لسانِ قرآن کا پاسبان ڈاکٹر مازن المبارک
لسانِ قرآن کا پاسبان ڈاکٹر مازن المبارک
ڈاکٹر حافظ ابو عمرو
دمشق کی علمی فضا نے گذشتہ صدی میں عربی زبان و ادب کے جن رجال کو پروان چڑھایا، ڈاکٹر مازن عبدالقادر المبارک ان میں ایک ممتاز اور صاحبِ امتیاز شخصیت تھے۔ تقریباً ایک صدی پر محیط زندگی گزار کر 25 جولائی 2026ء کو دمشق میں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو عربی زبان نے اپنے ان قدیم پاسبانوں میں سے ایک کو کھو دیا جن کے نزدیک زبان محض اظہار و ابلاغ کا وسیلہ نہ تھی بل کہ ایک امت کی تہذیبی یادداشت، اس کی فکری شناخت اور اس کے دینی شعور کی امین تھی۔ ان کی عمر کا بڑا حصہ درس و تدریس، تحقیق و تصنیف، احیاے تراث اور عربی زبان کے مقام و مستقبل کی حفاظت میں بسر ہوا۔
1930ء میں دمشق کے قدیم محلے العمارة کے ایک علمی و دینی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ والد شیخ عبد القادر المبارک شام کے نام ور اہلِ زبان میں شمار ہوتے تھے اور بڑے بھائی ڈاکٹر محمد المبارک زبان، شریعت اور اسلامی فکر کے ممتاز عالم تھے۔ ابتدائی تعلیم سے جامعہ تک دمشق ہی میں رہے اور سعید الافغانی، مصطفیٰ زرقا، محمد بہجت البیطار، امجد الطرابلسی اور شفیق جبری ایسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ 1952ء میں جامعہ دمشق کے کلیۂ آداب اور کلیۂ تربیت، دونوں کے فارغ التحصیل طلبہ میں اوّل رہے۔ پھر قاہرہ یونی ورسٹی گئے جہاں زجاجی کی الإيضاح في علل النحو پر تحقیق کے ساتھ ایم اے اور الرماني النحوي في ضوء شرحه لكتاب سيبويه کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ واپسی پر جامعہ دمشق سے وابستہ ہوئے اور بالآخر علومِ زبانِ عربی کے پروفیسر کے منصب تک پہنچے۔
ان کے علمی کام کی وسعت کا اندازہ ان کی تصانیف ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ الزجاجي: حياته وآثاره ومذهبه النحوي، الرماني النحوي، النحو العربي، الموجز في تاريخ البلاغة، بحث في تاريخ النحو والعلة النحوية، نظرات وآراء في اللغة وعلومها، نحويون قدماء ومحدثون اور البديع بين ابن المعتز وقدامة ان کی تخصصی دل چسپیوں کی نمایندگی کرتی ہیں۔ تحقیقِ تراث کے میدان میں زجاجی کی الإيضاح في علل النحو اور كتاب اللامات، ابن ہشام کی مغني اللبيب اور المباحث المرضية اور ابن جنی کے بعض رسائل کی تحقیق ان کی علمی یادگاروں میں شامل ہے۔ ان کے نزدیک تراث کی خدمت ماضی کی پرستش نہیں بل کہ علمی روایت سے زندہ تعلق قائم رکھنے کا ذریعہ تھی۔
تاہم ان کی شخصیت کو محض ایک نحوی، محقق یا مؤرخِ بلاغت سمجھنا ان کے علمی کام کا پورا تعارف نہیں۔ ان کی نمایندہ کتاب نحو وعي لغوي ان کے لسانی فکر کی اصل کلید ہے۔ ان کے نزدیک زبان کسی قوم کی وحدت کی بنیاد اور اس کی تہذیب کا آئینہ ہوتی ہے اور عربی کا معاملہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ یہ قرآن کی زبان بھی ہے۔ قرآن نے عربی کو صرف دوام نہیں بخشا بل کہ اسے وہ مقام عطا کیا جہاں زبان، عقیدہ، تہذیب اور تاریخی شعور ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ عربی کی کم زوری کو صرف ایک لسانی حادثہ نہیں سمجھتے تھے؛ ان کے نزدیک اس کے اثرات امت کی فکری خود آگہی اور تہذیبی شناخت تک پہنچتے ہیں۔
