اقتضاء الصراط المستقیم

ملت، تہذیبی امتیاز اور ایک اہم اردو استفادہ

تبصرہ کتاب

اقتضاء الصراط المستقیم

ملت، تہذیبی امتیاز اور ایک اہم اردو استفادہ

حافظ طاہر اسلام عسکری

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ (م 728ھ) کی معروف تصنیف   اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم  عموماً تشبہ بالکفار، غیر مسلموں کے تہواروں اور بعض ظاہری رسوم کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ مباحث کتاب میں یقینا نمایاں ہیں مگر اس کا دائرہ ان سے کہیں وسیع ہے۔ خود تالیف کا پس منظر بتاتا ہے کہ بات ابتدا میں غیر مسلموں کے تہواروں اور بعض مخصوص ظاہری موافقتوں سے اٹھی لیکن حافظ ابن تیمیہؒ نے جلد محسوس کیا کہ یہ کسی ایک فقہی جزئیے کا نہیں، شریعت کے ایک بڑے اصول کا مسئلہ ہے۔ چناں چہ بحث ملت، صراطِ مستقیم، ظاہر و باطن، شعار، موافقت و مخالفت اور دینی امتیاز کے ایک جامع تصور تک پھیل گئی۔ یہی اصول آگے چل کر زبان، عادات، اعیاد، معاشرت اور غیر مسلموں کے ساتھ عملی تعامل کی متعدد صورتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اردو میں ’اقتضاء ‘سے استفادے کی کوششیں اس سے پہلے بھی ہوچکی ہیں۔ عبدالرزاق ملیح آبادی کا کام ایک عرصے تک اس کتاب کا اہم اردو تعارف رہا؛ مولوی شمس تبریز خان نے ”اسلام اور غیر اسلامی تہذیب“کے عنوان سے اسے پیش کیا؛ جب کہ ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی کی عربی تلخیص کا اردو ترجمہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کے قلم سے ”راہِ حق کے تقاضے“کے نام سے شایع ہوا۔ حامد کمال الدین کے نزدیک، ان خدمات کی اپنی قدر کے باوجود، کتاب کا وہ اصولی ڈھانچا پوری قوت کے ساتھ سامنے نہیں آسکا جسے وہ ”ملتوں کا فرق“کہتے ہیں۔ خصوصاً ابتدائی اور بنیادی مباحث کے حذف یا اختصار سے یہ تاثر پیدا ہونے کی گنجایش رہی کہ ’اقتضاء ‘زیادہ تر بدعات، رسوم، میلوں اور تہواروں کے احکام کی کتاب ہے جبکہ مترجم کی نگاہ میں اس کا اصل مقدمہ اس سے کہیں گہرا ہے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کی خواہش سے موجودہ ”اردو استفادہ“وجود میں آیا۔

مترجم کا منہج اور اسلوبِ تدوین و ترجمہ 

حامد کمال الدین کا علمی ذوق اس انتخاب کے لیے پہلے ہی سے موزوں تھا۔ ان کی تحریروں اور دروس کا ایک بڑا حصہ عقیدہ، ایمان، منہجِ سلف، دعوت و تحریک، مسلم شخصیت کی تشکیل اور جدید فکری و تہذیبی سوالوں کے مطالعے سے متعلق ہے۔ جدید ہیومنزم، معاصر شرک، تہذیبی غلبے، دینی تعبیر، دعوتی منہج اور سلفی علمی روایت سے ان کی مستقل دل چسپی ان کے دوسرے علمی کاموں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ کے تراث سے ان کا تعلق بھی عارضی یا اتفاقی نہیں۔ ایمان، عقیدہ، ملت اور دینی شناخت کے سوالوں میں وہ بار بار اسی علمی ذخیرے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے اقتضاء الصراط المستقيم کا یہ اردو استفادہ ان کے مجموعی علمی و دعوتی ذوق ہی کی ایک توسیع معلوم ہوتا ہے۔

