تحفظِ حرمین شریفین سیمینار

اداریہ

تحفظِ حرمین شریفین سیمینار

 

آج کی دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ہرریاست دیگر ممالک کے ساتھ متعدد جہتوں میں تعلقات رکھتی ہے۔ بعض تعلقات ہمسائیگی کی بنیاد پر اور بعض نظریات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، جن میں چین اور سعودی عرب سرفہرست ہیں۔ چین پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور طویل عرصے سے مختلف امور کے حوالے سے دونوں ممالک کا باہمی تعاون اور اشتراک جاری ہے۔سعودی عرب اگرچہ ہمارا ہمسایہ ملک نہیں، لیکن دینی تعلق کی وجہ سے اس کے ساتھ پاکستان کی خصوصی قربت پائی جاتی ہے۔

قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان میں کوئی بھی سیاسی حکومت رہی ہو، پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات خوشگوار رہے ہیں اور ان میں کسی قسم کا انقطاع نہیں آیا۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے بہت سے لوگ روزگار کی تلاش میں سعودی عرب میں آباد ہیں، اور مختلف اداروں اور صنعتوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ بہت سے پاکستانی ڈاکٹرز اور انجینئرز سعودی عرب  کے اہم سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہاں پر مقیم لاکھوں پاکستانی ، جب اپنے ملک میں زرمبادلہ بھیجتے ہیں تو اس سے پاکستان کی معیشت کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں سعودی عرب کی مختلف یونیورسٹیز  میں بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہاں  سے ہر سال سینکڑوں طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرکے وطن واپس لوٹتے ہیں اور مختلف پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی جامعات میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی سعودی عرب کے تعلیمی اداروں میں بھی درس و تدریس کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے بھی سعودی عرب اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کرتا آیا ہے۔ 1977ء میں جب قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی ڈیڈلاک پیدا ہوا اور پورا ملک سیاسی اعتبار سے عدم ِ استحکام کا شکار ہو گیا تو اس وقت پاکستان میں متعین سعودی سفیر نے اس ڈیڈلاک کے خاتمے اور سیاسی معاملات کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

پاکستان جب بھی کسی قدرتی آفت کی لپیٹ میں آیا، سعودی عرب نے برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے ہمیشہ پاکستان کی بھرپور مدد کی۔ شمالی علاقوں اور بالاکوٹ میں آنے والے 2005ء کے زلزلے کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کو بحالی کے لیے خطیر رقم بطور امداد دی۔ اس سے قبل جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے پاکستان پر شدید سفارتی اور معاشی دباؤ تھا تو پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے سعودی عرب نے بھرپور کردار ادا کیا۔

شاہ فیصل مرحوم ، دنیائے اسلام کو درپیش سیاسی مسائل کے حل میں  غیر معمولی دلچسپی  رکھتے تھے۔ وہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے خصوصی طور پر کوشاں رہتے تھے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر انہوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ شاہ فیصل مرحوم کی شہادت جہاں سعودی عرب کے لیے ایک المناک خبر تھی، وہیں اہلِ پاکستان نے بھی  اس پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات میں اُس وقت ایک نیا رنگ پیدا ہوا جب 7 اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ’’ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے ‘‘ پر دستخط کیے۔

اس تاریخی معاہدے کے تینوں فریق دنیائے اسلام میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان اللہ کے  فضل سے جوہری طاقت رکھنے والا واحد اسلامی ملک ہے اور گزشتہ سال آپریشن ’’بنیانٌ  مرصوص ‘‘ اور ’’ معرکہ حق ‘‘   کے دوران پاکستان کی عسکری و  دفاعی صلاحیت پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے۔ اسی طرح سعودیہ  بھی عالمِ اسلام کا نمایاں ترین ملک ہے، جس کے ساتھ حرمین شریفین کی وجہ سے عالمِ اسلام کی غیر معمولی وابستگی ہے۔

