محافظِ حرم، محافظ امنِ عالم
عالمی طاقتوں کے ٹکراؤ، قائم ہوتی نئی عالمی صف بندی اور مشرقِ وسطیٰ کے تیزی سے بدلتے منظر نامے میں پاکستان نے جس تدبر اور توازن کا مظاہرہ کرتے ہوئے عظیم مصالحتی کردار ادا کیا،اس نے اس کے سر پر اقوامِ عالم کی قیادت کا تاج سجا دیا ہے۔ یہ خود اعتمادی، پُراعتماد لہجے، باوقار بدن بولی، عالمی طاقتوں کی میزبانی اور قائدانہ کردار بلاشبہ اُس اسلامی نظریے،عظیم جہاد فی سبیل اللہ اور عسکری پختگی کا ثمر ہے جس کا اظہار مئی 2025 میں بھارت کے خلاف معرکہ آرائی میں ہوا۔ اس جنگ نے نہ صرف پاکستان کے دفاعی استحکام کو ثابت کیا، بلکہ اسے اُس نفسیاتی اور اخلاقی برتری سے بھی نوازا جو ایک فاتح قوم کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ ہماری اسی عسکری پختگی پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان جہاں ایران کی تائید میں کھڑا تھا، وہاں پورے اعتماد سے کہہ دیا کہ سعودی عرب کی طرف رُخ مت کرنا اور ایران نے بھی تسلیم کیا کہ مکمل پاسداری کی جائے گی۔ایک جانب تشکر پاکستان کے نعرے، دوسری جانب ممنونیت سے لبریز نگاہیں۔ یہ پاکستان کی باوقار اور کامیاب سفارتکاری ہی ہے کہ جو کردار اقوامِ متحدہ کو ادا کرنا چاہیے تھا، تنہا پاکستان نے نبھایا۔ ایک وقت میں جب مایوسی ڈیرے ڈال رہی تھی ،دھمکیاں حقیقت بننے جارہی تھیں، ایٹمی حملے کے خدشات بڑھ رہے تھے، دنیا امریکی صدر کے غیر متوقع رویوں کا شکار ہوکر گرد وغبار بننے کو ہی تھی کہ پاکستان کے سفارتی جہاد کی بجلیاں کوندیں اور خوف کے اندھیرے اُمید کے اُجالوں میں بدل گئے۔
ویتنام جنگ میں امریکی مداخلت کے تین سال بعد مذاکرات شروع ہوئے اور تقریبا آٹھ سال بعد معاہدہ طے پایا، افغانستان میں تقریباً نو سال بعد مذاکرات شروع ہوئے اور انیس برس بعد معاہدہ ہوا۔ لیکن یہ پاکستان کا ہی کردار ہے جس کی بدولت سوا مہینے بعد ہی مذاکرات شروع ہوچکے ہیں، پاکستان کا کام صرف یہی تھا، باقی کا کام فریقین کا ہے۔ امید ہے کہ اللہ رب العزت پاکستان کے ذریعے ہی مذاکرات کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا کر مزیدعزت افزائی کا ذریعہ بنائے گا۔امریکی وفد میں اگرچہ جیرڈ کشنر اور امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ جیسے انتہائی متعصب اور متشدد نظریات کے حامل یہودی ایکٹوسٹ موجود ہیں، جن کی موجودگی ممکن ہے کہ کسی مصلحانہ نقطہ تک رسائی میں رکاوٹ بن جائے، لیکن درمیان میں پاکستان جیسی صاحبِ بصیرت قیادت کی موجودگی سےامن کی راہ ہموار ہوکر رہے گی، ان شاء اللہ۔یہ وہی جیرڈ کشنر ہے جس نے ٹرمپ کے سابقہ دور میں نیتن یاہو سے مل کر، امارات سے بدنام زمانہ ابراہام اکارڈکروایا۔ بحرین وقطر سے اسرائیل نوازی کی بھاری کاروباری ڈیلز کروائیں۔یہ صہیونیت اور صہیونی نظریات کو بزورِ قوت قائم کرنے والے جنگجو ہیں۔ ان کا مقابلہ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ سے ہی ممکن ہے اور یہی ہماری جرأت مند افواج کا نصب العین ہے۔
