مولانا اصلاحی کا دینی اصطلاحات کے معانی بدلنا
مولانا اصلاحی کا دینی اصطلاحات کے معانی بدلنا
پروفیسر محمد رفیق
صاحبِ ’تدبر قرآنٗ کےخود ساختہ منہج میں ایک بہت بڑا نقص اور گمراہی یہ پائی جاتی ہے کہ وہ صدیوں چلی آتی دینی اصطلاحات کے بالمقامل اپنی اصطلاحات ایجاد کرتے ہیں بلکہ دین کی بنیادی اصطلاحات اور ان کے جو معانی امت کے ہاں صدیوں سے معروف ہیں انہیں بدل کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ اور یہ بھی تعجب ہے کہ وہ ایک طرف قرآنی اور دینی معروف اصطلاحات کے معنی تبدیل کرنے کی وجہ سے منکرین حدیث پر برستے ہیں، ملاحظہ فرمائیں :
’’ جہاں تک قرآن مجید کی اصطلاحات کا تعلق ہے ، مثلاً صلوٰۃ ، زکوۃ ، صوم، حج ، عمرہ ، قربانی ، مسجد حرام، صفا مروہ ، سعی ، طواف وغیرہ ، ان کی تفسیر میں نے سوفی صد سنت متواترہ کی روشنی میں کی ہے اس لیے کہ قرآن مجید اور شریعت کی اصطلاحات کا مفہوم بیان کرنے کا حق صرف صاحبِ وحی محمد رسول الله ﷺ ہی کو ہے ۔ آپ جس طرح اس کتاب کے لانے والے تھے اسی طرح اس کے معلم اور مبیّن بھی تھے۔ اور یہ تعلیم و تبیین آپ کے فریضۂ رسالت ہی کا ایک حصہ تھی... منکرین حدیث کی یہ جسارت کہ وہ صوم و صلوۃ، حج و زکٰوۃ اورعمرہ و قربانی کا مفہوم بھی اپنے جی سے بیان کرتے ہیں اور امت کے تواتر نے ان کی جو شکل ہم تک منتقل کی ہے اس میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق ترمیم و تغیر کرنا چاہتے ہیں ، صریحاً خود قرآن مجید کے انکار کے مترادف ہے اس لیے کہ جس تواتر نے ہم تک قرآن کو منتقل کیا ہے اسی تواتر نے ان اصطلاحات کی عملی صورتوں کو بھی ہم تک منتقل کیا ہے ۔ اگر وہ ان کو نہیں مانتے تو پھر خود قرآن کو ماننے کے لیے بھی کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی۔
اصطلاحات کے معاملے میں تنہا لغت پر اعتماد بھی ایک بالکل غلط چیز ہے۔ صوم و صلوٰۃ کا لغت میں جو مفہوم بھی ہو لیکن دین میں ان کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جو شارع نے واضح فرمایا ہے ‘‘[1]۔
منکرین حدیث پر تنقید کرنے والوں کو اپنے افکار کی توضیح کے لیے جب ضرورت پڑی تو انہوں نے بھی بلا جھجک وہی عمل دھرایا جس پر وہ منکرین حدیث کو مورد الزام ٹھہرایا تھا کہ انہوں نے اسلام کی بنیادی اصطلاحات کے معنی و مفہوم کو بدل ڈالا ، اس طرح خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ ان کے اس تضاد کی چند مثالیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں:
1۔’’قرآن ‘‘ کی اصطلاح کو بدلنا
اہل علم جانتے ہیں کہ قرآن ایک خاص کتاب ہےجو محمد ﷺ کے قلب اطہر پر جبریل امین کے ذریعے نازل کی گئی ہے ۔ تمام علما ءکرام نے بالاتفاق قرآن مجید کی یہ تعریف کی ہے ۔محمد بن محمد بن سويلم أبو شہبہ ( تعريف القرآن؛عند الأصوليين والفقهاء، وأهل العربية’’علماء اصول ، فقہاء اور علماء لغت عرب کے ہاں قرآن کی تعریف‘‘) کے عنوان کے تحت قرآن کی تعریف کرتے ہیں:
هو كلام الله المنزل على نبيه «محمد» صلى الله عليه وسلم المعجز بلفظه، المتعبد بتلاوته المنقول بالتواتر، المكتوب في المصاحف، من أول سورة «الفاتحة» إلى آخر سورة «الناس»[2].