ترکیہ بھی عالمِ اسلام کا ایک نمایاں ملک ہے اور کئی یورپی اقوام کے مقابلے میں اسے ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ ترکیہ پاکستان کے دیرینہ دوستوں میں شامل ہے ۔ پاک ترک تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔

مذکورہ تینوں ممالک کا دفاع کے لیے یکسو ہو جانا یقیناً عالمِ اسلام کے لیے مسرت اور خوشی کی خبر تھی۔ اس دفاعی معاہدے کی وجہ سے جہاں عالمِ اسلام کو تقویت حاصل ہوئی، وہیں مسلم امت کے مخالفین میں بھی
 بے چینی پیدا ہوئی۔ اس معاہدے کی وجہ سے  بھارت اور اسرائیل میں غیر معمولی تشویش پائی جاتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے بعد اعلیٰ سطحی روابط بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ البتہ اس معاہدے کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا اور اب یہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں کہ پاکستان اپنی سیاسی اور عسکری ساکھ کی وجہ سے نہ صرف امتِ مسلمہ کے دفاع میں کردار ادا کرے گا ، بلکہ امت کے دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کرے گا۔ ان شاء اللہ!

اس معاہدے میں ابتدائی طور پر تین ممالک شامل ہوئے ہیں، لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ایام میں مزید ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوں گے، جس سے امتِ مسلمہ دفاعی اعتبار سے بڑے اور مؤثر بلاک کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور پاکستان کو بھی عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان وفود کا تبادلہ بھی جاری رہتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور عسکری ذمہ داران اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سربراہان و ذمہ داران سعودی عرب کے سرکاری دوروں پر جاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے بھی نمایاں شخصیات پاکستان تشریف لاتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں جب کبھی سعودی عرب سے کسی معزز مہمان کی آمد ہوتی ہے تو پاکستان کے دینی حلقوں کی طرف سے انہیں گرمجوشی کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے۔

ماضی میں بہت سے ائمہ ٔ حرمین پاکستان تشریف لا چکے ہیں، جن میں شیخ عبدالرحمن السدیس، شیخ صالح الحمید، شیخ صلاح البدیر اور دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ، جب شؤونِ حرمین کے مدیر شیخ صالح الحمید پاکستان تشریف لائے تو مجھے بھی ان سے ملاقات کرنے کا موقع ملا اور بہت سے علمی موضوعات پر تبادلۂ خیال ہوا۔

ہر سال ستمبر کے آخری عشرے میں سعودی عرب اپنے قومی دن کے حوالے سے دنیا کے مختلف مقامات پر اہم تقریبات کا انعقاد کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے، جس میں دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ اس موقع پر جہاں پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا جاتا ہے، وہیں ملک کے مختلف طبقات کو مل بیٹھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور یہ تقریب ایک کل جماعتی کانفرنس کا نقشہ پیش کرتی نظر آتی ہے۔

پاک سعودی تعلقات دینی اور نظریاتی بنیادوں پر استوار ہیں اور ان کی پختگی میں مسلمانوں کی حرمین شریفین سے وابستگی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے حرمین شریفین کے امن و تحفظ کے حوالے سے ، دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہمیشہ سے  مثبت اور مخلصانہ جذبات  پائے جاتے ہیں۔

کچھ عرصے سے سعودی عرب کو دفاعی حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جہاں سعودی عرب اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہیں مسلم ممالک کو بھی اس حوالے سے معاونت کرنی چاہیے تاکہ سرزمینِ حرمین شریفین کے امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ دنیا کے ہر ملک سے جانے والے حاجی اور عمرہ زائرین اگر کسی بھی قسم کی بدامنی یا دہشت گردی کا شکار ہوں گے تو اس کے نتائج نہ صرف سعودی عرب کے امن پر مرتب ہوں گے بلکہ عالمِ اسلام پر بھی منفی اثرات پڑیں گے۔

