ستمبر 2026ء

امین احسن اصلاحی؛ ایک متنازعہ مفسر

امین احسن اصلاحی؛ ایک متنازعہ مفسر

عبدالرحمن عزیز

 

نام کتاب

امین احسن اصلاحی؛ ایک متنازعہ مفسر (تعداد صفحات  :320)

نام مصنف

پروفیسر محمد رفیق

ناشر

مکتبہ قرآنیات  ، یوسف مارکیٹ ، غزنی سٹریٹ ، اردو بازار لاہور (03217724032)

دین اسلام کا منبع وحی الٰہی ہے ، رسول ﷺکی ذمہ درای  محض اس کا ابلاغ  نہیں بلکہ   اس کی تشریح و توضیح یا الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی مراد و منشا کو واضح کرنا ہے اور امت کی ذمہ داری اسے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ شریعت سازی کا اختیار ہرگز انہیں حاصل نہیں ہے ۔

محدثین اور  فقہا  کی ساری کاوشیں شرعی نصوص کی تفہیم تک محدود تھیں، اس لیے انہوں نے ہمیشہ عقل و دانش کو نص کے تابع رکھ کر  اس کی تفہیم کے لیے  استعمال کیا۔  اس کے برعکس تاریخ  میں ایسے لوگ بھی رہے ہیں جنہوں نے اپنی عقل کو اہمیت دی اور نصوص کو اپنی عقل کے تابع کرنے کی کوشش کی ۔

وحی کی روشنی سے ہٹ کر کی گئی تفسیر کو’’ تفسیر بالرائے مذموم ‘‘  کہا جاتا ہے ۔ تمام گمراہ فرقوں نے یہی کام کیا ۔ انھی میں سے ایک عبد الحمید (حمید الدین) فراہی بھی ہیں ۔انہوں نے حدیث رسول ﷺ کی بجائے   عربی لغت  اور شعراء جاہلیت کو معیار قرار دیا اور اسی اصول پر بعص سورتوں کی تفسیر لکھی ۔ ان کے شاگرد امین احسن  اصلاحی  نے انہی کے وضع کردہ اصولوں کی تقلید میں  ’ تدبر قرآن ‘ کے  نام سے ایک ضخیم تفسیر لکھی ۔

جو شخص کلام اللہ کی تفہیم  کے لیے    نبی ﷺ کی تشریحات کو چھوڑ کر اپنی عقل کو معیار بنا لے ،اس کی تفسیر کے متعلق  کیونکر یقین کیا جاسکتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی مراد و منشا  پا لیا  ہے یا وہ شخص کیونکر غلطی سے بچ سکتا ہے؟  امین احسن اصلاحی نے بھی اپنی تفسیر بالرائے  میں بے شمار غلطیاں کیں ، فکری بھی ، لغوی  بھی اور ترجمہ و تفسیر کی  بھی ۔ بلکہ امت کی ساڑھے چودہ سو سال کی علمی تاریخ اور دینی روایت کو   بزعم خود غلط قرار دے دیا ۔

انھی کے ایک شاگرد پروفیسر مولانا محمد رفیق  صاحب نے احقاق حق اور ابطال باطل کے پیش نظر ’’ تدبر قرآن‘‘  پر محاکمہ تحریر کیا ۔وہ اپنے اور مولانا کے تعلق کے بارے میں صفحہ 11 -12 پر  تحریر کرتے ہیں :

’’اصلاحی صاحب سے برسوں تک میرا تعلق رہا ہے۔ میں اپنے زمانۂ طالب علمی میں اپنے احباب کے ہمراہ ان کے اس درس قرآن میں بھی باقاعدہ شریک ہوتا رہا ہوں جو  وہ کئی برس  (1975ء-1973ء  کے لگ بھگ ) تک شیخوپورہ سے لاہور تشریف لا کر سمن آباد کی ایک کوٹھی میں وقتاً فوقتاً دیا کرتے تھے ۔ میں نے ان دروس میں قرآن کے آخری دس پاروں کی پوری تفسیر  ان کی زبائی سنی....

پھر جب وہ اپنی اہلیہ کی بیماری اور پھر ان کی وفات کے بعد دوبارہ لاہور منتقل ہو گئے تو اس زمانے میں بھی میرا اُن کے ہاں آنا جانا رہتا تھا۔ وہ مجھ پر شفقت فرماتے اور میں بھی ایک نیاز مند اور شاگرد کی طرح اُن کا احترام ملحوظ رکھتا۔ مگر اس دوران جب مسئلہ رجم پر میرا ان سے بحث و مباحثہ اور اختلاف ہو گیا اور میں نے اُن کے خلاف ”حد رجم کے نام سے ایک کتاب لکھی تو وہ سخت ناراض ہو گئے اور اس کے بعد ہمارے باہمی تعلقات منقطع ہو گئے۔‘‘

مضامین کو 10 ابواب میں ترتیب دیا گیا ہے ۔ اس کی فہرست آپ کی ملاحظہ فرمائیں :

پہلا باب میں علوم القرآن سے متعلق اصلاحی صاحب کے متنازعہ بیانات   کا تذکرہ ہے ،  قرآن مجید کی جمع و تدوین  ، قراءات قرآنیہ ، سورتوں کے مکی ،مدنی اور سورۃ اللہب کے مکی یا مدنی ہونے کے حوالے سے  مولانا اصلاحی کا موقف امت کے مجموعی  موقف سے ہٹا ہوا  ہے ۔

دوسرے باب میں ’’ تدبر قرآن ‘‘ کے اصول تفسیر کا ذکر ہے کہ اصلاحی صاحب احادیث و آثار کی بجائے خود ساختہ نظم  قرآن ، قدیم آسمانی صحیفے اور تاریخ عرب کو تفسیر کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔

تیسرے بات میں ’’ تدبر قرآن ‘‘ کے ترجمہ قرآن کی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

چوتھے باب میں تدبر قرآن میں تفسیر کی غلطیاں واضح کی ہیں ۔ پانچویں بات میں اصلاحی صاحب کے  حدیث سے اعراض و گریز پر بحث کی گئی ہے ۔ چھٹے باب میں ان کے انکار حدیث پر روشنی ڈالی ہے ۔ ساتویں باب میں ان مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے جن میں اصلاحی صاحب نے اجماع امت کی مخالفت یا انکار کیا ہے ۔

آٹھویں باب میں اصلاحی  صاحب  کے انکار معجزات،نوویں باب میں فکری تضادات کی فہرست گنوائی ہے ، مزید  یہ بتایا گیا ہے کہ اصلاحی صاحب   اپنے نظریات کی ترویج کے لیے  دینی اصطلاحات کے معانی بدلتے ہیں ۔

 دسویں اور آخری  باب میں  اصلاحی صاحب کے مبلغ علم کا تارپود بکھیرا ہے ۔

ہر صاحب علم کو اس کتاب کا  لازما ً مطالعہ کرنا چاہیے ۔ تاکہ قرآن مجید کے ترجمہ وتفسیر کے صحیح اصولوں میں اور اس کے  غلط طریقوں میں فرق کو بھی اچھی طرح سمجھا جاسکے ۔