صحابہ کرام کی درایتِ تفسیری کی حجیت

حافظ عبداللہ محدث روپڑی کے افکار کا تجزیاتی مطالعہ

صحابہ کرام کی درایتِ تفسیری کی حجیت

حافظ عبداللہ محدث روپڑی کے افکار کا تجزیاتی مطالعہ

حافظ حنین قدوسی [1]

یہ مضمون مجتہد العصر حافظ عبداللّٰہ محدث روپڑی ﷫ کی نہایت اہم اور فکر انگیز تصنیف ’’درایتِ تفسیری ‘‘ کا ایک بصیرت افروز تجزیاتی تعارف ہے۔ اس کتاب میں تفسیرِ قرآن کے ایک نہایت بنیادی اور فیصلہ کن مسئلے، یعنی صحابۂ کرام ﷢کی درایتِ تفسیری کی حجیت کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫نے اصولِ تفسیر کے باب میں جس منہج کی اصولی رہ نمائی فرمائی تھی، محدث روپڑی نے اسی کو اپنے مخصوص استدلالی انداز میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ آگے بڑھایا ہے اور مختلف دلائل و شواہد اور علمی مناقشات کی مدد سے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ قرآنِ مجید کے فہم میں صحابہ کی تفسیر سے اعراض کوئی معمولی لغزش نہیں بل کہ بابِ تفسیر کے بڑے انحرافات کا سرچشمہ ہے۔ محدث روپڑی نے اس کا پہلا ایڈیشن 1333ھ میں امرتسر سے شائع کیا،اب محدث روپڑی اکیڈمی ،لاہورنے اسے کمپوزنگ کے ساتھ دوبارہ شائع کیا ہے۔شیخ الحدیث حافظ عبدالوہاب روپڑی﷾  نےاس ایڈیشن کی تخریج و تشکیل  کی ہے۔ یہ کتاب اگرچہ تنقیدی اسلوب اور ایک خاص علمی پس منظر میں لکھی گئی تھی لیکن درحقیقت اس میں اس اصولی مسئلے کے تمام اہم پہلو زیرِ بحث آ گئے ہیں اور شاید ہی کوئی گوشہ تشنہ رہ گیا ہو؛ اس لیے یہ تصنیف اب   منہاج تفسیر اور اصول تفسیر میں لغت و ادب کے مقام و مرتبہ کے موضوع پر اردو زبان میں  ایک جامع ترین اور اصولی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی ہے،جسے مدارسِ دینیہ کے آخری سالوں کے نصاب کی زینت بنانا چاہیے۔

زیرِ نظر مضمون اسی کتاب کے مباحث کا علمی، تجزیاتی اور تعارفی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ اہلِ علم کے لیے خاص طور پر اور عام سنجیدہ قارئین کے لیے بھی یک ساں طور پر نافع ثابت ہو گا۔ (ادارہ)

بر صغیر پاک و ہند کی سرزمین اس حوالے سے بڑی ہی زرخیز رہی  ہے کہ یہاں مسلک محد ثین کے حامل علماء کرام نے حدیث اور علوم حدیث کی اشاعت میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا ۔

بلا شبہ حضرت شاہ ولی اللہ ﷫نے تقلیدی جمود کے دور میں قرآن مجید کا فارسی ترجمہ اور مدارس اسلامیہ میں کتب احادیث کو داخل نصاب کر کے اس خطے کے اہل ایمان پر احسان عظیم کیا۔ آپ کے اس تجدیدی کام نے اس سرزمین پر ایک عظیم علمی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ خاندان ولی اللہ کے بعد جو شخصیت علم حدیث کی خدمت میں سب سے نمایاں شمار کی جاسکتی ہے وہ حضرت سید نذیر حسین محدث دہلوی  ﷫ کی ہے، آپ کے تلامذہ اور پھر اس کے بعد تلامذہ کے تلامذہ نے جس طرح علم حدیث اور دیگر علوم شرعیہ کی خدمت کی بلا شبہ وہ تاریخ اسلام و تاریخ اہلحدیث کا بڑا ہی حسین باب ہے۔ اسی مبارک سلسلے میں جہاں حضرت شمس الحق عظیم آبادی، مولانا عبد الرحمن مبارکپوری، مولانا عبدالمنان وزیر آبادی، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا عبدالجبار غزنوی ﷭ہیں ،و ہیں اس مبارک سلسلے کی ایک عظیم کڑی حضرت حافظ عبداللہ محدث روپڑی  ﷫  کی شخصیت بھی ہے۔ بلاشبہ حضرت رو پڑی  ﷫ کو مروجہ تمام علوم آلیہ و عالیہ میں مہارت تامہ حاصل تھی۔ آپ کے تلامذہ اور آپ کی تحاریر و فتاوی کا مطالعہ کرنے والے آپ کے دقیق علمی استنباطات سے بخوبی واقف ہیں۔ ویسے تو آپ کی تمام تحریروں کی یہ عظیم خوبی ہے کہ وہ اپنے اندر اصولی مباحث کو سموئے ہوتی ہیں ، تاہم آپ کی عظیم کتاب’ درایت تفسیری‘اس حوالے سے خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ بلا شبہ یہ کتاب ناصرف اصول تفسیر کے حوالے سے اہم اصول و قواعد کا مجموعہ ہے بلکہ اس باب میں منہج سلف کی بہترین ترجمان ہے۔ بلا شبہ حضرت محدث روپڑی  ﷫ نے اس کتاب میں اصول تفسیر کے باب میں منہج اہل حدیث کو خوب کھول کر بیان کیا ہے اور گمراہ فرقوں مثلاً نیچریہ، قادیانی، اصلاحی ، غامدی اور فراہی و غیر هم کی جانب سے وضع کردہ باطل اصولوں کا خوب قلعہ قمع کیا ہے۔

کتاب کا پس منظر

حضرت محدث روپڑی  ﷫ کی اس کتاب کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری  ﷫ نے ایک رسالہ بنام رسالہ اجتہاد و تقلید لکھا جس کی چھٹی فصل میں انہوں نے تفسیر قرآن کے باب میں اقوال سلف کی حجیت سے انکار کیا۔ اسی طرح حضرت امرتسری  ﷫ ہی نے ایک کتاب ’تفسیر القرآن بکلام الرحمن‘ کے نام سے لکھی جس میں بعض مقامات پہ حضرت سے شدید علمی سہو ہوا اور آپ نے ان مقامات کی ایسی تفسیر بیان کی جو بالکل نئی تھی اور سلف کی اتفاقی تفسیر کے خلاف تھی، چنانچہ ان مقامات کی نشاندہی اور تفسیر قرآن میں اقوال سلف کی حجیت کے حوالے سے منہج اہلسنت و اہلحدیث کی ترجمانی کے لیے حضرت محدث روپڑی  ﷫ کا قلم حرکت میں آیا اور آپ نے تفسیر قرآن کے باب میں اقوال سلف کی حجیت پر دس عظیم علمی دلائل ذکر کیے اور ’تفسیر القرآن بکلام الرحمن‘ میں حضرت امرتسری   ﷫  سے جو علمی تسامحات ہوئے تھے ان کی بڑے احسن انداز میں نشاندہی کی اور بڑے پختہ نقلی و عقلی دلائل سے ان مقامات کی درست تفسیر واضح کی اور ان مقامات کی جو تفسیر سلف نے کی تھی اس پہ ہونے والے اعتراضات کا بھی مسکت و شافی جواب دیا۔

ایک اہم وضاحت

حضرت محدث روپڑی  ﷫ نے یہ رسالہ محض احقاق حق کے لیے تحریر کیا اس سے حضرت امرتسری  ﷫  کی تنقیض ہر گز مقصود نہیں تھی چنانچہ آپ اس رسالے کا تعارف کرواتے ہوئے ’’پھر اسے دیکھیے ‘‘ کے عنوان کے تحت رقمطراز ہیں :

’’طعن و تشنیع ذاتی ، قومی اور مذہبی حملوں سے آج کل فن تصنیف میں بڑی خرابی آگئی ہے لیکن بحکم الٰہ پنج انگشت یکساں نہ کرد،ان شاء اللہ العزیز قارئین کرام اس رسالہ کو ان عیوب سے خالی پائیں گے۔ مضامین کے لحاظ سے کسی کے خلاف طبع کا میں انکار نہیں کرتا البتہ طریق بیان کے متعلق توقع بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ یہ رسالہ تصانیف سلف کا نمونہ ثابت ہوگا۔‘‘