’’ قرآن ؛اللہ تعالیٰ کا وہ کلام جو اللہ کے نبی محمد ﷺ پر نازل ہوا ، لفظی اعتبار سے معجزہ ہے، اس کی تلاوت عبادت ہے ، تواتر سے منقول ہے، مصاحب میں لکھا ہوا ہے ، جو سورۃ الفاتحہ سے سورۃ الناس تک ہے ‘‘۔
تمام علماء کرام نے بالاتفاق یہی تعریف کی ہے ، کسی بھی عالم نے اس کی مخالفت نہیں کی [3]۔
’’القرآن‘‘ کا لفظ قرآن میں اٹھاون(58) مرتبہ آیا ہے اور ہر جگہ اس سے مراد قرآن ہی ہے ، مثلاً
- ہر جگہ یہ لام تعریف کے ساتھ اسم علَم کے طور پر آیا ہے۔ مثلاً
﴿ يٰسٓۚ۰۰۱ وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِۙ۰۰۲﴾ ]يٰسٓ:1-2 [
’’یاسین ۔قسم ہے قرآن حکیم کی۔‘‘
- جہاں یہ لفظ نکرہ کے طور پر بھی آیا ہے وہاں بھی اس سے مراد قرآن مجید ہی ہے۔مثلاً
﴿وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا۰۰۱۰۶﴾ ]بنی اسرائیل:106[
’’اور قرآن کو تو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے اس لیے اتارا کہ تم اس کو لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سناؤ اور ہم اس کو نہایت اہتمام سے اتارا ہے۔‘‘
- بعض مقامات پر دوسری کتابوں کے مقابلے میں قرآن کو پیش کیا ہے ۔
﴿اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ عَلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اَكْثَرَ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۰۰۷۶﴾ [النمل: 76]
’’بلا شبہ یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے وہ چیزیں پیش کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔‘‘
- اکثر مقامات پر قرآن کی نسبت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف کی گئی ہے :
﴿وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا۰۰۳۲ ﴾ [الفرقان: 32]
﴿وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ۰۰۶﴾ [النمل: 6]
﴿اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ﴾ [القصص: 85]
﴿وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ۰۰۳۱﴾ [الزخرف: 31]
﴿ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ۰۰۴ اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا۰۰۵﴾ [المزمل: 4، 5]
﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًاۚ۰۰۲۳﴾ [الإنسان: 23]
﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۰۰۲﴾ [يوسف: 2]
﴿وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا ﴾ [الشورى: 7]
﴿اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ۰۰۳﴾ [الزخرف: 3]
﴿نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُۙ ۰۰۱۹۳ عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۰۰۱۹۴﴾[الشعراء: 193۔194]
’’اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے آپ کے دل پر اُترا ہے کہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘
- قرآن کا لفظ تورات اور انجیل کی طرح ایک الگ نام اور اسم علَم کی حیثیت سے بھی استعمال ہوا ہے جیسے:
﴿وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ وَ الْقُرْاٰنِ ﴾ [التوبة:9/111]
’’یہ اللہ کے ذمہ ایک سچا وعدہ ہے تورات ، انجیل اور قرآن میں ‘‘
﴿نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَۙ۰۰۳﴾
[آل عمران: 3]
- اللہ تعالیٰ نے چاروں بڑی کتابوں کو الگ الگ نام دیئے ہیں؛ تورات ، زبور ، انجیل اور قرآن ۔ کہیں بھی قرآن بول کر سابقہ کتب مراد نہیں لی گئیں ہیں نہ تورات، زبو ر یا انجیل کا لفظ قرآن کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔
