کبار اشعری محدثین کی خدمات اور غالیانہ فتووں کا جائزہ
کبار اشعری محدثین کی خدمات اور غالیانہ فتووں کا جائزہ
شیخ علوی بن عبدالقادر السقاف[1]
ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام عسکری[2]
مسلم مکاتبِ فکر کے مابین اختلاف کوئی آج کا حادثہ نہیں؛ یہ صدیوں سے ہماری علمی تاریخ کا حصہ چلا آ رہا ہے۔ لیکن اہلِ سنت کی علمی روایت نے اختلاف کو کبھی عدل و انصاف سے بے نیاز نہیں ہونے دیا اور اس اصول کو ہمیشہ پیش نظر رکھا گیا کہ جہاں خطا ہو، وہاں نقد کیا جائے؛ جہاں حق ہو، وہاں اس کا اعتراف کیا جائے؛ اور کسی عالم کی ایک لغزش کو اس کی پوری علمی زندگی، دینی خدمات اور حسنات پر حاوی نہ کر دیا جائے۔ اشاعرہ اور سلفی مکتبِ فکر کے مابین اعتقادی اختلاف بھی معروف ہے لیکن افسوس کہ بعض جوشیلے حلقوں نے اس اختلاف کو اس حد تک پہنچا دیا کہ امام نووی اور حافظ ابن حجر جیسے ائمۂ حدیث بھی تبديع و تضلیل کے تیروں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ رویہ اہلِ سنت کے منہجِ اعتدال اور منصفانہ روش سے یک سر بیگانہ ہے۔ سعودی عرب کے معروف سلفی عالم شیخ علوی بن عبدالقادر السقاف نے زیرِ نظر مضمون اسی غلو کے رد میں لکھا ہے جو عربی میں عُلماءُ الأشاعِرةِ الشَّرْعيُّون بَينَ جِنايةِ الغُلاةِ وواجِبِ الإنصافِ کے عنوان سے شایع ہوا ہے۔ شیخ موصوف اشاعرہ و ماتریدیہ کے افکار پر خود ایک مفصل تنقیدی تصنیف کے مصنف ہیں، اس لیے ان کی یہ تحریر کسی اعتقادی مداہنت کا نتیجہ نہیں بل کہ اس اصول کی ترجمان ہے کہ اختلاف میں بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹنا نہیں چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی اہلِ سنت والجماعت کے جمہور ائمہ کی مجموعی روش رہی ہے۔ ہمارے برصغیر میں بھی بعض اوقات مسلکی اختلاف کے زیرِ اثر اکابر اہلِ علم کے بارے میں ایسی ہی سخت اور بے محابا زبان سنائی دیتی ہے۔ ادارۂ محدث نے اسی احساس کے پیش نظر اس وقیع مضمون کا اردو ترجمہ پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ مصنف مؤسسۃ الدرر السنیۃ کے نگرانِ اعلیٰ ہیں جس کے زیرِ اہتمام حدیث، عقیدہ، فقہ، فرق، اخلاق و سلوک اور دوسرے اسلامی علوم میں متعدد عظیم علمی موسوعات اور تحقیقی منصوبے جاری ہیں۔ امید ہے کہ یہ تحریر اختلاف کے ہنگام بھی حق گوئی کے ساتھ انصاف اور نقد کے ساتھ قدر شناسی کی اس روایت کو تازہ کرنے میں مدد دے گی جو ہمارے اسلاف کا امتیاز رہی ہے۔ (ادارہ) |
انصاف عدل ہی کی ایک شاخ ہے جس کا حکم اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ نے دیا ہے۔ یہ ایک عظیم اخلاقی قدر اور جانچ پرکھ کا نہایت باریک پیمانہ ہے جس سے علما کے مراتب پہچانے جاتے ہیں، امت کی وحدت قائم رہتی ہے اور پیش رو اہلِ علم کی کاوشیں تحقیر اور انکار سے محفوظ رہتی ہیں۔
عدل و انصاف کا حق اسی وقت ادا ہوتا ہے کہ ہم شخصیات کو خواہشِ نفس کے ترازو پر نہیں، شریعت کی میزان پر پرکھیں۔ ان کی جو بات حق کے مطابق ہو، اس کی تحسین کریں اور جہاں انھوں نے خطا کی ہو، اسے واضح کریں؛ ساتھ ہی ان کے علمی مقام و مرتبے کا بھی لحاظ رکھیں۔ کسی باطل بات کی موجودگی سے حق اپنی وقعت نہیں کھو دیتا اور نہ ہی کسی کا باطل قول اس بنا پر قبول کیا جا سکتا ہے کہ اس کے پاس حق بھی موجود ہے۔
گذشتہ چند برسوں میں علمی فضا ایک خطرناک آفت کی لپیٹ میں آ گئی ہے؛ اور وہ ہے لوگوں کو بدعتی، گم راہ اور کافر قرار دینے میں حد سے گزر جانا۔ اس خرابی کا ایک نمایاں مظہر اشاعرہ اور علماے اشاعرہ کے بارے میں اختیار کیا جانے والا رویہ ہے۔ ایک گروہ ایسا سامنے آیا جس نے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے اشاعرہ کی بلا استثنا تکفیر کر ڈالی بل کہ یہاں تک جسارت کی کہ انھیں مشخص طور سے کافر ٹھیرایا اور ان علما کو گم راہ قرار دیا جن کی خدمتِ اسلام میں بیش بہا علمی کاوشیں مسلّم ہیں ، جیسے امام نووی اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہما اللّٰہ اور دیگر جلیل القدر ائمۂ امت جن کی مختلف علوم سے متعلق تصنیفات دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔
اگر ان دونوں اماموں، نووی اور ابن حجر، کا یہی ایک کارنامہ ہوتا کہ انھوں نے کتابِ اللّٰہ کے بعد دو صحیح ترین کتابوں، صحیح بخاری اور صحیح مسلم، کی بہترین شرحیں لکھیں تو ان کی جلالتِ شان، بلند علمی مرتبے اور امت میں ان کے اثر و نفوذ کو واضح کرنے کے لیے یہی ایک بات کافی تھی۔ پھر ان کی عظمت کا اندازہ کیجیے کہ علم کی فراوانی، حسنِ تصنیف، وسعتِ فہم اور وہ دائمی نفع بھی ان کے حصے میں آیا جس سے امت آج تک فیض یاب ہو رہی ہے۔
یہ دونوں ائمہ سنت و آثار کی تعظیم، ان کے دفاع، سلف سے محبت اور بدعت اور اہلِ بدعت کی مذمت کے لیے معروف تھے۔ البتہ ان کی علمی نشوونما ایک اشعری ماحول میں ہوئی، چناں چہ ان سے بعض اعتقادی لغزشیں سرزد ہوئیں۔ لیکن وہ فلسفے اور علمِ کلام کی گہرائیوں میں نہیں اترے تھے، اس لیے لازم ہے کہ انھیں معذور سمجھا جائے۔اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے مقامات پر انھوں نے اشاعرہ سے اختلاف کیا؛ تاہم اس باب میں دونوں کا موقف ایک درجے کا نہ تھا؛ حافظ ابن حجر نے اشعری آرا سے امام نووی کی بہ نسبت زیادہ اختلاف کیا ہے۔
بہ ہر حال، علما کے اقوال سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ یہ دونوں ان جلیل القدر علماے اسلام میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے سنتِ نبوی کی گراں قدر خدمت کی اور اس کا دفاع کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی تصانیف کو مسلمانوں کے تمام طبقوں میں قبولِ عام اور وسیع اشاعت عطا فرمائی۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عقیدے کے ابواب میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں، ان سے خبردار کیا جائے لیکن اسی کے ساتھ تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ اور دیگر علوم میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے ان کی عظیم خدمات کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس گروہ میں پیدا ہونے والا یہ غلو فہم کی خرابی اور منہج کے اضطراب ہی کا نتیجہ ہے۔ اس کے بنیادی اسباب کو چار بڑی لغزشوں میں سمیٹا جا سکتا ہے اور اس مضمون میں انھی کو زیرِ بحث لایا جائے گا:
- تکفیر مطلق اور تکفیر معین میں فرق نہ کرنا۔
- اشاعرہ اور جہمیہ کو ایک ہی درجے میں رکھنا۔
- تاویل اور انکار کے فرق و امتیاز کو نظر انداز کرنا اور ہر تاویل کرنے والے کو منکر، معطل اور جاحد کےدرجے میں رکھ دینا۔
- اپنی راے پر بے جا اعتماد اور اکابر علماے اہلِ سنت کے علمی مقام اور قدر و منزلت کا لحاظ کیے بغیر ان کی مخالفت کی جسارت۔
یہیں سے اس باب میں انصاف کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے اور اس نہایت باریک توازن کی ضرورت سامنے آتی ہے جس میں ایک طرف صحیح عقیدے کا دفاع ہو اور دوسری علماے امت کے علمی مقام اور ان کی خدمات کا تحفظ بھی۔
ان بنیادی فکری و منہجی غلطیوں کی تفصیل شروع کرنے سے پہلے اشاعرہ اور مذہبِ اشعری سے متعلق چند حقائق پیشِ نظر رہنے چاہییں:
- مذہبِ اشعری اسلامی مذاہب میں شامل ہے جس نے عقیدے کے متعدد مسائل میں سلفی منہج، یعنی اہلِ سنت والجماعت کے طریقے، سے اختلاف کیا ہے[3]۔
- متقدمین اشاعرہ ان متاخرین سے بہتر تھے جو یونانی فلسفے اور متکلمین کی گم راہ کن موشگافیوں سے
متاثر ہوئے۔ - ملحدین، معتزلہ اور جہمیہ کے بالمقابل اسلام کے دفاع میں اشاعرہ اور ان کے علما نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اسی بنا پر بہت سے علماے اسلام نے ان کی تحسین کی ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
- مذہبِ اشعری کے ابتدائی دور میں، جب وہ اہلِ حدیث و سنت کے منہج سے بہت کچھ مختلف تھا، دونوں گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جو بعض اوقات کچھ افراد کی طرف سے باہمی تکفیر تک جا پہنچی۔ لیکن چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کے بعد اہلِ سنت میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا عالم ملتا ہے جو اشاعرہ اور ان کے علما کی تکفیر کرتا ہو۔ یہاں تک کہ عصرِ حاضر میں ایک مختصر گروہ ایسا سامنے آیا جس نے کسی منصفانہ تفریق اور اشاعرہ و جہمیہ کے بنیادی اختلافات کا لحاظ کیے بغیر اشاعرہ کو خالص جہمیہ کے برابر قرار دے دیا۔
غالیوں کی بنیادی غلطیاں اور ان کا محاسبہ
میں نے اس فکری بگاڑ پر غور کیا جسے معاصر غالیوں نے اپنے منہج کی بنیاد بنایا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ چار ایسی پے در پے غلطیوں پر قائم ہے جن میں سے ہر اگلی غلطی پہلی پر استوار ہے۔
ان میں پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ سلف کے ایسے اقوال سے استدلال کرتے ہیں جن میں کہا گیا ہے: ’’جس نے فلاں بات کہی، وہ کافر ہے‘‘، یا ’’جس نے قرآن کو مخلوق قرار دیا یا اللّٰہ تعالیٰ کے علو کا انکار کیا، وہ جہمی ہے۔“
پھر وہ دوسرے مرحلے کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس میں وہ سلف سے منقول ان اقوال کو دلیل بناتے ہیں جن میں جہمیہ کی تکفیر کی گئی ہے اور ان کے ساتھ بعض اہلِ علم کی وہ عبارات بھی پیش کرتے ہیں جن میں اشاعرہ کو جہمیہ کہا گیا ہے، یا یہ کہ علوِ الٰہی کے اثبات کے بارے میں ان کا موقف جہمیہ کے موقف سے بھی زیادہ خبیث ہے۔ اس طرح وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اشاعرہ جہمیہ ہیں، جہمیہ کافر ہیں، لہٰذا اشاعرہ بھی کافر ہیں!