ان کا منہج واضح طور پر سلفی علمی روایت سے وابستہ ہے جس میں نصوص کی مرکزیت کے ساتھ ساتھ فہمِ سلف کو بنیادی اہمیت حاصل ہے؛ اسی طرح متقدمین اہل السنۃ کے علمی تسلسل سے وابستگی اور معاصر مسائل کو اسی اصولی ذخیرے کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش اس کے نمایاں عناصر ہیں۔ زیر نظر استفادے کے مآخذ بھی اسی سمت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ مترجم نے شیخ ناصر بن عبدالکریم العقل کی محقَق اشاعت کو اساس بنایا ہے۔ تخریج، تحقیق اور متعدد علمی توضیحات میں اسی نسخے سے استفادہ کیا ہے اور اصل عربی متن کے صفحات کی نشان دہی بھی اسی لیے ساتھ رکھی گئی ہے کہ سنجیدہ طالب علم ضرورت کے وقت اس کی طرف رجوع کر سکے۔

اس کے ساتھ معاصر عرب علمی حلقوں میں ’اقتضاء ‘کی تدریسی روایت سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ شیخ عبدالرحمن بن ناصر البراک، شیخ محمد بن صالح العثیمین، شیخ خالد السبت اور شیخ صالح الفوزان نے اس کتاب کو درساً درساً پڑھایا ہے اور حامد کمال الدین نے مشکل فقہی، اصولی، لغوی اور تطبیقی مقامات پر ان دروس سے رجوع کیا ہے۔ اس سے ایک دوسری بات بھی نمایاں ہوتی ہےکہ’ اقتضاء ‘محض کتب خانے میں محفوظ ایک قدیم تصنیف نہیں؛ آج بھی عرب علمی و دعوتی حلقوں میں اسے پڑھا، پڑھایا اور زیر بحث لایا جاتا ہے۔ مترجم نے اسی زندہ علمی روایت کو اردو قاری تک منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔

موجودہ کام کو ”ترجمہ“کے بجاے”اردو استفادہ“ کہنا بھی خاصا بامعنی ہے۔ مترجم کہیں صرف عبارت منتقل کرتے ہیں؛ کہیں مشکل مقام کی گرہ کھولتے ہیں؛ کہیں معاصر عرب شارحین سے توضیح لیتے ہیں؛ کہیں عنوان قائم کرتے ہیں اور کہیں متن کو آج کے کسی فکری یا تہذیبی مسئلے سے جوڑتے ہیں۔ تاہم انھوں نے اپنی توضیحات اور اضافات کو اصل عبارت میں خلط نہیں کیا؛ قوسین، چھوٹے فونٹ اور دوسرے طباعتی امتیازات کے ذریعے یہ فرق قائم رکھا ہے کہ کہاں ابن تیمیہؒ کا متن ہے اور کہاں مترجم کی تعلیق۔ یہی وجہ ہے کہ اس استفادے میں مترجم کی شرکت نمایاں ہونے کے باوجود اصل اور حواشی کی حدیں بڑی حد تک واضح رہتی ہیں۔

دقیق لغوی، اصولی، فقہی اور تخریجی مباحث کو بھی محض آسانی کے نام پر حذف نہیں کیا گیا۔ جہاں ابن تیمیہؒ نے طویل یا پیچیدہ بحث کی ہے، وہاں اسے باقی رکھا گیا؛ البتہ طباعت کے ذریعے عام قاری کو یہ سہولت دی گئی کہ وہ چاہے تو مرکزی بحث کے ساتھ آگے بڑھ جائے۔ اسانید میں ضرورت کے مطابق اختصار کیا گیا ہے۔ فصل بندی اور بہت سے عنوانات میں مترجم نے اپنی تدوینی بصیرت سے کام لیا ہے اور خود واضح کردیا ہے کہ تمام سرخیاں ابن تیمیہؒ کی قائم کردہ نہیں۔

