درویشِ خدا مست اورعظیم مفکر کی موت
درویشِ خدا مست اورعظیم مفکر کی موت
ڈاکٹر حافظ فہد اللہ مراد
29 رمضان المبارک کی پرنور شب میں ایک ایسا جانکاہ حادثہ پیش آیا جس کا ماتم کسی فرد اور خاندان نے نہیں بل کہ ہر اس دل اور آنکھ نے کیا جو جدیدیت اور سرمایہ دارانہ نظام کے اس مطلق غلبے کے دور میں بھی غلبہ اسلام اور اعلائے کلمۃ الحق کا خواب دیکھتے ہیں۔ یہ پرآشوب حادثہ جناب ڈاکٹر جاوید اکبر انصاریؒ کی وفاتِ حسرتِ آیات تھی۔ جناب انصاریؒ اس دور میں بلاشبہ سرمایہ دارانہ نظام کے سب سے بڑے اسلامی نباض تھے جنھوں نے سرمایہ دارانہ نظام پر پڑے ویلفیئر اور انسانی بہبود کے پردوں کو اس طرح چاک کیا کہ اس کی درندگی ہر صاحب فکر و دانش کے سامنے عیاں ہوگئی، منصف مزاج اور دین کا درد رکھنے والے کسی بھی صاحب علم پر سرمایہ دارانہ علمیت کا رعب باقی نہیں رہا جسے جناب انصاری کے انتقاد کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔
جناب ڈاکٹر جاوید اکبر انصاریؒ سے ہمارا تعلق ان کے دو لائق شاگردوں جناب سید خالد جامعی اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب سوری کے توسط سے ہوا، جن سے ہم نے تفہیم مغرب کے بہت سارے سبق لیے، یہی وہ دو بزرگ ہیں جنھوں نے ڈاکٹر انصاریؒ کی فکر کی معنویت ہمارے جیسے طلبۂ دین کے سامنے آشکار کی۔ ان دنوں یہ مبارک سلسلہ جناب ڈاکٹر احمد امتنان کاشف کے فیض صحبت میں جاری وساری ہے۔ اس لیے یہ بات پوری طالب علمانہ دیانت سے کہی جاسکتی ہے کہ عالم اسلام میں فکر مغرب کی سب سے گہری اور اُصولی تفہیم انصاری مکتب فکر ہی نے کروائی ہے، البتہ ان کے دعوتی منہاج یا شرعی تعبیرات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر انصاریؒ کی پیدائش نومبر 1945ء ناگ پور ہندوستان میں ہوئی۔ آپ کے والد معروف معیشت دان ہمایوں اختر تھے جو اِن دنوں انڈین سول سروس میں آفیسر تھے، تقسیم ہند کے موقع پر اپنے لیے بہ طور وطن پاکستان کا انتخاب کیا اور کراچی آبسے۔ یہاں بہت سے انتظامی عہدوں پر فائز رہے اور بالآخر آڈیٹر جنرل پاکستان کے عہدے سے سبک دوش ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر انصاریؒ کی ابتدائی تعلیم بھی پاکستان میں ہی ہوئی۔ ثانوی تعلیم سینٹ پیٹرکس کانونٹ سکول کراچی میں ہوئی اور بی اے آنرز اور ایم اے معاشیات کراچی یونیورسٹی سے کیا۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی سے ایم ایس سی اور سسکس یونی ورسٹی سے کارل مارکس کے معاشی نظریات پر ڈاکٹریٹ کی سند لی۔ یہیں سے بعد ازاں فلسفہ میں بھی Phdکیا۔
ڈاکٹر انصاریؒ اگرچہ خاندانی طور پر ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے کہ جہاں معاشیات گھٹی میں پلائی جاتی تھی لیکن آپ کے والد گرامی جناب ہمایوں اختر کا شوق یہ تھا کہ وہ انگریزی زبان و ادب کو اپنی زندگی کا مضمون بنائیں۔ خوش قسمتی سے درمیان میں ایک ایسے مربی آگئے، جنھوں نے انھیں پھر معاشیات کی راہ پر ڈال دیا۔ یہ شخصیت جناب پروفیسر خورشید احمد صاحبؒ کی تھی جو جماعت اسلامی کے صف اول کے مفکر اور پاکستان کے معروف معیشت دان تھے۔ پروفیسر صاحب سے جناب ڈاکٹر انصاریؒ کی عزیز داری بھی تھی اس لیے آپ انھیں بہت عزیز رکھتے تھے اور کراچی میں رہائش بھی باہم قریب ہونے کے سبب بہت زیادہ میل جول رہتا تھا۔ انھی کی شخصیت کا اثر تھا کہ انتہائی لڑکپن یعنی پندرہ سولہ برس کی عمر میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رفیق بن گئے۔ خود ڈاکٹر انصاریؒ نے ایک انٹرویو میں بتلایا کہ پروفیسر خورشید صاحب کہا کرتے تھے کہ میرے دو برادران خورد ہیں۔ ایک انیس اور دوسرے جاوید، اس سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ والد محترم کی خواہش کے علی الرغم انھوں نے کیوں پروفیسر صاحب کی رغبت پر معاشیات کا مضمون اختیار کیا۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ 70 کی دہائی پوری دنیا پر عموماً اور پاکستان پر خصوصاً جو اشتراکیت کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس کے خلاف ایک بہت مضبوط علمی کام کی داغ بیل ڈالی جائے جس کے لیے ڈاکٹر انصاریؒ کی ذہانت اور جرأت مند شخصیت کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر انصاریؒ نے کراچی یونیورسٹی میں جاتے ہی اس محاذ کو سنبھال لیا۔
یہ وہ دور ہے جب پاکستان میں طلبہ سیاست پورے عروج پر تھی اور ہر طرف کمیونسٹ لیڈرز دندناتے پھرتے تھے حتیٰ کہ جب ڈاکٹر انصاری کراچی یونیورسٹی پہنچے تو معروف کمیونسٹ لیڈر حسین نقی کراچی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے صدر تھے۔ جناب ڈاکٹر انصاریؒ کے بہ قول یہ وہی سال ہے جب سید منور حسنؒ سابق امیر جماعت اسلامی کراچی یونیورسٹی سے فراغت پاکر نکلے تھے۔ اوّلین منصوبے کے طور یہ طے کیا گیا کہ کراچی یونی ورسٹی کی طلبہ قیادت سے کمیونسٹوں کو بے دخل کیا جائے لہٰذا آئندہ الیکشن میں جمعیت کے صدارتی اُمیدوار شمس الدین خالد کے لیے اس قدر زور دار تحریک چلائی کہ شمس الدین خالد کے مقابلہ میں نہ صرف یہ کہ مختلف دہریہ قوتوں کو شکستِ فاش ہوئی، بل کہ آئندہ کبھی بھی جمعیت کے مقابلے میں ٹھہرنے کی سکت نہ رہی۔ اس تحریک کے جناب ڈاکٹر انصاریؒ کی شخصیت پر یہ اثرات پڑے کہ انھیں منحرف دہریہ قوتوں کے خلاف عملی اور علمی جدوجہد کرنے کا سلیقہ سمجھ میں آیا۔ آپ خود کہتے ہیں ہم نے ان قوتوں کا تقریر و تحریر کے ذریعہ جب مقابلہ کیا تو یہ معلوم پڑا کہ کسی فکر کا جب تک گہرائی سے مطالعہ نہ کیا جائے اس کے خلاف مؤثر حکمت عملی بنانے اور ان کے خلاف علمی اقدام کرنے میں کم زوری رہتی ہے۔ ڈاکٹر انصاریؒ کے بارے میں یونی ورسٹی میں یہ شہرت تھی کہ وہ ہر وقت مطالعہ میں غرق رہتے تھے اور کلاس کے علاوہ ان کا دوسرا بسیرا محمود حسین لائبریری تھی۔ مطالعہ کی اس روش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کمیونزم کو سمجھنے کے لیے میں نے اس قدر جانفشانی سے کام کیا ہے کہ اب تک کمیونزم کے بڑے تین مفکرین مارکس لینن اور ماؤ کی ساری تحریرات کا مطالعہ کرچکا ہوں۔ انگلستان میں تعلیم کے ساتھ ساتھ سسکس یونیورسٹی، لندن سکول آف اکنامکس جیسے اداروں میں پڑھانے کا موقع بھی ملا۔ آپ کہتے ہیں: قیام یورپ کے دوران مجھ پر یہ بات کھل گئی کہ ہمارا بڑا دشمن سوشلزم یا کمیونزم نہیں بل کہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ اسّی کی دہائی کے وسط میں میرا زاویہ نظر مطلق تبدیل ہوچکا تھا اس کے بعد میرے مطالعہ، تحقیق اور تنقید کا محور لبرل سرمایہ دارانہ نظام بن گیا۔