اسی طرح وہ ان بعض علما کی آرا سے استدلال کرتے ہیں جنھوں نے اشاعرہ کو کافر قرار دیا ہے لیکن ان سے کئی گنا زیادہ ان علما کو نظر انداز کر دیتے ہیں جنھوں نے اشاعرہ کی تکفیر نہیں کی بل کہ ان کے لیے رحمت کی دعا کی اور ان کے علوم و خدمات کو سراہا، جیسا کہ آگے بیان ہو گا۔
جب ان کے نزدیک اشاعرہ کی تکفیر طے ہو گئی تو یہی بات انھیں آخری مرحلے تک لے گئی، یعنی اشاعرہ کے علما کی تکفیر، خواہ دین میں ان کا مقام کتنا ہی بلند ہو۔ چناں چہ امام نووی اور حافظ ابن حجر جیسے جلیل القدر ائمہ کو بھی کافر قرار دیا گیا، کجا ان سے کم درجے کے علما، مثلاً ابن الصلاح، عز بن عبدالسلام اور ابن دقیق العید۔
یوں انھوں نے اصولِ عقائد کے ایک نہایت پیچیدہ مسئلے کو بڑی آسانی سے ابتدائی درجے کی ایک ریاضیاتی مساوات میں سمیٹ دیا
ب + 2 = 3، لہٰذا ب = 1۔
لیکن عقیدے کے مسائل ایسی سادہ لوحی سے حل نہیں ہوتے! لا هَكَذا يا سَعدُ تورَدُ الإبِلُ!
(اور نہ، اے سعد، اونٹ یوں گھاٹ پر لائے جاتے ہیں!)
اب وہ مقام آ گیا ہے کہ ان چار بنیادی غلطیوں کی تفصیل بیان کی جائے جن پر انھوں نے اپنے منہج کی
بنیاد رکھی ہے۔
پہلی بنیادی غلطی: تکفیر مطلق اور تکفیر معین میں عدم تفریق
اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک اقوال، افعال اور اعتقادات پر مجمل طور سے تکفیرِ مطلق کا حکم لگایا جاتا ہے؛ مثلاً کہا جاتا ہے کہ جو شخص دین کی کسی ایسی بات کو حلال ٹھیرا لے جس کی حرمت ضروریاتِ دین میں سے ہے، وہ کافر ہے؛ جو قرآن کو مخلوق کہے، وہ کافر ہے؛ اور جو اللّٰہ تعالیٰ کے علو کا انکار کرے، وہ کافر ہے۔
لیکن یہی حکم کسی متعین شخص پر اسی وقت لگایا جا سکتا ہے جب تمام شرائط پوری ہو جائیں اور حکم کے راستے میں حائل تمام موانع دور ہو جائیں کیوں کہ ہر وہ شخص جو کسی کافرانہ قول یا فعل میں مبتلا ہو جائے، لازماً کافر قرار نہیں پاتا، تا آں کہ اس پر حجت قائم ہو جائے اور اس کا شبہہ دور کر دیا جائے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’ایک قول اپنی نوعیت کے اعتبار سے کفر ہو سکتا ہے، چناں چہ مطلق طور پر اس کے قائل کی تکفیر کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ جس نے ایسی بات کہی، وہ کافر ہے۔ لیکن کسی متعین شخص نے اگر وہ بات کہی ہو تو اس وقت تک اس کے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا، جب تک اس پر وہ حجت قائم نہ ہو جائے جسے قبول نہ کرنے والا کافر قرار پاتا ہے[4]۔‘‘
دوسری جگہ پر لکھتے ہیں:
’’کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو کافر قرار دے، خواہ اس سے کوئی خطا یا غلطی سرزد ہوئی ہو، جب تک اس پر حجت قائم نہ کر دی جائے اور اس کے سامنے راہِ حق واضح نہ کر دی جائے۔ جس شخص کا اسلام یقین کے ساتھ ثابت ہو، محض شک کی بنا پر اس سے اسلام کا حکم زائل نہیں ہو سکتا بل کہ یہ حکم اسی وقت زائل ہوگا جب اس پر حجت قائم ہو جائے اور اس کا شبہہ زائل کر دیا جائے[5]۔‘‘
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
’’میں انھیں یہ بات سمجھاتا تھا کہ سلف اور ائمہ سے جو یہ مطلق اقوال منقول ہیں کہ فلاں اور فلاں بات کہنے والا کافر ہے، وہ بھی برحق ہیں؛ لیکن مطلق حکم اور کسی متعین شخص پر اس کے انطباق کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ اصولِ دین کے بڑے مسائل میں یہ پہلا مسئلہ تھا جس میں امت کے اندر اختلاف پیدا ہوا اور وہ مسئلۂ وعید ہے[6]۔‘‘
مزید لکھتے ہیں:
’’ بعض اقوال ایسے ہوتے ہیں جن کا قائل کافر ہو جاتا ہے لیکن ممکن ہے کسی شخص تک وہ نصوص پہنچی ہی نہ ہوں جن سے حق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نصوص اس کے علم میں ہوں مگر اس کے نزدیک ثابت نہ ہوئی ہوں، یا وہ انھیں سمجھ نہ سکا ہو۔ کبھی اسے ایسے شبہات بھی لاحق ہو جاتے ہیں جن کی بنا پر اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں وہ معذور قرار پاتا ہے۔ اس لیے اہلِ ایمان میں سے جو شخص حق کی جستجو میں اجتہاد کرے اور اس سے خطا ہو جائے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی خطا معاف فرما دیتا ہے، خواہ اس کا تعلق علمی و نظری مسائل سے ہو یا عملی مسائل سے۔ یہی طریقہ اصحابِ رسول ﷺ اور جمہور ائمۂ اسلام کا رہا ہے[7]۔‘‘
موجودہ دور کے ان جیسے غالیوں کے بارے میں رقم طراز ہیں:
’’جب بھی انھیں یہ قول ملتا ہے کہ ‘جس نے فلاں بات کہی، وہ کافر ہے’ تو سننے والا یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ حکم ہر اس شخص کو شامل ہے جو ایسی بات کہے۔ وہ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ تکفیر کے لیے کچھ شرائط اور موانع ہوتے ہیں اور ممکن ہے کسی متعین شخص کے حق میں وہ شرائط پوری نہ ہوں یا موانع موجود ہوں۔ تکفیرِ مطلق سے تکفیرِ معین لازم نہیں آتی، الاّ یہ کہ تمام شرائط پائی جائیں اور تمام موانع دور ہو جائیں[8]۔‘‘
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’کسی معین شخص کی تکفیر ایک معروف مسئلہ ہے۔ کوئی شخص ایسا قول کہے جو کفر ہو تو عمومی طور پر کہا جائے گا کہ جس نے یہ قول اختیار کیا، وہ کافر ہے۔ لیکن جب کوئی متعین شخص وہی بات کہے تو اس وقت تک اس کے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا جب تک اس پر وہ حجت قائم نہ ہو جائے جسے رد کرنے والا کافر قرار پاتا ہے[9]۔‘‘
اس سے لوگوں میں پائے جانے والے دو گروہوں کی غلطی واضح ہو جاتی ہے:
ایک گروہ نے تکفیر میں غلو کیا اور شرائط و موانع کا لحاظ کیے بغیر مطلق طور پر لوگوں کو کافر قرار دے دیا۔
دوسرے گروہ نے کسی معین شخص کی تکفیر سے مطلقاً گریز کیا اور یوں ارتداد کے حکم کا دروازہ ہی بند کر دیا۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اہلِ سنت کو ان دونوں انتہاؤں کے درمیان معتدل موقف اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
دوسری بنیادی غلطی: اشاعرہ کا جہمیہ سے الحاق
بعض ناواقف لوگ، یا وہ جن پر معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے، یہ سمجھتے ہیں کہ سلف نے جہمیہ کی تکفیر محض اس بنا پر کی تھی کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے علو کو ثابت نہیں کرتے تھے۔ چناں چہ وہ ہر اس شخص کو کافر قرار دے دیتے ہیں جو اللّٰہ سبحانہٗ کے علو کا اثبات نہ کرے اور اسے جہمیہ میں شمار کرنے لگتے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ جہمیہ کی تکفیر اس لیے کی گئی کہ وہ صفاتِ الٰہی کا اثبات نہیں کرتے تھے جب کہ بعض دوسرے لوگ اس تکفیر کو صرف قرآن کے مخلوق ہونے کے قول تک محدود سمجھتے ہیں۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی خالص جہمیہ جن کی سلف نے تکفیر کی، ان کے عقیدے کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ وجود میں کوئی ایسا خالق باقی نہیں رہتا جو برحق معبود ہو۔ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے تمام اسماء و صفات کا انکار کرتے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی ثابت نہ مانتے تھے۔ ان کے نزدیک نہ وہ خالق ہے نہ خلّاق، نہ راحم ہے نہ رحیم، نہ عالم ہے نہ علیم۔ وہ قرآن کو مخلوق کہتے، روزِ قیامت اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے اور خالص جبریہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کا اپنا کوئی ارادہ نہیں، وہ ہوا کے رخ پر اڑتے ہوئے پر کے مانند ہے۔
اس کے بعد یہ لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اشاعرہ جہمیہ ہیں کیوں کہ وہ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آسمان پر ہے! یہ درست ہے کہ جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کے علو اور اس کے آسمان پر ہونے کا انکار کرے، اس میں جہمیہ کی ایک خصلت پائی جاتی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اپنی کتابوں میں متعدد مقامات پر اسی مفہوم کو یوں بیان کیا ہے:’’اس میں جہمیہ اور معتزلہ کا ایک شائبہ پایا جاتا ہے[10]۔‘‘
کبھی وہ فرماتے ہیں: ’’اس میں تجہم کی ایک نوع پائی جاتی ہے[11]۔‘‘
لیکن اشاعرہ اللّٰہ عزوجل کے اسماء کا اثبات کرتے ہیں اور اس موضوع پر ان کی مستقل تصانیف بھی موجود ہیں۔ وہ بعض صفات کو ثابت مانتے ہیں اور بیش تر کی تاویل کرتے ہیں؛ ان کا انکار نہیں کرتے جیسا کہ جہمیہ کرتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ نے صفاتِ الہٰی کے باب میں لوگوں کے مختلف اقوال بیان کرتے ہوئے انھیں تین درجوں میں تقسیم کیا ہے: پہلے درجے میں باطنی قرامطہ، دوسرے درجے میں خالص جہمیہ اور تیسرے درجے میں اشاعرہ۔ پھر اشاعرہ کے بارے میں فرمایا: “صفات کے باب میں وہ خالص جہمیہ نہیں ہیں، البتہ ان میں تجہم کی ایک نوع پائی جاتی ہے[12]۔“
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’ان کے اقوال میں جہمیہ کے بعض اصول پائے جاتے ہیں[13]۔“
اس کے باوجود سلف ہر اس شخص کو کافر قرار نہیں دیتے تھے جو جہم کا کوئی قول اختیار کر لیتا، نہ جہمیہ کے ہر معین فرد کی تکفیر کرتے تھے۔ پھر اس شخص کو کیسے کافر کہا جا سکتا ہے جو اشاعرہ کا قول اختیار کرے، کجا وہ شخص جو ان کی بعض آرا سے اتفاق اور بعض سے اختلاف رکھتا ہو جیسے امام نووی اور حافظ ابن حجر رحمہما اللّٰہ!