مقدمہ کتاب        

کتاب کے آغاز میں حضرت رو پڑی  ﷫ نے ایک مقدمہ قائم کیا جس میں انہوں نے حضرت امرتسری  ﷫ کے رسالہ اجتہاد و تقلید کی چھٹی فصل میں سے حضرت کا تفسیر قرآن میں اقوال سلف کے حوالے سے موقف ذکر کیا کہ حضرت امرتسری  ﷫ فرماتے ہیں کہ نصاب تفسیر علوم عربیہ ہیں جو تفسیر قواعد عربیہ کی رو سے صحیح ہو، وہ صحیح ہے خواہ خیر القرون کی تفسیر  کے مطابق ہو یا مخالف، اقوال سلف ہم پہ حجت نہیں ۔ ہاں! جو تفسیر قواعد عربیہ کی رو سے غلط ہو وہ بے شک غلط ہے۔ [2]

محدث روپڑی  ﷫ نے اپنے رسالے کی ابتداء میں مقدمے کے بعد آغاز مطلب کے نام سے ایک عنوان تحریر کیا جس میں آپ نے ایک بڑے ہی اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا اور وہ یہ کہ جب کوئی بھی متکلم اپنے شاگردوں ، ساتھیوں اور مریدین سے ہم کلام ہوتا ہے تو اس کے کلام کے حوالے سے سامعین کی درایت ( فہم سمجھ ) دو طرح کی ہوتی ہے۔

(1) درایت تفسیری (۲) درایت اجتهادی

درایت تفسیری

درایت تفسیری کلام کے ظاہری و سرسری مطلب کو کہتے ہیں جس کو اہل لسان اپنے محاوروں میں بے تکلف سمجھ جاتے ہیں اور اس مطلب کو سمجھنے میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی اور اگر بالفرض کسی موقع پر اشتراک لفظی یا کسی اور عارضہ کی بناء پر لفظوں سے مطلب نا سمجھا جائے تو قرائن وغیرہ متکلم کی مراد کو ظاہر کر دیتے ہیں۔[3]

درایت اجتہادی

درایت اجتہادی استنباط کو کہتے ہیں جیسے فحوائے کلام سے کسی مطلب پر مطلع ہو جانا یا دو تین باتوں کو ملا کر ان سے ایک نتیجہ نکالنا یا باعث کلام،  مقتضی حال یا وضع متکلم کو دیکھ کر اس سے کوئی بات استخراج کرنا وغیرہ ۔ [4]

المختصر ! کسی بھی کلام کا سرسری فہم درایت تفسیری ہوتی ہے اور اس کلام سے دیگر علمی فوائد و مسائل کا استنباط  کرنے کو ’’درایت اجتہادی ‘‘ کہتے ہیں ، جیسے( وَ امْرَأَتُهُ حَبَّالَةَ الْحَطب )سے کفار کے نکاحوں کے درست ہونے کے مسئلے کا استنباط  کرنا وغیرہ ۔

 محدث روپڑی  ﷫ نے ’’آغاز مطلب ‘‘میں یہ واضح کیا ہے کہ کلام کی فصاحت و بلاغت کا لازمی تقاضا ہے کہ جب متکلم کلام کرے تو اس کےسامعین و مخاطبین اس کے معنیٰ کو سمجھ لیں۔ جس قدر مخاطبین و سامعین متکلم کے کلام کو سمجھیں گے متکلم کا کلام اس قدر فصیح و بلیغ شمار ہوگا اور اگر سامعین متکلم کے کلام کو سمجھ نا پائیں تو یہ دلیل ہے کہ وہ  کلام فصاحت و بلاغت سے عاری ہے، گو یا فصیح و بلیغ کلام وہی ہوتا ہے کہ جس کو سامعین سن کر خوب سمجھ لیں۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ کلام اللہ کے اول مخاطبین کلام اللہ کے معنیٰ کو سمجھ نہیں سکے تو اس سے معاذ اللہ کلام اللہ کی فصاحت و بلاغت پر حرف آئے گا لہذا  ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ صحابہ کرام ﷢نے قرآن مجید کے معانی و مفاہیم کو خوب اچھے سے سمجھا اور پھر  آگے امت کو بیان کیا اور یہی ان کی درایت تفسیری ہے جس کی حجیت کے انکار سے قرآن کی فصاحت و بلاغت کا انکار لازم آتا ہے۔

محدث روپڑی  ﷫ کے اس پورے رسالے کا موضوع اسی درایت تفسیری کی حجیت ہے جس پر انہوں نے دس دلائل قائم کیے ہیں جس کی درج ذیل تین اقسام ہیں:

 (1)لطائف اربعہ                (2)ابحاث ثلاثہ                       (3)خدشات ثلاثہ

لطیفہ اول

لطیفہ اول کے عنوان کے تحت حضرت رو پڑی  ﷫ فرماتے ہیں کہ جب مقلدین یہ کہتے ہیں کہ ہم قرآن کی نصوص نہیں سمجھ سکتے کیونکہ اس کا فہم ہمارے بس کی بات نہیں تو اپنے اس قول کی وجہ سے وہ خوب بدنام ہو گئے ہیں کہ انہوں نے قرآن و سنت کی نصوص کو ایسا باور کروایا ہے جیسے ان کا   نصوص فہم ناممکنات میں سے ہے، تو اگر مقلدین کا آج کے زمانے میں ایسا  دعوی مردود ہے تو صحابہ کرام ﷢کے بارے میں بھی یہی دعوی کئی درجے بالا ولی مردود ہو گا کہ وہ قرآن مجید کی کسی نص کو سمجھ نہیں سکے اور ان کے فہم نے اس سمجھ میں ٹھوکر کھائی اور ہمیں آج کے زمانے میں اس نص کا درست فہم حاصل ہو گیا۔ جس طرح مقلدین کا قرآن مجید کے فہم کو بہت مشکل امر قرار دینا قرآن کی فصاحت و بلاغت کے خلاف ہے ویسے ہی مخاطبین اول یعنی صحابہ کرام کے بارے میں یہ دعویٰ  کہ وہ قرآن کی نصوص  کا معنیٰ غلط سمجھے اور ہم آج کے دور میں نصوص کا معنیٰ درست سمجھے ، یہ دعوی بھی قرآنی فصاحت و بلاغت پر ایمان لانے کے منافی ہے۔

مثال

اس کی ایک اہم مثال قرآن مجید میں سورۃ بقرہ کی آیت ﴿وَ ظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ﴾ کی تفسیر ہے۔ اس کی تفسیر حضرات سلف ﷭سے بادل یا بادل کی طرح کی کوئی سایہ دار چیز منقول ہے۔ یہ حضرات صحابہ و سلف کی درایت تفسیری ہے جس سے انحراف جائز نہیں کیونکہ اس سے انحراف قرآن کی فصاحت و بلاغت سے انکار کو مستلزم ہے لہذا اگر الْغَمَامَ کی تفسیر بارش سے کی جائے گی تو ایسی تفسیر مردود شمار ہو گی۔

اس رسالے میں محدث روپڑی  ﷫ نے الغمام کی تفسیر بارش کرنے پر بہت عمدہ اور اصولی نقد کیا ہے اور کثیر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت کیا ہے کہ سلف کی اجماعی تفسیر کے خلاف یہ تفسیر قواعد عربیہ اور عقل سلیم کے بھی خلاف ہے۔ 

یاد رہے اصلاحی صاحب اور حمید الدین فراہی صاحب کی تفاسیر بھی اس قسم باطل اور مردود تفسیروں سے بھری پڑی ہیں  جیسے کوثر سے مراد خانہ کعبہ لینا۔ اسی طرح اصلاحی صاحب نے مقام محمود سے مراد سابقہ امتوں کی رسول اللہ  ﷺ کی تعریف کرنا لیا ہے،چونکہ یہ تفاسیر صحیح احادیث اور سلف کی درایت تفسیری کے مخالف ہیں لہذا مردود شمار ہوں گی۔

