جاوید احمدغامدی کے اُصول تفسیر
(پہلا اصول: عربی معلی ، حصہ دوئم)
جاوید احمدغامدی کے اُصول تفسیر
(پہلا اصول: عربی معلی ، حصہ دوئم)
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
المفصل فی تاریخ العرب کے مصنف ڈاکٹر جوادعلی وہ ہیں جو غامدی صاحب کی کتاب میزان کے مصادر میں سے ہیں یعنی غامدی صاحب نے کئی ایک مقام پر ان کی کتاب کے حوالے نقل کیے ہیں۔اس لیے ہم اسی کی روشنی میں غامدی صاحب کے ایک اہم نظریے کا جائزہ لیتے ہیں۔
افصح العرب قبیلہ کون سا ہے؟
ڈاکٹر جواد علی نے سو صفحات میں اس بات پر بحث کی ہے کہ قرآن مجید فصیح عربی میں نازل ہوا ہے تو فصیح عربی قریش کی تھی یا دوسروں کی تھی۔ ان کے بقول قریش کے بارے یہ کہنا کہ وہ فصیح العرب تھے، یہ بات وہ کر سکتا ہے جسے دور جاہلیت کی تاریخ کا کچھ پتہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش کا عجمیوں سے اختلاط بہت تھا،جس وجہ سے ان کی زبان صاف نہیں رہ گئی تھی۔اس اختلاط کی وجوہات دو تھیں؛ ایک تو حج کے موقع پر لگنے والے میلے اور دوسرا ان کے شام، مصر اور حبشہ کی طرف تجارتی سفر۔اگرچہ ان علاقوں میں بھی عرب تھے لیکن یہاں رومیوں کی حکومت کے سبب ان لوگوں کی عربی زبان خالص نہ رہ گئی تھی ۔ ان کے بقول فصیح ترین قبائل تین تھے؛ بنو تمیم ، بنو قیس اور بنو اسد ۔ بعد میں آنے والے تمام بڑے لغویین خلیل، ازہری اور جوہری نے لغت عرب کی جمع وتدوین میں انہی تین قبائل کی لغت کو بنیاد بنایا ہے ۔ یہ تینوں قبائل عدنانی ہیں۔ بڑے بڑے شعراء اور خطباء انہی میں پیدا ہوئے۔ ان میں بھی فصیح ترین بنو تمیم تھے۔ قریش کی ان کے ساتھ سسرالی رشتہ داریاں تھیں۔بنو تمیم سے عربی مبین یا فصاحت وبلاغت کا ایک اثر قریش میں آگیا تھا، یہ بات درست ہے۔ سوق عکاظ میں یہ فیصلے ہوتے تھے کہ کس کا قصیدہ لٹکانا ہے، اس کی سرداری بھی بنو تمیم کے پاس تھی۔ یہی وجہ تھی کہ قریش دودھ پلوانے اور زبان صاف کروانے کے لیے اپنے بچے دیہات میں بھیجتے تھے ۔
ڈاکٹر جواد علی کے بقول قرآن مجید میں دسیوں آیات ہیں جو یہ کہہ رہی ہیں کہ قرآن عربی میں ہے۔ اور عربی صرف قریش کی زبان نہیں ہے۔عرب کی تین قسمیں ہیں؛ بائدہ، عاربہ اور مستعربہ۔ خالص عرب یمنی اور قطحانی قبائل ہیں جو جنوبی عرب کے لوگ ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن مجید جو خالص عربی زبان میں ہے تو اس میں خالص عربوں کی عربی تو نہیں ہے لیکن جنہوں نے ان سے عربی حاصل کی ہے، ان کی عربی اس میں ہے یعنی عدنانی عرب۔ دوسری طرف محمد بن سلام متوفی ۲۳۲ھ نے اپنی کتاب "طبقات فحول الشعرا" میں لکھا ہے کہ امرو القیس بنو کندہ سے ہے جو قحطانی عرب ہیں، عدنانی بھی نہیں ہیں۔ اعشی، نابغہ اور زہیر بنو مضر میں سے ہیں۔ بعض کے بقول اعشی بنو ثعلبہ میں سے ہے اور بنو ثعلبہ کے بارے ایک تحقیق یہ بھی ہے کہ یہ اسرائیلی ہیں، عرب بھی نہیں ہیں۔ اس لیے عبد اللہ بن مسعود t کا قول ملتا ہے کہ قرآن مجید بنو مضر کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ پس صورت حال یہ ہے کہ ادب جاہلی کی معراج یعنی سبع معلقات کے شعراء میں سے کچھ تو شاید عربوں ہی سے نکل گئے جیسا کہ اعشی، اور کچھ عدنانی عربوں سے نکل گئے جیسا کہ امرو القیس اور بقیہ سب قریش سے نکل گئے۔ واضح رہے کہ مکہ میں قریش آباد تھے جبکہ سبع معلقات کے شعراء کے قبائل پورے عرب میں آباد تھے۔ صاحب کتاب نے مکہ کے شعراء میں حضرت ابو طالب، حضرت زبیر اور حضرت ابو سفیان y کا ذکر کیا گیا ہے لیکن وہ بھی دسویں طبقے کے بعد ان کا ذکر کیا ہے[1]۔
جنوبی عرب میں موجود قحطانی قبائل کی عربی، قرآن کی عربی سے مختلف تھی۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:
وأصبح اليوم من الأمور المعروفة أن أهل العربية الجنوبية كانوا يتكلمون بلهجات تختلف عن لهجة القرآن الكريم، بدليل هذه النصوص الجاهلية التي عثر عليها في تلك الأرضين، وهي بلسان مباين لعربيتنا، حيث تبين من دراستها وفحصها أنها كتبت بعربية تختلف عن عربية الشعر الجاهلي، وبقواعد تختلف عن قواعد هذه اللغة. وهي لو قرئت على عربي من عرب هذا اليوم، حتى إن كان من العربية الجنوبية، فإنه لن يفهم منها شيئًا، لأنها كتبت بعربية بعيدة عن عربية هذا اليوم، وقد ماتت تلك العربية بسبب تغلب عربية القرآن عليها[2].
’’آج یہ بات عام طور پر معلوم ہو چکی ہے کہ جنوبی عرب (یعنی یمن اور اس کے آس پاس کے علاقے) کے باشندے ایسی بولیوں میں گفتگو کرتے تھے جو قرآنِ کریم کی زبان سے مختلف تھیں۔اس کی دلیل وہ جاہلی دور کے کتبے اور تحریریں ہیں جو ان علاقوں میں دریافت ہوئی ہیں، جو ہماری معروف عربی سے بالکل مختلف زبان میں لکھی گئی ہیں۔ان کے مطالعے اور تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسی عربی میں لکھی گئیں جو جاہلی شعر کی عربی سے بھی مختلف تھی، اور ان کے قواعد (گرامر) بھی ہماری عربی کے قواعد سے جدا تھے۔اگر آج ان تحریروں کو کسی عرب کے سامنے پڑھا جائے — خواہ وہ جنوبی عرب ہی کا رہنے والا کیوں نہ ہو — تو وہ ان میں سے کچھ بھی نہیں سمجھ پائے گا،کیونکہ وہ ایسی عربی میں لکھی گئی ہیں جو آج کی عربی سے بہت دور ہے۔اور وہ پرانی عربی اس وقت ختم ہو گئی جب قرآن کی عربی نے اس پر غلبہ حاصل کر لیا۔‘‘
ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:
وذكر أن قريشًا كانوا أفصح العرب ألسنة، وأصفاهم لغة، وأجود العرب انتقادًا للأفصح من الألفاظ، أما الذين نقل عنهم اللسان العربي من قبائل العرب، هم: قيس، وتميم، وأسد، فإن هؤلاء هم الذين عنهم أكثر ما أخذ ومعظمة، وعليهم اتكل في الغريب وفي الإعراب والتصريف، ثم هذيل، وبعض كنانة، وبعض الطائيين، ولم يؤخذ عن غيرهم من سائر قبائلهم. وروي أن أفصح العرب عُليا هوازن، وسفلى تميم.وروى الجاحظ أن معاوية قال يومًا: من أفصح العرب؟ فقال قائل: قوم ارتفعوا عن لخلخانية الفُرات، وتيامنوا عن عنعنة تميم وتياسروا عن كسكسة بكر، ليس لهم غمغمة قضاعة ولا طمطمانية حمير. قال: من هم؟ قال: قريش[3].