جہمیہ کے معین افراد کے بارے میں امام احمد کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’امام احمد نے جہمیہ کے معین افراد کی تکفیر نہیں کی، نہ ہر اس شخص کو کافر قرار دیا جو اپنے آپ کو جہمی کہتا تھا اور نہ ہر اس شخص کی تکفیر کی جو جہمیہ کی بعض بدعات میں ان سے متفق تھا بل کہ انھوں نے ان جہمی حکم رانوں کے پیچھے نماز بھی پڑھی جنھوں نے اپنے عقیدے کی دعوت دی، لوگوں کو اس کی آزمایش میں ڈالا اور ان لوگوں کو سخت سزائیں دیں جو ان سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ امام احمد اور ان جیسے دوسرے ائمہ نے ان کی تکفیر نہیں کی بل کہ انھیں مسلمان اور برحق حاکم سمجھا اور ان کے لیے دعا کی۔ وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے، ان کے ساتھ حج اور جہاد کرنے اور ان کے خلاف خروج سے باز رہنے کے قائل تھے جیسا کہ دوسرے حکم رانوں کے بارے میں بھی ان کا یہی موقف تھا۔ اس کے ساتھ وہ ان کے ایجاد کردہ اس باطل قول کا انکار بھی کرتے تھے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے بہت بڑا کفر تھا، اگرچہ انھیں خود اس کے کفر ہونے کا علم نہ تھا۔ امام احمد اس قول کی تردید کرتے اور اپنی استطاعت کے مطابق اسے رد کرنے کے لیے ان کے مقابلے میں جدوجہد کرتے رہے۔ یوں انھوں نے سنت و دین کو نمایاں کرنے اور ملحد جہمیہ کی بدعات کا انکار کرنے میں اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو بھی قائم رکھا اور ائمۂ امت اور عام اہلِ ایمان کے حقوق کی رعایت بھی ملحوظ رکھی، اگرچہ وہ جاہل و بدعتی اور ظالم و فاسق ہی کیوں نہ ہوں[14]۔‘‘
اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ بعض غالیوں کا یہ دعویٰ سراسر فریب اور حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے کہ امام احمد رحمہ اللّٰہ نے ان حکم رانوں کے خلاف خروج اس لیے نہیں کیا تھا کہ وہ اس کی قدرت نہ رکھتے تھے، نہ اس لیے کہ وہ انھیں کافر نہیں سمجھتے تھے۔ دراصل یہ امت کو مغالطے میں ڈالنے اور اپنے باطل منہج کے لیے جواز پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
اس بات کی ایک اور دلیل کہ امام احمد رحمہ اللّٰہ ہر جہمی کو کافر نہیں سمجھتے تھے، یہ ہے کہ وہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھنے کو جائز قرار دیتے تھے۔ ان کا قول ہے:
’’میں جہمیہ اور رافضہ کے جنازوں میں شریک نہیں ہوتا، البتہ جو چاہے شریک ہو[15]۔‘‘
وہ خود ان کی نمازِ جنازہ سے اس لیے گریز اں تھے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کی نمازِ جنازہ سے گریز فرمایا تھا جو قرض چھوڑ کر مرا ہو؛ اگر امام احمد ہر جہمی کو کافر سمجھتے تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے کی اجازت کبھی نہ دیتے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
’’امام احمد اور ان جیسے دیگر ائمہ نے جن سے تکفیر کے یہ عمومی اقوال منقول ہیں، ان لوگوں کی اکثریت کو معین طور پر کافر قرار نہیں دیا جنھوں نے بعینہٖ یہ باتیں کہی تھیں... پھر امام احمد نے خلیفہ اور ان دوسرے لوگوں کے لیے دعا کی جنھوں نے انھیں مارا اور قید کیا تھا، ان کے لیے مغفرت طلب کی اور اپنے اوپر ڈھائے گئے مظالم اور اس قول کی دعوت دینے کے معاملے میں انھیں معاف کر دیا جو بجاے خود کفر تھا۔ اگر وہ اسلام سے مرتد ہو چکے ہوتے تو ان کے لیے استغفار جائز نہ ہوتا کیوں کہ کتاب و سنت اور اجماع کی رُو سے کفار کے لیے استغفار جائز نہیں۔ امام احمد اور دوسرے ائمہ کے یہ اقوال و اعمال اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ انھوں نے جہمیہ کے ان معین افراد کو کافر قرار نہیں دیا تھا جو قرآن کو مخلوق کہتے اور آخرت میں اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے تھے[16]۔ ‘‘
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
’’امام احمد نے ان کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعا اس لیے کی کہ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں پر یہ بات واضح نہیں ہوئی تھی کہ وہ رسولؑ کی تکذیب کر رہے ہیں یا آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کا انکار کر رہے ہیں بل کہ انھوں نے تاویل کی، اس میں خطا کی اور ان لوگوں کی تقلید کی جنھوں نے انھیں یہ بات سمجھائی تھی[17]۔‘‘
اگر امام احمد ان میں سے ہر شخص کو معین طور پر کافر سمجھتے تو ان کے لیے رحمت کی دعا نہ کرتے۔
جب علمِ کلام میں مشغول شخص تاویل کرتے ہوئے خطا کا مرتکب ہو تو اسے کافر قرار نہیں دیا جاتا، پھر اس شخص کو کیسے کافر کہا جا سکتا ہے جس نے فلسفے کی موشگافیوں میں پڑے اور علمِ کلام سے شغف رکھے بغیر محض اس کی تقلید کی ہو؟ امام نووی اور حافظ ابن حجر دراصل شریعت کے اکابر علما میں سے تھے؛ وہ علمِ کلام کے ماہرین اور متخصصین میں شمار نہیں ہوتے تھے۔ ان کی تحریروں میں بعض تاویلات محض اس لیے دَر آئیں کہ وہ اپنے عہد کے متکلمین میں رائج افکار سے متاثر تھے، ورنہ علمِ کلام نہ ان کا اصل میدان تھا اور نہ ان کے اختصاصات میں شامل؛ اللّٰہ تعالیٰ ان دونوں پر رحمت فرمائے۔
اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنے زمانے کے ان جہمیوں کو بھی کافر قرار نہیں دیا جنھوں نے ان سے مناظرے کیے تھے، اگرچہ انھوں نے واضح کر دیا تھا کہ ان کا قول کفر ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’جب حلولیہ جہمیہ اور ان منکرین کی آزمایش کا مرحلہ پیش آیا جو اللّٰہ تعالیٰ کے عرش کے اوپر ہونے کا انکار کرتے تھے تو میں ان سے کہا کرتا تھا: اگر میں تمھاری بات مان لوں تو کافر ہو جاؤں گا؛ اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ تمھارا قول کفر ہے لیکن میرے نزدیک تم کافر نہیں ہو کیوں کہ تم جاہل ہو۔ یہ بات میں ان کے علما، قاضیوں، شیوخ اور امرا سے کہتا تھا۔ ان کی جہالت کی اصل وہ عقلی شبہات تھے جو ان کے بڑوں کے ذہنوں میں پیدا ہو گئے تھے جب کہ صحیح منقول اور اس کے موافق صریح معقول سے ان کی واقفیت ناقص تھی[18]۔‘‘
اس بات کی ایک اور دلیل کہ سلف جب یہ کہتے تھے کہ “جس نے فلاں بات کہی، وہ جہمی ہے” تو ان کی مراد خالص جہمیہ نہ ہوتی تھی، امام احمد کا یہ قول ہے کہ جو شخص حدیث: “اللّٰہ نے آدم کو اس کی صورت پر پیدا کیا” میں صورت کی ضمیر کو آدم کی طرف لوٹاتا ہے، اللّٰہ عزوجل کی طرف نہیں، وہ جہمی ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
’’خلال نے ابوطالب سے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابوعبداللّٰہ، یعنی احمد بن حنبل کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص یہ کہے کہ اللّٰہ نے آدم کو آدم ہی کی صورت پر پیدا کیا،
وہ جہمی ہے[19]۔‘‘
حالاں کہ امام ابوبکر محمد بن اسحاق ابن خزیمہ جو اپنے زمانے میں اہلِ سنت کے امام تھے، اس بات کو نہایت ناپسند کرتے تھے کہ اس حدیث میں صورت کی نسبت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف کی جائے۔ وہ فرماتے ہیں:
’’عطا کی روایت میں وارد اس لفظ کے باعث بہت سے ایسے لوگ فتنے میں پڑ گئے جنھوں نے تحقیقِ علم سے کام نہیں لیا۔ انھوں نے یہ گمان کر لیا کہ اس روایت میں صورت کی نسبت رحمٰن کی طرف کرنا صفاتِ ذات کی نسبت کے قبیل سے ہے۔ اس معاملے میں وہ ایک کھلی غلطی کے مرتکب ہوئے اور انھوں نے ایک ایسی قبیح بات کہی جو مشبہہ کے قول سے مشابہ تھی۔ اللّٰہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ان کے قول سے محفوظ رکھے[20]۔‘‘
اس کے باوجود علماے امت میں سے کسی کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ اس نے امام ابن خزیمہ کو جہمیہ میں شمار کیا ہو۔
عقائد اور فرق و مذاہب کے علم سے دل چسپی اور واقفیت رکھنے والا ہر منصف شخص جانتا ہے کہ اشاعرہ ان گروہوں میں نمایاں ہیں جنھوں نے جہمیہ اور معتزلہ کی سب سے زیادہ تردید کی اور اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھیں۔ یہ درست ہے کہ مذموم علمِ کلام میں مشغول ہونے کے باعث وہ ان کے بعض اقوال سے متاثر بھی ہوئے لیکن آخر انھیں ایسے لوگوں سے کیسے منسوب کیا جا سکتا ہے جن پر وہ خود تنقید کرتے، جن کی مذمت کرتے اور جن سے خبردار کرتے رہے ہیں؟ بل کہ اشاعرہ جہمیہ کو گم راہ اور بدعتی قرار دیتے، انھیں اہلِ اہوا و بدعات میں شمار کرتے اور رافضہ، خوارج اور معتزلہ کے ساتھ ان کا ذکر کرتے ہیں۔
عبدالقاہر بغدادی لکھتے ہیں:
’’اہلِ اہوا میں رافضہ، قدریہ، خوارج، جہمیہ اور نجاریہ شامل ہیں[21]۔‘‘
ابن فورک کہتے ہیں:
’’بدعتی اور فاسد خواہشات کے پیروکار وہ لوگ ہیں جو کتاب و سنت کی راہوں سے منحرف ہیں، جیسے جہمیہ، معتزلہ، خوارج اور رافضہ[22]۔‘‘
ابن عساکر رقم طراز ہیں:
’’…اہلِ اہوا ظاہر ہوئے اور خوارج، جہمیہ، معتزلہ اور قدریہ جیسے اہلِ بدعت کی کثرت ہوگئی[23]۔‘‘
ابن العربی نے لکھا ہے:
’’تمام اہلِ بدعت، جہمیہ، معتزلہ اور خوارج[24]۔‘‘
پھر اشاعرہ کو ان خالص جہمیہ کے برابر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے جن کی سلف نے مجمل طور پر تکفیر کی تھی؟
تیسری بنیادی غلطی: علماے اشاعرہ کی معین تکفیر