قرآن کی اس اظہر من الشمس حقیقت اور واضح اصطلاح کے باوجود صاحبِ ’ تدبرِقرآن‘ لفظ ’’القرآن‘‘ سے توریت مراد لیتے ہیں او راسے ’’نیا قرآن‘‘ اور توریت کو پرانا قرآن قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سورہ الحجر کی آیات 90۔91 کے ترجمہ اور تفسیر میں اپنے اس موقف کو واضح کیا ہے ، ملاحظہ فرمائیں :
﴿كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِيْنَۙ۰۰۹۰الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ۰۰۹۱﴾ ]الحجر :90۔91[
پہلے تو یہ ترجمہ کیا ہےکہ:
’’اسی طرح ہم نے ان تقسیم کر لینے والوں پر بھی اتارا تھا جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیے‘‘۔
اور پھر اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ:
’’اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت 87 سے ہے یعنی پوری بات یوں ہے کہ ہم نے تمہیں سبع مثانی اور قرآن عظیم اسی طرح عطا کیا ہے جس طرح ان لوگوں پر اپنا کلام اتارا تھا جنہوں نے اس کے حصے بخرے کر کے اپنے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیے۔ یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لیے اپنےقرآن یعنی تورات کی ترتیب بھی بدل ڈالی اور اس کو مختلف اجزاء میں تقسیم کر کے اس کے بعض کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے تھے۔سورۃ انعام آیت 92 میں ان کی اس شرارت کا ذکر گزر چکا ہے۔دوسرے آسمانی صحیفوں کے لیے لفظ قرآن کے استعمال کی نظیر خود قرآن میں موجود ہے ملاحظہ ہو سورة الرعد کی آیت 31۔
اس آیت میں ضمناً یہود کے اس اعتراض کا جواب بھی آ گیا کہ تورات کے بعد اب کسی نئے قرآن کی ضرورت کیا باقی رہی؟ جواب یہ ہے کہ اول تو وہ قرآن اپنی اصلی صورت میں باقی کہاں رہا جس پر ان کو ناز ہے، اس کے تو انہوں نے حصے بخرے کر ڈالے اور اگر وہ اپنی صحیح صورت میں باقی رہتا تو خود اسی سے اس نئے قرآن کی ضرورت کا ثبوت مل جاتا ہے۔[4] ‘‘
باقی رہا صاحبِ ’تدبر قرآن ‘ کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن نے سورۃ الرعد میں آسمانی صحیفوں کو بھی قرآن کہا ہے تو یہ بالکل بے بنیاد اور غلط ہے اور تفسیر بالرائے مذموم کی بد ترین صورت ہے ، وہ آیت یہ ہے۔
﴿وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا﴾ ]الرعد:31[
’’اور اگر کوئی ایسا قرآن بھی اترتا جس سے پہاڑ حرکت میں آ جاتے، یا زمین پاش پاش ہو جاتی، یا مُردے بولنے لگ جاتے تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ بلکہ سارا اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے‘‘۔
حالاں کہ اس آیت میں بھی ’قرآن‘ کے لفظ سے قرآن مجید ہی مراد ہے اور اس امر کی تصدیق کسی بھی تفسیر کی کتاب کو دیکھ کر کی جا سکتی ہے۔ اس سے توریت یا کوئی دوسرا آسمانی صحیفہ مراد نہیں ہے۔
غور کیجیئے بیچارے منکرین حدیث تو قرآن میں موجود چند اصطلاحات ہی کا مفہوم تبدیل کرنے پر مورد الزام ٹھہرائے گئے مگر خود صاحبِ ’تدبر قرآن‘ نے تو قرآن ہی کی اصطلاح کو بدل کر رکھ دیا ہے۔فیما للعجب!
2۔سنت کے اصطلاحی مفہوم کو بدلنا
’’صاحب تدبر قرآن ‘‘نے سنت کی اصطلاحی تعریف اور اس کے مفہوم کو بھی بدل ڈالا ہے۔
اصولیین اور فقہاء کے نزدیک سنت کی اصطلاح سے مراد ہے:
اما السنة فهي اقوال النبي صلى الله عليه وسلم وافعاله وتقريراته وصفاته[5].