اسی زاویۂ نظر سے وہ عربی کے مقابل عامیانہ بولیوں اور لہجوں کی بالادستی، عربی رسم الخط کو لاطینی حروف سے بدلنے، زبان کو جدید علوم کے اظہار سے عاجز قرار دینے اور اصلاح و تجدید کے نام پر اس کی بنیادی ساخت سے بے اعتنائی کی تحریکوں کو محض فنی اختلاف نہیں سمجھتے تھے۔ انھیں اندیشہ تھا کہ سیاسی استعمار کے بعد فکری استعمار زبان اور تعلیم کے راستے سے قوموں کے شعور میں جگہ بنا لیتا ہے۔ البتہ وہ ہر تجدید کے مخالف نہ تھے؛ تدریسِ نحو کی آسانی، غیر عربوں کو عربی سکھانے، تعریب، اعلیٰ تعلیم اور علمی تحقیق میں عربی کے مؤثر استعمال جیسے موضوعات خود ان کی مستقل علمی دل چسپیوں میں شامل تھے۔ وہ جمود نہیں، ایسی تجدید کے خواہاں تھے جو زبان کو زندہ بھی رکھے اور اس کی صحت و اصالت کو بھی محفوظ رکھے۔ مجمع ملک سلمان عالمی للغة العربية نے 2025ء میں انھیں ’’ نشر الوعي اللغوي‘‘ کے شعبے کا انعام دیتے ہوئے بجا طور پر نحو وعي لغوي کو ان کے اس علمی منصوبے کا نمایاں مظہر قرار دیا۔لغويات قرآنية اور وهذا لسان عربي مبين جیسی کتابیں، سورۂ ناس پر ان کا لغوی مطالعہ اور دمشق کے عظیم محدث شیخ بدر الدین حسنی پر ان کی کتاب المحدّث الأكبر الشيخ بدر الدين الحسني بتاتی ہیں کہ ان کے ہاں زبان کا رشتہ قرآن، دینی روایت اور شام کی علمی میراث سے کٹا ہوا نہ تھا۔ وہ اصلاً فقیہ یا محدث نہیں، ایک لغوی و ادیب تھے لیکن ایسے لغوی جن کے نزدیک عربی کی پاسبانی بالآخر لسانِ قرآن اور اسلامی علمی تراث کی پاسبانی سے جا ملتی تھی۔
ان کی خدمات کتابوں تک محدود نہ تھیں۔ وہ جامعہ دمشق میں غیر عربوں کو عربی سکھانے کے ادارے کے پہلے مدیر رہے؛ ریاض، لبنان، قطر، وهران اور دبئی کی جامعات میں تدریس کی؛ مجمع اللغة العربية دمشق کی متعدد علمی کمیٹیوں کی سربراہی کی اور اس کے مجلے میں دہائیوں تک لکھتے رہے۔ ان کی زندگی میں درس گاہ،
کتاب، مجمع اور علمی مجلس ایک ہی مقصد کی مختلف صورتیں بن گئے تھے: عربی زبان کو اس کی علمی صلاحیت، تہذیبی وقار اور قرآنی نسبت کے ساتھ زندہ رکھنا۔
ڈاکٹر مازن المبارک رخصت ہوگئے لیکن جس سوال کے ساتھ انھوں نے عمر گزاری، وہ بہ دستور ہمارے سامنے ہے: کیا عربی اپنے ہی اہلِ زبان کی درس گاہ، تحقیق، فکر اور اجتماعی زندگی میں وہ مقام پھر حاصل کر سکے گی جس کی وہ سزاوار ہے؟ ان کی علمی میراث اس سوال کا جواب بھی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک دعوت بھی۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی علمی کاوشوں کو صدقۂ جاریہ بنائے اور لسانِ قرآن کی خدمت کو ان کے میزانِ حسنات میں قبول فرمائے؛ آمین۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
اکابرِ اہلِ حدیث کی ایک یادگار؛ مولانا ابو بکر صدیق سلفی
برصغیر کی جماعت اہلِ حدیث کی علمی تاریخ میں ایک نسل وہ تھی جس نے تقسیمِ ہند سے پہلے کے نام ور اساتذہ و شیوخ سے بہ راہِ راست اکتسابِ علم کیا، قیامِ پاکستان کے ہنگامہ خیز دور کو دیکھا، نئے ملک میں دینی مدارس اور جماعتی اداروں کی تشکیل و استحکام میں حصہ لیا اور پھر کئی دہائیوں تک درس و تدریس، دعوت و تبلیغ اور جماعتی خدمت میں مصروف رہی۔ مولانا ابو بکر صدیق سلفی رحمہ اللّٰہ اسی نسل کے نمایندے تھے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ کسی نمایشی علمی سرگرمی کے بجاے خاموش تدریس، دعوت اور جماعتی خدمت میں گزرا۔
