نومبر 2026ء

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر ثانی  

حضرت العلاّم مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫؛ افکار ونظریات

فکر و منہاج                                                                                                                                                                          قسط اول

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر ثانی  

حضرت العلاّم مولانامحمد اسماعیل سلفی ﷫؛ افکار ونظریات

                                                                   ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

مدیرِ مجلہ محدث  ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی ﷾ کی تجویز تھی کہ برصغیر پاک وہند کے کبار علماء کی فکر کو
مجلہ محدث کی زینت بنانا چاہیے تا کہ آج کے اہل حدیث نوجوان کی  فکری رہنمائی ہو سکے۔ اس سلسلے میں بر صغیر پاک وہند کے  اکابر اہل حدیث علماء کی سوانح اور افکار ونظریات پر ایک سلسلۂ مضامین شروع کیا ہے کہ جس میں بانی مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان جناب  مولانا داود غزنوی اور محدث العصر  مولانا حافظ محمد گوندلوی﷮
 پر دو مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ اس بار حضرت العلام مولانا اسماعیل سلفی ﷫کا انتخاب کیا گیا ہے۔

مولانا سلفی ﷫مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے دوسرے امیر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے حدیث اور  اہل حدیث کے دفاع   میں بہت کچھ لکھا ہے، جو بلاشبہ  ہزاروں صفحات پر محیط ہے۔ حال ہی میں مولانا سلفی کے متفرق ومتنوع رسائل، مضامین اور کتب کو دس جلدوں میں نگارشات کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔
 راقم الحروف نے اس مضمون کی تیاری کے سلسلے میں مولانا سلفی کی تصنیفات اور تالیفات کا دو مرتبہ مطالعہ کیا ، اس میں اہم مقامات کو ہائی لائیٹ کیا، اس کے بعد ان  نشان زدہ  اقتباسات کو نکالا،  انہیں ابواب بندی کی صورت میں  ایک منطقی ترتیب دی اور اس کے بعد اس سلسلۂ مضامین کو چار حصوں میں تقسیم کیا کہ جس کی پہلی قسط پیش ِخدمت ہے۔

 مولانا سلفی ﷫پر یہ سلسلۂ مضامین تقریباً چار  اقساط میں مکمل ہو گا۔ ا س کی پہلی قسط میں برصغیر پاک وہند میں اہل حدیث کی تاریخ و تحریک کے حوالے سے مولانا کے افکار ونظریات کو جمع کیا گیا ہے۔ دوسری قسط میں حدیث، فقہ، اصولِ فقہ ،  تقلید اور تصوف  کے مسئلہ میں مولانا کے افکار کو پیش کیا جائے گا۔ تیسری قسط جماعت اسلامی  اور دیگر سیاسی تحریکوں کے بارے مولانا کے افکار پر مشتمل ہو گی۔ اور چوتھی قسط میں معاصر اہل حدیث علماء،  اہل حدیث جماعتوں، اہل حدیث مدارس اور ان کی تنظیم وتحریک  کے بارے میں مولانا کے افکار کو زیرِ بحث لایا جائے گا۔ ان شاءاللہ

 ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی ﷾ کا مشورہ  تھا کہ مولانا سلفی ﷫کے افکار ونظریات کو پیش کرتے ہوئے اپنی بات کم کی جائے اور زیادہ سے زیادہ انہی کی عبارتیں نقل کرنے پر  اکتفا کیا جائے۔ پس  اس قسط میں راقم الحروف نے کوشش کی ہے کہ مولانا سلفی ﷫کی عبارتوں کے بیان  پر ہی اکتفا کیا جائے اور اپنے الفاظ میں وضاحتی نوٹس بھی نہ ہونے کے برابر   رکھے جائیں۔ چار اقساط پر مشتمل اس سلسلۂ مضامین میں، مولانا سلفی ﷫کے چار ہزار صفحات میں پھیلے افکار ونظریات کا،  تقریباً ایک صد صفحات میں،  انہی کے الفاظ میں منطقی ترتیب کے ساتھ ایک جامع خلاصہ پیش کیا جائے گا، ان شاء اللہ عزوجل۔

 اس قسط میں صرف  عناوین اور ذیلی عناوین میری طرف سے ہیں، بقیہ سب عبارتیں مولانا سلفی ﷫ہی کی ہیں سوائے شروع کی سوانح  حیات کے، کہ وہ مجموعہ’’ نگارشات ‘‘کے مرتبین /مؤلفین  کے الفاظ ہیں۔  پس میرے ا س مضمون میں محض شروع ہی کے چند الفاظ یا جمع وترتیب اور اس کی ابواب بندی ہے۔ ابواب بندی بھی اس لیے کی گئی ہے تا کہ مسئلہ میں نکھار پیدا ہو اور مولانا کی فکر زیادہ نکھر کر سامنے آئے، جیساکہ اس کی مثال ہمیں امام بخاری ﷫کی احادیثِ نبویہ پر ابواب بندی سے ملتی ہے۔

 کسی بڑے عالم کے افکار ونظر   یات کو شائع کرتے ہوئے کوئی وضاحتی نوٹ لگانے میں حرج نہیں ہے،
 البتہ  اختلافی نوٹ لگانے  میں دو رائے ہو سکتی ہیں  ۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ کسی مصنف یا مؤلف کے کام کا تعارف کرواتے ہوئے اس  پر اختلافی نوٹ لگانے کی بجائے، اس اختلاف کا اظہار کسی اور مقام پر کر دینا چاہیے تا کہ قاری کا ذہن منتشر نہ ہو۔ اگرچہ ’’نگارشات ‘‘کے مرتب  نے بعض مقامات پر مولانا سلفی ﷫سے اختلاف کرتے ہوئے حواشی میں اختلافی نوٹس لگائے ہیں ،جیسا کہ جمال الدین افغانی ﷫کے بارے مولانا سلفی ﷫ کی رائے پر اختلافی نوٹ [1] ، یا  مولانا سلفی ﷫کی طرف سے تفویض کی اصطلاح کو استعمال کرنے پر اختلافی نوٹ[2]  ، یا  مولانا کی طرف بدعتی کے فرض اور نوافل قبول نہ ہونے والی روایت کے بیان  کو حواشی میں موضوع قرار دینے کا اختلافی نوٹ  [3] ،جبکہ یہ روایت معمولی سے الفاظ کے تغیر کے ساتھ اور بعینہ مولانا  ہی کے بیان کردہ  معنی ومفہوم کے مطابق صحیحین میں موجود ہے۔ مرتب  کی طرف  سے بعض نوٹس وضاحتی بھی ہیں اور وہ مفید ہیں، لیکن اختلافی نوٹس قاری کے  ذہن میں انتشار پیدا کر سکتے ہیں۔   بہر حال ہم نے اس مضمون میں  کسی بھی قسم کا  اختلافی نوٹ لگانے سے اجتناب ہی کو بہتر سمجھا ہے، یعنی   بجائے اس کے کہ ہم قاری کو مولانا سے اختلاف کی کوئی جہت مہیا کریں، وہ خود ہی  یہ فیصلہ کرے تو کرے۔

۱- مولانا اسماعیل سلفیؒ: سوانح، شخصیت اور علمی خدمات

پیدائش اور ابتدائی تعلیم: مولانا سلفی ﷫کی پیدائش ۱۳۱۴ھ بمطابق ۱۸۹۵ء تحصیل وزیر آباد کے قریب ایک گاؤں ڈھونیکے میں ہوئی[4]۔  ابتدائی اور بنیادی تعلیم کے بعد آپ نے مولانا حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی کی خدمت میں باقاعدہ زانوئے تلمذ طے کیا… مولانا سلفی﷫ نے استاذِ پنجاب سے صحاح ستہ مکمل اور اصول حدیث میں ’’شرح نخبۃ الفکر‘‘ اور ’’تفسیر جلالین‘‘ پڑھی۔ حافظ ﷫صاحب نے کمال مہربانی و  تلطف سے مولانا سلفی﷫ کو روایت کی اجازت دی اور سند بھی عطا فرمائی۔ یہ سند آپ کو  ۱۳۳۳ھ میں دی گئی۔

اعلی دینی تعلیم کا حصول: ان دنوں امرتسر میں علوم و فنون کا چرچا تھا۔ اکابرینِ خاندانِ غزنویہ علوم و فنون کا منبع بن چکے تھے۔ مدرسہ غزنویہ میں آپ نے مولانا عبدالغفور غزنوی﷫ اور مولانا عبد الرحیم غزنوی﷫ سے استفادہ کیا۔ قیام ِامرتسر کے دوران  آپ نے مولانا مفتی محمد  حسن ﷫ (جو قیام پاکستان کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی ہوئے) سے فنون کی کتابیں پڑھیں۔ آپ مفتی صاحب موصوف سے بہت متاثر تھے۔  فنون میں ان کے ذوق اور طریقِ  تدریس کی  بہت تعریف فرماتے تھے۔ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ فنون میں میری دلچسپی اور درک مفتی صاحب کے طریقِ تدریس   کا فیض ہے[5]۔امرتسر سے فراغت کے بعد مولانا سلفی﷫  سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ ان دنوں وہاں علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی  ﷫کی علمیت کا چرچا تھا۔ مولانا سلفی﷫ نے ان سے بھی کسب فیض کیا… انہوں نے مولانا سلفیؒ کی ذہانت و فطانت کو آن واحد میں پہچان لیا اور انہیں اپنا روحانی بیٹا قرار دیا۔ علامہ سیالکوٹی مرحوم نے اپنی عظیم الشان لائبریری مولانا سلفی کی تحویل میں دے دی اور اس طرح مولانا مرحوم کو قدیم تفاسیر اور نادر علمی کتابوں سے استفادے کا موقع حاصل ہوا[6]۔

مدرسہ محمدیہ کی بنیاد:آپ ۱۳۳۹ھ بمطابق ۱۹۲۱ء میں مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی﷫ کی معیت میں گوجرانوالہ آئے۔ ان ایام میں گوجرانوالہ کی جماعت اہل حدیث چند نفوس پر مشتمل تھی، مولانا سیالکوٹی نےجماعت کے اراکین سے کہا کہ میں ایک درِّ شہوار  تمہارے سپرد کرنے آیا ہوں، اس کو حفاظت سے رکھنا۔ اس کے بعد آپ نے شہر گوجرانوالہ کو ایسا  وطن بنا لیا کہ اس شہر میں منبر و محراب کو الحمدللہ چار چاند لگا دیے۔ گزشتہ  نصف صدی میں کئی انقلاب آئے، مگر آپ اپنے جادۂ مستقیم پر رواں دواں رہے۔ آپ کے پائے عزیمت میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ مقام و مرتبہ کی چاہت اور دولت کی طلب آپ کو اپنے مقام سے نہ ہلا  سکی۔ مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز﷫ نے شیخ عبدالقادر شیبۃ الحمد کی معرفت آپ کو مدینہ منورہ بلوا بھیجا، مگر آپ نے گوجرانوالہ میں قیام کو ترجیح دی اور اپنی جگہ حضرت العلام جناب مولانا حافظ محمد گوندلوی﷫ کو بھجوا  دیا۔ گوجرانوالہ کی جامع اہل حدیث میں آپ نے مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی[7]۔

مولانا سلفی ﷫کی تصنیفات وتالیفات: مطبوعہ وغیر مطبوعہ تصانیف کی تعداد مندرجہ ذیل ہے:

۱۔ اسلامی حکومت کا مختصر خاکہ، ۲۔ مسئلہ حیات النبی ﷺ، ۳۔ جماعت اسلامی کا نظریۂ حدیث،
۴۔ تحریکِ آزادیٔ فکر، ۵۔ حدیث کی تشریعی اہمیت، ۶۔ مقامِ حدیث قرآن کی روشنی میں، ۷۔ مسئلہ زیارت قبور، ۸۔ شرح سبع معلقات، ۹۔ رسول اکرم ﷺ کی نماز، ۱۰۔ مشکوة المصابیح (نصف اول کا ترجمہ و تحشیہ) [8]۔

قبل ازیں مولانا سلفی ﷫کے جو  تحریری مجموعہ جات ہم نے شائع کئے ہیں، ان میں  ’’مقالات حدیث‘‘ (۲۰۰۹ء)، ’’نگارشات‘‘ (۲۰۱۱ء)، ’’مجموعہ رسائل‘‘ (۲۰۱۲ء)، ’’مقالات وفتاوی‘‘ (۲۰۱۶ء) اور ’’خطبات‘‘ (۲۰۱۷ء)  شامل  ہیں۔ یہ تمام مجموعات ہم نے موضوعات کے مطابق ترتیب دیے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں انہیں موضوعات سے متعلق مولانا سلفی ﷫کا مزید تحریری مواد بھی ملتا گیا ،   جسے ہم جمع کرتے رہے۔ چنانچہ اب مولانا کی تمام نگارشات کا یہ مجموعہ بہت سے اضافہ جات کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے جو ان کی تحریر کردہ کتب، رسائل، مضامین، فتاویٰ، مکاتیب، مقدمات   اور دروس و خطبات پر مشتمل ہے۔ حسب ِسابق ان تمام جلدوں کو ہم نے موضوعات ہی کی ترتیب سے مدون کیا ہے اور ان میں تمام مطبوع و غیر مطبوع تحریروں کو جمع کر دیا ہے۔ چنانچہ پہلی جلد: ’’حجیت حدیث‘‘، دوسری: ’’تحریک آزادی فکر‘‘، تیسری: ’’مجموعہ رسائل‘‘، چوتھی: ’’مقالات و فتاویٰ‘‘، پانچویں: ’’مکاتیب و مقدمات‘‘، چھٹی: ’’نظم جماعت اور دروس و خطابات‘‘، ساتویں: ’’خطبات جمعہ‘‘، آٹھویں: ’’شرح معلقات سبعہ‘‘، اور نویں اور دسویں جلد: ’’شرح مشکاة المصابیح‘‘ پر مشتمل ہے[9]۔

