عقائدی اختلافات کی الجھن اور اعتدال کا راستہ

عقائدی اختلافات کی الجھن اور اعتدال کا راستہ

شیخ عبدالحی یوسف [1]

ترجمانی: طاہر اسلام عسکری

عقائدی مباحث امت کے علمی تراث کا اہم حصہ ہیں لیکن جب یہ مباحث سنجیدہ علمی حلقوں کے بجاے سوشل میڈیا کی تند و تیز فضا میں زیرِ بحث آتے ہیں تو طلبہ، عام قارئین اور دین سے وابستہ مخلص افراد کے لیے الجھن، بدگمانی اور اضطراب کا سبب بن جاتے ہیں؛ خصوصاً اشاعرہ، اہلِ حدیث اور دیگر اہلِ قبلہ کے مابین پائے جانے والے بعض علمی اختلافات کو جس انداز سے پیش کیا جاتا ہے، اس سے ایمان کی حلاوت، قرآن سے تعلق اور طلبِ علم کا ذوق متاثر ہوتا ہے۔

زیرِ نظر فتویٰ اسی اہم اور نازک مسئلے پر ایک متوازن رہ نمائی پیش کرتا ہے۔ اس میں اختلافی مباحث کے آداب، ایمان کی حفاظت، عقیدہ سیکھنے کے صحیح منہج، دعا، تدبرِ قرآن، صحبتِ صالحین اور علمی اعتدال کی طرف نہایت حکیمانہ انداز میں توجہ دلائی گئی ہے۔ افادۂ عام کے پیش نظر اس کا اردو ترجمہ شایع کیا جا رہا ہے تاکہ قارئین عقائدی مباحث میں سنجیدگی، وقار، وسعتِ نظر اور دینی ترجیحات کا صحیح شعور حاصل کر سکیں۔ادارہ

سوال:  سوشل میڈیا اور احباب کی مجالس میں اشاعرہ اور سلفیہ، یعنی اہلِ حدیث، کے مابین عقائدی اختلافات اس قدر پھیل گئے ہیں کہ میں انتشارِ فکر میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ اس کا اثر میرے طلبِ علم اور تدبرِ قرآن پر بھی پڑ رہا ہے۔ میں ان اختلافات سے کس طرح نکلوں تا کہ میرا ایمان متاثر نہ ہو؟مزید یہ کہ  عقیدہ سیکھنے کا درست طریقہ کیا ہے؟ کن مرکزی باتوں پر توجہ دینی چاہیے اور کن جزوی مباحث میں پڑنے سے بچنا چاہیے؟

جواب:                                                           بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ، اما بعد:

میرے بھائی! میں آپ کو چند باتوں کی نصیحت کرتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ انھیں یاد رکھیں گے اور مضبوطی سے تھامے رہیں گے۔

اوّل: نبی کریم ﷺ کی اس دعا کا اہتمام کیجیے:

اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ؛ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ.

’’ اے اللّٰہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب و  حاضر کے جاننے والے، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے۔ اپنے اذن سے مجھے اس حق کی رہ نمائی فرما جس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ بے شک تو جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔‘‘

اسی طرح قرآن کی اس دعا کو بھی بہ کثرت پڑھتے رہیے:

﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌؒ۰۰۱۰﴾ [الحشر: 10]

’’ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رہنے دے۔ اے ہمارے رب! بے شک تو نہایت شفیق، نہایت مہربان ہے۔‘‘

دوم: یہ بات جان لیجیے کہ امتِ اسلامیہ عقیدے کے اصول میں متفق ہے۔ سب اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللّٰہ ایک ہے، وہ ہر کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے۔ سب مانتے ہیں کہ قرآن اللّٰہ کا کلام ہے، محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ حلال وہی ہے جسے اللّٰہ نے حلال کیا، حرام وہی ہے جسے اللّٰہ نے حرام کیا اور دین وہی ہے جسے اللّٰہ نے مشروع فرمایا۔

سوم: جن مسائل میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہوا ہے ان میں مجتہد دو حال سے خالی نہیں ہوتا:

یا وہ حق تک پہنچ گیا یا اس سے خطا ہو گئی۔ جو حق تک پہنچ گیا اس کے لیے دو اجر ہیں اور جس سے خطا ہوئی اس کے لیے ایک اجر ہے۔ اللّٰہ قیامت کے دن ان کے درمیان ان امور کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے۔ جس اختلاف کی گنجایش پہلے لوگوں کے ہاں موجود تھی، اسے بعد والوں کے درمیان عداوت اور بغض کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ بعد والوں کے لیے بھی وہی وسعت کافی ہے جو ان کے اسلاف کے لیے تھی۔

چہارم: وہ ربانی علما جنھیں اللّٰہ نے قبولِ عام عطا فرمایا، تکفیر، تضلیل اور تبدیع میں جرأت نہیں کرتے تھے بل کہ مخالف کے لیے عذر تلاش کرتے تھے۔ امام بیہقی نے امام ابو الحسن اشعری سے نقل کیا ہے کہ وفات کے وقت انھوں نے زاہر بن احمد سرخسی کو بلایا اور فرمایا:

’’مجھ پر گواہ رہنا کہ میں اہلِ قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا کیوں کہ سب ایک ہی معبود کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ سب دراصل تعبیرات کا اختلاف ہے۔‘‘

امام شمس الدین ذہبی ﷫ نے سیر اعلام النبلاء میں فرمایا:

’’میرا نظریہ بھی یہی ہے جو ہمارے شیخ ابن تیمیہ   کا تھا ؛ وہ بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا کرتے تھے کہ میں امت میں کسی کی تکفیر نہیں کرتا۔ وہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: وضو کی پابندی مؤمن ہی کرتا ہے۔ پس جو شخص وضو کے ساتھ نمازوں کی پابندی کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔‘‘

پنجم: مسلمانوں کے دشمن اس حقیقت کو خوب سمجھ چکے ہیں کہ امت فقہی اختلافات سے بہت حد تک آگے نکل آئی ہے۔ فقہی مذاہب کا تعصب اب پہلے زمانوں جیسا باقی نہیں رہا۔ اس لیے انھوں نے چاہا کہ امت کو عقائدی اختلافات میں الجھا دیا جائے۔ اس آگ کو بعض بکاؤ لوگ اور غفلت زدہ افراد بھڑکاتے رہتے ہیں
 تا کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے الجھتے رہیں اور دشمن اطمینان و عافیت سے رہیں۔

ششم: جو نجات چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے آپ کو ان کاموں میں مشغول رکھے جو ایمان کو بڑھاتے اور یقین کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ چیز اللّٰہ عزوجل کی کائناتی نشانیوں اور مخلوقات میں غور و فکر سے حاصل ہوتی ہے۔ اللّٰہ کی کتنی ہی روشن نشانیاں ہیں جن کی طرف اس نے خود متوجہ فرمایا اور جن میں تدبر کی دعوت دی ہے۔ قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھنا، اللّٰہ کا ذکر کثرت سے کرنا، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، فرائض کے بعد نوافل کی پابندی کرنا... یہ سب ایمان میں اضافے اور لغزش سے حفاظت کے اسباب ہیں۔

ہفتم: اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کے تقویٰ اور ہدایت میں اضافہ فرمائے۔ اوقاتِ قبولیت میں اللّٰہ کے حضور آہ و زاری کیجیے۔ آپ کی زبان نبی ﷺ کی ثابت شدہ دعاؤں سے تر رہے جیسے آپ ﷺ کی یہ دعا:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ.

’’اے اللّٰہ! میں تجھ سے رشد پر پختہ عزم، ہر نیکی کا حصہ اور ہر گناہ سے سلامتی مانگتا ہوں۔‘‘

اور آپ ﷺ کی دعا:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَلَةِ، وَخَيْرَ الدُّعَاءِ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي وَحَقِّقْ إِيمَانِي. 

’’اے اللّٰہ! میں تجھ سے بہترین سوال، بہترین دعا، بہترین عمل، بہترین کام یابی، بہترین ثواب، بہترین زندگی اور بہترین موت مانگتا ہوں۔ مجھے ثابت قدم رکھ، میرے ترازو کو بھاری فرما اور میرے ایمان کو سچا کر دے۔‘‘

اسی طرح یہ دعائیں :

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا صَادِقًا، وَيَقِينًا لَيْسَ بَعْدَهُ كُفْرٌ، وَرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.

’’اے اللّٰہ! میں تجھ سے سچا ایمان اور ایسا یقین مانگتا ہوں جس کے بعد کفر نہ ہو اور ایسی رحمت مانگتا ہوں جس کے ذریعے میں دنیا و آخرت میں تیری کرامت کے شرف کو پا سکوں۔‘‘

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي؛ حَتَّى أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِي، وَرَضِّني مِنَ الْمَعِيشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِي.

’’اے اللّٰہ! میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جو میرے دل میں اتر جائے یہاں تک کہ میں جان لوں کہ مجھے وہی پہنچے گا جو تو نے میرے لیے لکھ دیا ہے اور جو رزق تو نے میرے لیے تقسیم فرمایا ہے اس پر مجھے راضی فرما دے۔‘‘

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا مُطْمَئِنَّةً،تَرْضَى بِقَضَائِكَ، وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ، وَتُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ.

’’اے اللّٰہ! میں تجھ سے ایسی مطمئن جان مانگتا ہوں جو تیرے فیصلے پر راضی ہو، تیری عطا پر قناعت کرے اور تیری ملاقات پر ایمان رکھے۔‘‘

اور اس طرح کی دوسری دعاؤں کا اہتمام کیجیے۔

آخر میں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ سوشل میڈیا ایسے دقیق مسائل کی بحث کا میدان نہیں جن میں بڑے بڑے اربابِ عقل حیران رہے ہیں۔ ان مباحث کی اصل جگہ محدود علمی نشستیں اور اختصاصی حلقاتِ علم ہیں جہاں دلائل تفصیل سے کھولے جاتے ہیں، حجتیں پیش کی جاتیں اور شبہات کے جوابات دیے جاتے ہیں۔ اللّٰہ آپ کو برکت دے، یہ بھی جان لیجیے کہ کوششوں کا رخ ان متفق علیہ مقاصد کی طرف ہونا چاہیے جن میں کفر، الحاد، فسق اور نافرمانی کا مقابلہ، منافقین کی حقیقت کو بے نقاب کرنا، منکرینِ سنت اور سیکولرزم، گلوبلائزیشن اور اس زمانے کے دوسرے فتنوں کو فروغ دینے والوں کے فریب کا پردہ چاک کرنا شامل ہے۔

اللّٰہ ہی توفیق دینے والا ہے اور اسی سے مدد مانگی جاتی ہے۔

 

[1]               رئیس، الیکٹرانک دار الافتاء، مرکز أنصار النبی ﷺ للفتویٰ والإرشاد