ایک اور ہدی خواں اُٹھ گیا
(حافظ محمد ادریس کے سوانح حیات)
سوانح حیات
ڈاکٹر حافظ فہد اللّٰہ مراد
تحریک اسلامی کا وہ قافلہ جو ہندو پاک کے بیابانوں سے اُٹھا اور پوری دنیا کو اپنا اسیر کرگیا، اب اپنے قابل رشک فرزندوں سے خالی ہوتا جارہا ہے۔امیر العظیمؒ کا داغِ مفارقت کازخم ابھی تازہ ہی تھا کہ ستمبر کے اکیسویں روز سیدِ مودود کا ایک اور لاڈلا نماز بندگی کی تکمیل کے دوران ہی متاع جسم و جان سمیت حضور حق میں پہنچ گیا۔ اس دراز قد، روشن چہرے اور سفید ریش چاک و چوبند بزرگ کا اسم گرامی حافظ محمد ادریس تھا۔لفظِ حافظ ان کے خاندانی نام کے ساتھ اس طرح جڑا کہ اس کے بغیر اس شخصیت کی پہچان ہی ممکن نہ رہی۔ قرآن کے ساتھ یہ تعلق بچپن سے ہی اس قدر والہانہ تھا کہ جب تک اسے لوحِ قلب پر نقش نہ کرلیا بے سکون رہا اور سفر محبت کی یہ پہلی منزل اس طرح طے کی کہ زندگی کا حوالہ بن گئی۔ اس کے بعد زندگی بھر قرآن سے وابستگی ہی ان کا سب سے بڑا تحریکی تعارف بنا۔ یہ خوش نصیب شخص گجرات کے ایک مذہبی گھرانے میں 1945ء کو پیدا ہوئے۔ نو سال کی عمر میں حفظ قرآن کی ابتدائی تعلیم سے فراغت پا کر عصری تعلیم کی طرف راغب ہوئے تو اپنی بے پناہ ذہانت کی بدولت بورڈ کے امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کرکے سلور میڈل کے مستحق قرار پائے اور بہ طور انعام تعلیمی وظیفے سے نوازے گئے۔ یہ 1963ء کا سن تھا؛ یہی وہ سال ہے جس میں یہ فیصلہ کیا کہ ان ذہانتوں کے صرف کرنے کی بہترین جگہ دین کی دعوت اور اس زمین پر اس کے کلمے کی سربلندی ہے لہٰذا وہ ’ اسلامی جمعیت طلبہ‘ میں شامل ہو گئے ۔ ان کی ذہانت، اخلاص اور غلبۂ حق کے لیے کی جانے والی بے پناہ محنت نے بہت جلدانھیں اس قافلے کے سالاروں میں شامل کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور آتے ہی جمعیت لاہور کے ناظم کے ساتھ ساتھ جمعیت کی مرکزی شوریٰ کے رکن منتخب ہوگئے۔ 1967ء تک اس ذمہ داری کو بہ حسن و خوبی ادا کرتے رہے۔ ساتھ ساتھ کامل محنت سے تعلیمی جستجو بھی جاری رہی اور اسی برس گورنمنٹ کالج لاہور سے امتیازی درجے میں گریجویشن کی تکمیل کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ جناب حافظ ادریس بدوِ شعور ہی سے یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ ان کی زندگی کا مطمع نگاہ اور صلاحیتوں کا تنہا مصرف غلبۂ دین کی کاوشیں ہیں، اس لیے اعلیٰ تعلیم کے لیے دیگر بہت سارے امکانات کو مسترد کرکے علوم دینیہ اور عربیہ کی تعلیم کے لیے خود کو وقف کردیا اور پنجاب یونی ورسٹی میں ایم اے عربی میں داخلہ لے لیا۔ ستر کی دہائی میں پنجاب یونی ورسٹی اورینٹل کالج جن اساتذہ کے دم سے آباد تھا، ان میں عالم اسلام کے بہت بڑے محقق علما شامل تھے جن میں سرفہرست حضرت علامہ سید العجم والعرب فی اللغہ والأدب مولانا عبدالعزیز میمن تھے۔ ان کے علاوہ برِعظیم کے نامور محقق، ادیب اور اُستاد ڈاکٹر سید محمد عبداللہ، صوفی ضیاء الحق، پروفیسر عبدالقیوم اور نوجوان عربی دان ڈاکٹر ظہور احمد اظہر شامل تھے۔ یہ ایسا ماحول تھا کہ ہر طرف علم و ادب کی نہریں رواں تھیں جس سے مستفید ہونے کے لیے حافظ محمد ادریس نے خود کو وقف کیا ہوا تھا لیکن اس کے پہلو بہ پہلو تحریکی وابستگی بھی عروج پر تھی۔ ادھر مشرقی پاکستان میں جمعیت کے قائدین پر تشدد شروع ہوا اور اسی دوران عبدالمالک شہید کی شہادت کا حادثہ پیش آگیا جس پر حافظ محمد ادریس نے سٹوڈنٹ قائد کے طور پر ایک احتجاج کے دوران حکومت مخالف تقریر کی اور مارشل لا کے تحت گرفتار کرلیے گئے۔ ایامِ اسیری نے اتنی طوالت کھینچی کہ اسی دوران ایم اے عربی کے امتحانات کا وقت آن پہنچا۔ جیل ہی سے امتحان میں شمولیت اختیار کی اور اس قدر نمبر حاصل کیے کہ یونی ورسٹی کی جانب سے گولڈ میڈل سے نوازے گئے۔ عربی کی تعلیم سے فراغت کے بعد پنجاب یونی ورسٹی میں ہی ایم اے اسلامیات میں داخلہ لیا اور علامہ علاؤ الدین صدیقی، پروفیسر حافظ احمد یار، ڈاکٹر ملک محمد اسلم اور ڈاکٹر جمیلہ شوکت جیسے نادرۂ روزگار اساتذہ سے فیض یاب ہوئے۔ اسی دوران پنجاب یونی ورسٹی طلبہ یونین کے انتخابات آگئے اور آپ یونی ورسٹی کے صدر کے لیے جمعیت کی طرف سے نام زد کیے گئے۔ اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے تمام سیکولر اور کمیونسٹ طلبہ قوتوں کو شکستِ فاش سے دوچار کیا اور پنجاب یونی ورسٹی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ 1971ء میں ایم اے اسلامیات کی تکمیل کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھا اور ساتھ ہی طلبہ سیاست کو بھی خیرباد کہہ دیا اور 1971ء میں ہی جماعت اسلامی کی رکنیت کا حلف اُٹھا کر آیندہ زندگی اسی دعوت کے لیے وقف کردی۔ آپ کی تحریری کاوشوں کا آغاز تو زمانۂ اسیری میں ہوچکا تھا جو بعد میں ’’روشنی کے مینار‘‘ اور ’’رحمان کے سائے میں‘‘ کے نام سے طبع ہوا۔ اسی ذوق کی بنا پر جماعت کے نظم میں آتے ہی تحقیق و تصنیف کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سید مودودیؒ کے ایما پر تفہیم القرآن کا موضوعاتی اشاریہ مرتب کیا جسے مولانا نے بے پناہ پسند فرمایا۔ آپ کی انھی علمی صلاحیتوں اور عربی، انگریزی زبانوں کے ساتھ گہرے شغف کی بنیاد پر سید مودودیؒ نے آپ کو تحریک کی عالمی دعوت کے لیے منتخب کیا اور افریقہ بھیج دیا، جہاں قریباً بارہ برس تک آپ اسلامک فاؤنڈیشن، کینیا کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے دعوتی اور انتظامی خدمات انجام دیتے رہے۔ افریقہ میں آپ کے دعوتی کاموں کا دائرہ خاصا وسیع رہا ہے۔ معروف انگریزی مجلے ’’الاسلام‘‘ کے ادارتی بورڈ کے ممبر رہے، جہاں سے تحریری کام انجام پاتا تھا اس کے ساتھ دعوتی وفود، قرآن کلاسز اور لٹریچر کے حلقات میں بھی سرگرم رہتے تھے۔ اللہ نے آپ کو یہ اعزاز بخشا کہ کئی غیر مسلم آپ کے ہاتھ پر کلمۂ شہادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ 1985ء میں دوبارہ پاکستان منتقل ہوئے اور جماعت کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مقرر کردیے گئے۔ بعد ازاں لمبے عرصے تک صوبہ پنجاب میں نظامت کی ذمہ داری بھی ادا کی۔ آپ نے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر کے طور پر تقریباً آٹھ برس گزارے؛ ملک کے طول و عرض میں ہر وقت دعوتی اور تنظیمی امور میں مصروف رہتے۔ ان اجتماعی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ کا رشتہ قلم و قرطاس سے کبھی نہیں ٹوٹا۔ لہٰذا جب دعوتی اور تنظیمی امور سے فراغت پا کر منصورہ لوٹتے تو گھر نہیں بیٹھتے تھے بل کہ جماعت کے تصنیفی اور تحقیقی ’’ادارۂ معارف اسلامی‘‘ میں مسند نشین ہوجاتے اور زبانِ قلم سے دعوت کا آغاز کردیتے۔ آپ نے تقریباً چودہ برس تک ادارۂ معارف اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ جہاں بیٹھ کر کئی تصنیفات اور دعوتی کتابچے نذر قارئین کیے۔ راقم جب کبھی ادارۂ معارف اسلامی کی لائبریری سے استفادے کے لیے منصورہ جاتا تو حضرت حافظ صاحب کو وہاں موجود پاتا۔ یہ بات بھی پیش نگاہ رہے کہ حضرت حافظ محمد ادریس صاحب کا بنیادی مزاج دعوتی تھا، اس لیے آپ کے تحریری سرمایے پر بھی علمی کی بجاے دعوتی رنگ غالب ہے۔ آپ تحریر کو دعوت کا ذریعہ سمجھتے تھے، اس کے لیے آپ ہر سطح کے قارئین کے لیے لکھتے۔ آپ کے تخلیق کردہ ادب کا ایک حصہ نونہالانِ اُمت اور نوجوانانِ ملت کے گرد