حامد کمال الدین کی نثر بھی اس کتاب کی ایک مستقل خصوصیت ہے۔ اردو دینی نثر میں ان کا اسلوب خاصا منفرد بل کہ اپنی نوعیت کا ایک الگ نمونہ ہے۔ قدیم دینی اصطلاحات کے ساتھ جدید فکری لفظیات، تحریکی حرارت، محاوراتی برجستگی اور کہیں اچانک انگریزی تعبیرات، یہ سب ایک ہی عبارت میں جمع ہوجاتے ہیں۔ نئے قاری کو ابتدا میں یہ اسلوب کچھ نامانوس محسوس ہوسکتا ہے مگر اس میں ایک خاص جاذبیت، کشش اور زور بھی ہے۔ اس طرح عبارت بے جان اور خشک علمی ترجمہ نہیں بنتی؛ اس میں مخاطب کو چونکانے، سوال پیدا کرنے اور مسئلے کو اپنے زمانے سے جوڑ دینے کی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔

مباحثِ کتاب کی سہ گانہ تقسیم

مترجم نے اس جلد کے مشمولات کو ”تاسیس، تاصیل اور تفریع“کے تین بڑے حصوں میں منظم کیا ہے۔ یہ تقسیم اصل کتاب کی نہیں، مترجم کی وضع کردہ ترتیب ہے مگر اقتضاء کے داخلی بہاو کو سمجھنے میں بڑی معاون ہے۔ پہلے ملت کی بنیاد متعین ہوتی ہے؛ پھر موافقت و مخالفت کے اصول مستدل کیے جاتے ہیں اور آخر میں وہی اصول عملی، معاشرتی اور تہذیبی مسائل پر منطبق ہوتے ہیں۔ موجودہ جلد اسی منصوبے کا پہلا حصہ ہے؛ پوری عربی کتاب کا ترجمہ ابھی مکمل نہیں اور بقیہ مواد دوسری جلد کے لیے رکھا گیا ہے۔

تاسیس: ملت کو متحقق کرنا

پہلے حصے میں ابن تیمیہؒ کسی مخصوص لباس یا تہوار سے بحث شروع نہیں کرتے بل کہ اس سے پہلے وہ اس دینی زمین کو واضح کرتے ہیں جس پر بعد کے تمام احکام کھڑے ہیں۔ بعثتِ محمدی ﷺ کے وقت مذہبی دنیا کی صورت حال، سابق ملتوں میں پیدا ہونے والا فساد، ”مغضوب علیہم“اور ”ضالین“ ،  فسادِ علم اور فسادِ عمل، سابق امتوں کے خصائل کا اس امت میں سرایت کرنا، طائفۂ منصورہ اور اہل صراطِ مستقیم کا ظاہر و باطن میں امتیاز؛ یہ سب اسی حصے کے بنیادی مباحث ہیں۔

یہاں اصل سوال ”مشابہت“سے پہلے ملت کا ہے۔ ملت صرف اعتقادی نسبت کا نام نہیں؛ وہ ایمان، عبادت، شعائر، اجتماعی حافظے، عادات اور طرزِ زندگی کا مجموعہ ہے۔ ابن تیمیہؒ کے استدلال میں ظاہر اور باطن ایک دوسرے سے بے تعلق نہیں رہتے۔ باطن ظاہر پر اثر انداز ہوتا ہے اور مسلسل خارجی موافقت بھی باطن میں انس اور میلان پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے بعد کی بحث میں بعض ظاہری رسوم محض صورت نہیں رہتیں، دینی و تہذیبی نسبت کا عنوان بن جاتی ہیں۔

حامد کمال الدین نے اس مقدمے کو عصر حاضر سے جوڑنے میں خاصی وسعت پیدا کی ہے۔ ان کے نزدیک اب تہذیبی اثر پذیری کا مسئلہ صرف کسی دوسری قوم کا لباس پہن لینے یا اس کی کوئی رسم اپنا لینے تک محدود نہیں۔ جدید تعلیمی و ثقافتی گلوبلائزیشن عقائد، اقدار، سماجی تصورات اور رہن سہن تک کو بہ تدریج ایک عالمی سانچے میں ڈھال رہی ہے۔ جدید علوم، ذرایعِ ابلاغ اور عالمی ثقافتی صنعت ایک خاص طرزِ فکر اور طرزِ زندگی کو معمول بنا دیتی ہے اور فرد بسا اوقات یہ محسوس کیے بغیر اس کا صارف بنتا چلا جاتا ہے کہ اس کی اپنی دینی و تہذیبی ترجیحات کہاں بدل رہی ہیں۔ مترجم اسی پس منظر میں ابن تیمیہؒ کی ”ملت“والی بحث کو آج کے مسلمان کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔

اسی سے وہ مذہبی تکثیریت اور تقاربِ ادیان کے بعض جدید تصورات کا رشتہ قائم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مختلف مذاہب کے پیروکاروں سے عدل و احسان، گفت گو اور پرامن معاشرت اپنی جگہ؛ مگر یہ تصور دوسری چیز ہے کہ تمام مذہبی دعوے بالآخر ایک ہی حقیقت کی مختلف صورتیں ہیں اور توحید و شرک، ایمان بالرسول اور انکارِ رسالت کے درمیان فرق ثانوی چیز ہے۔ مترجم ”ملتوں کا فرق“اس مقام پر ایک بنیادی اسلامی مقدمے کے طور پر سامنے لاتے ہیں، یعنی اہل مذاہب میں باہمی تعلق ممکن ہے، دوسروں سے انصاف لازم ہے مگر عقیدے کے امتیازات کو تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔

ہیومنزم کے باب میں بھی ان کی تنقید انسان دوستی پر نہیں، اس فلسفیانہ انسان مرکزیت پر ہے جس میں انسان خود خیر و شر کا آخری حوالہ بن جاتا ہے۔ ان کے نزدیک اسلام انسان کو اختیار دیتا ہے لیکن اس اختیار کو خدا سے بے نیاز اخلاقی ”حق“ میں تبدیل نہیں کرتا۔ یہاں سوال انسان کی عزت کا نہیں، آخری مرجعیت کا ہے؛ قدر کا فیصلہ وحی کرے گی یا انسان خود؟ مترجم اسی زاویے سے جدید ہیومنزم اور بعض لبرل تصورات کو ملت اور شریعت کے مقابل ایک دوسرے اصولی نظام کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اسلام کی تفسیرِ نو بھی اسی سیاق میں ان کی توجہ کا موضوع بنتی ہے۔ جب ملت، شریعت، کفر و ایمان اور دینی اختصاص جیسی اصطلاحات کو جدید ذہنی سانچوں کے مطابق اس طرح ازسرنو تعبیر کیا جائے کہ ان کا اصل امتیازی مفہوم باقی نہ رہے تو مترجم اسے محض زبان کی تبدیلی نہیں سمجھتے بل کہ دینی شعور کی ساخت میں تبدیلی خیال کرتے ہیں۔ یوں ”تاسیس“ کا حصہ ان کے ہاں ایک قدیم اعتقادی مقدمے سے بڑھ کر جدید مسلم ذہن کی تشکیل کا سوال بن جاتا ہے۔

تاصیل: موافقت و مخالفت کے اصول

دوسرے حصے میں وہ اصول جن کی بنیاد پہلے حصے میں رکھی گئی تھی، قرآن، سنت، آثار، اجماع اور فقہاے مذاہب کے اقوال سے مستدل کیے جاتے ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ متعدد قرآنی آیات، احادیثِ نبویہ، آثارِ صحابہ اور تعاملِ سلف سے یہ بتاتے ہیں کہ اہل ایمان کا دینی امتیاز شریعت کے مختلف ابواب میں ایک معتبر اصول ہے۔ اس کے بعد حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے فقہی ذخیرے سے مثالیں سامنے آتی ہیں۔