مولانا سلفی ﷫کا اسلوب تحریر :ایک طبیب حاذق کی طرح نشتر بھی چلاتے ہیں، مگر کہیں ٹیس محسوس نہیں ہونے دیتے۔ اپنے مخاطب کا بھر پور تعاقب کرتے ہیں، مگر اس کے ادب واحترام کے منافی کوئی چیز نوک قلم پر نہیں لاتے[10]۔مولانا اصحاب الرائے اور تقلید جامد کے خلاف بے باک نقاد ہیں، مگر تنقید اس انداز سے کرتے ہیں کہ فریق مخالف برا ماننے کے بجائے قائل ہو جاتا ہے[11]۔ اردو انشاء پردازی میں صاحب طرز تھے، جس میں روانی، سلاست بیانی، الفاظ کا چناؤ، ان کا جڑاؤ، طنز  کی پھوار اور پھر محل کے مطابق اشعار کی آمد اور شگفتگی بدرجۂ  اتم موجود ہوتی تھی[12]۔ 

مولانا کے معمولاتِ  زندگی:مولانا اتنی مصروف زندگی گزارتے تھے کہ حیرت ہوتی ہے کہ آپ ان فرائض سے کیسے عہدہ برآ ہوتے تھے۔ مسجد  کے خطیب اور پانچوں نمازوں  کے امام بھی تھے۔ آپ نے مدت العمر قرآن کا درس اس اہتمام سے دیا کہ ناغہ شاذ  و نادر ہی ہوا، تبلیغی اور تنظیمی  سفر پر تشریف لے جاتے، تو کوشش یہی فرماتے کہ سفر جلد ختم  ہو، تا کہ درس قرآن حکیم کے تسلسل میں فرق نہ پڑے۔گوجرانوالہ میں آتے ہی مولانا نے فجر کے بعد درس قرآن شروع کر دیا تھا، جوسینتالیس  برس تک تواتر کے ساتھ جاری رہا۔ درس کے لیے یومیہ سامعین دو اڑ ھائی سو سے کم نہ ہوتے تھے۔ رمضان المبارک میں یہ تعداد پانچ سو کے قریب ہو جایا کرتی تھی۔ درس قرآن مجید اور خطبہ میں بھی ترتیب کے ساتھ دوسرے دور کا اٹھارواں پارہ قریب الختم تھا۔ اس درس کے بعد تجار اور کاروباری لوگوں کی ایک جماعت آپ  سےباترجمہ قرآن مجید پڑھتی تھی، بعد ازاں مدرسہ  محمدیہ کے اسباق شروع ہوجاتے تھے اور آپ اہم کتابیں خود پڑھاتے تھے۔ اثنائے مصروفیت  ہی میں مضمون نو یسی، مقالہ نگاری، خطوط  کے جواب اور فتوٰی  تحریر فرماتے تھے۔ شہرکی سیاسی ومعاشرتی تحریکوں میں حصہ بھی لیا جاتا تھا، ملک کی تحریکوں میں پورے انہماک کے ساتھ حصہ لیتے تھے اور حوادث  میں باحسن وجوہ  خدمات سرانجام دیتے تھے[13]۔

مولانا کی خدمت اور سادگی: مولانا اسماعیل سلفی﷫  ۱۹۲۱ ء میں مسجد اہل حدیث میں تدریس پر مقرر ہوئے… مولانا کی طبیعت نہایت سادہ اور خدمت گزار تھی، اکثر صبح کی نماز سے پہلے خود اپنے ہاتھ سے ویل پمپ سے وضو کے لیے پانی بھرتے۔ مسجد کا کام ایک جذبے سے کیا اور طبیعت ایسی رسا تھی کہ جو طالب علم صرف ایک سال تعلیم حاصل کرتا، وہ ضرور اہل حدیث ہو جاتا، حالانکہ آپ نے کبھی کسی کو ترغیب نہیں دی، لیکن آپ کی طبیعت سے متاثر ہو کر مسلک اہل حدیث اختیار کر لیتے۔طبیعت میں لالچ نہیں تھا، بلکہ کام کرنے کا جذبہ تھا اور اپنے طلبہ کو کہا کرتے تھے کہ بیٹا روٹی کے پیچھے نہ جانا، بلکہ جہاں اللہ تعالیٰ کام کرنے پر لگا دے، وہاں سے اٹھنا نہیں۔ دوسری جگہ خواہ کتنے زیادہ پیسے ملیں، جگہ چھوڑنی نہیں، کیونکہ جو کھیتی  لگائی جاتی ہے، اس کی رکھوالی نہ  کی جائے،  تو پھل نہیں دیتی۔جب مدینہ یونیورسٹی بنی تو سعودی حکومت نے پیش کش کی کہ آپ وہاں تعلیم پر مقرر ہو جائیں اور تین ہزار روپیہ تنخواہ دینے کو تیار تھے۔ مولانا نے فرمایا: میں اپنے بڑھاپے میں بکاؤ مال  نہیں بننا چاہتا۔ حالانکہ اس وقت مولانا کی تنخواہ صرف ۱۷۵  روپے تھی[14]۔

مولانا میں خیر خواہی کا جذبہ: ساری زندگی ہر کسی کی خیر خواہی کو مقصدِ زندگی بنا رکھا تھا، بلکہ خیر خواہی والی بات منہ پر کرنے سے بھی ہچکچاتے نہ  تھے۔ ایک دفعہ گکھڑ کے نارمل سکول سے کچھ علماء آئے، تعارف کروانے والے نے ان کا تعارف کروایا کہ بہت پرہیز گار نمازی  آدمی ہیں، آپ نے کہا یہ  کوئی ان کی تعریف نہیں ہے، نماز تو ہمارا علماء کا پیشہ ہے، اگر ہم لوگ نماز نہ پڑھیں تو دنیا والے ہی ہمیں جینے نہ دیں۔ علماء کی اچھائی کا معیار یہ ہوتا ہے کہ  لین دین کے معاملات میں کھرا ہو۔  اور دنیا دار جو لوگ دکانیں  کرتے ہیں، وہ اکثر لین  دین کے معاملات میں کھرے ہوتے ہیں، ان کی اچھائی کا معیار نماز ہوتی ہے…استاذی المکرم حضرت حافظ محمد گوندلوی﷫  پر قتل کا  مقدمہ بن  گیا،  تو مولانا صاحب شہر کے چیدہ چیدہ حضرات سےروپے اکھٹے کر کے  کیس کی خود پیروی کرتے رہے، تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بری کر دیا۔[15]

مولانا کا ایک طالب علم کو نصیحت آمیز مکتوب: محترم مولانا صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کئی دن ہوئے خط ملا تھا، مصروفیت اور علالت کی وجہ سے جواب نہ دے سکا۔ تبلیغ میں الفاظ کی شدت اور فتوی  بازی سے پرہیز کریں، اس سے نفرت بڑھتی ہے۔ ﴿ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ ﴾ [النحل: ۱۲۵] پر عمل کریں۔ لوگوں سے ذاتی تعلقات بڑھائیں۔ غم وخوشی  میں ان سے مناسب ربط قائم رکھیں، یہ بے حد  مؤثر چیز ہے۔ اخراجات محدود رکھیں اور قناعت سے کام لیں۔ قرض اور سوال دونوں میں آبرو کو خطرہ ہے۔ اکثر علماء اسی وجہ سے بدنام ہوتے ہیں۔ اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے سے ان دونوں چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔منتظمین  سے تعاون فرمائیں۔ جماعت میں پارٹی بازی نہ ہونے پائے، اس کا پورا  پورا  خیال رکھیں۔ بعض لوگ اختلاف برائے اختلاف کے عادی ہیں، ان سے اغماض  کرنا چاہیے۔ نماز باجماعت اور رات کو بیداری کی عادت ڈالیں، اس میں بڑی برکت ہوتی ہے۔[16]

مولانا کی سیاسی زندگی: پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے مطالبے میں ہر قدم پر مولانا غزنوی کے ساتھ جماعت کی نمائندگی کی، چنانچہ اس کمیٹی کے آپ رکن تھے جو ۱۹۵۲ء  میں اسلامی آئین کی تشکیل کے لیے بنائی گئی تھی۔ ۱۹۵۳ء  کی تاریخی  تحریک ختم نبوت کے دوران مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں جمعیت کے تین نمائندے تھے:۱۔مولانا محمد اسماعیل سلفی﷫ ، ۲-مولانا سید محمد داود  غزنوی﷫ ، ۳-مولانا عطاء اللہ حنیف﷫۔ تاہم اس سلسلے میں قید وبند کا شرف  مولانا محمد اسماعیل ﷫ کے حصے میں آیا۔[17]

مولانا کی تحریکی اور تنظیمی زندگی:  مولانا نے تحریک خلافت سے لے کر تحریک آزادی تک تمام تحریکوں میں کام کیااور  متعدد بار جیل گئے۔ تحریک ختم نبوت کے مرکزی مجلس عاملہ کے رکن تھے…مولانا صاحب تعلیم میں اتنے  مشغول رہتے کہ میں نے  ایک مرتبہ کہا: مولانا اب دوبارہ حج کو جانے کا ارادہ نہیں؟  فرمایا حج ایک ہی مرتبہ فرض ہے۔ اب اس کے علاوہ اور دینی فرائض بہت ہیں …پاکستان بن جانے کے بعد خود مولانا صاحب کو جماعتی نظم کا خیال پیدا ہوا، تو مولانا داود غزنوی﷫ کو ملے۔ دونوں  نے مل کر جمعیت اہل حدیث کو منظم کرنے کی کوشش کی، چنانچہ ۱۹۴۹ء  میں ہی ایک باقاعدہ باڈی بنا دی، جس کے پہلے صدر (بعد میں امیر کے لفظ سے تبدیل کر دیا گیا) مولانا داود صاحب غزنوی﷫  اور ناظم اعلیٰ مولانا اسماعیل صاحب سلفی﷫ مقرر ہوئے۔مولانا ۱۹۴۹ء  سے ۱۹۶۲ء  تک ناظم اعلیٰ رہے اور مولانا داود صاحب کے فوت  ہونے پر ۱۹۶۲ء  سے تا حیات ۱۹۶۸ء تک  امیر کے عہدہ پر فائز رہے۔ آپ ۲۰ فروری ۱۹۶۸ء کے تیسرے پہر فوت ہوئے۔[18]

رحلت ووفات: ۲۵ ذوالقعدہ ۱۳۸۷ھ بمطابق ۲۰ فروری ۱۹۶۸ء منگل کے دن  نماز عصر کے بعد یکا یک  طبیعت بگڑی اور راہ گزر عالم  جاوداں ہوئے۔ [19]

۲-برصغیر میں اہلِ حدیث کی تاریخ اور سلفی تحریک

اہلِ حدیث؛  تاریخ کے مختلف ادوار میں: ائمہ اربعہ کی ولادت اور وفات کے سنین پر غور کیا جائے تو ۸۰ھ  سے شروع ہو کر امام احمد کی وفات ۲۴۱ھ  تک ختم ہوتا ہے۔ ان ایام کے بعد برسوں اس جمود اور تقلید کا پتہ نہیں چلتا جسے آج کل واجب کہا  جا رہا ہے اور اس سے اعراض کو بے دینی  وغیرہ القاب سے ذکر کیا جاتا ہے۔ اس پر فخر  یا اس کی طرف دعوت کسی صورت میں بھی چوتھی  صدی سے پہلے نہیں ہوسکتی۔ فتح  ہند سے پہلے پہلا لشکر جو ساحل ہند پر اترا،  اس وقت ان مروجہ  مذاہب کا نام و نشان عرب میں تھا نہ عجم میں۔ تقلید  ائمہ کے موجودہ انداز سے ذہن بالکل خالی تھے۔ معلوم ہے، ہندپر پہلاحملہ ۹۲ھ میں ولید بن عبدالملک کی حکومت میں ہوا۔ عرب میں تو اس وقت علماء تابعین کی کثرت تھی۔ ائمہ اربعہ کا خیال بھی اس ذہن میں  نہیں آ سکتا تھا۔ خراسان، ایران اور فارس میں اس وقت ائمہ حدیث کی کثرت تھی۔ احادیث کا حفظ و ضبط، نقل و روایت ان حضرات کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ حدیث کی جمع و تدوین کے اس دور میں ائمہ کی فقہوں  کا احساس بھی موجود نہ  تھا۔ صحابہ اور تابعین کے فتاویٰ بلا  تخصیص وتعیین  اہل علم کی نظر  میں تھے۔ وہ مدار  استناد تو تھے لیکن تقلید کا اس وقت شائبہ  تک نہ  تھا۔ اس وقت کی شافعیت اور حنفیت محض اساتذہ کے جزوی تاثرات تھے[20]۔

برصغیر پاک وہند  میں اہل حدیث  کی آمد: معلوم ہے کہ ہندوستان میں فاتحینِ  اسلام دو راستوں سے آئے، سندھ کی راہ سے اور ایران کی راہ سے۔ پہلا لشکر محمد  بن قاسم کی قیادت میں پہلی صدی کے اواخر میں پہنچا۔ اس وقت ائمہ اربعہ میں سے   امام ابو حنیفہ کے سوا باقی  ائمہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ حضرت امام ابو حنیفہ کے لیے یہ دور طالب علمی  کا تھا اور امامت  کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ یہ لشکر  اہلِ حدیث تھا اور موجودہ  تفریق سے بے خبر۔ ان کا مسلک تقریباً وہی تھا جو آج کل اہلِ حدیث کا ہے، یعنی بلا تخصیصِ شخص مسائل اہلِ علم سے پوچھتے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ اسی لیے عامۃ المسلمین میں اس وقت تعصب ناپید تھا۔ دوسرا حملہ ایران کی راہ سے ہوا۔ یہ فاتح عموماً حنفی تھے۔  انہی کی وجہ سے ہندوستان میں حنفیت پورے زور سے پہنچی۔ اور اس وقت تک احناف کی ملک میں کثرت ہے اور عوام وخواص میں عصبیت بھی ہے۔الامن رحم [21]!