ان لوگوں نے پہلے جہمیہ کی تکفیر کی، پھر اشاعرہ کو بھی انھی کے زمرے میں شامل کر دیا اور اس کے بعد اشاعرہ کے متعین افراد کی تکفیر تک جا پہنچے؛ کبھی صاف لفظوں میں انھیں کافر کہا اور کبھی اشارے کنایے میں؛ انھوں نے اشاعرہ کی تاویل اور خالص جہمیہ کے انکار و جحود میں کوئی فرق نہ کیا۔ یہ علم میں پختگی رکھنے والوں کا طریقہ نہیں؛ وہ تاویل کرنے والوں کو خطا پر تو قرار دیتے ہیں مگر انھیں معذور بھی سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ صفات کے منکروں، جاحدوں اور معطلین جیسا معاملہ نہیں کرتے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’جو شخص تاویل کرتے ہوئے رسول ﷺ کی پیروی ہی کا ارادہ رکھتا ہو، وہ اجتہاد میں خطا کر جانے کے باعث نہ کافر قرار پاتا ہے، نہ فاسق۔ عملی مسائل میں یہ بات لوگوں کے ہاں معروف ہے لیکن عقائد کے مسائل میں بہت سے لوگوں نے خطا کرنے والوں کی تکفیر کی ہے۔ یہ موقف نہ کسی صحابی سے منقول ہے، نہ بہ طریق احسان ان کی پیروی کرنے والے تابعین سے اور نہ ائمۂ مسلمین میں سے کسی سے۔ دراصل یہ اہلِ بدعت کا طریقہ ہے کہ وہ ایک بدعت ایجاد کرتے ہیں اور اپنے مخالف کو کافر قرار دیتے ہیں، جیسے خوارج، معتزلہ اور جہمیہ[25]۔‘‘
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
’’میں ان لوگوں میں سب سے بڑھ کر اس بات سے روکتا ہوں کہ کسی معین شخص کو کافر، فاسق یا گناہ گار قرار دیا جائے، الاّ یہ کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس پر حجتِ رسالت قائم ہو چکی ہے جس کی مخالفت کرنے والا کبھی کافر، کبھی فاسق اور کبھی گناہ گار قرار پاتا ہے۔ میرا موقف یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس امت کی خطا معاف فرما دی ہے اور یہ حکم اعتقادی و قولی مسائل کی خطا کو بھی شامل ہے اور عملی مسائل کی خطا کو بھی۔ سلف ان میں سے بہت سے مسائل میں ہمیشہ اختلاف کرتے رہے مگر ان میں سے کسی نے اپنے کسی مخالف کو نہ کافر قرار دیا، نہ فاسق اور نہ گناہ گار[26]۔ ‘‘
اشاعرہ اور دوسرے گروہوں کو کفر سے بری قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اگر ان لوگوں[27] کی تکفیر کی جائے تو لازم آئے گا کہ شافعیہ، مالکیہ، حنفیہ، حنابلہ، اشاعرہ، اہلِ حدیث، مفسرین اور صوفیہ کی ایک بڑی تعداد کو بھی کافر قرار دیا جائے حالاں کہ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ لوگ کافر نہیں ہیں[28]۔‘‘
پس جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کی بعض صفات سے ناواقف ہو یا ان کی تاویل کرے لیکن اہلِ اجتہاد میں سے ہو، رسول اللّٰہ ﷺ کی پیروی کا حریص ہو اور اس کا رویہ انکار، عناد اور تکبر پر مبنی نہ ہو تو اسے معذور سمجھا جائے گا۔ اس کی مثال اس شخص کی ہے جس نے کہا تھا:
’’جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری راکھ پیس کر سمندر میں بکھیر دینا۔ اللّٰہ کی قسم! اگر اللّٰہ مجھے دوبارہ اٹھانے پر قادر ہوا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا ہوگا[29]۔‘‘
اس حدیث پر تعلیق لگاتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’اس شخص نے اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت اور راکھ بکھیر دیے جانے کے بعد اپنے دوبارہ اٹھاے جانے میں شک کیا بل کہ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ بات بہ اتفاق اہل اسلام کفر ہے لیکن وہ حقیقتِ حال سے ناواقف تھا اور اسے اس بات کا علم نہ تھا۔ وہ صاحبِ ایمان تھا اور اللّٰہ کے عذاب سے ڈرتا تھا، اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے اس کے اسی خوف کی بنا پر اسے بخش دیا۔ پھر جو صاحبِ اجتہاد تاویل کی بنا پر خطا کرے اور رسول اللّٰہ ﷺ کی پیروی کا حریص بھی ہو، وہ ایسے شخص کی
بہ نسبت مغفرت کا کہیں زیادہ حق دار ہے[30]۔‘‘
اور نووی و ابن حجر سے زیادہ اس وصف کا حق دار کون ہو سکتا ہے؟
ایک اور مقام پر رقم طراز ہیں:
’’کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ علما کی لغزشوں کے پیچھے پڑے، جس طرح اسے یہ حق بھی نہیں کہ اہلِ علم و ایمان کے بارے میں ایسی بات کہے جس کے وہ سزاوار نہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی خطاؤں سے درگزر فرمایا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ’اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ فرما۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:’میں نے ایسا ہی کیا[31]۔‘‘
امام ذہبی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’اگر کسی امام سے کسی جزوی مسئلے میں اجتہادی خطا سرزد ہو جو اس کے لیے قابلِ معافی ہو اور ہم ہر بار اس کے درپے ہو جائیں، اسے بدعتی قرار دیں اور اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیں تو ہمارے اس معیار پر نہ ابن نصر بچتے، نہ ابن مندہ، اور نہ ان دونوں سے بڑے ائمہ۔ حق کی راہ دکھانے والا اللّٰہ ہی ہے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے؛ سو ہم خواہشِ نفس اور درشت مزاجی سے اللّٰہ کی پناہ مانگتے ہیں[32]۔‘‘
دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
’’ ابن خزیمہ کو اپنے علم، دین داری اور اتباعِ سنت کے باعث لوگوں کے دلوں میں بڑی عظمت اور جلالت حاصل تھی۔ ان کی کتاب التوحید ایک ضخیم جلد پر مشتمل ہے؛ اس کتاب میں انھوں نے حدیثِ صورت کی تاویل کی ہے؛ لہٰذا جو شخص بعض صفات کی تاویل کرے، اسے معذور سمجھنا چاہیے... اگر ہم ہر اس امام کی قدر و منزلت ساقط کر دیں اور اسے بدعتی قرار دے دیں جس سے اجتہاد میں خطا ہوئی ہو، دراں حالے کہ اس کا ایمان درست اور حق کی پیروی اس کا مقصود ہو، تو ائمہ میں بہت کم ہی لوگ ہمارے ساتھ بچیں گے۔ اللّٰہ اپنے فضل و کرم سے سب پر رحمت فرمائے[33]۔‘‘
ایک اور جگہ رقم طراز ہیں:
’’ائمۂ علم میں سے کوئی بڑی شخصیت جس کی درست آرا زیادہ ہوں، حق کی جستجو میں جس کی دیانت مسلم ہو، جس کا علم وسیع، ذہانت نمایاں، صلاح و تقویٰ معروف اور اتباعِ سنت ثابت ہو [34]، اس سے کوئی لغزش سرزد ہو جائے تو اس سے درگزر کیا جائے گا۔ ہم نہ اسے گم راہ قرار دیں گے، نہ اس کی قدر و منزلت ساقط کریں گے اور نہ اس کی خوبیوں کو فراموش کر دیں گے۔ ہاں، اس کی بدعت اور خطا میں اس کی پیروی نہیں کریں گے اور امید رکھیں گے کہ اللّٰہ اُسے اس سے توبہ کی توفیق عطا فرمائے گا[35]۔‘‘
امام ابن القیم رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
’’جسے شریعت اور حالاتِ واقعہ دونوں کا علم ہو، وہ یقینی طور پر جانتا ہے کہ کوئی جلیل القدر شخص جس کی اسلام میں قابلِ قدر خدمات ہوں، جس کے اچھے آثار باقی ہوں اور اہلِ اسلام میں جس کا بلند مقام ہو [36]، اس سے کبھی کوئی لغزش یا خطا سرزد ہو سکتی ہے جس میں وہ معذور ہو بل کہ اپنے اجتہاد کی بنا پر اجر کا مستحق بھی ہو۔ ایسی صورت میں نہ اس خطا کی پیروی جائز ہے اور نہ یہ درست ہے کہ اس کی علمی عظمت، امامت اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کے مقام و مرتبے کو یک قلم نظر انداز کر
دیا جائے[37]۔‘‘
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
’’شریعت اور حکمت کے مسلمہ اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ جس شخص کی نیکیاں بہت زیادہ اور
غیر معمولی ہوں اور اسلام میں اس کی خدمات نمایاں ہوں، اس کی بعض باتوں سے درگزر کیا جاتا ہے جب کہ دوسروں کی طرف سے وہ درگزر کے قابل نہیں ہوتیں اور اس کی بعض خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں جو دوسروں کی معاف نہیں کی جاتیں۔ گناہ ایک آلودگی ہے لیکن پانی جب دو قلوں کی مقدار کو پہنچ جائے تو آلودگی اسے متاثر نہیں کرتی[38]۔‘‘
حافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’اللّٰہ نے اپنی کتاب کے سوا کسی کتاب کو خطا سے محفوظ نہیں رکھا۔ منصف وہ ہے جو کسی شخص کی بہت سی درست باتوں کے مقابلے میں اس کی تھوڑی سی خطا سے درگزر کرے[39]۔‘‘
امام سعدی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
”اہلِ سنت والجماعت اشاعرہ اور تمام اہلِ بدعت کے ساتھ وہی سیدھا اور متوازن طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں جو شرعی اصولوں اور پسندیدہ قواعد پر قائم ہے۔ وہ ان کے ساتھ انصاف کرتے ہیں اور ان میں سے صرف اسی کو کافر قرار دیتے ہیں جسے اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ نے کافر قرار دیا ہو۔ ان کا عقیدہ ہے کہ کسی شخص پر کفر یا ایمان کا حکم لگانا اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے خاص اور عظیم ترین حقوق میں سے ہے۔ چناں چہ اہلِ بدعت میں سے جو شخص رسول ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات، یا ان میں سے کسی حصے کا، کسی تاویل کے بغیر انکار کرے، وہ کافر ہے کیوں کہ اس نے اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور حق کے مقابلے میں تکبر اور عناد کا رویہ اختیار کیا۔ لہٰذا جہمی، قدری، خارجی، رافضی یا کسی اور بدعتی کو جب یہ معلوم ہو جائے کہ اس کی بدعت کتاب و سنت کی تعلیمات سے متصادم ہے، پھر بھی وہ اس پر اصرار کرے اور اس کی حمایت میں کھڑا ہو تو وہ اللّٰہ عظیم کا منکر اور ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والا ہے۔
البتہ اہلِ بدعت میں سے جو شخص ظاہر و باطن میں اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہو، اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعظیم کرتا ہو اور رسول اللّٰہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی پابندی کا عزم رکھتا ہو لیکن بعض مسائل میں حق سے ہٹ گیا ہو اور تاویل میں خطا کر بیٹھا ہو، نیز اس نے واضح ہدایت کا کفر و جحود کی بنا پر انکار نہ کیا ہو تو وہ کافر نہیں؛ تاہم وہ فاسق بدعتی، گم راہ بدعتی، یا پھر اس مسئلے کے مخفی ہونے اور حصولِ حق میں اس کے بھرپور اجتہاد کے باعث قابلِ معافی ہو سکتا ہے، اگرچہ وہ حق تک پہنچ نہ سکا ہو۔ اسی لیے خوارج، معتزلہ، قدریہ اور دوسرے اہلِ بدعت مختلف درجوں اور قسموں میں تقسیم ہیں... بعض اہلِ بدعت ان سے کم درجے کے ہیں، جیسے بہت سے قدریہ، کلابیہ اور اشاعرہ۔ یہ لوگ ان اصولی مسائل میں بدعتی اور گم راہ ہیں جن میں انھوں نے کتاب و سنت کی مخالفت کی ہے اور یہ مسائل معروف و مشہور ہیں۔ لیکن اپنی بدعات میں ان کے درجے یک ساں نہیں؛ یہ تفاوت اس لحاظ سے ہے کہ وہ حق سے کتنے دور یا قریب ہیں؛ اہلِ حق کے خلاف تکفیر، تفسیق اور تبديع میں کس قدر زیادتی کرتے ہیں اور حق تک رسائی کی کتنی صلاحیت رکھتے اور اس کی جستجو میں کتنا اجتہاد کرتے ہیں، یا اس کے برعکس ان کا رویہ کیا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل بہت طویل ہے[40]۔‘‘
