علامہ محمد حسن ہیتو کا سانحۂ ارتحال
علامہ محمد حسن ہیتو کا سانحۂ ارتحال
ڈاکٹر حافظ ابوعمرو
شیخ علامہ ڈاکٹر محمد حسن ہیتو کی وفات کی خبر علمی دنیا کے لیے بجا طور پر باعثِ صدمہ ہے۔ 24 فروری 2026ء کو ایک ایسی بلند پایہ علمی شخصیت ہم سے رخصت ہوئی جس نے اپنی پوری زندگی فقہ اور اصولِ فقہ کی تدریس اور تصنیف و تالیف میں بسر کی۔ وہ دمشق کے علمی ماحول میں پروان چڑھے، جامعۂ ازہر میں تعلیم پائی اور پھر فقہِ شافعی اور اصولِ فقہ کے ایسے جید عالم کی حیثیت سے پہچانے گئے جن کا نام معاصر اہلِ علم میں نہایت احترام کے ساتھ لیا جاتا تھا۔
شیخ ہیتو کی درجنوں علمی تصنیفات اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ اصولی بصیرت، فقہی رسوخ اور منہجی پختگی کے حامل تھے۔ الوجیز في أصول التشريع الإسلامياور الخلاصة في أصول الفقه جیسی کتابوں میں انھوں نے اصولی مباحث کو مرتب، واضح اور تعلیمی اسلوب میں پیش کیا جب کہ الاجتهاد وطبقات مجتهدي الشافعية میں اجتہاد کے نظری مباحث کے ساتھ شافعیہ کی علمی روایت اور طبقات کا نہایت بصیرت افروز جائزہ لیا۔ العقل والغيباور المتفيهقون جیسی کتابوں سے ان کے فکر کی وسعتوں کا پتا چلتا ہے۔ ان کے تحریری سرمایے میں دینی علم کے ساتھ فکری توازن اور منہجی احتیاط بھی شامل ہے۔
ان کے علمی کام کا سب سے عظیم الشان مظہر موسوعة الفقه الشافعي والمقارن ہے جو بجا طور پر ان کے عمر بھر کے علمی منصوبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک عام تالیف نہیں ہے بل کہ فقہِ شافعی، فقہِ مقارن اور اصولی استحضار کو ایک وسیع موسوعی قالب میں جمع کرنے کی غیر معمولی کوشش ہے۔ دست یاب معلومات کے مطابق اس منصوبے کے ساٹھ سے زائد ضخیم مجلدات ان کی حیات ہی میں مکمل ہو چکے تھے۔ اس سے ان کے عزم، وسعتِ نظر اور علمی استقامت کا اندازہ ہوتا ہے۔
شیخ محمد حسن ہیتو نے کلاسیکی علمی سرمایے کی تنقیح، ترتیب اور اشاعت پر بھی بڑا وقیع کام کیا ہے؛ چناں چہ انھوں نے التبصرة في أصول الفقه، المنخول من تعليقات الأصول، التمهيد في تخريج الفروع على الأصول، القواطع في أصول الفقه اور الأصول والضوابط جیسی اہم اصولی کتب کو تحقیق و تعلیق کے ساتھ شایع کر کے شافعی اصولی روایت کی گراں قدر خدمت انجام دی۔
ان کی دیگر اہم کتابوں میں الإمام أبو إسحاق الشيرازي، حياته وأصوله، الحديث المرسل حجيته وأثره في الفقه الإسلامي، فقه الصيام، المعجزة القرآنية، الدين والعلم، الحضارة الإسلامية اور منظومة في تاريخ مصطلح الحديث خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
تصنیف و تحقیق کے ساتھ شیخ محمد حسن ہیتو عمر بھر درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے اور مختلف علمی اداروں میں معلمی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ انھوں نے جامعۂ کویت کے کلیۂ حقوق اور اس کے بعد کلیۂ شریعہ میں تدریسی خدمات انجام دیں؛ نیز جامعۃ الامام محمد بن سعود میں بھی درس دیا۔ ادارہ جاتی سطح پر انھوں نے جرمنی میں المركز الدولي للعلوم الإسلامية کی بنیاد رکھی؛ اسی طرح انڈونیشیا میں جامعة الإمام الشافعي کے کے نام سے تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ شیخ ہیتوکی وفات سے علمی دنیا ایک سنجیدہ اصولی، پختہ کار فقیہ اور محقق عالم سے محروم ہو گئی۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی خدمات کو قبول فرمائے اور انھیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا کرے؛ آمین۔