تدریس کے دوران ہی انھیں اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے یو این انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن میں ڈائریکٹر کے منصب پر فائز کردیا گیا اور لندن سے ویانا آسٹریا منتقل ہوگئے۔ انھی دنوں پاکستان میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کردیا جس کے نتیجے میں ایک قومی حکومت وجود میں آئی تو پروفیسر خورشید صاحب کو وزیر کے عہدے پر فائز کردیا گیا اور پاکستان پلاننگ کمیشن کا چیئرمین اس کام کے لیے لگا دیا گیا کہ وہ پاکستانی معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کے لیے اپنی تجاویز دیں۔ ڈاکٹر انصاریؒ کو جب یہ اطلاع ملی تو اپنے محبوب اُستاد کو پیشکش کی کہ میں بھی آپ کے معاون کے طور پر خدمات انجام دینا چاہتا ہوں، جسے پروفیسر صاحب نے بہ خوشی قبول کرلیا اور اس کام کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کا سربراہ مقرر کردیا۔ اس قومی خدمت کی غرض سے ڈاکٹر انصاریؒ ویانا سے پاکستان منتقل ہوگئے اور یہاں کام کرنا شروع کردیا لیکن جلد ہی بھانپ گئے کہ سرمایہ دارانہ معیشت کے خلاف یہاں کام کی گنجائش نہیں دی جاتی لہٰذا اس خدمت کو ترک کرکے دوبارہ ویانا چلے گئے۔ 1979ء میں جب ایرانی انقلاب آیا تو یہ پوری مغربی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا، کیوں کہ مغرب اپنی استعماری اور مابعد استعماری کاوشوں سے یہ امر طے کرچکا تھا کہ دوبارہ دنیا میں مذہب کے نام پر انقلاب کی گنجائش نہیں رہی۔ ایران کے اچانک تبدیل ہونے والے احوال کے پیش نگاہ پوری دنیا کے بڑے بڑے سیاسی مفکرین نے ایران کا رُخ کیا اور یہاں انقلاب کی گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کی کہ کس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر انصاریؒ نے بھی اس انقلاب کا بہت خیر مقدم کیا اور بہ طور ایک ماہر معیشت دان کے اپنی خدمات ایران کے اولین وزیراعظم مہدی بزرگان کے سپرد کردیں، تاکہ اسلامی اصولوں پر لبرل سرمایہ داری کے بالمقابل کسی معاشی نظام کو ترتیب دیا جاسکے۔ اس کے لیے انھوں نے یہاں تک کوشش کی کہ باقاعدہ فارسی زبان بھی سیکھ لی لیکن مہدی بزرگان کے برطرف ہونے کے ساتھ ہی یہ منصوبہ بھی دھرا کا دھرا رہ گیا اور آج ایرانی معیشت بھی لبرل سرمایہ داری کے اصول پر استوار ہے۔
1989ء میں آپ ملازمت ترک کرکے مستقل طور پر ویانا سے پاکستان منتقل ہوگئے۔ یورپ میں رہتے ہوئے آپ کی سرمایہ دارانہ نظام پر تنقیدات اس قدر معروف ہوگئی تھیں کہ یہاں پاکستان میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی طرف سے یہ ردعمل آیا کہ جس ادارے میں ڈاکٹر انصاریؒ کو کسی عہدے پر فائز کیا جائے گا اس کے فنڈز بند کردئیے جائیں گے، اس کے باوجود آپ نے کبھی بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کیا بل کہ پوری جرأت سے اپنے مؤقف پر نہ صرف جمے رہے، بل کہ اسے دعوت و تعلیم کا موضوع بناتے ہوئے پاکستان میں اپنے جلیل القدر شاگردوں کی ایک ایسی جماعت کھڑی کردی جو کنونشنل اور اسلامی سرمایہ دارانہ نظاموں کے خلاف ایک مضبوط مقدمہ رکھتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کے بارے ڈاکٹر انصاریؒ کا نقطہ نگاہ