پس یہی اہلِ سنت والجماعت کا منہج ہے جو حق کو سب سے زیادہ جاننے والے اور مخلوق پر سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں۔ ان کے برخلاف دوسرے فرقوں نے اپنے مخالفین کی تکفیر میں حد سے تجاوز کیا کیوں کہ انھوں نے اپنے اختیار کردہ تصورات کو ایسے اصول قرار دے لیا جن کی مخالفت کرنے والا، خواہ کسی شبہے کی بنا پر ایسا کرے یا کسی اور سبب سے، ان کے نزدیک معذور نہیں سمجھا جاتا۔
چوتھی بنیادی غلطی: اپنی راے پر بے جا اعتماد اور راسخ علما کی مخالفت کی جسارت
جب یہ لوگ اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ اشاعرہ، جہمیہ ہیں یا ان سے بھی بدتر، اور اسی بنا پر ان کی تکفیر کر ڈالی تو معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ وہ ایک چوتھی بنیادی غلطی کا شکار ہوئے جو خطرے میں گذشتہ غلطیوں سے کچھ کم نہیں اور اس منہج میں پائی جانے والی خرابی کی گہرائی کو پوری طرح نمایاں کر دیتی ہے۔ وہ یہ کہ انھوں نے اپنے ناقص فہم کو ان جلیل القدر ربانی علما کے اقوال پر مقدم کر دیا جو علم میں رسوخ رکھتے تھے۔
یہی چیز ان کے انحراف کی بنیاد اور گم راہی کی آخری کڑی بن گئی، یعنی علماے اشاعرہ کو نام بہ نام کافر قرار دینا؛ حالاں کہ امام احمد رحمہ اللّٰہ نے خود جہمیہ کے تمام معین افراد کے ساتھ بھی یہ طرزِ عمل اختیار نہیں کیا تھا، اشاعرہ تو درکنار۔ اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ نے ان اشاعرہ کی بھی تکفیر نہیں کی جنھوں نے انھیں اذیتیں پہنچائیں اور قید میں ڈالا، دراں حالے کہ وہ ان کے مذہب اور اس کے انحرافات سے سب سے بڑھ کر واقف تھے۔
ان لوگوں کی طرف سے اہلِ سنت والجماعت کے اکابر علما کی مخالفت کی اس جسارت کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے آپ کو عقیدۂ سلف کی حفاظت میں ائمۂ سلف سے بھی زیادہ حریص سمجھتے ہیں، یا یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ اشاعرہ کو ان ربانی علما سے زیادہ جانتے ہیں جنھوں نے ان کے ساتھ میل جول رکھا، ان سے بحث و مباحثہ کیا اور ان کے افکار و آرا کو اچھی طرح جانچا پرکھا تھا۔
قاری اس منہج کی سنگینی کا صحیح اندازہ کر سکے، اس لیے ذیل میں اہلِ سنت والجماعت کے اکابر ائمہ کی وہ تحسینی آرا جمع کی گئی ہیں جو انھوں نے اشاعرہ اور ان کے متعدد علما کے بارے میں دی ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی غلطیوں میں بھی ان سے اتفاق کیا جائے بل کہ مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ علماے امت کے ایک بڑے طبقے پر بے محابا کفر کا حکم لگانے میں کس قدر شدید منہجی خرابی پائی جاتی ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’جاہلوں کو علماے مسلمین کی تکفیر کی کھلی چھوٹ دے دینا ایک بہت بڑا منکر ہے۔ اس فتنے کی اصل خوارج اور روافض کے ہاں پائی جاتی ہے جو ائمۂ مسلمین کو محض اس بنا پر کافر قرار دیتے ہیں کہ ان کے خیال میں ان سے دین کے بعض مسائل میں خطا ہوئی ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ علماے مسلمین کو محض کسی خطا کی بنا پر کافر قرار دینا جائز نہیں۔ رسول اللّٰہ ﷺ کے سوا ہر شخص کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور اسے رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جس شخص کی کوئی بات اس کی خطا کے باعث رد کر دی جائے، ضروری نہیں کہ اسے کافر یا فاسق قرار دیا جائے بل کہ یہ بھی لازم نہیں کہ وہ گناہ گار ہو[41]۔‘‘
علما کے بعض اقوال نقل کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اسماے گرامی قاری کے سامنے رکھ دیے جائیں تاکہ اسے اندازہ ہو سکے کہ ان لوگوں نے درحقیقت اہلِ سنت کے کن جلیل القدر ائمہ سے اختلاف کی جسارت کی ہے۔ میں نے یہاں تیمی اور وہابی مکتبِ فکر کے نمایاں علما کے اقوال پر اکتفا کیا ہے کیوں کہ عقیدے کی نگہ بانی اور حریمِ توحید کے دفاع میں ان کی غیر معمولی حساسیت اور اہتمام معروف ہے۔
انھوں نے حق کی نصرت اور مخالفین کی تردید کا فریضہ پوری قوت سے انجام دیا لیکن اس کے باوجود جہاں انصاف کی بات کہنے کا موقع آیا، وہاں عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اپنے مخالفین کی جو بات درست پائی، اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا اور جہاں ان سے غلطی ہوئی، وہاں اس کی نشان دہی اور وضاحت بھی کر دی۔
ان علما کے نام یہ ہیں: ابن تیمیة، ابن عبدالهادی، ذهبی، ابن قیم، ابن کثیر، ابن رجب، حمد بن ناصر بن معمر، عبدالله بن امام محمد بن عبدالوهاب، عبدالرحمٰن بن حسن آل الشیخ، محمد بن ابراهیم آل الشیخ، ابن باز، ابن عثیمین اور اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والإفتاء (مستقل فتویٰ کمیٹی)۔
اگر یہی لوگ اقوالِ سلف کو سب سے زیادہ جاننے والے، انھیں صحیح طور پر سمجھنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والے اور ان کے دفاع میں سب سے بڑھ کر سرگرم نہیں تھے تو پھر آج دنیا میں شاید کوئی شخص بھی ایسا باقی نہیں رہتا جو سلفی کہلانے کا حق دار ہو۔ مگر جاہل اپنی حقیقت سے بے خبر ہو کر قد سے بڑا بننے لگتا ہے اور اپنے آپ کو عظیم سمجھ بیٹھتا ہے حالاں کہ تحقیق کی نظر میں اس کی مثال اس چیونٹی کی سی ہوتی ہے جو اپنے آپ کو ہاتھی سے بھی بڑا خیال کرتی ہو!
اوّل: اشاعرہ کے بارے میں علما کی تحسینی آرا اور ان کا موقف
- امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
”اشاعرہ کے کلام میں صحیح دلائل اور سنت کی موافقت کا جو سرمایہ پایا جاتا ہے، وہ عام متکلم فرقوں کے کلام میں نہیں ملتا۔ اہلِ کلام کے تمام گروہوں میں وہ سنت، جماعت اور حدیث سے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ معتزلہ، روافض اور ان جیسے دوسرے فرقوں کے مقابلے میں انھیں اہلِ سنت والجماعت میں شمار کیا جاتا ہے بل کہ جن علاقوں میں اہلِ بدعت سے مراد معتزلہ، روافض اور ان جیسے دوسرے گروہ ہوں، وہاں یہی لوگ اہلِ سنت والجماعت سمجھے جاتے ہیں[42]۔‘‘
ان کے بارے میں دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
”جمہور مسلمانوں کے اتفاق کی رُو سے وہ فلسفی جہمیہ، معتزلہ اور ان جیسے دوسرے فرقوں کی بہ نسبت سنت اور حق سے زیادہ قریب ہیں[43]۔
ایک اور جگہ رقم طراز ہیں:
”ان میں سے کوئی ایسا نہیں جس کی اسلام کے لیے قابلِ قدر کوششیں اور لائقِ تحسین خدمات نہ ہوں۔ انھوں نے بہت سے اہلِ الحاد و بدعت کی تردید اور اہلِ سنت و دین کی حمایت میں جو کارنامے انجام دیے ہیں، وہ اس شخص سے مخفی نہیں رہ سکتے جو ان کے حالات سے واقف ہو اور ان کے بارے میں علم، صدق، عدل اور انصاف کے ساتھ گفت گو کرے[44]۔‘‘
- اللجنة الدائمةللبحوثالعلمیةوالإفتاء کے فتاویٰ میں ہے:
’’اشاعرہ سے مراد ابوالحسن اشعری کے پیروکار اور عقیدے اور طرزِ استدلال میں ان کے مذہب کے حامی ہیں۔ ابوالحسن اشعری اور ان کے پیروکار تمام فرقوں میں اہلِ سنت والجماعت سے سب سے زیادہ قریب ہیں؛ چناں چہ جن امور میں وہ اہلِ سنت کے موافق ہیں، ان پر ان کی تحسین کی جائے گی اور جن امور میں انھوں نے ان سے اختلاف کیا ہے، ان میں انھیں خطا پر قرار دیا جائے گا[45]۔‘‘
ایک دوسرے مقام پر لکھا ہے:
’’اشاعرہ کافر نہیں ہیں، البتہ بعض صفات کی تاویل میں ان سے خطا ہوئی ہے[46]۔‘‘
’’اشاعرہ بیش تر امور میں اہلِ سنت میں شمار ہوتے ہیں لیکن صفات کی تاویل کے معاملے میں وہ اہلِ سنت کے منہج پر نہیں ہیں۔ وہ کافر نہیں بل کہ ان میں ائمہ، علما اور نیک لوگ بھی موجود ہیں، البتہ بعض صفات کی تاویل میں ان سے غلطی ہوئی ہے[47]۔‘‘
سلفیوں پر یہ الزام لگایا گیا کہ امام نووی اور حافظ ابن حجر جیسے علما کی تکفیر کرتے ہیں تو اس کے جواب میں ابن باز نے فرمایا:
’’سلفی اہلِ علم میں کوئی ایسا نہیں جو مذکورہ علما کی تکفیر کرتا ہو۔ وہ صرف یہ واضح کرتے ہیں کہ بہت سی صفات کی تاویل میں ان سے کہاں خطا ہوئی اور یہ کہ ان کا یہ طرزِ عمل سلفِ امت کے مذہب کے خلاف ہے۔ اس تنقید کا مطلب نہ ان کی تکفیر ہے، نہ امت کے شیرازے کو منتشر کرنا اور نہ مسلمانوں کی صفوں میں تفرقہ ڈالنا۔ اس کا مقصد تو اللّٰہ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی، حق کی وضاحت اور نقلی و عقلی دلائل کی روشنی میں اس کے مخالفین کی تردید ہے[48]۔ ‘‘
- اشاعرہ کے متعلق علما کے طرزِ عمل کو نمایاں کرنے والے واقعات میں آلِ قدامہ کا صلاح الدین ایوبی کے پرچم تلے جہاد کرنا بھی شامل ہے، حالاں کہ صلاح الدین مذہبِ اشعری کے پیرو تھے اور انھوں نے اپنے عہد میں اشعری عقیدے کی تدریس کو لازم قرار دے رکھا تھا۔ شیخ ابوعمر محمد بن احمد بن قدامہ مقدسی کے بارے میں ابن کثیر لکھتے ہیں:
’’وہ شیخ موفق الدین عبداللّٰہ بن احمد بن محمد بن قدامہ کے بھائی تھے اور عمر میں ابوعمر اِن سے بڑے تھے... وہ، ان کے بھائی، ان کے خالہ زاد بھائی حافظ عبدالغنی اور ان کے بھائی شیخ عماد، صلاح الدین ایوبی کی کسی ایسی جنگی مہم سے پیچھے نہیں رہتے تھے جو وہ بلادِ فرنگ کی طرف لے کر نکلتے۔ انھوں نے ان کے ساتھ بیت المقدس اور دوسرے علاقوں کی فتوحات میں بھی شرکت کی[49]۔‘‘
