تذکرۂ مولانا محمد یحییٰ جلال پوری
(۱۹۴۰ء۔۲۰۲۶ء)
وفیات
مولانا زکریا رفیق
مولانا محمد یحییٰ بن مولانا سلطان محمود محدث جلال پوری ؒ ۱۹۴۰ء میں جلال پور پیر والا، ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جنوبی پنجاب کے معروف محدث، مدرس اور اہلِ حدیث عالم تھے، جنھوں نے1934ء سے ۱۹۹۵ء کا طویل عرصہ تدریسِ حدیث کی خدمت انجام دی۔ مولانا سلطان محمود جلال پوریؒ کے نمایاں اساتذہ میں مولانا عبد الحق محدث الہاشمیؒ مہاجر مکی کا شمار ہوتا ہے۔
مولانا محمد یحییٰؒ کی والدہ عائشہ مشہور ’مقدمۂ بہاولپور‘ کی مدعیہ تھیں، متعدد دیوبندی اور اہلِ حدیث علماء نے عدالتی بحث میں حصہ لیا۔ بالآخر ہندوستان میں پہلی مرتبہ قانونی طور پر قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا ہے ۔ اسی بنیاد پر عائشہ بی بی کا نکاح فسخ ہوا ، پھر مولانا سلطان محمود سے ان کا عقد ثانی ہوا ۔ محمد یحییٰ ابھی اڑھائی برس کے تھے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے عصری تعلیم سرکاری اداروں سے حاصل کی، جب کہ دینی علوم، صحاحِ ستہ اور مدارس کی نصابی کتب اپنے والد ماجد اور دیگر اساتذہ سے پڑھیں۔ بعد ازاں عصری علوم کے لیے ایمَرسن کالج ملتان میں داخلہ لیا اور ۱۹۶۲ء میں پنجاب یونیورسٹی کے اورینٹل کالج سے عربی میں ایم اے کیا۔ ان کے اساتذہ میں پروفیسر عبد القیوم، ڈاکٹر صوفی ضیاء الحق اور سید ابوبکر غزنوی جیسے اہلِ علم شامل تھے۔ لاہور میں انھیں مولانا سید داؤد غزنوی کی صحبت سے بھی استفادہ کا موقع ملا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے تدریس کا آغاز کیا اور کچھ عرصہ رحیم یار خان میں عربی کے لیکچرر رہے۔ ۱۹۶۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے، بطورِ لیکچرر وابستہ ہوئے ۔ ۱۹۷۷ء میں نائجیریا چلے گئے، جہاں وزارتِ تعلیم میں خدمات انجام دینے کے بعد ایک یونیورسٹی کے شعبۂ عربی سے وابستہ ہوئے اور بعد ازاں اس شعبے کے سربراہ بھی مقرر ہوئے۔ نائجیریا میں انھیں عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تدریس کا موقع ملا۔ اس قیام نے ان کے علمی افق کو مزید بلندی عطا کی ۔ یوں انھیں افریقی مسلم معاشروں، ان کے دینی و سماجی حالات اور خصوصاً سکوٹو کی اصلاحی تحریک کے مطالعے کا موقع ملا۔ وہ سکوٹو کی تحریک کو عالمِ اسلام کی اصلاحی کوششوں کے لیے ایک قابلِ مطالعہ تجربہ سمجھتے تھے۔
1985ء میں پاکستان واپس آ گئے اور کچھ عرصہ تک اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بھی وابستہ رہے۔ پھر انہوں نے لاہور کو اپنی علمی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا ۔ جب دارالسلام ریاض (سعودی عرب ) نے لاہور (پاکستان ) میں اپنی شاخ کھولی تو اس کے ساتھ وابستہ ہوگئے ۔ یہاں انھوں نے مختلف علمی و تحقیقی منصوبے انجام دیے۔ صحیح مسلم کا اردو ترجمہ مع مختصر فوائد خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جو دارالسلام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوا۔مزید برآں دارالسلام کے ’’سیرت انسائیکلوپیڈیا‘‘ کی ابتدائی جلدوں کی علمی نگرانی میں شریک رہے اور اس کے لیے ایک ۷۸ صفحات پر مشتمل مفصل مقدمۂ سیرت بھی تحریر کیا۔ دارالسلام لاہور کی مسجد میں کئی سال خطبۂ جمعہ بھی دیتے رہے۔ بعد میں انھوں نے صحیح مسلم کی ایک مفصل شرح بھی تیار کی، جو ان کی زندگی میں طباعت کے مرحلے تک نہ پہنچ سکی۔ بعد ازاں دارالسلام سے وابستہ الرحمۃ انسٹی ٹیوٹ، واربرٹن کی سرپرستی کی اور دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کی کوششیں کیں۔
دارالمعارف، لاہور سے بھی ان کا گہرا علمی تعلق رہا۔ وہ تقریباً ۲۰۰۸ء سے وفات تک انجمن اہل حدیث لاہور کے جنرل سیکرٹری رہے۔’’دائرہ معارف سیرت محمد رسول اللہ ﷺ‘‘ کی علمی نگرانی فرماتے رہے ۔
مولانا محمد یحییٰ جلال پوری ؒ کا مزاج علمی و تحقیقی تھا۔ وہ قدیم دینی علوم کے ساتھ جدید سیاسی، سماجی اور ادبی مباحث سے بھی اچھی واقفیت رکھتے تھے۔ ان کی نثر صاف، شستہ، رواں اور عام فہم تھی۔ انھوں نے اخبارات میں کالم بھی لکھے اور پیغام ٹی وی کی علمی سرگرمیوں میں سرپرستی بھی کی۔
وہ خوش اخلاق، شائستہ، صاحبِ مطالعہ اور صاحبِ رائے انسان تھے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ تدریس، تحقیق، ترجمہ، خطابت اور علمی اداروں کی خدمت میں گزرا۔ آخری زمانے میں بیماری کے باعث کچھ عرصہ برطانیہ میں اپنے بچوں کے پاس مقیم رہے۔ ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶ء کو مانچسٹر میں وفات پائی اور وہیں سپردِ خاک ہوئے۔
مولانا محمد یحییٰ جلال پوری کی شخصیت میں علم، تدریس، تحقیق، وسعتِ مطالعہ، شائستگی اور علمی اعتدال کی جو صفات جمع تھیں، وہ انھیں اپنے معاصر اہلِ علم میں ایک ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔ ان کی خدمات کا دائرہ کسی ایک کتاب یا ادارے تک محدود نہیں بلکہ مختلف علمی اور تحقیقی میدانوں میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کی یاد ان کے شاگردوں، متعلقین، علمی کاموں اور بالخصوص صحیح مسلم کے اردو ترجمے اور سیرت کے علمی منصوبوں کی صورت میں دیر تک باقی رہے گی۔
اللّٰهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه۔ آمین۔