اس حصے کی خاص اہمیت یہ ہے کہ یہاں مخالفت کو ایک بے قید اور میکانکی اصول نہیں رہنے دیا گیا۔ شرع من قبلنا، عاشورا، عرب و عجم اور دار الاسلام کے مباحث سے واضح ہوتا ہے کہ محض یہ بات کافی نہیں کہ کوئی عمل یہود یا نصاریٰ میں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر اس کی اصل ہماری شریعت میں بھی ثابت ہے تو مشترک ہونا بہ ذاتِ خود سببِ ممانعت نہیں۔ ابن تیمیہؒ کفار کے اعمال کو بھی مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: کچھ امور دونوں شریعتوں میں مشروع رہے؛ کچھ ان کے لیے مشروع مگر ہمارے لیے منسوخ ہوئے، اور کچھ سرے سے خود ساختہ اور غیر مشروع ہیں۔ اس تقسیم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ظاہری مماثلت کا حکم ایک نہیں۔

یہی اصول تشبہ کی پوری بحث کو فقہی توازن عطا کرتا ہے۔ اختصاص، قصد، شرعی اصل اور سیاق، سب کا اعتبار ہو گا۔ کسی غیر مسلم قوم میں پایا جانے والا ہر کام مذہبی شعار نہیں اور ہر مشترک انسانی یا انتظامی عمل کو تشبہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دوسری طرف کسی خاص مذہبی شعار کو جانتے بوجھتے اختیار کرنا محض ایک بے معنی ظاہری موافقت بھی نہیں رہتا۔

دار الاسلام اور مختلف حالات سے متعلق بحث اس توازن کو اور نمایاں کرتی ہے۔ حافظ ابن تیمیہؒ بعض مواقع پر یہ گنجایش تسلیم کرتے ہیں کہ اگر کسی ماحول میں ظاہری مخالفت نقصان کا سبب بن رہی ہو اور کسی محدود موافقت سے دینی مصلحت، دعوت، مسلمانوں کا تحفظ یا کوئی دوسرا صالح مقصد حاصل ہوتا ہو تو حکم حالات کے لحاظ سے بدل سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”مخالفت“ خود کوئی مستقل مقصود نہیں؛ اصل مقصد دین، ملت اور شرعی مصلحت کا تحفظ ہے۔

عرب و عجم کی بحث بھی اسی حصے میں آتی ہے۔ علامہ ابن تیمیہؒ عربی زبان اور اولین عربی اسلامی معاشرے کو وحی، صحابہ اور دینی شعائر سے نسبت کے باعث خاص اہمیت دیتے ہیں لیکن اس موضوع کو جدید نسلی برتری کے تصورات میں رکھنا درست نہیں۔ خود ان کے ہاں ایمان و تقویٰ اصل دینی میزان ہیں۔ مترجم اس بحث کو زیادہ تر تہذیبی تسلسل، دینی زبان اور اسلامی شناخت کے زاویے سے سمجھتے اور سمجھاتے ہیں۔

یہاں ان کی معاصر تطبیق زبان سے آگے بڑھ کر ریاست اور اجتماعی نظم تک پہنچتی ہے۔ کلاسیکی دار الاسلام اور جدید نیشن اسٹیٹ کے درمیان فرق ان کے لیے خاص توجہ کا موضوع ہے۔ جدید ریاست قوم، وطن اور شہریت پر قائم ہوتی ہے جب کہ کلاسیکی اسلامی اجتماع میں دین اور ملت کو بنیادی نسبت حاصل تھی۔ مترجم بعض جدید اعتراضات، خصوصاً شہری حقوق اور اہل ذمہ کی بحث کو اسی تقابل کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جدید تناظر میں یہ ابن تیمیہؒ کی بہ راہ راست سیاسی بحث نہیں بل کہ ان کے اصولوں سے مترجم کی ایک معاصر تطبیق ہے۔

تفریع: اعیاد، زبان اور فقہِ تعامل

تیسرا حصہ کتاب کا سب سے عملی حصہ ہے اور یہی اقتضاء کی عمومی شہرت کا بڑا سبب بھی ہے۔ یہاں اعیاد، تہوار، زبان، درجاتِ تشبہ، تحائف، بازار، خرید و فروخت، ذبائح، اجارہ، جایداد اور غیر مسلموں سے دوسرے معاملات زیر بحث آتے ہیں۔ لیکن پہلے دو حصوں کے بعد یہ مسائل منتشر فقہی جزئیات نہیں رہتے؛ ان کے پیچھے ملت اور شعار کا ایک پورا اصولی پس منظر موجود ہوتا ہے۔

