غلو اور انتہاپسندی کے بعض مظاہر
فکر و منہاج
غلو اور انتہا پسندی کے بعض مظاہر
حافظ خضر حیات
دینی معاملات میں شریعت کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا ،نہ صرف فرد کو اعتدال کی راہ سے ہٹا دیتا ہے بلکہ مجموعی طور پر معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا امتیازی وصف میانہ روی ہے۔ قرآن کریم نے شریعتِ محمدی کے پیروکاروں کو ’’امتِ وسط ‘‘ قرار دیا اور نبی اکرم ﷺ نے دین میں غلو سے صراحتاً منع فرمایا ہے۔ اس لیے غلو کی حقیقت اور عصرِ حاضر میں اس کے مظاہر کا ذکر ایک اہم علمی ضرورت ہے، تاکہ امت اپنے مبنی بر اعتدال کردار کو برقرار رکھ سکے۔
اصل موضوع پر گفتگو سے پہلے غلو کی لغو ی و اصطلاحی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
غلو کی لغوی و اصطلاحی تعریف
غلو کے مختلف معانی ہیں، جن میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ کسی بھی چیز میں حد سے بڑھ جانا اور حدود کو کراس کرنا۔ جیسا کہ ابن فارسؒ لکھتے ہیں:
الغين واللام والحرف المعتل، أصل صحيح يدل على ارتفاع ومجاوزة قدر[1].
’’مادہ (غ ل و)اصلاً بلندی اور حد سے تجاوز کرنے پر دلالت کرتا ہے۔‘‘
دیگر علمائے لغت نے بھی اسی مفہوم کو واضح کیا ہے۔
الغُلُوُّ: تَجَاوُزُ الحَدِّ، يُقَالُ ذَلِكَ فِي السِّعْرِ، وَفِي القَدْرِ، وَفِي الاعْتِقَادِ وَالمَنَازِلِ.
’’غلو حد سے تجاوز کرنے کا نام ہے، یہ قیمت، مقدار اور عقائد و مراتب سب میں حد سے بڑھنے کے لیے بولا جاتا ہے[2]۔‘‘
وَالْغُلُوُّ: الْمُبَالَغَةُ فِي الشَّيْءِ وَالتَّشْدِيدُ فِيهِ بِتَجَاوُزِ الْحَدِّ [3].
’’غلو کسی بھی چیز میں مبالغہ کرنا اور حد سے تجاوز کر کے اس میں سختی برتنا ہے۔‘‘
اصطلاحی طور پر دین میں غلو سے مراد ’دینی تعلیمات کی ایسی سمجھ بوجھ یا عمل ہے ،جو اس کے اصل مفہوم سے ہٹ کر حد سے تجاوز کر جائے۔‘
فیومیؒ فرماتے ہیں:
غلا في الدين غلوا من باب قعد: تصلب وتشدد حتى جاوز الحد، وفي التنزيل: ﴿ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ ﴾ [النساء: 171]
’’ غلا فی الدین غلواً ’’ باب قَعَدَ ‘‘ سے ہے۔ یعنی اس قدر سختی اور شدت اختیار کرنا کہ معاملہ حد سے گزر جائے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
’’اپنے دین میں غلو نہ کرو۔‘‘
یعنی غلو عقائد و اعمال میں اس شدت کا نام ہے جو شریعت کی مقرر کردہ حدود سے آگے بڑھ جائے۔ شریعت نے جو حدود مقرر کی ہیں، ان کا پاس و لحاظ ہی اعتدال ہے اور ان سے تجاوز کرنا غلو ہے۔
قرآن کریم نے متعدد مقامات پر دین میں غلو سے منع فرمایا ہے۔ سورۃ النساء میں اہلِ کتاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا:
’’اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو۔‘‘
سورۃ المائدۃ(آیت ۷۷) میں بھی اسی مفہوم کی تاکید موجود ہے۔ ان آیات کی تفسیر میں مفسرین نے بتایا کہ غلو عقیدے کی غلط فہمیوں، خواہشاتِ نفس کی پیروی اور دین کی سمجھ میں کمی کے باعث پیدا ہوتا ہے اور اس کا قرآنی علاج اعتدال یعنی وسطیت ہے۔
حدیث نبوی ﷺ میں بھی ارشاد ہوا:
إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ[4].
’’دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ بھی دین میں غلو کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے تھے۔‘‘
عربی زبان میں تشدد، تنطع، تطرف وغیرہ الفاظ بھی غلو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ، قَالَهَا ثَلَاثاً.
’’تنطع (غلو، بال کی کھال نکالنے اور بے جا شدت برتنے) والے ہلاک ہو گئے ۔آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ متواتر فرمائی[5]۔‘‘
اہلِ علم نے اس حدیث کی تشریح میں کہا ہے کہ غلو کا مطلب دین میں سختی اختیار کرنا اور حد سے بڑھ جانا ہے۔اور اس حد سے مراد وہ حدود ہیں جو شریعت نے مقرر کی ہیں۔
غلو کے دو رخ: افراط اور تفریط
غلو بعض دفعہ ’افراط ‘کی صورت میں ہوتا ہے اور بعض دفعہ ’تفریط‘ کی صورت میں۔ عام تصور یہ ہے کہ غلو صرف ’شدت‘ کا نام ہے، حالانکہ دین سے بے توجہی اور تساہل بھی شریعت کی حدود سے نکل جانے ہی کی ایک صورت ہے۔
جو چیز مقررہ حد سے بڑھ جائے وہ ’زیادتی‘ ہے اور جو اس سے کم رہ جائے وہ ’کوتاہی ‘ہے اور اعتدال ان دونوں کے درمیان کی بہترین راہ ہے، جبکہ یہ دونوں انتہائیں ہی مذموم ہیں۔ اسی لیے عصرِ حاضر میں دو متضاد رویے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف شدت پسند، متشدد اور حرفیت پسند گروہ ہے ۔اور دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو دین کے بنیادی اصولوں سے ہی غافل ہے۔ دونوں ہی قرآن و سنت کے متوازن پیغام سے ہٹے ہوئے ہیں۔
اسی معنی کی وضاحت کرتے ہوئے مطرف بن عبد اللہ فرماتے ہیں:
الحسنة بين السيئتين.
’’نیکی دو برائیوں کے درمیان ہوتی ہے۔[6] ‘‘
یہاں دو برائیوں سے مراد ایک افراط اور دوسری تفریط ہے۔
حسن بصری سے منقول ہے: السنة بين الغالي والجافي[7].
’’سنت غلو کرنے والے اور جفا کرنے والے کے درمیان (کا راستہ) ہے۔‘‘
امام ابن قیم نے بڑی خوبصورت بات بیان فرمائی ہے:
وَمَا أَمَرَ اللهُ بِأَمْرٍ إِلَّا وَلِلشَّيْطَانِ فِيهِ نَزْغَتَانِ: إِمَّا تَقْصِيرٌ وَتَفْرِيطٌ، وَإِمَّا إِفْرَاطٌ وَغُلُوٌّ؛ فَلَا يُبَالِي بِمَا ظَفِرَ مِنَ الْعَبْدِ مِنْ هَاتَيْنِ الخَطِيئَتَيْنِ[8].