گیارہویں صدی ہجری کی اہل حدیث تحریکیں:  گیارہویں اور بارہویں صدی میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑی فیاضی کے ساتھ اپنی رحمت کی اور عرب وعجم پر اس کی شفقت کے سائے اُمنڈ آئے، اس وقت کئی دینی تحریکوں نے جنم لیا۔ نجد میں نجدی دعوت کی بہار آئی، اس دعوت کے امام نابغہٴ روزگار امام محمد بن عبدالوہاب نجدی تھے۔ سعودی عرب کے شاہی خاندان نے ان کی بھرپور مدد کی۔ ہمارے علم کے مطابق یہ دعوت پہلی خالص دینی دعوت تھی، اس کے بعد دینی سیاسی دعوت بن گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل وکرم سے ان علاقوں میں اس دعوت کو قبولیت بخشی، ان تمام ممالک میں اس دعوت کے حامی اور ہمنوا موجود تھے اور یہ علاقے اب تک دعوتِ محمدی کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے حالات کی اصلاح فرمائے۔ ان کو فحاشی، عریانی، بدکاری، حیا باختگی، دین بے زاری اور اسلامی دعوت پر وطن پرستی کی ترجیح اور فرعونیت پسندی جیسی گمراہیوں سے محفوظ رکھے جو ایک وبا کے طور پر پھیل رہی ہیں۔

  دوسری دعوت: اسلامی بیداری اور وحدتِ امت کی تحریک جس کا آغاز زعیمِ اسلام جمال الدین افغانی نے سید محمد عبدہ، سید رشید رضا مصری اور اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر کیا۔

 تیسری دعوت: ہندوستان میں سلفی تحریک۔ ان تینوں تحریکوں کی کوششیں، اعمال اور حالات اگرچہ ایک دوسرے سے علیحدہ اور مختلف تھے، لیکن یہ سب تحریکیں دو مقاصد میں متفق تھیں: ایک شرک و بدعات کی گندگی سے پاک خالص توحید کی دعوت اور دوسرے کتاب وسنت کی دعوت، تقلید و جمود سے اجتناب اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین ﷭ کے منہج ومسلک کی پیروی۔ [22]

اصلاحی تحریکوں کا کردار: نجد میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب اور سعودی خاندان۔ ایران، افغانستان، مصر اور شام میں جمال الدین افغانی ﷫اور ان کے تلامذہ۔ ہندوستان میں حضرت مجدد الف ثانی اور
حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان اور تلامذہ۔ ان تمام مصلحین نے اپنے ماحول کے مطابق اپنے حلقوں میں کام کیا اور اپنی مساعی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی عطا فرمائی۔ محمد بن عبدالوہاب ﷫علمی اور سیاسی طور پر کامیاب ہوئے۔ جمال الدین افغانی ﷫نے ایسے کامیاب، قابل اور مخلص دماغوں کو تربیت دی جن کی وجہ سے مصر و شام علم و اصلاح کا گہوارہ قرار پایا اور ان کے فیوض نے ذہنوں کی کایا پلٹ دی۔ ان حضرات کی کوششوں نے یورپ کے مادی منصوبوں کے سامنے ایسی دیواریں کھڑی کر دیں جن کو عبور کرنا ابلیسی طاقتوں کے لیے آسان نہیں۔مصر و شام کی آزادی اور دینی تحریکات میں ان مساعی کو بڑا دخل ہے جن کا آغاز مجددِ وقت شیخ جمال الدین افغانی اور سید عبده نے فرمایا اور اس کی تکمیل میں سید رشید رضا،علامہ مراغی، سعد زغلول، امیر شکیب ارسلان ایسے بیدار مغز لوگوں نے شب و روز محنت فرمائی اور کافی حد تک ان کو کامیابی ہوئی۔[23]

برصغیر  میں تحریک اہل حدیث کا آغاز اور شیخ مجدد الف ثانی ﷫:  گیارہویں صدی کے آغاز میں ایک مدتِ مدید کے بعد ہندوستان میں جدید سلفی تحریک کے آثار ظاہر ہوئے۔ سب سے پہلے جس نے بدعتِ تقلید کی بندشوں کو توڑا اور آزادیِ فکر کی نوا بلند کی، وہ اس صدی کے مجدد اور اس تحریک کے سرخیل، مجدد الفِ ثانی سید احمد بن عبد الاحد فاروقی حنفی سرہندی (۱۰۳۴ھ) تھے۔ وہ گو مسلکاً حنفی تھے، لیکن جمود کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ ان کا سب سے بڑا ہدف مروجہ بدعات کا خاتمہ تھا۔ آگے چل کر بیہقیِ زمانہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (1245ھ) مرزا مظہر جانِ جاناں، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے فاضل بیٹوں نے اس سوچ اور منہج کو آگے بڑھایا۔ ان سب نے حالات کی ناہمواری اور مساعدت کے باوجود رائج  بدعات کی مخالفت کی اور ایک مخصوص مذہب کی تقلید اور پابندی کے خلاف آواز بلند کی۔  شاہ صاحب ﷫نے ”تفہیمات“ میں ذکر کیا ہے کہ وہ فقہائے محدثین کے مذہب کو اختیار کرتے ہیں اور صوفیوں کی رسوم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اس طرح ان کے فرزندوں نے فقہ اور اصولِ فقہ پر تنقید کی۔ ان کے حنفیت کی طرف رجحان سے دھوکا نہ کھائیں، یہ اس وقت کے حالات اور عوام کے رائج الوقت تقلیدی مزاج پر جمود کی وجہ سے تھا۔[24] 

حضرت  مجدد الف ثانی ﷫کی شرک وبدعات اور فقہی جمود کے خلاف کاوشیں: حضرت شیخ احمد بن عبدالاحد بن زین العابدین الفاروقی (متوفی ۱۰۳۴ھ) دسویں صدی کے اواخر ۹۷۱ھ میں پیدا ہوئے۔ اس وقت کئی قسم کے جمود پائے جاتے تھے، جن کی اصلاح کے لیے حضرت مجدد صاحب ﷫نے جرات مندانہ قدم اٹھایا۔ سیاسی جمود، رسوم و عادات میں مشرکانہ جمود، تصوف میں جمود اور فقہی جمود۔ اکبر اعظم کا انداز ابتداء میں اسلامی تھا۔ اس نے شیخ محمد طاہر پٹنوی مؤ لف ”مجمع البحار“ کے سر پر پگڑی اس شرط پر رکھی کہ ان کے بجائے بادشاہ خود بدعات کی بیخ کنی کرے گا [25]،لیکن عیاش رفقاء اور ملا مبارک کے خانوادے نے اسے برباد کر دیا۔ بدعات کیا مٹیں، وہ کفر کو از سرِ نو واپس لانے میں مشغول ہو گیا۔ ہندو مت اور رفض کی ملی جلی رسوم، شاہی خاندان میں پائی جانے لگیں اور اس کا اثر رعایا پر بھی ہوا۔ علماء سے ملا مبارک کا خاندان ایوانِ شاہی پر قابض تھا۔ اکبر کی لگام علمی طور پر انہی حضرات کے ہاتھ میں تھی اور جب دربار پر قبضہ ملا دوپیازہ ایسے مسخروں اور بیربل ایسے بے دین لوگوں کا ہو تو دینی بصیرت، تفقہ، تقویٰ، تدین کہاں سے آئے گا؟ برہمنوں کی نقالی، تیجے، دسویں، چہلم اور گیارہویں اصل دین قرار پا سکتا تھا جو ہندو رسوم کی ایک صورت ہے۔  شرک کی اصل بنیاد عموماً خالق اور مخلوق کی صفات میں عینیت یا تشابہ رہا ہے، جس کا اوتار، حلول، تجسم اور وحدت الوجود نام رکھا گیا۔ مسیحی حضرات نے جب مسیح کی ابنیت کا دعویٰ کیا تو تجسم کی آڑ لی۔ یہاں بھی حلول اور وحدت الوجود کے باطل عقیدے کو رواج دیا گیا۔ آج ہمارے عوام میں عرب بلا عین اور احمد بلا میم کی شہرت اسی عقیدے کے برگ و بار ہیں۔  حضرت مجدد ﷫مسلک کے لحاظ سے حضرت امام ابو حنیفہ ﷫سے پختہ تعلق رکھتے تھے، لیکن ان کی روش میں اس قدر وسعت ہے کہ آج کل حضراتِ احناف کے دونوں شعبوں، حضراتِ ”دیوبند“ اور حضراتِ ”بریلی“ کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ حضراتِ صوفیہ سے محبت کے ضمن میں حضراتِ بریلی مجدد صاحب سے بے حد عقیدت رکھتے ہیں، لیکن بدعات کی ترویج کے سلسلے میں وہ حضرت مجدد کی پروا بھی نہیں کرتے، بلکہ ان کے ہاں مذہب کا بالکل ایک نیا تصور ہے جس کے لیے نہ وہ حضرت امام
ابوحنیفہ   ﷫ کی صحیح تقلید کرتے ہیں، نہ حضرت مجدد کی اقتداء۔[26]

حضرت  مجدد الف ثانی ﷫کا بدعات کا رد: حضرت مجدد ﷫نے مکتوبات میں بدعات کے خلاف کس قدر کڑی تنقید فرمائی ہے۔ بدعت کی حفاظت کے لیے حسنہ اور سیئہ کی تقسیم اہل بدعت کو قلعے کا کام دے رہی تھی اور عز بن عبدالسلام نے جب سے اس تقسیم کی نشاندہی کی تھی، اس کے بعد سے ہندوستان میں حضرت مجدد ہی تھے جنہوں نے یہ قلعہ پاش پاش کر کے رکھ دیا۔ سجدہٴ تعظیم کے خلاف گوالیار کے قلعے میں تین سال قید گوارا فرمائی لیکن سجدہٴ تعظیم کی گندگی سے اپنی مقدس پیشانی کو آلودہ نہیں فرمایا۔ فقہی مسائل میں حضرت کے کچھ اختیارات تھے۔ دوسرے علماء کی مخالفت کے باوجود متاخرین اور متقدمین کی راہ پر رجماً بالغیب چلنے سے حضرت مجدد ﷫نے انکار فرمایا۔ اس کی زندہ شہادت حضرت کے مایہ ناز شاگرد مرزا مظہر جانِ جاناں موجود ہیں جنہوں نے فاتحہ خلف الامام، رفع الیدین عند الرکوع، وضع الیدین علی الصدر ایسے مشہور مسائل میں فقہائے محدثین کی راہ اختیار فرمائی اور فقہ العراق کے ساتھ کلی تعاون سے انکار کر دیا۔(ابجد العلوم:3/900 ومحبوب العارفین، ص:۷۶) قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی ﷫نے مرزا مظہر جانِ جاناں اور حضرت شاہ ولی اللہ ﷫سے استفادہ فرمایا۔ ان کی تصانیف ارشاد الطالبین اور تفسیر مظہری شاہد ہیں کہ حنفی ہونے کے باوجود بدعات اور عبادِ قبور کے خلاف ان کا لہجہ کس قدر تلخ ہے اور بدعی رسوم سے کس قدر نفرت!شاہ ولی اللہ ﷫نے حجۃ الله، البلاغ المبين، مصفى ومسوّى، انصاف، عقد الجيد اور تحفۃالموحدين میں فقہی جمود، بدعات اور مشرکانہ رسوم کے خلاف ایسی حکیمانہ روش اختیار فرمائی جس سے حقیقت بہت حد تک واضح ہو گئی۔ اصولِ فقہ کی بعض مسلمات پر ایسی میٹھی تنقید فرمائی جس سے ذہین طبائع کو جرأت پیدا ہو۔ ازالۃالخفا میں بدعتِ تشیع کو اس قدر عیاں فرمایا کہ ذہین اور دانشمند طبائع کو محبتِ اہل بیت کے عنوان سے دھوکا دینے کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ ان مختصر ارشادات سے اس تحریکِ اصلاح اور اقامتِ دین کا مزاج آپ کو سمجھنا مشکل نہیں۔[27]

بدعت کی تقسیم اور مجدد الف ثانی ﷫کا موقف: تقریباً تھوڑی دیر پہلے ہندوستان کی قسمت جاگی اور رشد و ہدایت کی سوئی ہوئی طاقتوں نے انگڑائی لی۔ اس کی بیداری کا آغاز سید احمد سرہندی ؒ نے گیارھویں صدی ہجری میں فرمایا۔ بدعات کے خلاف کھلی جنگ لڑی۔ بدعت کی تقسیم کا حیلہ  عز  بن عبدالسلام کے وقت سے آ رہا تھا۔ لوگ بدعت کو حسنہ کہہ کر جواز کی راہ پیدا کر لیتے تھے۔ حضرت مجدد  نے اسے تار تار کر دیا اور فرمایا کہ جب آنحضرت ﷺ ہر بدعت کو ناپسند  فرماتے ہیں تو اسے حسنہ کہنے کا حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ شرعاً کوئی بدعت حسنہ نہیں کہلا سکتی۔ سنت سے محبت آنحضرت ﷺ کے ساتھ محبت کی سچی  دلیل ہے۔ بدعتی کتنا ہی عابد وزاہد ہو، بارگاہ نبوت  میں وہ  کسی احترام کا مستحق نہیں! [28]