’’سنت سے مراد ہیں نبی ﷺ کے اقوال ،افعال، آپﷺ کی تقریرات (خاموش تائیدات) اور آپﷺ کی صفات ہیں‘‘۔
مگر صاحبِ ’تدبر قرآن ‘نے ’سنت‘ کی اس معروف اور مسلمہ دینی اصطلاح کو اس طرح بدل ڈالا کہ پہلے انہوں نے سنت کی دو قسمیں بنائیں ۔ایک قسم کو ’سنت متواترہ ومشہورہ‘ کا نام دیا اور دوسری قسم کو ’احادیث‘ یا ’اخبار آحاد‘ قرار دیا۔ پھر پہلی قسم کو قطعی حجت اور واجب العمل قرار دیا اور دوسری قسم کو ظنی مشکوک اور ناقابل اعتبار قرار دے کر رد کر دیا۔
یہ ساری کاروائی اور انکار حدیث وہ ایسی فنکارانہ لفاظی ، مغالطے اور دجل وفریب کے ساتھ انجام دیتے ہیں کہ وہ اپنے عام قاری کو اس حرکت کا قطعاً احساس تک نہیں ہونے دیتے۔
چنانچہ انہوں نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ :
’’(1) جہاں تک قرآن مجید کی اصطلاحات کا تعلق ہے، مثلاً صلوٰۃ ، زکوٰۃ ، صوم، حج، عمرہ، قربانی ، مسجد حرام، صفا مروہ، سعی طواف وغیرہ، ان کی تفسیر میں نے سو فیصد سنت متواترہ کی روشنی میں کی ہے...اور یہ سنت متواترہ بعینہ انہی قطعی ذرائع سے ثابت ہے جن سے قرآن ثابت ہے۔ امت کے جس تواتر نے قرآن کریم کو ہم تک منتقل کیا ہے اسی تواتر نے دین کی تمام اصطلاحات کا عملی مفہوم بھی ہم تک منقل کیا ہے۔ اگر فرق ہے تو یہ فرق ہے کہ ایک چیز قولی تواتر سے منتقل ہوئی ہے دوسری چیز عملی تواتر سے۔ اس وجہ سے اگر قرآن مجید کو ماننا ہم پر واجب ہے تو اس ساری اصطلاحات کی اس عملی صورت کو ماننا بھی واجب ہے جو سلف سے خلف تک بالتواتر منتقل ہوئی ہیں‘‘[6]۔
اس کے بعد موصوف نے اپنے استاد مولانا فراہی کے مقدمہ تفسیر کا درج ذیل حوالہ دے کر اسے اپنا مسلک بھی قرار دیا ہے کہ:
’’پس جب ایسے اصطلاحی الفاظ کا معاملہ پیش آئے جن کی پوری حد و تصویر قرآن میں نہ بیان کی گئی ہو تو صحیح راہ یہ ہے کہ جتنے حصے پر تمام امت متفق ہیں اتنی پر قناعت کرو اور اخبار آحاد پر زیادہ اصرار نہ کرو ،اور نہ خود بھی شک میں پڑھو گے دوسروں کے اعمال کو بھی غلط ٹھہراؤ گے اور تمہارے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہوگی جو اس جھگڑے کا فیصلہ کر سکے‘‘[7]۔
یعنی انہوں نے دینی اصطلاحات کے معنی و مفہوم کا مأخذ امت کے تواتر عملی کو قرار دے دیا اور حدیث کو اس سے کلی طور پر خارج کردیا ۔حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ اسلامی شریعت کانوے( 90) فیصدسے زیادہ حصہ ’’اخبار آحاد‘‘ ہی پر مبنی ہے اور اس کے اکثر حصے پر تمام امت متفق بھی ہیں، بلکہ آج تک امت اپنے عمل کی بنیاد اسی حدیث پر رکھتی آئی ہے ، غلطی کی صورت میں اسی سے اصلاح کرتی ہے اورفکر و عمل میں اختلاف ہو جانے پر تمام فریق حدیث ہی کو دلیل بناتے اور اپنے مخالف پر بطور حجت پیش کرتے ہیں ۔ امت کی چودہ سو سالہ تاریخ اس پر گواہ ہے ۔
