہے جو غیر ارادی طور پر حق بات کی مخالفت کر لے۔
جب تک وہ سعی نہیں کرلیتا اس کا حج مکمل نہیں ہوگا ، لہٰذا ایسا شخص جب تک مکہ جا کر سعی نہیں کر لیتا اس کے لیے اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں۔ اگر مسئلہ کا علم نہ ہونے کی وجہ سے اس نے جماع کرلیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے لیکن جیسے ہی علم ہو جماع سے رکنا ضروری ہو گا۔ والله أعلم بالصواب.
طواف وداع کیے بغیر حرم مکہ سے باہر چلے جانا
سوال: حج کے بعد طواف وداع کیے بغیر حرم مکہ سے باہر جانے والےکا کیا حکم ہے؟
جواب: الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
طواف وداع حج کے واجبات میں سے ہے، اگر انسان طواف وداع کیے بغیر مکہ سے نکل جائے تو اسے دم دینا لازمی ہو گا جو مکہ مکرمہ میں ذبح کیا جائے گا اور وہاں کے فقراء و مساکین میں تقسیم کیا جائے گا ، انسان کے لیے خود اس کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں:
أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ[5].
’’لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں ان کا عمل بیت اللہ کا طواف ہو، مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔‘‘
لہٰذا اگر انسان طواف وداع کیے بغیر میقات سے باہر چلا جائے تو اس پر دم لازم آئے گا۔
اسی طرح اگر کوئی حاجی حج کے بعد عمرہ کا احرام باندھنے کے لیے مکہ سے باہر میقات پر جاتا ہے تو اسے بھی طواف وداع کر کے جانا چاہیے ۔ اگر وہ طواف وداع کیے بغیر مکہ مکرمہ چھوڑ دے گا تو اس پر دم لازم آئے گا۔
ہاں! اگر عورت نے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے ہیں ، طواف افاضہ بھی کر لیا ہے ، لیکن مکہ مکرمہ چھوڑنے سے پہلے اسے حیض آ گیا تو اس پر طواف وداع کرنا واجب نہیں ، وہ طوافِ وداع کیے بغیر ہی مکہ سے جا سکتی ہے۔
قربانی کے گوشت سے ولیمہ کرنا
سوال : کیا قربانی کے گوشت سے ولیمہ کرناجائز ہے؟
جواب : الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قربانی کا گوشت انسان کو خود بھی کھانا چاہیے ، اپنے اہل وعیال کو بھی کھلائے اور فقیروں مسکینوں کوبھی کھلائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىِٕسَ الْفَقِيْرَٞ۰۰﴾ ]الحج:28[
’’ پھر انہیں خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی کھلائیں ۔‘‘
اور فرمایا:
﴿فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ﴾ ]الحج:36[
’’تو انہیں خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے کوبھی اور مانگنے والوں کو کھلاؤ۔‘‘
سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے قربانی والے تین دنوں سے زیادہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا تھا ،پھرآپ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’میں نے تو تمھیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آ پائے تھے ۔اب (قربانی کا گوشت) کھاؤ ، ذخيره كرو اور صدقہ کرو۔‘‘[6]
اس لیے افضل یہ ہے کہ انسان قربانی کا گوشت سارا خود ہی نہ کھا لے، بلکہ خود بھی کھائے،اپنے اہل وعیال کو بھی کھلائے اور فقیروں مسکینوں کوبھی کھلائے۔
اگر وہ کچھ صدقہ کر کے باقی کے گوشت سے ولیمہ کر لے تو جائز ہے ۔ والله أعلم بالصواب
جامعہ لاہور الاسلامیہ المعروف ’جامعہ رحمانیہ ‘ سے متعلق اہم اعلان احباب بخوبی آگاہ ہیں کہ شیخ الجامعہ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی حفظہ اللّٰہ نے 1968ء میں ’مدرسہ رحمانیہ‘ کے نام سے جس ادارے کی بنیاد رکھی تھی، وہ وقت کے ساتھ ترقی کرتے کرتے جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) کے نام سے معروف ہوا اور 1991ء میں اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ (Islamic Welfare Trust) کی منظوری کے بعد اس کے ذیلی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ایک طویل عرصے تک جامعہ کا کیمپس 91 بابر بلاک، نیو گارڈن ٹاؤن، لاہور میں قائم رہا؛ تاہم گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے جامعہ لاہور الاسلامیہ رحمانیہ کا مکمل تعلیمی نظام اور اصل کیمپس مین جوہر ٹاؤن (مرکز البیت العتیق، خیابانِ جناح لاہور) میں منتقل ہو چکا ہے۔ اس لیے احباب، متعلقین اور عوام الناس پر یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ 91 بابر بلاک، نیو گارڈن ٹاؤن، لاہور میں اب ’جامعہ رحمانیہ ‘کے نام سے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ وہاں اس وقت صرف المعهد العالي للعلوم الاجتماعية (Lahore Institute for Social Sciences) کی کلاسز منعقد ہوتی ہیں جس کا مقصد آیندہ مدینہ یونیورسٹی کی طرز پر ایک بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر طلبہ ، اساتذہ اور اہل خیر سب کو اطلاع دی جاتی ہےکہ 91 بابر بلاک یا اس کے علاوہ کسی بھی دوسری جگہ ’جامعہ رحمانیہ ‘کا کوئی قانونی وجود نہیں ہے۔ مجلسِ انتظامیہ اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ (رحمانیہ وغیرہ)، 99 جے، ماڈل ٹاؤن، لاہور 0333-4553988/0300-8458139/0321-8480350/0304-4328010 |
[1] صحيح بخاری: 1513، صحيح مسلم: 1334)
[2] سنن أبي داود:1811،سنن ابن ماجہ: 2903،صحيح
[3] صحيح الجامع: 968
[4] سنن ابن ماجہ: 2045،صحيح
[5] صحيح بخاری : 1755
[6] صحيح مسلم :1971