نومبر 2026ء

مقالات عقیدہ و منہج ؛تعارف و تجزیہ

تبصرہ کتاب

مقالات عقیدہ و منہج ؛تعارف و تجزیہ

ڈاکٹر حافظ آصف جاوید

 

ہماری مذہبیات کی تاریخ میں چند ہی اہل قلم ہوں گے جو علم و دانش کے بحر ذخار میں غواصی کریں اور فہم و بصیرت کے یاقوت و مرجان بر آمد کر لائیں،فکر و فن کا کوئی نیا  افق دریافت کریں اور اپنے بعد خاص حلقہ اثر پیدا کر جائیں ۔ہمارے ممدوح ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب کا شمار، انہی معدودے چند اصحابِ فکر میں ہوتا ہے،جن کے مرتب کردہ ’’مقالات عقیدہ و منہج ‘‘  اس وقت ہمارے زیر مطالعہ ہیں۔

مقالات کا انتساب ،امام ابو حنیفہ﷫کے نام ہے، جنہوں نے کلامی فرق کے رد میں ’’فقہ الاکبر ‘‘ لکھ کر سلف صالحین کے منہج پر’ اصول توحید‘  کو مرتب کیا ۔ مقالات میں عقیدہ اور منہج کے دو بنیادی موضوعات زیر بحث آئے ہیں اور انہیں کل بارہ ابواب اور مزید فصول میں سمویا گیا ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

باب اول کا عنوان ’’توحید اسماء و صفات ‘‘ ہے ،جس میں مقالہ نگار نے اس شبہ کا ازالہ کیا ہے کہ اسماء و صفات  کے باب میں ، جمہور اہل سنت اور فقہائے اربعہ تفویض کے قائل تھے۔ مقالہ نگار نے مستند اقتباسات سے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ فقہائے اربعہ :امام ابو حنیفہ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد ﷭  کا اتفاقی عقیدہ یہ ہے کہ وہ صفات کے حقیقی معنے کا اثبات کرتے ہیں مگر اس کی کیفیت بیان نہیں کرتے گویا اسماء و صفات کے باب میں سلفی حضرات وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو صحابہ کرام ،تابعین عظام، فقہائے امت اور جمہور اہل سنت کا عقیدہ تھا جبکہ احناف میں سے ماتریدیہ اور اشاعرہ توحید اسماء و صفات کے باب میں جمہور اہل سنت کے عقیدے پر نہ ہیں ۔اسی باب میں کلام نفسی اور کلام لفظی کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا ہے جو اشاعرہ اور ماتریدیہ کی بابت ، محترم  و مکرم  شیخ واصل واسطی﷾ کے ایک توضیح طلب خط کے جواب پر مشتمل ہے!

باب دوم کا عنوان ’’ توحید الوہیت‘‘  ہے ۔مقالہ نگار نے اس باب میں صوفی عبدالحمید سواتی ﷫کی تفسیر 'معالم  الفرقان 'سے منتخب اقتباسات  اور حوالہ جات دیے ہیں ،جو مروجہ قبر پرستی کے شدید رد پر مشتمل ہیں۔ اسی باب میں  ڈاکٹر مسعود عثمانی کے افکار و نظریات کا  تنقیدی تعارف بھی بیان کیا گیا ہے کہ معاصر کشفی اور الہامی تصوف کے رد عمل سے وجود میں آنے والا ایک شدت پسند اور انتہا پرست فرقہ ہے، جو عذاب قبر کو جھٹلاتا، دینی خدمات پر اجرت کو حرام سمجھتا اور سب سے بڑھ کر امت کی تکفیر کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں اس باب میں تکفیر ، بیان کفر اور  توسل کے بارے میں امام ابو حنیفہ کا نظریہ، ارطغرل اور شرکیہ تصوف ،دربار کی چوکھٹ پر عمرانی سجدہ اور  جنات سے خدمت جیسے توحید الوہیت سے متعلقہ موضوعات اس باب میں شامل ہیں ۔

