سالانہ تقریبِ تقسیمِ اسناد  اور تحفظ حرمین کانفرنس

احوال الجامعہ

سالانہ تقریبِ تقسیمِ اسناد  اور تحفظ حرمین کانفرنس

 

قاری ظہیر ادریس

جامعہ لاہور الاسلامیہ، پاکستان کا عظیم وقدیم تعلیمی وتحقیقی ادارہ ہے جو علوم اسلامیہ اور علوم عصریہ کے میدان میں 70 برس  سے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔  18 عمارتوں میں پھیلا ہوا یہ جامعہ ،  اپنے متنوع تعلیمی شعبہ جات، زیر تعلیم طلبہ کی بڑی تعداد اور تجربہ کار اساتذہ کی بنا پر پاکستان میں سلفی مکتبِ فکر کا اہم ترین اور ممتاز  جامعہ ہے۔   35 سال قبل  پاکستان  میں علوم قراء ات سبعہ وعشرہ کی پہلی عظیم الشان درسگاہ اسی ادارے میں  قائم ہوئی  تھی، جس سے فیض پانے والے قراء اندرون ملک کے علاوہ  خلیجی ممالک میں قرآن کریم کی خدمت  میں نمایاں کردار انجام دے رہے ہیں۔

 جامعہ کی طرف سے گزشتہ  57  برس سے عظیم الشان علمی ماہ نامہ محدث شائع کیا جا رہاہے، جو اپنی تحقیقی معیار کی بنا پر وقیع تر حیثیت کا حامل ہے۔ اسی جامعہ کے تحت اردو زبان میں دینی کتب و رسائل پر مشتمل دنیا میں اردو زبان کی   سب سے بڑی ریسرچ ویب سائٹ  ’’محدث لائبریری‘‘ کے نام سےدو عشروں سے جاری ہے ۔ اسی طرح  ’’محدث فورم ‘‘،  ’’محدث فتویٰ  ‘‘ اور محدث کے سابقہ کے ساتھ تقریباً دس معروف ویب سائٹ  کام کررہی ہیں ۔اسی جامعہ کے تحت لاہور شہر  میں  اسلامی  علوم کی عربی کتب پر مشتمل سب سے بڑی لائبریری
’’  مکتبہ رحمانیہ (محدث لائبریری)‘‘ 99۔ جے بلاک ماڈل ٹاؤن  ، لاہور میں  قائم ہے۔

جامعہ ہذا کے بانی و مؤسس  ڈاکٹر مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ کو سعودی علما کے شاگرد ہونے کے ناطے شروع سے مفتی اعظم شیخ ابن باز  ؒ، دیگر کبار علما اور سعودی حکومت کی بھرپور تائید حاصل رہی ہے۔ سعودی عرب  نے 1970ء میں اس جامعہ کی اسناد کو برابر کی سطح پر منظوری دی تھی اور سعودی وزارت ہائر ایجوکیشن نے یہاں سے تعلیم مکمل کرنے والے فضلا کو سعودی عرب میں ایم اے سطح پر   داخلے کی منظوری بھی دی۔  یہی وجہ ہے کہ  سعودی جامعات  اس کے طلبہ کو ترجیحی بنیادوں پر داخلہ دیتے ہیں ۔اس سال    بھی پاکستان بھر سے مدینہ یونیورسٹی میں   سب سے زیادہ داخلہ جامعہ ہذا کے طلبہ کو ملا ہے ،الحمد للہ ۔

جامعہ لاہور الاسلامیہ کی آخری سال کی  ڈگری کو حکومت پاکستان ایم اے عربی واسلامیات کے مساوی قرار دیتی ہے اور جامعہ ہذا کو پنجاب حکومت نے بھی سنہ 2011ء سے   باضابطہ کالج(  LISS) کے طور پر   منظور کیا  ہوا ہے۔ امسال جامعہ لاہور الاسلامیہ کے شعبہ خواتین  کی طالبات نے  پنجاب بھر میں بورڈ کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کی  ہے۔