ایک اہم نکتہ

یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ  نے الفاظ قرآن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن کے معانی بھی صحابہ کو خوب کھول کھول کر سمجھا دیے تھے اور صحابہ آپ کی مجلس میں پوری توجہ سے بیٹھتے تھے تو پھر نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کے معانی کو سمجھنے میں صحابہ کے لیے کوئی رکاوٹ نا تھی کیونکہ رکاوٹ وہاں ہوتی ہے جہاں بیان کرنے والے استاد کے بیان میں کوئی کمزوری ہو اور اس بات کا نبی کریم ﷺ کے بارے میں عقیدہ رکھنا ہی کفر ہے یا سننے والے سامعین کی توجہ نا ہو یا ان کے فہم میں کمزوری ہو اور یہ دونوں باتیں صحابہ کرام کے بارے میں کرنا محال ہے، لہٰذا لازمی بات ہے کہ نبی کریمﷺنے قرآن کی  تفسیر میں جو کچھ بیان کیا صحابہ  کرام نے اسے خوب سمجھا تھا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ  ﷫ نے کیا ہی خوبصورت بات کی ہے۔

يجب ان يعلم ان النبي صلى الله عليه وسلم بين اصحابه معانی القرآن كما بين لهم الفاظه.[5]

اس بات پر ایمان لانا واجب ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو قرآن مجید کے معانی ویسے ہی کھول کھول کر بیان کیے جیسے آپ نے صحابہ کو قرآن کے الفاظ کھول کھول کر بیان کیے۔

جس طرح اللہ کے نبی ﷺ نے قرآن کے الفاظ و معانی کھول کھول کر امت کو بیان کیے ویسے ہی اللہ کے نبی صلی ﷺ کے صحابہ نے قرآن مجید کے الفاظ و معانی پوری توجہ سے اللہ کے نبی ﷺ سے اخذ کیے، ان کو سیکھا، یاد کیا اور پھر امت کو بھی وہ معانی سکھائے جیسا کہ عبد الرحمن سلمی  ﷫ بیان کرتے ہیں

حدثنا الذين كانوا يقرئوننا القرآن كعثمان ابن عفان و عبدالله ابن مسعود وغيرهما انهم كانوا اذا تعلموا من النبي عشر آيات لم يجاوزوها حتى يتعلموا ما فيها من العلم والعمل قالوافتعلمنا القرآن والعلم والعمل جميعا[6].

جو صحابہ ہمیں قرآن پڑھاتے تھے جیسا کہ سیدنا عثمان اور سیدنا عبداللہ بن مسعود انہوں نے ہمیں بتایا کہ جب وہ رسول اللہ ﷺسے دس آیات سیکھ لیتے تو جب تک اس میں موجود علم و عمل کی تمام باتیں سیکھ نا لیتے تو ان آیات سے آگے نا جاتے۔  صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے قرآن، علم و عمل سب کچھ سیکھا۔

لطیفہ دوم

لطیفہ دوم میں حضرت محدث روپڑی  ﷫ نے تفسیر سلف کی حجیت پر روز مرہ کی مثالوں سے دلیل دی ہے کہ جس طرح ہمارے پاس جنگ عظیم کی خبریں انگریزی اخباروں کے ذریعے پہنچتی ہیں جنہیں ہمارے اردو صحافی مترجمین ترجمہ کرتے ہیں اور ہم جنگ کے حالات کو جاننے کے لیے جس طرح ان اردو مترجمین کی ترجمہ شدہ خبروں کے محتاج ہیں اور ان کے فہم پر اعتبار کر کے ہی ہم جنگ کے حالات جان سکتے ہیں اور جو شخص ان کے فہم کو اس لیے ٹھکرا دے کہ ان کے فہم میں غلطی کا امکان ہے تو سارے معاشرے کے لوگ اس شخص کو دیوانہ سمجھیں گے بالکل اسی طرح قرآن کے اول مخاطبین یعنی صحابہ نے قرآن کے الفاظ سے جو معانی سمجھ کر امت کو بیان کیے وہ فہم قرآن میں ایسے ہی قابل اعتماد ہیں اور یہی معانی ان کی درایت تفسیری ہے جس کو حجت ماننے کے سواء کوئی چارا نہیں۔

لطیفہ دوم کے تحت محدث روپڑی ﷫ نے اور بھی مثالیں دی ہیں جن کا  خلاصہ  یہ  ہے کہ ہم عام روزمرہ کی زندگی میں کسی بھی شخصیت کے کلام کو سمجھنے کے لیے اس کے شاگردوں یا ماہرین فن کی درایت تفسیری پہ اعتماد کرتے ہیں تو فہم قرآن میں بھی مخاطبین اول اور رسول اللہ ﷺ کے شاگردوں یعنی صحابہ کی درایت تفسیری پر اعتماد ضروری ہے۔

لطیفہ سوم

لطیفہ سوم میں حضرت رو پڑی  ﷫ نے واضح کیا ہے کہ جتنے بھی علوم عربیہ ہیں جن کی وجہ سے سلف کے تفسیری اقوال یا ان کی درایت تفسیری کو رد کر دیا جاتا ہے ان علوم کی حیثیت و حقیقت یہ ہے کہ یہ علوم استقرائی ہیں اور استقرائی علم وہ ہوتا ہے جو مختلف جزئیات سے ماخوذ ہو اور علوم عربیہ جیسے معانی، بیان نحو وغیرہ کلام اللہ ، کلام رسول اور کلام عرب اول کی جزئیات  سے ماخوذ ہیں۔

جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ علوم استقرائی ہیں تو ان علوم کو حجت ماننا دراصل اس بات کو لازم کرتا ہے کہ ان علوم کے واضعین یعنی ائمہ عربیہ کے فہم اور ان کی درایت تفسیری کو بھی حجت مانا جائے کیونکہ ائمہ عربیہ نے یہ اصول کلام اللہ ، کلام رسول اور کلام عرب اول سے اخذ کیے ہیں اور بغیر سمجھے قواعد کا اخذ کرنا محال ہے۔ جب ائمہ عربیہ کو کلام اللہ اور کلام رسول سمجھ آگیا اور ان کی درایت تفسیری پہ اعتماد کر لیا گیا تو صحا بہ جو کہ کلام اللہ کے مخاطب اول اور اہل زبان تھے ان کی درایت تفسیری کیوں معتبر نہیں ! جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کی درایت تفسیری اور فہم ان ائمہ عربیہ کی درایت تفسیری سے بدرجہا معتبر ہے جو ائمہ عربیہ واضعین علوم عربیہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام قرآن کے نزول کا مشاہدہ کرنے والے، صاحبِ قرآن ﷺ کے ساتھی اور اہل زبان تھے جب کہ علوم عربیہ کو وضع کرنے والے ائمہ میں سے بہت سارے غیر عرب ہیں۔ لہذا اگر ان ائمہ کا وضع کردہ کوئی بھی قاعدہ صحابہ کی تفسیر سے ٹکرائے گا تو صحابہ کی تفسیر مقدم ہو گی نا کہ اس تفسیر کو قاعدے کے خلاف قرار دے کر رد کیا جائے گا، کیونکہ ان قواعد کے ماخذ کو واضعین قواعد کی نسبت صحابہ زیادہ جانتے تھے۔ آسان الفاظ میں تفسیر سلف اگر کسی قاعدے کے خلاف ہو تو وہ تفسیر قواعد عربیہ کے خلاف نہیں بلکہ بذات خود قاعدہ ہے۔

حضرت محدث روپڑی مزید فرماتے ہیں کہ  علوم عربیہ کا معیار فہم عرب اول ہے جو مسئلہ ان کے فہم کے مطابق ہو وہ صحیح ہے اور جو خلاف ہو وہ غلط ۔ یہ علوم کئی برس کے بعد حادث ہوئے ہیں ان سے وہیں تک استدلال صحیح ہے جہاں تک ان کے فہم کے خلاف نا ہو [7]۔

محدث روپڑی  ﷫ سے صدیوں پہلے حافظ ابن قیم  ﷫ ان الفاظ میں صحابہ کرام ﷢کی درایت تفسیری کی حجیت واضح فرمائی:

الوجه العاشر: أن أبلد الناس وأبعدهم فهما يعلم مراد أكثر من يخاطبه بالكلام الركيك العادم للبلاغة والفصاحة فكيف لا يعلم أذكى الناس وأصحهم أذهانا وأفهاما مراد المتكلم بأفصح الكلام وأبينه وأدله على المراد ويحصل لهم اليقين بالعلم بمراده وهل ذلك إلا من أمحل المحال.[8]

