امریکہ ایران جنگ اور  مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے حالات

بین الاقوامی سیاست کا منظرنامہ جب بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت بار بار خود کو منواتی ہے کہ دنیا کے طاقتور ممالک کے اصول اکثر حالات کے تابع بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی اور تصادم کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، جہاں ایک طرف امریکہ کی قیادت میں عالمی طاقت کا دباؤ ہے اور دوسری جانب ایران اپنے دفاع اور بقا کے بیانیے کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ یہ محض دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ طاقت، مفاد اور بیانیے کی وہ کشمکش ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

حالیہ  جنگی حالات میں امریکی صدر کے طرزِ بیان اور پالیسیوں نے اس کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے بیانات میں جہاں ایک طرف عالمی امن کے دعوے سنائی دیتے ہیں، وہیں دوسری جانب سخت دھمکیاں، جارحانہ حکمتِ عملی اور غیر متوازن فیصلے بھی واضح نظر آتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ طاقت کو عقل و تدبر پر فوقیت حاصل ہو چکی ہے۔ ایک طرف امن کے عالمی اعزاز کی خواہش اور دوسری طرف ایک خودمختار ریاست کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں، اس تضاد کو مزید نمایاں کرتے ہیں اور عالمی نظام کے اخلاقی بحران کو بےنقاب کرتے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے مابین جنگی حالات، محض حالیہ واقعات ہی نہیں بلکہ اپنے پس منظر میں متعدد نظریاتی، سفارتی اور عسکری اسباب رکھتے ہیں ۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مفادات، توانائی کے ذخائر اور اپنے اتحادی خصوصاً اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران خود کو ایک توسیع پسنداور بااثر علاقائی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ایران کا جوہری پروگرام بھی بظاہر ، حالیہ جنگ کا اہم پہلو ہے، جو  امریکہ کے نزدیک دنیا کے لیے  شدید خطرہ  ہے جبکہ اسی پروگرام کو ایران اپنے دفاع کا حق سمجھتا ہےاور  یہی اختلاف کا وہ بنیادی نکتہ ہے جو فریقین کے درمیان وقتاً فوقتاً تجارتی اور سفارتی تناؤ کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے مگر  حال ہی میں یہ تناؤ عسکری جنگ پر منتج ہوا ہے۔

حالیہ جنگی اقدام سے قبل بھی ایران کو اگرچہ ،بین الاقوامی سطح پر مختلف اقتصادی پابندیوں کا سامنا تھا،جس  نے ایران کی معیشت کو شدید متاثر کر رکھا تھا اور کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی سے عوام کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا تھا تاہم حالیہ جنگی مہم کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سےایران کے سپریم لیڈر اور  عسکری قیادت  کو  نشانہ بنایا گیااور ایران کو اپنی نامور شخصیات سے ہاتھ دھونا پڑا ،جس کے نتیجہ میں  نہ صرف دفاعی محاذ پر ایرانی حکمتِ عملی کو  شدید دھچکا لگا  بلکہ اس نے ایران کے اندرونی استحکام پر بھی دورس اثر ڈالا ہے۔

امریکی ،اسرائیلی حملوں سے متاثرہ ایران نے رد عمل کے طور ،خلیجی عرب  ممالک کو نشانہ بنانا شروع کر دیا کیونکہ ایران کے مطابق خلیجی ریاستوں میں واقع امریکی اڈوں کو بیس کیمپس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کا یہ رد عمل کیا واقعی انصاف پر مبنی تھا یا ظلم پر مبنی اقدام اور بغض کا اظہار؟ نشریاتی بیانات سے ایران کا یہ مؤقف سامنے آیا کہ وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے ،بالکل بجا کہ ایک آزاد ریاست کو اپنے دفاع  کا مکمل حق حاصل ہے،مگر حق دفاع کی آڑ میں سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں پر میزائل حملے کرنا کسی طور بھی منصفانہ طرز عمل نہیں تھا کیونکہ متاثرہ ریاستوں خصوصاً سعودی عرب نے یقین دلایا تھا کہ ہماری سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔مذکورہ وضاحت کے باوجود ایران کی جانب سے ،معاہدات کے تحت خطہ میں موجود امریکی تنصیبات اور لوکل اقتصادی مقامات کو نشانہ بنانا نہ صرف بلا جواز تھا بلکہ  بین الاقوامی قوانین کے خلاف بھی تھا!