ابن تیمیہؒ عید کو محض تفریح اور خوشی کا دن نہیں سمجھتے؛ ان کے نزدیک وہ کسی ملت کی ”شرع، منہاج اور مناسک“ سے نسبت رکھنے والا نمایاں اجتماعی شعار ہے۔ تہوار میں ایک قوم کا عقیدہ، تاریخ، اجتماعی حافظہ اور مذہبی شناخت ایک خاص وقت اور خاص علامتوں میں جمع ہوجاتی ہے۔ اسی لیے تہوار کے باب میں موافقت کی حساسیت عام عادات سے زیادہ ہوجاتی ہے۔

مترجم یہاں ایک اہم معاصر سوال اٹھاتے ہیں: کیا تہوار صرف وہی ہے جس کی صریح مذہبی نسبت ہو؟ مدینہ کے قبل از اسلام دو معروف ایام کے بارے میں حدیث میں کسی واضح مذہبی عقیدے کا ذکر نہیں؛ وہ کھیل اور تفریح کے موروثی ایام تھے۔ مترجم انھیں آج کی زبان میں کسی درجے کا کلچرل یا قومی تہوار سمجھتے ہیں۔ اس سے جدید قومی اور ثقافتی ایام کے بارے میں ایک اصولی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے؛ اگرچہ یومِ آزادی یا یومِ وطن جیسے مخصوص جدید ایام پر اس جلد میں کوئی بہ راہ راست اور متعین حکم مذکور نہیں جو کہ ہونا چاہیے تھا۔

عیسائی اعیاد کے سلسلے میں کرسمس اور ایسٹر کی بحث زیادہ نمایاں ہے۔ ابن تیمیہؒ اپنے عہد کے مسیحی تہواروں، مخصوص دنوں، خوراک، اجتماعات اور رسوم کا ذکر کرتے ہیں جب کہ مترجم انھیں جدید کرسمس اور ایسٹر کے ماحول سے جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی مذہبی تہوار کو صرف ”سماجی“ یا ”ثقافتی“کہہ دینے سے لازماً اس کی مذہبی اصل ختم نہیں ہوجاتی۔ لباس، کھانا، تحفہ، تعطیل اور تفریح بعض اوقات اسی مذہبی شعار کی ثقافتی پرتوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی سیاق میں برصغیر میں کرسمس کے لیے ”بڑے دن“ جیسی تعبیر تک ان کی توجہ جاتی ہے۔

جمعہ اور اتوار کی بحث بھی مترجم کی معاصر تطبیقات میں خاص دل چسپی رکھتی ہے۔ مسلم ممالک میں ہفتہ وار تعطیل کے جمعہ سے ہفتہ یا اتوار کی طرف منتقل ہونے کو وہ محض انتظامی تبدیلی نہیں سمجھتے؛ ان کے نزدیک اجتماعی وقت اور ہفتہ وار زندگی کا نقشہ بھی تہذیبی اثر پذیری کا حامل ہوسکتا ہے۔ اگر بچوں اور خاندانوں کی تفریح، اجتماع اور سماجی زندگی کا اصل مرکز اتوار بن جائے اور جمعہ صرف نماز کی ایک ساعت تک محدود ہو تو وہ اسے تہذیبی ترجیحات میں تبدیلی کی علامت سمجھتے ہیں۔ یہاں بھی اصل اور تطبیق میں فرق واضح رہنا چاہیے؛ یہ ابن تیمیہؒ کا صریح بیان نہیں بل کہ ان کے اصول سے مترجم کا معاصر استنباط ہے۔