’’ اللہ عزوجل نے کسی بھی بات کا حکم نہیں دیا مگر اس میں شیطان کے دو وسوسے ( اور راستے ) ہوتے ہیں: یا تو کوتاہی و تفریط کی طرف لے جانا، یا پھر زیادتی اور غلو کی طرف لے جانا۔(اور) شیطان کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ وہ ان دونوں گناہوں میں سے کس کے ذریعے بندے پر قابو پا لے۔‘‘
غلو اور مبالغہ میں فرق
’مبالغہ‘ کا تعلق عموماً اظہار سے ہوتا ہے۔ یعنی کلام یا بیان میں کسی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔ یہ لغوی و ادبی سطح پر ایک فنی صفت اور ادبی صنف ہے جو کہ بذاتِ خود ہمیشہ مذموم نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس غلو کا تعلق دین کے معاملے میں اعتقاد اور عمل کی حدوں کو پامال کرنے سے ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مبالغہ جب تک حقیقت کے اظہار کا ذریعہ ہے قابلِ تحمل ہے، لیکن جب یہی مبالغہ دینی معاملات میں حد سے تجاوز بن جائے تو وہ ’غلو‘ ہے۔ گویا غلو ہر صورت میں مذموم ہے۔ جبکہ مبالغہ اس وقت تک مذموم نہیں، جب تک حقیقت کے دائرے میں رہے۔ ہاں حقیقت سے تجاوز کرنے کی صورت میں وہ بھی غلو کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔
غلو درحقیقت تساہل ہے اور تساہل در حقیقت غلو ہے
اس بات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ جو شخص ایک سمت میں حد سے بڑھ جاتا ہے وہ عملاً دوسری سمت کی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتا ہے۔ جو شخص دوسروں کو متشدد یا اہلِ بدعت قرار دینے میں غلو کرتا ہے، وہ درحقیقت فرائض وسنن سے لاپرواہی کا شکار ہوتا ہے۔’ اعتدال ‘وہ راہ ہے جو نہ انتہا پسندی کی طرف مائل ہو اور نہ کوتاہی و غفلت کی طرف۔ کیونکہ یہ دونوں رویے صراطِ مستقیم سے ہٹے ہوئے اور دین کے منصفانہ و متوازن پیغام کے منافی ہیں۔
شخصیت میں توازن، اعتدال اور حلم کا تقاضا ہے کہ دوسروں کو تشدد و بے صبری کا طعنہ بھی نہ دیا جائے، اسی طرح ایسی گفتگو بھی نہ کی جائے، جس پر غیر متوازن لوگوں کے جذبات بھڑکتے ہوں، اور دینی اعتبار سے اس کا کوئی فائدہ بھی نہ ہو۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ حقیقی علم والے دوسروں کو جہالت کے طعنے نہیں دیتے، خاندانی حسب و نسب اور مال والے دوسروں کو ملنگ فقیر اور کمی کمین کہہ کر نہیں پکارتے!
یہ وہ تشدد ہے جس میں عموماً انسان اعتدال و توازن کے نام پر مبتلا ہو جاتا ہے اور غلط فہمی میں رہتا ہے کہ بس دوسرے ہی راہِ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں۔
یہاں یہ سمجھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ کسی فرد یا گروہ پر ’’متساہل ‘‘ یا ’’متشدد ‘‘ کا حکم لگانا بظاہر دوسرے کی کیفیت بیان کرنا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خود متکلم کی پوزیشن واضح کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی شخص ناحق یہ کہہ دے کہ فلاں متساہل ہے یا فلاں متشدد ہے، تو وہ دراصل بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ خود غلط جگہ کھڑا ہے اور چیزوں کو غلط انداز سے پرکھ رہا ہے۔ اس لیے کسی پر حکم لگانے سے پہلے حقیقت کی مکمل چھان بین اور احتیاط ضروری ہے، کیونکہ یہی رویہ غلو کی جڑ ہے۔
عصر ِحاضر میں غلو کے بعض مظاہر
غلو کسی ایک شکل تک محدود نہیں؛ یہ عقیدے، عمل، جذبے اور تعلق کے ہر شعبے میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ کبھی تکفیر کی صورت اختیار کرتا ہے، کبھی تبدیع و تجریح کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی اتحاد اور رواداری کے نام پر دین کی حدود مٹاتا ہے، کبھی فرقہ واریت کی مذمت کے بہانے نیا فرقہ بن جاتا ہے، کبھی نصوص کی اتباع کے دھوکے میں ظاہریت پرستی کی طرف لے جاتا ہے، کبھی منہجِ سلف کے بیان میں شدت کا روپ دھارلیتا ہے، کبھی حق کی تائید ، باطل کی تردیداور دفاعِ صحابہ و اہل بیت کے نام پر حد سے بڑھ جاتا ہے، کبھی حکمرانوں کی اطاعت کے مسئلے میں شدت پیدا کرتا ہے اور کبھی تنظیم سازی کے معاملے میں تعصب کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ ذیل میں عصر حاضر کے تناظر میں ان میں سے چند اہم مظاہر کا جائزہ لیا جارہا ہے:
1۔تکفیر میں غلو
تکفیر یعنی’’ کسی مسلمان کو کافر قرار دینا ‘‘غلو کی خطرناک ترین صورتوں میں سے ایک ہے، کیونکہ اہلِ سنت کا منہج تکفیر سے باز رہنے اور مسلمان کے بارے میں حسنِ ظن قائم رکھنے کا ہے۔ بعض شدت پسند گروہ گناہ گار مسلمانوں، شریعت کی روشنی میں فیصلے نہ کرنے والے حکمرانوں ، ان حکمرانوں کے ماتحت رہنے والوں اور یہاں تک کہ اسلامی تنظیموں سے نکلنے والوں کو بھی کافر قرار دے دیتے ہیں۔ انتہا پسندوں کا یہ سلسلہ حکمرانوں کی تکفیر سے شروع ہو کر معاشرتی اداروں اور پوری معاشرتی اکائیوں تک پھیل چکا ہے ، جس سے امت کی وحدت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ تکفیر ایسا نازک معاملہ ہے جس کے اثرات الزام لگانے والے اور جس پر الزام لگایا گیا، دونوں پر پڑتے ہیں۔اور آج بہت سے مسلمان بغیر تحقیق کے اس سنگین الزام کا نشانہ بن رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا [9].
’’جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے: ’اے کافر!‘ تو ان دونوں میں سے ایک اس (کفر) کے ساتھ لوٹتا ہے ۔‘‘
ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
وَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يُكَفِّرَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ أَخْطَأَ وَغَلِطَ حَتَّى تُقَامَ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ، وَتُبَيَّنَ لَهُ الْمَحَجَّةُ، وَمَنْ ثَبَتَ إِسْلَامُهُ بِيَقِينٍ لَمْ يَزُلْ ذَلِكَ عَنْهُ بِالشَّكِّ، بَلْ لَا يَزُولُ إِلَّا بَعْدَ إِقَامَةِ الْحُجَّةِ وَإِزَالَةِ الشُّبْهَةِ.