مولانا ابو بکر صدیق سلفی کی ولادت یکم فروری 1926ء کو ضلع فیروز پور کی تحصیل فیروز پور کے ایک گاؤں روڑی میں ہوئی۔ ان کا آبائی تعلق امرتسر کے قریب ایک گاؤں سنگھ پورہ سے تھا۔ ابھی کم سن تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بڑے بھائی اور والدہ نے پرورش کی۔ گھر میں دینی ماحول موجود تھا اور والدہ کی خواہش تھی کہ بیٹا دینی تعلیم حاصل کرے۔ چناں چہ ابتدائی تعلیم گاؤں کے بورڈ اسکول سے حاصل کرنے کے بعد باقاعدہ دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پنجاب کے مختلف علاقوں میں اہلِ حدیث کے مدارس اور اکابر علما کی علمی مجالس نوجوان طلبہ کی تربیت کا اہم مرکز ہوا کرتی تھیں۔
ان کا تعلیمی سفر کئی مدارس اور جلیل القدر اساتذہ کی صحبت سے عبارت ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم مولانا
شمس الدین سے حاصل کی۔ بعد ازاں مدرسہ رحمانیہ اور دوسرے علمی مراکز میں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیا۔ ان کے اساتذہ میں مولانا عبدالعزیز پٹیالوی، مولانا حافظ محمد اسماعیل روپڑی، مولانا محمد عطاء اللّٰہ حنیف بھوجیانی اور دیگر اہلِ علم کے نام آتے ہیں؛ خصوصاً مولانا عطاء اللّٰہ حنیف بھوجیانی سے ان کا تعلق محض رسمی تلمذ تک محدود نہ رہا بل کہ آگے چل کر علمی و تدریسی زندگی میں بھی یہ نسبت قائم رہی۔
ان کی تدریسی زندگی مختلف مدارس سے وابستہ رہی قیامِ پاکستان کے بعد ان کی زندگی کا بڑا حصہ لاہور اور اس کے گرد و نواح میں علمی و دعوتی سرگرمیوں میں گزرا۔ کچھ عرصہ دارالعلوم تقویۃ الاسلام سے وابستہ رہے۔ بعد میں مولانا عطاء اللّٰہ حنیف بھوجیانی کی قائم کردہ درس گاہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔
ان کے علمی سفر کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ انھیں ایسے اکابر کی صحبت میسر آئی جو پاکستان میں حدیث کی تدریس و تحقیق کے بڑے نام تھے۔ اسی ماحول نے ان کے مزاج میں کتاب و سنت سے وابستگی کے ساتھ درس و تدریس اور جماعتی خدمت کا ذوق پیدا کیا۔ان کی دعوتی زندگی بھی خاصی وسیع تھی۔ مختلف علاقوں میں خطابت، وعظ اور درس کے ذریعے کتاب و سنت کی دعوت پہنچاتے رہے۔اور ایک عرصے تک مسجد نجم اہلِ حدیث، لاہور میں بھی تعلیم و تدریس اور دینی خدمت انجام دیتے رہے۔
مولانا سلفی کی زندگی کا دوسرا نمایاں رخ ان کی جماعتی وابستگی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد طلبۂ اہلِ حدیث کو منظم کرنے کے لیے قائم ہونے والی ’’جمعیت طلبہ اہلِ حدیث‘‘ کے وہ بانی ارکان میں شامل تھے اور اس کے پہلے نائب صدر منتخب ہوئے۔ یوں ان کی جماعتی و تنظیمی زندگی کا آغاز عہدِ شباب ہی میں ہوگیا تھا۔ بعد کے عشروں میں بھی وہ جماعتی اداروں، مدارس اور مساجد میں مختلف حیثیتوں میں کام کرتے رہے ۔ عمر کے آخری دور میں وہ ہفت روزہ الاعتصام جیسے تاریخی جماعتی و علمی جری کے سرپرست تھے ۔
تحریر و تصنیف سے بھی انھیں مناسبت تھی؛ اگرچہ ان کی اصل شناخت مصنف سے زیادہ مدرس، داعی اور جماعتی خادم کی رہی۔ انھوں نے شیخ محمد بن عبد الوہاب کی معروف کتاب کشف الشبهات کا اردو ترجمہ کیا جو شایع ہو کر مقبول ہوا۔ دینی اور جماعتی جرائد میں وہ متفرق موضوعات پر لکھتے رہے۔
