حوثی– سعودی تنازع؛ جڑیں، اسباب اور ممکنہ حل

اداریہ

 

حوثی– سعودی تنازع؛ جڑیں، اسباب اور ممکنہ حل

 

 حوثی– سعودی تنازع ، مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ محض سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان ایک فوجی کشمکش نہیں، بلکہ اس کے پیچھے یمن کی داخلی سیاسی تقسیم، اقتدار کی کشمکش، معاشی مسائل، علاقائی طاقتوں کے مفادات، سعودی عرب کی سرحدی اور قومی سلامتی کے خدشات اور ایران کے ساتھ علاقائی مسابقت جیسے متعدد عوامل کارفرما  ہیں۔ یمن میں حوثی تحریک نے 2014ء میں دارالحکومت ’صنعاء‘ پر کنٹرول حاصل کیا، جس کے بعد اِس بحران نے ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کی۔ مارچ 2015ء میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک اتحادی فوج نے یمن میں مداخلت کی۔

یہ تنازع  نہ مذہبی یا فرقہ وارانہ کشاکش  ہے اور نہ  سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان فوجی کشمکش ، بلکہ اس کے پیچھے یمن کی داخلی ،قبائلی اور  سیاسی تقسیم، اقتدار کی کشمکش، معاشی مسائل، علاقائی طاقتوں کے مفادات، سعودی عرب کی سرحدی اور قومی سلامتی کو لاحق خدشات کے علاوہ ایران کی حوثیوں کو فراہم کردہ سیاسی اور عسکری حمایت جیسے عناصر  شامل ہیں  ، جنہوں نے تنازع کو علاقائی سطح پر مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

یمن کے بارے میں قرآنی اشارات

سورۃ الفیل میں اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کا ذکر کیا ہے، جو بیت اللہ کو گرانے کے لیے آیا تھا۔ اہلِ صنعاء کی نظر میں اہلِ مکہ کی کیا وقعت تھی، وہ اُس کے اِس حملے  سے واضح ہے۔ اہلِ صنعاء اہلِ مکہ کو اس قدر حقیر خیال کرتے تھے کہ بیت اللہ کو گرانے کے لیے لشکر کشی کردی۔

یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت کے سال  571 ء کو پیش آیا ۔  اور یہ حملہ اس نے ملک حبشہ کی پراکسی کے طور پر کیا ۔  

سورۃ النمل  میں ارشاد ہے :       

﴿ نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍ﴾ [النمل: 23]

 ’’ہم  بڑے طاقتور اور سخت جنگجو ہیں۔‘‘

یہ سیدنا سلیمان   ؑ کا زمانہ ہے جو تقریباً ایک ہزار سال قبل مسیح ہے۔ اور یہ علاقہ’ سبا ‘کا ہے جو صنعاء سے
 قریباً 170 کلو میٹر مارب کی طرف ہے ۔

سورۃ سبا میں ارشاد ہے:

﴿لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِيْ مَسْكَنِهِمْ اٰيَةٌ جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ۰۰۱۵﴾ [سبأ: 15]

’’قوم ِسبا کے لیے ان کے مسکن میں ہی ایک نشانی موجود تھی۔ اس مسکن کے دائیں بائیں دو باغ تھے
( ہم  نے انھیں کہا تھا کہ) اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔پاکیزہ اور ستھرا  شہر ہے اور معاف فرمانے والا پروردگار۔‘‘

قرآن کریم کے تین مقامات سے میں نے آیات ذکر کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل یمن خوشحال ، متمدن ، اور خودسر قسم کے لوگ تھے۔ اسی زمانے میں اہل حجاز معاشی طور پہ کمزور ،غیر متمدن اور بدوقسم
کے لوگ تھے۔

 مسلمان ہونے کے بعد بھی ان کے لاشعور سے یہ سوچ مکمل طور پہ ختم نہ ہو سکی اور ان کا طرزِ عمل اس سوچ کا عکاس معلوم ہوتا ہے۔