زبان کے باب میں امام ابن تیمیہؒ کی رطانة سے متعلق بحث کو مترجم نے خاصی وسعت سے بیان کیا ہے۔ عربی زبان قرآن، سنت اور اسلامی علوم سے اپنی نسبت کے باعث  مستقل اہمیت رکھتی ہے مگر مترجم اس اصول کو اردو، فارسی، ترکی اور دوسری مسلم معاشروں کی زبانوں تک بھی تہذیبی مفہوم میں پھیلاتے ہیں۔ ان کے نزدیک غیر ضروری فرنگی لفظیات اور رومنائزیشن کا غلبہ کبھی محض لسانی تبدیلی نہیں رہتا، تہذیبی مرعوبیت کی علامت بھی بن سکتا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کوئی زبان فی نفسہٖ مسلمان یا کافر نہیں۔ علمی، تعلیمی، کاروباری اور دعوتی ضرورت کے لیے دوسری زبان سیکھنا نہ صرف جائز بل کہ بعض مواقع پر مفید اور ضروری ہوسکتا ہے۔ مسئلہ دوسری زبان جاننا نہیں، اپنی دینی و تہذیبی شناخت سے مرعوبانہ دست برداری ہے۔

تشبہ کے درجات سے متعلق بحث بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ کسی ایسے عمل کو جانتے بوجھتے اختیار کرنا جو دوسری ملت کا مذہبی اختصاص ہے؛ کسی رسم کی اصل سے ناواقف ہوکر اسے اپنالینا، اور کسی ایسی چیز میں موافقت جو سرے سے کسی مذہب کا شعار ہی نہیں؛ یہ تینوں صورتیں ایک درجے میں نہیں۔ یہ امتیاز اس عمومی طرزِ فہم کی اصلاح کرتا ہے جس میں ہر ظاہری موافقت کو بلا تفریق ممنوع تشبہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

کتاب کا آخری عملی دائرہ غیر مسلموں کے ساتھ تعامل ہے۔ یہاں ابن تیمیہؒ کی فقہی تفصیلات خاص طور پر قابل توجہ ہیں کیوں کہ وہ ملتوں کے امتیاز کو معاشرتی انقطاع میں تبدیل نہیں کرتے۔ عام خرید و فروخت، کسی مذہبی تقریب میں شرکت، مخصوص مذہبی شعار کے قیام میں مدد، تحفہ، اجارہ، مکان و جایداد، ذبائح اور بازار، ان سب کے احکام میں فرق کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر  کسی غیر مسلم کے تہوار کے دن بازار میں معمول کی خریداری بہ ذاتِ خود مذہبی شرکت نہیں، بہ شرطے کہ آدمی کسی ممنوع مذہبی عمل میں شریک نہ ہو اور اس کی مدد نہ کررہا ہو۔ اس کے برخلاف ایسی چیز فراہم کرنا جو خاص اسی مذہبی شعار کے قیام کے لیے استعمال ہو، دوسری نوعیت رکھتا ہے۔ یہی فرق تحائف اور ذبائح میں بھی سامنے آتا ہے۔ اہل کتاب کا عام ذبیحہ اور کسی مخصوص مذہبی تقریب یا غیر اللّٰہ کی تعظیم کے لیے کیا گیا ذبیحہ یک ساں نہیں۔

ان مباحث میں مترجم نے البراک، خالد السبت، الفوزان اور دوسرے معاصر اہل علم کی توضیحات سے خاصی مدد لی ہے۔ کہیں کسی فقہی اصطلاح کے قدیم استعمال کو واضح کیا گیا ہے؛ کہیں نصوص کے بہ ظاہر تعارض کی تشریح کی گئی ہے؛ کہیں کسی ذبیحہ یا مذہبی معاونت کی صورت کو تفصیل سے سمجھایا گیا ہے۔ اس طرح اصل فقہی مواد اور معاصر تدریسی شرح ایک دوسرے کے معاون بن جاتے ہیں۔

اس پوری بحث کا حاصل ایک بنیادی فرق کی صورت میں سامنے آتا ہے: دینی امتیاز، معاشرتی انقطاع نہیں اور معمول کا تعامل، مذہبی تحلیل نہیں۔ ابن تیمیہؒ ایک طرف مسلمان سے اپنے شعائر اور دینی شخصیت میں استقلال چاہتے ہیں، دوسری طرف ہر شہری، معاشی اور انسانی تعلق کو تشبہ نہیں بناتے۔ اس طرح  ’اقتضاء ‘کا مطالعہ محض مخالفتِ کفارکے  نعرے سے بلند ہوکر ایک باقاعدہ فقہِ امتیاز و تعامل کی صورت اختیار کرتا ہے۔