’’کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو کافر قرار دے، اگرچہ اس نے غلطی یا خطا ہی کیوں نہ کی ہو، جب تک کہ اس پر حجت قائم نہ کر دی جائے اور واضح راستہ کھول کر بیان نہ کر دیا جائے۔ اور جس کا اسلام یقین کے ساتھ ثابت ہو چکا ہو وہ محض شک و شبہ کی بنا پر زائل نہیں ہوتا، بلکہ صرف قطعی حجت قائم ہونے اور شبہ دور ہو جانے کے بعد ہی زائل ہوتا ہے۔‘‘[10]
غلو کی اس صورت میں مبتلا ہونے والے متشددین بدترین تضاد کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ایک طرف تشدد و تنطع میں مبتلا ہو کر مسلمانوں پر تکفیر کے فتوے لگاتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کفر اور اس کی ایجنسیوں کے آلۂ کار بن جاتے ہیں۔
2۔ تبدیع و تجریح میں غلو
تبدیع یعنی ’’کسی کو بدعتی قرار دینا‘‘ اور تجریح یعنی ’’کسی پر تنقید و جرح کرنا‘‘، یہ دونوں اہلِ علم کے نزدیک مخصوص اصولوں، شرائط اور ضوابط کے پابند امور ہیں۔ عصر ِحاضر میں غلو کی ایک صورت یہ ہے کہ بلا تحقیق افراد کو بدعتی اور مجروح قرار دے دیا جاتا ہے اور معمولی اختلافِ فہم کو بدعت و ضلالت سے جوڑ دیا جاتا ہے، ’تاویلِ سائغ‘ یا ’خلافِ معتبر‘ کو نظر انداز کرتے ہوئے مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تکفیر، تبدیع اور تجریح کی یہی بے ضابطہ سرگرمیاں دین کی متوازن تعلیمات کے منافی ہیں۔
اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی اکثریت ہر وقت رد و قدح میں مبتلا رہتی ہے، بلکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر وہ شخص جس سے اللہ رب العالمین کوئی دینی خدمت لیتا ہے، یہ اس کے درپے ہو جاتے ہیں، اس کی بے شمار خوبیوں کو چھوڑ کر اس کی چند خامیاں اچھالنا ان کے نزدیک دین و منہج کی خدمت قرار پاتا ہے۔
حالانکہ معتبر اہل علم کا اس حوالے سےرویہ مختلف تھا، ذیل میں اس حوالے سے کچھ اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں۔
حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
وَلَوْ أَنَّ كُلَّ مَنْ أَخْطَأَ فِي اجْتِهَادِهِ - مَعَ صِحَّةِ إِيمَانِهِ، وَتَوَخِّيهِ لِاتِّبَاعِ الْحَقِّ - أَهْدَرْنَاهُ، وَبَدَّعْنَاهُ، لَقَلَّ مَنْ يَسْلَمُ مِنَ الْأَئِمَّةِ مَعَنَا! رَحِمَ اللَّهُ الْجَمِيعَ بِمَنِّهِ وَكَرَمِهِ [11].
’’اگر ہم ہر اس شخص کو، جس سے اجتہاد میں کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو — بایں ہمہ کہ اس کا ایمان درست ہو اور وہ حق کی پیروی کا متلاشی ہو — ساقط الاعتبار قرار دینے لگیں اور اسے بدعتی کہہ دیں، تو ہمارے ائمہ میں سے شاید ہی کوئی محفوظ بچے! اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے سب پر رحم فرمائے۔‘‘
امام محمد بن نصر المروزیؒ (متوفی 294ھ) کے تذکرے میں جب حافظ ابن مندہؒ نے ان کے بعض اقوال پر سخت گرفت کی، تو امام ذہبیؒ نے یہ تاریخی جملہ لکھا:
وَلَوْ أَنَّا كُلَّمَا أَخْطَأَ إِمَامٌ فِي اجْتِهَادِهِ فِي آحَادِ المَسَائِلِ خَطَأً مَغْفُوراً لَهُ؛ قُمْنَا عَلَيْهِ، وَبَدَّعْنَاهُ، وَهَجَرْنَاهُ، لَمَا سَلِمَ مَعَنَا لَا ابْنُ نَصْرٍ، وَلَا ابْنُ مَنْدَه، وَلَا مَنْ هُوَ أَكْبَرُ مِنْهُمَا! وَاللهُ هُوَ هَادِي الخَلْقِ إِلَى الحَقِّ، وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَنَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الهَوَى وَالفَظَاظَةِ[12].
’’اگر ہم ہر اس موقع پر کہ جب کسی امام سے فروعی وجزوی مسائل میں اجتہاد ی غلطی سرزد ہو جائے جو (ان کے اخلاص کی وجہ سے) معاف شدہ ہے، ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور انہیں بدعتی قرار دینے لگیں اور ان کا بائیکاٹ (ہجر) کرنے لگیں؛ تو ہمارے پاس نہ ابن نصر محفوظ بچیں گے،
نہ ابن مندہ، اور نہ ان دونوں سے بڑے ائمہ! اور اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کو حق کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے، پس ہم افتاد طبع اور سنگ دلی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔‘‘
امام قتادہ بن دعامہ السدوسیؒ (متوفی 117ھ) کے تذکرے میں جب ان کی طرف تقدیر کے مسئلے میں ایک تاویل کی نسبت کا ذکر آیا، تو امام ذہبیؒ کا رویہ ملاحظہ کریں، فرماتے ہیں:
وَكَانَ يَرَى القَدَرَ - نَسْأَلُ اللهَ العَفْوَ -، وَمَعَ هَذَا، فَمَا تَوَقَّفَ أَحَدٌ فِي صِدْقِهِ، وَعَدَالَتِهِ، وَحِفْظِهِ، وَلَعَلَّ اللهَ يَعْذُرُ أَمْثَالَهُ مِمَّنْ تَلَبَّسَ بِبِدْعَةٍ يُرِيدُ بِهَا تَعْظِيمَ البَارِي وَتَنْزِيهَهُ، وَبَذَلَ وُسْعَهُ، وَاللهُ حَكَمٌ عَدْلٌ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ...
’’اور وہ تقدیر کے معاملے میں تاویل کے قائل تھے — ہم اللہ سے عفو و درگزر مانگتے ہیں — لیکن اس کے باوجود کسی ایک نے بھی ان کی سچائی، عدالت اور حفظِ حدیث میں مقام و مرتبے کے اعتراف میں توقف نہیں کیا۔ شاید اللہ تعالیٰ ان جیسے لوگوں کو معذور سمجھے جو اللہ رب العالمین کی تعظیم اور تنزیہ بیان کرنے کی غرض سے کسی بدعت و انحراف میں مبتلا ہو گئے اور انہوں نے اس میں اپنی پوری وسعت صرف کر دی؛ اور اللہ تو عادل اور بندوں پر مہربان ہے...‘‘
اسی طرح فرماتے ہیں:
ثُمَّ إِنَّ الكَبِيرَ مِنْ أَئِمَّةِ العِلْمِ إِذَا كَثُرَ صَوَابُهُ، وَعُلِمَ تَحَرِّيهِ لِلْحَقِّ، وَاتَّسَعَ عِلْمُهُ، وَظَهَرَ ذَكَاؤُهُ، وَعُرِفَ صَلَاحُهُ وَوَرَعُهُ وَاتِّبَاعُهُ، يُغْفَرُ لَهُ زَلَّهُ، وَلَا نُضَلِّلُهُ وَنَطْرَحُهُ وَنَنْسَى مَحَاسِنَهُ؛ نَعَمْ، وَلَا نَقْتَدِي بِهِ فِي بِدْعَتِهِ وَخَطَئِهِ، وَنَرْجُو لَهُ التَّوْبَةَ مِنْ ذَلِكَ[13].