باب سوم  ’’ توحید ربوبیت‘‘ سے معنون ہے۔  مقالہ نگار نے نظریہ وحدت کے تناظر میں،شیخ ابن عربی اور ڈاکٹر اسرار احمد کے مابین تقابل کرتے ہوئے ہر دو مؤقف  کے درمیان  چھ جوہری فروق کا استخراج کیا ہے  اور اس پر مستزاد یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے موقف سے متعلق سات مزید توضیحات بھی بیان کی ہیں۔ مقالہ نگار کا خیال ہے کہ متقدمین علمائے کرام نے شیخ ابن عربی کے وحدتی نظریہ  پر تنقید اور تکفیر کی ہے مگر ان کی تنقیدات اور تکفیرات کو ڈاکٹر صاحب مرحوم پر چسپاں کرنا مناسب نہیں کیونکہ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک وحدت کا نظریہ دین و مذہب کا نہیں بلکہ سائنس و فلسفے کا مسئلہ تھا، جو اس باب میں ایک بالکل نئی تعبیر ہے  اور جس سے اختلاف کرنا ممکن ہے مگر اسے بنیاد بنا کر  مرحوم ڈاکٹر صاحب کی تکفیر کرنا درست نہیں ہے۔

ڈاکٹر صاحب مرحوم کا موقف واضح کرنے کے  سبب،حیرت ہے کہ ہمارے بعض دوست مقالہ نگار کو اسراری ہونے کا طعنہ دیتے ہیں حالانکہ پہلے باب میں مقالہ نگار نے فقہائے اربعہ کا سلفی العقیدہ ہونا بھی ثابت کیا ہے پھر اسراری کے بجائے انہیں سلفی سمجھنے میں کیا مانع ہے،جبکہ وہ اظہار بھی کر چکے ہیں کہ اسماء و صفات کے باب میں وہ جمہور اہل سنت اور محدثین کرام کے عقیدہ پر ہیں!

باب  چہارم  میں  جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے اس نظریے کا جائزہ  لیا گیا ہے کہ’’ غلام احمد قادیانی نے ختم نبوت کا تصور،شیخ ابنِ عربی کے نظری تصوف سے اخذ کیاہے‘‘ ۔مقالہ نگار نے اس باب میں،شیخ ابنِ عربی اور مرزا قادیانی کے تصور ختم نبوت کا تقابلی جائزہ پیش کیاہے ۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ ابن عربی اور قادیانی اس لحاظ سے باہم متفق ہیں کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی ہے البتہ غیر تشریعی نبوت جاری ہے،اور اس اعتبار سے مختلف ہیں کہ ابن عربی کے اقتباسات نسبتاً مبہم ہیں،جو اپنے اندر تاویل کی گنجائش رکھتے ہیں جبکہ قادیانی عبارات میں تاویل کی گنجائش موجود نہیں ہے کہ وہ دعوائے نبوت میں نہایت واضح اور غیر مبہم ہیں ۔مقالہ نگار کے مطابق ہمارے قدیم فقہائے کرام میں سے بہت سوں نے ابن عربی پر تضلیل اور تکفیر تک کا شدید نقد کیا ہے چنانچہ ابن عربی سے متعلق اسی موقف پر قائم رہنا چاہئے اور اس کے بارہ میں بعد کے کسی ذو معنیٰ اور سطحی موقف کی بنیاد پر،قادیانی کو مارجن دینے کا جواز تلاش کرنا لا یعنی ہے۔یا ہ قادیانی کی  تکفیر کا فرض تو  ادا کریں لیکن ابن عربی کی مبہم عبارات کو بنیاد پر اس کی  عدم تکفیر کی گنجائش پیدا کریں قطعاً درست نہیں ہے ۔