اگر امت کی چودہ صدیوں پر مشتمل علمی و عملی تواتر کے برعکس حدیث جسے وہ اخبار آحاد کانام دیتے ہیں کو ظنی، مشکوک اور ناقابل اعتبار ٹھہرا دیا جائے تو اسلامی شریعت کا تیاپانچہ ہو جاتا ہے اور یہی چیز انکار حدیث کہلاتی ہے۔مثال کے طور پر درج ذیل شرعی احکام کی بنیاد صرف اخبار آحاد پر ہےاور پوری امت ان سب احکام کو مانتی ہے مگر مولانا اصلاحی صاحب( اور ان کے استاد مولانا فراہی صاحب) ان مسلمہ شرعی امور کے منکر ہیں اور ان کو شریعت کا حصہ نہیں مانتے۔
- مردوں کے لیے ریشم اور سونے کا حرام ہونا
- پالتو گدھے کے گوشت کا حرام ہونا
- کتے کا گوشت حرام ہونا
- مرتد کے لیے سزائے قتل
- شادی شدہ زانی کے لیے حدِ رجم یعنی سنگساری کی سزا
- شراب، مردہ جانور اور بتوں کی تجارت کا حرام
- عورت کے لیے خاص ایام میں نماز نہ پڑھنا اور بعد میں ان کی قضا نہ کرنا۔
- شہید کی میت کو غسل نہ دینا اور ان کو کفن نہ پہنانا
- حیض کی حالت میں بیوی سے بوس وکنار کی اجازت ہونا
- قرآن پڑھنے کے دوران اس کے بعض مقامات پر سجدہ تلاوت کرنا
- سورۃ الفاتحہ پڑھنے کے بعد آمین کہنا
- مردہ مچھلی کا حلال ہونا
- وضو کرتے وقت موزوں پر مسح کرنا(مسح علی الخفین)
- کسی عورت اور اس کی پھوپھی یا خالہ کا بیک وقت کسی مرد کے نکاح میں ہونے کی حرمت
- قاتل شخص کا مقتول کی وراثت سے محروم ہونا
- وارث کے حق میں وصیت کا ناجائز ہونا
- ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنے کی ممانعت
- مسلمان اور کافر کا ایک دوسرے کے لیے وارث نہ ہونا
- شراب نوشی پر کوڑوں کی سزا
- مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ منورہ کا بھی حرم ہونا
- ذمی (غیر مسلم اقلیت) کے حقوق
- مریض کی عیادت کرنا۔
- نماز کسوف
- نماز استقساء
- عذاب قبر کا برحق ہونا۔
پھر یہ بھی واضح رہے کہ محدثین کی اصطلاح میں متواتر حدیث یا خبر متواتر سے مراد وہ حدیث ہے جس کے راوی ہر دور میں اتنے زیادہ رہے ہوں کہ عادتاً ان کا جھوٹ پر متفق ہو جانا ناممکن ہو۔
اسی طرح مشہور حدیث جو کہ آحاد ہی ہوتی ہے۔ یعنی خبر واحد سے مراد ایسی حدیث ہوتی ہے جس کے سلسلہ سند میں شروع سے آخر تک ہر دور میں راویوں کی تعداد دو سے زیادہ ہو۔ ایسی حدیث صحیح بھی ہو سکتی ہے، حسن بھی اور ضعیف بھی۔
مگر مولانا اصلاحی صاحب(اور ان کے استاد مولانا فراہی صاحب) متواتر اور مشہور حدیث کی مصطلحات کے معنی بدل کر خود بھی گمراہ ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کا ذریعہ بنے ہیں کہ انہوں نے ایک تو متواتر اور مشہور حدیث کو جو کہ الگ الگ اصطلاحات تھیں ایک ہی قسم قرار دے کر’’ امت کے عملی تواتر‘‘ کے ذریعے ان کو حجت اور معتبر مان لیا مگر اخبار آحاد سمیت باقی پورے ذخیرہ احادیث کو مشکوک اور ناقابل اعتبار قرار دے کر اپنے آپ کو منکرین حدیث کی صف میں شامل کر لیا ہے۔
3۔ اجماع کی تعریف کو بدلنا
صاحب تدبر قرآن نے معروف دینی اصطلاح ’’اجماع‘‘ کے معنی ومفہوم کو بھی بدلا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ اصولیین کے نزدیک اجماع کی اصطلاح تعریف یہ ہے:
الاجماع هو اتفاق مجتهدى امة محمد بعد وفاته فى عصر من العصور على حكم شرعي[8].