حوثی تحریک کا پس منظر

حوثی تحریک، جسے’’ انصار اللہ ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، یمن کے شمالی علاقوں میں ایک مذہبی، سیاسی اور سماجی تحریک کے طور پر ابھری۔ اس تحریک کا تعلق بنیادی طور پر زیدی شیعہ برادری سے ہے، جو شمالی یمن کے بعض علاقوں میں تاریخی طور پر مضبوط رہی ہے۔ حوثی تحریک کی سیاسی سرگرمیاں 2000ء کی دہائی کے آغاز میں نمایاں ہوئیں اور اس نے صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کی۔ یاد رہے کہ علی عبداللہ صالح بھی زیدی شیعہ ہے۔

زیدی شیعہ 12 اماموں کو نہیں مانتے اور صحابہ دشمنی میں بھی ’اثنا عشری شیعہ‘ سے کم درجہ کی عداوت رکھتے ہیں  ،تاہم اس تحریک کا بانی بدر الدین حوثی ہے جس نے اس تحریک کی ابتداء ’صعدہ‘ سے کی ۔

اس نے زیدی مذہب کے احیاء کے نعرے تلے ایرانی خمینی انقلاب کی نقل کا ارادہ کیا اور 1997ء اور 2003ء کے دوران ایران چلا گیا ۔ اسی دوران ایرانی خمینی انقلاب کا اثر بدر الدین پہ گہرا ہو گیا ۔ اب یہ تحریک انقلاب ِخمینی ہی کا چربہ معلوم ہوتی ہے ۔

2011ء میں عرب دنیا میں عوامی احتجاج کی لہر (Arab Spring) یمن تک پہنچی۔ صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور ان کے نائب عبدربہ منصور ہادی نے عبوری طور پر اقتدار سنبھالا۔ خلیجی تعاون کونسل کی نگرانی میں سیاسی انتقال اقتدار کا ایک منصوبہ بنایا گیا، جبکہ اقوام متحدہ کی حمایت سے قومی مذاکرات کا عمل بھی شروع ہوا۔

تاہم یہ سیاسی عمل یمن کے تمام فریقوں کے درمیان اقتدار، آئینی نظام، علاقائی خودمختاری اور وسائل کی تقسیم کے مسائل حل نہ کر سکا۔ قومی مذاکرات کے اختتام تک متعدد اہم اختلافات برقرار رہے۔ اس سیاسی کمزوری نے حوثی تحریک کو اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کا موقع فراہم کیا۔

2014ء میں حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حوثیوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ انہوں نے قیمتوں میں کمی اور سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران حوثی جنگجوؤں نے صنعاء میں اپنا اثر بڑھایا اور بالآخر دارالحکومت پر قبضہ کر لیا۔ 2015ء کے آغاز میں صدر ہادی کی حکومت شدید دباؤ میں آگئی اور ہادی سعودی عرب چلے گئے۔

کیا یہ شیعہ سنی تنازع ہے؟

اس کا سادہ اور براہِ راست جواب ہے کہ ’’جی ہاں یہ شیعہ سنی تنازع ہے‘‘  اور اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ ’’جی نہیں یہ شیعہ سنی تنازع نہیں ہے‘‘ بلکہ اپنے مفادات اور علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ ہے۔

آئندہ سطور میں، میں یہ وضاحت کروں گا کہ یہ دونوں موقف کیسے درست ہیں۔

ایران نے حماس کو اپنی پراکسی بنایا حالانکہ وہ سنی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران اپنے مفادات کے لیے جس کسی کو استعمال کر سکے کر لیتا ہے۔ اسی طرح  حوثیوں میں سنی بھی
موجود ہیں۔

دوسری جانب اگر پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو انڈیا واضح طور پہ طالبان کو پاکستان کے خلاف بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے حالانکہ طالبان سنی ہیں اور پاکستان بھی سنی ہے۔ مگر چائنہ جو   مشرک لوگ ہیں،  ان کی پاکستان سے لا زوال دوستی  ہے۔

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ شیعہ سنی نے اس تنازع میں کیا گل کھلائے ہیں ؟