’’پھر ائمہ علم میں سے وہ بلند پایہ ہستی جس کی درست باتیں بکثرت ہوں، حق کی تلاش اس کا شیوہ ہو، اس کا علم وسیع ہو، اس کی ذہانت نمایاں ہو، اور اس کا تقویٰ، پرہیزگاری اور اتباعِ سنت معروف ہو؛ تو اس کی لغزش معاف کر دی جاتی ہے، ہم نہ تو اسے گمراہ قرار دے کر پھینک سکتے ہیں اور نہ اس کے محاسن و خوبیوں کو فراموش کرسکتے ہیں۔ ہاں! ہم اس کی بدعت یا غلطی میں اس کی پیروی نہیں کریں گے، لیکن اس کے لیے اس غلطی سے توبہ و مغفرت کی امید رکھیں گے۔‘‘
مشہور محدث ابو ذر الہرویؒ کے تذکرے میں فرماتے ہیں:
وَالحَاذِقُ إِذَا خَاضَ فِي شَيْءٍ فَرُبَّمَا زَلَّتْ قَدَمُهُ، وَمَنْ ذَا الَّذِي مَا سَاءَ قَطُّ؟![14]
’’اور بڑا ذہین اور ماہر عالم بھی جب کسی باریک مسئلے میں غوطہ زن ہوتا ہے تو بسا اوقات اس کا پاؤں پھسل جاتا ہے؛ اور بھلا وہ کون ہے جس سے کبھی کوئی غلطی سرزد ہی نہ ہوئی ہو؟!‘‘
علامہ ابن حزم الاندلسیؒ کے تذکرے میں ان کے شذوذ اور بعض کلامی و فقہی تفردات پر گرفت کے ساتھ ان کے علم اور اخلاص کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَلِي أَنَا مَيْلٌ إِلَى أَبِي مُحَمَّدٍ؛ لِمَحَبَّتِهِ فِي الحَدِيثِ الصَّحِيحِ، وَمَعْرِفَتِهِ بِهِ، وَإِنْ كُنْتُ لَا أُوَافِقُهُ فِي كَثِيرٍ مِمَّا يَقُولُهُ فِي الرِّجَالِ وَالعِلَلِ، وَالمَسَائِلِ البَشِعَةِ فِي الأُصُولِ وَالفُرُوعِ، وَأَقْطَعُ بِخَطَئِهِ فِي غَيْرِ مَا مَسْأَلَةٍ، وَلَكِنْ لَا أُكَفِّرُهُ، وَلَا أُضَلِّلُهُ، وَأَرْجُو لَهُ العَفْوَ وَالمُسَامَحَةَ وَلِلْمُسْلِمِينَ، وَأَخْضَعُ لِفَرْطِ ذَكَائِهِ وَسَعَةِ عُلُومِهِ[15].
’’اور میرا ابو محمد (ابن حزم) کی طرف میلان ہے، کیونکہ انہیں حدیثِ صحیح سے دلی محبت تھی اور اس کی معرفت تھی؛ اگرچہ میں ان کی بہت سی باتوں سے متفق نہیں ہوں جو انہوں نے راویوں کے احوال، عللِ حدیث اور اصول و فروع کے بعض عجیب و غریب مسائل میں کہی ہیں، بلکہ مجھے ان کے متعدد مسائل میں غلطی پر ہونے کا قطعی یقین ہے؛ لیکن اس کے باوجود میں نہ تو ان کی تکفیر کرتا ہوں اور نہ انہیں گمراہ قرار دیتا ہوں، بلکہ ان کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ سے عفو و درگزر کی امید رکھتا ہوں اور ان کی بے پناہ ذہانت اور علوم کی وسعت کے آگے سر تسلیم خم کرتا ہوں۔‘‘
اسی طرح امام ابو حامد الغزالیؒ کے تذکرے میں فرماتے ہیں:
الغَزَّالِيُّ إِمَامٌ كَبِيرٌ، وَمَا مِنْ شَرْطِ العَالِمِ أَنَّهُ لَا يُخْطِئُ... وَمَا زَالَ الأَئِمَّةُ يُخَالِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضاً، وَيَرُدُّ هَذَا عَلَى هَذَا، وَلَسْنَا مِمَّنْ يَذُمُّ العَالِمَ بِالهَوَى وَالجَهْلِ[16].
’’غزالی ایک عظیم امام ہیں، اور عالم ہونے کی یہ شرط نہیں ہے کہ اس سے کبھی کوئی غلطی ہی نہ ہو!... ہمیشہ سے ائمہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے آئے ہیں اور ایک دوسرے پر نقد و رد کرتے رہے ہیں، لیکن ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو کسی عالم کی مذمت نفسانی خواہش یا جہالت کی بنیاد پر کرتے ہیں!‘‘
حافظ ابنِ عساکر کا ایک مقولہ زبان زد عام ہے:
لُحُومُ الْعُلَمَاءِ مَسْمُومَةٌ، وَعَادَةُ اللَّهِ فِي هَتْكِ أَسْتَارِ مُنْتَقِصِيهِمْ مَعْلُومَةٌ [17].
’’علماء کا گوشت زہریلا ہے، اور ان کی تنقیص کرنے والوں کے پردے چاک کرنے کے بارے میں اللہ کا ضابطہ (سب پر )عیاں ہے۔‘‘
گو اس کو بھی ہر کوئی اپنے من پسندیدہ علماء کے بارے میں ہی ذکر کرتا ہے، لیکن عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام اہلِ علم کا درجہ بہ درجہ احترام و ادب بجا لایا جائے، ان کی غلطیوں پر تنبیہ کی جائے، لیکن ان کی شخصیت پر بازاری جملے بازی اور زبانِ طعن دراز نہ کی جائے!
3۔اتحاد و اتفاق اور رواداری کے نام پر غلو
اتحاد، اتفاق اور رواداری عظیم اسلامی اقدار ہیں۔ قرآن کریم میں ان کی طرف خصوصی توجہ دلائی گئی ہے اور سنت نبویہ میں ان پر تربیت کی گئی ہے۔ لیکن یہاں بھی غلو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حق اور باطل کے درمیان حدیں مٹا دی جائیں، اصولوں پر سمجھوتہ کر لیا جائے ،اور دین کے بنیادی احکام نظر انداز کر دیے جائیں۔ جس طرح شدت پسندی دین سے انحراف ہے، اسی طرح دین کے اصولوں کو خاطر میں نہ لانے والا رویہ بھی غلو کی ایک صورت ہے۔ اعتدال کا تقاضا ہے کہ رواداری کو اصولوں کے لیےقربان نہ کیا جائے اور حق و باطل میں تمیز باقی رہے۔
اتحاد و اتفاق میں غلو کی عصر ِحاضر میں بدترین صورت یہ ہے کہ بعض لوگ تقاربِ ِادیان اور وحدتِ ادیان کا نعرہ بلند کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے مکسچر کو ’دین ابراہیمی‘ کے نام پر پیش کرنا اتحاد و اتفاق کا تقاضا ہے، جو کہ غلو اور گمراہی کی بدترین قسم ہے۔ اس قسم کے اتحاد کی اسلام میں کوئی گنجائش ہوتی تو اللہ کے رسول ﷺ ضرور اس پر عمل پیرا ہوتے!
اسی طرح اتحاد و اتفاق کے نام پر سنت کا استخفاف کرنا بھی غلو ہی کی ایک شکل ہے۔مثلا ًیہ مشورہ دینا کہ عبادات کے طریقوں میں سنت اور بدعت، صحیح اور غلط کے فرق کو مٹا دیا جائے، تاکہ امت میں اتحاد ہو جائے؛حالانکہ یہ باطل اتحاد کسی صورت ممکن نہیں۔
ارشادِ باری تعالی ہے:
﴿وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ وَ هُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۸۵﴾ [آل عمران: 85]
’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘
فرمانِ رسول ﷺ ہے:
وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ.