ڈاکٹر انصاریؒ نے سرمایہ دارانہ نظام کے حوالے سے جو تنقید کھڑی کی ہے اس کی انفرادیت کے حوالے سے آپ پوری دنیا کے پہلے صاحب فکر فلسفی ہیں کہ جس جہت سے آپ نے سرمایہ دارانہ نظام کا جائزہ لیا اس جہت سے آپ سے پہلے کسی فلسفی نے نہیں لیا۔ کیوں کہ جس دور میں آپ انگلستان گئے ہیں وہ دور دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت کے مابین شدت کے تصادم کا دور تھا اور اشتراکیت ہر طرف اپنے پنجے گاڑ رہی تھی۔ خود کارل مارکس کا بنیادی مقدمہ ہی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھا اور اب بھی بہت سارے اصحاب فکر و دانش یہی خیال کرتے ہیں کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں باہم حریفانہ کشاکش رکھتے ہیں لیکن ڈاکٹر انصاریؒ نے یہ انکشاف کیا کہ یہ دونوں ہی یعنی اشتراکیت اور لبرل ازم، سرمایہ دارانہ نظام ہی ہیں۔ نظامِ زندگی اور دین ہونے کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ اہداف کو حاصل کرنے کا بہتر طریقہ کار کون سا ہے۔ لبرلز کا خیال ہے کہ یہ ہدف لبرل سرمایہ داری کے ذریعہ حاصل ہوگا جبکہ سوشلسٹ کہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ اہداف کو حاصل کرنے کا درست طریقہ اشتراکیت ہے۔ اس بات کی مزید وضاحت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے آخری اہداف، آزادی (Freedom)، پراگرس (Progress) اور مساوات (Equality) ہیں۔ آزادی کے حصول کا کنکریٹ ذریعہ پراگرس یعنی خود کو سرمائے کے مسلسل اضافہ کا مکلف اور پابند بنانا ہے اور یہ اضافہ کسی ضرورت کی بنیاد پر یا مقصد پورا کرنے کے لیے نہ ہو بلکہ سرمائے کے لیے ہو کیوں کہ جوں جوں سرمائے میں اضافہ ہوگا توں توں آزادی بڑھتی چلی جائے گی، جو اس نظام زندگی کا اعلیٰ ترین اخلاقی اور علمی ہدف ہے۔لہٰذا پراگرس جو آزادی کا واحد حتمی ذریعہ ہے اور آزادی حتمی ہدف ہے تو اس ہدف کو حاصل کرنے کے مساویانہ حقوق ہر انسان کو میسر آنا یہ بھی اخلاقی فرض ہے۔ اس لیے مساوات (Equality) کا حصول بھی لازمی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جس طرح دین اسلام میں خدا کی رضا مندی حاصل کرنے کے ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ ان تینوں امور میں اشتراکیت اور لبرل سرمایہ داری کا اتفاق ہے یعنی آزادی آخری ہدف ہے اس کے حصول کا ذریعہ ترقی ہے اور ترقی کے مساویانہ حقوق کا حاصل ہونا یہ دینِ سرمایہ داری کا اخلاقی فرض ہے ورنہ یہ ہر شخص کے لیے قابل عمل نظام نہیں رہے گا۔ اس کے لیے لبرل سرمایہ دار یہ کہتے ہیں کہ یہ ہدف مارکیٹ کو فری اور آزاد کرنے سے حاصل ہوں گے کہ مارکیٹ پر کسی قسم کا کوئی جبر نہ ہو اور ہر شخص کو مکمل آزادی ہو کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق سرمایہ کما کر پراگرس کرے تاکہ آزاد ہوسکے اور ریاست کا کام فقط یہ ہے کہ ایسی قانون سازی کرے جس سے مارکیٹ کی آزادی ممکن رہے اور جو بھی نظریہ یا افراد اس آزادی کے خلاف ہوں انھیں یا تو بہ زور قوت روک دیا جائے یا ان کی تربیت کی جائے کہ وہ لبرل سرمایہ کاری کی آدرشوں کو قبول کرلیں۔
