شرح كتاب التوحيد (صحيح بخاری) قسط (13)
شرح كتاب التوحيد (صحيح بخاری)
بَابُ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: ﴿قُلْ هُوَ الْقَادِرُ ﴾ [الأنعام: 65]
اللہ تعالیٰ کا سورۃ انعام میں فرمانا : ’’کہہ دیجئے کہ وہی قدرت والا ہے ‘‘۔
اس باب میں امام بخاری اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدرت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو بیان کرنے کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں : القادر، القدیر، المقتدر
صفت القادر دو مرتبہ ،المقتدر دو مرتبہ اور صفت قدیر سنتیس بار اور القدیر ایک بار استعمال ہوئی ہے۔
امام ا بن البطال فرماتے ہیں :
’’قدرت اللہ تعالیٰ کے ذاتی صفت ہے ۔۔ قوت اور قدرت کا ایک ہی معنیٰ ہے‘‘[1]۔
قوت اور قدرت دو الگ الگ کلمے ہیں ۔ لہذا دونوں کے معانی میں بھی فرق ہے، جیساکہ امام راغب فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ عاجز نہیں ہے۔ اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی معنوی طور پر قدرت کاملہ کے ساتھ متصف نہیں ہوسکتی ، اگر چہ لفظی طور پر ان کی طرف نسبت ہوسکتی ہے، اس لیے انسان کو مطلقاً ( هو القادر ) کہنا صحیح نہیں ہے،البتہ تقیید کے ساتھ (هو القادر علی کذا) کہا جائے گا ، لہٰذا اللہ کے سوا ہر چیز قدرت اور عجز دونوں کے ساتھ متصف ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ایسی ہے جو ہر لحاظ سے عجز سے پاک ہے‘‘۔
القدیر : اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کر سکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونےدے ۔ لہٰذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن پاک میں ہے:
﴿وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا يَشَآءُ قَدِيْرٌؒ۰۰۲۹﴾ [الشورى: 29]
’’اور وہ جب چاہے ان کو جمع کر لینے پر قادر ہے ‘‘۔
اور یہی معنی تقریباً مقتدر کے ہیں ، جیسے فرمایا :
﴿عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍؒ۰۰۵۵﴾ [القمر: 55]
’’ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ‘‘۔
﴿فَاِنَّا عَلَيْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ۰۰۴۲﴾ [الزخرف: 42]
’’ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ‘‘۔
لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنیٰ ہوتا ہے اور جب انسان کے وصف کے طور پر آئے تو اس کے معنیٰ تکلیف اور مشقت سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں‘‘[2]۔
ملحدین اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت کا انکار تو نہیں کرسکے ، لیکن اس پر بعض ناروا سوال کرکے شکوک و شبہات پید کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مثلاً :
کیا اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے پر قادر ہے ؟
کیا اللہ تعالیٰ ظلم کرنے پر قادر ہے ؟
کیا اللہ تعالیٰ اپنا ہمسر بنانے پر قادر ہے ؟
کیا اللہ تعالیٰ اپنے بیوی بچے بنانےپر قادر ہے؟
کیا اللہ تعالیٰ خود کو ختم کرنے پر قادر ہے ؟
ایسی چیزوں کی اللہ کی ذات مقدسہ کی طر ف نسبت کرنا ہی درست نہیں ہے ، اس لیے بعض علماء کرام نے مذکورہ بالا سوالات کا جواب دیتے ہوئے ، ان چیزوں کی نفی کردی ہے ۔ جس پر وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ یہ کام نہیں کرسکتا تو پھر ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ﴾[البقرة: 20] تو ثابت نہ ہوا ۔
درست جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کام پر قادر ہے ، لیکن اس نے اپنی ذات سے ان چیزوں کے وقوع پذیر ہونے کی نفی کی ہے ، کہ وہ یہ کام نہیں کرتا ، تو یہ دراصل فعل کی نفی ہے ، قدرت کی نفی نہیں ہے ۔ دوسرا ان چیزوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنا اس میں نقص پر دلالت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک ہے ، لہٰذا یہ کام اللہ کی شان کے خلاف ہیں ۔
7390 - حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي المَوَالِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ المُنْكَدِرِ، يُحَدِّثُ عَبْد اللهِ بْنَ الحَسَنِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّلَمِيُّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ الِاسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كُلِّهَا، كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ القُرْآنِ يَقُولُ: ‘’إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الأَمْرَ - ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ - خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - قَالَ: أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ.