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اس امت کا جو شخص بھی میرے بارے میں سنے، خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، پھر وہ اس دعوت پر ایمان لائے بغیر مر جائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے، تو وہ جہنمیوں میں سے ہو گا ۔‘‘[18]
درست رویہ یہی ہے کہ مشترکات پر اتحاد کیا جائے اور جو چیز قرآن وسنت سے ثابت شدہ ہے، کسی بھی حال میں اس پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
حق و باطل میں فرق مٹا کر، سنت و بدعت کو ایک بنا کر، گمراہ و ہادی کو ایک لائن میں کھڑا کر کے اتحاد نہیں ہو گا، بلکہ تعامل اور رویوں میں توازن و اعتدال کی ضرورت ہے، گویا مقصد اختلاف ختم کرنا نہیں بلکہ آدابِ اختلاف سیکھنے ،سکھانے کی ضرورت ہے۔
4۔فرقہ واریت کی مذمت میں غلو
اتحاد و اتفاق کے نام پر غلو میں مبتلا لوگوں میں ایک اور غلو پایا جاتا ہے کہ یہ فرقہ واریت کی مذمت میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ اتحاد و اتفاق کی دعوت اور فرقہ واریت کی مذمت یقیناًمطلوب و مقصود ہے، لیکن بعض افراد اس مذمت میں ایسا غلو کرتے ہیں کہ وہ خود نئی فرقہ واریت کا سبب بن جاتے ہیں۔ فرقہ واریت ختم کرنے کے بہانے کسی خاص گروہ یا مکتبِ فکر کو بدنام کرنے میں شدت اختیار کر لی جاتی ہے، جو اسی بیماری کا دوسرا روپ ہے جس کی تردید کی جا رہی ہوتی ہے۔
عصرِ حاضر میں مرزا جہلمی اور جماعت اسلامی وغیرہ کے جذباتی لوگ اس کی واضح مثال ہیں، جو روایتی مکاتب ِفکر اور ان سے منسلک اہلِ علم کو دین کے خلاف سازش سمجھتے ہیں، لیکن خود اس قدر تعصب و جمود میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنے قائد ، لیڈر اور دھڑے کے موقف سے ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہوتے!
5۔اتباع ِنصوص اور حرفیت پسندی کا غلو
نصوص کی اتباع واجب ہے، لیکن بعض لوگ ظاہریت و سطحیت کا شکار ہو کر غلو کرتے ہوئے
مقاصدِ شریعت، نصوص کے سیاق و سباق اور فہمِ سلف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ حرفیت پسندی انتہا پسندی کی ایک معروف شکل ہے، جسے محققین نے دین کے متوازن پیغام سے ہٹے ہوئے رویے کے طور پر بیان کیا ہے۔ حقیقی اتباع یہ ہے کہ نصوص کو اصولوں اور مقاصد کے ساتھ سمجھا جائے، نہ کہ چند الفاظ اور حروف کی آڑ میں شریعت کے اصل معانی و مفاہیم سے روگردانی کی جائے۔
امام شاطبی فرماتے ہیں:
إِنَّ الْعَالِمَ حَقِيقَةً هُوَ الَّذِي يَأْخُذُ الشَّرِيعَةَ كُلِّيَّةً وَاحِدَةً، وَيَفْهَمُ أَلْفَاظَهَا بِمَقَاصِدِهَا... فَإِنَّ الْوُقُوفَ مَعَ ظَوَاهِرِ الْأَلْفَاظِ دُونَ فَهْمِ مَعَانِيهَا وَسِيَاقِهَا هُوَ مَسْلَكُ أَهْلِ الْبِدَعِ وَالْخَوَارِجِ الَّذِينَ عَمُوا عَنْ مَقَاصِدِ الشَّرِيعَةِ[19].
’’حقیقی عالم وہ ہے جو پوری شریعت کو ایک کلیہ کے طور پر لے، اور اس کے الفاظ کو مقاصد کے تناظر میں سمجھے... الفاظ کے محض ظاہر پر جمود اختیار کرنا اور ان کے سیاق و مقاصد سے غافل ہو جانا درحقیقت اہل بدعت اور خوارج کا طریقہ ہے جو مقاصدِ شریعت سے اندھے ہو گئے تھے۔‘‘
اس ڈگر پر گامزن لوگ اپنی واضح اور کھلی غلطی کو بھی قرآن وسنت کا نام دے کر اس پر مُصِر نظر آتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ائمہ ٔ اسلام اور اساطینِ علم کو جہالت اور گمراہی کا طعنہ دے رہے ہوتے ہیں۔
6۔منہجِ سلف کے نام پر غالیانہ رویے
سلف صالحین کے منہج کی وضاحت اور اس پر عمل اہم ذمہ داری ہے، لیکن اس میں بھی غلو اس وقت پیدا ہوجاتا ہے ،جب سلف کا منہج کسی خاص گروہ کی شناخت اور اجارہ داری بنا لیا جائے اور اس کو مروّجہ فرقوں میں سے ایک فرقہ بنا لیا جائے، اور دوسروں کو ان کے اخلاص اور عمل کے باوجود اس دائرے سے خارج کر دیا جائے۔ منہجِ سلف کے بیان میں غلو دوسروں پر حکم لگانے میں جلدی، بے بنیاد الزامات اور اپنی پوزیشن کو ہی واحد حق قرار دینے کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جبکہ سلف کا حقیقی منہج میانہ روی، حکمت اور عدل کا تھا۔
شیخ ابن عثیمین ؒ فرماتے ہیں:
السَّلَفِيَّةُ: هِيَ اتِّبَاعُ مَنْهَجِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَصْحَابِهِ؛ لِأَنَّهُمْ هُمُ الَّذِينَ سَلَفُونَا وَتَقَدَّمُوا عَلَيْنَا، فَاتِّبَاعُهُمْ هُوَ السَّلَفِيَّةُ. وَأَمَّا اتِّخَاذُ السَّلَفِيَّةِ كَمَنْهَجٍ خَاصٍّ يَنْفَرِدُ بِهِ الْإِنْسَانُ وَيُضَلِّلُ مَنْ خَالَفَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَلَوْ كَانُوا عَلَى حَقٍّ، وَاتِّخَاذُ السَّلَفِيَّةِ كَمَنْهَجٍ حِزْبِيٍّ؛ فَلَا شَكَّ أَنَّ هَذَا خِلَافُ السَّلَفِيَّةِ...ألخ
’’سلفیت حقیقت میں منہجِ نبوی اور منہجِ صحابہ کی اتباع کا نام ہے؛ کیونکہ وہی ہمارے سلف ہیں اور ہم سے آگے ہیں، چنانچہ ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہی ’’سلفیت ‘‘ کہلاتا ہے۔جبکہ ’’سلفیت‘‘ کو کوئی انسان اپنا خاص منہج بنا کر اس منہج کی مخالفت کرنے والے مسلمانوں کو گمراہ قرار دے، چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہوں، اور سلفیت کو گروہ بندی و فرقہ واریت کا ذریعہ بنائے ، تو بلاشبہ یہ عمل سلفیت کے خلاف ہے...کیونکہ سلف صالحین سب کے سب سنت ِرسول ﷺ پر اتفاق و اتحاد کیساتھ قائم رہنے کی دعوت دیتے آئے ہیں، وہ کسی شخص کو بنا بر تاویل مخالفانہ رائے رکھنے کی وجہ سے گمراہ نہیں کہتے تھے، ہاں البتہ عقائد کے بارے میں سلف صالحین مخالف رائے رکھنے والے کو گمراہ کہتے آئے ہیں، جبکہ فقہی اور عملی مسائل میں سلف صالحین نرمی برتتے تھے۔ لیکن ہمارے اس دور میں سلفیت اپنانے والے کچھ لوگ اپنے ہر مخالف کو گمراہ قرار دیتے ہیں، چاہے مخالف حق بات بھی کرے ، جبکہ کچھ لوگوں نے سلفیت کو دھڑے بندی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ، جیسے اسلام کی طرف منسوب دیگر فرقوں اور جماعتوں کا طریقۂ کار ہے۔ یہ بات کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں ہے، انہیں کہا جائے گا کہ سلف صالحین کے موقف اور تعامل کو دیکھیں ،وہ کیا عمل کرتے تھے؟ ان کی ایسے مسائل میں وسعتِ ظرفی دیکھیں، جہاں اجتہاد کی گنجائش نکلتی ہے۔ سلف صالحین کا بڑے بڑے عقدی اور فقہی مسائل میں اختلاف ہوجاتا تھا۔ مثال کے طور پر کچھ اہلِ علم اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھاہے، جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے اللہ تعالی کو دیکھا ہے۔ اسی طرح کچھ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اعمال کا وزن ہوگا، اور کچھ کہتے ہیں کہ اعمال نامے کا وزن کیا جائے گا۔ اسی طرح آپ سلف صالحین کا فقہی مسائل میں بھی بہت زیادہ اختلاف پائیں گے، نکاح، وراثت، خرید و فروخت سمیت دیگر مسائل میں ان کی مختلف آراء ملیں گی، اس سب کے باوجود ان میں سے کوئی بھی دوسرے کو گمراہ نہیں کہتا تھا ۔ چنانچہ سلفیت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ یہ ایک مخصوص خدو خال والی جماعت ہے اور اپنے علاوہ ہر کسی کو گمراہ کہتی ہے؛ بلکہ ایسے لوگوں کا تو سلفیت سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے[20]۔‘‘