حضرت مجدد الف ثانی ﷫کی فقہی وسعت نظر اور آزادی فکر: حضرت مجدد الف ثانی ﷫کی تحقیق پسندی اور وسعتِ نظر کا یہ اثر تھا کہ ان کے لختِ جگر بھی بعض فرعی مسائل میں اختلاف کرتے اور اس کا اظہار کسی تصادم اور مناظرے کے بغیر فرماتے۔ یہی حال حضرت مجدد ﷫کے تلامذہ اور مستفیدین کا ہے۔ وہ فرعی مسائل میں بڑی آزادی سے امام شافعی ﷫کے ساتھ بعض اہم مسائل ِمختلف فیہ پر اتفاق فرماتے اور اس کے باوجود وہ حنفی کہلانے میں مسرت محسوس کرتے۔ یہ اس علمی جہاد کا اثر تھا جو حضرت مجدد ﷫نے فقہی جمود کے خلاف فرمایا۔ یہ تذکرہ ”ابجد العلوم“ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ مرقوم ہے۔ [29]

برصغیر کی تحریک اہل حدیث کے دوسرے امام  شاہ ولی اللہ دہلوی ﷫: اہلِ حدیث کی دعوت ہندوستان میں تقریباً ۱۱۱۳ھ میں شروع ہوئی۔ ابتداء میں نشر و اشاعت کی یہ سہولتیں مہیا نہ تھیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے خاندان کی تصانیف اور تدریس ہی اس وقت آلۂ مکبر الصوت کا نعم البدل تھیں۔ حضرت شاہ صاحب کی تصانیف بھی اپنے ماحول سے کافی متاثر ہیں۔ حجۃاللہ البالغہ اور باقی تصانیف میں بہت فرق ہے۔ حضرت شاہ صاحب کے تصوف میں بہت سی ایسی چیزیں موجود ہیں جن کی اصل بہ صراحت سنتِ صحیحہ میں نہیں مل سکتی۔ ریاضت کی بعض مشقیں قولِ جمیل سے شروع ہو کر صراطِ مستقیم مؤلفہ حضرت سید احمد شہید تک کم و بیش ایسی ہیں جن کا سلف سے ثبوت نہیں ملتا ہے۔ تفہیماتِ الٰہیہ میں بعض ایسی چیزیں موجود ہیں جنہیں دیکھ کر تعجب ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب کے ملفوظات اور ان کے مقامِ تسنن کی رفعت میں تطبیق کافی دقت کا موجب ہو جاتی ہے۔ [30]

قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی ﷫کی شرک وبدعت کے رد میں تعلیمات:  قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی مسلکاً حنفی ہیں، مشرباً صوفی ہیں۔ حدیث پر ان کی نظر بہت وسیع ہے۔ اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی تمام طبقوں میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ مجدد الف ثانی ﷫سے انہیں گہری عقیدت ہے۔ علم و فضل، زہد و تقویٰ، انابت الی اللہ کے لحاظ سے ان کا مقام اپنے اقران میں بہت اونچا ہے۔ رَحَمَهُ اللهُ وَرَضِيَ عَنْهُ وَرَفَعَ دَرَجَتَهُ۔ارشاد الطالبین میں فرماتے ہیں: ”اگر کوئی کہے کہ خدا اور رسول ﷺ اس عمل پر گواہ ہیں، کافر ہو جائے گا۔ اولیاءِ معدوم کو موجود نہیں کر سکتے، موجود کو معدوم نہیں کر سکتے۔ ان کی طرف ایجاد یا اِعدام، رزق دینے والا، اولاد دینے، مصیبت اور بیماری دور کرنے کی نسبت کرنا کفر ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ’اے محمد ﷺ! کہہ دو میں اپنے لیے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے۔‘ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں، نہ اس کے سوا کسی سے مدد طلب کرے۔ ﴿ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُؕ۰۰۴﴾ میں اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے کہ اے اللہ! ہم تجھی سے مدد چاہتے ہیں اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿إِيَّاكَ﴾ میں حصر ہے۔ اولیاء اللہ کے لیے کوئی نذر درست نہیں کیوں کہ نذر عبادت ہے۔ اگر کوئی نذر ایسی مانے تو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ معصیت سے جہاں تک ممکن ہو، بچنا چاہیے۔ اور قبروں کا طواف درست نہیں کیوں کہ طواف نماز کے حکم میں ہے اور یہ بیت اللہ کا حق ہے۔ زندہ اور مردہ ولیوں اور نبیوں سے دعا کرنا درست نہیں۔
 آنحضرت ﷺ  کا ارشاد ہے: دعا ہی عبادت ہے۔ پھر ارشادِ خداوندی ہے: ”مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں، وہ ذلیل ہو کر جہنم میں جائیں گے۔“ اور جو لوگ یہ وظیفہ کرتے ہیں: ”یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ‘ یا ’خواجہ شمس الدین پانی پتی شیئاً للہ!‘ یہ کہنا جائز نہیں، شرک اور کفر ہے۔“ اس کے بعد فرماتے ہیں: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ﴾ [الأعراف: ۱۹۴] ”جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں۔“ ”یہ آیت صرف بت پرستوں کے لیے نہیں کیوں کہ ﴿مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ﴾ میں عموم ہے، احکام میں الفاظ کے عموم کا اعتبار کیا جاتا ہے۔“ اس کے بعد فرماتے ہیں: ”اگر کوئی کلمہٴ توحید کے ساتھ علی ولی اللہ، ابو بکر ولی اللہ کو ملائے تو اسے تعزیر لگائی جائے گی، اسی طرح ذکر اور وظیفہ کے طور پر یا محمد، یا محمد کہنا نا جائز ہے۔[31]“   

 نوٹ: ارشاد الطالبین فارسی میں ہے، اختصار کے لیے اردو میں ترجمہ کر دیا اور تلخیص بھی۔[32]

شاہ عبد العزیز دہلوی ﷫کی شرک وبدعت  کے رد میں تعلیمات: آیت ﴿ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۲۲﴾ [البقرة: ۲۲] کی تفسیر میں شاہ عبدالعزیز صاحب ﷫نے ﴿اَنْدَادًا﴾ کی مختلف اقسام ذکر فرمائی ہیں۔ ان میں چوتھی قسم میں قبر پرست حضرات کا تذکرہ ہے۔ فرماتے ہیں:   ”چہارم: پیر پرستاں گویند چوں مردِ بزرگے کہ بہ سبب کمالِ ریاضت و مجاہدہ مستجاب الدعوات و مقبول الشفاعت عنداللہ شدہ بود ازیں جہاں می گزرد و روحِ او را قوتِ عظیم و وسعتِ بس فخیم می رسد ہر کہ صلاۃِ او را برزخ سازد یا در مکانِ نشست و برخاستِ او سجود و تذللِ تام نماید روحِ او بہ سببِ وسعت و اطلاق بر آں مطلع شود و در دنیا و آخرت در حقِ او شفاعت نماید[33]۔“

” پیر پرست کہتے ہیں کہ بزرگ آدمی، کثرتِ ریاضت اور مجاہدے کی وجہ سے اس کی دعائیں اور سفارش اللہ کے ہاں زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔ اس دنیا سے رخصت کے بعد اس کی روح میں بے حد قوت اور وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔ جب اس کی صورت کو برزخ بنایا جائے، یا اس کی نشست گاہ اور قبر پر عجز و انقیاد سے سجدہ کیا جائے، اس کی روح کو وسعتِ علم کی بنا پر اطلاع ہو جاتی ہے اور دنیا و آخرت میں اس کے حق میں سفارش کرتی ہے۔“    اس قسم کی استمداد اور اعانت کو شاہ صاحب’’نِدّ‘‘سمجھتے ہیں اور اسے شرک تصور فرماتے ہیں۔[34]

برصغیر کی تحریک اہل حدیث کے تیسرے  امام شاہ اسماعیل شہید ﷫: میرا یہ گمان ہے کہ بلادِ ہند میں سلفی تحریک کے بانی مبانی شاہ اسماعیل شہید ﷫ہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہ ان کا جہاد اور امت میں فساد کے وقت سنت کا اعلان ہے۔ ہمارے علاقوں میں یہ سنتیں غیر معروف تھیں۔ ان پر عمل کرنا ہاتھ میں آگ کے انگارے پکڑنے کے مترادف تھا۔ بعض عام لوگ أحناف اور وہابیوں کے درمیان یہی فرق خیال کرتے تھے بلکہ یہ کفر اور  اسلام کے درمیان خطِ امتیاز تھا۔ اسی طرح شاہ صاحب نے ’’تقویۃ الایمان‘‘ میں جو فرمایا ہے اسے بھی کفر و اسلام کا معیار قرار دے رکھا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالات غیر موافق تھے اور فضا غبار آلود تھی۔ ہر طرف شر پھیلا ہوا تھا لیکن انھوں نے انجام سے بے پروا ہو کر پردے چاک کر دیے اور ببانگِ دہل اعلان کر دیا۔ یہ ہے فرق عام علماء اور ایک مجدد کے درمیان۔ مجدد حالات سے واقفیت رکھتا ہے اور انہی کے مطابق گفتگو کرتا ہے[35] ۔

خاندانِ دہلی اور حنفیت : فروعِ فقہیہ میں حنفی مسلک کا التزام خاندان میں حضرت شاہ عبدالرحیم ﷫کے زمانے سے ہی اٹھ چکا تھا۔ بعض مشہور مسائل میں وہ حنفی مسلک کے پابند نہ تھے، جیسے قراءتِ فاتحہ خلف الامام، چناں چہ حضرت شاہ عبدالرحیم ﷫نمازِ جنازہ اور دوسری نمازوں میں اس کا التزام فرماتے تھے۔ شاہ ولی اللہ ﷫نے یہ قصہ اور بھی عریاں کر دیا، چناں چہ مولانا شاہ محمد فاخر زائر الٰہ آبادی کا ورودِ دہلی، آمین بالجہر  کی نزاع اور شاہ صاحب ﷫کا فیصلہ مشہور واقعہ ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب ﷫کے فتوؤں  میں بھی فاتحہ کے متعلق مسلکِ شافعی کی کھلی حمایت پائی جاتی ہے۔ ( ملاحظہ ہو: فتوی مطبوعہ کلکتہ) حضرت شاہ محمد اسماعیل شہید ﷫نے تقلیدِ جامد کے اس پہلو کو بالکل ہی بے نقاب کر دیا۔ ”تنویر العينين في إثبات رفع اليدين“ لکھ کر حنفی مسلک کی حمایت سے بالکل دستکش ہو گئے اور رفع عند الرکوع و بعد الرکوع کو ترکِ رفع پر ترجیح دی، جیسے حضرت شاہ ولی اللہ ﷫بھی ”حجۃالله البالغۃ“ میں ظاہر فرما چکے تھے[36]۔

 اظہارِ حقیقت: اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت شاہ صاحب ﷫کے تلامذہ میں حنفی مسلک کے پورے پابند بھی تھے۔ سید احمد شہید ﷫کے لشکر میں دونوں فریق یا دونوں مسلک کے آدمی دوش بدوش سکھوں سے لڑتے تھے اور آپس میں ان مسائل پر کوئی ادنیٰ سی مخاصمت یا آویزش بھی نہ ہوتی تھی، اور حق بھی یہی ہے۔ معاملہ ایک سنت پر عمل یا اس کے ترک سے زیادہ نہیں اور نہ ہی حنفی اور اہل ِ حدیث میں کفر و اسلام کا فرق ہے (تقلیدِ شخصی پر جمود سے قطع نظر)۔ ایسے اختلافات سلف سے خلف تک موجود رہے ہیں۔ ان اختلافات کی بنا پر نہ کسی کی تکفیر عمل میں آئی نہ تفسیق۔ شخصی اجتہاد یا ترجیح سے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ہر ایک اپنی تحقیق اور صواب دید پر عمل کرنے میں آزاد تھا [37]۔

برصغیر کی تحریک اہل حدیث کے وارث: ہندوستان میں اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو واقعہٴ بالا کوٹ (۱۲۴۶ھ) کے بعد شاہ عبدالعزیز دہلوی (۱۲۶۳ھ) کے نواسے شاہ محمد اسحاق، پھر ان کے شاگرد سید نذیر حسین محدث دہلوی (۱۳۲۰ھ) اور ان کے شاگرد مولانا بشیر احمد سہسوانی (۱۳۲۶ھ)، حافظ عبداللہ غازی پوری (۱۳۳۷ھ) مجاہدِ اعظم مولانا ابراہیم آروی، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا شریف حسین محدث دہلوی (۱۳۰۴ھ)، مولانا شمس الحق ڈیانوی، مولانا عبدالرحمان مبارک پوری (۱۳۵۳ھ)، مولانا عبداللہ غزنوی اور ان کے قابل و فاضل بیٹوں، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی، مولانا غلام حسن سیالکوٹی، مولانا عبدالقادر قصوری، مولانا اسماعیل دلاوری، مولانا فضل حق دلاوری، مولانا عبدالقادر پشاوری اور ان کے سوا بے شمار علمائے اہل ِ حدیث کے ہاتھوں پورا کیا، جن کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ انھوں نے ہندوستان کے کونے کونے میں درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے ذریعے علومِ سنت کا احیا اور قال الله وقال الرسول کی آوازیں بلند کر دیں۔  اس تحریک نےعلامہ محمد بن علی شوکانی (۱۲۵۰ھ) کے شاگردوں پر مشتمل یمنی سلفی تحریک سے بھی بھرپور قوت حاصل کی۔ علامہ عبدالحق بنارسی (۱۲۸۶ھ) اور مجاہدِ عظیم مولانا ولایت علی بہاری (۱۲۶۹ھ) ایک مدت تک علامہ شوکانی کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔ مشہور شاعر علامہ فاخر زائر الہٰ آبادی کا تقلید کی مذمت اور اسلاف کے منہج کی دعوت کے موضوع پر ایک دیوان ہے، نواب صدیق حسن خان نے اس کی تلخیص کی ہے۔ علامہ نواب صدیق حسن خان قنوجی بھی علامہ شوکانی اور صنعانی کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں، وہ جب حجاز گئے تو ان کی قیمتی کتابیں لے کر آئے  [38]۔