جبکہ اشتراکیت یہ کہتی ہے کہ مساویانہ ترقی کے لیے وہ طبقہ جو پس گیا ہے یعنی مزدور انھیں حکومت دی جائے اور پرائیویٹ ملکیت کو ختم کرکے اجتماعی طور پر سب مل کر سرمایہ کمائیں اور مجموعی طور پورا معاشرہ ترقی کرے تاکہ یقینی آزادی (Ultimate freedom) حاصل ہوسکے جسے وہ کیمون کا نام دیتے ہیں جہاں انسان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی حتیٰ کہ نہ ریاست کا وجود ہوگا اور نہ ہی زر (Currency) کا جبر ہوگا اور انسان مطلق آزادی حاصل کرلے گا۔ اس کے پہلے چند طبقوں کو قربانی دے کر اس قدر پراگرس کرنا ہے کہ آئندہ نسلیں آزادی کی نعمت سے بہرہ مند ہوسکیں۔
یہاں یہ بات عرض کرنا ضروری ہے کہ باوجود اس کے کہ لبرل سرمایہ داری پرائیویٹ پراپرٹی کے حق میں ہے اور اسے بہت زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لبرل سرمایہ داری میں بھی پرائیویٹ پراپرٹی جسے ذاتی یا نجی ملکیت کہا جاتا ہے بالکل بھی موجود نہیں، بل کہ اس میں پراپرٹی قومیانے کے بجائے کارپورایہ جاتا ہے یعنی اشتراکیت میں پبلک پراپرٹی کا تصور ہوتا ہے جبکہ لبرل سرمایہ داری میں کارپوریٹ ملکیت کا تصور ہوتا ہے کیونکہ اگر کارپوریٹ ملکیت نہ ہو تو سرمائے کا بہاؤ ہی رُک جاتا ہے اور ترقی کا عمل مسدود ہوجاتا ہے۔ اس میں مالک شیئر ہولڈر ہوتے ہیں اور ملازم منیجرز ہوتے ہیں جن کا ہدف صرف سرمائے کو بڑھانا ہوتا ہے اور کارپوریشن یا کمپنی وہ کوئی ذی روح یا مرد یا عورت نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک شخص فرضی یا قانونی ہوتا ہے جس کی عملاً کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔
اس وضاحت سے ڈاکٹر انصاریؒ کی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اشتراکیت اور لبرل سرمایہ داری میں حقیقی طور پر کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں ہی سرمایہ دارانہ نظام یا دین سرمایہ داری ہیں ان کا اختلاف منزل تک پہنچنے کے دو رستوں کا ہے۔
باقی لبرل سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں ہی کسی بھی مذہب کے منکر یا دشمن ہیں۔ کسی تصور آخرت (Other worldiness) کو تسلیم نہیں کرتے کسی نبوت یا شریعت کے برسر اقتدار ہونے کو قبول نہیں کرتے، البتہ دونوں کے لہجے میں فرق ہے کہ کمیونسٹ مذہب کو گالی دیتا ہے، لبرل گالی نہیں دیتا۔ ہدف دونوں کا یکساں ہی ہے۔ ڈاکٹر انصاریؒ نے اس بات پر زور دیا ہے اور جس پر ان کی کئی کتابیں ہیں کہ مسلم دنیا یا اسلامی شناخت کو جس فکر سے خطرہ ہے وہ اشتراکیت نہیں ہے بلکہ لبرل سرمایہ داری ہے جسے اس وقت مسلمانوں کے تمام ممالک عملاً قبول کرچکے ہیں اور اس بارے میں ان میں کوئی نفیر یا کراہت بھی محسوس نہیں کررہے بلکہ بہت سے اہل علم اس کو اسلامیانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔
لبرل سرمایہ داری کے بارے ان کا دوسرا بڑا انکشاف یہ ہے کہ یہ بھوت جو دنیا میں اپنے علاوہ ہر دینی، مذہبی روایتی یا تاریخی شناخت کو بہت حد تک نگل گیا ہے اور مسلسل نگل رہا ہے۔ اس کی جان صرف فنانشل مارکیٹ میں ہے جنھیں زر یا سٹے کے بازار کہا جاتا ہے جو بغیر کسی حقیقی متبادل کے سرمائے کے ذریعہ سرمایہ پیدا کرنے کی مارکیٹ ہے جس کے معاشرے میں دو بڑے ستون اسٹاک ایکسچینج اور بینک ہیں۔ یہ دونوں فرضی طور پر اس قدر سرمایہ پیدا کرتے رہتے ہیں کہ حقیقی دنیا میں اگر ان سے یہ مطالبہ کرلیا جائے کہ وہ سرمایہ جو تم تخلیق کرچکے ہو وہ اس کے مالکوں کو لوٹا دیا جائے تو دنیا کا کوئی بھی بڑے سے بڑا ادارہ بھی انھیں دینے کی قوت نہیں رکھتا۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ معاشرے میں لین دین کی شکلیں کیا ہیں۔ اس میں ایک فنانشل مارکیٹ ہے اور دوسری پروڈکشن مارکیٹ ہے۔ پروڈکشن مارکیٹ میں اُصول یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ حاصل کیا جاتا ہے جس کے ذریعہ خام مال اور لیبر فراہم کی جاتی ہے اور پھر وہ مطلوبہ پروڈکٹ ایک خاص وقت کے بعد وجود میں آتی ہے۔ پھر اُسے فروخت کیا جاتا ہے اور اس کا منافع مالکان کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے۔ یہ ایک لمبا پراسیس ہوتا ہے جبکہ حرص و ہوس کا یہ نظام اس قدر لمبا انتظار نہیں کرسکتا اس لیے سرمایہ کے ذریعہ سے سرمایہ صرف سرمائے کے لیے ہی کمایا جاتا ہے۔ جہاں پروڈکشن کا پورا نظام ہی درمیان میں موجود نہیں ہوتا ہے بلکہ شیئرز کی خرید و فروخت اور اُتار چڑھاؤ کی بنیاد پر اربوں کی روزانہ سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ ایسے ہی دوسرا اس کا ادارہ بینک ہوتے ہیں کہ جہاں بھی سرمائے کے ذریعے سے سرمایہ کمایا جاتا ہے وہاں بھی پروڈکشن درمیان میں موجود ہی نہیں ہوتی۔ اس لیے ڈاکٹر انصاریؒ کہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کے جن کی اصل جان فنانشل مارکیٹ میں ہے اگر اسے ختم کردیا جائے تو یہ نظام دھڑام سے گر جائے گا۔ آپ اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ پاکستان جیسا ملک کہ جہاں کا مسلمان حلال کمائی کے ذریعے سے اپنا رزق کما رہا ہے کہ جہاں سٹے اور سود سے پاک معیشت رکھنے والے افراد کی تعداد 91 فیصد ہے وہاں آئی ایم ایف کے ذریعہ زوال پذیر سرمایہ داری کو نافذ کیا جانا صرف اسلامی تحریکوں اور دینی حلقوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ہے یعنی پاکستان کے 91 فیصد لوگ بینک اور اسٹاک ایکسچینج کے دھندے سے باہر ہیں جو لبرل سرمایہ داری کا اصل مرکز ہیں۔ اس لیے وہ اسلامی تحریکوں سے کچھ نالاں بھی تھے کہ وہ اپنی درست ذمہ داری کو ادا نہیں کررہے۔
بہرحال ڈاکٹر انصاریؒ زندگی بھر درویشانہ انداز میں سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے نظاماتی یا علمی سہولت کاروں کے خلاف برسرپیکار رہے اور پاکستان خصوصاً اور دنیا بھر میں عموماً ایک ایسی جماعت پیدا کی جو سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت سے نہ صرف آگاہ ہوئے بلکہ انتہائی مضبوط علمی اور دعوتی کام بھی انجام دے رہے ہیں۔ جس طرح آپ نے شاگردوں اور متوسلین کی ایک گراں قدر جماعت چھوڑی ہے ایسے ہی آپ کی کتب کی بھی ایک فہرست ہے جن میں Rejecting freedom and progress سرمایہ دارانہ عقائد و نظریات، سرمایہ داری کے نقیب، The evil of democracy، جمہوریت کی حقیقت، فلسفہ مغرب کی تفہیم جدید، سرمایہ دارانہ نظام ایک تعارف اور دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح اُردو اور انگریزی کے بیسیوں مضامین بھی آپ کی یادگار ہیں۔
آپ کے سوگواران میں اہلیہ محترمہ انجم انصاری، بیٹے بیرسٹر حسین انصاری اور جناب عبدالمتین انصاری شامل ہیں۔ مالک انھیں صبرِ جمیل سے نوازے اور انھیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بنادے۔
اور اسلامی تحریکوں اور دینی حلقوں میں یہ شعور پیدا کردے کہ کس طرح پاکستان جیسی مملکت کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ آمین!