باب پنجم میں علامہ ابن حزمؒ  کا بنیادی تعارف اور علمی مقام بیان کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار نے اہم کلامی اور فقہی امور جیسے اسماء و صفات الہٰی ، زمان و مکان جسم ،علت و معلول، جبر و  قدر، روح و نفس اور اشیاء کے حسن وقبح کے علاوہ نبوت ، آخرت اور ملائکہ سے متعلق ظاہری نقطہ نظر کو تفصیلاً ذکر کیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ فقہائے ماقبل کے برعکس علامہ ابن حزمؒ نے علم و فن کے ہر باب میں اپنا مکمل بیانیہ پیش فرمایا ہے۔ مقالہ نگار کے مطابق ابن حزم کی ہمہ جہت اور ہمہ گیر شخصیت کو چند شذوذ اور تفردات کی بنیاد پر ظاہریت کا طعنہ دینا گویا ان کے علمی ورثہ سے محروم ہونے کے مترادف ہے۔ علامہ ابن حزمؒ سے علمی اختلاف رکھنا ہر صاحب علم کا حق ہے مگر ان کے علمی مقام و مرتبے کا انکار کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔ مقالہ نگار کا خیال ہے کہ اعتقادی مسائل میں اگرچہ سلفی حضرات ،ابن حزم سے اختلاف رکھتے ہیں اور فقہی احکام میں حنفی احباب انہیں قبول نہیں کرتے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کلامی امور کی بابت،ان کے  ظاہری منہج کو اہل کلام ایک مصدر سمجھتے ہیں اور ان کے عدم تقلیدی رجحان کو،اہل حدیث کی ایک بڑی جماعت سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے!

مقالات کے چند ابواب میں عالم کے حدث و قدم ،کشف و الہام اور عقل و نقل سے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ  کا موقف بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ،جس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الاسلام کی شخصیت، اسلام کے انتہائی سادہ دین کو نہایت اعلی حکمت کے ساتھ پیش کرنے کی خداداد صلاحیتوں سے مالا مال تھی۔ مقالہ نگار کے خیال میں شیخ الاسلام کو پڑھ کر یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے کہ سلفیت، ظاہریت کا اپڈیٹڈ ورژن ہے بلکہ ان کے مطالعہ سے  یہ تصور سامنے آتا ہے کہ سلفیت ایک مستقل فکری منہج کا نام ہے اور علامہ ابن تیمیہ سلفی منہاج کی تفہیم کا معیاری پیمانہ ہیں چنانچہ معاصر سلفی علماء کے مابین اختلاف کے وقت ابن تیمیہ،  سلفی مکتب فکر کی اسٹینڈرڈتعبیر شمار ہوتے ہیں!

باب دہم  میں فہم سلف کی حجیت کا مسئلہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے یہ باب درحقیقت چند بنیادی سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے اور ان جوابات کا حاصل یہ ہے کہ مقالہ نگار کے نزدیک سلف صالحین سے مراد حضرات صحابہ کرام کی جماعت ہے کہ اس پر تمام امت کا اتفاق ہے جبکہ تابعینِ عظام اور تبع تابعین کو سلف میں شمار کرنا بہرحال مختلف فیہ  ہے ۔مقالہ نگار کے مطابق،فہم سلف سے مراد کسی آیت کی تفسیر یا حدیث کی توضیح بیان کرنے والا فہم مراد ہوتا ہے، سلف کا مجرد فہم مراد نہیں ہوتا ۔ فہم سلف  کے حجت ہونے یا نہ ہونے کی بابت  مقالہ نگار کی رائے یہ ہے کہ سلف صالحین کا متفقہ فہم حجت ہے ،جس کا دوسرا نام گویا اجماع امت ہے اور سلف کا اختلافی فہم حجت نہیں ہے کیونکہ کسی مسئلے پر سلف کے مختلف اقوال کا موجود ہونا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سلف کے نزدیک ایک کا قول دوسرے پر حجت نہیں تھا پھر ما بعد زمانے پر حجت کیسے ہو سکتا ہے!  لہٰذا سلف کے  مختلف فیہ اقوال کو کتاب و سنت پر پیش کیا جائے گا اور ان میں سے جو قول بھی کتاب و سنت کے مطابق ہوگا، اسے قبول کیا جائے گا ۔مصنف کے خیال میں البتہ،سلف کے مختلف اقوال کا مطالعہ کرنا انتہائی مفید ہے کہ اس سے مجموعی طور پر سلف کی روش کا علم ہوتا ہے اور اسی روش کو ہم منہجِ سلف کا نام دے سکتے ہیں۔حاصل یہ ہے کہ کتاب و سنت کا مطالعہ کرتے وقت منہج سلف پر کار بند رہنا ضروری ہے اور ان کا اجماعی نتیجہ فکر قبول کرنا بھی لازم ہے مگر ان کے مختلف فیہ اقوال کو حجت سمجھنا درست نہیں ہے اور اس قسم کا فہم سلف اگرچہ، دین کا مصدر نہیں ہوتا مگر فہم دین کا ذریعہ ضرور ثابت ہوتا ہے۔