’’ ہمیں ابراہیم بن منذر نے معن بن عیسیٰ سے بیان کیا ، انہیں عبد الرحمن بن ابی الموالی نے بتایا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا، وہ عبد اللہ بن حسن بن حسن بن علی ؓ سے بیان کرتے تھے ، انہوں نے کہا کہ مجھے جابر بن عبد اللہ السلمیٰ ؓ نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو ہر کام میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے ،جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کاقصد کرے تو اسے چاہئے کہ فرض کے علاوہ دو رکعت نماز پڑھے، پھر یہ دعا کرے(جس کا ترجمہ یہ ہے ):’’اے اللہ ! میں تیرے علم کے طفیل ا س کام میں خیریت طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تجھے قدرت ہے اور مجھے نہیں، آپ جانتے ہیں اور میں نہیں جانتا اورآپ غیب اشیا کا علم رکھتے ہیں ۔ اے اللہ ! پس اگر آپ یہ بات جانتے ہیں ( اس وقت استخارہ کرنے والے کو اس کام کا نام لینا چاہئے ) کہ اس کام میں میرے لیے دنیا وآخرت میں بھلائی ہے یا اس طرح فرمایا کہ ‘’میرے دین میں اور گزران میں اور میرے انجام کے اعتبار سے اس میں بھلائی ہے تو اسے میرےمقدر میں کرد ے اور میرے لیے اسے آسان بنا دے ، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فر ما ۔ اے اللہ ! اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام میرے دین اور زندگانی اور میرے انجام کے اعتبار سے، یا یوں فرمایا کہ میری دنیا اوردین کے اعتبار سے میرے لئے برا ہے تو مجھے اس کام سے دور کردیں اور میرے لیے بھلائی مقدر کردیں جہاں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس پر راضی اور خوش کر دیں ‘‘۔
لطائف الاسناد
اس میں راوی عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی بن أبی طالب ہیں ، یعنی حضرت حسن کے پوتے اور اپنے وقت میں بنو ہاشم کے سردار تھے ۔ یہ صغار تابعین میں سے ہیں ۔ علماء مدینہ سب سے زیادہ انہی کو احترام دیتے تھے ۔یہ اپنے دادا کے چچا عبد اللہ بن جعفر سے بھی روایت کرتے ہیں ، صحیح بخاری میں ان کی صرف یہی ایک حدیث ہے ۔
شرح الحدیث
مذکورہ حدیث میں دعاء استخارہ کے جو لفظ (وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ) استعمال ہوا ہے ، یہ محل استدلال ہے۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے صفت قدرت کا اثبات ہے ۔
ہر انسان اپنے کاموں کے انجام اور ان کے فائدے یا نقصان کے حوالے سے جاننے کی شدیدخواہش رکھتاہے ۔اس لیے ہر دور میں لوگ مستقبل بینی کی خواہش پوری کرنے کے لیے مختلف طریقے ایجاد کرتے رہے ہیں ۔
مستقبل بینی کے طریقے
عربوں میں مستقبل بینی کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کیے جاتے تھے :
- تیروں اور پانسوں کے ذریعے اپنی کامیابی اور ناکامی معلوم کرتے تھے ۔
- بعض لوگ کام کرنےسےپہلے پرندہ اڑا کراس کام کے فائدہ مند یا نقصان دہ ہونے کا اندازہ لگاتے تھے ۔
- نجومیوں اور قافیہ شناسوں کو ہاتھ دکھا کر اپنا مستقبل معلوم کرتے تھے۔
- کاہن لوگ جنوں کی مدد سے معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے اور اس کی بنیاد پر لوگوں کو مشورے دیتے تھے ۔
- بعض لوگ علم جفر کے ذریعے مستقبل بینی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
مستقبل بینی علم غیب سے تعلق رکھتی ہے اور یہ خالص اللہ کی صفت ہے ، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر علم غیب کو اپنے کے لیے خاص کیا ہے فرمایا:
﴿ قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ﴾ [النمل: 65]