مولانا ابو بکر صدیق سلفی قدیم اہلِ حدیث علمی روایت اور پاکستان کے بعد کی جماعتی زندگی کے درمیان ایک زندہ واسطہ تھے۔ انھوں نے ان اساتذہ سے کسبِ فیض کیا جن کے نام بیسویں صدی کی اہلِ حدیث علمی تاریخ کے نمایاں ابواب ہیں؛ پھر خود نصف صدی سے زیادہ عرصے تک تدریس، دعوت اور جماعتی خدمت میں مصروف رہے۔ ان کی طویل عمر میں برصغیر کی تقسیم بھی آئی، ہجرت بھی، نئے مدارس اور جماعتی اداروں کی تشکیل بھی ہوئی اور دعوت و ابلاغ کے ذرایع بھی یک سر بدل گئے مگر کتاب و سنت سے ان کی نسبت اور جماعتی خدمت کا رشتہ قائم رہا۔
ایسی شخصیات عموماً بڑی تصانیف یا بلند مناصب سے زیادہ تسلسلِ روایت کی وجہ سے اہم ہوتی ہیں۔ وہ اپنے اساتذہ سے جو کچھ پاتی ہیں، اسے اگلی نسل کے سپرد کرکے رخصت ہوتی ہیں۔ مولانا ابو بکر صدیق سلفی رحمہ اللّٰہ بھی اکابر اہلِ حدیث کی اسی علمی و دعوتی امانت کے امین تھے۔ ان کی وفات سے جماعت ایک ایسے بزرگ سے محروم ہوگئی جس کی یادوں میں اہلِ حدیث کی قریب ایک صدی کی علمی، دعوتی اور تنظیمی تاریخ سمٹ آئی تھی۔
اللّٰہ تعالیٰ ان کی طویل علمی و دعوتی مساعی کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے حسنات کو جاری و ساری رکھے، لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انھیں اپنی وسیع رحمت و مغفرت سے نوازے۔ آمین۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
محترم محمد دین بھٹی مرحوم
جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فاضل ڈاکٹر آصف جاوید کے والدِ محترم محمد دین بھٹی 25 جولائی 2026ء کو تقریباً نوّے برس کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے؛ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
مرحوم کا تعلق ضلع فیروزپور (بھارت) کے گاؤں منڈی وال سے تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان اوکاڑہ کے نواحی علاقے موضع درگن میں آباد ہوا، جہاں کاشت کاری اور گلہ بانی ان کا ذریعۂ معاش رہا۔ وہ نہایت سادہ، دیانت دار، قانع اور بے نفس انسان تھے۔ نماز، روزہ، تہجد، تلاوتِ قرآن، اعتکاف اور ذکر و عبادت ان کا معمول تھا۔ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک تلاوت اور نمازِ اشراق کی پابندی کرتے اور امام مسجد کی عدم موجودگی میں خود امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ ابتدا میں اپنے ماحول کے زیرِ اثر بعض مروجہ رسوم کے قائل تھے لیکن حق واضح ہونے پر انھیں ترک کر کے کتاب و سنت کے راستے کو اختیار کر لیا۔
مرحوم کی زندگی کا ایک روشن پہلو ان کی حیا، راست بازی، حقوق العباد کی پاس داری، صبر و شکر اور غضِّ بصر کی غیر معمولی کیفیت تھی۔ اولاد کی دینی تربیت کو ہمیشہ مقدم رکھا اور اسی جذبے کے تحت اپنے صاحب زادے ڈاکٹر آصف جاوید کو حفظِ قرآن کے لیے مدرسہ رحمانیہ میں داخل کرایا۔ زندگی کے آخری چند ماہ بیماری میں گزرے جن میں اللّٰہ تعالیٰ نے اولاد کو خدمت کی سعادت عطا فرمائی۔ وہ اپنی اولاد سے راضی ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوئے اور پس ماندگان میں چار بیٹے، دو بیٹیاں اور ایک بڑا خاندان چھوڑ گئے۔
ادارۂ محدث ڈاکٹر آصف جاوید اور ان کے تمام اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم محمد دین بھٹی کی کامل مغفرت فرمائے اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
علمِ حدیث کا ایک نرم خو معلم؛ پروفیسر ڈاکٹر حمیداللّٰہ عبدالقادر