فہم سلف کے ساتھ ساتھ مقالات میں اجماع امت کا تصور بھی زیر بحث لایا گیا ہے ۔مقالہ نگار کی رائے میں،معروف اصطلاحی تعریف کے مطابق اجماع کا عملاً وقوع پذیر ہونا ناممکن ہے اور جن امور پر حضرات صحابہ کرام کے اجماع کا دعویٰ کیا جاتا ہے،ان کی حقیقت یہ ہے کہ شورائی اجتہاد کے نتیجہ میں انتظامی نوعیت کے بعض معاملات پر صحابہ کرام کا اتفاق ہو گیا تھا اور یہی اجماع صحابہ کی اصل صورت تھی ۔مقالہ نگار امام شافعیؒ کے تصور اجماع سے متّفق دکھائی دیتے ہیں کہ ضروریاتِ دین اور مبادیات شرع سے متعلق اجماع کا دعویٰ کرنا درست ہو گا کہ علماء چھوڑ عوام کو بھی اس سے اختلاف نہیں ہوتا ہے۔مقالہ نگار کے نزدیک ،مبادیات دین پر اجماع ہونا اور فہم سلف کے منہج پر اجماع ہونا،نہ صرف ممکن ہے بلکہ شرعاً حجت بھی ہے اور شرعی اصول کے علاوہ انتظامی امور میں بھی اجماع پر کار بند رہنا امت کے لیے  لازم ہے ورنہ اجماع کے انکار سے دین محفوظ نہیں رہ پائے گا کہ دین کے متفق علیہ اصول اور مجمع علیہ ارکان بھی مختلف فیہ ہو جائیں گے اور ماہ رخ اسلام کی دیدہ زیب صورت،معاذ اللہ مسخ ہو کر رہ جائے گی!

 باب یازدہم تعامل بین المسالک کے حوالے سے ہے اور یہ بڑی خاصے کی چیز ہے ۔ مقالہ نگار کے مطابق بین المسالک تعامل کا بنیادی مقصد، فرقہ وارانہ تعصبات کم کرنا ،علمی اختلافات میں شائستگی دکھانا اور قومی معاملات میں اجتماعی جدوجہد کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔ مقالہ نگار نے کتاب و سنت کی روشنی میں تعامل کی چند صورتیں ذکر کی ہیں اور سلف صالحین کے اقوال اور اکابر علمائے اہل حدیث کے عملی مظاہر کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ مقالہ نگار کا خیال ہے کہ بعض مسائل پر اسلاف کے اقوال ،خاص ماحول اور مخصوص حالات کے سیاق میں صادر ہوئے ہیں ،  انہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر آج کے معاشروں پر جاری کرنا گویا شان نزول سے آنکھیں بند کر کے قرآن سمجھنا ہے۔ چنانچہ قدیم سلفی اقوال کی درست تفہیم کے لیے  معاصر سلفی علماء کی تعبیر ہی زیادہ موزوں ہے۔مقالہ نگار نے اسی تناظر میں چند پاکستانی شخصیات اور جامعات کا نقطہ نظر اور عملی مظہر بھی سے بیان کیا ہے۔  باب ہذا میں سطحی منہجیت اور سعودی سلفیت اور در آمدی مدخلیت پر نقد و تبصرہ بھی شامل ہے۔