’’اجماع سے مراد حضرت محمدﷺ کی وفات کے بعد کسی خاص زمانے میں امت کے تمام مجتہدین کا کسی شرعی حکم پر متفق ہو جانا ہے‘‘۔
مگر دیکھ لیجیئے صاحب تدبر قرآن اس معروف دینی اصطلاح کے معنی ومفہوم کو کیسے بدلتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’ارباب حل وعقد یا ان کی اکثریت کا صاحب امر یعنی خلیفہ اور امام کی رہنمائی میں، کسی امر کے اوفق بالشریعت ہونے پر اتفاق کر لینا شریعت میں اجماع کہلاتا ہے جو رفع اختلاف کے لیے ایک منصوص طریقہ ہے اور اس کی مخالفت کسی کے لیے جائز نہیں ہے‘‘[9]۔
اس طرح انہوں نے ’’اجماع‘‘ کا مسلمہ شرعی اصطلاح کے مفہوم کو یوں بدلا اور بگاڑا ہے کہ :
- اجماع کے لیے صاحب امر کی رہنمائی کو ضروری قرار دیا ہے حالانکہ اجماع ایک شرعی مسئلہ ہے ، اگر اسے صاحب امر کے تابع کردیں گے تو کئی مفاسد پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔
- ارباب حل و عقد کی اکثریت کا کسی امر میں اتفاق کر لینا اجماع نہیں کہلاتا بلکہ اجماع کے لیے تمام مجتہدین اور فقہاء یعنی ماہرین شریعت کا اس امر میں متفق ہونا ضروری ہوتا ہے ، جبکہ ارباب حل و عقد کا شریعت کا ماہر ہونا ضروری نہیں ہے ۔ اور جو شریعت کے ماہر ہی نہیں ان کے اجماع کی شرعی حیثیت کیا ہوسکتی ہے ؟
- قاضی کے فیصلے کا تعلق رفع اختلاف سے ہوتا ہے ، جبکہ اجماع کا مقصد کسی پیش آمدہ عملی مسئلے کو متفقہ طور پر حل کرنا ہوتا ہے۔
امت کی چودہ سو سالہ علمی معرکہ آرائیوں اور روایات کو لات مارنے والے اصلاحی صاحب کی علمی اور فکری حالت یہ ہے کہ قاضی کے فیصلے اور مجتہدین کے اتفاق میں فرق نہیں کرسکے ۔ اسی لیے اجماع کی اصطلاح کے اصل مفہوم میں اور موصوف کی طرف سے وضع کیے گئے اجماع کے مفہوم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
[1] تدبر قرآن مقدمہ :1/29
[2] المدخل لدراسۃ القرآن الكريم : 21.
[3] ملاحظہ ہو : البرهان فی علوم القرآن 1/278، والاتقان 1/87، والنهایة فی غریب الحدیث والأثر 4/30، والمعجم الوسیط 1،2/722،730، 731 ودراسات فی علوم القرآن الکریم 18۔22 والمنجد 788،789،798،799۔
[4] تدبر قرآن، ج 4، ص 379
[5] اصول الفقه الاسلامی لوهبة الزهیلی:1/499، الاحکام للآمدی:1/87
[6] تدبر قرآن، مقدمہ:1/ 29
[7] تدبر قرآن، مقدمہ:1/ 30
[8] اصول الفقه الاسلامی لوهبة الزهیلی:1/490
[9] تدبر قرآن:2/ 325