شرح كتاب التوحيد (صحيح بخاری قسط (14)
شرح كتاب التوحيد (صحيح بخاری قسط (14)
بَابُ مُقَلِّبِ القُلُوبِ
باب : اللہ تعالیٰ دلوں کا پھیرنے والا ہے
وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: ﴿وَ نُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ ﴾ [الأنعام: 110]
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے۔“
قلب کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنااور پھیرنا ہے ۔
علامہ عبدالحق ہاشمی فرماتے ہیں:
’’اس عنوان میں امام بخاریؒ نے اللہ تعالیٰ کے اسمِ مبارک ’’ مُقَلِّبُ القلوب‘‘ کی طرف اشارہ کیا ہے، ساتھ ہی ’’ تقلیب‘‘ کی صفت کے اثبات کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔ تقلیب کا اصل معنی کسی چیز کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدل دینا ہے۔ چنانچہ دلوں اور فہم و ادراک کو ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف منتقل کرنا ۔یہ اللہ تعالیٰ کی فعلی صفات میں سے ایک صفت ہے اور اس کا مرجع قدرت ہے۔ ممکن ہے امام بخاریؒ کا مقصد اس عنوان کے ذریعے ان لوگوں کا رد کرنا ہو جو یہ کہتے ہیں کہ دلوں کے افعال، جیسے ارادہ وغیرہ، اللہ تعالیٰ کی تخلیق نہیں بلکہ بندے کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں معتزلہ کے رد کی طرف اشارہ کرنا مقصودہو کہ انہوں نے باب میں مذکورہ آیت میں ’’نقلب ‘‘ کی تفسیر’’ طبع ‘‘ ( مہر لگانا) کی ہے ۔ اور ان کے ہاں ’’طبع ‘‘ کا معنی ترک کرنا ہے۔ اس اعتبار سے ان کے ہاں آیت کا معنی ہوگا ’’ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے اور ان کے نفسوں کے لیے کچھ بھی پسند نہیں کیا ‘‘۔ حالانکہ عربی زبان میں التقلیب کا یہ معنی نہیں ہے ۔لہٰذا ’’ طبع‘‘ (مہر لگانے ) کا معنی ترک کرنا درست نہیں ہے ۔ اہل سنت و الجماعت کے نزدیک طبع کا معنی ہے کافر کے دل میں کفر کو تخلیق کرنا اور اس کو اس پر جما دینا یہاں تک کہ وہ مر جائے [1] ۔‘‘
’’ تقلیبُ القلوب ‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفت خاص ہے اس میں کوئی دوسرا اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں :
نسبة تقلب القلوب الی الله اشعار بأنه یتولی قلوب عباده و لا یکلها الی أحد من خلقه.[2]
’’ دلوں کو پھیرنے کی نسبت اللہ کی طرف کرنا ، یہ دراصل علامت ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے دلوں کا مالک ہے ، مخلوق میں سے کسی کے سپرد نہیں کیا ۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی صفت؛ بندوں کے دلوں کوپھیرنے کے دو پہلو ہیں :
- کائنات میں کلی تصرف کا اختیار اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے ، حتی کہ انسانوں جیسی عقل و دانش اور اختیار رکھنے والی مخلوق کے دل بھی حقیقت میں اللہ ہی کےاختیار میں ہیں ۔ اس اعتبار سے یہ سابقہ باب کا تکملہ ہے ۔ یعنی دلوں کا اس کی مرضی سےپھرنا اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے میں داخل ہے ۔
- دوسرا پہلو بندوں کے اعتبار سے ہے کہ اگر بندوں کے دل اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں ،تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر بندوں کے اختیار کی کیا حیثیت ہے ؟۔
اس اعتبار سے اس باب کا تعلق تقدیر کے ساتھ ہے اور اس سے بندوں کے اختیار کی بحث پیدا ہوتی ہے ۔
اس دوسرے پہلو کے اعتبار سے کلامی فرقوں میں شدید اختلاف ہے ۔ مثلاً
فرقہ ’قدریہ‘کا موقف ہے کہ بندہ اپنےارادے اور قدرت میں خود مختار اور مستقل حیثیت رکھتا ہے ، اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ جبکہ ’جبریہ ‘ کہتے ہیں کہ بندہ اپنے افعال و اعمال میں مجبور محض ہے ،اسے کچھ اختیار حاصل نہیں ہے۔ جو کچھ کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے۔
پہلے موقف کی زد اللہ تعالیٰ کے اختیار پر پڑتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کی تخلیق کے بعد بالکل فارغ ہے ، اسے کائنات میں تصرفات یا تدبیر کا کچھ حق حاصل نہیں ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
﴿ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ﴾ [السجدة: 5]
’’وہی آسمان سے زمین تک کے انتظام کی تدبیر کرتا ہے ۔‘‘
﴿اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ﴾ [يونس: 3]
’’ تمہارا پروردگار یقیناً وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر قرار پکڑا ، وہی کائنات کا انتظام چلاتا ہے ۔ ‘‘
﴿وَ مَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ اللّٰهُ﴾ [يونس: 31]
’’ اور کون ہے جو کائنات کا نظام چلا رہا ہے؟ وہ فوراً بول اٹھیں گے کہ’ اللہ‘ ۔ ‘‘
اس موقف کو درست مان لینے کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ انسان بلکہ ہر ہر فرد خالق و مالک ہے ۔ اور یہ مؤقف توحید باری تعالیٰ کے صریح خلاف ہے۔
اور ’ جبریہ ‘ کا موقف اللہ تعالیٰ کی تدبیر فی الخلق کے خلاف ہے ۔جیساکہ ارشاد ربانی ہے:
﴿ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۲۹﴾ [التكوير: 29]
’’ اور تم چاہ نہیں سکتے مگر وہی کچھ جو اللہ رب العالمین چاہتا ہو۔‘‘