کچھ اساتذہ اپنی کتابوں اور تحقیقات سے یاد رہتے ہیں، کچھ اپنے درس اور علمی مجالس سے اور کچھ خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں کہ علم کے ساتھ ان کا اخلاق بھی شاگردوں کی یادداشت کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حمیداللّٰہ عبدالقادر اسی قبیل کے اہلِ علم تھے۔ علمِ حدیث ان کا خاص میدان تھا؛ عمر کا بڑا حصہ درس و تدریس، تحقیق و تربیت اور دعوت و ارشاد میں گزرا لیکن ان سے قریب رہنے والوں کی یادوں میں ان کا علم جتنا روشن ہے، ان کی نرم خوئی، تواضع، سادگی اور شفقت کا نقش بھی اتنا ہی گہرا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا آبائی تعلق بلتستان سے تھا۔ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ پہنچے، جہاں حدیث، سیرت، قرآن و تفسیر ان کے اہم تخصصات رہے۔ بعد ازاں اسلامیات و عربی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پنجاب یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی اور امام ابن حزم کی کتاب المحلیٰ کی روشنی میں ان کے معاشی نظریات پر عربی میں مقالہ لکھا۔ پھر ایک طویل عرصہ پنجاب یونی ورسٹی کے ادارۂ علومِ اسلامیہ سے وابستہ رہے، جہاں قرآن، حدیث، فقہ، عربی اور دعوت و ارشاد کے مضامین پڑھائے اور ایم فل و پی ایچ ڈی کے بیسیوں محققین کی علمی رہ نمائی کی۔ یوں ان کی علمی زندگی میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی دینی فضا، عربی زبان و ادب کا ذوق اور جدید جامعاتی تحقیق، تینوں دھارے باہم مل گئے تھے۔
ان کا علمی دل چسپیوں کا دائرہ اگرچہ فقہ، سیرت، عربی اور اسلامی علوم کے دوسرے شعبوں تک پھیلا ہوا تھا لیکن ان کا اصلی شغف اور تخصص علمِ حدیث تھا۔ ان کی معروف کتاب اصولِ حدیث اسی میدان میں ان کی طویل تدریسی مشق کا حاصل ہے جس میں اصطلاحاتِ حدیث کے دقیق مباحث کو نسبتاً سہل اور مرتب انداز میں پیش کیا گیا۔ مصباح الحدیث میں حدیث کی حجیت اور اس سے متعلق پیدا کیے جانے والے شبہات کو موضوع بنایا جب کہ سیرتِ نبوی ﷺ پر پیغمبرِ امن حضرت محمد رسول اللّٰہ ﷺ ان کی علمی دل چسپی کے ایک دوسرے پہلو کی نمایندگی کرتی ہے۔ ان کی نگرانی میں ہونے والے تحقیقی کاموں کی ایک بڑی تعداد بھی حدیث اور اس کے متعلقات سے وابستہ ہے۔ تعارضِ احادیث، مقدمۂ صحیح مسلم، برصغیر کے رجالِ حدیث اور علماے پنجاب کی خدماتِ حدیث جیسے موضوعات پر ان کے زیر نگرانی تحقیقات ہوئیں۔ ماہ نامہ محدث اور ادارۂ محدث کے علمی ماحول سے بھی ان کا تعلق رہا اور اس مجلے میں ان کی علمی تحریریں شایع ہوتی رہیں۔
کاتبِ سطور کا ڈاکٹر صاحب سے تعلق یونی ورسٹی کی رسمی طالب علمی سے پہلے کا تھا۔ تقریباً دو دہائیاں قبل، جب ابھی مدرسے کی طالب علمی کا زمانہ تھا، وہ منتہی جماعتوں کو بعض مضامین پڑھانے آیا کرتے تھے اور راقم کو بھی ان کے حلقۂ درس میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ یہی ان سے پہلا تعارف تھا۔ بعد میں مختلف مساجد میں ان کے دروس سے استفادے کا سلسلہ جاری رہا؛ بالخصوص ان کی قیام گاہ کے قریب ایک مسجد میں ان کا درسِ حدیث ہوتا تھا۔ حدیث بیان کرتے ہوئے ان کا انداز نہایت سادہ، رواں اور دل نشیں ہوتا۔ نہ غیر ضروری خطابت، نہ علمی اصطلاحات کی نمایش؛ بات جتنی تھی، اتنی ہی وضاحت اور وقار سے سامع تک پہنچا دیتے۔
2007ء میں پنجاب یونی ورسٹی میں ایم فل کی باقاعدہ طالب علمی شروع ہوئی تو ایک مرتبہ پھر ان سے استفادے کا موقع ملا۔ عربی زبان و ادب کا کورس انھی سے پڑھا اور بعد ازاں راقم نے اپنا ایم فل کا تحقیقی مقالہ بھی انھی کی نگرانی میں مکمل کیا۔ میری اہلیہ کے ایم فل مقالے کے نگران بھی ڈاکٹر صاحب ہی تھے۔ یوں انھیں قریب سے دیکھنے، ان سے پڑھنے اور تحقیق کے مختلف مراحل میں ان کی رہ نمائی سے فائدہ اٹھانے کا ایک طویل موقع میسر آیا۔