برصغیر کی تحریک اہل حدیث کے مختلف دھارے : اس تحریک کے اہم عناصر مندرجہ  ذیل ہیں:

حضرت شیخ احمد فاروقی مجدد الف ثانی، قاضی ثناء اللہ  پانی پتی، حضرت مرزا مظہر جان ِجاناں، حضرت مولانا فاخر  الہ آبادی، آزاد بلگرامی، حضرت مولانا شاہ ولی اللہ، مولانا شاہ عبدالعزیز، مولانا  شاہ رفیع الدین، مولانا شاہ عبدالقادر، مولانا شاہ عبدالغنی، حضرت سید احمد شہید، مولانا شاہ اسماعیل، مولانا عنایت علی، مولانا ولایت علی، مولانا عبدالحی بڈھانوی۔ ان میں بعض علماء حنفی ہیں لیکن عقیدتاً اہل حدیث۔ بعض عمل و عقیدہ دونوں میں حنفی، بعض دونوں میں اہل حدیث لیکن اس اختلاف کی نمایش ان حضرات نے کبھی نہیں فرمائی۔ قاضی ثناء اللہ صاحب  کا تفسیر مظہری میں رجحان فقہ حنفی کی طرف ہے لیکن بدعت کی مخالفت میں کوئی لچک  نہیں۔ ارشاد الطالبین میں قبر پرستی اور قبور پر چراغاں اور انھیں چونا گچ کرنے کے متعلق ان کی رائے بہت واضح ہے۔ آج کے ارباب دیوبند کی طرح ان میں لچک  اور مداہنت  نہیں۔ آج بعض اکابر دیوبند کے افکار کا رجحان زیادہ تر بریلویت کی طرف ہے۔ وہ اہل توحید اور اصحاب سنت سے زیادہ اہل بدعت کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔[39]

تحریک  اصلاح وجہاد اور مختلف دینی نظریات: اس وقت اسلام کے نام سے چار جماعتیں ہندوستان میں موجود تھیں: اہلِ حدیث، دیوبندی، بریلوی اور شیعہ۔ اس تحریک کی بنیاد چوں کہ توحید و سنت پر تھی، اس لیے سید احمد شہید کے عساکر  میں اہلِ حدیث اور دیوبندی مکتبِ خیال کے آدمی شامل تھے، بریلوی اور شیعہ حضرات اس میں بالکل شامل نہ تھے، بلکہ وہ کھلی  مخالفت کرتے رہے، ان کے فتوے میدانِ جنگ تک پہنچتے رہے اور بد دلی اور اختلاف کا موجب بنتے رہے۔[40]

تحریک حریت وجہاد کے رفقاء کا اتحاد: سید احمد شہید کے لشکر میں دونوں مکاتبِ فکر کے آدمی شامل تھے۔ شاہ اسماعیل﷫ کا  رحجان اہلِ حدیث کی طرف تھا۔ خود سید احمد﷫اور مولوی عبدالحی  بڈھانوی کا رحجان حنفی مکتبِ فکر کی طرف تھا، لیکن ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ لشکر میں ان فروعی  مسائل یا تقلید اور ترکِ تقلید پر کبھی باہم نزاع تک نوبت پہنچی ہو[41]۔

برصغیر پاک وہند کی تحریک جہاد ِ آزادی  کا انجام: ہندوستان کی تحریکِ احیاء و تجدید جس کی ابتدا حضرت سید احمد سرہندی نے فرمائی اور اس کی تکمیل شاہ اسماعیل شہید، حضرت سید احمد شہید اور ان کے رفقاء نے فرمائی، ابتدا میں علمی اور اصلاحی تھی۔ علمائے سوء اور انگریز کے منحوس وفاق نے اسے مجبورا ًسیاست میں دھکیل دیا۔ سکھوں کی حماقت نے اتَقیاء کی اس جماعت کو مجبور کر دیا کہ وہ جنگ کی آگ میں کودیں اور اپنی قیمتی زندگیاں حق کی راہ میں قربان کر دیں۔ پھر گمراہ کن فتوؤں کی سیاہی نے ملت کے چہرے کو اس قدر بدنما کر دیا تھا کہ اسےدھونے کے لیے شہادت کے خون کے علاوہ پانی کے تمام ذخیرے بے کار ہو چکے تھے۔ وہابیت کی تہمتِ مستعار نے ذہن ماؤف کر دیے تھے۔ الحاد کی گرد اُن پر اس قدر جم چکی تھی کہ اسے صاف کرنے کے لیے صرف شہداء کا خون ہی کارآمد ہو سکتا تھا۔ چنانچہ مئی ۱۸۳۱ء کی صبح کو یہ مقدس جماعت انتہائی کوشش اور ممکن تیاری کے ساتھ بالاکوٹ کے میدان میں اتری اور دوپہر سے پہلے صداقت کے نہ مٹنے والے نشان دنیا کی پیشانی پر ثبت کرنے کے بعد ہمیشہ کی نیند سو گئی۔ ﴿وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْيَاءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ﴾ [البقرة: ۱۵۴] [42]

تحریک اصلاح  وجہاد  میں شامل دیوبند کی اہل حدیث سے علیحدگی: ۱۸۳۱ء سے   پہلے  یہ حضرات اہل حدیث سے قریب تھے اور حنفیت کے باوجود فقہی جمود کو نہ  صرف یہ کہ پسند نہیں فرماتے تھے بلکہ اسے کلی طور پر ختم کرنا چاہتے تھے۔ یہی شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان کا اصلی تجدیدی کارنامہ تھا۔۱۸۳۱ء کے بعد ان میں اکثر حضرات تحریک توحید اور اقامت دین سے بالکل الگ ہوگئے اور اسلام کی خدمت کے لیے صرف اسی حد تک مطمئن ہو گئے  جو اشاعت حنفیت اور فقہی جمود کے مرادف  ہو۔ یہ لوگ شاہ صاحب کے خلفاء کے ساتھ نہ چل سکے، اس لیے کہ وہ جامد  تقلید کے حامی نہ تھے۔ دیوبند کی تاسیس حنفیت خالصہ کی اشاعت کے لیے عمل میں آئی لیکن محدثین کا احترام شاہ صاحب کی تحریک سے ان کو وراثت میں ملا تھا۔ اور جو حضرات علامہ کوثری سے متاثر ہیں وہ جمود کے داعی ہیں اور ائمہ  حدیث سے بغض  ان حضرات کو علامہ کوثری سے وراثت میں ملا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ حدیث کو حجت شرعی سمجھتے ہیں[43]۔

تحریک سے علیحدگی  کے باوجود   باہمی عناد وشقاق سے دوری:  تحریک کا شعبہٴ جہاد جس کی ذمہ داریاں مولانا شہید ﷫کے سپرد تھیں، بے حد خطرناک تھا۔ اسے نہ سکھ برداشت کر سکتے تھے اور نہ انگریز۔ اس لیے ۱۸۵۷ء کے بعد ولی اللہ دَبستان کا ایک معتدبہ حصہ صرف درس و تدریس، وعظ و خطابت اور شرک و بدعت کی تردید کی طرف راغب ہو گیا اور استخلاصِ وطن کے لیے کسی دوسرے وقت کا انتظار کرنے لگا اور اپنے مسلک کے موافق دیوبند، سہارنپور اور دہلی میں فقہ و حدیث کے مدارس کھول کر کتاب وسنت کی اشاعت میں اپنے اپنے طریق پر مشغول ہو گئے۔ دونوں جماعتوں میں فروعی اختلاف ضرور تھا، لیکن عناد اور شقاق بالکل نہ تھا۔[44]

ولی اللہی تحریک میں شامل دیوبند اور اہل حدیث کی علیحدگی: ذیقعدہ ۱۲۴۶ھ کے بعد جماعت کی رہنمائی اور قیادت حضراتِ صادق پور کی طرف منتقل ہو گئی۔ مولانا ولایت علی ﷫صاحب صادق پوری نے جماعت کی تمام ذمے داریاں اپنے سر پر لے لیں، اس وقت سکھ فوج میں انگریز بطورِ ملازم یا رضا کار کام کر رہے تھے۔ یہ دونوں طاقتیں مجاہدین کو اپنا مخالف سمجھتی تھیں۔ سکھ کمزور ہو رہے تھے اور انگریز حکمتِ عملی سے ملک پر قابض ہو رہے تھے۔ مجاہدین بھی دونوں کو اپنا مخالف سمجھتے تھے۔ مولانا ولایت علی، شاہ شہید ﷫سے زیادہ متاثر تھے، ان کے رجحانات ترکِ تقلید کی طرف تھے۔ اتباعِ سنت اور عمل بالحدیث طبیعت پر غالب تھا، اس کے بعد بالالتزام مجاہدین کی قیادت مسلسل ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رہی جن پر عمل بالحدیث کا شوق غالب تھا۔ آج تک جماعتِ مجاہدین پر یہی ذہن غالب ہے، لیکن فروعی مسائل کو وہاں کبھی اس قدر اہمیت نہیں دی گئی جس سے یہ مسائل محلِ نزاع قرار پائیں۔ اس کے بعد پوری جماعت میں فقہ العراق کا رجحان کم ہوتا گیا، بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت اکابرِ احناف تحریک سے دستکش ہو گئے اور جو لوگ جماعت سے تعلق رکھتے تھے، وہ بھی پھر پچھلی صفوں میں چلے گئے۔ بظاہر حنفی مکتبِ فکر کا جماعت کے ساتھ نمایاں تعلق نہ رہا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ علاحدگی فقہی رجحانات کی وجہ سے تھی یا اس وقت انگریز کے ظالمانہ تشدد کی وجہ سے۔ ۶ مئی ۱۸۳۱ء سے ۱۸۵۷ء کے معرکۂ حریت تک اور اس کے بعد آج تک جماعتِ مجاہدین کا نظام ساداتِ صادق پور اور اُن کے ہم خیال لوگوں کے ہاتھ میں رہا۔ حنفی مکتبِ فکر کے لوگ نمایاں طور پر سامنے نہیں آئے۔ ۱۸۵۷ء کا معرکہ انگریز کمپنی کی ظالمانہ بد اعمالیوں کا قدرتی نتیجہ تھا۔ یہ تحریک پورے ملک کی تحریک تھی، اسے احناف یا اہل حدیث سے کوئی خاص نسبت نہ تھی، اس میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل تھے، بلکہ خیر آبادی خاندان نے اپنی پرانی غلطی کو محسوس کیا جو وہ اپنے اساتذہ اوراُن کے خاندان کے خلاف اس سے پہلے کر چکے تھے۔ مولانا خیر آبادی نے اس وقت اس ہنگامے کو جہاد قرار دیا اور انگریز کے خلاف لڑنے کا فتویٰ دیا جس کی پاداش میں انھیں عبورِ دریائے شور کی سزا دی گئی۔ اس تحریک میں مجاہدین نے بھی کوئی نمایاں حصہ نہیں لیا۔ مولوی رحمت اللہ اس وقت دہلی تشریف لائے جب ۱۸۵۷ء کا ہنگامہ دم توڑ رہا تھا۔ بہادر شاہ صورتِ حالات سے مایوس تھے۔ ان حالات کا جائزہ لینے کے بعد مولانا رحمت اللہ حجاز چلے گئے۔ مجاہدین کا ساتھ وہ اس لیے نہیں دینا چاہتے تھے کہ تحریک کی قیادت اہل حدیث کے قبضے میں چلی گئی تھی۔ حاجی امداد اللہ صاحب کا رجحان بریلویت کی طرف تھا، لیکن طریقت میں وہ حضراتِ دیوبند کے شیخِ طریقت تھے۔ حضرت مولانا محمد قاسم ﷫نے ”آبِ حیات“ میں ان کا تذکرہ بڑے احترام سے فرمایا، بلکہ ”آبِ حیات“ کی اشاعت حاجی صاحب کے ایما سے ہوئی۔ اس سفر میں ”آبِ حیات“ مولانا محمد قاسم صاحب کے پاس تھی۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامے میں بد نظمی آ گئی تھی اور اس کا مطمحِ نظر اقامتِ دین نہیں تھا، بلکہ قومی آزادی اور نیشنل قسم کی حکومت اس ہنگامے میں پیشِ نظر تھی۔ اس لیے مجاہدین نے بھی اس میں نمایاں حصہ نہیں لیا، بلکہ وہ اپنی تحریک کو اپنے طے شدہ نظم کے مطابق چلاتے رہے۔ انگریز روز بہ روز پنجاب کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس کے سامنے ان اہل توحید مجاہدین کے سوا کوئی منظم تحریک نہ تھی، اس لیے انگریز کی مخالفت اور سخت ہو گئی۔ اس نے اس تحریک کے خلاف پروپیگینڈہ اور لڑائی کا بازار گرم کر دیا۔ ادھر حضرت مولانا محمد قاسم نے مدرسہ دیوبند کی تاسیس فرمائی اور اپنے مسلک کی علمی خدمت پوری مستعدی سے شروع فرما دی۔ دیوبند، سہارنپور، میرٹھ وغیرہ میں مدارس قائم کیے گئے۔ درسِ نظامی کی تعلیم اور حنفی مسلک کی اعانت کے لیے پورے انہماک سے کام شروع کیا گیا۔ ان بزرگوں کی ان مخلصانہ کوششوں کے ساتھ تحریکِ جہاد کی اعانت اور سرپرستی کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ یہ ساری ذمے داری اس وقت پٹنہ کے صادق پوری حضرات ہی اٹھائے ہوئےتھے [45]۔