’’جہمیہ کے اصول کہ ادلہ لفظیہ مفید یقین نہیں اس کے باطل ہونے کی دسویں وجہ یہ ہے کہ غبی ترین اور ناقص ترین فہم والا شخص بھی اپنے اس مخاطب کا اکثر کلام سمجھ جاتا ہے جس مخاطب کا کلام رکیک اور فصاحت و بلاغت سے عاری ہو تو جو صحا بہ لوگوں میں سب سے زیادہ ذہین اور سب سے عمدہ افہام و اذبان والے تھے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اس متکلم کی مراد تک نا پہنچ سکیں جس متکلم کا کلام سب سے فصیح ، واضح اور معنیٰ مراد پہ سب سے زیادہ دلالت کرنے والا ہو اور ان صحابہ کو نص سے مراد معنی ٰ کے علم کا یقین حاصل نا ہو سکے کیا یہ ناممکن ترین باتوں میں سے نہیں؟

لطیفہ چہارم

لطیفہ چہارم میں محدث روپڑی  ﷫ نے اس نکتے پہ بحث کی ہے کہ آیا قرآن فہمی کے لیے صرف علوم عربیہ واقعی کافی ہیں اور آیا یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو محاورہ عرب کے موافق اور لغت کے مطابق ہو اور جو عرب محاورے اور عربی لغت کے خلاف ہو وہ غلط ہے ۔ لہٰذا ہمیں تفسیر قرآن کے باب میں اقوال سلف حتی کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی بھی حاجت نہیں۔ اس دعوی کی حقیقت اور حیثیت  واضح کی ہے اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حدیث رسول اور اقوال سلف کے بغیر محض لغت اور عربی محاورے کے ذریعے قرآن کی تفسیر ناممکن ہے۔ حضرت رو پڑی ﷫نے واضح کیا کہ لغت سے تو صلاۃ کے معنیٰ کا تعین نہیں ہو سکتا۔ جب صلاۃ کا معنیٰ متعین نہیں ہو سکتا تو ﴿وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ﴾ پر عمل کیسے کیا جائے گا؟ اگر کوئی یہ کہے  کہ لغت سے نماز کا معنیٰ متعین ہو جاتا ہے جیسا کہ قاموس میں ہے: عبادة فيها رکوع و سجود، رکوع و سجود والی عبادت تو یہ اس  کا بھولا پن ہے ۔ لغت میں صلاۃ کا اصل معنیٰ تحریک الصلوین ہی ہے اور جو معنیٰ آپ نے قاموس سے نقل کیا ہے تو یہ لغوی معنی ٰنہیں بلکہ اہل شرعی کی اصطلاح ہے جو منقولات شرعیہ کی قبیل سے ہے اور قاموس والے نے یہ معنیٰ اہل شرع ہی سے لے کر لکھا ہے اور اہل شرع نے یہ معنیٰ حدیث نبوی اور آثار صحابہ سے لیا ہے ،لہٰذا صلاۃ ، صیام اور زکوۃ ۔ جیسے الفاظ کے معانی کی تعیین کے لیے حدیث نبوی اور آثار صحابہ سے استغناء ممکن نہیں۔ آسان الفاظ میں عربی لغت و محاورہ تفسیر قرآن کے لیے کافی نہیں۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ عبادة فیه رکوع و سجود یہ صلاۃ کے وہ معانی ہیں جو لغت سے لیے گئے ہیں تب بھی اقیموا الصلاة پر عمل کے لیے ناکافی ہیں کیونکہ نماز کے اس کے علاوہ بھی بہت سے اراکین ہیں جن کا اس تعریف میں ذکر نہیں ہے جبکہ  احادیث اور آثار صحابہ میں ذکر ہے۔ جیسے قرات، فاتحہ، تشہد، سلام وغیرہ۔

محدث  رو پڑی  ﷫ نےواقعات اور امثال سے ثابت کیا کہ  جن لوگوں نے  احادیث نبویہ اور آثار سلف کو نظر انداز کر کے محض لغت كو بنیاد بنایا انہوں نے کیسی  کیسی باطل تفاسیر کیں :

  • سیدنا ابو بکر  ﷜ کے دور میں مانعین زکوۃ کا احادیث نبویہ اور صحابہ کے فہم کو چھوڑ کر ﴿ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً ﴾سے یہ استدلال کرنا کہ زکوۃ صرف  رسول اللہ ﷺ کے دور تک تھی۔
  • سید نا علی ﷜کے مقابلے میں آنے والے خوارج کا ﴿اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ﴾سے سید نا علی و سیدنا معاویہ ﷞کی تکفیر پہ استدلال ( نعوذ باللہ )
  • اسی طرح کوئی گمراہ﴿ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ ﴾سے لغوی استدلال کرتے ہوئے کہہ سکتا ہے کہ قرآن کی آیت سے صرف ماں کی حرمت ثابت ہوتی ہے نا کہ دادی نانی کی۔
  • کوئی زندیق ﴿ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ﴾سے اپنے غلاموں سے لواطت کے جواز پر استدلال کر سکتا ہے۔

یہ تو چند مثالیں ہیں حقیقت یہ ہے کہ احادیثِ نبویہ و آثار ِسلف کو نظر انداز کر کے قواعد عربیہ، لغت اور عرب محاورے ہی کو تفسیر قرآن کے لیے کافی قرار دے دنیا الحاد و زند یقیت کے ایسے دروازے کھول دے گا جن کو بند کرنے کی کوئی سبیل نا ہو گی۔

تفسير القرآن بكلام الرحمن

حضرت ثناء اللہ امرتسری  ﷫ نے ایک تفسیر لکھی جس کا نام ’’تفسیر القرآن بکلام الرحمن ‘‘ہے۔ اس تفسیر میں اس بات کا التزام کیا گیا ہے کہ قرآن کی تفسیر قرآن کی آیات ہی سے کی جائے گی اور آثار صحابہ اور احادیث نبویہ کو تفسیر قرآن میں پیش نہیں کیا جائے گا۔اور یہ کہ نصوص قرآنیہ کے معانی کی وضاحت خود قرآن ہی کر دیتا ہے بشرطیکہ انسان کو عربی لغت اور عربی محاورے کی پہچان ہو۔ چنانچہ ’’تفسیر القرآن بکلام الرحمن‘‘ کے مقدمے میں ہی ورج ہے ما معيار صحة التفسير العربية و علومها کہ تفسیر قرآن کی صحت کا معیار عربیت اور اس سے متعلقہ علوم ہیں۔ چنانچہ اس عبارت سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس تفسیر میں ایک تکلفانہ التزام کیا گیا ہے اور وہ ہے علوم عربیہ کی مدد سے قرآنی آیات کی تفسیر صرف قرآن سے کرنا۔ اس التزام کی وجہ سے اس تفسیر کے بعض مقامات میں جہاں قرآنی آیت کی واضح تفسیر حدیث میں موجود تھی اس کی بجائے دوسری تفسیر اختیار کی گئی اور شدید تکلف سے کام لیا گیا۔ محدث روپڑی  ﷫ نے لطیفہ چہارم میں اس تفسیر کی اس کمزوری  کو بھی دلائل و امثلہ سے واضح کیا ہے اور یہ بھی بتایا کیا ہے کہ اس تفسیر کی اس کمزوری کی وجہ یہ خوامخواہ کا التزام تھا کہ قرآن مجید کی تفسیر صرف قرآن سے کی جائے ،وگرنہ درست تفسیری منہج اختیار کیا جائے اور قرآن کی تفسیر میں قرآن کے ساتھ احادیث نبویہ اور آثار صحابہ سے مکمل مدد لی جائے تو ان تسامحات واغلاط میں واقع ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ ( ان شاء اللہ )

بحث اول :بحث اول کے عنوان سے حضرت روپڑی  ﷫ نے تفسیر کے باب میں قول صحابی کے حجت ہونے کی پانچویں دلیل دی ہے اس بحث میں آپ فرماتے ہیں کہ تمام علوم آلیہ وعربیہ  جیسے صرف و نحو ، بیان اور معانی وغیرہ علوم آلیہ استقرائی علوم ہیں ۔