20ستمبر  ۲۰۱۴ء کو  علی رضا زاکانی جو تہران پارلیمنٹ میں ڈپٹی تھے نے ’’داسا ‘‘  ( ایران کی  خبر رساں ایجنسی ) کو بتلایا کہ صنعاء اب چوتھا عرب دار الخلافہ ہے جو ایرانی انقلاب میں شامل ہونے والا ہے ۔ اس سے قبل بغداد، دمشق اور بیروت ایرانی انقلاب میں شامل ہو چکے ہیں ۔

اور پھر واقعی اگلے دن یعنی 21 ستمبر 2014ء    کو صنعاء پہ حوثیوں کا قبضہ ہو گیا ۔ 29 اپریل 2016ء کو  ’’ نیویارک ٹائمز ‘‘کی اشاعت میں عبد ربہ منصور ہادی  یمن کے سابق صدر کا مضمون شائع ہوا

مضمون میں عبد ربہ منصور  ہادی نے ایران پر یمن کے بحران کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حوثی ملیشیا  (Non-state actors)خطے میں ایران کے اشاروں پہ چلنے والی اگلی حزب اللہ بن سکتی ہے۔ عالمی تیل سپلائی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ایران کی حکومت کو عام یمنیوں کی قسمت سے کوئی سروکار نہیں۔ اس کو خطے میں اپنی بالادستی سے مطلب ہے۔

7 جولائی 2022ء کو  وکالہ انباء السعودیہ نے برٹش نیوی کے حوالے سے بتلایا کہ انہوں نے جنوب ایران کے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی میزائلوں کی کھیپ پکڑی  گئی ہے،جو یمن کے حوثیوں کو  بھجوائے جا رہے تھے۔

2 مارچ 2023ء کو انادولو نیوز (ٹرکش نیوز) نے بتلایا کہ خلیج کے پانیوں میں ایرانی میزائلوں کی کھیپ پکڑی گئی ہے، جو یمن بھجوائے جا رہے تھے۔

تنازع کی بنیادی جڑیں

حوثی-سعودی تنازع کی جڑیں 2015ء کے فوجی آپریشن سے کئی دہائیاں پہلے کے یمنی مسائل میں
موجود ہیں:

1۔سیاسی عدم استحکام

یمن کئی برسوں سے کمزور سیاسی اداروں، اقتدار کی کشمکش اور قبائلی و علاقائی تقسیم کا شکار رہا ہے۔ 2011ء کے بعد سیاسی انتقالِ اقتدار کے باوجود ایک ایسا نظام قائم نہیں ہوسکا جس سے  تمام اہم گروہ مطمئن ہوسکتے ۔

2۔شمال اور جنوب کی تقسیم

یمن تاریخی طور پر شمالی اور جنوبی سیاسی اکائیوں میں تقسیم رہا ہے۔ 1990ء میں دونوں حصے متحد ہوئے، مگر اتحاد کے بعد بھی سیاسی اور معاشی اختلافات برقرار رہے۔ جنوبی یمن میں علیحدگی پسند تحریکیں بھی موجود رہیں، جس سے ملک کے اندرونی تنازع میں ایک اور فریق کا اضافہ ہوا۔

3۔معاشی مشکلات

غربت، بے روزگاری، کمزور بنیادی ڈھانچہ، خوراک اور ایندھن کی مشکلات نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا۔ 2014ء میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ  حوثیوں کی احتجاجی مہم کے فوری عوامل میں شامل تھا۔

4۔قبائلی اور علاقائی سیاست

یمن میں قبائلی تعلقات سیاسی طاقت کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ مختلف قبائل اور مقامی گروہوں نے مختلف اوقات میں مختلف سیاسی قوتوں کا ساتھ دیا۔ اس وجہ سے تنازع محض دو فریقوں کے درمیان جنگ نہیں رہا بلکہ کئی مقامی اور علاقائی قوتیں اس میں شامل ہوگئیں۔

حوثیوں کا باطنی خبث  

حوثی ملیشیا کا شعار، یا نعرہ یا منشور یہ ہے :