’’بعض کے بقول قریش عربوں میں سب سے زیادہ فصیح اللسان، زبان کے لحاظ سے سب سے صاف اور الفاظ کے انتخاب میں سب سے اعلیٰ تھے۔البتہ جن قبائل سے عربی زبان منقول ہوئی اور جن سے عربی زبان کو زیادہ تر اخذ کیا گیا، وہ یہ ہیں: قیس، تمیم اور اسد۔ انہی قبائل سے عربی کا زیادہ تر حصہ لیا گیا اور انہی پر غریب الفاظ، اعراب اور تصریف (گرامر) میں اعتماد کیا گیا۔ اس کے بعد ہذیل، بعض کنانہ اور بعض طائی قبائل سے بھی اخذ کیا گیا، لیکن ان کے علاوہ دوسرے قبائل سے کچھ نہیں لیا گیا۔ایک روایت کے مطابق سب سے فصیح عرب، دو قبیلے تھے:عُلیا ہوازن (یعنی ہوازن کا بالائی حصہ) اور سُفلی تمیم (یعنی تمیم کا زیریں حصہ)۔جبکہ جاحظ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن معاویہ t نے پوچھا: سب سے فصیح عرب کون ہیں؟تو ایک شخص نے کہا: وہ لوگ جو نہ فرات کے کنارے کی لخلخانی (کھینچ کر نرم آواز) لہجے والے ہیں، نہ تمیم کے عنعنیہ (ہمزہ کو عین سے بدل دینا)، نہ بکر کے کسکسی (کاف کو سین سے بدل دینا) لہجے والے، نہ قضاعہ کی غمغمہ (گھٹی ہوئی مبہم آواز) رکھتے ہیں اور نہ ہی حِمیر کی طمطمانیہ (لام کو میم سے بدل دینا)۔معاویہ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟اس نے جواب دیا: قریش‘‘۔
وہ مزید لکھتے ہیں:
وقد ذكر الرافعي أن الفصاحة اشتهرت في مضر، حتى عُرفت اللغة بالمضرية، ومن أشهر قبائلها كنانة -ومن بطونها قريش- ثم تميم، وقيس، وأسد، وهذيل، وضبّة، ومزينة. وقال أيضًا: وأفصح القبائل الذين هم مادة اللغة فيما نص عليه الرواة: قيس، وتميم، وأسد، والعجز من هوازن الذين يقال لهم: عليا هوازن، وهم خمس قبائل أو أربع، منها سعد بن بكر، وجُشم بن بكر، ونصر بن معاوية، وثقيف. قال أبو عبيدة: وأحسب أفصح هؤلاء بني سعد بن بكر، وذلك لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا أفصح العرب بيد أني من قريش، وأني نشأت في بني سعد بن بكر، وكان مسترضعًا فيهم، وهم أيضًا الذين يقول فيهم أبو عمرو بن العلاء: أفصح العرب عليا هوازن وسفلى تميم. وتلك القبائل كلها كانت تسكن في بوادي نجد والحجاز وتهامة، وقد بقيت معادن الفصاحة زمنًا بعد الإسلام، وإليها كان يرحل الرواة، حتى إن الكسائي لما خرج إلى البصرة فلقي الخليل بن أحمد، وجلس في حلقته، قال له رجل من الأعراب: تركت أسدًا وتميمًا وعندهما الفصاحة وجئت إلى البصرة! فقال للخليل: من أين أخذت علمك؟ قال: من بوادي الحجاز ونجد وتهامة. فخرج إليهم ولم يرجع حتى أنفد خمس عشرة قنينة حبرًا في الكتابة عن العرب. ولم تزل هوازن وتميم وأسد متميزة بخلوص النية وفصاحة اللغة إلى آخر القرن الرابع للهجرة. وقد ترك الأخذ عن "حاضرة الحجاز" أي: مكة لأن الذين نقلوا اللغة صادفوهم حين ابتدأوا ينقلون لغة العرب قد خالطوا غيرهم من الأمم، وفسدت ألسنتهم، فلم يأخذوا منهم. وقد قرأنا قبل قليل أسماء القبائل التي أدخلها علماء اللغة في القائمة السوداء المقاطعة التي لم يجوّزوا الأخذ منها، وذلك حين شروعهم بتدوين اللغة أيضًا للسبب المذكور وهو اتصالها بالأعاجم، وتأثر ألسنتها بلغات من اتصلت بهم من عجم. واللغات في نظر ابن جني على اختلافها كلها حجة ألا ترى أن لغة الحجاز في إعمال ما، ولغة تميم في تركه، كل منهما يقبله القياس، فليس لك أن ترد إحدى اللغتين بصاحبتها، لأنها ليست أحق بذلك من الأخرى، لكن غاية ما لك في ذلك أن تتخير إحداهما فتقويها على أختها، وتعتقد أن أقوى القياسين أقبل لها، وأشد نسبًا بها، فأما رد إحداهما بالأخرى فلا.[4]
’’رافعی نے ذکر کیا ہے کہ فصاحت کا چرچا قبیلہ مُضَر میں سب سے زیادہ ہوا، یہاں تک کہ زبان کو مُضَری زبان کہا جانے لگا۔ اور اس کے مشہور قبائل میں کنانہ (جس کی ایک شاخ قریش ہے)، پھر تمیم، قیس، اسد، ہذیل، ضبہ اور مزینہ شامل ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا:سب سے فصیح قبائل وہ ہیں جن سے عربی زبان کا اصل مادہ ماخوذ ہے، جیسا کہ راویوں نے بیان کیا۔ ان میں قیس، تمیم، اسد اور ہوازن کا بالائی حصہ جسے عُلیا ہوازن کہا جاتا ہے ، شامل ہیں۔ عُلیا ہوازن چار قبائل ہیں: سعد بن بکر، جُشم بن بکر، نصر بن معاویہ اور ثقیف۔ابو عبیدہ کہتے ہیں:مجھے گمان ہے کہ ان میں سب سے زیادہ فصیح بنو سعد بن بکر تھےاور اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں سب سے فصیح عرب ہوں، کیونکہ میں قریشی ہوں اور میں بنو سعد بن بکر میں پلا بڑھا ہوں (یعنی آپ ﷺ کو ان کے ہاں دودھ پلایا گیا تھا)۔انہی کے بارے میں ابو عمرو بن العلاء نے کہا: سب سے فصیح عرب عُلیا ہوازن اور سُفلی تمیم ہیں۔یہ تمام قبائل نجد، حجاز اور تہامہ کی وادیوں میں آباد تھے اور اسلام کے بعد بھی ایک عرصے تک فصاحت کے اصل مراکز یہی رہے۔ راوی حضرات انہی علاقوں کا سفر کرتے تھے تاکہ فصیح عربی زبان سیکھ سکیں۔یہاں تک کہ جب کسائی بصرہ آیا اور خلیل بن احمد سے ملا، تو ایک بدوی نے کہا:تم نے اسد اور تمیم کو چھوڑ دیا جہاں فصاحت ہے اور تم یہاں بصرہ آ گئے؟ کسائی نے خلیل سے پوچھا: آپ نے یہ علم کہاں سے حاصل کیا؟خلیل نے کہا: میں نے یہ علم حجاز، نجد اور تہامہ کی وادیوں سے حاصل کیا ہے۔چنانچہ کسائی بھی وہاں گیا اور عربوں سے لکھنے اور علم لینے میں پندرہ دواتوں کی سیاہی ختم کر ڈالی، اس سے پہلے کہ واپس آتا۔اور ہوازن، تمیم اور اسد چوتھی صدی ہجری کے آخر تک نیت کی صفائی اور زبان کی فصاحت میں ممتاز رہے۔عُلَماء نے حاضرة الحجاز یعنی مکّہ سے زبان اخذ نہیں کی، کیونکہ جب راویوں نے عربی زبان جمع کرنا شروع کی تو انہوں نے دیکھا کہ اہلِ مکّہ غیر اقوام سے میل جول کی وجہ سے اپنی فصاحت کھو چکے ہیں اور ان کی زبان میں فساد آ گیا ہے، لہٰذا ان سے روایت نہیں لی گئی۔ہم نے اس سے پہلے بھی اُن قبائل کے نام پڑھے جنہیں علمائے لغت نے ممنوع فہرست (blacklist) میں ڈال دیا تھا — یعنی وہ قبائل جن سے زبان نہیں لی جا سکتی، اس لیے کہ ان کا اختلاط عجم سے ہو گیا تھا اور ان کی زبان دوسری اقوام کی بولیوں سے متاثر ہو چکی تھی۔البتہ ابن جنی کے نزدیک مختلف لہجے اور بولیاں سب قابلِ حجت ہیں۔ وہ کہتے ہیں:کیا تم نہیں دیکھتے کہ حجاز کی بولی میں ما کو عامل مانا جاتا ہے اور تمیم کی بولی میں اسے مہمل چھوڑ دیا جاتا ہے؟ دونوں طریقے قیاس کے لحاظ سے درست ہیں۔لہٰذا تمہیں یہ حق نہیں کہ ایک بولی کو دوسری کے مقابلے میں رد کر دو، کیونکہ دونوں اپنی جگہ معتبر ہیں۔ البتہ تم ایک کو دوسری پر ترجیح دے سکتے ہو اگر تم سمجھو کہ اس کا قیاس زیادہ قوی ہے۔لیکن کسی ایک بولی کو محض دوسری کی وجہ سے رد کرنا درست طرز عمل نہیں۔‘‘
ادب جاہلی میں قریش کا حصہ
واقعہ یہ ہے کہ ادب جاہلی میں قریش کا حصہ بہت ہی کم ہے۔ سبعہ معلقات کے ممتاز شعراء میں سے کوئی ایک بھی قریشی نہیں ہے۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:
ولا نجد بين الشعراء البارزين من أصحاب المعلقات شاعرا واحدا هو من قريش. كذلك لا نجد من بين شعراء الطبقات المتقدمة من فحول الشعراء الذين قدمهم علماء الشعر على غيرهم شاعرا هو من أهل مكة.[5]
’’اور ہم معلقات کے ممتاز شعرا میں ایک بھی شاعر ایسا نہیں پاتے جو قریش میں سے ہو۔ اسی طرح ہم شعر ا کے پہلے طبقے کے ان نامور شعرا میں بھی، جنہیں اہلِ علم نے دوسروں پر ترجیح دی ہے، کوئی ایسا شاعر نہیں پاتے جو اہلِ مکّہ میں سے ہو۔‘‘
اسی طرح دور جاہلی کے کل معلوم شعراء میں سے قریشی شعراء کی تعداد دس فی صد بھی نہیں ہے۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:
وقد أحصى جرجي زيدان عدد الشعراء الجاهليين بنحو من 120 شاعرا على اختلاف القبائل والبطون. وقد وجد أن عشرة شعراء منهم هم من قريش.[6]
’’جرجی زیدان‘‘ نے جاہلی دور کے شاعروں کی تعداد مختلف قبائل اور شاخوں کے لحاظ سے تقریباً 120 شمار کی ہے اور ان میں سے صرف دس شاعر قریش سے تعلق رکھتے تھے۔‘‘
کیا قرآن صرف قریش ہی کی زبان پر نازل ہوا ہے؟
غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ قرآن مجید صرف قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’پہلی چیز یہ ہے کہ قرآن جس زبان میں نازل ہوا ہے، وہ ام القری کی عربی معلی ہے جو اس کے دور جاہلیت میں قبیلہ قریش کے لوگ اس میں بولتے تھے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس کو اللہ تعالی نے اپنی اس کتاب میں فصاحت وبلاغت کا ایک لافانی معجزہ بنا دیا ہے، لیکن اپنی اصل کے اعتبار سے یہ وہی زبان ہے جو خدا کا پیغمبر بولتا تھا اور جو اس زمانے میں اہل مکہ کی زبان تھی: پس ہم نے اس (قرآن) کو تمھاری زبان میں نہایت سہل اور موزوں بنا دیا ہے۔[7] ‘‘
بعض روایات کے مطابق تابوت کی تاء میں اختلاف ہو گیا تھا کہ لمبی تاء لکھنی ہے یا گول تاء، تو لمبی تاء سے لکھا گیا کہ یہ قریش کا رسم تھا۔ اس حدیث کا بھی صحیح معنی ومفہوم یہی ہے کہ غالب قریش کی زبان میں ہے نہ کہ کل ،کیونکہ قرآن مجید میں قریش کے علاوہ عرب قبائل کی لغت بھی موجود ہے۔ قرآن مجید میں کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں جس کے مطابق قرآن مجید کل کا کل قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ قرآن کا غالب قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے، یہ بات درست ہے۔ شارحین حدیث نے بھی یہی بات لکھی ہے کہ قرآن مجید کے اکثر الفاظ قریش کی لغت کے مطابق ہیں۔ غامدی صاحب کے بقول قریش کا لہجہ ایک ہی تھا اور قرآن اسی میں نازل ہوا لہذا ایک سے زائد قراءات یہ امت کہاں سے لے آئی ہے!