استقرائی علم سے مراد ایسا علم ہے جو جزئیات کےتتبع سے حاصل ہوتا ہے چنانچہ ان علوم عربیہ کے استقرائی ہونے سے مراد ہے کہ ان علوم کے قواعد قران و حدیث اور اشعار عرب کے استقراء و تتبع  کے ذریعے اخذ کیے گئے ہیں اور یہ استقراء و تتبع کرنے والے ائمہ عربیہ ہیں لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس استقراء  میں غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے یعنی قاعدہ اخذ کرنے میں ائمہ کو غلطی لگ سکتی ہے،پھر  ان قواعد کی تطبیق میں بھی ائمہ کو غلطی لگ سکتی ہے۔کیونکہ  استنباط قواعد بھی غلطی کا مظنة    ہے اور تطبیق قواعد بھی غلطی کا مظنة    ہے جبکہ صحابہ کی تفسیر پہ اعتماد کرنے کے نتیجے میں انسان ان دونوں غلطیوں سے بچ سکتا ہے اس لیے تفسیر سلف کے خلاف ہر ایسی تفسیر مردود ہے جس کی بنیاد محض قواعد عربیہ پر ہو ۔

چونکہ یہ قواعد استقرائی ہیں اس لیے علماء کا ان قواعد کے استنباط میں اختلاف ہو جاتا ہے مثلا بہت سارے فقہاء کے ہاں عام کا حکم اپنے تمام افراد کو شامل ہے جبکہ بہت ساروں کے ہاں عام مجمل ہے لہذا اس میں توقف کیا جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ عربیہ استنباط قواعد میں  بھی بعض اوقات غلطیوں میں واقع ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح ان مستنبط قواعد کی عملی تطبیق میں غلطی کی امثلہ بہت ساری ہیں جیسے یہ قاعدہ تو صحیح ہے کہ درست تفسیر کبھی بھی لغت عربی کے خلاف نہیں ہو سکتی لیکن اس قاعدے کو﴿ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ۰۰۱﴾کی تفسیر میں لگا کر نهر فی الجنة  والی تفسیر کو خلاف لغت قرار دینا صحیح نہیں جیسا کہ ’’تفسیر القران بکلام الرحمن‘‘ میں یہ سہوحضرت امرتسری  ﷫ کو ہوااور اس وہم کا سبب یہ ہے کہ لغت میں ''کوثر'' سے مراد ہے’’ الکثیر من کل شیء ‘‘ ہے۔

محدث روپڑی  ﷫ اس سہو پہ نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کہ کسی کلی کی تفسیراس کی  کسی ایک جزئی  کے ساتھ  کرنا خلاف لغت نہیں جیسے: جاءني رجل اي زيد ’’میرے پاس ایک آدمی آیا یعنی زید‘‘ جس طرح زید رجل کے منافی نہیں ویسے ہی نہر فی الجنہ’’ الْكَوْثَرَ‘‘ کے منافی نہیں ،دونوں اپنی اپنی کلی کی جزئیات ہیں۔[9]

بحث ثانی: میں محدث روپڑی  ﷫ فرماتے ہیں :ائمہ عربیہ نے جو قواعد وضع کیے ہیں وہ عرب اور اہل زبان کے محاورات کے مطابق ہی ہو سکتے ہیں ان کے مخالف نہیں ہو سکتے اور قران بھی اہل عرب کے محاوروں میں سے ہی ایک محاورہ ہے اور اگر صحابہ کا فہم ِقران معتبر نہیں تو ائمہ عربیہ کا مختلف نصوص اور اشعار سے قواعد کو اخذ کرنا بھی معتبر نہیں کیونکہ دونوں کی بنیاد عربی لغت کو سمجھنا ہے ۔[10]

بحث ثالث:  میں محدث روپڑی  ﷫ نےکہا ’’ کہ قواعد عربیہ مختلف نصوص اور اشعار سے مستنبط ہیں ۔ان قواعد کو معتبر ماننا دراصل ائمہ  عربیہ کے اس فہم پر اعتبار کرنا ہے جس فہم  کی مدد سے انہوں نے نصوص و اشعار سے قواعد اخذ کیے ہیں گویا ان قواعد کو ماننا ان ائمہ کی درایت تفسیری کو ماننا ہے‘‘ ۔

حضرت امرتسری  ﷫نے علوم عربیہ کے تفسیر  قرآن کے باب میں کافی ہونے کی دلیل کے طور پر یہ   آیت نقل کی  ہے :

﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾ [يوسف: 2]

’’بے شک ہم نے اسے عربی قران اتارا ہے تاکہ تم اسے سمجھو۔‘‘

اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے مولانا ثنا اللہ امرتسری  ﷫ فرماتے ہیں:

 ’’نصابِ اجتہاد تو علمائے اصول نے مقرر کر دیا ہے مگر نصاب تفسیر خود اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے یعنی علوم عربیہ وغیرہ۔‘‘ [11]

محدث روپڑی  ﷫ نے مولانا  امرتسری  ﷫ کے اس قول کے رد میں   تین خدشات کا ذکر کیا ہے۔

خدشہ اول :اگر تفسیر قرآن کے لیے اقوال صحابہ کی ضرورت نہیں ہےکیونکہ  یہ ان کی  درایت ہے جو کہ حجت نہیں تو پھر اصول فقہ کی حجیت بھی مشکوک ہو جائے گی کیونکہ یہ اصول فقہ بھی نصوص اور اشعار سے ماخوذ ہیں  لہذا صول فقہ  بھی  اصولیوں  کی  درایت کا نتیجہ ہے جب آپ اصولیوں کی درایت کو مان رہے ہیں تو صحابہ کی درایت تفسیری ماننے میں کیا مضائقہ ہے؟

خدشہ ثانی :اصول فقہ کے بہت سارے قواعد میں اقوال صحابہ سے مدد لی جاتی ہے تو اصول فقہ کو صرف مان لینا ہی صحابہ کی درایت پر اعتبار کرنا ہے۔ [12]

خدشہ ثالث: یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ علماء نے صحابہ و سلف کی جس درایت کا اعتبار کیا ہے وہ درایت اجتہادی نہیں بلکہ درایت تفسیری ہے۔

اس کے بعد محدث روپڑی  ﷫  نے دو اہم  نکات بیان کیے :

  • اس آیت کے اول مخاطب صحابہ تھے جو کہ ماہر عربی دان تھے اگر اس آیت کا یہ مفہوم مان لیا جائے کہ علوم عربیہ ہی قران فہمی کے لیے کافی ہیں تو پھر یہ صحابہ ہی کے لیے خاص ہے جو کہ ماہر ،اہل زبان اور قرآن کے اول مخاطب تھے ۔اگر ان کے لیے قرآن فہمی میں علوم عربیہ کافی تھے تو اس سے قطعا یہ لازم نہیں آتا کہ یہ فنون ہمارے لیے بھی قرآن فہمی میں کافی ہو ں کیوں کہ کسی کلی کی کامل جزئی کا جو حکم ہو لازم نہیں کہ ناقص جزئی کا بھی وہی حکم ہو۔ہم اس امت کی ناقص جزئی ہیں جبکہ صحابہ کامل جزئی تھے ۔
  • اس آیت میں مطلقا درایت مراد ہے جو کہ درایت اجتہادی کو بھی شامل ہے۔ اگر علوم عربیہ میں مہارت کا لازم نتیجہ حصول درایت ہے چاہے وہ درایت اجتہادی ہی کیوں نہ ہو تو ایسی صورت میں تو یہ بھی دعوی کیا جا سکتا ہے کہ اجتہادی مسائل کی تفہیم بھی محض قواعدعربیہ سمجھنے پر موقوف ہے تو پھر اصول اجتہاد یعنی اصول فقہ بھی ختم کر دینے چاہیے کیونکہ اللہ نے دونوں کا نصاب قواعد عربیہ کو قرار دے دیا ہے۔

درایت تفسیری سے مراد [13]

 درایت تفسیری سے مراد ایسی درایت ہوتی ہے جو کلام کا معنیٰ مراد واضح کرے اور اس درایت کا تشریع و قانون مقرر کرنے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ حق تشریع صرف رب العالمین کا  حق ہے۔ہم جس درایت کی بات کر رہے ہیں اس کا تعلق شرعی نصوص کو سمجھنے کے ساتھ ہے اور اس بات میں تو ہم غیر صحابی کی درایت پہ بھی اعتماد کر لیتے ہیں صحابہ تو علماء و فقہاء کے سردار ہیں۔[14]