حافظ ابن تیمیہ نے صلاح الدین ایوبی کو اہلِ سنت کے حکم رانوں میں شمار کیا ہے حالاں انھیں یقینی طور سے معلوم تھا کہ صلاح الدین اشعری تھے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’... پھر اس کے انتقال کے بعد اسے اہلِ سنت کے حکم رانوں نے فتح کیا جن میں صلاح الدین بھی شامل تھے۔ اس کے بعد وہاں روافض کے مقابلے میں سنت کا غلبہ ہوا اور علم و سنت روز افزوں ترقی کرتے اور نمایاں ہوتے چلے گئے[50]۔‘‘
دوم: اشاعرہ کے بعض معین علما کے بارے میں علماے اہلِ سنت والجماعت کی تحسینی آرا
اشاعرہ کے علما مختلف علوم میں بڑی تعداد میں گزرے ہیں لیکن یہاں ہماری بحث ان نمایاں شخصیات سے ہے جنھوں نے حدیث، فقہ اور دوسرے شرعی علوم میں امتیازی مقام حاصل کیا۔ اس مقام کی گنجایش کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں ان میں سے چھ علما کا ذکر کیا جائے گا: بیہقی، ابن الصلاح، عز بن عبدالسلام، نووی، ابن دقیق العید اور ابن حجر عسقلانی۔
- حافظ ابوبکر احمد بن حسین بیہقی (458ھ) کے بارے میں علما کی تحسینی آرا
امام ابن تیمیہ کہتے ہیں:
’’حافظ ابوبکر بیہقی اور ان جیسے علما، اشعری کے بہت سے متاخر پیروکاروں کی بہ نسبت سنت سے زیادہ قریب ہیں[51]۔‘‘
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
’’بیہقی، اصحابِ شافعی میں حدیث کے سب سے بڑے عالم اور امام شافعی کے مذہب کے سب سے بڑھ کر حامی تھے[52]۔ ‘‘
ابن عبدالہادی کہتے ہیں:
’’بیہقی امام، حافظ، علامہ اور شیخِ خراسان تھے؛ انھوں نے ایسی کتابیں تصنیف کیں جن کی نظیر ان سے پہلے موجود نہ تھی؛ ان میں السنن الکبیر اور السنن الصغیر… شامل ہیں[53]۔ ‘‘
ذہبی ان کے تذکرے میں لکھتے ہیں:
’’وہ حافظ، علامہ، ثبت، فقیہ اور شیخ الاسلام ابوبکر تھے؛ اللّٰہ نے ان کے علم میں برکت عطا فرمائی اور انھوں نے نہایت نافع کتابیں تصنیف کیں۔ پھر وہ اپنے گاؤں میں یک سو ہو کر جمع و تالیف کے کام میں مشغول ہوگئے۔ بیہقی چاہتے تو اپنے لیے ایک مستقل مذہب قائم کر سکتے تھے اور اس میں اجتہاد کی پوری صلاحیت رکھتے تھے کیوں کہ ان کے علوم نہایت وسیع اور علما کے اختلافات پر ان کی نظر گہری تھی۔ اسی بنا پر آپ دیکھتے ہیں کہ جن مسائل میں حدیث صحیح ہوتی ہے، وہ ان کی تائید کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں[54]۔‘‘
ایک اور مقام پر ان کے بارے میں کہتے ہیں:
’’شافعی کی نصوص کو اولاً انھوں نے ہی یک جا کیا اور کتاب و سنت سے ان کے دلائل فراہم کیے[55]۔‘‘
ابن کثیر ان کے بارے میں کہتے ہیں:
’’وہ اکابر حفاظ میں سے تھے۔ ان کی تصانیف کو ایسی شہرت حاصل ہوئی کہ تمام شہروں اور ملکوں میں ان کا چرچا پھیل گیا[56]۔‘‘
- شیخ ابوعمرو عثمان بن عبدالرحمٰن ابن الصلاح (643ھ) کے بارے میں علما کی تحسینی آرا
حافظ ابن تیمیہ نے ابن الصلاح سے بہ کثرت نقل کیا ہے اور بالعموم انھیں “شیخ” کے لقب سے یاد کیا ہے۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ ابوعمرو ابن الصلاح نے کہا”، اور: “شیخ ابوعمرو ابن الصلاح کا موقف یہ تھا[57]۔‘‘
علامہ ابن عبدالہادی کہتے ہیں:
’’ابن الصلاح امام، حافظ، شیخ الاسلام اور تقی الدین [58]۔‘‘
حافظ ذہبی ان کے تذکرے میں لکھتے ہیں:
’’امام، حافظ، علامہ، شیخ الإسلام، تقی الدین؛ انھوں نے درس و تدریس اور افتا کی خدمت انجام دی، علمی ذخیرے جمع کیے اور کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی تربیت سے اصحابِ علم کی ایک جماعت تیار ہوئی اور وہ اکابر ائمہ میں شمار ہوتے تھے۔ انھیں غیر معمولی جلالت، وقار و ہیبت، فصاحت اور علمِ نافع حاصل تھا[59]۔‘‘
حافظ ابن قیم کہتے ہیں:
’’روزے دار کے منھ کی اس خوش بو کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ دنیا میں ظاہر ہوتی ہے یا آخرت میں؟ اس مسئلے میں دو قول ہیں۔ اس بارے میں دو فاضل شیوخ، ابومحمد ابن عبدالسلام اور ابوعمرو ابن الصلاح کے درمیان اختلاف ہوا تھا[60]۔‘‘
امام ابن کثیر کہتے ہیں:
’’وہ امام، علامہ، مفتیِ اسلام، تقی الدین ابوعمرو ہیں۔ وہ فلسفے اور منطق کے طریقوں کو ناپسند کرتے، ان کی تحقیر کرتے اور شہر میں ان کی تعلیم کی اجازت نہ دیتے تھے۔ حکم ران بھی اس معاملے میں ان کی بات مانتے تھے[61]۔‘‘
ابن رجب انھیں’’حافظ تقی الدین ابن الصلاح ‘‘ کہتے ہیں[62]۔
محمد بن ابراہیم آل الشیخ نے انھیں ’’ علامہ ابن الصلاح‘‘ کے لقب سے یاد کیا ہے[63]۔
- فقیہ عبدالعزیز بن عبدالسلام (660ھ) کے بارے میں علما کی تحسینی آرا
امام ابن تیمیہ کہتے ہیں:
’’ہمارے فاضل عالم رفیق ابوبکر ابن سالار نے مجھ سے بیان کیا، انھوں نے اپنے عہد کے شیخ تقی الدین ابن دقیق العید سے اور انھوں نے امام ابومحمد ابن عبدالسلام سے نقل کیا کہ جب ابن عربی مصر آیا تو لوگوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: وہ ایک برا شیخ، جھوٹا اور قابلِ مذمت شخص ہے[64]۔‘‘
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
’’میں نے فقیہ ابومحمد ابن عبدالسلام کے فتاویٰ میں دیکھا، وہ کہتے ہیں...[65]۔‘‘
علامہ ذہبی کہتے ہیں:
’’وہ شیخ الاسلام اور جلیل القدر ائمہ کی یادگار تھے۔ انھوں نے درس دیا، فتویٰ نویسی کی، کتابیں تصنیف کیں، فقہِ مذہب میں کمال حاصل کیا اور درجۂ اجتہاد تک پہنچ گئے۔ وہ امام، زاہد، متقی اور عبادت گزار تھے؛ نیکی کا حکم دیتے، برائی سے روکتے اور اللّٰہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرتے تھے[66]۔ ‘‘
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
’’وہ امام، علامہ اور اپنے عہد کے یگانۂ روزگار تھے۔ انھوں نے تفسیر، حدیث، فقہ، عربی، اصول، مذاہب و علما کے اختلافات، لوگوں کے اقوال اور ان کے ماخذ، غرض مختلف علوم میں حیرت انگیز جامعیت پیدا کر لی تھی، یہاں تک کہ کہا گیا کہ وہ درجۂ اجتہاد تک پہنچ گئے تھے[67]۔ ‘‘
حافظ ابن رجب فرماتے ہیں:
’’اکابر مشایخِ علما، جیسے ابن الصلاح اور ابن عبدالسلام ... [68]۔
ایک اور مقام پر انھیں یوں یاد کرتے ہیں:
’’شیخ عزالدین ابن عبدالسلام، شافعیہ کے شیخ تھے[69]۔‘‘
شیخ حمد بن ناصر بن معمر (1225ھ) نے بھی انھیں فقیہ کہا ہے؛ وہ لکھتے ہیں:
’’اس مسئلے کا ذکر فقیہ ابومحمد عز بن عبدالسلام نے اپنے فتاویٰ میں کیا ہے[70]۔‘‘
اسی طرح شیخ عبداللّٰہ بن محمد بن عبدالوہاب (1242ھ) نے بھی انھیں فقیہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
’’شیخ ابومحمد ابن عبدالسلام، فقیہ شافعی[71]۔‘‘
- امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی (676ھ) کے بارے میں علما کی تحسینی آرا
علامہ ابن تیمیہ نے اپنی کتابوں میں متعدد مقامات پر امام نووی کو منصبِ امامت سے یاد کیا ہے۔ چناں چہ
وہ لکھتے ہیں:
’’امام ابو زکریا یحییٰ نووی رحمہ اللّٰہ‘‘ اور’’امام نووی نے فرمایا[72]۔‘‘
حافظ ابن عبدالہادی کہتے ہیں:
’’وہ امام، فقیہ، یگانۂ روزگار حافظ، مقتدا اور زاہد تھے[73]۔‘‘
علامہ ذہبی ان کے تذکرے میں لکھتے ہیں:
’’وہ مفتیِ امت، شیخ الإسلام، حافظ، فقیہ، شافعی اور زاہد تھے؛ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی تصانیف سے امت کو نفع پہنچایا۔ وہ دور دور کے علاقوں میں پھیلیں اور مختلف شہروں میں پہنچیں[74]۔‘‘
ایک اور مقام پر انھیں یوں یاد کرتے ہیں:
’’امام، یگانۂ روزگار حافظ، مقتدا اور شیخ الاسلام... [75] ۔‘‘
حافظ ابن قیم نے بھی اپنی کتاب جلاء الافہام میں متعدد مقامات پر انھیں “شیخ” کے لقب سے یاد کیا ہے[76]۔
مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں:
’’وہ علامہ، شیخ المذہب اور اپنے زمانے کے اکابر فقہا میں سے تھے۔ زہد، عبادت، ورع اور احتیاط ایسی خوبیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں سے کنارہ کش ہو کر یک سُوئی اختیار کرنے میں انھیں ایسا بلند مقام حاصل تھا جس تک دوسرے فقہا کی رسائی نہ تھی۔ وہ اپنے وقت کا کوئی حصہ ضائع نہ کرتے تھے۔ دمشق میں قیام کے دوران انھوں نے حج بھی کیا۔ وہ بادشاہوں اور دوسرے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے تھے[77]۔‘‘
ایک اور مقام پر رقم طرازہیں:
’’وہ شیخ، امام اور علامہ، مذہب کے محقق و منقح، اس کے مسائل کو ضبط اور ترتیب دینے والے تھے[78]۔‘‘
حافظ ابن رجب اپنی شرحِ اربعین نووی کے آغاز میں لکھتے ہیں:
’’امام حافظ ابوعمرو ابن الصلاح نے ایک مجموعہ املا کرایا جس کا نام الاحادیث الکلیۃ رکھا۔ اس میں انھوں نے وہ جامع احادیث جمع کیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دین کا مدار انھی پر ہے، نیز انھی کے مفہوم کی حامل مختصر اور جامع باتیں بھی شامل کیں۔ ان کا یہ مجموعہ چھبیس احادیث پر مشتمل تھا۔ پھر فقیہ، امام، زاہد اور مقتدا ابوزکریا یحییٰ نووی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ابن الصلاح کی جمع کردہ ان احادیث کو لیا اور ان میں مزید احادیث شامل کرکے تعداد بیالیس تک پہنچا دی۔ انھوں نے اپنی کتاب کا نام الاربعین رکھا۔ ان کی جمع کردہ یہ چالیس احادیث ایسی مشہور ہوئیں کہ لوگوں نے انھیں کثرت سے حفظ کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اس کے جامع کی نیت کے اخلاص اور حسنِ قصد کی برکت سے اس مجموعے کو غیر معمولی نفع عطا فرمایا؛ اللّٰہ ان پر رحمت فرمائے[79]۔‘‘
شیخ حمد بن ناصر بن معمر (1225ھ) کہتے ہیں:
’’امام نووی رحمہ اللّٰہ کے بیان کردہ اس باب پر غور کیجیے؛ وہ شافعیہ کے امام علی الاطلاق ہیں[80]۔‘‘
علامہ عبداللّٰہ بن امام محمد بن عبدالوہاب (1242ھ) لکھتے ہیں:
’’اللّٰہ امام نووی کو جزاے خیر دے کہ انھوں نے کتاب الاذکار جمع کی۔ جو شخص اذکار کا اہتمام کرنا چاہتا ہو، اسے اس کتاب سے وابستہ رہنا چاہیے کیوں کہ توفیق یافتہ آدمی کے لیے یہ کافی ہے[81]۔‘‘
شیخ عبدالرحمٰن بن حسن آلِ شیخ (1285ھ) فرماتے ہیں:
’’دیکھیے، امام نووی رحمہ اللّٰہ نے نقل کیا ہے کہ اکثر محققین کے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ خوارج کو محض ان کی بدعت کی بنا پر کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس امام کی عظمت کے لیے یہی بات
کافی ہے[82]۔‘‘
علامہ محمد بن ابراہیم آلِ شیخ لکھتے ہیں:
’’جیسا کہ امام ابو زکریا نووی اور دوسرے علما نے ذکر کیا ہے[83]۔ ‘‘
شیخ ابن باز کہتے ہیں:
’’عام لوگوں کے لیے مفید بہترین مختصر کتابوں میں امام نووی رحمہ اللّٰہ کی ریاض الصالحین اور امام حافظ ابن حجر کی بلوغ المرام شامل ہیں۔ یہ دونوں نہایت مفید اور نفع بخش کتابیں ہیں۔ ان کا اہتمام کرنا، انھیں حاصل کرنے کی کوشش کرنا اور ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے[84]۔ ‘‘
علامہ ابن عثیمین شرحِ ریاض الصالحین کے آغاز میں کہتے ہیں:
’’ریاض الصالحین، جسے شیخ حافظ نووی رحمہ اللّٰہ نے تصنیف کیا ہے، ایک عمدہ کتاب ہے؛ مصنف رحمہ اللّٰہ نے اس کتاب سے فائدہ اٹھانے والوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے لیے، ان کے والدین کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کریں۔ ہم بھی اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انھیں، ان کے والدین اور تمام مسلمانوں کو بخش دے اور ہمیں، انھیں اور اپنے تمام مومن بھائیوں کو اپنے دارِ کرامت میں جمع فرمائے۔ بے شک وہ نہایت سخی اور کریم ہے[85]۔‘‘
شیخ ابن عثیمین شرحِ اربعین نووی کے آغاز میں کہتے ہیں:
’’حافظ نووی رحمہ اللّٰہ، امام شافعی کے ان اصحاب میں سے ہیں جن کی آرا کو معتبر مانا جاتا ہے۔ وہ شافعی علما میں تصنیف و تالیف سے غیر معمولی شغف رکھتے تھے۔ انھوں نے مختلف فنون میں کتابیں تصنیف کیں؛ حدیث اور علومِ حدیث میں تصنیفات کے علاوہ علمِ لغت میں تہذیب الاسماء واللغات جیسی کتاب لکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نہایت وسیع العلم تھے۔ بہ ظاہر، واللّٰہ اعلم، تصنیف و تالیف میں نہایت مخلص لوگوں میں سے تھے کیوں کہ ان کی کتابیں پوری اسلامی دنیا میں پھیل گئیں۔ شاید ہی کوئی مسجد ایسی ملے جہاں ریاض الصالحین نہ پڑھی جاتی ہو۔ ان کی دوسری کتابیں بھی پوری دنیا میں معروف و متداول ہیں۔ یہ ان کے حسنِ نیت کی دلیل ہے کیوں کہ لوگوں میں کسی مصنف کی کتابوں کو قبولِ عام حاصل ہونا اخلاصِ نیت کی علامت ہے۔
آں رحمہ اللّٰہ مجتہد تھے اور مجتہد سے خطا بھی ہوتی ہے اور درستی بھی۔ اسماء و صفات کے بعض مسائل میں ان سے خطا ہوئی کہ انھوں نے بعض صفات کی تاویل کی لیکن ان کا انکار نہیں کیا۔ بعض نصوصِ صفات کی تاویل میں ان کی یہ خطا انکے بے شمار فضائل اور عظیم علمی خدمات میں دب کر رہ جاتی ہے۔
ہمارا گمان یہی ہے کہ ان سے جو کچھ صادر ہوا، وہ اجتہاد اور ایسی تاویل کی بنا پر تھا جو کم از کم ان کی راے میں قابلِ قبول تھی۔ ہمیں امید ہے کہ ان کی یہ خطا معاف کر دی جائے گی اور انھوں نے خیر اور نفع کا جو کام انجام دیا، وہ ایک قابلِ قدر سعی قرار پائے گا۔ ان پر اللّٰہ تعالیٰ کا یہ ارشاد صادق آتا ہے: ﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾’’ یقیناً نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں‘‘۔ [ہود: 114] امام نووی کے حالات میں سے جو کچھ ہمارے علم میں ہے، اس کی بنا پر ہم ان کے صالح ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ مجتہد تھے اور ہر مجتہد سے درستی بھی ہو سکتی ہے اور خطا بھی۔ اگر وہ خطا کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے اور اگر درست راے تک پہنچے تو اسے دو اجر ملتے ہیں[86]۔‘‘
- ابوالفتح محمد بن علی بن دقیق العید قشیری (702ھ) کے بارے میں علما کی تحسینی آرا
امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
’’شیخ، امام، قاضی القضاۃ، تقی الدین ابن دقیق العید[87]۔‘‘
حافظ ابن عبدالہادی کہتے ہیں:
’’وہ امام، فقیہ، حافظ، یگانۂ روزگار علامہ شیخ تقی الدین تھے[88]۔‘‘
محدث ذہبی رقم طراز ہیں:
’’ابن دقیق العید امام، فقیہ، مجتہد، محدث، حافظ، علامہ، شیخ الاسلام تقی الدین تھے۔ وہ اپنے زمانے کے ذہین ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا علم وسیع تھا اور کتابوں کا ذخیرہ فراواں؛ شب بیداری ان کا معمول تھی اور علمی مشاغل میں ان کا انہماک ہمہ وقتی تھا۔ نہایت متین، باوقار اور صاحبِ ورع تھے۔ آنکھوں نے کم ہی ان جیسا کوئی شخص دیکھا ہوگا[89]۔‘‘
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
’’وہ شیخ، امام، عالم، علامہ اور حافظ تھے۔ انھوں نے بہ کثرت حدیثیں سنیں، طلبِ علم کے لیے سفر کیے، احادیث کی تخریج کی اور اسناد و متون، دونوں کے باب میں متعدد منفرد اور نفع بخش کتابیں تصنیف کیں۔ اپنے عہد میں مسندِ علم کی سیادت انھی پر آ ٹھہری اور وہ اپنے تمام معاصرین پر سبقت لے گئے[90]۔‘‘
علامہ ابن رجب انھیں ’’علامہ ابوالفتح ابن دقیق العید‘‘ کہتے ہیں[91]۔‘‘
انھوں نے ابن دقیق العید کو اکابر ائمہ میں بھی شمار کیا ہے، احمد بن عبدالدايم مقدسی کے تذکرے میں لکھا:
’’ان سے اکابر ائمہ اور متقدم و متاخر حفاظ نے روایت کی۔ ان میں شیخ محی الدین نووی، شیخ شمس الدین ابن ابی عمر، شیخ تقی الدین ابن دقیق العید، شیخ تقی الدین ابن تیمیہ اور ایک بڑی جماعت شامل ہے[92]۔‘‘
شیخ عبدالرحمٰن بن حسن آل الشیخ (1285ھ) نے انھیں ’’شیخ الاسلام ‘‘ کے لقب سے یاد کیا ہے[93]۔
ایک اور مقام پر کہتے ہیں:
’’امام ابن دقیق العید رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے کیا ہی عمدہ بات کہی ہے[94]۔‘‘
- حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی (852ھ) کے بارے میں علما کی تحسینی آرا
شیخ عبداللّٰہ بن محمد بن عبدالوہاب (1242ھ) کہتے ہیں:
’’ہم کتابِ اللّٰہ کو سمجھنے کے لیے ان معتبر اور متداول تفاسیر سے مدد لیتے ہیں؛ اور حدیث کے فہم میں ممتاز ائمہ کی شروح سے استفادہ کرتے ہیں، مثلاً صحیح بخاری پر عسقلانی اور قسطلانی کی شرحیں، صحیح مسلم پر نووی کی شرح اور الجامع الصغیر پر مناوی کی شرح[95]۔‘‘
شیخ عبدالرحمٰن بن حسن آل الشیخ (1285ھ) نے ریشم کی آمیزش والے لباس کے مسئلے میں ابن حجر کے قول سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’میں کہتا ہوں کہ حافظ نے فتح الباری میں دلائل کے ساتھ اس مسئلے کی وضاحت کی ہے؛ یہ اپنے عہد کے حافظِ دنیا ہیں اور انھوں نے ریشم کی آمیزش والے لباس کے حرام ہونے کی صراحت کی ہے[96]۔‘‘
اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والإفتاء کے فتاویٰ میں ہے:
’’ابوزکریا یحییٰ نووی، ابن حجر عسقلانی اور ان جیسے دوسرے علما جنھوں نے صفاتِ الٰہی کی نصوص کی تاویل کی یا ان کے اصل معنی میں تفویض کا مسلک اختیار کیا، ہمارے نزدیک اکابر علماے مسلمین میں سے ہیں جن کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ نے امت کو نفع پہنچایا۔ اللّٰہ ان پر رحمت فرمائے اور انھیں جزاے خیر عطا کرے[97]۔‘‘
علامہ ابن باز سے سوال کیا گیا کہ بعض لوگ امام نووی اور ابن حجر رحمہما اللّٰہ تعالیٰ کی کتابوں سے خبردار کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ دونوں اہلِ سنت والجماعت میں سے نہیں تھے۔ اس بارے میں صحیح موقف کیا ہے؟
انھوں نے جواب دیا:
’’ابن حجر، نووی اور بعض دوسرے علما سے صفات کے چند مسائل میں غلطی ہوئی ہے۔ ان مسائل میں وہ اہلِ سنت کے منہج پر نہیں، البتہ جن امور میں ان کا موقف درست رہا اور انھوں نے تحریف سے کام نہیں لیا، ان میں وہ اور ان جیسے دوسرے علما اہلِ سنت ہی میں شمار ہوتے ہیں[98]۔ ‘‘
اشعری علما کے لیے دعاے رحمت اہلِ سنت کی کتابوں میں اس کثرت سے منقول ہے کہ تراجم، وفیات اور دوسرے موضوعات پر ان کی تصانیف اس سے بھری پڑی ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ ان علما کو مسلمان تسلیم کرتے اور انھیں اہلِ قبلہ کے دائرے سے خارج نہیں سمجھتے تھے کیوں کہ کافر کے لیے دعاے رحمت بالاجماع جائز نہیں۔ مغفرت اور رحمت کی دعا صرف اسی شخص کے لیے کی جا سکتی ہے جو اسلام پر فوت ہوا ہو، خواہ اس کے ہاں کوئی بدعت یا اعتقادی خطا پائی جاتی ہو۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ جو شخص منہجِ سلف کا علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس کے لیے یہ کیسے روا ہو سکتا ہے کہ وہ علم میں رسوخ رکھنے والے علما کی اس پوری جماعت کے اقوال سے منھ موڑ لے، انھیں بے وقعت سمجھے، ان پر اپنے اجتہاد کو ترجیح دے اور صرف اسی بات کو قبول کرے جسے اس کا محدود فہم پسند کرے؟
اختتام سے پہلے اس امر کی طرف توجہ دلانا مناسب ہے کہ غلو کسی ایک فریق کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جس طرح اہلِ سنت والجماعت سے نسبت رکھنے والوں میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے غلو کی راہ اختیار کی اور اشاعرہ کو کافر قرار دیا، اسی طرح اشاعرہ کی صفوں میں، اور ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے، ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جنھوں نے غلو کرتے ہوئے اہلِ سنت اور اثباتِ صفات کے قائلین کی تکفیر کی اور انھیں تجسیم کا ملزم ٹھیرایا بل کہ بعض اکابر علماے اہلِ سنت والجماعت کو نام بہ نام کافر قرار دیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان میں سے درجنوں افراد نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی تکفیر کی۔ جس طرح اہلِ سنت میں انصاف سے کام لینے والے علما موجود رہے ہیں، اسی طرح اشاعرہ میں بھی ایسے اہلِ علم گزرے ہیں جنھوں نے عدل و انصاف کا دامن تھامے رکھا۔