’’ کہہ دیجئے کہ آسمان و زمین میں رہنے والا کوئی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے ۔‘‘
انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے علم سے کچھ جاننا ممکن نہیں ہے ، الا یہ کہ خود اللہ تعالیٰ وحی یا الہام کے ذریعے کوئی بات بتا دے ۔
﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ﴾
[البقرة: 255]
’’ جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو ان سے اوجھل ہےاسے بھی جانتا ہے اور یہ لوگ اللہ کے علم میں سے کسی چیز کا بھی ادراک نہیں کرسکتے مگر اتنا ہی جتنا وہ خود (دینا )چاہے ‘‘۔
﴿عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًاۙ۰۰۲۶ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ۰۰۲۷﴾ [الجن: 26، 27]
’’ وہ غیب کو جاننے والا ہے ، پس وہ اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ، سوائے اس کے کہ کسی رسول کو پسند کرلے تو اس کے آگے اور پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے‘‘۔
بطور خاص انبیاء و رسل سے علم غیب کی نفی کی ہے ، فرمایا:
﴿ قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَيْبَ ﴾ [الأنعام: 50]
’’کہہ دیجئے میں یہ نہیں کہتا کہ میرے کنٹرول میں اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں ‘‘۔
اسی طرح فرشتوں سے بھی علم غیب کی نفی کی گئی ہے، فرمایا :
﴿قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ﴾ [البقرة: 32]
’’ فرشتوں نے کہا : تو پاک ہے ، ہمیں کسی چیز کا علم نہیں مگر جو تو ہمیں سکھائے‘‘۔
مستقبل بینی کے نقصانات
مستقبل بینی کے بہت سارے نقصانات ہیں ، مثلاً :
- جب مستقبل کے متعلق کامیابی کی خبر مل جائے تو انسان محنت کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔
- اگر ناکامی کی خبر ملے تو آدمی مایوس ہو کر ہمت ہار بیٹھتا ہے ،جب کہ یہ دونوں چیزیں ہی اللہ کے نظام کے خلاف ہیں ۔
- اللہ سےامید ٹوٹ جاتی ہے ، جب امید ٹوٹتی ہے تو انسان عبادت اور دعا کا تعلق بھی منقطع کر لیتا ہے ۔ اور وہ مایوسی اور کفر کی اندھی غار میں اتر جاتا ہے ،یاغیر اللہ سے تعلق جوڑ کر پیروں فقیروں کے چنگل میں پھنس جاتا ہے ۔یعنی ہر دو صورتوں میں مستقبل بینی کا شوق دین و دنیا کے اعتبار سے سخت نقصان د ہ ہے ۔
- کاہن اور پیر ، لوگوں کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں، کیونکہ بندہ خوشی کی حالت میں ہی ان کی جیب گرم کرتا ہے ۔
- کاہنوں اور پیروں کے ذریعے شیاطین لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں حتیٰ کہ ان سے کفریہ کام کراتے ہیں ۔
- پیر اور کاہن لوگوں کو ڈرا دھمکا کر مال بٹورتے ہیں ۔زمانہ قدیم سے لے کر دور حاضر تک کاہنوں اور نجومیوں کے لوٹ گھسوٹ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ غیب کی خبریں اور مستقبل بینی کے دعوے ہیں ۔
انہی وجوہات سے شریعت اسلامیہ نے مستقبل بینی کی کوشش اور اس کا دعویٰ کرنےکو حرام قرار دیا ہے۔
مستقبل بینی کے جائز ذرائع
البتہ تین چیزوں کے ذریعے مستقبل بینی ممکن ہے ، لیکن ان میں انسان کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ مزید ان طریقوں سے انسان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے :
خواب :انسان محنت اور کوشش سے خواب نہیں دیکھ سکتا ۔دوسری بات یہ ہے کہ خواب اللہ کی طرف سے بھی ہوتے ہیں اور شیطان کو بھی خواب میں آنےکی طاقت دی گئی ہے ، لیکن بڑی آسانی سے رحمانی اور شیطانی خواب میں امتیاز کیا جاسکتا ہے ۔
علم رمل :اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ»[3].