1.    سالانہ تقریب تقسیم اسناد و انعامات

اسی علمی و تعلیمی تسلسل کے تحت جامعہ کے مرکزی کیمپس’’ البیت العتیق ‘‘ میں 10/اکتوبر 2026 ء کو  ششماہی  تقریبِ تقسیمِ اسناد و انعامات منعقد ہوئی۔ یہ تقریب جامعہ کی تعلیمی خدمات، طلبہ کی علمی کامیابیوں اور اساتذۂ کرام کی تدریسی محنت کے اعتراف کا ایک باوقار موقع تھی، جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے قائدین جماعت ، علماء، مشائخ، اساتذۂ کرام، فضلاء، طلبہ اور وابستگانِ جامعہ نے شرکت کی۔

تقریب میں مجموعی طور پر سو سے زائد اسناد تقسیم کی گئیں۔قراءات ِ عشرہ کبریٰ کے 40 طلبہ کو ان کی تعلیمی کامیابی پر اعزازات سے نوازا گیا۔  30 طلبہ کو سندِ فضیلت (عالمیہ) عطا کی گئی، جو ان کے تعلیمی سفر کے ایک اہم مرحلے کی تکمیل کی علامت ہے۔

 جامعہ میں زیر تعلیم طلبہ نے اپنی خصوصی تعلیمی کارکردگی پیش کی۔ عام طور پر جو طلبہ 85 فیصد سے زائد نمبر ثانویہ خاصہ میں حاصل کرتے ہیں یا بعد کی کلاسوں میں تین سال  مسلسل  اس معیار کو قائم رکھتے ہیں تو ادارہ ایسے نمایاں طلباء کو اپنی   شهادة الثانویة الخاصة (ثانویہ خاصہ کی خاص  سند) عطا کرتا ہے ، جوکہ مدینہ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے  بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔  اس سال دو دفعہ  کلیہ کلاسز کے طلبہ کو رئیس الجامعہ ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ کی ہدایت پر یہ سند پیش کی گئی ۔ آغاز سال میں کل 32 طلبہ نے اور حالیہ ششماہی رزلٹ تقریب میں 22 نمایاں  طلبہ نے یہ  خصوصی سند حاصل کی۔ الحمد للہ

جامعہ کی انتظامیہ نے سال بھر تدریسی ذمہ داریوں کی باقاعدہ ادائیگی اور مثالی حاضری کا مظاہرہ کرنے والے اساتذۂ کرام کو خصوصی اعزازات سے بھی نوازا  ۔اس موقع پرناظم دفترقاری خالد فاروق ،شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید تونسوی اور مولانا محمد اسحاق طاہرکی علمی خدمات اور تدریسی پابندی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

اس موقعہ پر  جامعہ کی جانب سے گراں قدر مالی انعامات کے ساتھ ’’مقابلۂ حفظِ حدیث‘‘   کا بھی اعلان کیا گیا۔ اس علمی مقابلہ  کا مقصد طلبہ میں احادیثِ نبویہ کے حفظ، فہم اور مطالعہ کے ذوق کو فروغ دینا ہے ۔

تقریب میں شریک ممتاز شخصیات میں رئیس الجامعہ کے برادر اصغر مولانا حافظ عبد الوحید روپڑی ﷾  (شریک بانی جامعہ لاہور الاسلامیہ)،شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان سلفی ، شیخ الحدیث مولانا محمد شفیق مدنی ،
شیخ الحدیث مولانا زید احمد ، شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید تونسوی ، حاجی محمد اسلام ، شیخ محمد ادریس اسحاق ، شیخ محمد عرفان ، ڈاکٹر حافظ حسین ازہر ، ڈاکٹر حافظ انس نضر ، حافظ عبدالعلیم روپڑی ، شیخ محمد خالد اور خالد پرویز  سمیت جامعہ کے سینئر اساتذۂ کرام و رفقاء  شامل تھے۔