درایت اجتہادی کی اقسام[15]

درایت اجتہادی کی دو اقسام ہیں:

 پہلی قسم: ایسی درایت اجتہادی ہے جس کی بنیاد عربی لغت اور علوم عربیہ کا گہرا فہم  ہو ۔یعنی حضرت صحابہ کے نصوص سے ایسے گہرے استنباطات کہ جن کی بنیاد ان کی زبان دانی اور عربی لغت کا گہرا فہم ہے جیسے آیت مبارکہ  ﴿ وَّ امْرَاَتُهٗ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ۰۰۴﴾ سے زمانہ جاہلیت کے نکاحوں کی صحت پر استدلال کرنا ۔

دوسری قسم: ایسی درایت اجتہادی ہے کہ جس کی بنیاد صحابہ کا عربی لغت کا فہم یا زبان دانی نہیں بلکہ قیاس و استنباط  ہے یعنی فقہی احکام میں ایک نظیر کو دوسری سے ملا کر چیزوں پر حکم لگانا، جیسے چنڈو  [16]وغیرہ کو شراب پہ قیاس کر کے حرام قرار دینا ۔

علماء کا جس درایت میں اختلاف ہے وہ ثانی قسم ہونی چاہیے اور اول قسم بالاتفاق مقبول ہونی چاہیے کیونکہ اس میں اہل زبان ہونے کا بہت سا دخل ہے اور سماع  عن النبی کا بھی احتمال ہے۔[17]

گویا سلف کی درایت اجتہادی کے باب میں حضرات صحابہ کے  قیاس و اجتہاد سے تو اختلاف کی گنجائش ہے اور اس باب میں آئمہ اور اہل علم کا اس کی حجیت میں اختلاف بھی ، بعض اہل علم صحابہ کے اجتہاد و قیاس کو حجت مانتے ہیں اور بعض نہیں مانتے، لیکن  صحابہ کے ایسے گہرے استنباطات کہ جن کی بنیاد عربی لغت کا فہم اور زبان دانی ہےان کے حجت ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے اور اسی کا نام درایت تفسیری ہے۔

علامہ رازی  ﷫ کے قول سے استدلال کی حقیقت

حضرت امرتسری  ﷫ نےعلامہ  رازیؒ  کے قول سے بھی استدلال کیا کہ وہ  بھی تفسیر قرآن کے لیے قواعد عربیہ کو  کافی سمجھتے ہیں، تفسیر قرآن میں اقوال ِصحابہ کو حجت نہیں سمجھتے تھے ،  علامہ رازیؒ   فرماتے ہیں:

من تكلم في القران من غير ان يكون متبحرا في علم الاصول وفي علم اللغة والنحو كان في غاية البعدعن الله .[18]

’’جب کوئی شخص علم اصول، علم لغت اور علم نحو میں پوری واقفیت حاصل کیے بغیر تفسیر قرآن کے باب میں  کلام کرے گا تو وہ اللہ تعالی سے نہایت دور ہو جائے گا۔‘‘

 محدث روپڑی  ﷫ نے  جواب دیتے ہوئے فرمایا: ہمیں اس بات کو ماننے میں کوئی تامل نہیں کہ جو شخص قواعد عربیہ میں مہارت کے بغیر قرآن کی تفسیر کرے گا تو  اس کی تفسیر تفسیر بالرائے کہلائے گی اور یہی امام رازی  ﷫ کے کلام کا مفہوم ہے۔علامہ رازی  ﷫ کے کلام سے یہ نتیجہ کسی صورت  نہیں نکالا جا سکتا کہ جو شخص علوم عربیہ میں ماہر ہو اس کی ایسی تفسیر جس کی بنیاد علوم عربیہ پہ ہو وہ  تفسیر بالرائے نہیں اور وہ لازما  قبول کی جائے گی  ۔

درست بات یہ ہے کہ جو شخص علوم عربیہ میں ماہر بھی ہو تو اگر وہ ایسی تفسیر کرے جو سلف کی تفسیر کے خلاف ہو تو وہ تفسیر مردود اور تفسیر بالرائے  کی مذموم صورت ہی شمار ہوگی۔ اس کے بعد محدث روپڑی  ﷫ نے تفسیر صحابہ کے حجیت پہ  علامہ رازی  ﷫ کا یہ قول نقل کیا ہے :

واثر الصحابي في تفسير كلام الله حجة.[19]

 ’’صحابی کا اثر قرآن کریم کی تفسیر میں حجت ہے۔‘‘

 گویا علامہ رازی  ﷫ بھی تفسیر سلف کی حجیت کے قائل ہیں۔

تفسیر قرآن میں اشعار  عرب کی اہمیت

مفسرین مختلف آیات کی تفسیر میں شعرائے عرب کے اشعار کو بطور استشہاد پیش کرتے ہیں تو ان اشعار کی کیا حیثیت ہے؟ محدث روپڑی  ﷫ نے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

’’رہا اشعار عرب کا تفاسیر میں مذکور ہونا تو یہ ہمارے مطلب کو مضر نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ تفسیر صحابہ کے خلاف تفسیر نہ کریں اگر بطور تائید یا بعض اقوال کو بعض پر ترجیح دینے کی غرض سے اشعارِ عرب ذکر کیے جائیں تو اس سے کس کو انکار ہے؟یا کوئی مسئلہ استخراج کر کے اس پہ محاورہ عرب سے استشہاد کیا جائے۔‘‘ [20]

کیا علوم عربیہ غیر ضروری ہیں؟

حضرت امرتسری  ﷫ نے تفسیر سلف کی حجیت میں ایک اور اشکال پیش کیا کہ جو لوگ فہم سلف کی اہمیت پہ زور دیتے ہیں ان کے نزدیک صرف و نحو، بلاغت اور ادب جیسے علوم عربیہ کی مفسر کو کوئی حاجت نہیں۔ گویا مفسرکو  اقوال سلف کے مصادر کا علم ہو تو مصادر سے محض اقوال نقل کر دے تو وہ تفسیر قرآن کا اہل شمار ہوگا اور اس کا قرآن کا مفسر ہونا درست ہوگا۔

محدث روپڑی  ﷫ نے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

  • سلف کا تفسیر قرآن میں جہاں اختلاف ہے اس اختلاف کو حل کرنے اور اقوال سلف میں سے راجح قول کو پہچاننے کے لیے قواعد عربیہ ضروری ہیں ان قواعد کی روشنی میں انسان اقوال سلف میں سے راجح قول پہچان سکتا ہے۔
  • قرآن کہ بہت سارے مقامات ایسے ہیں جہاں سلف کی تفسیر نہیں ملتی تو ایسی صورت میں ان مقامات کی تفسیر انہی قواعد عربیہ کی روشنی میں کی جائے گی۔
  • بذات خود اقوال سلف کو سمجھنے کے لیے بھی قواعد سلف کی ضرورت ہوتی ہے۔

گویا محدث روپڑی  ﷫ نے یہ واضح کیا کہ فہم سلف کی حجیت کا یہ مطلب نہیں کہ علوم عربیہ سے بےاعتنائی برتی جائے بلکہ درست تفسیر کرنے اور تفسیر کے باب میں ٹھوکر کھانے سے بچنے کے لیے علوم عربیہ بھی ضروری ہیں۔

کیا تفسیر قرآن میں اختلاف بہت زیادہ ہے؟

بعض حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ سلف کی تفسیر اگر آپ کے نزدیک حجت ہے تو اس میں اس قدر اختلاف کیوں ہے؟ حضرت امرتسری  ﷫ بھی اس باب میں اس مغالطے  کا شکار ہو گئے۔

محدث روپڑی  ﷫ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا : تفسیر سلف میں موجود اختلاف باقی علوم و فنون کی جزئیات میں موجود اختلاف کی  بنسبت بہت کم ہے  مثلا اصولیوں کا تو اجماع کی حجیت ، اس کےقطعی یاظنی ہونے اور اجماع سے متعلقہ دیگر امور میں بہت اختلاف ہے ۔اسی طرح قیاس میں بھی اصولیوں کا بہت اختلاف ہے جسے  حضرت امرتسری  ﷫ بھی اپنے رسالے اجتہاد و تقلید میں ذکر کر چکے ہیں۔پھر عام کے مجمل ہونے نہ ہونے اور اس کی دلالت کے قطعی اور ظنی ہونے کے مسئلے میں بھی اصولیوں کا شدید اختلاف ہے۔