اس طویل تعلق کی یادوں میں ان کی علمی قابلیت کے ساتھ سب سے نمایاں چیز ان کا اخلاقِ علم ہے۔ تکلف و تصنع سے بے نیاز، فرقہ وارانہ تنگ نظری اور مسلکی تلخی سے کوسوں دور، نہایت متواضع، منکسر المزاج اور نرم خو انسان تھے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اتنے طویل عرصے میں کبھی ان کی زبان سے کسی کے لیے کوئی سخت کلمہ سنا ہو یا کسی طالب علم کو درشتی سے جھڑکتے دیکھا ہو۔ اختلاف ہو، غلطی کی نشان دہی ہو یا طالب علم کے کام کی اصلاح، لہجہ وہی نرم اور شفیق رہتا۔ وہ اصلاح بھی اس طرح کرتے تھے کہ آدمی کو اپنی غلطی کا احساس تو ہوجاتا، اپنی تحقیر کا نہیں۔
تدریس میں بھی یہی وصف نمایاں تھا۔ بعض اساتذہ مشکل علم کو مزید مشکل بنا کر اپنی علمی ہیبت قائم کرتے ہیں، ڈاکٹر صاحب کا طریقہ اس کے برعکس تھا۔ ان کے درس میں مشکل مسئلہ بھی رفتہ رفتہ اس طرح کھلتا کہ بات ذہن نشین ہوجاتی۔ ان سے پڑھنے والوں کے حافظے میں ان کے اسباق کے ساتھ ان کا تبسم، ان کی نرمی اور ان کی شفقت بھی محفوظ ہے۔
ریٹائرمنٹ اور عمر کے آخری مرحلے نے بھی ان کے علمی و دعوتی تعلق کو منقطع نہیں کیا۔ درسِ حدیث، علمی مجالس، تحقیقی رہ نمائی اور دینی دعوت سے حسبِ استطاعت وابستہ رہے۔ زندگی بھر حدیثِ رسول ﷺ پڑھانے والا یہ نرم خو معلم بالآخربتاریخ 3 مئی 2026کو اپنے رب کے حضور حاضر ہوگیا۔
اللّٰہ تعالیٰ استادِ گرامی ڈاکٹر حمیداللّٰہ عبدالقادر کی علمی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے،ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں اپنی وسیع رحمت اور مغفرت سے نوازے؛ آمین۔
امیرالعظیم: اخلاص و وفا کا ایک روشن استعارہ
کسی بھی دینی تحریک کی اصل قوت اس کے دستور، تنظیم یا اداروں میں نہیں بل کہ ان رجالِ حق میں ہوتی ہے جو اپنی پوری زندگی کسی ذاتی غرض، شہرت یا منفعت کے بغیر ایک بلند مقصد کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ تحریکیں عمارتوں سے نہیں، انسانوں سے زندہ رہتی ہیں اور ایسے لوگ عموماً شہرت کی روشنی سے دُور رہ کر اخلاص، استقامت اور جہدِ مسلسل سے تاریخ کا رخ موڑتے ہیں۔ امیرالعظیم بھی انھی نفوسِ قدسیہ میں سے تھے جنھوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ جماعت اسلامی کی دعوت اور اقامتِ دین کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا حاصل بنائے رکھا۔ ان کی رحلت جماعت اسلامی کے لیے تو ایک عظیم خسارہ ہے ہی لیکن ہر اس شخص کے لیے بھی باعثِ افسوس ہے جو دین کی سربلندی کی ہر مخلصانہ کوشش کو پوری امت کا مشترک سرمایہ سمجھتا ہے۔
امیرالعظیم جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل تھے مگر ان کی اصل پہچان ایک ایسے مخلص کارکن، کام یاب مربی اور مدبر منتظم کی تھی جس نے اسلامی جمعیت طلبہ سے اپنے دعوتی و تنظیمی سفر کا آغاز کیا اور پھر اسی قافلے کے ساتھ آخر دم تک وفا نبھائی۔ زمانے بدلتے رہے، قیادتیں تبدیل ہوتی رہیں، سیاسی حالات نے بھی کئی نشیب و فراز دیکھے مگر ان کے قدم نہ ڈگمگائے اور نہ مقصد سے ان کی وابستگی میں کبھی کوئی فرق آیا۔ اپنے نصب العین سے ایسی استقامت اور اپنی جماعت سے ایسی بے لوث وفاداری ہر شخص کے حصے میں نہیں آتی۔