’امریکہ ایران کشمکش‘ میں مادی طاقتوں کے بڑے بڑے بت ٹوٹے اور تاریخ کے ماتھے پر لکھی یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت ہوگئی کہ تمام تر قوتوں اور طاقتوں کا حقیقی مالک تنہا ایک اللہ ہے۔ ناقابلِ تسخیر ہونے کا امریکی غرور اس وقت سمندر کی لہروں میں غرق ہوتا دکھائی دیاجب ابراہیم لنکن بحری بیڑے کو پسپائی اختیار کرنا پڑی؛ جدید ترین جنگی جہاز مار گرائے گئے؛ بیسز محفوظ نہ رہیں؛ آبنائے ہرمز کی بندش سے شدید مہنگائی کا سامناکرنا پڑا؛ واحد فیصلہ ساز ہونے کی حیثیت داغدار ہوئی؛ یہ اس عالمی رعب کا جنازہ تھا جس کے زعم میں فرعونِ وقت نے خود کو (معاذ اللہ) خدائی منصب پر فائز سمجھ لیا تھا۔
اسرائیل کا مضبوط دفاع کا سحر ٹوٹ گیا ؛ آئرن ڈوم میں محفوظ ترین ہونے کانظریہ وہم ثابت ہوا؛ عسکری بیسز کو نقصان پہنچا؛ تل ابیب، حیفہ اور بڑے بڑے شہروں میں صنعتی اور توانائی کی تنصیبات نشانہ بنیں؛ سپلائی لائن متاثر ہوئی؛ بنکروں میں دبکےاسرائیلی شدید نفسیاتی مسائل میں گھر گئے؛ دوہری شہریت والوں نے ہجرت معکوس کرکے ریاستی وجود کو خطرات سے دوچار کردیا؛ ہائی ٹیک انڈسٹری تباہی کے دھانے پر آکھڑی ہوئی؛ امریکہ کو اپنی پڑ گئی تو اسرائیل کی تزویراتی تنہائی Strategic isolation میں مزید اضافہ ہوگیا۔ انبیاء کے قاتلوں کے چہروں پر ایک بار پھر ذلت و مسکنت مَل دی گئی۔
چھے ہزار سالہ تہذیب کا ایرانی غرور بھی خاک میں مل گیا؛ مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی قوت ہونے کا خیال اس وقت چور چور ہوگیا، جب پہلے ہی حملے میں ایران کو اپنی سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت سے محروم ہونا پڑا۔ جوہری پروگرام کوشدید نقصان پہنچا۔ عسکری نقصان اس قدر زیادہ ہے کہ سردست اندازہ ممکن نہیں؛ داخلی سپلائی شدید متاثر ہوئی؛ معیشت تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے؛ فوجی و سویلین ہلاکتیں شمار سے باہر ہیں؛ گویا اس سے پہلے جو ایران سپلائی کررہا تھا، خود ایران کو اسی کا سامنا کرنا پڑگیا۔
خلیجی ممالک پر ظالمانہ حملے(درست غلط کی تفصیلات سے قطع نظر) عیش کوشی اور لہوولعب میں پڑے عربوں کے لیے تازیانہ ہیں کہ تمہیں تو امت کی قیادت سنبھالنا تھی، تم کن کاموں میں لگ گئے؟ توحید تمہارا امتیاز تھا، اغیار کے سامنے کیسے جھک گئے؟ تم تو جانثار صحابہ کی اولاد تھے، ’اخلد الی الارض‘ کے مصداق کیسے بن گئے؟ تم تو پاسبانِ حرم تھے، کعبہ کے نگران، قبلہ کے متولی،﴿ اِنْ اَوْلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ ﴾کے قرآنی معیار سے دور کیسے ہوگئے؟ عربوں کی ہیبت بہرصورت پہلے والی نہیں رہی؛ معیشت کو زبردست دھچکا لگا اور وہ یقینا اپنے Strategic تعلقات پر نظر ثانی پر مجبور ہوگئے۔
رہے نام اللہ کا، تمام قوتوں اور طاقتوں کا حقیقی مالک!!!