’’ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچا کرتے تھے ، جس شخص کا خط اس خط کے موافق ہوجائے تو اس کا کام درست ہوجاتا ہے ‘‘۔
چونکہ یہ علم آگے کسی کو منتقل نہیں ہوا ، لہٰذا علم رمل کے نام پر جو مارکیٹ میں چل رہا ہے وہ دھوکہ ہے۔
استخارہ : اس میں اللہ تعالیٰ سے اپنے معاملے میں خیر کی طلب اور شر سے پناہ مانگی جاتی ہے ۔ اس کی اسلام میں نہ صرف اجازت بلکہ ترغیب دی گئی ہے ۔ جیساکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کو استخارہ اسی طرح سیکھاتے تھے جس طرح اہتمام سے قرآن سکھاتے تھے ۔ ا س سے استخارے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔
استخارے کامسنون طریقہ
بعض لوگوں نے اسے بھی اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے جب ان سے کوئی سوال پوچھتا ہے تو وہ سر نیچے کرتے ہیں ، کچھ پڑھتے ہیں ، دو منٹ کے بعد سر اٹھاتے ہیں اور نتیجہ بتا دیتے ہیں ۔ یہ استخارے کے نام پر جھوٹ اور دھوکہ ہے ۔
اسخارے کا وہی طریقہ درست ہے جو مذکورہ بالا حدیث میں بیان ہوا ہے ۔ یعنی فرض نماز کےعلاوہ کسی بھی (نفل ، سنت ، وتر ) نماز خواہ استخارے کے لیے پڑھی گئی ہو یا عام روٹین میں ، اس میں سلام پھیرنے سے پہلے استخارہ کیا جا سکتا ہے ۔
رات کو سونے سے پہلے استخارہ کرنا اوراس کے بعد کوئی بات نہ کرنا ، یہ شرائط کسی حدیث میں نہیں ہیں ۔
استخارہ کرنے کے لیے تین یا سات دن کی تعداد مقرر نہیں ہے ۔
استخارہ کے بعد نتیجہ کا علم خواب کے ذریعہ ہونا بھی لازم نہیں ہے ،بلکہ دعا کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ خیر والی چیز کا حصول آسان ہوجائے گا اور اس میں برکت ہوگی ۔ اور اگر طلب کردہ چیز میں آپ کے لیے شر ہے تو تمام تر کوشش کے باوجود آپ اس تک پہنچ نہ سکیں گے ، بلکہ اس کے متعلق بددلی پیدا ہوجائے گی ۔
استخارے کے فوائد :
مستقبل بینی کےدوسرے ذرائع کے نقصانات کے برعکس استخارے کے بہت سارے فوائد ہیں ، مثلاً
- استخارہ حقیقت میں مستقبل بینی نہیں ہے ، بلکہ استخارے کے ذریعے بندہ اللہ سے اپنے معاملات اور مستقبل کے پروگراموں میں خیر و برکت کا سوال کرتا ہے۔اس لیے استخارہ کرنےوالا مستقبل بینی کے مذکورہ بالا نقصانات سے بچ جاتا ہے ۔
- استخارہ میں بندہ االلہ کی عبادت کرتا اور اس سے خیر مانگتا ہے ، جس سے وہ اللہ کے قریب ہوجاتا ہے ۔
- استخارہ میں بندہ اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت کو مانتا اور اس کااقرار کرتا ہے۔
- استخارہ میں بندہ اللہ کے مقابلے میں اپنے علم و قدرت کا انکار کرتا ہے ۔
- استخارہ کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی شے خیر ہی ہوتی ہے ، اگر چیز حاصل نہ ہو تو سمجھ لیں کہ وہ آدمی کے لیے شر تھی۔ ایسی صورت میں بھی اسے خیر ہی حاصل ہوئی کہ وہ شر سے بچ گیا ۔ دونوں صورتوں میں یہ اللہ کا بندےپر احسان ہے ۔
فوائد
- قدرت اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے ۔
- اس صفت کی تفصیل کےلیے قرآن مجید میں قادر ، قدیر اور مقتدر جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔
- اللہ تعالیٰ کی قدرت کی طرف ایسی چیزوں کی نسبت کرنا جو اس کی شیان شاں نہیں ، جائز نہیں ہے ۔
- مستقبل بینی کے لیے کوئی طریقہ اختیار کرنا یا اس کا دعویٰ کرنا حرام ہے۔
- خواب اور استخارہ کےذریعے کسی قدر مستقبل بینی ہوسکتی ہےاور یہ جائز ہیں ۔
- علم جفر ایک نبی کو عطا کیا گیا تھا ، لیکن آگے منتقل ہونے کی کوئی سند نہیں ہے ۔
- خواب ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی کی ایک صورت ہے ، لیکن خواب شیطان کی طرف سے بھی آتے ہیں ، عموماً نیک لوگوں کو رحمان کی طرف سے اور بد لوگوں کو شیطان کی طرف سے خواب آتے ہیں۔
- استخارہ دراصل اپنے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا مطالبہ کرنا اور شر سے اللہ کی پناہ مانگنا ہے۔
- رسول اللہﷺ استخارہ اتنے اہتمام سے سکھاتے تھے ، جتنے اہتمام سے قرآن سکھاتے تھے ۔
- استخارہ کرنے سے بندے کا اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے ۔
- استخارہ کسی بھی نفلی نماز کے بعد کیاجاسکتا ہے ۔ البتہ فرض نماز کے بعد جائز نہیں ہے ۔
- استخارہ کے بعد خواب آنا ضروری نہیں ، البتہ بعض دفعہ خواب کے ذریعے بھی رہنمائی ہوجاتی ہے ۔
استخارہ کرنے سے مفید چیز کا حصول آسان اور بری چیز کا حصول مشکل ہوجاتا ہے ۔ مفید چیز پر دل مطمئن اور بری چیز سے دل اچاٹ ہوجاتا ہے ۔
[1] فتح الباری :14/320
[2] مفردات القرآن :2/271
[3] صحيح مسلم:537