ابن حسنون متوفی ۳۸۶ھ کی عبد اللہ بن عباس سے روایت کے مطابق مفردات قرآن میں قریش کی لغت سے ۱۰۴ الفاظ،ہذیل کی لغت سے ۴۵، کنانہ کی لغت سے ۳۶، حمیر کی لغت سے ۲۳، جرہم کی لغت سے ۲۱، تمیم اور قیس عیلان کی لغت سے ۱۳ الفاظ منقول ہیں۔ علاوہ ازیں ابن عباس کی روایت کے مطابق دیگر عرب قبائل میں سے ازد شنوءۃ، خثعم، طے، مذحج، غسان، بنو حنیفہ، اشعر انمار، خزاعہ، بنو عامر، لخم، کندہ سبا، مزینہ، ثقیف وغیرہ کی لغات سے بھی قرآن مجید میں موجود الفاظ کی تعیین کی گئی ہے۔ [8]
قرآن مجید میں غیر عربی الفاظ ہیں یا نہیں؟
قرآن مجید میں قریش کے علاوہ عرب قبائل کے الفاظ تو ہیں ہی بلکہ عربی کے علاوہ زبانوں کے الفاظ بھی ہیں۔ قرآن مجید کل کا کل لغت قریش میں ہے تو یہ بات درست نہیں ہے۔ تفسیر طبری میں ہے:
عن ابنِ عباسٍ، رضي الله عنهما، أنه سُئِل عن قولِه: ﴿ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ۰۰۵۱﴾ [المدثر: 51]. قال: هو بالعربيةِ الأسدُ، وبالفارسيةِ شار، وبالنَّبَطيةِ أريا، وبالحبشيةِ قَسْورةٌ.[9]
’’ابن عباس t سے قرآن مجید کی آیت ﴿ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ۰۰۵۱﴾ کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ قسورہ کو عربی زبان میں اسد، فارسی میں شیر، نبطی میں اریا اور حبشہ میں قسورہ کہتے ہیں۔ ‘‘
یہ کہا بھی کیسے جا سکتا ہے کہ نوح، لوط، ہود، اسرائیل اور جبرئیل اصلاً عربی زبان کے الفاظ ہیں! امام شافعی، ابن جریر طبری اور علامہ زرکشی s وغیرہ کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں غیر عربی لفظ نہیں ہے۔ ابن عطیہ اور امام سیوطی H کے مطابق قرآن مجید میں غیر عربی الفاظ موجود ہیں۔ تیسرا قول یہ بھی ہے کہ غیر عربی الفاظ بہت کم ہیں۔ محققین کا قول یہ ہے کہ یہ الفاظ اپنی اصل میں تو غیر عربی تھے لیکن اہل عرب کے ہاں کثرت استعمال کے سبب سے اب عربی زبان ہی کہلائیں گے۔ زبانیں ایک دوسرے سے استفادہ کرتی ہیں اور دوسری قوموں سے اختلاط میں یہ ممکن نہیں رہ جاتا کہ آپ کی زبان ان سے اثر نہ لے اور ان کی زبان آپ سے اثر نہ لے۔ لہذا قریش کے تجارتی سفروں کے نتیجے میں دوسری زبانوں کے الفاظ بھی عربی زبان میں شامل ہوئے۔
عرب قبائل میں لہجات، اسالیب بیان اور بلاغت عبارت کا اختلاف قرآن مجید نے قراءات کی صورت میں سمیٹ لیا ہے کہ یہ عربی مبین میں ہے۔ غامدی صاحب کے بقول قرآن مجید کی تفسیر کا اصل مصدر ادب جاہلی ہے اور ادب جاہلی کا مصدر سبع عشرہ معلقات ہیں جبکہ ان سات سے دس معلقات میں سے کوئی بھی معلقہ کسی قریشی شاعر کا نہیں ہے۔ پس فصاحت عربی زبان میں ہے، نہ کہ اس کے کسی ایک لہجے میں۔ قریش کے لہجے کو من کل الوجوہ فصیح کہنا درست نہیں کہ فصاحت عربی زبان کا خاصہ ہے۔
قرآن مجید کے مصادر میں عربی معلیٰ ہے اور عربی معلیٰ کے مصادر میں ادب جاہلی ہے۔ اور ادب جاہلی عربوں کا مرتب کردہ ہے نہ کہ محض قریش کا۔ یہ سمجھنے کی بات ہے۔ جتنے بڑے شاعر گزرے ہیں، ان میں ایک بھی قریشی نہیں ہے۔قرآن مجید فصیح عربی میں ہے اور فصیح عربی یا عربی مبین صرف قریش اور اہل مکہ کی زبان نہیں ہے۔ عربی مبین سے مراد تمام عرب قبائل کی زبان ہے کیونکہ کسی مقام پر ایک قبیلے کا لہجہ زیادہ فصیح ہوتا ہےا ور دوسرے مقام پر کسی دوسرے قبیلے کا۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:
وذهب الباقلاني إلى أن معنى قول عثمان: إنه نزل بلسان قريش، أي: معظمه، ولم يقم دليل على أن جميعه بلغة قريش كله، قال الله تعالى: ﴿ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ، ولم يقل قرشيًّا، قال: واسم العرب يتناول جميع القبائل تناولًا واحدًا يعني حجازها ويمنها، وكذا قال الشيخ أبو عمر بن عبد البر، قال: لأن لغة غير قريش موجودة في صحيح القراءات كتحقيق الهمزات فإن قريشًا لا تهمز، وقال ابن عطية: قال ابن عباس: ما كنت أدري معنى ﴿فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ ، حتى سمعت أعرابيًّا يقول: لبئر ابتدأ حفرها: أنا فطرتها.[10]
’’باقلانی کا کہنا ہے کہ حضرت عثمان کے اس قول کہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا، کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ تر (اکثر حصہ) قریش کی زبان میں نازل ہوا، اور کوئی ایسی دلیل موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ پورا قرآن مکمل طور پر قریشی لہجے میں نازل ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ عربی قرآن اور یہ نہیں فرمایا "قرشیًّا" (قریشی زبان میں قرآن)۔باقلانی کہتے ہیں کہ عرب کا نام تمام قبائل کو یکساں طور پر شامل کرتا ہے۔ خواہ وہ حجاز کے ہوں یا یمن کے۔اسی طرح شیخ ابو عمر بن عبد البر نے بھی کہا کہ قریش کے علاوہ دیگر قبائل کی زبانیں بھی مستند قراءات میں موجود ہیں۔مثلاً قریش ہمزہ میں تحقیق نہیں کرتے تھے۔اور ابن عطیہ نے نقل کیا کہ ابن عباس نے فرمایا: میں ﴿ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا) کا مطلب نہیں سمجھتا تھا،یہاں تک کہ میں نے ایک اعرابی کو کہتے سنا(وہ یہ بتانے کے لیے کہ کنواں میں نے ہی کھودا تھا کہہ رہا تھا ): فَطَرْتُهُ (یعنی سب سے پہلے کھودا) یعنی ابن عباس نے اس آیت کا مفہوم اعرابی کی زبان کے ایک فصیح محاورے سے سمجھا۔‘‘
ڈاکٹر جواد علی مزید لکھتے ہیں:
وهناك رأي ثالث يقول: إنه نزل بلغة مضر، لقول عمر: نزل القرآن بلغة مضر وعيّن بعضُهم -فيما حكاه- ابن عبد البرّ السبع من مضر، أنهم هذيل، وكنانة، وقيس، وضبّة، وتيم الباب، وأسد بن خزيمة، وقريش. فهذه قبائل مضر، تستوعب سبع لغات. وذكر أن عمر لما أراد أن يكتب الإمام، أقعد له نفرًا من أصحابه، وقال: إذا اختلفتم في اللغة فاكتبوها بلغة مضر، فإن القرآن نزل بلغة رجل من مضر. ولما كانت القبائل المذكورة من مجموعة مضر، تكون لغة القرآن، وفقًا لهذا الرأي لغة مضر، لا لغة قريش، وروي عن عبد الله بن مسعود، أنه كان يستحب أن يكون الذين يكتبون المصاحف من مضر.[11]