7۔حق کی تائید اور باطل کی تردید کے نام پر غلو
حق کی تائید اور باطل کی تردید ہر مسلمان کا فریضہ ہے، لیکن بعض اوقات اس فریضے کی ادائیگی میں بھی غلو آ جاتا ہے۔ تائید میں مبالغہ اور تردید میں حد سے تجاوز، حتیٰ کہ ظلم اور جھوٹ تک کا ارتکاب کر لینا۔ جو شخص ’’حق ‘‘ کے نام پر جھوٹ بولے، بہتان تراشے اور دوسروں کی عزت کو نشانہ بنائے، وہ حقیقت میں اسی بیماری کا شکار ہے جس کا وہ خود علاج کرنا چاہتا ہے۔
حق کی تائید میں غلو کی صورت یہ ہے کہ جس شخص کو آپ حق پر سمجھتے ہیں اس کی غلطیوں کا بھی دفاع کیا جائے۔ مثلاً جو شخص توحید و سنت پر قائم ہے، وہ کافروں سے موالات کرے، فحش و منکرات کی سرپرستی کرے، تو یہ کہہ کر اس کی تائید کی جائے کہ یہ ’اہل توحید وسنت‘ ہیں، ان کو کچھ نہیں کہنا چاہیے، جبکہ جو باطل پر ہے، وہ اللہ کے راستے میں جہاد جیسی عظیم عبادت بھی کرے تو یہود و ہنود کی طرح ان پر تنقید کے تیر برسائے جائیں۔ تو یہ بھی غلو ہی ہے۔
جاہلیت میں یہ رویہ عام تھا کہ ہر صورت اپنے قبیلے کا دفاع اور دوسرے کی مخالفت کرنی ہے۔ صد افسوس کہ یہی صورت حال ہمارے ہاں بعض لوگوں میں رائج ہے، اور یہ سارا کچھ حق کی تائید اور باطل کی تردید جیسے خوشنما نعروں کے تحت کیا جاتا ہے۔
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ﴾ [ المائدة: 8]
’’اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر قائم رہتے ہوئے گواہی دینے والے بنواور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل چھوڑ دو۔ عدل کرو، یہی تقویٰ کے قریب ترین رویہ ہے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ عصبیت کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ [21].
’’عصبیت یہ ہے کہ تم ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرو۔‘‘
چنانچہ تمام مظاہرِ غلو کی طرح یہ صورت بھی قرآن و سنت کے متوازن منہج کے خلاف ہے۔
8۔حکمرانوں کی اطاعت کا مسئلہ اور غلو
حکمرانوں کی اطاعت کا مسئلہ سیاست شرعیہ کے اہم ترین مسائل میں سے ہے۔ اس میں بھی غلو کے دو رخ نظر آتے ہیں۔ ایک طرف تکفیری شدت پسندی ہے جو حکمرانوں کو فوری طور پر کافر قرار دے کر ان کے خلاف بغاوت کا جواز نکال لیتی ہے، اور دوسری طرف اطاعت کے نام پر غلو ہے جو شرعی حدود کو نظر انداز کر کے سرکشی اور ظلم کی اطاعت کو بھی لازمی قرار دے دیتا ہے۔ اصل میں یہ دونوں راہیں شریعت کی متوازن تعلیمات سے ہٹی ہوئی ہیں۔ شریعت نے حکمرانوں سے حسنِ سلوک، خیرخواہی اور شرعی حدود کے معاملے میں سچ کہنے کا حکم دیا ہے، تکفیر کے غلو یا اطاعت کے غلو میں الجھنے سے منع کیا ہے۔
اس حوالے سے کچھ لوگ تو اس انتہا پر ہیں کہ حکمرانوں کی معروف اور جائز باتیں ماننے اور ان کے ساتھ تعاون کو بھی ’درباری ملائیت، کاسہ لیسی‘ قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری انتہا یہ ہے کہ منکرات کی بھرمار اور
حدود اللہ کی حرمت پامال ہونے پر بھی ’اطاعت‘ کا درس دیا جاتا ہے۔
عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ [22].
’’ہر مسلمان پر (حکمرانوں کی بات) سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے، چاہے اسے وہ بات پسند ہو یا ناپسند، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے۔ پس اگر اسے گناہ و معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سننا جائز ہے اور نہ اطاعت کرنا۔‘‘
لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ [23].
’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت ( جائز )نہیں ہے۔‘‘
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ؛ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ»، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: لَا، مَا صَلَّوْا[24].
’عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جن کے بعض کاموں کو تم شریعت کے مطابق پاؤ گے اور بعض کاموں کو شریعت کے خلاف پاؤ گے۔ پس جس نے (اپنی استطاعت کے مطابق زبان سے) انکار کیا وہ بری الذمہ ہو گیا، اور جس نے (دل سے) برا جانا وہ (گناہ سے) بچ گیا، لیکن ہلاکت اس کی ہے جو ان کے باطل پر راضی ہوا اور ان کی پیروی کی۔‘ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’نہیں! جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں (تب تک ان کے خلاف قتال جائز نہیں)۔
ان احادیث کی روشنی میں اہلِ علم نے جہاں یہ بات واضح طور پر لکھی ہے کہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت و خروج کی راہ پر چلنا درست راستہ نہیں، اسی طرح یہ بھی صراحت کی ہے کہ محض حق کے بیان اور انکارِ منکر کو ہی خروج سمجھ لینا، یہ وہ غلو ہے، جس میں مرجئہ مبتلا ہو جاتے ہیں۔
ائمہ اسلام نے ان دونوں رویوں (خروج اور انکارِ منکر) کے فرق کو ہمیشہ واضح فرمایا ہے:
امام نووی ؒ (متوفی 676ھ) فرماتے ہیں:
وَأَمَّا قَوْلُهُ ﷺ: (أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: لَا، مَا صَلَّوْا)؛ فَفِيهِ مَعْنَى مَا سَبَقَ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الخُرُوجُ عَلَى الخُلَفَاءِ بِمُجَرَّدِ الظُّلْمِ أَوِ الفِسْقِ مَا لَمْ يُغَيِّرُوا قَوَاعِدَ الإِسْلَامِ... وَأَمَّا الإِنْكَارُ عَلَيْهِمْ وَوَعْظُهُمْ فَلَا يُسْقِطُهُ شَيْءٌ، بَلْ هُوَ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ قَادِرٍ بِحَسَبِ اسْتِطَاعَتِهِ[25].