دوسری جانب امریکی اڈوں کی تاریخ دیکھیے کہ سرد جنگ کے دوران ،بیسویں صدی کے  عشرہ ششم سے علاقائی ریاستوں میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں حتیٰ کہ خلیجی جنگ اور نائن الیون کے بعد امریکی اڈوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور سعودی ،قطری،بحرینی،امارتی،کویتی اور اردنی  سرزمین پر امریکی فوج  کے بری،بحری اور فضائی دستے برابر موجود ہیں ،جو بظاہر اگرچہ اتحادی ریاستوں کے دفاع ،تجارتی راستوں کی حفاظت اور ایشیائی ملکوں کے عسکری توازن پر مامور ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکی اثر و رسوخ   اورعسکری  طاقت ، توازن برقرار ہونے کی بجائے ایک خاص جانب  میں جھکا ہوا دکھائی دیتا ہے،جس سے بسا اوقات  علاقائی صورتحال کشیدہ ہوتی رہی ہے  مقامی سطح پر عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ریاستی ترجیحات اور عوامی مفادات باہم متعارض دکھائی دیتے ہیں اور اس بے چینی/بے یقینی سے پیدا ہونے والا خلا، سیاسی عدم استحکام کا باعث بنتاہے۔گویا کسی خطے میں بیرونی طاقت کا وجود ، مسائل سلجھاتا نہیں بلکہ الجھا تا ہے اور حالات کو  پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا دیتا ہے۔ ماضی قریب کی تاریخ واضح  کرتی ہیں کہ بڑی طاقتوں کی مداخلت سے  کبھی  پائیدار امن قائم نہیں ہوا ، بلکہ  اس نے  متعدد تنازعات کو طول دیا ہے۔

 اگرچہ یہ تعلقات وقتی فوائد فراہم کر سکتے ہیں، مگر ان کے ساتھ جڑے ہوئے سیاسی، اخلاقی اور سماجی مضمرات کو نظر انداز کرنا مستقبل میں بڑے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

اب وقت آن پہنچا ہے کہ عرب ممالک کو ریاستی مفادات کی بجائے ملی مفادات کا  سوچنا ہوگا اور سنجیدہ ہو کر سوچنا ہوگا کہ جس امریکہ کو انہوں نے اپنے ممالک میں اڈے دیے، وہ ان ممالک کا کبھی خیر خواہ نہیں رہا اور  نہ کبھی ہو سکتا ہے کیوں کہ قرآن کا اٹل فیصلہ  ہےکہ کافر کبھی مسلمانوں کے دوست اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے ،امریکہ صرف اور صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے۔ اس کی حالیہ مثال یہ ہے کہ ایران جنگ سے قبل امریکہ، عرب ممالک سے اپنے فوجیوں کا انخلاء کر چکا تھا۔لہذا  حقیقت یہ ہے کہ جب تک یہ اڈے موجود رہیں گے، مسلم ممالک براہِ راست یا بالواسطہ جنگ کا میدان بنتے رہیں گے۔ لہٰذا وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ عرب ممالک اپنے ملکوں سے امریکی اڈے فوری ختم کریں تاکہ علاقائی حالات ہمیشہ کیلئے پُرامن ہو جائیں ۔

مذکورہ حالات میں پاکستان، ایک متوازن اور مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ امن پسند ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے ۔پاکستان نے نہ صرف فریقین کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھا بلکہ ایٹمی طاقت کے باوجود، انتہائی ذمہ دار ریاست بن کر  کشیدگی ختم کرنے کو  عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور دنیا کے سفارتی اور ابلاغی ذرائع پاکستانی کردار کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں ۔

پاکستان کی اس حکمتِ عملی نے یہ ثابت کیا ہے کہ عالمی سیاست میں صرف عسکری قوت ہی فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ مؤثر سفارت کاری اور  غیر جانبداری سے بھی مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

وطنِ عزیز پاکستان کی جہدوجہد سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور  مذاکراتی عمل ممکن ہوا ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان حائل خلیج پر بھی پاکستان ایک  پل کا کردار ادا کر سکتا ہے چنانچہ فریقین کے درمیان قیام امن کی بنیاد فراہم کرنا اور اس کے استقلال کی ضمانت دینا پاکستان  کےدم قدم ہی سے ممکن ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحت اور معاہدے ہی سے،مشترکہ اسلامی فوج کی راہ ہموار ہو سکے گی ،جو  ایشیائی بلاک کے لیے  سنگ میل ثابت ہوگا اور اس کے نتیجے میں خلیجی ریاستیں سکیورٹی کے لیے امریکہ پر انحصار ختم  کر سکیں گی ۔ہماری قیادت کو قومی تقاضوں سے بڑھ کر ملی تقاضوں کو نبھانا ہو گا کیونکہ امت اسلامیہ کو متحد کر کے  ہی مثبت اور مستقل نتائج برآمد ہوں گے !                  (کامران الہی ظہیر)