’’ایک تیسرا قول یہ ہے کہ قرآن مجید قبیلہ مُضَر کی زبان میں نازل ہوا۔اس کی دلیل کے طور پر حضرت عمر کا یہ قول پیش کیا جاتا ہے: قرآن مُضَر کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اور ابن عبد البرّ نے کہاہے کہ اس سے مراد مُضَر کے سات قبائل کی زبانیں ہیں اور وہ یہ ہیں:ہذیل، کنانہ، قیس، ضبہ، تَیم الباب، اسد بن خزیمہ اور قریش۔پس یہ قبیلے مُضَر کے ہیں اور ان کی زبانوں کو جمع کرنے سے سات بولیاں حاصل ہوتی ہیں۔یہ بھی روایت ہے کہ جب حضرت عمر مصحفِ امام (سرکاری مصحف) لکھوانا چاہتے تھے،تو انہوں نے اپنے چند ساتھیوں کو بٹھایا اور فرمایا: جب تم زبان کے معاملے میں اختلاف کرو، تو اسے مُضَر کی زبان میں لکھو،کیونکہ قرآن مُضَر کے ایک شخص کی زبان میں نازل ہوا ہے۔اور چونکہ یہ تمام قبائل مُضَر کے مجموعے سے تعلق رکھتے تھے،لہٰذا اس قول کے مطابق قرآن کی زبان قریش کی نہیں بلکہ مُضَر کی زبان قرار پاتی ہے۔اسی طرح عبداللہ بن مسعود t سے روایت ہے کہ وہ یہ پسند کرتے تھے کہ مصحف لکھنے والے افراد قبیلہ مُضَر سے ہوں۔‘‘
ڈاکٹر جواد علی مزید لکھتے ہیں:
واستنكر ابن قتيبة قول من قال: إن القرآن نزل بلغات أخرى، فقال: لم ينزل القرآن إلا بلغة قريش، واحتج بالآية: ﴿ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ﴾. واحتج آخرون بقول عمر لعبد الله بن مسعود: إن القرآن لم ينزل بلغة هذيل، فأقرئ الناس بلغة قريش. وروي في البخاري، أن القرآن نزل بلسان قريش والعرب. وقريش خلاصة العرب. وذكر بعض العلماء أنه نزل بلغة الحجازيين إلا قليلًا، فإنه نزل بلغة التميميين كالإدغام في: ﴿وَ مَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ﴾، وفي: ﴿وَ مَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ﴾؛ فإن إدغام المجزوم لغة تميم، ولهذا قل، والفك لغة الحجاز ولهذا كثر.[12]
’’ابن قتیبہ نے ان لوگوں کے قول کو ردّ کیا ہے کہ جنہوں نے کہا کہ قرآن مختلف لہجوں (زبانوں) میں نازل ہوا۔انہوں نے کہا:قرآن صرف قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اور اس پر قرآن کی آیت سے استدلال کیا: ﴿ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ ﴾ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں۔ کچھ دوسرے علما نے حضرت عمر کے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہے گئے ان الفاظ سے بھی دلیل لی: قرآن ہذیل کی زبان میں نازل نہیں ہوا، لہٰذا لوگوں کو قریش کی زبان میں پڑھاؤ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ قرآن قریش اور عربوں کی زبان میں نازل ہوا،اور قریش عربوں کا خلاصہ (یعنی سب سے فصیح و منتخب قوم) تھی۔کچھ علما نے کہا کہ قرآن زیادہ تر حجاز کی زبان میں نازل ہوا، مگر کچھ مقامات پر تمیم کی زبان بھی شامل ہے۔مثلاً آیات مبارکہ ﴿ وَ مَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ﴾ اور ﴿ وَ مَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ﴾ میں جو ادغام (حروف کو ملا کر پڑھنا) ہے، وہ قبیلہ تمیم کی بولی کا خاصہ ہے —اسی لیے قرآن میں یہ کم آتا ہے —جبکہ فکِ ادغام (حروف کو جدا کر کے پڑھنا) حجاز کی بولی ہے، اسی وجہ سے قرآن میں یہ زیادہ پایا جاتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر جواد علی مذکورہ بالا تینوں اقوال کا جائزہ لیتے ہوئے نتیجہ نکالتے ہیں:
وأقرب الأقوال المذكورة إلى المنطق، هو قول من قال: إنه نزل بلسان عربي وكفى. فاسم العرب يتناول جميع القبائل تناولًا واحدًا، يعني حجازها ويمنها وكل مكان آخر من جزيرة العرب، ثم ما بالنا نفسر ونؤول، ونلف وندور في تفسير: "أُنزل القرآن على سبعة أحرف"، وهو حديث، روي بروايات تحتاج إلى نقد، وفيها ضعف، وأخبار ضعيفة، لا تقف على قدميها، ثم نترك كتاب الله القائل:﴿نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُۙ۰۰۱۹۳ عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۰۰۱۹۴بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍؕ۰۰۱۹۵﴾ و﴿هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۱۰۳﴾ و﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾، و ﴿كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا﴾، و﴿ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّ صَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ ﴾، و﴿قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ۰۰۲۸﴾، و﴿ كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَۙ۰۰۳﴾، و﴿كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾، و﴿اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴾،﴿وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ﴾، ولم يقل قرشيًّا، ولو نزل بلغة قريش لما سكت الله تعالى عن ذلك، لما في التنويه بلسانهم إن كان أفصح ألسنة العرب من حجة على العرب في فصاحته وبيانه وكونه معجزة بالنسبة لقريش، أفصح الناس وألسنهم، وليس بكلام العرب عامة الذين هم على حد قول أهل الأخبار دون قريش في اللغة والكلام. وما آية: ﴿وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ﴾، إلا دليلًا وحجة على نزول القرآن بلسان العرب، لا بلسان قريش، أو بلسان قبيلة معينة، أو قبائل خاصة. فالآية تقول: ما أرسلنا إلى أمة من المم يا محمد من قبلك ومن قبل قومك رسولا إلا بلسان الأمة التي أرسلناه إليه ولغتهم، ليبين لهم. يقول: ليفهمهم ما أرسله الله إليهم من أمره ونهيه وليثبت حجة الله عليهم ثم التوفيق والخذلان بيد الله. ولما كان النبي عربيًّا، وقد نعت في القرآن بأنه النبي الأمي، الذي أرسله الله إلى الأميين، رسولًا منهم، والأميون هم العرب، العرب كلهم، ولما كان الله قد أرسله إلى قومه العرب، وجب أن يكون الوحي بلسانهم المفهوم بينهم، بلسان طافة منهم، يؤيد ذلك ما ورد في القرآن الكريم نفسه من أنه نزل بلسان عربي مبين. قال الأزهري: وجعل الله، عز وجل، القرآن المنزل على النبي المرسل محمد، صلى الله عليه وسلم، عربيًّا؛ لأنه نسبه إلى العرب الذين أنزله بلسانهم، وهم النبي والمهاجرون والأنصار الذين صيغة لسانهم لغة العرب، في باديتها وقراها، العربية، وجعل النبي، صلى الله عليه وسلم، عربيًّا لأنه من صريح العرب. وقال ابن خلدون: إن القرآن نزل بلغة العرب، وعلى أساليب بلاغتهم، فكانوا كلهم يفهمونه، ويعلمون معانيه في مفرداته وتراكيبه. وقال الطبري في تفسيره للآية:﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾، يقول تعالى ذكره: إنا أنزلنا هذا الكتاب المبين قرآنًا عربيًّا على العرب لأن لسانهم وكلامهم عربي، فأنزلنا هذا الكتاب بلسانهم ليعقلوه ويفقهوا منه. وذلك قوله عز وجل:﴿ لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾[13] .