امیرالعظیم کی شخصیت کا سب سے تابندہ پہلو ان کا کردار اور اخلاق تھا۔ نرم خوئی، تحمل، شایستگی، وسعتِ ظرف اور اختلاف کے باوجود تعلق کو قائم رکھنے کا سلیقہ ان کی شخصیت کا طرۂ امتیاز تھا۔ وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کے لیے ایک شفیق مربی تھے اور دوسرے دینی و سیاسی حلقوں میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کے مزاج میں نہ تلخی تھی، نہ خود نمائی اور نہ منصب کا غرور۔ گفت گو کرتے تو وقار جھلکتا، اختلاف کرتے تو شایستگی دامن گیر رہتی اور دوسروں سے ملتے تو وہ اپنائیت کا احساس ساتھ لے کر اٹھتے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی ان کے قریب آیا، وہ ان کے منصب سے زیادہ ان کے اخلاق کا معترف ہو کر لوٹا۔
تواضع اور انکسار ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف میں سے تھے۔ جب ایک موقع پر انھیں جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے یہ کہہ کے معذرت کر لی کہ وہ ابھی خود کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے۔ بعد ازاں اگرچہ انھوں نے نظم جماعت کے پیشِ نظر یہ ذمہ داری قبول کر لی مگر اس ایک واقعے سے ان کے مزاج کی پوری تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ ان کے نزدیک منصب اعزاز نہیں، امانت تھا اور عہدہ طلب کرنے کی چیز نہیں تھی بل کہ ایک بھاری ذمہ داری تھی۔ ایسے لوگ آج کم دکھائی دیتے ہیں جو منصب سے پہلے اپنی اہلیت کا محاسبہ کریں اور خدمت کو ترجیح دیں۔
امیرالعظیم غیر معمولی تنظیمی بصیرت کے حامل تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ افراد کی تربیت، کارکنوں کی رہ نمائی اور جماعت کی تنظیمی استواری کے لیے وقف کیے رکھا۔ وہ ذمہ داری نبھانے کے علاوہ ذمہ دار انسان تیار کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ اسی لیے جماعت اسلامی کی کئی نسلیں ان سے فیض یاب ہوئیں ، بے شمار کارکنوں نے ان کی صحبت میں تنظیمی شعور، دینی حمیت اور حسنِ کردار کا درس لیا۔ وہ کارکنوں کے لیے محض قائد نہ تھے بل کہ ایک شفیق مربی اور خیر خواہ بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ جماعت میں ان کا حترام کسی عہدے کا مرہونِ منت نہیں بل کہ برسوں کی رفاقت، اعتماد، اخلاص اور بے لوث خدمت کا ثمر تھا۔
زندگی کے آخری ایام میں وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے لیکن بیماری ان کے عزم و حوصلے کو متزلزل نہ کر سکی۔ جسم روز بہ روز کم زور ہوتا گیا مگر دعوت و تحریک سے ان کا تعلق، جماعت کے معاملات میں دل چسپی اور ذمہ داریوں کا احساس آخر دم تک برقرار رہا۔ وہ حتی المقدور اپنی تنظیمی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے اور بیماری کو کبھی اپنی راہ کا عذر نہ بننے دیا۔
امیرالعظیم کی ایک نمایاں خوبی ان کی وسعتِ ظرف اور اعتدال پسندی تھی۔ جماعتی وابستگی میں وہ جس قدر پختہ تھے، مزاج کے اعتبار سے اسی قدر کشادہ دل بھی تھے۔ اپنے موقف پر پورے شرحِ صدر کے ساتھ قائم رہتے مگر دوسرے دینی و فکری حلقوں کے ساتھ احترام، حسنِ تعلق اور مکالمے کی روایت کو ہمیشہ عزیز رکھتے۔ اختلاف کو وہ کش مکش کا عنوان بنانے کے بجاے باہمی تفہیم کا ذریعہ سمجھتے تھے اور دینی قوتوں کے درمیان تعاون اور اشتراک کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے تھے۔ اسی لیے مختلف مکاتبِ فکر کے علما، دینی و سیاسی شخصیات اور اہلِ قلم انھیں عزت و اعتماد کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اپنی اسی وسعتِ نظر اور خوش اخلاقی کی بہ دولت وہ جماعت اسلامی کے حدود سے نکل کر پورے دینی حلقے کی ایک محترم اور معتمد شخصیت بن گئے تھے ۔