2.    مصاحفِ محدث — علمِ قراءات کی خدمت میں ایک منفرد علمی و تکنیکی پیش رفت

قرآنِ کریم کی کتابت، ضبط، قراءات اور رسمِ عثمانی کے حوالے سے امتِ مسلمہ نے ہر دور میں گراں قدر علمی خدمات انجام دی ہیں۔ محدثین، مفسرین، قراء اور ائمۂ فن نے صدیوں پر محیط محنت کے نتیجے میں قراءاتِ متواترہ کے اس عظیم علمی ورثے کو محفوظ رکھا اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔ عصرِ حاضر میں، جب علمی ذخائر کو ڈیجیٹل ذرائع سے  محفوظ اور عام کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، ایسے میں قراءاتِ قرآنیہ کو جدید تقاضوں کے مطابق پیش کرنا ایک اہم علمی ضرورت بن چکا تھا۔

اسی ضرورت کے  پیشِ نظر  جامعہ لاہور الاسلامیہ  کے کلیۃ القرآن الکریم نے کچھ عرصہ قبل  16 سال پر مشتمل طویل جدوجہد کے بعدعلمی منصوبے کی تکمیل کی ہے، جس کے نتیجے میں قراءات عشرہ صغری پر مشتمل بیس مصاحف کو ’’مصاحفِ محدث ‘‘ کے عنوان سے ایک جامع اور جدید ڈیجیٹل فورم  میں  پیش کیا گیا ہے، جس سے اس فن کے طلبہ، اساتذہ، قراء، محققین اور عام شائقینِ قرآن یکساں طور پر مستفید ہو سکیں گے۔

اس منصوبے کی تیاری میں علمی صحت، فنی معیار اور صارف کی سہولت کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ ہر روایت کے مطابق مکمل مصحف کی قراءت، آڈیو تلاوت، آیات کی تلاش، سورتوں اور آیات کی منظم فہرست، تلاوت کے ساتھ آیات کی خودکار تظلیل (Highlighting) اور کمپیوٹر و موبائل دونوں پر یکساں مؤثر انداز میں استفادے کی سہولت ،اس منصوبے کو اپنے نوعیت کا ایک ممتاز قرآنی ذخیرہ بناتی ہے۔ اس کے ذریعے مختلف قراءات کا تقابلی مطالعہ، تدریس اور انفرادی استفادہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ سہل ہو گیا ہے۔

یہ علمی منصوبہ تین اداروں کے باہمی تعاون کا حسین مظہر ہے۔’ کلیۃ القرآن الکریم، جامعہ لاہور الاسلامیہ‘  نے مصاحف کی تیاری، علمی مراجعت، تصحیح اور تدقیق کی ذمہ داری انجام دی، تاکہ ہر متن قراءاتِ متواترہ کے مسلّمہ اصولوں کے مطابق پیش کیا جا سکے۔ ’النور سنٹر (محدث میڈیا) ‘ نے ویب ڈیجیٹل پروگرام کی تیاری، پروگرامنگ، تکنیکی ڈھانچے اور صارف دوست نظام کی تشکیل کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ کویت کےعالمی ادارے  ’مؤسسة روح المسك للإنتاج الفني ‘ نے اس منصوبے کے لیے   مالی معاونت فراہم کی ۔

توقع ہے کہ یہ ڈیجیٹل پروگرام  نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام کے جامعات، مدارس، مراکزِ قراءات، تحقیقی اداروں اور انفرادی اہلِ علم کے لیے ایک مستند علمی مرجع ثابت ہوگا۔ بالخصوص وہ طلبہ و محققین جو مختلف قراءات کے نصوص، رسمِ مصحف اور ادائیگی کے فرق کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس منصوبے سے وابستہ تمام علماء، قراء، محققین، فنی ماہرین، معاونین اور مخیر حضرات کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔

3.    مدینہ یونیورسٹی  میں طلبہ کے داخلے — جامعہ کی علمی روایت کا روشن تسلسل

جامعہ لاہور الاسلامیہ کی علمی شناخت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس کے طلبہ کو  اسلامی تعلیم کے عالمی ادارے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ، اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور عالمِ اسلام کی دیگر ممتاز جامعات اپنے یہاں  میں اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالر شپ دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے رواں سال بھی جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ)، مرکز البیت العتیق کے 16  ممتاز طلبہ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلے کی سعادت حاصل ہوئی۔ جن کے نام درج ذیل ہیں :

حافظ علی زیب ذہبی                              حافظ محمد عمر                               حافظ محمد ثاقب                          حافظ شہریار                              

حافظ ثناء اللہ فاروقی                               حافظ محمد فیصل                            حافظ عبداللہ                             حافظ عبد الحنان

حافظ محمد عبداللطیف                         حافظ راشد علی                            حافظ سلمان مدنی                        حافظ عبدالرؤف

حافظ حویرث فاروق                             حافظ محمد اسماعیل                    حافظ گلزیب الرحمن                                                                  

          اسی طرح کلیۃ القرآن للبنات کی ایک طالبہ ’مقدس غفار‘  کا داخلہ طیبہ یونیورسٹی ، مدینہ میں کنفرم ہوا۔

 جامعہ لاہور الاسلامیہ  کے طلبہ کا بین الاقوامی معیار کے حامل ادارے میں داخلہ محض ایک تعلیمی مرحلہ نہیں ،بلکہ علمی استعداد، دینی فہم اور تحقیقی صلاحیتوں کے اعتراف کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والحمد للہ

4.    طلبہ کے ماہانہ وظائف — علمی حوصلہ افزائی کی ایک مؤثر روایت

تعلیم و تربیت کے میدان میں باصلاحیت اور محنتی طلبہ کی حوصلہ افزائی کسی بھی معیاری تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری شمار ہوتی ہے۔ اسی احساسِ ذمہ داری کے پیشِ نظر جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) میں اپنے قیام کے ابتدائی دور ہی سے نمایاں علمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کے لیے ماہانہ وظائف کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا۔ اس مبارک روایت کا بنیادی مقصد ذہین اور محنتی طلبہ کی علمی سرپرستی، تعلیمی مسابقت کو فروغ دینا اور انہیں مزید محنت و استقامت کی ترغیب دینا ہے۔

اس وقت جامعہ  میں  پچاس  کے قریب طلبہ و طالبات ایسے ہیں جو اپنے شش ماہی یا سالانہ امتحانات میں 90 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے کی بنیاد پر ماہانہ وظیفہ حاصل کر رہے ہیں۔ ہر کامیاب طالبِ علم کو  ماہانہ  ایک ہزار روپے  بطورِ وظیفہ دیے جاتے ہیں۔ ہر امتحان کے بعد نتائج کی روشنی میں میرٹ ازسرِ نو مرتب کیا جاتا ہے۔ اس سے طلبہ میں مستقل مزاجی، محنت اور اعلیٰ تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔

یہ وظائف علمی امتیاز کے اعتراف اور طلبہ کی مسلسل حوصلہ افزائی کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں ۔

5.    البیت العتیق کیمپس میں چار سالہ بی ایس اسلامک اسٹڈیز پروگرام کی منظوری

 لاہور انسٹیٹیوٹ فار سوشل سائنسز (LISS)، 91بابر بلاک، نیو گارڈن ٹاؤن لاہور میں چار سالہ BS Islamic Studies پروگرام کی کامیابی اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کے بعد اب  بیت العتیق کیمپس میں بھی الحمدللہ الگ سے  چار سالہ BS Islamic Studies پروگرام کی باقاعدہ منظوری حاصل کر لی گئی ہے۔ اس طرح طلبہ کو اب بیت العتیق کیمپس میں بھی وہی تعلیمی پروگرام میسر ہوگا،   جوقبل ازیں  91 بابر بلاک گارڈن ٹاؤن  میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