’’ذکر شدہ اقوال میں سے سب سے زیادہ منطقی قول یہ ہے کہ قرآن لسانٍ عربی (عربی زبان) میں نازل ہوا، اور یہی کافی ہے۔کیونکہ عرب کا لفظ تمام قبائل پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ خواہ وہ حجاز کے ہوں یا یمن کے یا جزیرۂ عرب کے کسی دوسرے خطے کے۔پھر ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم أُنزل القرآن على سبعة أحرف والی روایت کی تشریح میں الجھ جائیں،کہ جس کے بعض طرق قابل تنقید، کمزور اور غیر مستند ہیں۔اور اس کے بجائے ہم قرآنِ مجید کے واضح نصوص کو چھوڑ دیں،جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُۙ۰۰۱۹۳ عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۰۰۱۹۴بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍؕ۰۰۱۹۵﴾ ﴿هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۱۰۳﴾ ﴿ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾ ﴿ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا﴾ ﴿ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّ صَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ ﴾ ﴿قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ۰۰۲۸﴾ ﴿كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَۙ۰۰۳﴾ ﴿كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ﴿ اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴾ ﴿ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا﴾اور اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی قرشیًّا (قریشی زبان) نہیں فرمایا۔اگر قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہوتا،تو اللہ تعالیٰ اس کا صراحت کے ساتھ ذکر کرتا،کیونکہ اگر قریش واقعی عربوں میں سب سے فصیح اور بلیغ قوم تھے،تو ان کی زبان کا ذکر کرنا خود قرآن کی فصاحت، بلاغت اور اعجاز پر ایک مزید حجت ہوتا۔لیکن چونکہ قرآن نے عربی زبان کا ذکر کیا ۔ جو تمام عرب قبائل کی مشترکہ زبان ہے۔اس سے واضح ہوا کہ قرآن مجید ساری عرب قوم کی سمجھ میں آنے والی زبان میں نازل ہوا، نہ کہ کسی مخصوص قبیلے کی بولی میں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ﴾بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن عربوں کی زبان میں نازل ہوا، نہ کہ صرف قریش یا کسی خاص قبیلے کی زبان میں۔ مفہوم یہ ہے: ہم نے محمد ﷺ سے پہلے یا آپ کی قوم سے پہلے کسی امت کی طرف کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں، تاکہ وہ ان پر اللہ کے احکام و نواہی واضح کرے اور اللہ کی حجت ان پر قائم ہو۔ اور چونکہ نبی ﷺ عرب تھےاور قرآن میں انہیںالنبی الأمي (امی نبی) کہا گیا،جو کہ الأمیين(عربوں) کی طرف بھیجے گئے رسول تھے۔اور امیین سے مراد تمام عرب ہیں۔لہٰذا ضروری تھا کہ وحی اسی زبان میں نازل ہو جو تمام عربوں کے درمیان معروف اور قابلِ فہم تھی۔یہی معنی قرآن کے اپنے الفاظ سے بھی ظاہر ہے کہ وہ بلسانٍ عربيٍّ مبين میں نازل ہوا۔ازہری نے کہا:اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمدﷺ پر جو قرآن نازل کیا، وہ عربی بنایا،کیونکہ اللہ نے اسے ان عربوں کی زبان سے منسوب کیا جن پر یہ نازل ہوا ۔یعنی نبی ﷺ، مہاجرین اور انصار ۔جن کی فصیح زبان وہی عربی تھی جو صحرا اور قصبوں میں بولی جاتی تھی۔اور نبی ﷺ کو عربی کہا گیا کیونکہ وہ فصیح العرب تھے۔ابن خلدون نے کہا ہے کہ قرآن عربوں کی زبان اور ان کے بلاغت کے انداز پر نازل ہوا،اس لیے تمام عرب اس کو سمجھتے تھےاور اس کے الفاظ و تراکیب کے معنی سے واقف تھے۔ اور طبری نے آیت﴿ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾کی تفسیر میں فرمایا: اللہ تعالیٰ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ واضح کتاب عربوں کے لیے عربی زبان میں نازل کی،کیونکہ ان کی زبان اور گفتگو عربی ہے،تاکہ وہ اسے سمجھ سکیں اور اس سے فہم حاصل کریں۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾ تاکہ تم سمجھو۔‘‘
ڈاکٹر جواد علی مزید لکھتے ہیں:
وأما قولهم: إن هذه اللغة العربية الفصحى هي لغة قريش، لإجماع العرب كافة على أن لغة القرآن هي لغة قريش، وعدم ظهور أحد أنكر هذا الإجماع، أو جادل فيه، رغم ما كان من الشعوبية الأعجمية ومن الشعوبية الحميرية، ومن الخصومات السياسية بين قريش وغيرها من قبائل مضر، فقول لا يستند إلى حجج تأريخية جاهلية، بل هو يصطدم مع واقع النصوص الجاهلية الواصلة إلينا، وبعضها نصوص لا تبعد عن الإسلام بكثير، وقد كتبت كلها بلهجات تختلف عن هذه اللغة الفصحى التي نزل بها القرآن، وفي اختلافها عنها دلالة، على أن الشعوب التي تثبت تلك النصوص لم تكن تكتب بعربية القرآن. وفي هذه الدلالة تفنيد لقول من قال: إن لهجة قريش هي الفصحى التي عمت وسادت في الجاهلية لا في الحجاز ونجد فحسب، بل في كل القبائل العربية شمالًا وغربًا وشرقًا، وفي اليمامة والبحرين، وسقطت إلى الجنوب وأخذت تقتحم الأبواب على لغة حمير واليمن، وخاصة في أطرافها الشمالية حيث منازل الأزد وخثعم وهمدان وبني الحارث بن كعب في نجران، ثم إني لم أتمكن من العثور على هذا الإجماع الذي أجمع العرب كافة عليه، والذي لم يعارضه أحد حتى من الشعوبيين والحاقدين على قريش، وإنما وجدت القرآن، وهو خير الشاهدين يقول: {وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ﴾. و﴿ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾[14].