گھومتا ہے؛ گویا کہ اُمت کی تعلیم و تربیت کے لیے آپ اپنی بلند تر علمی سطح کو بھی قربان کردیتے تھے۔ یہاں پر ہم اپنی ایک طالب علمانہ شکایت کیے دیتے ہیں کہ لمبے عرصے تک ادارۂ معارف اسلامی کی سربراہی کے باوصف اپنی تنظیمی اور دعوتی مصروفیات کے سبب ادارے میں بہت قابل قدر علمی کام نہیں کرواسکے خصوصاً سید مودودیؒ کی وفات کے بعد جو علمی اور تصنیفی خلا پیدا ہوگیا تھا اور جماعت کو مسلسل علمی رہ نمائی کی بھی ضرورت تھی، اس کی بنیادی ذمہ داری ادارۂ معارف اسلامی کی ہی تھی۔ پھر نائن الیون کے بعد پاکستان میں خصوصاً اور عالم اسلام میں عموماً ایک تہذیبی شفٹ بہت تیزی سے آیا۔ اس میں سب سے زیادہ جس طبقۂ اہل علم سے علمی اور تہذیبی رہ نمائی کا تقاضا کیا جاسکتا تھا، وہ جماعت اسلامی اور اس کا تصنیفی و علمی مرکز ادارۂ معارف اسلامی ہی تھا لیکن یہ نہ ہوسکا؛ اگر ایسا ہوجاتا تو اُمت کی طرف سے ایک فرض کی ادائیگی بھی ہوتی ، تحریک اسلامی کو نئی زندگی اور روشنی بھی میسر آتی اور یہ آپ کی حسنات کا بہت
بڑا حصہ ہوتا۔ آپ کی دعوتی زندگی کا مرکز زیادہ تر قرآن کریم رہا۔ اس لیے جماعت میں آپ کے دروس قرآن، تفسیر قرآن اور خلاصۂ مضامین قرآن کا شہرہ تھا۔ عام طور پر اجتماعات اور تربیت گاہوں میں درس قرآن کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد ہوتی۔ ایسے ہی رمضان المبارک میں نماز تراویح کے بعد جامع مسجد منصورہ میں سالہا سال تک آپ مضامین قرآن کا خلاصہ بیان کرتے رہے۔ ہم بارگاہِ الٰہی میں التجا کرتے ہیں کہ قرآن کریم آخرت میں آپ کے لیے انیس و غم خوار بن جائے۔ آپ نے صدقۂ جاریہ کے طور پر جہاں ہزاروں کارکنان کی تربیت کی ہے، وہاں ستر کے قریب کتابیں بھی آپ کے لیے مایۂ آخرت ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر آپ کی وہ نیک اولاد ہے کہ جنھیں آپ اپنی زندگی میں ہی تحریک اسلامی کے کاموں میں لگا گئے تھے۔ جن میں ایک بڑے بیٹے جناب داؤد ادریس اس وقت تنظیم جماعت پنجاب میں ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ جناب ڈاکٹر حافظ ہارون ادریس جو جواں عمری میں ہی خدا کے حضور پیش ہوگئے اور اپنے بوڑھے باپ کو ہمیشہ کے لیے اُداس کرگئے، جن کی یادوں کی تھکن ہر وقت حافظ صاحب کی شخصیت پر بکھری رہتی تھی اور شاید انھی کے ساتھ ہمیشہ رہنے کے لیے آپ بھی ان کے پاس سدھار گئے ہیں۔ ایسے ہی فریحہ داؤد اور نواسے محتشم لبیب بھی آپ کی یادوں کا گلشن ہیں لیکن آپ کی اور تحریک اسلامی کی آیندہ تمناؤں کا مرکز آپ کے جاں نثار پوتے حافظ طلحہ ادریس ہیں جن سے ہمیں بھی اور خود حافظ صاحب مرحوم کو بھی بے پناہ اُمیدیں تھیں۔ احساس یہ ہوتا تھا کہ وہ عمر بھر کا تحریکی تجربہ اور اپنی ساری تمنائیں اِن کے سپرد کرکے، اپنے بعد ساری تحریکی ذمہ داریاں انھیں منتقل کرکے اپنے حقیقی گھر سدھار گئے ہیں۔ اللہ کریم پورے خاندان کو اس صدمے کو سہنے کے قابل کردے اور حضرت حافظ صاحب کو اعلیٰ علیین میں ان کے رفقا اور محبوبوں کے گروہ میں شامل فرمائے؛ آمین!