’’اور رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان میں وہی مفہوم ہے جو پہلے گزرا کہ حکمرانوں کے محض ظلم یا فسق کی بنا پر ان کے خلاف خروج کرنا جائز نہیں جب تک کہ وہ اسلام کے بنیادی قواعد کو نہ بدل دیں... لیکن ان کے غلط کاموں پر شرعی طریقے سے انکار کرنا اور انہیں نصیحت کرنا کسی بھی حالت میں ساقط نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہر صاحبِ استطاعت شخص پر اس کی وسعت کے مطابق واجب ہے۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ (متوفی 728ھ) فرماتے ہیں:
وَأَهْلُ الاسْتِقَامَةِ فِي بَابِ الإِمَامَةِ وَالأَمْرِ بِالمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ المُنْكَرِ: بَيْنَ الَّذِينَ يُوَافِقُونَ الوُلَاةَ عَلَى الإِثْمِ وَالعُدْوَانِ وَيَرْكَنُونَ إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا، وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يَرَوْنَ أَنْ يُعَاوِنُوا أَحَدًا عَلَى البِرِّ وَالتَّقْوَى... فَالأَوَّلُونَ يَدْخُلُونَ فِي المُحَرَّمَاتِ، وَهَؤُلَاءِ يَتْرُكُونَ وَاجِبَاتِ الدِّينِ، وَأَهْلُ الاسْتِقَامَةِ وَالاعْتِدَالِ يُطِيعُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ بِحَسْبِ الإِمْكَانِ، فَيَتَّقُونَ اللهَ مَا اسْتَطَاعُوا، وَلَا يَتْرُكُونَ مَا أُمِرُوا بِهِ لِفِعْلِ غَيْرِهِمْ مَا نُهِيَ عَنْهُ[26].
’’اور اہل سنت والجماعت حکمرانوں کے حقوق اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے باب میں دو انتہاؤں کے درمیان معتدل ہیں: ایک طرف وہ لوگ ہیں جو حکمرانوں کے گناہ اور ظلم پر بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں اور ظالموں کی طرف جھک جاتے ہیں، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں بھی کسی کا ساتھ نہیں دیتے۔ پس پہلے لوگ حرام امور کے مرتکب ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ دین کے واجبات کو چھوڑ دیتے ہیں؛ جبکہ اہل استقامت و اعتدال( گناہ میں ساتھ دیے بغیر) اپنی استطاعت کے مطابق اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہتے ہیں، وہ اپنی ذمہ داری کو محض اس لیے ترک نہیں کرتے کہ دوسروں نے ممنوع کام کا ارتکاب کیا ہے۔‘‘
حافظ ابن رجب الحنبلی ؒ (متوفی 795ھ) فرماتے ہیں:
وَالإِنْكَارُ عَلَى المُلُوكِ وَالأُمَرَاءِ بِاللِّسَانِ وَالقَوْلِ الحَقِّ هُوَ أَفْضَلُ الجِهَادِ، وَلَيْسَ هُوَ مِنَ الخُرُوجِ المَنْهِيِّ عَنْهُ؛ فَإِنَّ الخُرُوجَ إِنَّمَا يَكُونُ بِالسَّيْفِ وَالسِّلَاحِ، وَمَا زَالَ الصَّحَابَةُ وَالسَّلَفُ يُنْكِرُونَ عَلَى الأُمَرَاءِ مَا يُخَالِفُ الشَّرِيعَةَ عَلَانِيَةً دُونَ أَنْ يَخْرُجُوا عَلَيْهِمْ[27].
’’اور بادشاہوں اور حکمرانوں کے سامنے زبان سے انکار کرنا اور کلمۂ حق کہنا تو افضل ترین جہاد ہے، اور یہ ہرگز اس خروج میں شامل نہیں جس سے روکا گیا ہے؛ کیونکہ ممنوعہ خروج صرف تلوار اور ہتھیار کے ذریعے ہوتا ہے۔ اور ہمیشہ سے صحابہ کرام اور سلف صالحین حکمرانوں کے خلاف خروج کیے بغیر ان کے شریعت مخالف امور پر بر سر عام انکار کرتے رہے ہیں۔‘‘
9۔تنظیم سازی کا مسئلہ اور غلو
1924ءمیں سقوطِ خلافت عثمانیہ کے بعد تنظیم سازی ایک ضرورت اور مصلحت کے تحت اختیار کی گئی،
لہذا دعوت و تبلیغ، دینی مصالح کے حصول اور مفاسد سے بچنے کے لیے اجتماعی جدوجہد کی خاطر تنظیمیں، انجمنیں، جماعتیں، جمعیتیں وجود میں آئِیں، اس میں غلو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تنظیمی وابستگی کو ایمان کا معیار بنا کر دوسروں کے ساتھ تعصب اور مخالفت کا رویہ اختیار کیا جائے، جو کہ شریعت کی متوازن تعلیمات کے منافی ہے۔ تنظیم ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں؛ اسے مقصد بنا لینا اور دین کا معیار قرار دینا غلو ہی ہے، جبکہ اس کے
مدِ مقابل غلو یہ ہے کہ محض تنظیم سازی کو ہی بدعت اور منہج سے خروج قرار دے دیا جائے، جیسا کہ کئی ایک لوگوں نے کئی ایک علماء کو حزبی اور بدعتی کا ٹائٹل صرف اس وجہ سے دے دیا ہے کہ وہ اسلام کی سربلندی اور معاشرتی اصلاح کے لیے کسی نظم، تنظیم یا سرکل کا حصہ ہیں۔
10۔صحابہ و اہل بیت سے متعلق رویوں میں غلو
صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم سے متعلق رویوں میں اعتدال اسلامی عقیدے کا ایک بنیادی ستون ہے۔ خیر القرون سے ہی رافضیت اور ناصبیت دو متضاد اور گمراہ فکریں چلی آ رہی ہیں، جن کا اہل علم نے ہر دور میں درجہ بہ درجہ رد فرمایا۔ جب اہل بیت سے متعلق غلو پیدا ہوا، ان کے لیے عصمت اور الوہیت کے درجے تراشے گئے اور صحابہ کرام سے متعلق توہین و تحقیر، سبّ و شتم اور تکفیر کا بدترین رویہ اپنایا گیا تو وہاں سے رافضیت نے جنم لیا۔
لیکن اسی رویے کے رد میں کچھ لوگوں نے ردِ رافضیت کے نام پر غلو کے رویے اپنانا شروع کر دیے اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک طبقہ ایسا پیدا ہو چکا ہے، جو کسی بھی سنی کو رافضیت نواز، رافضی سہولت کار کہہ کر اس پر جو مرضی الزام لگا دیتا ہے۔ اور اس طرح کی گفتگو کی جاتی ہے کہ اصل گمراہی رافضیت ہے جو ہر جگہ موجود ہے، جبکہ ناصبیت نامی کوئی گمراہی موجود ہی نہیں ہے!
ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بھی بعض لوگ دو انتہاؤں میں مبتلا ہیں: ایک طرف وہ رافضی یا نام نہاد حسینی ہیں، جو ہر اس سنی کو جو صحابہ کرام سے محبت کرتا ہے، ناصبی اور یزیدی قرار دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف وہ گروہ ہے، جس کے نزدیک ناصبیت نامی کسی گمراہی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، لہٰذا اس کی تردید کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ جو شخص بھی ناصبیت کے رد کی بات کرے یا اہل بیت اطہار کے صحیح فضائل بیان کرے، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت کسی رافضی سازش کا شکار ہے!
امیر المؤمنین علی نے اپنی ذات کے متعلق دونوں گمراہ انتہاؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا تھا:
يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي[28].
’’میرے معاملے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے: ایک حد سے بڑھ کر محبت کرنے والا (غالی رافضی) جو میری ایسی مدح کرے جو مجھ میں نہیں اور دوسرا بغض رکھنے والا (ناصبی) جس کی مجھ سے دشمنی اسے مجھ پر بہتان تراشی پر آمادہ کرے ۔‘‘
امام ابن تیمیہؒ نے ’العقیدہ الواسطیہ‘ میں اہل سنت کے اس زریں و متوازن منہج کو واضح کرتے ہوئے لکھا:
وَهُمْ وَسَطٌ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ الرَّافِضَةِ وَالنَّوَاصِبِ [29].
’’اور اہل سنت اصحاب رسول ؐ کے معاملے میں رافضہ اور نواصب کے درمیان بالکل میانہ رو ہیں۔‘‘
اور منهاج السنة النبویة میں رافضہ اور نواصب دونوں کے رد میں لکھتے ہیں:
وَالْحُبُّ لِعَلِيٍّ وَتَرْكُ قِتَالِهِ خَيْرٌ بِإِجْمَاعِ أَهْلِ السُّنَّةِ مِنْ بُغْضِهِ وَقِتَالِهِ. وَهُمْ مُتَّفِقُونَ عَلَى وُجُوبِ مُوَالَاتِهِ وَمَحَبَّتِهِ، وَهُمْ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ ذَبًّا عَنْهُ، وَرَدًّا عَلَى مَنْ يَطْعَنُ عَلَيْهِ مِنَ الْخَوَارِجِ وَغَيْرِهِمْ مِنَ النَّوَاصِبِ، لَكِنْ لِكُلِّ مَقَامٍ مَقَالٌ. وَالرَّافِضَةُ لَا يُمْكِنُهُمْ أَنْ يُثْبِتُوا وُجُوبَ مُوَالَاتِهِ كَمَا يُمْكِنُ أَهْلُ السُّنَّةِ [30].
’’اہل سنت کے اجماع کے ساتھ علی سے محبت کرنا اور ان کے خلاف قتال سے رکنا، ان سے بغض رکھنے اور قتال کرنے سے بدرجہا بہتر ہے۔ اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ ان سے محبت اور موالات واجب ہے، اور اہل سنت خوارج اور دیگر نواصب کی طرف سے علی پر طعن کرنے والوں کے خلاف سب سے زیادہ دفاع کرنے والے اور ان کا رد کرنے والے ہیں۔ لیکن ہر مقام کے لیے ایک کلام ہوتا ہے۔ اور رافضہ ان (علی ) کی موالات کا وجوب اس طرح کبھی ثابت نہیں کر سکتے جس طرح اہل سنت نے ثابت کیا ہے۔‘‘
اہلِ سنت کے ہاں ناصبیت کے رد کے نام پر رافضیت کی تائید غلط ہے تو رافضیت کے رد کے نام پر ناصبیت کی حمایت بھی درست نہیں۔ ایک انتہا پسندی کا رد کرتے ہوئے دوسری انتہا پسندی کو تحفظ دینا دوہرا معیار ہے۔
غلو کے تمام مظاہر کا مشترکہ عنصر یہ ہے کہ وہ شریعت کی مقررہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں، اس لیے محققین نے اعتدال (وسطیت) کو ہر قسم کے غلو کے خلاف علاج قرار دیا ہے۔ قرآن کریم نے سورۃ البقرۃ میں امتِ اسلام کو ’’امتِ وسط ‘‘ قرار دیاہے؛ یعنی ایک منصفانہ اور متوازن امت جو لوگوں پر گواہ ہو۔ یہی وہ منہج ہے جو امت کو شدت پسندی اور غفلت دونوں طرح کے انتہا پسند رویوں سے دور رکھتا ہے۔ چنانچہ غلو کے خلاف پہلا قدم اس کی پہچان اور پھر دوسروں پر حکم لگانے میں احتیاط کرناہے، اور دوسرا قدم اعتدال کو شعار بنا کر فرد اور معاشرہ دونوں کو شریعت کی حدود کے اندر رہ کر اپنا دینی و اخلاقی کردار ادا کرنے کی راہ دکھانا ہے۔
[1] مقاييس اللغة، مادة ’غلو / غلى‘‘
[2] المفردات في غريب القرآن للراغب الأصفهاني، ص: 611
[3] فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن حجر، 13/278
[4] مسند أحمد:3248 ، مستدرک الحاكم:1729 ، الصحيحة: 1283
[5] صحيح مسلم: 2670؛ قال النووي في شرحه (16/220): «أي: المتعمقون الغالون المجاوزون
الحدود في أقوالهم وأفعالهم»
[6] المحجة في سير الدلجة لابن رجب،ص: 18
[7] سنن الدارمي:223 وكشف الكربة لابن رجب، ص: 323
[8] الوابل الصيب: ص: 14 ومدارج السالكين:2/375
[9] صحيح بخاری: 6104، صحيح مسلم: ۲۱۶
[10] مجموع الفتاوٰى لابن تيمية: 12/466
[11] سير أعلام النبلاء للذهبي: 14/376
[12] سير أعلام النبلاء للذهبي:14/40، ترجمة: الإمام محمد بن نصر المروزي
[13] سير أعلام النبلاء للذهبي:5/271، ترجمة: قتادة بن دعامة
[14] سير أعلام النبلاء للذهبي:16/285، ترجمة: أبو ذر الهروي
[15] سير أعلام النبلاء للذهبي:18/202-201، ترجمة: ابن حزم
[16] سير أعلام النبلاء للذهبي:19/339- 343، ترجمة: الغزالي
[17] تبيين كذب المفتري لابن عساكر، ص: 29
[18] صحيح مسلم: 153
[19] الموافقات للشاطبي: 3/9، والاعتصام: 2/720
[20] لقاءات الباب المفتوح 3/246
[21] سنن أبي داود: 5119، سنن ابن ماجہ: 3949، وحسنہ الأرناؤوط
[22] صحيح بخاری: 7144، صحيح مسلم: 1839
[23] مسند أحمد: 1095، وصححه الألباني في مشكاة المصابيح: 3696
[24] صحيح مسلم: 1854
[25] شرح صحيح مسلم للنووي: 12/229
[26] جامع المسائل لابن تيمية : 3/90، المستدرك على مجموع الفتاوٰى:1/163
[27] جامع العلوم والحكم لابن رجب: 2/244
[28] مسند أحمد: 1377، والسنه لابن أبي عاصم: 983، وحسنه الألباني
[29] العقيدة الواسطية مع مجموع الفتاوى: 3/154
[30] منهاج السنة النبوية لابن تيمية: 4/395