دکتور نقیب العطاس کی وفات
8 مارچ 2026ء کو عالمِ اسلام ایک ایسے جلیل القدر مفکر، ماہرِ تعلیم، فلسفی اور صاحبِ طرز محقق سے محروم ہو گیا جس نے عہدِ حاضر میں اسلامی تصورِ علم و تعلیم اور تہذیبی خود آگاہی کے باب میں نہایت گہرے اور دیر پا اثرات مرتب کیے۔ سید محمد نقیب العطاس کا شمار اُن معدودے چند اہلِ علم میں ہوتا ہے جنھوں نے اسلامی روایت کے عقلی، روحانی اور تہذیبی سرمایے کو جدید فکری چیلنجوں کے مقابلے میں محض دفاعی نہیں بل کہ تعمیری انداز میں پیش کیا اور امت کو یہ احساس دلایا کہ اس کا اصل بحران محض جہل نہیں بل کہ خلطِ علم اور فقدانِ ادب ہے۔
العطاس 5 ستمبر 1931ء کو بوگور، مغربی جاوا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سکابومی اور جوہر بہرو میں حاصل کی۔ پھر رائل ملٹری اکیڈمی میں زیرِ تعلیم رہے اور اس کے بعد یونی ورسٹی آف ملایا، سنگاپور، مک گل یونی ورسٹی، کینیڈا اور یونی ورسٹی آف لندن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اسلامی فلسفہ، علمِ کلام، مابعد الطبیعیات، تصوف اور مالے تہذیب و زبان ان کے مطالعہ و تحقیق کے خصوصی میدان تھے۔
تعلیم سے فراغت کے بعد ڈاکٹر العطاس یونی ورسٹی آف ملایا سے وابستہ ہوئے اور فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین رہے۔ بعد ازاں انھوں نے کیبانگسان یونی ورسٹی، ملائیشیا میں مالے زبان و ادب کے شعبے اور فیکلٹی آف آرٹس میں خدمات انجام دیں۔ 1980ء میں انھیں اوہائیو یونی ورسٹی میں ٹن عبدالرزاق چیئر براے جنوب مشرقی ایشیائی مطالعات کا پہلا صدر نشین بنایا گیا۔ 1987ء میں انھوں نے بین الاقوامی ادارہ براے اسلامی فکر و تہذیب (ISTAC) کی بنیاد رکھی اور اسے معاصر مسلم فکر کے ایک ممتاز مرکز کی صورت دی۔
ان کی نمایاں کتابوں میں Islam and Secularism (اسلام اور سیکولرزم)، The Concept of Education in Islam (اسلام کا تصورِ تعلیم)، Prolegomena to the Metaphysics of Islam (اسلامی مابعد الطبیعیات کے تمہیدی مباحث)، The Nature of Man and the Psychology of the Human Soul (انسان کی حقیقت اور روحِ انسانی کی نفسیات)، The Meaning and Experience of Happiness in Islam (اسلام میں مسرت کا مفہوم اور اس کا تجربہ)، The Concept of Religion and the Foundation of Ethics and Morality (مذہب اور اخلاق و کردار کی بنیادیں)، Islam and the Philosophy of Science (اسلام اور فلسفۂ سائنس) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ مالے زبان، مالے مخطوطات، اور مالے اسلامی تہذیب کے باب میں بھی ان کی خدمات غیر معمولی ہیں۔ قدیم مالے مخطوطات، اسلامی تقویم، اور ترنگانو کے کتبے کی درست تاریخ کے تعین میں ان کی تحقیقات نے انھیں منفرد مقام عطا کیا۔
سید محمد نقیب العطاس کی وفات ایک فرد کی وفات نہیں، ایک دبستانِ فکر کے سربراہ کی رحلت ہے۔ ان کی علمی میراث آیندہ بھی ان اہلِ علم کے لیے مینارۂ نور بنی رہے گی جو اسلامی تہذیب کو اس کے اپنے علمی و روحانی اُصولوں پر سمجھنے اور عصرِ حاضر کے فکری چیلنجوں کا جواب دینے کی جستجو رکھتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: من كان يحب أن يعلم أنه يحب الله فليعرض نفسه على القرآن جو یہ جاننا چاہے کہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو قرآن پر پیش کرے۔قرآن سے تعلق ہی اللہ سے محبت کا معیار ہے۔ حلية الأولياء، لأبي نعيم، ج 1، ص 134 |