الله اكبر، الموت لأمريكا، الموت لإسرائيل، اللعنة على اليهود، النصر للإسلام

’’  اللہ اکبر ۔ مرگ بر امریکہ ۔ مرگ بر اسرائیل ۔ یہود پہ لعنت۔ اسلام کی نصرت ‘‘۔

ایک طرف یہ ان کا نعرہ ہے مگر دوسری جانب یہ کہتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کے بحری جہازوں پہ حملہ نہیں کریں گے صرف سعودیہ کے بحری جہازوں پر حملے کریں گے ۔

یہ معاملہ بالکل ایران کے پاسدارانِ انقلاب جیسا ہے جس پہ حملہ تو اسرائیل اور امریکہ نے کیا ہے مگر ان کے میزائل اسرائیل سے 4/5 گنا زیادہ عرب ممالک میں تباہی پھیلاتے ہیں ۔

حملہ تو امریکہ اور اسرائیل نے کیا ہے مگر ہرمز  سے عربوں کے بحری جہازوں کا گزرنا بھی بند کر دیا ہے ۔ اصل ناکہ بندی تو عربوں کی ہوئی ۔ امریکہ اور اسرائیل تو آ بنائے پرمز کو اتنا استعمال ہی نہیں کرتے ۔ مثلاً قطر - بحرین اور کویت کی 100 فیصد بحری تجارت یہیں سے ہوتی ہے۔ کوئی دوسرا رستہ موجود ہی نہیں  ہے ۔

فلسطینی کاز  کا اصل چیمپئن کون؟

اقوام متحدہ کے اجلاس منعقدہ 1947 ء کے ایجنڈا میں مسئلہ فلسطین بھی شامل تھا ۔ جس کے نتیجے میں بلاد شام یعنی ارض فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا ۔ اس موقع پہ فلسطین کے متعلق  سعودی عرب کا پہلا باضابطہ کردار سامنے آیا ۔جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس 28 ؍اپریل تا 15 ؍مئی  1947ء میں تقسیمِ فلسطین کی مخالفت کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اپنا موقف دیا کہ ’فلسطین عرب زمین ہے ۔ وہاں یہودی ریاست قائم کرنا ظلم ہے جس کے نتیجے میں جنگ اور بدامنی ہوگی ۔‘

سعودی عرب کے فلسطینی کاز کی حمایت کے لیے اقدامات میں تسلسل ہے جو مالی ،  معاشی،  سیاسی اور  عسکری وغیرہ تمام جوانب کو محیط  ہے ۔ چونکہ یہ ہمارا اصل موضوع نہیں ہے لہذا یہاں صرف ایک حوالہ ہی دیا گیا ہے ۔ تفصیل کے لیے جنوری 2026 کے محدث  میں شائع شدہ ڈاکٹر آصف جاوید کے آرٹیکل ’’مسئلہ فلسطین پر سعودی عرب کا ہمہ جہتی کردار‘‘ کا مطالعہ کیا جائے ۔

حوثیوں کی جارحیت کی موجودہ لہر کے پیچھے  اسرائیل ہے

بہت سارے عسکری ماہرین کے تجزیےسننے کے بعد  میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں :

آیئے سب سے پہلے قرآن سے پوچھتے ہیں ۔

﴿ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ وَ يَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا ﴾[المائدة: 64]

’’ جب بھی یہ لوگ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے ۔ یہ ہر وقت زمین میں فساد کرنے میں لگے رہتے ہیں ‘‘۔

آیت کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کا یہ  فسادی گروہ  جنگ بھڑکانے کا کام  اکثر  کرتے ہیں ۔ حالیہ  برس ستمبر  میں حوثیوں نے جس برق رفتاری سے باب المندب اور ملحقہ جزائر پہ قبضہ کرکے آبی گزرگاہ کا کنٹرول حاصل کیا اس سے اشارہ ملتا ہے کہ انہیں کہیں سے سپورٹ مہیا ہوئی ہے ۔

عام طور پہ کسی بھی  ملیشیا (Non State actors) کی یہ صفت ہوتی ہے کہ کوئی بھی انہیں مالی امداد کے نام پہ بطور پراکسی استعمال کر لیتا ہے ۔ مالی امداد انہیں درکار ہوتی ہے کیونکہ  ان کے ذاتی وسائل معدوم ہوتے ہیں۔