پاک سعودی تعلقات مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اب جس مقام پر پہنچ چکے ہیں، اس کا بھی تقاضا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ دوستی اور اخوت کے اس رشتے کو آنے والے وقت میں مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

بعض عناصر اس موقع پر پاکستان کی ریاستی اور خارجہ پالیسی کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور سعودی عرب پر جارحیت کرنے والے گروہ کے ساتھ برابر کی سطح پر تعلقات استوار کرنے کی بات کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ گروہ یمن کی سیاسی اور تسلیم شدہ حکومت کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے خلاف بھی شدید جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ کیا مسلح بغاوت کرنے والے کسی گروہ اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو ایک ہی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے؟ کوئی بھی عقلمند اور باشعور انسان اس رویے اور طرزِ عمل کی حمایت نہیں کر سکتا۔

اسی پس منظر میں یکم اکتوبر 2026ء  کو صبح دس بجے،  قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام جامعہ لاہور الاسلامیہ ، مرکز بیت العتیق، لاہور میں عظیم الشان  ’’  تحفظ ِ حرمین شریفین سیمینار ‘‘منعقد ہوا۔ سیمینار کی میزبانی وائس چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان اور قائم مقام رئیس جامعہ لاہور الاسلامیہ  ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی ﷾ نے کی، جبکہ اس پروگرام  کی سرپرستی ڈاکٹر  حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾  اور ان کے برادرِ اصغر  مولانا حافظ عبدالوحید روپڑی﷾ نے فرمائی۔ سیمینار کی صدارت کی ذمہ داری راقم الحروف نے انجام دی، جبکہ نقابت کے فرائض ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد اور ڈاکٹر صلاح الدین نے ادا کیے۔سیمینار میں مختلف دینی جماعتوں کے قائدین، علمائے کرام، مدارس کے مدیران اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

صدارتی خطاب کے دوران، راقم  نے سامعین کے سامنے اپنی گزارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ

’’ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی عشروں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات ہر دور میں مثالی رہے ہیں۔ دنیا بھر، بالخصوص پاکستان سے، مسلمان بڑی تعداد میں حرمین شریفین کی زیارت کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ اگر اس مقدس خطے میں بدامنی پھیلائی گئی تو اس سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری امتِ مسلمہ میں تشویش پیدا ہوگی۔

بلادِ حرمین شریفین کے امن و استحکام کو یقینی بنانا حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہے، جبکہ ترکیہ اور دیگر ممالک کو بھی اس سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون اور اس کی حمایت کرنی چاہیے۔ سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی بدامنی ناقابلِ قبول ہے۔

حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان، ملک کی دیگر دینی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ مل کر اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے، تاہم اگر یہ معاہدہ نہ بھی ہوتا تو  بھی حرمین شریفین کا تحفظ ہر مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے‘‘۔

امیر جماعت اہلِ حدیث حافظ عبدالغفار روپڑی ﷾نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

 ’’حرمین شریفین کے تحفظ پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ مکہ معاہدہ کے تحفظ، حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کی حمایت کیلئے  عوامی سپورٹ، میڈیا اور بیداری کانفرنسوں کی ضرورت ہے‘‘۔

صدر جمعیت اہلِ حدیث علامہ ہشام الٰہی ظہیر ﷾نے کہا کہ

’’ اگر سعودی عرب کو ضرورت پیش آئی تو پاکستان کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں ہوگی‘‘۔

مرکزی مسلم لیگ کے رہنما مولانا امیر حمزہ ﷾نے کہا کہ

 ’’حرمین شریفین کا تحفظ صرف سعودی عرب کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ جنگی حالات میں حرمین کی پاسبانی ہمارا فرض ہے ‘‘۔