مجموعی قدر و قیمت

حامد کمال الدین نے اس اردو استفادے کی صورت میں جو امتیازی خدمت سر انجام دی ہے اس میں سب سے اہم نکتہ  یہ ہے کہ انھوں نے’ اقتضاء الصراط المستقيم ‘کو چند رسوم اور ممنوعات کے محدود تعارف سے نکال کر اس کے اصل اصولی موضوع کی طرف متوجہ کیا ہے۔ ملت، شعار، ظاہر و باطن، موافقت و مخالفت اور دینی امتیاز؛یہ وہ فکری محور ہے جس کے گرد کتاب کے منتشر نظر آنے والے مباحث دراصل منظم ہوتے ہیں۔ مترجم نے اسی داخلی ربط کو اردو قاری کے سامنے نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسرا اور شاید زیادہ نمایاں پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اس قدیم علمی ذخیرے کو آج کی موَثر فکری و تہذیبی بحثوں سے مربوط کرکے دکھایا ہے۔ گلوبلائزیشن، مذہبی تکثیریت، تقاربِ ادیان، ہیومنزم، جدید ریاست، زبان، تہوار اور روز مرہ معاشرت؛ یہ تمام مسائل بعینہٖ ابن تیمیہؒ کے عہد میں موجود نہ تھے مگر مترجم نے ان کے وضع کردہ اصولوں سے روشنی لے کر انھیں اپنے زمانے کے فکری و تہذیبی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے کم از کم یہ حقیقت ضرور سامنے آتی ہے کہ ہمارا کلاسیکی علمی تراث محض ماضی کی یادگار نہیں؛ اس میں ایسی اصولی بصیرت اور فکری ثروت موجود ہے جو نئے حالات کو سمجھنے، ان کا تجزیہ کرنے اور ان سے معاملہ کرنے میں آج بھی رہ نمائی دے سکتی ہے۔

علمی تراث کی قدر و قیمت صرف یہ نہیں کہ وہ  محفوظ رہے بل کہ یہ ہے کہ وہ آنے والے زمانوں کے سوالوں کو سمجھنے میں بھی مدد دے۔’ اقتضاء الصراط المستقيم ‘کے اس اردو استفادے میں حامد کمال الدین نے ابن تیمیہؒ کے متن کو اُردو میں منتقل ہی نہیں کیا، بڑی محنت اور مہارت سے اس کی اصولی بصیرت کو اپنے عہد کے فکری اور تہذیبی مسائل سے جوڑ کر دکھایا ہے؛ یہی اس کام کی اصل اہمیت ہے۔

تراث اسی صورت میں زندہ رہتا ہے، جب وہ صرف الماریوں میں محفوظ نہ ہو بل کہ نئے زمانے کے سوالوں پر بھی روشنی ڈالے۔ حامد کمال الدین نے’ اقتضاء الصراط المستقيم ‘کے اس اردو استفادے میں امام ابن تیمیہؒ کے متن کو اسی زندہ نسبت کے ساتھ پیش کیا ہے اور اصل کتاب کی روح کو پورے طور سے برقرار رکھتے ہوئے اسے اپنے عہد کے فکری و تہذیبی مسائل سے ہم کلام کردیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ کتاب ہر سنجیدہ علمی لائبریری اور مکتبے کا حصہ ہونی چاہیے؛ تخصص (خصوصاً فکر و عقیدہ) کے نصاب میں اسے شامل ہونا چاہیے اور مدارس، جامعات اور مطالعاتی مراکز میں اس کے باقاعدہ اجتماعی مطالعے اور مذاکرے کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔

 

کتاب کے حصول کے لیے مطبوعاتِ ایقاظ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے:.+92 329 7833252