استفتاء

لودھراں سےایک صاحب لکھتے ہیں کہ !
$11.                 ایک عورت جس کو تین طلاق ہو گئی  ہیں ۔ وہ  اب صرف اس لیے حلالہ کراتی ہے کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے ۔ کیا ایسا حلالہ شرعی حلالہ کہلائے گا اور وہ اس طرح پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی ؟
$12.                  کیا بے نماز عورت کا نکاح نمازی مرد سے ہو سکتا ہے ؟
ایک اور صاحب پوچھتے ہیں کہ :
$13.                 نماز میں جہراً ’’بسم اللہ ‘‘ پڑھنا ثابت ہے ؟
$14.                  کیا خطبہ غیر عربی میں ہو سکتا ہے ؟
ضلع پشارو سے گل مان شاہ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ :
$15.                 نماز میں سینہ پر یازیر ناف ہاتھ باندھنے میں سے صحیح کیا ہے ؟
$16.                  قرأت فاتحہ خلف الامام جائز ہے یا نا جائز ؟
$17.                  جیسا کہ حنفی حضرات وتر پڑھتے ہیں ، میں بھی ویسے وتر تین  رکعت پڑھتا آرہا ہوں ۔ کیا یہ درست ہے ؟
قرآن و حدیث کے ساتھ جواب عنایت فرمایا جائے ۔
الجواب
حلاله : شرعی  تویہ ہے کہ بغرض نکاح اور نباہ نکاح کیا جائے اور اسی طرح قدرتی  حالات کے تحت پھر اسے طلاق ہو جائے تو ایسی عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو سکتی ہے (إلاّ بِنکاح رغبة ۔ قاله عمر ﷜)
غیر شرعی حلالہ یہ ہے کہ : سوچے سمجھے  منصوبے کے مطابق ،دوسرے سے نکاح کیا جائے اور پھر سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق اس سے طلاق لی جائے تاکہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے ۔ ایسے نکا ح کے بارے میں بڑے اختلاف دو ہیں ۔
$11.                 کہ کیا یہ نکاح ہوا بھی ہے یا نہیں ؟
$12.                  اگر ہوا ہے تو کیا پہلے شوہر کے لیے قبل مسیس طلاق دی جائے تو کافی رہے گی ؟
ہمارے نزدیک صحیح یہ کہ ایسا نکاح ہوا ہی نہیں ’’پیغمبر خدا‘‘ نے اسے ’’تیس مستعار ‘‘ (مستعار بکر) جس سے غرض صرف جفتی ہوتی ہے عقد نہیں سے تعبیر فرمایا ہے ۔
’’قال رسول اللهﷺ الا اخبر كم بالتيس المستعار ؟ قالوا!بلی يا رسول الله !قال هو المحلل (رواه ابن ماجه وله شاهد)
حضرت عمر ﷜ فرماتے ہیں حضور ﷺ کے عہد میں ہم اسے ’’زنا ‘‘ تصور کرتے تھے :
’’كنا  نعد هذا اسفاها على عهد رسول الله ﷺ (رواه الحاكم والطبراني وصححه الحاكم)
چنانچہ اس طرح کا کیس حضرت عمر ﷜ کے پیش  ہوا تو آپ ؓ نے اسے رد کر دیا تھا ۔
’’ليحلها  لا خيه هل تحل للاول ؟ قال لا (رواه الحاكم و الطبراني )
قرآن حكيم سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح بغرض نکا ح کرے :
"حتى تنكح زوجا غيره "
نكاح بغرض طلاق يا بغرض تحليل ، اسلام میں اس کا کہیں کوئی وجود نہیں ہے ۔
یہ گنجائش نہیں پائی جاتی کہ ایسے نکاح سے ، پہلے شوہر کیلئے  بھی ایسی عورت حلال ہو جائے پھر قبل مسیس (مباشرت) تو ویسے بھی حلال نہیں ہو سکتی ۔
’’لا اوتى بمحلل و لا محلل له الا رجمتهما  (رواه ابن ابي شيبه – بحفة الاحوذي شرح ترمذي)
جولوگ ایسے نکا ح کو جائز اور قابل حلالہ تصور کرتے ہیں وہ دراصل شیعوں والے ’’نکاح متعہ ‘‘ کا دروازہ کھول رہے  ہیں ۔۔۔حالانکہ نکاح متعہ قیامت تک کے لئے حرام کر دیا گیا ہے ۔
ان الله قد حرم ذلك الي يوم القيمة  (رواه مسلم  ص 451)
ہمارے نزدیک ایسا حلالہ شرعاً حرام اور اس سے ایسی عورت پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو جاتی ۔
بے نمازی ، نمازی مرد کے لیے:
جو لوگ تارک نماز کو حقیقتاًکا فر تصور کرتے ہیں ان کے حساب سے تو ایسا نکاح ہو نہیں سکتا اور جن حضرات کے نزدیک تارک نماز گو بہت بڑا مجرم ہے تاہم اسے  کافر تصور نہیں کرتے ،  ان کے نزدیک ایسا نکا ح ہو سکتا ہے مگر ایسا نکاح مناسب نہیں سمجھا  جاسکتا ۔ راقم الحروف کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ تارک نماز اگر منظر نماز نہیں ہے تو وہ گو  ایک عظیم گناہ کا مرتکب  ہے اور شرعی حد کے قابل ہے تا ہم کافر نہیں ہے ۔ ہاں بہت سے آئمہ ،صحابہ ، تابعین اور محدثین  کے نزدیک تارک نماز کا فر ہو جاتا ہے ۔ اس لیے اولی یہی  ہے کہ ایسی عورت یا ایسے بے  نماز مرد سے دوسرے نمازی کے نکاح سے پرہیز کیا جائے کیونکہ دلائل کفر کا مطالعہ کرتے ہوئے قلب دنگاہ ہیں ایک بھونچال سا محسوس ہونے لگتا ہے ۔ واللہ اعلم
3-جہراً بسم اللہ پڑھنا
گو اونچی اور پست آواز کے ساتھ ’’بسم اللہ ‘‘ پڑھنا دونوں  ثابت ہیں ۔ تا ہم جہراً نہ پڑھنے کی روایتیں زیادہ راجح ہیں ۔ اس تعارض کا صحیح حل یہ ہے کہ کبھی کبھی  جہراً بھی پڑھ لی جائے یا زیادہ  عدم جہر کو معمول بنایا جائے ۔
4۔ غیر عربی میں خطبہ
خطبہ  کوئی تعویذ یا منتر اور تلاوت کا نام نہیں ہے بلکہ اس سے غر ض  تذکیر  اور موعظت بھی ہے
" كانت  للنبى ﷺ خطبتان يجلس بينهما يقرء  القراٰن و يذكر الناس (مسلم  ص 273)
نماز میں ہاتھ باندھنا
زیر ناف ہاتھ باندھنے والی ایک بھی صحیح اور مرفوع روایت ثابت نہیں  ہے اور جو پیش کی جاتی ہے اس کی تردید خود علمائے احناف نے کر دی ہے اور جس کتاب کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ بھی اس وقت ہمارے سامنے ہے اس میں وہ روایت نہیں ہے جس کا ابن قطوبغانے ذکر کیا ہے ۔ علامہ سندھی کا کہنا ہے کہ کاتب سے سہو ہوا ہے کہ نخعی کی بات جو نیچے درج تھی ، غلطی سے نقل ہو گئی  ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں یہ روایت ہے وہاں روایت نخعی غائب ہے اور جہاں نخعی والی روایت ملتی ہے ۔ وہاں  وہ حدیث مرفوع ، جس سے زیر ناف ہاتھ باندھنا  ثابت ہوتا ہے ، وہ غائب ہے ۔ سینہ پر ہاتھ باندھنے والی روایت یہ ہے :
"عن وائل بن حجر قال صليت مع النبي ﷺ فوضع يده اليمن  علي يده اليسريٰ علي  صدره (رواه ابن خزيمه ص 143 طبع قدوسيه لاهور )
’’حضرت وائل ﷜ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی  تھی آپﷺ نے داہنا ہاتھ ، بائیں ہاتھ پر رکھ  کر اپنے سینہ پر باندھا تھا ۔
قبیصۃ بن ہلب اپنے والد سے اور طاؤس اپنے والد سے بھی یہی بات بیان کرتے ہیں کہ سینہ پر ہاتھ باندھے  تھے ۔ اس لیے یہ روایت قابل احتجاج ہو گئی ہے ۔ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی روایت کی  ہیئت ہی ایسی ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ یہ ہاتھ باندھنے والی بات نہیں ہے ۔ ویسے بھی ہاتھ باندھنے  ہوں تو اتنے  نیچے  جا کر کوئی بھی نہیں باندھتا ۔ ہاتھ تقریباً سینہ پرہی ہوتے ہیں ۔
اس کے علاوہ جو زیر ناف کے قائل ہیں وہ عورتوں کے لیےخود سینہ پر ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں گویا کہ آدھا جھگڑا تو انہوں نے خود ہی ختم کر دیا ہے بہر حال اس امتیاز کے لیےان کے پاس دلیل بھی کوئی نہیں ہے ۔ صحیح یہی ہے کہ ہاتھ سینہ پر باندھنے  چاہیں ۔ زیر ناف والی بات جپتی نہیں ۔ بلکہ آنکھوں کو بھی یہ ہیئت خاصی اوپری لگتی  ہے اور ہاتھ باندھنے کا جو دستور ہے ، یہ شکل اس انسانی تعامل کے بھی خلاف ہے ۔
6۔ قرأت فاتحہ خلف الامام