’’رہا یہ قول کہ یہ فصیح عربی زبان دراصل قریش کی زبان تھی، اس لیے کہ تمام عرب اس بات پر متفق تھے کہ قرآن کی زبان قریش کی زبان ہے اور یہ کہ کسی نے اس اجماع کا انکار نہیں کیا، نہ ہی اس میں کوئی مناقشہ ہوا، باوجود اس کے کہ عجم کی شعوبیت (نسلی برتری کے دعوے) بھی موجود تھی اور حمیری شعوبیت بھی، نیز قریش اور دیگر قبائلِ مُضَر کے درمیان سیاسی کشمکش بھی رہی — تو یہ دعویٰ ایسے تاریخی دلائل پر قائم نہیں جو جاہلی دور سے ثابت ہوں، بلکہ یہ جاہلی دور کے ان ماثوراتی (نقوش وتحریرات) حقائق سے ٹکراتا ہے جو ہم تک پہنچے ہیں۔ ان میں سے بعض نصوص اسلام سے زیادہ دور کے نہیں اور یہ سب عبارتیں ایسی لہجوں میں لکھی گئی ہیں جو اس فصیح زبان سے مختلف ہیں جس میں قرآن نازل ہوا۔ ان کا قرآن کی زبان سے مختلف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اقوام جن سے یہ تحریریں منقول ہیں، وہ قرآن کی عربی میں نہیں لکھتی تھیں۔یہی اختلاف اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ قریش کی بولی وہ فصیح لہجہ تھی جو جاہلیت میں عام ہو گیا تھا اور جس نے نہ صرف حجاز و نجد بلکہ تمام عرب قبائل میں، شمال و مغرب و مشرق تک، اپنی برتری قائم کر لی تھی اور جو یمامہ، بحرین اور پھر جنوب کی طرف حِمیر و یمن کی سرزمینوں تک پہنچ کر ان کے دروازوں پر دستک دینے لگی تھی، خصوصاً ان کے شمالی کناروں پر جہاں اَزد، خثعم، ہمدان اور بنی الحارث بن کعب (نجران کے اطراف) آباد تھے۔پھر میں اس ’اجماع‘ کو تلاش نہ کر سکا جس پر کہا جاتا ہے کہ تمام عرب متفق تھے اور جس کی کسی نے مخالفت نہیں کی، حتیٰ کہ شعوبیوں اور قریش کے مخالفین میں سے بھی کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ میں نے قرآن کو پایا — جو سب سے بڑا گواہ ہے — کہ وہ فرماتا ہے: ﴿ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۱۰۳﴾ (یہ ایک صاف عربی زبان ہے) اور ﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾ (ہم نے اسے عربی قرآن کے طور پر نازل کیا تاکہ تم سمجھ سکو)۔
عکاظ کے بازار میں فیصلے کا اختیار
ایک سوال یہ پیدا ہوا کہ عکاظ کے بازار میں جو قصائد پڑھے جاتے تھے تو ان میں سے بہترین قصیدے کے انتخاب کا اختیار کیا قریش کے پاس تھا؟ اس پر ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:
لم تكن الحكومة لهم بعكاظ، وإنما كانت لتميم، وتميم من أشهر الناس في فنون الخطابة والكلام.[15]
’’عکاظ میں فیصلہ کرنے کا اختیارقریش کے پاس نہیں تھا، بلکہ یہ تمیم کے پاس تھا اور تمیم قبیلہ خطابت اور گفتگو کی فنون میں سب سے مشہور قبائل میں سے ایک تھا۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں:
ولم أجد في المراجع المعتبرة القديمة نصًّا، يفيد أن الأمر كان لقريش في الحكم بين الشعراء أو الخطباء في سوق عكاظ. والنابغة الذي جعلوه حكمًا يحكم في أمر الشعر لم يكن من قريش، بل هو من "بني ذبيان"، وهو الحكم الوحيد الذي نص أهل الأخبار على اسمه، وزعموا أنه كانت له قبة حمراء من أدم، وكان ينشد شعره، وإليه تتحاكم الشعراء في أيهم أشعر، وكل الشعراء الذين ذكروهم هم: الأعشى، والخنساء، وحسان في قصة منمقة طريفة. ولم أعثر حتى الآن على اسم حاكم آخر، آلت إليه حكومة الشعر في عكاظ، لا من قريش ولا من غير قريش. فأين إذن موقع قريش في هذه السوق من الإعراب.[16]
’’میں نے قدیم معتبر مراجع میں کوئی ایسی صریح نص نہیں پائی جس سے یہ معلوم ہو کہ قریش کو عکاظ کے بازار میں شعراء یا خطباء کے درمیان فیصلے کا اختیار حاصل تھا۔ اور نَابِغَہ ذُبیانی، جسے وہ شاعروں کے مابین فیصلے کے لیے حَکَم بتاتے ہیں، وہ قریشی نہیں تھا بلکہ بنو ذُبیان سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ واحد شخص ہے جس کا نام اہلِ اخبار نے صاف طور پر ذکر کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے لیے سرخ چمڑے کا ایک خیمہ مخصوص تھا، وہ وہاں اپنا شعر پڑھتا اور شعراء اس کے پاس آ کر فیصلہ کرواتے کہ ان میں سب سے بڑا شاعر کون ہے۔ ان شعراء میں اعشیٰ، خنساء اور حسان کے نام ایک دلچسپ اور مزین کہانی میں آتے ہیں۔ میں نے اب تک کسی دوسرے شخص کا نام نہیں پایا جسے شعر کے فیصلے کی حکومت ملی ہو، نہ قریش میں سے اور نہ غیرِ قریش میں سے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ عکاظ کے اس بازار میں قریش کا مقام اور کردار آخر کہاں ہے؟‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں:
ولو كان القرآن قد نزل بلسان قريش، لما احتاج الناس إلى الشعر للاستشهاد به على فهم المشكل والغريب، وكان عليهم الرجوع إلى شعر قريش ونثرهم للاستشهاد به في توضيح ما فيه من مشكل وغريب، لا إلى شعر العرب وكلامهم من غير قريش، ثم إن في قولهم بوجود مشكل وغريب فيه، وحروف خفي أمر فهمها على العلماء، هو دليل في حد ذاته على أنه لم ينزل بلسان قريش، وإنما بلسان عربي مبين، فلو كان قد نزل بلسانهم لما خفي أمره على رجالهم، من مثل أبي بكر وعمر وغيرهما من رجال قريش.[17]
’’ اگر قرآن واقعی قریش کی زبان میں نازل ہوتا، تو لوگوں کو اس کے مشکل اور غریب (نادر الفاظ) کو سمجھنے کے لیے شعر کا سہارا لینے کی بجائے قریش کے شعر اور نثر ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے تھا تاکہ وہ قرآن کے مشکل الفاظ کی وضاحت کر سکیں، نہ کہ دوسرے عرب قبائل کے شعر و کلام کی طرف۔ پھر یہ بات کہ وہ قرآن میں مشکل اور غریب الفاظ کے وجود کو مانتے ہیں اور یہ کہ بعض حروف ایسے ہیں جن کے معنی علما پر بھی مخفی رہ گئے، یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن صرف قریش کی زبان میں نازل نہیں ہوا، بلکہ عربی مبین میں نازل ہوا ہے۔ اگر یہ محض قریش کی زبان میں نازل ہوتا تو اس کے معانی ان کے بڑے لوگوں، جیسے ابوبکر، عمر اور دیگر قریشی رجال پر مخفی نہ رہتے۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں:
إذن فقول من يقول: إن لغة قريش هي العربية الفصحى، وأنها لغة الأدب عند الجاهليين، قول بعيد عن الصواب، ولا يمكن أن يأخذ به من له أي إلمام بتأريخ الجاهلية ووقوف على نصوص الجاهليين، أخذ من روايات آحاد، وجدت لها انتشارًا في الكتب القديمة بنقلها بعضها عن بعض من غير نص على اسم السند والمرجع، فصارت وكأنها أخبار متواترة صحيحة أضاف المحدثون عليها عامل النفوذ السياسي والاقتصادي، والديني، لإكساء الفكرة القديمة ثوبًا جديدًا يناسب العصر الحديث، لتأخذ شكلًا مقبولًا. أما لو سألتني عن لغة القرآن الكريم، فأقول: إن القرآن قد ضبطها وعينها، إذ سماها﴿لِّسَانًا عَرَبِيًّا﴾، واللسان العربي هو لسان كل العرب، لا لسان بعض منهم، أو لسان خاصة منهم، هم قريش، ولو كان هذا اللسان، هو لسان قريش لنزل النص عليه في كتاب الله[18].