علمائے دیوبند کی تحریک جہاد آزادی  سے کلی طور دست برداری: جہاں تک سیاسی نظریات کا تعلق تھا، اکابرِ دیوبند مئی ۱۸۳۱ء کے بعد تحریکِ جہاد سے تقریباً دست کش ہو گئے، پھر وہ ۱۹۱۴ء کی جنگ کے بعد تقریباً ۱۹۱۸ء میں تحریکِ خلافت کے ساتھ پھر سیاست میں آئے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن صاحب اور مولانا حسین احمد مدنی ﷫نے ترکی کے ساتھ تعلقات جوڑنے کی کوشش کی، لیکن ترکی ۱۹۱۴ء کی جنگ کے بعد اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ اس نے قبائے خلافت ہی اتار کر پھینک دی، اس کا اثر پوری دنیا کی اسلامی سیاسیات پر پڑا۔ ہندوستان کی مجلسِ خلافت بھی تقریباً بے جان ہو کر رہ گئی۔ اس کی جگہ بتدریج کانگریس، مجلسِ احرار وغیرہ نے لے لی۔  اہلِ حدیث پر انگریز کی مخالفت کا جنون اس طرح سوار تھا کہ وہ قلتِ عدد کے باوجود ہر محاذ پر لڑتے رہے۔ کانگریس، مجلسِ احرار، مجلسِ خلافت اور مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں میں اپنی بساط کے مطابق کام کرتے رہے۔ کبھی اہلِ حدیث، غیر اہلِ حدیث کا خیال ذہن میں نہیں آنے دیا۔ انگریز کی مخالفت ان کے مزاج میں سمو دی گئی تھی اور اس کے ساتھ ہی تحریکِ جہاد کے ساتھ ان کا پورا پورا تعاون تھا۔ مولانا عبدالقادر مرحوم قصوری، مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، مولانا عبدالاول غزنوی مرحوم، مولانا فضل الہی وزیر آبادی مرحوم، مولانا ولی محمد فتوحی والا مرحوم اور اکبر شاہ سخانہ  مرحوم سیاسی تحریکات کے شباب میں بھی سید احمد شہید اور مولانا شاہ اسماعیل شہید کی امانت کو اپنے سینوں سے لگائے ہوئے تھے۔  انہی ایام میں مرحوم مولانا محمد علی قصوری اسلامیہ کالج کے چند نوجوانوں کے ساتھ سرحد سے پار نکل گئے۔ مجاہدین سے ملے اور کابل وغیرہ کی خاک چھانتے پھرے۔ رحمهم الله وتقبل أعمالهم[46]۔

تحریک جہاد آزادی کے  اہل حدیث زعماء: سانحہ بالاکوٹ میں سید احمد اور شاہ اسماعیل شہید ہو گئے۔ تحریک میں قیادت مولانا ولایت علی فرمانے لگے۔ اس اثنا میں سکھوں اور انگریزوں میں تصادم ہوا۔ سکھ حکومت آخری ہچکیاں  لے کر ختم ہو گئی لیکن  سرحد پر انگریزوں سے ۱۹۲۱ء  تک تصادم ہوتا رہا جس میں مجاہدین بدستور گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ بریلویوں  اور شیعہ کے سوا تمام مسلمان اس تحریک کی مالی سرپرستی کرتے رہے۔ کشمیر کی جنگ میں ان مجاہدین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کی قیادت مرحوم لیاقت  علی خاں کے مشورے سے مولانا فضل الٰہی فرماتے رہے۔ سکھوں کے بعد آخر پنجاب پر انگریزوں کے سوا کون  قابض تھا جس سے  پوری صدی تک شمال مغربی سرحد پر تصادم ہوتے رہے[47]؟

برصغیر کی تحریک اہل حدیث کے  مخالفین: تین گروہوں  نے اس تحریک کی مخالفت کی جو حسبِ ذیل ہیں

a      روافض: کیوں کہ یہ زمانہٴ قدیم ہی سے ائمہٴ اہل ِ سنت کے مخالف رہے ہیں اور صفات وغیرہ میں مسلکِ اعتزال کی طرف عمومی رجحان رکھتے ہیں، ان کے ائمہ ان کے نزدیک حقیقت میں انبیاء ہیں۔ نیز ان کے تمام اعمال اہل ِ سنت اور اہل ِ حدیث کے خلاف ہیں۔

b    ہندوستان میں بدعت کے علمبردار اور قبر پرست مشرک، ان کا دین عوام ہے۔ عوام جو گناہ اور برے اعمال کرتے ہیں، ان کا کام ان کے لیے کتاب وسنت سے دلائل تراشنا ہے۔

c    فقہائے عراق کی طرف نسبت رکھنے والے احناف، یہ توحید میں ہمارے شریک ہیں، اس کے باوجود وہابیت سے خوف کھاتے ہیں اور تقلید و جمود کی دعوت دیتے ہیں، کیوں کہ لفظِ وہابی عرفِ عام میں امام محمد بن عبدالوہاب نجدی سے علم وخیر کا استفادہ کرنے والے ہمارے نجدی بھائیوں اور ہندوستان کے اہل ِ حدیث کے درمیان مشترک ہے، جو اس تحریک کے امام اور داعی شاہ اسماعیل شہید بن شاہ عبدالغنی بن شاہ ولی اللہ محدث سلفی کے توسط سے اس نعمت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ عظیم فقہاء، فرزندانِ دیوبند وہابیت سے خوف کھاتے ہیں، یہ لفظ سن کر ان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور امام محمد بن عبدالوہاب کو گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر کروڑوں رحمتیں برسائے[48]   ۔

تحریک اہل حدیث میدان جہاد سے درس وتدریس کی مسند تک: ۱۸۵۷ ء  کی تحریک نے صاحبِ بہادر کے مزاج کو اتنا برہم کر دیا تھا، وہ حضراتِ شیعہ اور بریلوی بزرگوں کے سوا کسی پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ ان حالات میں پہلے مقصد کے لیے کوشش کرنا موت کی بازی لگانے کے مرادف تھا۔ علمائے حق کے لیے یہ سودا بھی چنداں گراں نہ تھا۔ وہ بڑی خوشی سے اس کے لیے ایک دفعہ سر دھڑ کی بازی لگا دیتے، لیکن سر سید احمد خاں صاحب نے اس وقت ایک بالکل جدا پروگرام ملک کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے انگریز سے تعاون اور انگریزی تہذیب کو زندہ رکھنے کے لیے کالج کی بنیاد رکھ دی، اسی پروگرام نے ملک میں طوفان کی صورت اختیار کر لی۔  ۵۷ء  کی قربانیوں اور جانبازیوں سے تھکے ہوئے قدرتی طور پر آرام اور کچھ سستانے کے خواہش مند تھے۔ سرسید کے پروگرام میں یہ دونوں مطلب ہی نہیں، بلکہ بہ ظاہر نیند (اور دراصل موت کا سامان) موجود تھا۔ ایسے وقت میں علماء کی کون سنتا تھا اور اہل حق کی وقعت کہاں تک ہو سکتی تھی، جب کہ ان کا راستہ پر خار تھا اور مہالک سے معمور بھی۔ سرسید کی راہ میں بہ ظاہر آرام تھا۔ شکم پروری کی امید تھی۔ انجام کچھ بھی ہو، مگر بہ ظاہر اس میں کوئی خطرہ نہ تھا۔ 

اس صورتِ حال کا نتیجہ: اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ بہ ظاہر پہلا پروگرام ترک کر دیا گیا۔ دینی مدارس کی بنیاد رکھی گئی۔ حضرت میاں صاحب مرحوم نے ایک ایسے انقلاب کی بنیاد رکھی جو دریا کی سطح سے بھی زیادہ ہموار تھا۔ اگر شریر طاقتیں حکومت کے تعاون سے ایک متوازی نظام کھڑا نہ کر دیتیں تو تعجب نہ تھا کہ یہ مدارس دونوں مقاصد کے کفیل ہوتے۔ تاہم حضرت شیخ الکل نے دینی انقلاب کے لیے ایسی زمین تیار فرمائی جس کی نظیر کم ملے گی۔ زہد و تقویٰ میں حضرت عبداللہ غزنوی اور حضرت الفقیہ الزاہد مولانا عبدالجبار غزنوی کی تربیت فرمائی۔ اربابِ قلم میں مولانا محمد حسین بٹالوی اور بقیۃ السلف مولانا شمس الحق صاحب ڈیانوی اور حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب مبارکپوری ایسے خلف الصدق مغفور کی بہترین یادگار ہیں، اور مولانا محمد بشیر صاحب سہسوانی اور حضرت الاستاد مولانا حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی۔ برد الله مضجعہما۔ ایسے اصحابِ  التدریس کا نام لیا جا سکتا ہے، اور حضرت مولانا امام عبدالعزیز صاحب رحیم آبادی اور حضرت حافظ عبداللہ صاحب غازی پوری ایسے مجاہدین بھی اسی درس کی پیداوار تھے[49]۔

مولانا احمد رضا خان بریلوی ﷫کی تحریک جہاد اسلامی وآزادی ہند کی مخالفت: یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ رضا خوانی حضرات مولوی احمد رضا خان صاحب کی قیادت میں ہمیشہ انگریز بہادر کی کاسہ لیسی فرماتے رہے اور تحریک جہادِ اسلامی و آزادیِ ہند کی ہر ممکن مخالفت کی۔ انگریزی ہند کی دارالاسلامیت پر کتابیں  لکھتے رہے۔ ترکوں کے خلاف انگریزی فوجوں کو تعویذ بھی مہیا کرتے رہے۔ جبکہ اہلِ توحید نے اس کے پورے دورِ اقتدار میں نہ صرف ملک کی سرحدوں پر انگریز سے لڑائیاں لڑیں بلکہ اندرونِ  ہند بھی ہر قسم کی آزادی کی تحریک چلا کر یا ان میں شامل ہو کر اس کو پریشان کیے رکھا تاآنکہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ اہلِ توحید کا یہ ایسا اعلیٰ کردار ہے جس پر انگریز دنگ تھا، ہندو حیران اور سب مسلمان ممنون[50] !

شاہ ولی اللہ دہلوی ﷫کے خاندان کے علمی گدی نشین شیخ الکل حضرت مولانا سید نذیر حسین دہلوی     
 (م ۱۳۲۰ھ) : اس دور کے دو بزرگ ہیں جنھیں خدمتِ سنت اور طریقہٴ سلف کے احیا میں بلند ترین مقام حاصل ہے، حضرت نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم بھوپال اور شیخ الکل نذیر حسین صاحب دہلوی۔ نواب صاحب ریاست میں با اختیار مقام کے باوجود تصنیف و تالیف اور دینی مشاغل کی طرف راغب تھے اور تقلید و جمود کے خلاف ان کے قلم نے اتنا کام کیا جو شاید کوئی جماعت بھی مشکل سے کر سکے۔ مرحوم کی تصانیف مختلف فنون میں سیکڑوں تک پہنچی ہیں۔ حضرت میاں صاحب کے پاس اللہ پر توکل اور مسجد کی چٹائیوں کے سوا کچھ نہ تھا۔  میاں صاحب مولانا اسحاق ﷫کے شاگرد تھے اور شاہ ولی اللہ ﷫کے سلسلے کے ساتھ والہانہ عقیدت تھی۔ علومِ آلیہ اور عالیہ میں پوری مہارت تھی۔ جامع العلوم تھے۔ مزاج میں تواضع اور انکسار تھا۔ تملق اور لجاجت نام کے لیے طبیعت میں موجود نہ تھا۔ لالچ اور طمع ایسے امراض سے ذہن بالکل صاف تھا۔ فنِ حدیث کی اشاعت اور مسلکِ سلف کی خدمت کو زندگی کا مقصد سمجھتے تھے۔ مشاہرات کا نہ یہ دور تھا نہ طبیعت میں اس کے لیے کوئی مقام۔ زمانے کے اتفاقات سمجھیے کہ حضرت شاہ اسحاق کی ہجرت کے بعد اسی مسند پر دین کی خدمت کا موقع میسر آیا۔ شاہ اسماعیل شہید ﷫نے تقلیدِ مروج اور جمود کے خلاف جرات مندانہ قدم اٹھایا تھا، لیکن جہاد کی مشغولیت اور اس کے مصالحوں کے تقاضوں کی بنا پر اس کی تکمیل نہیں فرما سکے تھے۔ میاں صاحب نے اسے مقصدِ حیات قرار دیا اور تمام مشاغل سے فی الجملہ الگ ہو کر اس میں مشغول ہو گئے اور پوری عمر اس میں صرف فرمادی۔ پوری عمر نہ نقل مکانی کی ضرورت محسوس کی اور نہ کسی خوف و ہراس نے پروگرام کی تبدیلی پر مجبور کیا۔ ۱۸۵۷ء کے انقلاب ایسی ہیبت ناک صورت نے بھی میاں صاحب پر کوئی اثر نہ کیا۔ شہر پر توپیں آتش باری کر رہی تھیں، ادھر مسندِ درس گرم تھی۔ اسباق شروع تھے، طلبہ خائف تھے، لیکن حضرت میاں صاحب پر اس کا کوئی اثر نہ تھا۔ وہ بدستور تدریس کے سلسلے میں تشریف لاتے۔  ۱۸۵۷ء   کا انقلاب بالکل بے قاعدہ تھا۔ انگریزوں کی بدکرداریوں کے سبب تقریباً پورے ملک میں پھیلا، لیکن بدنظمی کی وجہ سے ناکامی پر منتج ہوا۔ میاں صاحب نے اس میں انگریز عورت کو باغیوں سے بچایا اور اسے پناہ دی۔ یہ بالکل اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا۔ عورت پر ہاتھ اٹھانا شرعاً درست نہ تھا۔ باغی اور آوارہ مزاج لوگوں نے اسی بہانے سے میاں صاحب کے مکان پر حملہ کیا اور ایذاء پہنچائی، اس کی اطلاع رضی الدولہ بہادر میرزا قدرت اللہ بیگ نے بہادر شاہ ظفر شاہِ دہلی کو دی۔ بادشاہ نے شہزادوں کو حکم دیا کہ وہ اس ہنگامے کو فرو کروائیں اور میاں صاحب سے دعا کے لیے عرض کریں، کیوں کہ ہمارے بزرگ مشکلات میں اہل ِ اللہ سے دعا کرایا کرتے تھے۔ (روزنامچہ ۱۸۵۷ء مولفہ عبداللطیف[51])