بیت العتیق کیمپس میں اس پروگرام کا آغاز دراصل شیخ الجامعہ ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ کے  اس وژن کی توسیع ہے جس کے تحت دینی تعلیم حاصل کرنے والےطلبہ کے لیے عصری شہادات  تک رسائی کو آسان بنانا اور انہیں ایک   منظم تعلیمی ماحول میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا مقصود ہے ۔

6.    صحت مند تفریح اور تربیتی سرگرمیاں

تعلیمی اداروں کی کامیابی کا انحصار نصابی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ طلبہ کی ذہنی آسودگی، جسمانی صحت، باہمی روابط اور مثبت شخصیت کی تعمیر کے لیے غیر نصابی اور تربیتی سرگرمیوں کا بھی بنیادی کردار ہوتا ہے۔ یہی سرگرمیاں تعلیمی ماحول کو مزید متوازن، فعال اور خوشگوار بناتی ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ تازہ عزم اور  یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیمی ذمہ داریوں پر  متوجہ ہوتے ہیں۔

اسی تصور کے پیشِ نظر جامعہ لاہور الاسلامیہ ،مرکز البیت العتیق کی انتظامیہ نے تین ماہ قبل شدید گرمی کے موسم   میں طلبہ کے لیے ایک روزہ تفریحی و تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا۔ اس مقصد کے لیے علاقے کے معروف ’’پیراڈائز سوئمنگ پول‘‘  کو متعلقین جامعہ کے لیے مخصوص کیا گیا، تاکہ طلبہ ایک محفوظ، منظم اور پُرسکون ماحول میں اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

جامعہ سے طلبہ کی آمد و رفت کے لیے کشادہ اور آرام دہ گاڑیوں کا انتظام کیا گیا۔ صبح تقریباً نو بجے اساتذۂ کرام کی نگرانی میں تمام طلبہ روانہ ہوئے اور شام پانچ بجے تک سوئمنگ پول کی مکمل بکنگ جامعہ کے لیے مخصوص رہی۔ اس دوران طلبہ نے نہایت خوشگوار، منظم اور پُرکیف ماحول میں دن گزارا۔

پروگرام کے شرکاء کے لیے عمدہ ضیافت کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا۔ دوپہر کے وقت طلبہ کو لذیذ بریانی اور تازہ آم پیش کیے گئے، جبکہ اساتذۂ کرام کے لیے  مٹن قورمہ اور دیگر لوازمات پر مشتمل پُرتکلف ضیافت کا انتظام کیا گیا۔ اس باوقار میزبانی نے پروگرام کی خوشگوار یادوں کو مزید دلنشیں بنا دیا۔

7.    کلیۃ القرآن الکریم  آن لائن اور آن سائٹ  — تعلیمِ قرآن کی ہمہ گیر علمی تحریک

پاکستان میں خواتین کے لیے دینی تعلیم کے متعدد ادارے مختلف مختصر اور طویل المدت  کورسز پیش کر رہے ہیں، تاہم مکمل درس نظامی کے لیے سرگرم   ادارے نسبتاً کم ہیں۔ جامعہ لاہور الاسلامیہ،  رحمانیہ نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے 2016ء میں’ البیت العتیق کیمپس ‘ میں کلیۃ القرآن الکریم للبنات کا باقاعدہ آغاز کیا ،جس میں ’وفاق المدارس السلفیہ ‘کے مطابق سات سالہ درس نظامی+ قراءات سبعہ وعشرہ  کا  مکمل نصاب پڑھایا جاتا ہے   ۔ اس وقت تقریباً تین سو طالبات  ادارے میں زیرِ تعلیم ہیں اور مستند معلمات  و شیوخ کی زیر نگرانی قرآن و سنت کے علوم سے بہرہ ور ہو رہی ہیں۔طالبات روزانہ آٹھ گھنٹے دینی تعلیم میں صرف کرتی ہیں ،    علاوہ ازیں لازمی  عصری تعلیم بھی جاری رکھتی ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ  کلیہ  میں زیرِ تعلیم طالبات نے میٹرک کے حالیہ  امتحانات 2026 میں   سو صد فیصد کامیابی حاصل کی  ہے، الحمدللہ  ۔