’’پس جو یہ کہتا ہے کہ قریش کی زبان ہی معیاری اور ادبی عربی تھی اور یہی زبان جاہلیوں کے ہاں ادب کی زبان تھی — تو یہ قول حقیقت سے بہت دُور ہے۔ اس رائے کو کوئی ایسا شخص قبول نہیں کر سکتا جو جاہلیت کی تاریخ سے معمولی سا بھی واقف ہو، یا جس نے جاہلی دور کے اصل ماثوراتی متون (نقوش و تحریرات) کو دیکھا اور سمجھا ہو۔ یہ دعویٰ دراصل چند منفرد روایات پر مبنی ہے جنہیں قدیم کتابوں میں نقل در نقل کے ذریعے شہرت ملی، بغیر کسی سند یا معتبر ماخذ کے تصریح کے۔ یوں یہ روایات بظاہر متواتر اور درست معلوم ہونے لگیں۔ بعد میں محدثین اور مؤرخین نے ان پر سیاسی، معاشی اور مذہبی اثرات کا رنگ چڑھایا تاکہ اس پرانی رائے کو ایک نیا لباس پہنا سکیں جو موجودہ دور کے رجحانات سے ہم آہنگ ہو اور یوں اسے ایک قابلِ قبول نظریے کی صورت دے سکیں۔لیکن اگر تم مجھ سے پوچھو کہ قرآنِ کریم کی زبان کیا تھی؟ تو میں کہوں گا: خود قرآن نے اسے متعین کر دیا ہے، کیونکہ اس نے اسے﴿لِّسَانًا عَرَبِيًّا﴾کہا ہے۔ اور ’لسانِ عربی‘ سے مراد تمام عربوں کی زبان ہے، نہ کہ ان میں سے کسی ایک قبیلے یا خاص گروہ — یعنی قریش — کی زبان۔ اگر یہ زبان درحقیقت صرف قریش کی ہوتی، تو اللہ تعالیٰ اپنے کتابِ مقدس میں اس کا نام واضح طور پر ذکر کرتا۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں:
إن قريشًا قوم من مضر في رأي علماء الأنساب، فلسانهم على هذا لسان من ألسنة مضر. وقد ورد عن ابن مسعود: أنه كان يُستحب أن يكون الذين يكتبون المصاحف من مضر، وورد عن الأصمعي قوله: جرم: فصحاء العرب. قيل: وكيف وهم اليمن؟ فقال: لجوارهم مضر. فإذا كانت الفصاحة والعربية في مضر، فحري إذن نزول القرآن بلغة مضر، لا بلسان قريش[19].
’’قریش، علمائے نسب کے نزدیک، قبیلہ مُضَر کی ایک شاخ ہے، لہٰذا ان کی زبان بھی مُضَر کی بولیوں میں سے ایک بولی تھی۔ روایت ہے کہ ابن مسعود فرمایا کرتے تھے:یہ بہتر ہے کہ مصاحف (قرآن کی کتابت کرنے والے کاتبین) مُضَر کے قبیلے سے ہوں۔اصمعی سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا:جرم (ایک قبیلہ) عرب کے فصحاء ہیں۔کسی نے پوچھا:کیسے؟ حالانکہ وہ یمنی ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا:اس لیے کہ وہ مُضَر کے پڑوس میں ہیں۔ پس جب فصاحت اور خالص عربیت کا مرکز مُضَر میں تھا، تو مناسب بات یہی ہے کہ قرآن بھی مُضَر کی زبان میں نازل ہوا ہو، نہ کہ صرف قریش کی زبان میں۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں:
وقد شك بعضهم في هذا القول؛ لأن قريشًا كانت تسكن مكة وما حولها وهم من أهل المدر، وقريش تجار، والتجارة تفسد اللغة، وكان هذا مما عيب على اليمن من ناحية لغتهم؛ لأن رسول الله نشأ في بني سعد بن بكر بن هوازن واسترضع فيهم، فتعلم الفصاحة منهم، وأن كثيرًا من غلمان قريش في عهد محمد صلى الله عليه وسلم، كان يُرسل إلى بني سعد لعلم اللغة والفصاحة، ومن أجل هذا ظنوا أن هذا الرأي موضوع لإعلاء شأن قريش في اللغة؛ لأن رسول الله منهم. والذي يظهر لي أن سلامة اللغة من دخول الدخيل فيها أمر غير الفصاحة، وأن سلامة اللغة كانت في بني سعد خيرًا مما هي في قريش لأنهم أهل وبر، وأبعد عن التجارة وعن الاختلاط بالناس، وعلى العكس من ذلك قريش فهم أهل مدر، وكثير منهم كان يرحل إلى الشأم ومصر وغيرهما ويتاجر مع أهلها، ويسمع لغتهم، فهم من ناحية سلامة اللغة ينطبق عليهم ما انطبق على غيرهم ممن خالط الأمم الأخرى[20].
’’بعض اہلِ علم نے اس قول (یعنی یہ کہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا) پر شک کیا ہے، کیونکہ قریش مکہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھے اور اہل مدر یعنی شہروں اور بستیوں میں رہنے والے تھے، اور قریش تاجر قوم تھی، جبکہ تجارت زبان کو بگاڑ دیتی ہے۔ یہی چیز یمنیوں کی زبان کے بارے میں بھی عیب کے طور پر بیان کی جاتی تھی۔رسول اللہ ﷺ نے بنی سعد بن بکر بن ہوازن میں پرورش پائی اور وہیں دودھ پیا، چنانچہ آپ ﷺ نے فصاحت انہی سے سیکھی۔ بلکہ یہ بھی معروف ہے کہ نبیﷺ کے زمانے میں قریش کے بہت سے لڑکوں کو فصاحتِ زبان سیکھنے کے لیے بنی سعد کے ہاں بھیجا جاتا تھا۔ اسی بنا پر بعض لوگوں نے گمان کیا کہ قریش کی زبان کو فصیح قرار دینے والی یہ رائے دراصل قریش کی برتری ظاہر کرنے کے لیے گھڑی گئی، کیونکہ رسول اللہﷺ انہی میں سے تھے۔میرے نزدیک یہ بات ظاہر ہے کہ زبان کی صحت (یعنی اس میں اجنبی الفاظ کا نہ ہونا) اور فصاحت (یعنی زبان کی خوبصورتی و صفائی) دو الگ چیزیں ہیں۔ زبان کی صحت کے اعتبار سے بنی سعد کی زبان قریش سے بہتر تھی، کیونکہ وہ اہلِ وبر یعنی صحرانشین تھے، تجارت سے دور اور دوسرے لوگوں کے میل جول سے زیادہ محفوظ تھے۔ اس کے برعکس قریش اہلِ مدر تھے، جن میں سے اکثر شام، مصر اور دوسرے ملکوں کی طرف سفر کرتے، وہاں کے لوگوں سے تجارت کرتے اور ان کی زبان سنتے تھے، لہٰذا زبان کی پاکیزگی کے لحاظ سے قریش پر بھی وہی اثر پڑا جو دیگر اقوام پر ہوا جنہوں نے غیر قوموں سے میل جول رکھا۔ (جاری ہے)
[1] محمد بن سلام الجمحي، طبقات فحول الشعراء، دار المدنی، جدة
[2] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 197
[3] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 322
[4] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام» (16/ 323
[5] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:18/ 261
[6] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:18/ 262
[7] غامدی، جاوید احمد، میزان، ص ۱۵، المورد، لاہور، مئی ۲۰۱۴ء
[8] اسماعيل بن عمرو المقرىء، كتاب اللغات في القرآن، مطبعة الرسالة، القاهرة: 6
[9] تفسير الطبری:1/ 14
[10] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 238)
[11] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 236
[12] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 237
[13] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 240
[14] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام» (16/ 274
[15] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 294
[16] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 295
[17] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 297
[18] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 301
[19] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 302
[20] المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام:16/ 303