حضرت مولانا سید نذیر حسین دہلوی ﷫کے تلامذہ کا اثر:  میاں صاحب کے تلامذہ کے مزاج اور طریقہٴ کار میں عجیب تنوع معلوم ہوتا ہے۔ ہر ایک نے اپنی استعداد کے مطابق مرحوم سے اثر لیا۔ مولانا حافظ عبداللہ صاحب غازی پوری، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا محمد ابراہیم صاحب آروی، حاجی علی جان ﷫کا خاندان، انگریز کے سخت مخالف تحریکِ مجاہدین کے حامی بنے اور تحریکِ مجاہدین جب ۱۸۳۱ء کے بعد زیرِ زمین چلی گئی تو ان حضرات کی مخلصانہ مساعی سے تحریک زندہ رہی اور ۱۹۴۷ء  تک انگریز کے لیے وبالِ جان بنی رہی۔ پنجاب میں مولانا عبدالقادر قصوری وکیل، مولانا عبدالاول غزنوی، مولانا فضل الہی وزیر آبادی، مولانا ولی محمد فتوحی والے، مولانا اکبر شاہ سُخانہ اس تحریک کے سرگرم رکن اور موید تھے۔ وللتفصيل موضع آخر۔  ایک جماعت کا رجحان تدریس کی طرف تھا، جن میں مولانا محمد بشیر سہسوانى، مولانا حافظ عبداللہ صاحب غازی پوری، مولانا عبدالجبار صاحب غزنوی، مولانا عبدالمنان صاحب وزیر آبادی، مولانا حافظ محمد صاحب لکھوی اور مولانا عبدالقادر صاحب لکھوی ﷭- وَسِوَاهُمْ خَلْقٌ لَا يُحْصُوْنَ۔  بعض کا رجحان تصنیف و تالیف کی طرف تھا، مولانا شمس الحق صاحب ڈیانوی، مولانا عبدالرحمان صاحب مبارک پوری، مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا حافظ محمد صاحب لکھوی، مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولانا احمد غزنوی رحمة الله عليهم أجمعين۔  بعض کا رجحان مناظرانہ تھا، مولانا عبدالعزیز صاحب رحیم آبادی، مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری، مولانا عبدالحکیم صاحب نصیر آبادی وغیرہم ﷭۔  بعض وعظ و تقریر میں نابغہٴ دوراں تھے، مولانا محمد علی بوپڑہ، مولانا محمد صاحب لکھوی اور مولانا عبدالوہاب ملتانی دہلوی وغیرہم ﷭[52]۔

حضرت مولانا سید نذیر حسین دہلوی ﷫کی امن پسندی: میاں صاحب کا ذہن قطعاً تفریق پسند نہ تھا۔ دہلی شہر میں رہتے ہوئے اور تلامذہ کے حلقے میں بے حد وسعت کے باوجود میاں صاحب نے الگ جمعہ قائم نہیں فرمایا، بلکہ مدت العمر شاہی مسجد کے حنفی امام کے پیچھے نمازِ جمعہ ادا فرماتے رہے۔ مغل دربار تک تعارف اور شناسائی کے باوجود جمعہ علاحدہ کرنا پسند نہ فرمایا۔ حضرت میاں صاحب کے انتقال کے بعد احناف کے تشدد اور عصبیت کی وجہ سے دہلی میں اہل ِ حدیث اور احناف کے متعدد جمعے قائم ہو گئے[53]۔

مخالف علماء کی ریشہ دوانیوں پر حضرت مولانا سید نذیر حسین دہلوی ﷫کا تحمل:۱۳۰۰  ھ  مطابق اکتوبر ۱۸۸۳ء  میاں صاحب حج کے لیے تشریف لے گئے۔ اتفاقاً مولوی رحمت اللہ کیرانوی مرحوم اور حاجی امداد اللہ صاحب مرحوم اور مولانا خیرالدین صاحب مرحوم پہلے وہاں موجود تھے۔ کچھ اور علمائے کرام ہندوستان سے صرف اس لیے حجاز پہنچے کہ میاں صاحب کو وہاں گرفتار کروا دیں، اور رسالہ ”جامع الشواہد“ کا عربی ترجمہ کر کے ترکی کے گورنر کے سامنے پیش کیا، حالاں کہ وہ ان حضرات نے ہی یہاں شائع کروایا تھا۔ تعجب ہوتا ہے مذہبی تعصب کتنے بڑے بڑے اعاظمِ رجال کو ایسے کبائر پر آمادہ کر لیتا ہے، وہ ان غلط بیانیوں میں نہ اپنے مقام کو سوچتے ہیں اور نہ مستقبل کی بدنامی سے گھبراتے ہیں۔ اس کی تفصیل مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم نے ”اشاعة السنة“  (جلد نمبر ۶، ص: ۱۰، ۱۱) میں دی ہے اور ”الحیاة بعد الممات“ (ص: ۴۰۸) میں بھی موجود ہے۔ گورنرِ ترکی کو جب حقیقتِ حال کا علم ہوا تو میاں صاحب کو با عزت بری کر کے اپنی نگرانی میں مدینہ منورہ بھیجا، ان حضرات کو سخت تنبیہ کی، لیکن میاں صاحب مرحوم نے اس کے متعلق کوئی انتقامی کارروائی نہ وہاں کی اور نہ واپس دہلی آ کر کسی رنج کا اظہار فرمایا، بلکہ صفحِ جمیل پر عمل فرمایا، حالاں کہ یہاں پہنچ کر انتقامی طور پر بہت کچھ کیا جا سکتا تھا، لیکن اس خیرِ مجسم نے کسی انتقامی کارروائی کے لیے آمادگی کا اظہار نہ فرمایا[54]۔

مولانا اشرف علی تھانوی ﷫اور سید نذیر حسین دہلوی ﷫: حضرت مولانا اشرف علی صاحب ﷫ فنِ تصوف و زہد کے بہترین ماہر مشہور تھے، لیکن حقیقتِ زہد کو خدا ہی جانتا ہے کہ کہاں تک ان میں موجود تھا۔ ہاں اتنا تو ضرور معلوم ہوتا ہے کہ سچے صوفی سنت کے شیدا ہوتے ہیں، مگر حضرت مولانا اشرف علی صاحب کی تصانیف میں سنت اور اصحابِ حدیث سے انتہائی بغض پایا جاتا ہے۔ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُ[55]۔ 

مولانا اشرف علی تھانوی ﷫کا ایک خواب اور اس کی تعبیر: اسی غلط تصوف کی وجہ سے ان کی طبیعت پر وہم غالب تھا اور یہ چھاچھ والا خواب اور اس کی تعبیر اسی وہم کا کرشمہ ہے۔ ورنہ چھاچھ پینے کے بغیر انہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس میں روغن نہیں؟ ہر چھاچھ تو ایسی نہیں، جس میں روغن نہ ہو، (کیوں کہ دہی کی چھاچھ بھی تو آخر چھاچھ ہی کہلاتی ہے۔ کیا اس میں روغن نہیں ہوتا؟) خدا تعالیٰ مرحوم کو معاف فرمائے۔ خواب کی تعبیر میں انہوں نے حضرت میاں صاحب پر بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ ﴿وَ سَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَؒ۰۰۲۲۷﴾ [الشعراء: ۲۲۷] [56]

برصغیر کی تحریک اہل حدیث کی بنیادی فکر: حضرت مجدد سرہندی ﷫اور شیخ محمد طاہر پٹنوی کی مساعی کو اگر اجمالی سمجھا جائے تو شاہ صاحب سے اس کی تفصیل کا آغاز سمجھنا چاہیے۔ حجۃ اللہ البالغہ، انصاف اور عقد الجید کے پڑھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ دعوت کسی فرقے یا گروہ کے لیے نہ تھی۔ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی ایسے فرعی اور فقہی گروہوں میں سے بھی شاہ صاحب کے دل میں کسی کے لیے عصبیت نہیں۔ وہ مسائل میں صرف دلائل کی بنا پر گفتگو فرماتے ہیں۔ اصولِ فقہ تک، شاہ صاحب کی تنقید سے نہیں بچ سکے۔  صاحبِ ہدایہ  اور علامہ سرخسی ﷫شاہ صاحب کی نگاہِ تنقید سے نہیں نکل سکے۔ اس لیے جہاں تک میرا ناقص علم میری راہ نمائی کرتا ہے، میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اہلِ حدیث کوئی فرقہ نہیں، بلکہ اسلام کی وہ صحیح تعبیر ہے جسے طریقۂ سلف یا مسلکِ صحابہ کے مرادف سمجھنا چاہیے۔ اہلِ حدیث مبلغین کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔ اگر وہ اسے فرقے کا رنگ دیں گے تو وہ اپنے مخالفین کی نادانستہ حمایت کریں گے[57]۔

برصغیر کی تحریک اہل حدیث  کی نوعیت: حضرت مجدد الف ثانی، حضرت شاہ ولی اللہ، حضرت شاہ عبدالعزیز ﷭نے کوئی اصطلاحی تحریک نہیں چلائی، جس کے بزرگ صدر یا سربراہ ہوں،  اس کی مجالس کا جال ملک میں پھیلا ہو، جس کے ممبر اور أعوان وانصار  کسی  عرفی تنظیم کے  ماتحت کام کر رہے ہوں۔ بلکہ ان میں ہر ایک اپنے وقت میں ایک مینار ہے جس سے خود بخود روشنی پھیلتی  ہے۔ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ کسی عہدے اور عرفی نظم کے بغیر ان تاثرات کو پھیلایا جاتا ہے اور وہ اس سرعت  سے پھیلتے ہیں کہ کوئی عرفی تحریک اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی[58]۔

برصغیر کی تحریک اہل حدیث اور  نجد کی وہابی تحریک میں فرق: اس حقیقت میں بھی شبہہ نہیں کہ ہندوستان کی تحریک توحید نجد کی تحریک کا تتمہ یا ضمیمہ نہیں … غرض وہابی تحریک میں ہزار خوبیاں ہوں، ہندوستان کی تحریک اس سے الگ اور ایک مستقل تحریک ہے۔ اس میں دینی اصلاح کے ساتھ سیاسی سربلندی لازمی
 جزو ہے[59]۔

برصغیر کی تحریک اہل حدیث کے مقاصد ثلاثہ: تحریکِ اہل حدیث کی موجودہ رفتار کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو اور اربابِ بست و کشاد اسے تبلیغ کے ریشمی رومالوں میں لپیٹنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں، تاریخ کی لا زوال شہادت اسے چھپنے نہیں دے گی کہ مغل حکومت کی تباہی یا تبدیلی کے بعد اربابِ فکر اور جماعت کے مقتدر اصحابِ نظر کے سامنے دو مقصد تھے :

d    مغلوں کے فرسودہ اور لا دینی نظام کی جگہ ہندوستان میں ایسا نظامِ حکومت قائم کرنا جس کی بنیاد کتاب و سنت پر ہو۔ اس مقصد کے لیے ’’حجۃ الله البالغۃ ‘‘ اساس اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں شرعی نظام کے مصالح اور حکمتوں کو ذہن نشین کرنے کی کوشش فرمائی گئی ہے۔

e    دوسرا مقصد بدعت، تشیع اور نفاق کی مخالفت تھا۔ اکبر کی مداہنت اور شاہجہان اور دارا شکوہ کی
 بے عملی اور لاعلمی نے بدعتِ رفض کے لیے بہت حد تک میدان ہموار کر دیا تھا۔ یہ سرقہ اور عیاری اہل سنت کے اربابِ فکر سے مخفی نہ تھی۔ اس لیے ہندوستان کی تحریکِ توحید کا دوسرا مقصد رفض اور اس کی منافقانہ سازشوں کی نشان دہی قرار پایا۔ ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘  اور’’إزالۃ الخفاء‘ ‘  ایسی مایہ ناز تصانیف اسی مقصد کی تکمیل کے لیے بطورِ ذریعہ اہل علم کے سامنے ہیں[60]۔