امیرالعظیم کی رحلت ایسے مردِ درویش کی رخصت ہے جس نے اپنی پوری زندگی دعوت، تنظیم اور اقامتِ دین کی جدوجہد کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ تحریکوں کا اصل سرمایہ اخلاص، استقامت اور کردار کے وہ چراغ ہوتے ہیں جو خاموشی سے جلتے رہتے ہیں اور اپنے بعد بھی روشنی چھوڑ جاتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبول بخشے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے؛ آمین۔
محترم حاجی اسد اللّٰہ حیدر مرحوم کی وفات
رینالہ خورد کی معروف دینی، سماجی اور سیاسی شخصیت حاجی اسد اللّٰہ حیدر گزشتہ دنوں وفات پا گئے؛ إنا للّٰه وإنا إليه راجعون۔ مرحوم جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فاضل اور معروف صاحبِ علم ڈاکٹر جواد حیدر کے والدِ گرامی تھے۔
حاجی اسد اللّٰہ حیدر صاحب ایک دین دار، متحرک اور خدمتِ خلق کا گہرا جذبہ رکھنے والی شخصیت تھے۔ نماز کی پابندی، مسجد سے وابستگی اور دینی کاموں کی سرپرستی ان کی زندگی کے نمایاں اوصاف تھے۔ اپنے محلے کی مسجد کی تعمیر و ترقی میں انھوں نے ابتدا ہی سے بھرپور حصہ لیا اور آخر عمر تک اس کی نگرانی اور آبادی سے دل چسپی رکھتے رہے۔ اپنے صاحب زادے ڈاکٹر جواد حیدر کو دینی تعلیم کی طرف متوجہ کرنا اور اس راہ میں ان کی حوصلہ افزائی بھی ان کے دینی ذوق کا ایک ثمر تھا۔ ڈاکٹر جواد کے قائم کردہ تعلیمی ادارے ’’الکتاب اسکول سسٹم‘‘ کی نگرانی اور انتظامی امور میں بھی وہ آخر وقت تک سرگرم رہے۔
دینی وابستگی کے ساتھ حاجی صاحب نے سیاسی اور سماجی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ضرورت مندوں کی دست گیری، لوگوں کے دکھ درد میں شرکت اور اجتماعی معاملات میں فعال کردار ان کا خاص وصف تھا۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علما اور اہلِ علاقہ سے ان کے خوش گوار تعلقات تھے اور مسلکی وابستگی کے ساتھ ملی اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو ہمیشہ اہمیت دیتے تھے۔ ان کی وفات پر اہلِ علاقہ کے مختلف طبقات نے جس محبت اور کثرت سے ان کے جنازے میں شرکت کی، وہ ان کی مقبولیت اور سماجی خدمات کی ایک روشن گواہی تھی۔
ان کے آخری ایام بھی ذکرِ الٰہی اور تعلق باللّٰہ کی کیفیت میں گزرے۔ بیماری کے دوران قرآن مجید کا ذکر کرتے اور کلمۂ توحید لا إله إلا الله کثرت سے پڑھتے رہے۔ ان کے آخری کلمات میں یہ معنی خیز بات بھی تھی کہ ’’اصل تو إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہی ہے اور یہی ایک مومن کی زندگی کا اصل مشن ہے۔‘‘
ادارۂ محدث حاجی اسد اللّٰہ حیدر صاحب کی وفات پر ان کے اہلِ خانہ، بالخصوص عزیزِ گرامی ڈاکٹر جواد حیدر سے دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم کی دینی و سماجی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرے، انھیں اپنی وسیع رحمت کے سایے میں جگہ دے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ پس ماندگان کو صبرِ جمیل اور ان کے صالح نقوش پر چلنے کی توفیق بخشے؛ آمین۔