قرآن مجید میں ہے چپ چاپ کان لگا کر قرآن سنا کرو ۔
اذاقرئ القران فاستمعو اله وانصتوا -----یہ آیت مکی ہے ۔
یہ اس وقت بات کہی گئی  جب کفار مکہ نے یہ پروگرام بنا لیا تھا کہ جب وہ قرآن پڑھیں تو شور مچا یا کرو اس کا نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔مدینہ منورہ میں حضور ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی ، کچھ صحابہ ﷜ نے پیچھے سے قرآن  پڑھا  ۔ حضور ﷺ نے سلام پھیر کر پوچھا تو انہوں نے کہا ہا ں ہم نے پڑھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا سورہ ٔ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو ۔ کیونکہ اس کے بغیر نماز ہوتی نہیں (ترمذی) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ روایت قابل احتجاج ہے ۔
احادیث میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا ذکر آیا ہے لیکن منع کرنے والی ایک بھی روایت میں سورہ فاتحہ کی ممانعت کا صراحۃً ذکر نہیں آیا۔ اس لیے محدثین نے کہا ہے کہ جن روایات میں قرأت کرنےکی ممانعت آئی ہے اس سے مراد سورہ فاتحہ کے بعد کی سورتوں کی قرأت ہے  ورنہ نبی ﷺ کے قول اور عمل یہی تضاد پیدا ہو جائے گا ۔ یہ اصول ہے کہ ایک بات صراحۃ ًآئی ہو اور دوسری  اجتہادًا بیان کی جاتی ہو تو  وہاں قیاس کو چھوڑ کر صراحت والی روایت پر عمل کیا جائے گا ۔یہاں بھی ایسا معاملہ درپیش ہے ۔ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا ذکر صراحت کے ساتھ آیا ہے اور جو مخالف والی روایت پیش کی جاتی ہے محدثین کے نزدیک  وہ ضعیف ہے اگر مان بھی لی جائے تو اس میں فاتحہ کے نہ پڑھنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ عام بات کہی گئی ہے ۔ اس لئے اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ تو پڑھ لی جائے ۔ کیونکہ اس کی صراحت آگئی ہے ۔سورۃ فاتحہ کے بعد اور کوئی قرأ ت مقتدی نہ کرے ۔ تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے ۔
نماز وتر :
نماز ہونے کو تو ہو جائے گی  تاہم مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت الگ پڑھ کر وتر کی ایک رکعت ادا کی جائے یا تین  ایک ساتھ پڑھنی ہو ں تو پھر درمیان میں التحیات نہ پڑھی جائے ۔
"صلوٰة الليل مثنى مثنىٰ فاذ اخشى احد كم الصبح صلىٰ ركعة واحدة  توتر له ماقد صلى " (تحفة الاحوذي) ان عمر اوتر بثلث لم يسلم الافي اخرهن  (قيام الليل) عن عائشة قالت كان رسول الله ﷺ يوتر بثلاث لا يقعد الا في اخرهن وهذا وترا مير المؤمنين و في رواية  لايسلم في الركعتين من الوتر (تحفة الاحوذي شرح ترمذي)
تصنيفات للامام ابن قيم
اعلام الموقعین ، مدارج السالکین  ، حاوی الارواح الی بلاد الافراح : اغاثۃ اللہفان طریق الہجرتین ، وباب السعاذ تین ، تحفۃ  الورودنی احکام المولودج الجواب الکافی لمن  سال عن الددا الشانی  مجمع الز دائد ، سبل السلام ، الترغیب والترہیب ، نیل الاوطار ، تفسیر در منشور ، تغسیر جامع البیان تغسیر فتح القدیر ، ابن کثیر ، الخازن مع المدارک ، الطبقات ابکریٰ لابن سعد ، الملل و النحل ، الدرالختار ، المحلی لابن حزم بتحقیق احمد شاکر ، الدین الخالس ، کشف الغطاعن کتاب الموطا للنواب صدیق الحسن خان ، نور الہندایہ شرح و قایہ الوحید الزمان ، شرح المنار المسمیٰ بنور الانورار سیرت النبوی الابن ہشام ، مظاہر حق شرح مشکوٰۃ اردو۔
آپ اپنی کوئی کتاب بیچنا چاہیں تو ہمیں یاد فرمائیں۔
عبدالرحمان عاجز ۔ رحمانیہ دارالکتب امین پور بازار فیصل آباد ۔