(متحدہ)  ہندوستان میں اس تحریک کے مویدین کے سامنے تین مقصد تھے ؛

a   آزادیٴ فکر، تقلید و جمود سے بچ کر کتاب وسنت سے براہِ راست اصول و فروعِ دینیہ کے سمجھنے کی کوشش کرنا اور ان تالوں کو توڑ دینا جو اس موہبہٴ الٰہی کے دروازوں پر لگائے گئے تھے جسے عقل و دانش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

b       بدعات و محدثات کی مخالفت کرنا اور اسلام کی اس سادہ صورت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا جو قرونِ اولیٰ میں موجود تھی اور جس پر سلفِ اول نے عمل کر کے کامیابی حاصل کی تھی۔

c     دنیا میں حکومتِ الٰہیہ قائم کرنا اور سیاست کے رخ کو اس طرح بدل دینا کہ اسلامی نظام قائم ہو، کیوں کہ یہی ایک طریقہ ہے جس سے دنیا کے مختلف مذاہب صحیح امن و چین اور مذہبی آزادی سے ہمکنار
ہو سکتے ہیں[61]۔

برصغیر کی تحریک اہل حدیث کے اسباب ومحرکات: ہمارے لیے یہ بات جاننا مشکل ہے کہ اس نشأۃِ ثانیہ کی تحریک کے تدریجی ارتقا کے پیچھے کوئی ٹھوس فکر اور مضبوط شوریٰ تھی یا بغیر کسی سابقہ فکر کے یہ ایک محض اتفاقی حادثہ تھا لیکن ایک صاحبِ عقل اس بات میں شک نہیں کر سکتا کہ جو بھی ہوا ایک ٹھوس ،مستحکم ، دانشمندانہ منہج اور اساس کے مطابق تھا۔ پہلے نے جو بات نرم اور آسان انداز میں کہی وہی بات دوسرے نے اسی پر بنیاد رکھ کر کہی۔ اس کی مثال عملی فروع میں اختلافی مسائل کی ہے، جیسے چار جگہوں میں رفع الیدین کرنا، بلند آواز سے آمین کہنا، امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی قراءت کرنا۔ شاہ ولی اللہ ﷫نے ان مسائل میں اپنی محققانہ اور مفتیانہ رائے دی ہے، ان کے بیٹے شاہ عبدالعزیز ﷫نے تلقین کرتے ہوئے اس کی صراحت کی ہے، جبکہ شہید برحق شاہ اسماعیل ﷫نے منبروں پر، مجلسوں میں اور جلسہ گاہوں میں بے لاگ انداز میں کھلے عام اس کا اظہار کیا ہے[62]۔

تحریک اہل حدیث کے  اکابر علماء  کے کام کی قدرتی تقسیم کار: میری معلومات کے مطابق اکابر جماعت اتفاقاً ایسی  راہ پر چل پڑے جسے تقسیم کار سے  تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ حضرت مولانا سید نذیر حسین صاحب، مولانا حافظ محمد  لکھوی، مولانا عبدالجبار صاحب غزنوی، مولانا حافظ عبدالمنان صاحب، حضرت مولانا عبدالقادر صاحب (پشاور)، حضرت مولانا عبدالجبار صاحب عمر پوری، مولانا محمد بشیر صاحب سہسوانی، مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری، حضرت مولانا حسین بن محسن انصاری یمانی تعلیم کے میدان میں آ گئے۔ قلتِ وسائل کے باوجود ان حضرات نے اتنا کام کیا جس پر حیرت ہوتی ہے۔ ہر طرح دنیوی  وسائل سے بے نیاز ہو کر ان بزرگوں نے تدریسی خدمات انجام دیں...

 تصنیف و تالیف: حضرت نواب سید  محمد صدیق حسن خاں صاحبؒ، مولانا ذوالفقار احمد بھوپالی، مولانا ابوالحسن سیالکوٹی (صاحب فیض الباری شرح اردو صحیح بخاری)، مولانا شمس الحق عظیم آبادی، مولانا تلطف حسین صاحب عظیم آبادی،  نواب وحید الزمان مرحوم، مولانا عبدالرحمان صاحب مبارکپوری، حضرت مولانا غلام حسن سیالکوٹی، مولانا محمد غزنوی، مولانا عبدالاول غزنوی، مولانا عبدالغفور غزنوی، شیخ محی  الدین مرحوم، قاضی سلیمان صاحب پٹیالوی، مولانا حافظ محمد لکھوی، مولانا محمد حسین بھٹالوی نے تالیف و تصنیف اور طبع و اشاعت کا کام سنبھال لیا اور لاکھوں صفحات پر پھیلا ہوا لٹریچر شائع کر دیا۔ ان حضرات کی مساعی سے بہت بڑا
خلا پُر ہو گیا۔ حدیث، شروح و تراجمِ حدیث اور سلفی مکتب فکر کی بہت کتب ہندوستان میں آگئیں۔
 جہادِ اسلامی: مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا سعید الحق، مولانا محمد ابراہیم صاحب آروی، مولانا حافظ عبد اللہ غازی پوری، حضرت مولانا عبد القادر قصوری، حضرت مولانا عبد الأول غزنوی، امیر المجاہدین مولانا فضل الہی وزیر آبادی، مولانا عبد الرحیم عرف مولانا محمد بشیر، مولانا اکبر شاہ سخانوی، صوفی ولی محمد فتوحی والا، صادق پوری حضرات نے سید شہید کے مشن کو کامیاب بنانے کی ذمے داری اپنے سر لے لی اور اس نظم سے کام کیا کہ پون صدی تک انگریز کو پریشان کر دیا۔کوہستان کی برفانی پہاڑیاں انگریز کے لیے جہنم سے کم نہ تھیں[63]۔  

علمائے اہل حدیث کا انگریز کے خلاف کانگرس سے  اشتراک: کانگرس بھی اس وقت آج کی کانگرس نہ تھی، نہ انگریز کے ساتھ لڑنا اس کے پروگرام کا لازمی جزو تھا مگر  جب وہ انگریز کی مخالفت کے لیے مستعد  ہوئی تو اہل حدیث نے اس میں ہر ممکن  اشتراک کیا۔ مولانا ابوالقاسم بنارسی  مرحوم، مولانا عبدالوہاب صاحب آروی، حاجی محمد صالح صاحب کوٹھی  علی جان، مولانا عبد القادر صاحب قصوری، مولانا سید محمد داود صاحب غزنوی، مولانا محمد اسماعیل صاحب غزنوی، مولانا سید عبد الغفار  صاحب  غزنوی، مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب مرحوم، خود راقم الحروف نے اپنی بساط کے مطابق سالہا  سال کانگریس میں کام کیا[64]۔

اہل حدیث کی تحریک مزاحمت ومقاومت: اہل حدیث کی ہندوستانی نشات میں انگریز کی مخالفت ان کی تحریک کا جزو تھا، اس لیے اس کے علاوہ جو تحریک اس بنیاد پر اٹھی  یا جب وہ اس مقام پر پہنچی اہل حدیث اپنی پوری قوت کے ساتھ اس میں موجود تھے۔ کانگریس، خلافت، احرار کون سی قومی یا دینی تحریک تھی جس میں اہل حدیث نے جاں نثارانہ کام نہیں کیا؟ آپ کے دوش  بدوش نہیں تھے؟ دہلی  میں حاجی علی جان کی کوٹھی  کیا ان سیاسی دیوانوں کا مرکز نہ تھی؟ پنجاب میں سیدی العالم مولانا عبدالقادر قصوری کی قیادت میں کیا کانگریس اور خلافت کا کام نہیں ہوا؟ مولانا محمد علی قصوری مرحوم  کی تبلیغی اور سیاسی مساعی نظر انداز کرنا کہاں تک ممکن ہے؟احرار کے اسٹیج پر مولانا سید محمد داود غزنوی، مولانا محمد علی لکھوی، مولوی عبید اللہ احرار فیروز پوری، شیخ 
عبد الرشید صدیقی ایسے مخلص کارکنوں کو کوئی بھول سکتا ہے؟ [65]

تحریک مزاحمت ومقاومت سے مولانا محمد حسین  بٹالوی ﷫کا استثناء:  اہلِ حدیث کی طرف سے انگریز کی حمایت میں اگر کوئی قابلِ ذکر آواز ٹھی تو وہ مولانا  محمد حسین صاحب مرحوم بٹالوی  تھے۔ یقیناً مولانا اس رائے میں اکیلے  تھے۔ یہ ان کی شخصی  رائے تھی۔ پورے ملک میں کوئی قابلِ ذکر اہلِ حدیث اس نظریے میں ان کے ساتھ نہ تھا بلکہ عین اس  وقت جب مولانا اپنے رسالے میں انگریز کی حمایت فرما رہے تھے، ہندوستان اور پنجاب میں اکابر جماعت سید احمد شہید کی تحریک کو کامیاب بنانے میں سرگرم عمل تھے۔ کیا کسی  غزنوی اور لکھوی خاندان یا صادقپوری اور رحیم آبادی اور  قصوری اکابر نے مولانا بٹالوی  کی کبھی  حمایت فرمائی؟ اسے جماعتی فعل تصور کرنا  واقعات پر ظلم ہے[66]۔

تحریک  کے قائدین کی تقسیم کار جماعت کا  اجتماعی فیصلہ نہیں تھا: تحریک مجاہدین کو جن ناخوشگوار حالات سے سابقہ پڑا، انگریز کے انتقامی  جذبوں نے اسے جس طرح کمزور کیا، اس کے نتائج میں انتشار رونما ہوا۔ مولانا بٹالوی کی  طرح بعض نے انگریز کے ساتھ سمجھوتہ اور سازگار حالات پیدا کرنا مناسب سمجھا۔ بعض اپنی روش پر قائم رہے۔ بعض دوسری سیاسی جماعتوں میں چلے گئے۔ بعض خاموش ہوگئے۔ بعض نے تعلیم کا رخ  کیا۔ بعض تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئے۔ حالات کا ناگزیر نتیجہ  تھا۔ اسے جماعتی فیصلہ  نہیں  کہنا چاہیے[67]۔

(جاری ہے)

 

[1]               نگارشات: ۳/۶۶

[2]              نگارشات: ۵/۳۲

[3]              نگارشات: ۲/۳۳۴

[4]               نگارشات: ۱/۵۲

[5]              نگارشات: ۱/۵۴

[6]              نگارشات: ۱/۵۴

[7]               نگارشات: ۱/۵۴-۵۵

[8]              نگارشات: ۱/۵۷-۵۸

[9]               نگارشات: ۱/۲۴

[10]            نگارشات: ۱/۴۰

[11]            نگارشات: ۱/۴۱

[12]            نگارشات: ۱/۵۷

[13]             نگارشات: ۱/۵۶-۵۷

[14]            نگارشات: ۱/۶۵

[15]            نگارشات: ۱/۶۷

[16]             نگارشات: ۱/۶۹

[17]            نگارشات: ۱/۵۶

[18]             نگارشات: ۱/۶۶

[19]            نگارشات: ۱/۶۱

[20]            نگارشات: ۲/۱۶۱-۱۶۲

[21]              نگارشات: ۲/۱۰۴

[22]            نگارشات: ۵/۱۵۳

[23]             نگارشات: ۳/۶۶

[24]            نگارشات: ۵/۱۵۲-۱۵۳

[25]              ابجد العلوم ، ص: ۸۹۶

[26]             نگارشات: ۵/۲۱۶- ۲۱۷

[27]             نگارشات: ۳/۶۸

[28]            نگارشات: ۲/۱۱۰

[29]             نگارشات: ۵/۲۱۸-۲۱۹

[30]            نگارشات: ۴/۳۴۳

[31]              ارشاد الطالبین،ص:۱۹

[32]             نگارشات: ۳/۵۷-۵۸

[33]              تفسیر عزیزی: ۱/ ۱۵۱

[34]             نگارشات: ۳/۵۶

[35]            نگارشات: ۵/۱۲۶

[36]              حجۃ اللہ البالغہ: ۲/۸

[37]             نگارشات: ۵/۲۰۸

[38]             نگارشات: ۵/۱۵۳-۱۵۴

[39]            نگارشات: ۲/۱۱۱

[40]             نگارشات: ۲/۳۸۴

[41]             نگارشات: ۲/۳۸۴

[42]            نگارشات: ۳/۶۶-۶۷

[43]             نگارشات: ۲/۱۴۸

[44]             نگارشات: ۵/۲۱۱

[45]             نگارشات: ۲/۳۸۵-۳۸۷

[46]             نگارشات: ۲/۳۸۹-۳۹۰

[47]            نگارشات: ۲/۲۷۹

[48]             نگارشات: ۵/۱۵۴-۱۵۵

[49]             نگارشات: ۴/۳۷۹

[50]            نگارشات: ۲/۲۷۶

[51]             نگارشات: ۵/۱۷۱-۱۷۲

[52]             نگارشات: ۵/۱۷۳

[53]            نگارشات: ۵/۱۷۵

[54]             نگارشات: ۵/۱۷۶-۱۷۷

[55]              نگارشات: ۵/۱۹۸

[56]             نگارشات: ۵/۱۹۸

[57]             نگارشات: ۴/۳۴۴

[58]             نگارشات: ۲/۱۱۰

[59]             نگارشات: ۴/۳۴۷

[60]            نگارشات: ۴/۳۷۸

[61]             نگارشات: ۵/۲۰۹

[62]            نگارشات: ۵/۱۲۵-۱۲۶

[63]             نگارشات: ۲/۲۶۷-۲۶۸

[64]            نگارشات: ۲/۲۷۱-۲۷۲

[65]             نگارشات: ۲/۲۶۸-۲۶۹

[66]     نگارشات: ۲/۲۶۹-۲۷۰

[67]     نگارشات: ۲/۲۷۵