جب ان تمام اختلافات کے باوجود ان علوم و فنون کو قبول کیا جاتا ہے یعنی دلائل کے روح سے جو قول قوی ہو اسے قبول کر لیا جاتا ہے۔ تو اس منہج کو تفسیر قرآن میں موجود اقوال سلف کے اختلاف کے باب میں اپنانے میں کیا حرج ہے؟  یعنی کسی آیت کی تفسیر میں سلف میں اختلاف ہوتو قوی  قول کو  اختیار کر لیا جائے اور اگر کسی آیت مبارکہ کی تفسیر پہ سلف کا اتفاق ہو تو اس سے انحراف نہ کیا جائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  ﷫ نے اپنی کتاب’’ المقدمة فی اصول التفسیر‘‘  میں اس بات کو بڑی عمدگی سے نکھارا ہے کہ لوگ اس غلطی کا شکار ہیں کہ سلف کی تفسیر میں چونکہ بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے لہذا اس کی حجیت مشکوک ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  ﷫ کے بقول سلف صالحین کا تفسیر قرآن کے باب میں حقیقی اختلاف بہت کم ہے اور جو اختلاف بظاہر نظر آتا ہے اس کا اکثر حصہ اختلاف تنوع ہے۔وہ فرماتے ہیں :

الخلاف بين السلف في التفسير قليل، وخلافهم في الأحكام أكثر من خلافهم في التفسير، وغالب ما يصح عنهم من الخلاف يرجع إلى اختلاف تنوع لا اختلاف تضاد وذلك صنفان'.[21]

’’سلف کا تفسیر کے باب میں اختلاف تھوڑا ہے اور احکام کے باب میں ان  کا اختلاف تفسیر  کی نسبت زیادہ ہے۔تفسیر کے باب میں سلف کا جو اختلاف صحیح سند سے ثابت  ہے اس کا اکثر حصہ  اختلاف تنوع سے تعلق رکھتاہے نہ کہ اختلاف تضاد سے اور  اختلاف تنوع  کی بھی دو قسمیں ہیں:

اختلاف تنوع سے مراد ایسا اختلاف ہے جو بظاہر دیکھنے میں محسوس ہو لیکن حقیقت میں اس امیں ایسی جمع وتطبیق ممکن ہو کہ جس کے نتیجے میں وہ اختلاف رفع ہوجائے۔  جبکہ اختلاف تضاد حقیقی  اختلاف  کو کہتے ہیں

امام صاحب نے  اختلاف تنوع کی دو نوں صورتوں کو بیان کیا ہے:

  • پہلی صورت یہ ہے کہ سلف میں سے ہر امام کی عبارت کا مسمی تو ایک ہو مگر ہر امام کی عبارت مسمی کے علاوہ کسی خاص ایسے معنیٰ پہ دلالت کرے جس  معنیٰ پہ دوسرے امام کی عبارت دلالت نہ کرے جیسے تلوار کے مختلف نام ہیں السيف، الصارم ،المهند ،وغيره۔یہ سب نام تلوارپہ بھی دلالت کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ا ن میں سے ہر نام  تلوار کے کسی ایسے اضافی وصف پہ بھی دلالت کر رہا ہے جس پہ دوسرا نام دلالت نہیں کر رہا ۔
  • ایک کلی کی مختلف جزئیات ہوں اور سلف میں سے مختلف ائمہ ایک جزئی بیان کریں جیسے قرآن میں لفظ ﴿ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ﴾ہے اس کی مختلف جزئیات ہیں نماز کے باب میں نماز کو وقت سے موخر کرنے والا، تجارت کے باب میں حرام کمانے والا، روزے کے باب میں روزہ نہ رکھنے والا۔اسی طرح﴿ سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ ﴾ کے مختلف جزئیات ہیں۔ فرض کے علاوہ نوافل پڑھنے والا ،حلال کمانے کے علاوہ صدقہ کرنے والا اور فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے رکھنے والا اب سلف میں سے کوئی ایک تفسیر کر دے اور دوسرا دوسری تو یہ اختلاف تنوع ہے نہ کہ اختلاف تضاد ۔

حقیقت یہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ  ﷫ کا اختلاف تنوع اور اختلاف تضاد اور پھر اختلاف  تنوع کی اقسام کے حوالے سے یہ کلام نہایت قیمتی ہے اس کلام کی  درست تفہیم سے یہ اشکال بالکل ہی زائل ہو جاتا ہے کہ سلف کا تفسیر قرآن کے باب میں بہت اختلاف تھا ۔

ایک اہم نکتہ

محدث روپڑی  ﷫ نے تفسیر سلف میں اختلاف کم ہونے کی ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ حضرت امرتسر ی  (﷫ ) کو بھی ہم سے اتفاق ہے کہ قرآن کریم دیوان عرب کے موافق اترا ہے اور دیوان عرب میں بہت کم اختلاف ہے یعنی  اکثر اشعار کے معنیٰ میں اتفاق ہےلہذا قرآن میں اختلاف کی کثرت ہونا ناممکن ہے۔

ایک اشکال اور اس کا جواب

 کسی بھی فن، متن یا کتاب کو سمجھنا ہو تو جس زبان میں وہ کتاب یا متن ہے اس سے متعلقہ علوم میں گہری دسترس رکھنے سے انسان اس کتاب یا متن کی شرح کر سکتا ہے ۔ یہی اصول قرآن مجید کی تفسیر میں بھی لاگو ہوگا لہذا علوم عربیہ کا قرآن کی تفسیر میں کافی اور معتبر ہونا ایک بدیہی امر ہے۔

محدث روپڑی  ﷫ نےاس کاجواب دیتے ہوئے فرمایا: امام ابو حنیفہ  ﷫ ، امام شافعی  ﷫ اور دیگر ائمہ کے اقوال کی وہی تشریح معتبر ہوگی جو ان کے شاگردوں نے کی ، اسی طرح  قرآن کی وہی تشریح معتبر ہے جو رسول اللہ ﷺ کے شاگردوں یعنی صحابہ کرام نے کی۔ ہم انگریزی زبان جان کر انگریزی کی کسی کتاب کی تشریح کریں اور انگریز ہماری اس تشریح کو غلط قرار دیں  تو ہماری شرح مردود ہوگی، اسی طرح صحابہ بھی اہل زبان ہیں تو قواعد عربیہ کی مدد سے ہماری وہ تفسیر جو تفسیرصحابہ  کے خلاف ہو وہ بھی مردود ہوگی۔

احداث القول الجدید

اگر تفسیر قرآن میں سلف متفق ہوں تو نیا قول ایجاد کرنا یا سلف کا دو اقوال میں اختلاف ہو تو ان دونوں اقوال کو نظر انداز کر کے ایک نیا قول ایجاد کرنا احداث القول الجدید کہلاتا ہے۔حضرت امرتسری  ﷫ سے اس باب میں تسامح ہوا اور انہوں نے یہ دعوی کیا کہ مفسرین کے ہاں اس قدر آزادی ہے کہ بعض اوقات وہ تمام ائمہ متقدمین کے موقف کے مقابلے میں کسی متاخر کے قول کو ترجیح دے دیتے ہیں۔

 محدث روپڑی  ﷫ نے فرمایا:  کہ یہ دعوی بلا دلیل ہے لہذا اس کو قبول نہیں کیا جائے گا حقیقت تو یہ ہے کہ درست تفسیری منہج کا تقاضا ہی یہ ہے کہ صحابہ و تابعین کی تفسیر کو محقق اپنے اجتہاد یا کسی متاخر کے قول سے رد نہ کرے ۔لہٰذا  تفسیر القرآن کے باب میں احداث القول الجدید درست نہیں اسی لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ  ﷫ فرماتے ہیں :

إذا لم نجد التفسير في القرآن ولا في السنة رجعنا في ذلك إلى أقوال الصحابة، فإنهم أدرى بذلك لما شاهدوه من القرآن، والأحوال التي اختصوا بها، ولما لهم من الفهم التام، والعلم الصحيح، والعمل الصالح.[22]

جب ہم کسی آیت کی تفسیر قرآن و سنت میں نہیں پائیں گے تو ہم اس کی تفسیر کے لیے اقوال صحابہ کی طرف رجوع کریں گے کیونکہ وہ اپنے مخصوص احوال، نزول قرآن کے مشاہد ے ، فہم تام ،علم صحیح اور عمل صالح کی وجہ سے اس کی تفسیر کو زیادہ جاننے والے ہیں۔‘‘