مزید فرمایا:
﴿وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ۰۰۹۶﴾ [الصافات: 96]
’’ حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور انہیں بھی جو تم کرتے ہو۔‘‘
اہل سنت کا موقف ہی اعتدال پر مبنی ہے ، کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ، لیکن اس نے انسان کو ارادہ و عمل انجام دینے کا اختیار دیا ہے۔انسان بغیر کسی جبر و اکراہ کے اپنی مرضی سے اعمال انجام دیتا ہے ۔ اس لیے قیامت کے دن اسی اختیار کی بنا پر اس سے باز پرس ہوگی ۔ یعنی افعال کے خلق کی نسبت اللہ کی طرف اور اسے انجام دینے کی نسبت انسان کی طرف ہوگی ۔ اس اعتبار سے انسانی اعمال کی نسبت کبھی اللہ کی طرف ہوتی ہے اور کبھی انسان کی طرف ۔
امام ابن حجرؒ فرماتے ہیں :
﴿ وَ نُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ ﴾[الأنعام: 110] کا معنی ہے لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کے مطابق پھیرنا [3]۔
دلوں کو پھیرنے کے ساتھ آنکھ کو پھیرنے کا تذکرہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ہدایت میں دل کے بعد سب سے اہم کردار آنکھ کاہوتا ہے ۔ جس چیز کو دل پسند کرتا ہے ، آنکھ اسی طرف پھرتی ہے اور آدمی اسی لائن پر چل پڑتا ہے ۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ڈرائیور جس طرف متوجہ ہوتا ہے خود بخوداس کے ہاتھ اسی طرف سٹیرنگ کو گھماتے ہیں ا ور اسی سمت گاڑی مڑتی چلی جاتی ہے ۔ زندگی کی گاڑی دل اور آنکھ کے تابع ہو کر چلتی ہے۔
7391 - حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ المُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَكْثَرُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ: «لاَ وَمُقَلِّبِ القُلُوبِ».
’’سعید بن سلیمان نے ہمیں بیان کیا، عبد اللہ ابن المبارک سے ، انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے سالم کےحوالے سے اور انہوں نے عبد اللہ بن مسعود ؓسے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ اس طرح قسم اٹھاتے تھے :” نہیں ، دلوں کو پھیرنے والے کی قسم ۔ “
لطائف الاسناد
اس حدیث کی سند میں تمام راوی آئمہ(ائمہ) حفاظ ہیں ، مثلاً سعید بن سلیمان ائمہ حفاظ میں سے ہیں ۔ابن مبارک سے مراد مشہور امام عبداللہ بن مبارک ہیں ، موسیٰ بن عقبہ معروف محدث اور امام مغازی ہیں۔ فن سیرت میں ان کا بہت بڑا کارنامہ ’’کتاب المغازی‘‘ کی تالیف ہے ، بلکہ آپ ہی نے فن سیرت کا علمی پیمانہ مقرر کیا جس پر متاخرین نے سیرت نگاری کی عمارت قائم کی۔[4]
شرح الحدیث
قسم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی اٹھائی جاسکتی ہے ، مخلوق کی قسم اٹھانا جائز نہیں ہے ، تو جب رسول اللہ ﷺ ’ مقلب القلوب ‘ کی قسم اٹھاتے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ مزید اس کی وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ» [5].
’’حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تمام بنو آدم کے دل ایک دل کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے اسے گھماتا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے۔‘‘
اس حدیث سے مذکورہ بالا آیت اور حدیث کا مقصد بھی واضح ہوگیا ۔دوسرا یہ معلوم ہوگیا کہ بندوں کے دل اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں ، وہ اپنے اصولوں کے مطابق جس کا دل جس طرف چاہتا ہے پھیر دیتا ہے ۔ تیسرا یہ پتا چلا کہہ مذکورہ آیات و احادیث کا مقصد کلامی بحوث نہیں ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ بندے کو اپنے دل کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہئے ۔ جیساکہ قرآن مجید میں بھی ہے :
﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا ﴾ [آل عمران: 8]
’’ اے ہمارے رب ! ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کج رو نہ بنادینا ۔‘‘
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں :
’’امام بخاری کی ذکر کردہ آیت اور حدیث سے معلوم ہوتا ہےکہ قلب کے تمام اعمال مثلاً ارادہ کرنا وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں[6]۔‘‘(یہ معتزلہ اور کرامیہ کا موقف ہے)
فوائد
- دلوں کو پھیرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ۔
- اللہ تعالیٰ جس طرح انسان کا خالق ہے ، اسی طرح انسانی افعال بھی اسی کے تخلیق کردہ ہیں ۔
- لیکن انسان اعمال کا ارادہ کرنے اور انہیں بجا لانے میں خود مختار ہے ۔
- انسانی اعمال کی نسبت اللہ کی طرف اس کی خلق کے اعتبار سے اور انسان کی طرف ارادہ و انجام دینے کے اعتبار سے کی جاسکتی ہے ۔
جب انسانوں کے دل اللہ کے ہاتھ میں ہیں ، تو انسان ہر لمحہ اللہ کی توفیق کا محتاج ہے ۔ لہذا انسان کو ہدایت اور عمل صالح کی توفیق کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہیے۔
[1] شرح کتاب التوحید از علامہ عبدالحق الہاشمی :52
[2] فتح الباری :14/322
[3] فتح الباری :14/322
[4] کتاب المغازی للواقدی ،تحقیق : مارسڈن جونس، موئسسۃ العلمی، بیروت ، لبنان
[5] صحيح مسلم :2654
[6] فتح الباری :11/642