باب ہذا میں مقالہ نگار نے اہل حدیث حضرات پر،سلف صالحین کا منہج فکر اور  فہم شریعت واضح کرنے کی سنجیدہ کوشش  کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ماضی قریب کے سلفی اکابر کا دیگر مسالک کے علماء سے حسنِ تعامل بھی پیش کیا ہے تاکہ تنگ نظری اور خشک مزاجی کے عہد میں وسعت فکری اور خوش اخلاقی کو رواج دے سکیں، اپنی مبارک سعی میں مقالہ نگار کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں،فیصلہ بہر صورت معتدل قارئین ہی کریں گے!

آخری باب کا عنوان منہج سلف اور کرنے کا اصل کام ہے، جس میں عمومی قسم کے مسائل کو اسلامائز کر کے پیش کیا گیا ہے یہ باب دراصل مختلف نفسی اور نفسیاتی ،طبی اور طبعی، سماجی اور سیاسی موضوعات سے متعلقہ سوالات کے جوابات یا مقالہ نگار کے حاصلات ِفکر کا مجموعہ ہے اور اس کے مذکورہ موضوعات اس لحاظ سے نہایت اہم ہیں کہ ہماری نسلِ نو کے مسائل پر مشتمل ہیں اور مقالہ نگار کے مطابق ،منہجِ سلف کے پیر و کاروں کا فرض ہے کہ جدید مسائل پر اپنے عوام کو شرعی رہنمائی فراہم کریں اور اس رہنمائی کے لیے ظاہر ہے کہ معاصر مسائل سے آشنا ہونا ضروری ہے ورنہ تعلیم یافتہ اہل حدیث کی ایک بڑی تعداد چرب زبان متجددین اور منحرفین کا شکار ہوئے جا رہی ہے لہذا دینی مدارس کے تحت ’’دارالافتاء ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’دارالفکر ‘‘ قائم کرنا بھی  وقت کی اشد ضرورت ہے، جو پیش آمدہ مسائل میں سلفی منہاج  پر نہ صرف عوام کی را ہنمائی کرتا ہو بلکہ فضلائے مدارس کے لیے  فکری تربیت کا اہتمام کرنا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہونا چاہیے!

تعصب اور تنفر کے ماحول میں سنجیدہ مسائل پر قلم اٹھانا اور اپنے حاصلاتِ مطالعہ کا پیش  کرنا جان جوکھوں کاکام ہےاور یہ کام وہی شخص انجام دے سکتا ہے جو مدح و ذم کے نفسیاتی ردعمل سے بڑی حد تک بے نیاز ہو جائے ۔ ہماری رائے میں مقالات عقیدہ و منہج،اسی نوع کی ایک عمدہ کاوش ہے جو یقیناً لائقِ مطالعہ اور قابلِ داد ہے کہ مقالات میں انتہائی سنجیدہ مسائل کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور سنجیدہ موضوعات محض سنجیدہ ہی نہیں ہوتے بلکہ اپنے دیرپا اور دور رس اثرات کے باعث عرصے تک زندہ بھی رہتے ہیں کہ وہ فہیم عناصر کے دل کی آواز ہوتے ہیں اور اپنے بعد خاص حلقہ چھوڑ جاتے ہیں اور یہی ان موضوعات کے مفید اور مؤثر ہونے کا ثبوت ہوتا ہے!