اسی طرح 2019ء میں کلیۃ القرآن الکریم آن لائن کا آغاز کیا گیا، جس نے مختصر عرصے میں غیر معمولی وسعت اور مقبولیت حاصل کی۔ اس میں خواتین کے لیے آن لائن میں حفظِ قرآن، ناظرہ، تجوید، قراءات، درسِ نظامی، ترجمۂ قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر دینی علوم کے باقاعدہ شعبہ جات قائم ہیں۔

 جدید ٹیکنالوجی، منظم انتظامی نظام، باقاعدہ امتحانات، حاضری کے مربوط نظام، تدریسی نگرانی اور معیاری نصاب نے اس ادارے کو خواتین کی دینی تعلیم کے میدان میں ایک مؤثر علمی مرکز کی حیثیت عطا کی ہے۔

اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین، کویت، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں مقیم تین ہزار کے قریب  طالبات مستند  معلمات اور قومی و بین الاقوامی مشائخ سے براہِ راست تعلیم حاصل کر رہی ہیں، الحمد للہ علی ذلک

اس ادارے کی سرپرستی اور علمی رہنمائی ملک کے ممتاز اہلِ علم  و قراء حضرات فرما رہے ہیں، جن میں:

 فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾                              فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالوحید روپڑی  ﷾

استاذ القراء قاری محمد ابراہیم میرمحمدی﷾                 استاذ القراء  ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی ﷾

شامل ہیں، جبکہ انتظامی و تدریسی امور درج ذیل ذمہ داران کی نگرانی میں انجام پا رہے ہیں:

قاری ظہیر ادریس                                           باجی عائشہ مدنی                           قاریہ حمیرا طارق       

قاریہ نائلہ امین                                                   قاریہ خدیجۃ الکبریٰ                    قاریہ فرحت منظور    

یہ ادارہ آن لائن کے ذریعے  نئی نسل کو قرآنِ کریم سے تعلق مضبوط کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

8.    ’ تحفظِ  حرمین شریفین اور دینی جماعتوں کا کردار‘ : جامعہ میں منعقدہ عظیم الشان سیمینار  

حرمین شریفین  کا تقدس اور تحفظ  ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اور عوام الناس میں شعور بیدار کرنے کے لیےبروز جمعرات  10/ اکتوبر 2026ء کو قرآن و سنہ موومنٹ ،پاکستان  کے زیرِ اہتمام جامعہ لاہور الاسلامیہ،  مرکز البیت العتیق میں ایک پروقار اور عظیم الشان سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریبِ سعید میں مختلف دینی جماعتوں کے قائدین، جید علمائے کرام، شیوخ الحدیث، جامعات  کے مدیران اور کثیر تعداد میں طلباء نے شرکت کی۔ تقریب کو دو نشستوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس کی  روئیداد درج ذیل ہے:

پہلی نشست: فکری بیداری اور علمی تربیت

سیمینار کا باقاعدہ آغاز قاری مدثر عزیزی کی مسحور کن تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ جس کے بعد محترم ارشد سلیمان  نے رسالت مآب ﷺ کی عقیدت میں ڈوبے ہوئے چند اشعار پیش کیے ۔

شیخ الحدیث  حافظ مسعود عالم ﷾(سابق شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ ، فیصل آباد )نے  اپنے خطاب میں  فرمایا کہ

’’اسلام کا بنیادی پیغام توحید، شرک سے اجتناب اور اللہ کی بندگی ہےاور بیت اللہ کی حرمت و تعظیم اور مقدس مقامات کا احترام ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ امت کی حقیقی رہنمائی رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس اور آپ کی سنت کے ذریعے ہوتی ہے؛ اس لیے قرآن کو سمجھ کر اس پر عمل، سنت کی پیروی اور تزکیۂ نفس ہی کامیابی کا راستہ ہے۔‘‘

شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان سلفی ﷾(سابق شیخ الحدیث جامعہ لاہو ر الاسلامیہ )نے فرمایا کہ

’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تقریباً چار ہزار سال قبل مکہ مکرمہ میں توحید کا پہلا مرکز تعمیر کیا ۔اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود آج وہاں    لاکھوں زائرین کی آمد اللہ کے وعدے کی سچائی ہے۔ انہوں نے حرمین کے دفاع کے لیے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اتحاد کو مثبت پہلو قرار دیا اور  اس بات پر زور دیا کہ تمام مسلمانوں اور اہل علم کو حرمین شریفین کی ناموس کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘

شیخ الحدیث مولانا مفتی  شفیق مدنی ﷾(مدیر مرکز ابن مسعود ، لاہور) نےفرمایا کہ

 ’’علم اللہ کی  نازل کردہ ایک عظیم نعمت اور انبیاء کی وراثت ہے۔ اس کے  حصول  کے لیے اخلاص اور دل کی پاکیزگی بنیادی شرط  ہے۔علم جسمانی راحت سے نہیں بلکہ مشقتوں سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘

شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید تونسوی ﷾(نائب شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ)نے  فرمایا  کہ

’’حرمین شریفین دینِ اسلام اور نزولِ وحی کا مرکز ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا :

  إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا[1].

’’بلاشبہ ایمان مدینہ کی طرف اس طرح سمٹ کر آ جائے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آ جاتا ہے۔‘‘

 حرمین کی حفاظت ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے، مسلم ممالک کو چاہیے کہ ایسے افراد تیار کریں جن کی موجودگی میں کوئی فسادی حرمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کر سکیں ۔‘‘

قاری  سید  محمد علی ہاشمی ﷾(مدیر جامعہ بلال یوکے سنٹر، لاہور) نے کہا کہ

’’حرمین سے ہمارا تعلق ایمان،محبت،تاریخ اور ہماری شناخت کا  تعلق ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والا مسلمان  قلبی طور پر حرمین سے وابستہ ہے۔ چودہ صدیوں سے صحابۂ کرام ، محدثین اور ائمہ علم و تزکیہ نے اس نسبت کو اپنے علم، عمل اورمحبت سے زندہ رکھا۔ حضرت عمر ؓ دعا کرتے تھے:

 اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ[2].

’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ  میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول کے شہر میں مقدر کر دے۔‘‘

 حرم سے تعلق ہماری زندگی اور بقا کی علامت ہے؛ لہذا اگر امت کو اپنی قوت، وحدت اور مقصد دوبارہ حاصل کرنا ہے تو اسے اپنی اصل نسبت کی طرف لوٹنا ہوگا۔‘‘

دوسری نشست: عملی اقدامات، عزمِ دفاع اور اتحادِ امت

’ تحفظ حرمین شریفین سمینار‘ کی دوسری نشست کا آغاز ڈاکٹر حافظ حمزہ   مدنی ﷾( پرنسپل کلیۃ القرآن الکریم،  لاہور ) کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد  مولانا حافظ عبدالوحید روپڑی ﷾ (شریک بانی جامعہ رحمانیہ) نے   تحفظ حرمین   شریفین کے حوالے سے اپنا صدارتی خطبہ سے پیش کیا۔   

اس سیمینار میں درج ذیل نمائندہ     قائدین،مدیران    جامعات  اور شیوخ الحدیث   نے  شرکت فرمائی :

  مولانا حافظ مسعود عالم    ﷾                      مولانا محمد رمضان سلفی   ﷾                            مولانا مفتی محمد شفیق مدنی  ﷾

 علامہ ابتسام الٰہی ظہیر ﷾                     علامہ ہشام الٰہی ظہیر  ﷾                             چوہدری  محمد یسین ظفر  ﷾          