اس سب میں کلیدی کردار چائنا کا رہا۔ ایک بھی گولی نہیں چلائی اور فائدہ سب سے زیادہ سمیٹا ۔ جہاں سیٹلائیٹ صلاحیت کا لوہا منوایا، وہاں اپنی معیشت کو بھی مضبوط کیا۔ اپنی کرنسی یوآن میں لین دین، اسلحے کے نئے گاہک، مشرق وسطی میں گہرا اثر ورسوخ اور امریکہ و ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لیے اہم کردار ، یہ سب چائنا کو مزید طاقتور بنا گیا۔
ان حقائق سے آشنائی کے بعد ہمیں ان حالات سے سبق سیکھنا چاہیےاور جاننا چاہیےکہ بطور مسلم امہ یہ دن کیوں دیکھنا پڑے، غیر مسلم اقوام کو کیونکر جرأت ہوئی کہ وہ مسلم ریاستوں پر حملہ آور ہوں؟
اس سلسلے میں سب سے بنیادی چیز ’’ایمان، تقویٰ اور جہاد‘‘ ہے۔یہی افواجِ پاکستان کا موٹو بھی ہے۔ ان میں کمزوری کی بنا پر کفار مسلمانوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اور انہی کی بدولت اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو زمین والوں کی قیادت بخشتا ہے۔جب ہم عالمی منظر نامے پر مادی طاقتوں کے عبرت ناک انجام کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ کامیابی کا معیار ٹیکنالوجی یا مال و دولت نہیں، بلکہ وہ ’ایمان‘ہے جسے خالقِ کائنات نے اپنی نصرت کی شرط قرار دیا ہے۔
قرآنِ کریم کے وہ ابدی اصول جو اہل ایمان کو زمین کی قیادت کی ضمانت دیتے ہیں، درج ذیل ہیں:
=غلبہ اہل ایمان کا مقدر ہے:
﴿ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۱۳۹﴾[آل عمران: 139]
’’تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ ‘‘
=اہلِ ایمان کو خدائے واحد کی معیت حاصل ہے:
﴿ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَؒ۰۰۱۹﴾]الأنفال :۱۹[
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
=اللہ اہلِ ایمان کا مددگار ہے:
﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﴾[البقرة: 257]
’’ اللہ ایمان والوں کا مدد گار ہے،انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے‘‘
=اللہ اہلِ ایمان پر خاص نظرِ عنایت رکھتا ہے:
﴿وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۵۲﴾ [آل عمران: 152]
’’اللہ ایمان والوں پر بڑے فضل والا ہے۔ ‘‘
=اہلِ ایمان بڑے اجر کے مستحق ہیں:
﴿وَ سَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا۰۰۱۴۶﴾ [النساء: 146]
’’اور عنقریب اللہ تبارک وتعالیٰ اہل ایمان کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔‘‘
=اہلِ ایمان کو کوئی خوف و خطر نہیں:
﴿ فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ۰۰۱۳﴾]الجن:۱۳[
’’ تو جو اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے نہ تو کسی نقصان کا اندیشہ ہوگا، نہ کسی ظلم کا خوف۔ ‘‘
=نجات اہلِ ایمان کا استحقاق ہے:
﴿حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَؒ۰۰۱۰۳﴾ ]یونس: 103 [
’’ مومنوں کو نجات دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ ‘‘
=اہلِ ایمان دنیا وآخرت میں نصرتِ خداوندی سے فیض یاب ہوتے ہیں:
﴿اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ﴾ ] غافر:51[
’’ بلاشبہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی مدد دنیا میں بھی کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہونگے۔‘‘
=اہلِ ایمان تمام مخلوقات میں سب سے بہتر ہیں:
﴿اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾ [البينة: 7]
’’ بے شک جو ایمان لائے اور صالح عمل کیے یہی مخلوقات میں سے سب سے بہتر ہیں۔‘‘
=امن وہدایت اہلِ ایمان کا استحقاق ہے:
﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَؒ۰۰۸۲﴾ ]الانعام:۸۲[
’’ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا انہی کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔
=ایمان وتقویٰ نزولِ برکات کا سبب ہیں:
﴿وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ﴾
[الأعراف: 96]
’’اور اگر ان بستیوں والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمانوں اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔‘‘
=ایمان وعمل پر خلافت فی الارض کا وعدہ ہے:
﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ ﴾]النور:55[