اس ستمبر کے جارحانہ اقدامات کے دوران ایک خاص بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ حوثیوں نے سینکڑوں نئی ٹویوٹا ہائی لکس گاڑیاں استعمال کی ہیں۔  آگے کے کیبن میں حوثی  بیٹھے ہوتے ہیں اور پیچھے مشین گن یا دوسرا اسلحہ لوڈ کیا ہوتا ہے ۔ فور ویل گاڑی انہیں کچے پکے اور پہاڑی راستوں میں سہولت دیتی ہے ایک طرف تو نئی ٹویوٹا ہائی لکس ہیں ، جبکہ دوسری جانب ان کی عام حالت اتنی خستہ ہے کہ فوجی  وردی تو دور  کی بات ہے ڈھنگ کے بوٹ بھی میسر  نہیں ہیں۔اس سے اشارہ ملتا ہے کہ کسی گروہ نے انہیں یہ گاڑیاں مہیا  کی  ہیں اور جنہوں نے انہیں گاڑیاں مہیا کی  ہیں  وہ  انہیں اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

یہ منظر صرف یمن میں ہی نہیں نظر آتا بلکہ اس سے پہلے عراق، شام ،سوڈان، لیبیا میں بھی دیکھا گیا ہے ۔  اس سے معلوم ہوا کہ سعودی  عرب کو ابراہیم اکارڈ  قبول نہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

سعودی عرب کے مداخلت کرنے کی وجوہات

مارچ 2015ء میں سعودی عرب نے دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں فوجی کارروائی شروع کی۔ سعودی نقطہ نظر سے اس مداخلت کے کئی بنیادی مقاصد تھے:

1۔قومی سلامتی

یمن سعودی عرب کا جنوبی ہمسایہ ہے اور دونوں ممالک کی 1450 کلومیٹر  طویل سرحد ہے۔ حوثیوں کے یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول کے بعد سعودی عرب کو یہ خدشہ لاحق  ہوا کہ اس کی جنوبی سرحد پر ایک ایسا مسلح گروہ مضبوط ہوسکتا ہے جو مستقبل میں سعودی علاقے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

2۔  میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ

جنگ کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب پر  میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں نے سعودی عرب کے لیے سرحدی اور داخلی سلامتی کے خدشات میں اضافہ کیا۔ اس صورتحال نے تنازع کو صرف یمن کی داخلی جنگ تک محدود نہیں رہنے دیا  بلکہ سعودی سرزمین کی سلامتی کا مسئلہ بھی بنا دیا۔

3۔ ایران کا علاقائی کردار

سعودی عرب اور ایران کئی برسوں سے مشرق وسطیٰ میں مختلف سیاسی اور سلامتی کے معاملاتی پر ایک دوسرے کے مقابل رہے ہیں۔ حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات اور مبینہ عسکری معاونت نے سعودی خدشات میں اضافہ کیا۔ تاہم ماہرین کے مطابق حوثی تحریک کو صرف ایران کی کٹھ پتلی قرار دینا یمن کے اندرونی سیاسی اور تاریخی عوامل کو نظر انداز کرنا ہوگا؛ حوثیوں کی اپنی مقامی سیاسی اور عسکری بنیاد بھی
موجود ہے۔

4۔  یمن کی حکومت کی حمایت

سعودی قیادت میں  قائم  فوجی اتحاد نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کی فوجی مداخلت کا مقصد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کرنا اور حوثیوں کو مزید پیش قدمی سے روکنا ہے۔ دوسری جانب حوثیوں اور ان کے حامیوں نے سعودی مداخلت کو یمن کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت قرار دیا۔