حجت ہونے سے مراد

تفسیر قرآن میں فہم سلف کی حجیت کے منکرین ایک شبہ یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر تفسیر قرآن میں فہم سلف حجت ہے تو اس کا لازمی تقاضہ ہے کہ ہر صحابی یا تابعی کے قول پہ عمل کیا جائے کیونکہ حجت کو ترک کرنا جائز نہیں۔

محدث روپڑی  ﷫ نے اس کا جواب  دیتے ہوئے فرمایا:کہ یہ اعتراض ہمارا مدعا  نہ سمجھنے  کا نتیجہ ہے۔ کسی چیز کے  حجت ہونے کا یہ مطلب ہرگز  نہیں ہوتا کہ آپ اس سے کسی صورت بھی اختلاف نہیں کر سکتے یا آپ اسے کسی صورت بھی ترک نہیں کر سکتے، بلکہ جو چیز حجت ہو اس کے مقابلے میں اس سے قوی چیز بھی  حجت  موجود ہو اور دونوں کے درمیان جمع و تطبیق بھی ممکن نہ ہو تو قوی حجت کی وجہ سے اس سے کمزور حجت کو ترک کر دیا جائے گا ۔چنانچہ اگر صحابی کے قول کے مقابلے میں کوئی مرفوع حدیث ہو اور دونوں کے درمیان جمع و تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں قول صحابی کو چھوڑدیا جائے گا۔

اسی طرح صحابہ کا آپس میں اختلاف ہو جائے اور جمع و تطبیق کے ناممکن ہونے کی صورت میں اسی قول کو ترجیح دی جائے گی جس کو دیگر دلائل و قرائن سے تقویت حاصل ہو اور اگر کسی قول کو بھی تقویت حاصل نہ ہو تو ''اذا تعارضا تساقطا ''پہ عمل کریں گے لیکن اقوال سلف کو ان صورتوں میں ترک کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اقوال فی نفسہ حجت نہیں ہیں  اقوال صحابہ تو دور رہے بعض اوقات مرفوع حدیث میں سے بھی ایک  کو دوسرے پہ مقدم کر دیا جاتا ہے جیسے قولی حدیث کو فعلی حدیث پہ مقدم کیا جاتا ہے اور مثبت کو نافی پہ۔

اجماع اور تفسیر سلف میں فرق :رسالہ جتہاد و تقلید کی فصل ہفتم میں حضرت امرتسری  ﷫ نے حجت اجماع کے حوالے سے گفتگو کی ہے اور یہ باور کروایا ہے کہ اجماع کی حجیت کا قول مرجوح ہے اور اس حوالے سے زیادہ تر علامہ شوکانی  ﷫ کے اقوال سے مدد لی ہے۔ علامہ شوکانی  ﷫ کی اصول فقہ میں مشہور کتاب
’’ارشاد الفحول ‘‘ہےجس کا خلا صہ نواب صدیق حسن خان  ﷫ نے’’ حصول المامول من العلم الاصول ‘‘ کے نام سے کیا ہے ۔ان دونوں حضرات کا موقف ہے کہ اجماع حجت شرعی نہیں اور حضرت امرتسری  ﷫ نے بھی رسالہ ’’اجتہاد و تقلید ‘‘ کی فصل ہفتم میں اسی رائے کو اپنایا ہے۔ محدث روپڑی  ﷫ فرماتے ہیں کہ غالبا ًاجماع کی حجیت کے انکار سے اصل مقصد یہ ہے کہ جب سلف کا کسی حکم شرعی پہ اجماع ہی حجت نہیں تو سلف کی قرآنی آیات کی تفسیر کی حجیت بھی خود بخود ختم یا کم از کم مشکوک ہو جائے گی ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اجماع کی حجت شرعیہ ہونے کی بحث کا تفسیر سلف کی حجیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔

جس اجماع  کی حجیت کا انکار اہل سنت کے بعض بزرگوں مثلا علامہ شوکانی اور نواب صاحب نے کیا ہے اس سے مراد اصطلاحی اجماع یعنی  حکم شرعی پہ اجماع ہے اور اس کی تعریف مسلم الثبوت میں ان الفاظ سے کی ہے:

الإجماع اتفاق المجتهدین من هٰذه الامة  فی عصر علی أمر شرعی[23]

’’اجماع سے مراد ہے کہ کسی زمانے میں امت مسلمہ کے مجتہدین  کا کسی حکم شرعی پہ اتفاق کر لینا۔ ‘‘

اس اجماع کا بعض بزرگوں نے انکار کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ  اس اجماع کی بنیاد درایت اجتہادی ہے جو کہ از قبیل شرع ہے اور شارع صرف اللہ تعالی ہے۔ جب شارع صرف اللہ تعالی ہے تو  امت کے مجتہدین کا یہ مقام نہیں ہے کہ وہ حکم شرعی کی تعین کر سکیں چاہے ان کا اتفاق ہی کیوں نا ہو۔  دوسری طرف یہ سارے بزرگ ہی تفسیر سلف کی حجیت کے قائل ہیں اور اسے اجماع کی حجیت سے ہٹ کر ایک علیحدہ علمی قضیے کی حیثیت دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تفسیر سلف سے مراد سلف کی وہ تفسیر ہے  جو انہوں نے قرآن کے معنیٰ کی  تفہیم کے غرض سے بیان کی ہے اور جس کا منشاءو مقصد مراد الٰہی کو واضح کرنا ہے نا کہ حکم شرعی کو بیان کرنا ۔چنانچہ جب تفسیر کا مقصد تو صرف مراد الٰہی  کو واضح کرنا ہے تو ایسی صورت میں سلف کی تفسیر کی حجیت پہ وہ اعتراض وارد نہیں ہوتا جو مجتہدین کے اجماع کی حجیت پہ ہوتا ہے کہ اجماع شریعت سازی ہے ۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ علامہ شوکانی  ﷫ جو کہ  اجماع کی حجیت کے قائل نہیں  وہی فرماتے ہیں کہ  اگر صحابی کی تفسیر مشہور اور شائع تفسیر کے خلاف نا ہو تو ہم پہ حجت ہے ۔اور  اگر مشہور اور شائع تفسیر کے خلاف ہو تو ہم پہ حجت نہیں[24]۔ اور نواب صاحب  ﷫ فرماتے ہیں جب کوئی قرآن مجید کی تفسیر کرے تو حتی الامکان اولاً وہ قرآن مجید ہی سے کرے، پھر سنت مطہرہ  سےپھر قول صحابی سے اور پھر اجماع تابعین سے [25]۔

 

[1]     فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ، لاہور

[2]     درایت تفسیری از محدث روپڑی : 20 ناشر محدث روپڑی اکیڈمی، لاہور

[3]               درایت تفسیری : 24

[4]               درایت تفسیری : 23

[5]              مقدمه اصول تفسیر لابن تیمیه: 3

[6]               شرح مقدمة التفسير لصالح آل الشيخ :   35

[7]                درایت تفسیری : ۸۷

[8]               الصواعق المرسلة في الرد على الجهمية والمعطلة :2/ 645، الطبعة: الأولى، 1408هـ،دار

العاصمة.

[9]               درایت تفسیری: 82

[10]              درایت تفسیری: 108

[11]             رسالہ اجتہاد و تقلید : 55

[12]             درایت تفسیری: 113

[13]             درایت  تفسیری کی تعریف  صفحہ : 4 پر گزر چکی ہے ۔

[14]             درایت تفسیری: 113

[15]             درایت اجتہادی کی تعریف  صفحہ : 4 پر گزر چکی ہے ۔

[16]             ایک قسم کی نشہ آور چیز جو افیون کو پانی میں پکا کر بنائی جاتی ہے ۔

[17]             درایت تفسیری: 109، 110

[18]             تفسير  الرازی:3/148

[19]             تفسيرالرازی  :6/ 426

[20]             درایت تفسیری :124

[21]             مقدمة في أصول التفسير لابن تيمية: 11

[22]             مقدمہ اصول تفسیر :

[23]              ألتلويح على التوضيح :2/81 ،دار الكتب العلمية

[24]   درایت تفسیری 147

[25]   درایت تفسیری 147