’’اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ تم میں سے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں انہیں ضرور زمین میں خلافت عطا کرے گا۔‘‘
دوسری قوت تقویٰ ہے۔ اہل تقویٰ کے لیے اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ عالم گیر سچائیاں بھی ملاحظہ فرمائیں:
=برتری اہل تقویٰ کا مقدر ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا ﴾ [الأنفال: 29]
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ تمہیں ممتاز کردے گا۔‘‘
=مسجد الحرام کے ولایت کا حق اہل تقوی ٰکو حاصل ہے:
﴿ اِنْ اَوْلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ﴾[ الانفال:۳۴]
’’اس (مسجد الحرام) کے متولی تو صرف تقویٰ والے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ‘‘
=تقویٰ کی بدولت اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۰۰۴ ﴾ ]التوبة:4 [
’’بلاشبہ اللہ اہل تقویٰ سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘
=اہل تقویٰ کو اللہ سبحانہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہے:
﴿ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ۰۰۳۶﴾] التوبة:36 [
’’اور جان لو کہ بیشک اللہ تقویٰ والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
= انجام کار اہل تقویٰ کا مقدر ہے:
﴿ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَؒ۰۰۴۹﴾]هود:49]
’’انجام یقیناً پرہیزگاروں کے لیے ہے۔‘‘
اہل تقویٰ کے بہت سے فضائل قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں۔جنھیں وہاں دیکھا جاسکتا ہے۔
تیسری قوت ’’جہاد‘‘ ہے،جس کی بدولت اللہ سبحانہ وتعالیٰ دشمن سے بچاتا اور ان پر غلبہ عطا کرتاہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں بیان کردہ ابدی وعدے ملاحظہ کیجیے:
=اہلِ جہاد کے لیے عظیم اجر کے وعدے ہیں:
﴿وَ مَنْ يُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيُقْتَلْ اَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا۰۰۷۴﴾]النساء۔ 74]
’’اورجو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرے پھر شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے۔‘‘
=اہلِ جہاد کے لیے بلند درجات ہیں :
﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠۰۰۲۰ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌۙ۰۰۲۱ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۰۰۲۲﴾[التوبة: 20 - 22]
’’جو لوگ ایمان لائے ، ہجرت کی اوراللہ تعالیٰ کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجے بہت بلند ہیں، وہی کامیاب ہیں۔ ان کا پروردگا ران کو اپنی رحمت ، خوشنودی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاویدانی ہیں (اور وہ )ان میں ابد الآباد رہیں گے ۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا اجر(تیار)ہے۔‘‘
=اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں قتال کرنے والوں کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَ يُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ وَ الْقُرْاٰنِ ﴾ [التوبة: 111]
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اوران کے مالوں کو اس قیمت پر کہ ان کے لئے جنت ہے خرید لیا ہے وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں اورقتل کئے جاتے ہیں(یہ )اللہ تعالیٰ کے ذمہ سچا وعدہ ہے تورات اور انجیل اورقرآن میں۔‘‘
=اللہ کی مدد کے وعدے ہیں:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ۰۰۷﴾]محمد:۷[
’’اے اہل ایمان ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مددکرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا۔‘‘
=یہی سچے لوگ ہیں:
﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ۰۰۱۵﴾] الحجرات:15[
’’مومن تو وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر پھر وہ شبہے میں نہیں پڑے اور جہاد کیا اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے مال اوراپنی جان سے، یہی لوگ سچے ہیں۔‘‘