  حافظ عبدالغفار روپڑی  ﷾                    مولانا امیر حمزہ ﷾                                      علامہ زبیر ظہیر   ﷾   

ڈاکٹر نصیر احمد اختر﷾                                          مولانا زید احمد﷾                                       مولانا عبد الرشید تونسوی   ﷾

ڈاکٹر مطیع اللہ باجوہ ﷾                                          ڈاکٹر حافظ حسین ازہر  ﷾                           ڈاکٹر  حافظ انس نضر   ﷾

حافظ غضنفر عزیز ﷾                                             ڈاکٹر حافظ  ابوبکر صدیق ﷾         مولانا عتیق الرحمن علوی ﷾  

ڈاکٹر منیر احمد وقار ﷾                                           قاری سید محمد علی ہاشمی ﷾                            ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد ﷾

ڈاکٹر مرزا عمران حیدر ﷾                     ڈاکٹر حافظ شاکر محمود ﷾                             ڈاکٹر عبدالماجد سلفی ﷾

ڈاکٹر ارشاد الحسن ابرار ﷾                    ڈاکٹر فہد اللہ مراد ﷾                   ڈاکٹر صلاح الدین ﷾

ڈاکٹر قاری نعمان مختار لکھوی ﷾            حافظ نعیم الرحمن ناصف ﷾          حافظ عبدالرحمن عزیز﷾

دفاع حرمین شریفین سیمینار کو روزنامہ جنگ، جیو نیوز، دنیا نیوز، نوائے وقت، روزنامہ پاکستان، روزنامہ اوصاف، جہان پاکستان، اردو پوائنٹ، لاہور رنگ سمیت قومی اخبارات، ٹی وی چینلز (جیو نیوز،سما ٹی وی،لاہور نیوزوغیرہ) اور ڈیجیٹل میڈیا نے نمایاں کوریج دی۔دینی حلقوں کی کسی علمی و فکری سرگرمی کو مین اسٹریم میڈیا پر اس وسعت کے ساتھ جگہ ملنا یقیناً ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا امر ہے۔

یہ سیمینار اس بات کا عملی ثبوت ہے  کہ پاکستان کی دینی قیادت اور عوام حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ایک جان اور ایک آواز ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔[3]

9.    اعزازات (شیلڈز )کی تقسیم

دوران تقریب انجینئر  علامہ حافظ  ابتسام الٰہی ظہیر اور علامہ  حافظ ہشام الٰہی ظہیر کو ان کی ڈاکٹریٹ  کی ڈگری کی تکمیل پر    قائدین،شیوخ الحدیث اور سینئر   علماء کے ہاتھوں  اعزازی   شیلڈ زپیش کی گئیں۔

اسی طرح ’جامعہ لاہور الاسلامیہ‘ کے ہونہار سپوت فضیلۃ الشیخ قاری صهیب احمد میر محمدی ﷾کوحال ہی میں ملک کی ممتاز سرکاری جامعہ Government College University Lahore کی جانب سےان کی دینی اور رفاحی خدمات کے اعتراف میں (PhD) کی اعزازی ڈگری  سےسرفراز کیا گیا ہے۔اس علمی اعزاز پر مادر علمی اور ان کے اساتذہ  کی جانب سے خصوصی شیلڈ پیش  کی گئی ،جو ان کے نمائندے   نے وصول کی  ۔

اس موقع پر ان 16 خوش نصیب طلباء کو بھی علمائے کرام کے دستِ مبارک سے خصوصی شیلڈز سے نوازا گیا ،جن کا داخلہ مدینہ یونیورسٹی میں ہوا تھا  ۔

 

[1]              صحیح بخاری: ۱۸۷۶

[2]              صحیح بخاری: ۱۸۹۰

[3]      ’تحفظ حرمین شریفین  سمینار‘  میں    پیش کردہ مختلف خطابات کا خلاصہ ادارتی  مضمون میں شامل اشاعت ہے  ۔