مرکزی جماعت اہلِ حدیث کے سربراہ حافظ زبیر احمد ظہیر﷾ نے کہا کہ

’’ محض باتوں سے نہیں، عملی میدان میں یکجہتی دکھانی ہوگی ۔ہم ماضی میں بھی حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے یکسو رہے ہیں اور آئندہ بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ‘‘۔

مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے مرکزی رہنما پروفیسر یاسین ظفر﷾ نے کہا کہ

’’دینی ادارے بھی حرمین شریفین کے تحفظ کے سلسلے میں کسی صورت پیچھے نہیں رہیں گے‘‘۔

جامعہ لاہور الاسلامیہ کے سابق شیخ الحدیث  مولانا رمضان سلفی ﷾ نے فرمایا   کہ

’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تقریباً چار ہزار سال قبل مکہ مکرمہ میں توحید کا پہلا مرکز تعمیر کیا ۔اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود آج وہاں    لاکھوں زائرین کی آمد اللہ کے وعدے کی سچائی ہے۔ انہوں نے حرمین کے تحفظ  کے لیے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اتحاد کو مثبت پہلو قرار دیا اور  اس بات پر زور دیا کہ تمام مسلمانوں اور اہل علم کو حرمین شریفین کی ناموس کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی  رہنما مولانا غضنفر عزیز ﷾ نے کہا کہ

 ’’ حرمین شریفین کا تحفظ کسی حکومت یا گروہ سے وابستگی نہیں، بلکہ اسلامی عقیدے کا تقاضا اور تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر امتِ مسلمہ کے اتحاد کا بنیادی محور ہے ‘‘۔

نائب صدر و مشیر امور خارجہ، جمعیت اہل حدیث پاکستان ڈاکٹر حافظ ابو بکر ﷾(اسلام آباد)نے سعودی عرب کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ

نحن خلفاؤكم في باكستان، نحن من كنا معكم في كل خطوة، ونحن كنا معكم في كل العهود من التاريخ، تاريخنا يشهد على ذلك، عندما كانت تهب الرياح ضد المملكة، كنا واقفين شامخين بقوة ومحبة، وعلى أساس ديني وثقة تامة.

’’ہم پاکستان میں آپ کے جانشین ہیں، ہم وہ لوگ ہیں جو ہر قدم پر آپ کے ساتھ رہے ہیں، اور تاریخ کے ہر دور میں   ہم آپ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مملکت کے مخالف ہوائیں چلیں، ہم پوری قوت، محبت، دینی بنیادوں اور کامل اعتماد کے ساتھ ثابت قدمی سے ڈٹ کر کھڑے رہے ۔ ‘‘

قرآن و سنہ  موو منٹ کے راہنما  ڈاکٹر علامہ منیر احمد  وقار ﷾ نے واضح کیا کہ

’’حرمین کی عظمت کا ذکر خود خالقِ کائنات نے قرآن میں فرمایا ہے۔ انہوں نے سورۃ الفیل

﴿ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ ﴾

کے تناظر میں بتایا کہ جس نے بھی اللہ کے گھر پر حملے کی جسارت کی،  اسے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

سیمینار سے شیخ الحدیث  حافظ مسعود عالم،  شیخ الحدیث  محمد شفیق مدنی،شیخ الحدیث  مولانا عبدالرشید تونسوی،   ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی، ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد،قاری سید محمد علی ہاشمی ،  ڈاکٹر مطیع اللہ باجوہ، مولانا عتیق الرحمن علوی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور حرمین شریفین کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔

تحفظِ حرمین شریفین کے حوالے سے مقررین کی تقاریر پر شرکاء نے بھرپور جوش و جذبے کا اظہار کیااور سعودی عرب کو یہ پیغام دیا کہ ہم سب ان کے شانہ بشانہ کھڑے تھے اور کھڑے رہیں گے ان شاء اللہ۔ یوں یہ سیمینار اپنے جلو میں بہت سی خوبصورت یادیں لیے  اپنے اختتام کو پہنچا۔                          (حافظ ابتسام الٰہی ظہیر )