=جہادانسانوں کے لیے سب سے بہتر راہ ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۰۰۱۰تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ۰۰۱۱يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ يُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُۙ۰۰۱۲وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِيْبٌ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۳﴾[الصف: 10 - 13]
’’اے ایمان والو! میں تم کو ایسی تجارت نہ بتادوں جو تم کوایک درد ناک عذاب سے بچالے ۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اورجان سے جہاد کرو، یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے، اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ (جب ایسا کرو گے تو) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اورتم کو جنت کے ایسے باغات میں داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اورعمدہ مکانوں میں (داخل کرے گا) جو ہمیشہ رہنے کے باغو ں میں (بنے )ہوں گے یہ بڑی کامیابی ہے اورایک اورچیز (تمہیں دے گا) جس کو تم پسند کرتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور جلدی فتح یابی اورآپ ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔ ‘‘
اس ایمان تقویٰ اور جہاد کا مطلب قرآن وسنت میں مذکور ان احکام پر عمل بھی ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں، جنہیں اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ سرفرازیاں عطا کرتاہے، صرف تین ملاحظہ فرمائیں:
= جنگی قوت تیار کی جائے، چاہے اس کے لیے پیٹ پر پتھر ہی باندھنا پڑیں، کیونکہ آزادی، امن اور خودداری سے بڑھ کر کچھ نہیں:
﴿ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ ﴾[الانفال:60]
’’اور ان کے مقابل حتی المقدور قوت تیار رکھو۔‘‘
= بلند وبالا عمارتوں وغیرہ پر مال خرچ کرنے کے بجائے دفاع کو مضبوط کیا جائے:
﴿ خُذُوْا حِذْرَكُمْ ﴾ [النساء: 102]
’’اپنے بچاؤ کا سامان تھامے رکھو۔‘‘
= صفوں میں اتحاد رکھا جائے، ایک کلمے، ایک قرآن، ایک نبی اور ایک قبلے کی بنیاد پر، ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرتے ہوئے باھم متحد رہا جائے:
﴿ وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا﴾ [آل عمران: 103]
’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور باہم تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘
پاکستان نے کمزور سطح پر ہی سہی، مگر ایمان، تقویٰ اور جہاد کا جو عملی مظاہرہ کیا اور جس طرح قوت کی تیاری، دفاع کی مضبوطی اور ملی سطح پر قربانیاں دے کر امت کو متحد کرنے کی سعی کی، آج اللہ تعالیٰ نے اسے اس کا ثمر عزت و وقار کی صورت میں عطا فرما دیا ہے۔ انہی مخلصانہ کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی حالیہ مشاورت کے بعد ’اسلامی نیٹو‘ کی فضا ہموار ہوتی نظر آ رہی ہے۔
مزید برآں، جس طرح ایران اور سعودیہ کے مابین پاکستان ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑا ہوا،ایک طرف ایران کو سعودیہ پر حملوں سے روکے رکھااورسعودیہ کی طرف سے ایران پر حملہ نہ ہونے کی ضمانت فراہم کی؛تو یہ بعید نہیں کہ عالمِ اسلام کو متحد کرنے کا سہرا بھی خداوندِ متعال پاکستان ہی کے سر سجا دے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مثالی تعلقات کا وہ سفر، جس کا آغاز 1951 میں شاہ ابن سعود کے دور میں ہوا اور جسے شاہ فیصل مرحوم نے بامِ عروج تک پہنچایا، آج ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدہ اور سعودی عرب میں پاکستانی دستوں کی تعیناتی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ خانہ کعبہ—جو ﴿ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠﴾’’ جہانوں کے لیے سرچشمہِ ہدایت ہے‘‘— اس کے محافظ بھی عالمی امن کے قیام میں پوری دنیا کے لیے رہنما ہیں۔ پاکستان کا حالیہ مصالحتی کردار جہاں مشرقِ وسطیٰ کے لیے نویدِ امن ہے، وہیں امریکہ، یورپ اور اقوامِ عالم کے لیے بھی امن کی ضمانت بن چکا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان کی اس پائیدار حکمتِ عملی سے ہمارا روایتی حریف بھارت بھی مستفید ہوا اور وہاں کے معتدل حلقے بھی اس کی ستائش کیے بغیر نہ رہ سکے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد! محافظِ حرم و محافظِ عالم، پائندہ باد! (ڈاکٹر جواد حیدر )