سعودیہ اور ایران کو ایک ہی پلڑے میں ڈالنا ظلم ہے

اکثر تجزیہ نگار یہ کہتے ہوئے پائے جارہے ہیں کہ ’’اگر ایران یمن میں مداخلت کر رہا ہے تو سعودیہ بھی تو کر رہا ہے۔‘‘  یہ تقابل انتہائی معصومانہ انداز میں کیا جاتا ہے، لیکن  یہ تو  حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنے والی بات ہے۔ ایک طرف ایران کا یمن کے ساتھ کوئی بارڈر نہیں لگتا ، یمن کے معاملات کا ایران سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، جبکہ یمن کے بگڑتے حالات سے سعودی عرب براہ راست متأثر ہوتا ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ سعودی عرب وہاں کی منتخب اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا تعاون کرتا ہے  جس کا نتیجہ وہاں کی معیشت کی بحالی اور امن و امان کا قیام ہے ، جبکہ ایران وہاں پر حکومت مخالف گروہوں کو جنگی سامان مہیا کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہاں پر بغاوت ابھرتی  اور امن و امان  خراب ہوتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ایران وہاں شورش برپا کررہا ہے اور سعودیہ وہاں پر قیام امن کے لیے کوشاں ہے ، دونوں کیونکر  یکساں ہوسکتے ہیں !!!

یمن میں امن صرف یمنی عوام کے لیے نہیں بلکہ سعودی عرب، خلیجی خطے، بحیرہ احمر اور پوری عالمی تجارت کے لیے بھی اہم ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب کی سلامتی کا معاملہ اب یمن کی جنگ کو ایک وسيع تر علاقائی اور عالمی مسئلہ بھی بنا چکا ہے۔

حوثیوں کا سد باب کیسے ؟

حوثیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے صرف جنگی صلاحیت اور قوت کافی نہیں ، صرف بارود سے انہیں شکست دینا ممکن نہیں جیسا کہ دیگر دہشت گرد گروہوں کو صرف جنگ میں شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس کے لیے سیاسی ، سفارتی ، معاشی اور سماجی اقدامات کی ضرورت ہو گی ۔ یہ دہشت گرد جھوٹے پروپیگنڈے اور غلط بیانیے کے ذریعے اپنے لیے مزید افراد بھرتی  کرتے ہیں لہذا ان کے بیانیے کو نا کام کرنے کے لیے میڈیا کمپین ضروری ہے۔ جس میں علماء کرام اپنا کردار ادا کریں اور دلائل سے ان کے بیانیے کو ردّ کریں۔

گذشتہ صفحات میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ایران نے اس جتھےکو میزائل اور ڈرون مہیا کیے ہیں۔ ایران سے اگر سعودی عرب کے تعلقات بہتر ہوں تو یہ سمگلنگ رک سکتی ہے۔ یہ ریسرچ ہونی چاہیے کہ حوثیوں کو ٹیوٹا ہائی لیکس گاڑیاں کس ذریعے سے ملی ہیں۔ اس نیٹ ورک کو بے نقاب اور نا کام کیا جائے ۔ اسی طرح یہ بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ انہیں مالی تعاون کون مہیا کر رہا ہے۔ اس پر کریک ڈاؤن ہونا چاہیے۔

خوشیوں کا مؤثر سد باب کرنے کے لیے ایک جامع سیاسی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ یمن کے تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پے لایا جائے۔ اقوام متحدہ اور علاقائی ممالک کو اس ضمن میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایسا معاہدہ کیا جائے جس میں ملک کی خود مختاری، قومی وحدت اور عوام کے حقوق کی ضمانت ہو۔

اس نکتہ پے پہنچنے کے لیے یمن کی معاشی بحالی ضروری ہے۔ غربت، بے روزگاری اور بد امنی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہوا ہے۔ اگر یمن میں تعلیم ، روز گار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائی جائے تو مسلح گروہوں کے اثر ورسوخ میں کمی لائی جاسکتی ہے۔                               (انجینئرحافظ عتیق الرحمن کیلانی  ۔ الریاض)

 

اس نکتہ پے پہنچنے کے لیے یمن کی معاشی بحالی ضروری ہے۔ غربت، بے روزگاری اور بد امنی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہوا ہے۔ اگر یمن میں تعلیم ، روز گار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائی جائے تو مسلح گروہوں کے اثر ورسوخ میں کمی لائی جاسکتی ہے۔                               (انجینئرحافظ عتیق الرحمن کیلانی  ۔الریاض)