انصاف کا تقاضا ہے کہ یہاں اشاعرہ کے تین معروف علما کے وہ تحسینی کلمات بھی نقل کر دیےجائیں جو انھوں نے اپنے سب سے بڑے حریف، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، کے بارے میں کہے ہیں۔
- علامہ ابن دقیق العید فرماتے ہیں:
’’جب میری ملاقات ابن تیمیہ سے ہوئی تو میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے سامنے تمام علوم حاضر تھے؛ ان میں سے جس علم سے چاہتے، استفادہ کرتے اور جسے چاہتے، چھوڑ دیتے[99]۔‘‘
ایک مرتبہ انھوں نے ابن تیمیہ سے کہا:
’’مجھے گمان نہ تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ اب بھی تم جیسا شخص پیدا فرماتا ہے[100]۔‘‘
- حافظ ابن حجر عسقلانی ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کی امامت کی شہرت آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہے۔ انھیں شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کرنا آج تک پاکیزہ زبانوں پر جاری ہے اور جو بات کل مسلم تھی، آیندہ بھی اسی طرح مسلم رہے گی۔ اس حقیقت کا انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو ان کے مقام سے ناواقف اور انصاف سے بے گانہ ہو۔ جس نے یہ جسارت کی، اس نے کتنی بڑی خطا کی اور کیسی گرد اڑائی! پس اللّٰہ تعالیٰ ہی سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے نفس کے شر اور اپنی زبانوں کی کاٹ سے محفوظ رکھے۔
اگر اس شخص کی فضیلت میں صرف یہی بات ہوتی جس کی نشان دہی مشہور حافظ علم الدین برزالی نے اپنی تاریخ میں کی ہے کہ اسلام کی تاریخ میں کسی شخص کے جنازے میں اتنا جمِ غفیر جمع نہیں ہوا جتنا شیخ تقی الدین کے جنازے میں ہوا تھا تو یہی ان کی عظمت کے لیے کافی تھی۔ اس عظیم اجتماع کا باعث صرف ان کی امامت اور برکت پر لوگوں کا اعتقاد تھا؛ نہ کسی سلطان نے انھیں جمع کیا تھا اور نہ کسی اور نے۔ نبی ﷺ سے صحیح طور پر منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا: تم زمین میں اللّٰہ کے گواہ ہو[101]۔‘‘
علامہ ابن حجر نے ان اشعری علما پر بھی سخت نکیر کی جنھوں نے ابن تیمیہ کی تکفیر کی تھی۔ وہ لکھتے ہیں:
’’جو شخص ابن تیمیہ کو کافر قرار دے، اس کی نکیر کیوں نہ کی جائے؟ بل کہ اس شخص کی بھی جو کسی کو محض اس بنا پر کافر کہے کہ اس نے ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہا ہے۔ انھیں اس لقب سے یاد کرنے میں آخر کون سی ایسی بات ہے جو کفر کو لازم کرتی ہو؟ بلا شبہ وہ اپنے عہد میں شیوخِ اسلام کے شیخ تھے۔ جن مسائل میں ان پر اعتراض کیا گیا، وہ انھیں خواہشِ نفس کے زیرِ اثر بیان نہیں کرتے تھے اور نہ دلیل واضح ہو جانے کے بعد محض عناد کی بنا پر ان پر اصرار کرتے تھے۔ ان کی تصانیف ان لوگوں کی تردید اور ان سے اظہارِ براءت سے بھری پڑی ہیں جو تجسیم کے قائل ہیں۔ اس کے باوجود وہ بشر تھے؛ ان سے درستی بھی ہوتی تھی اور خطا بھی۔ ان کی درست باتوں سے، جو ان کے کلام کا بیش تر حصہ ہیں، فائدہ اٹھایا جائے گا اور انھی خدمات کے باعث ان کے لیے رحمت کی دعا کی جائے گی۔ جن باتوں میں ان سے خطا ہوئی، ان میں ان کی تقلید نہیں کی جائے گی، البتہ وہ معذور ہیں، کیوں کہ علماے شریعت نے گواہی دی ہے کہ اجتہاد کے تمام ضروری وسائل ان میں جمع تھے۔۔۔
تعجب بالائے تعجب یہ ہے کہ یہی شخص روافض، حلولیہ اور اتحادیہ جیسے اہلِ بدعت کے مقابلے میں سب سے بڑھ کر سینہ سپر رہا۔ اس موضوع پر اس کی تصانیف بہ کثرت اور معروف ہیں اور ان فرقوں کے خلاف اس کے فتاویٰ کا شمار ممکن نہیں۔ پھر جب وہ اپنی تکفیر کی خبر سنتے ہوں گے تو ان کی آنکھیں کیسی ٹھنڈی ہوتی ہوں گی! اور جب اہلِ علم میں سے کسی کو اس کی تکفیر کرتے دیکھتے ہوں گے تو ان کی خوشی کا کیا عالم ہوتا ہوگا!
اگر شیخ تقی الدین کے فضائل میں صرف ان کے مشہور شاگرد شیخ شمس الدین ابن قیم الجوزیہ ہی ہوتے جن کی نافع اور دل آویز تصانیف سے موافق و مخالف سبھی نے فائدہ اٹھایا، تو ان کے بلند مرتبے کی دلیل کے لیے یہی کافی تھا۔ پھر اس صورت میں کیا کہا جائے جب حنبلی علما تو درکنار، ان کے عہد کے شافعی اور دوسرے ائمہ ان کی علمی برتری اور الفاظ کے صریح و مضمر معانی میں امتیاز کی غیر معمولی صلاحیت کی گواہی دے چکے ہیں!
ان تمام حقائق کے باوجود جو شخص انھیں کافر قرار دے، یا اس شخص کی تکفیر کرے جو انھیں شیخ الاسلام کہتا ہو، اس کی بات کسی التفات کے لائق نہیں اور نہ اس معاملے میں اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے بل کہ اسے اس روش سے روکنا لازم ہے یہاں تک کہ وہ حق کی طرف رجوع کرے اور درست بات کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔ اللّٰہ ہی حق فرماتا ہے اور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے؛ ہمارے لیے اللّٰہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے[102]۔ ‘‘
ابن حجر نے اپنی کتاب الدرر الکامنة فی أعیان المائة الثامنة میں ان کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
’’احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن عبداللّٰہ بن ابی القاسم ابن تیمیہ حرانی، پھر دمشقی حنبلی، تقی الدین ابوالعباس؛ انھوں نے فقہ میں مہارت حاصل کی، کمال پیدا کیا، امتیازی مقام پایا اور اپنے معاصرین سے آگے نکل گئے۔ کتابیں تصنیف کیں، درس دیا اور فتوے صادر کیے۔ وہ اپنے ہم عصروں پر سبقت لے گئے اور سرعتِ استحضار، قوتِ قلب، منقول و معقول علوم میں وسعت اور مذاہبِ سلف و خلف پر گہری نظر کے اعتبار سے ایک عجوبۂ روزگار بن گئے[103]۔‘‘
- سیوطی نے اپنی کتاب طبقات الحفاظ میں ابن تیمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ابن تیمیہ شیخ، امام، علامہ، حافظ، ناقد، فقیہ، مجتہد، ممتاز مفسر، شیخ الاسلام، زاہدوں کے پیشوا اور اپنے عہد کی نادرۂ روزگار شخصیت تھے۔ ان کا نام تقی الدین ابوالعباس احمد بن مفتی شہاب الدین عبدالحلیم بن امام مجتہد شیخ الاسلام مجد الدین عبدالسلام تھا۔ وہ علم کے بحرِ بے کراں، نام ور اصحابِ ذہانت، زاہدوں اور یگانۂ روزگار شخصیات میں سے تھے۔ انھوں نے تین سو جلدیں تصنیف کیں، آزمایشوں سے گزرے اور بارہا اذیتیں اٹھائیں[104]۔‘‘
خاتمۂ بحث
حاصلِ کلام یہ ہے کہ مخالفین کے ساتھ عدل اور اہلِ علم کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا جائے؛ یہی منہجِ حق کا تقاضا ہے ۔ اشاعرہ نے مفید علوم اور دینِ الہٰی کی گراں قدر خدمات کا جو سرمایہ چھوڑا ہے، اس کا انکار نہ کیا جائے اور اس کے ساتھ عقائد اور صفات کے ابواب میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں، ان پر خاموشی بھی اختیار نہ کی جائے۔ توفیق یافتہ وہی ہے جو منہجِ سلف پر چلتے ہوئے تنقید کرے مگر جرحِ ناروا سے بچے؛ تحسین کرے لیکن غلو میں مبتلا نہ ہو؛ حق کو واضح اور باطل کو رد بھی کرے اور اہلِ علم کے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا بھی کرتا رہے۔
انصاف دو انتہاؤں کے درمیان اعتدال کی راہ ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنھوں نے اشاعرہ کو یک قلم ساقط کر دیا، ان کی تمام علمی کاوشوں کو بے وقعت ٹھیرایا اور ان کے صالح علما کو بدعتی، گم راہ بل کہ کافر قرار دیا۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنھوں نے اشاعرہ کے بارے میں ایسا غلو کیا کہ انھی کے مذہب کو سراسر حق اور انھی کو اہلِ سنت والجماعت قرار دے دیا، یا کم از کم انھیں اہلِ سنت والجماعت میں شمار کیا[105]، یا یہ سمجھا کہ ان کی غلطیوں پر خاموشی ہی عافیت کی راہ ہے۔ سچ کہا گیا ہے کہ:
’’عدل، انصاف کی بنیاد ہے اور انصاف، علم کا ہم نشیں۔ جو انصاف نہ کرے، وہ عدل نہیں کر سکتا اور جو عدل سے محروم ہو، وہ حق تک نہیں پہنچ سکتا۔‘‘
ہم اللّٰہ تعالیٰ سے نیت کی اصلاح، علمِ نافع، راست اور درست بات کہنے کی توفیق، اس کے نبی ﷺ کی کامل پیروی اور ائمۂ ہدایت کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت مانگتے ہیں۔ بے شک وہی اس کا کارساز ہے اور اسی کو اس کی پوری قدرت حاصل ہے۔
[1] نگران اعلیٰ، الدرر السنیۃ
[2] فاضل، جامعہ لاہور الاسلامیہ رحمانیہ
[3] دیکھیے مقالہ بہ عنوان: نَقضُ دعوى انتِسابِ الأشاعِرةِ لأهلِ السُّنَّةِ والجماعةِ.
[4] مجموع الفتاوى، 23 /345.
[5] مجموع الفتاوى، 12 /466.
[6] مجموع الفتاوى، 3 /230.
[7] مجموع الفتاوى، 23 /346-349.
[8] مجموع الفتاوى، 12 /487.
[9] الدرر السنية، 10 /432.
[10] الفتاوى الكبرى، 2 /403.
[11] مجموع الفتاوى، 6 /55.
[12] مجموع الفتاوى، 6 /55.
[13] مجموع الفتاوى، 12 /206.
[14] مجموع الفتاوى، 7 /507.
[15] دیکھیے: المغني، ابن قدامة، 2 /416.
[16] مجموع الفتاوى، 12 /488.
[17] المسائل الماردينية، ص 158.
[18] الرد على البكري، 2 /494.
[19] بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية، 6 /416. نیز دیکھیے: إبطال التأويلات،
القاضي أبو يعلى، ص 88؛ الاعتقاد، ابن أبي يعلى، ص 27؛ طبقات الحنابلة، ابن أبي يعلى،
1 /336.
[20] كتاب التوحيد، 1 /86.
[21] أصول الإيمان، ص 10.
[22] مشكل الحديث وبيانه، ص 38.
[23] تبيين كذب المفتري فيما نُسب إلى الأشعري، ص 358.
[24] قانون التأويل، ص 357.
[25] منهاج السنة النبوية، 5 /239-241.
[26] مجموع الفتاوى، 3 /229.
[27] یعنی علما، جب ان سے خطا ہو جائے.
[28] مجموع الفتاوى، 35 /101.
[29] أخرجه البخاري، 3481؛ ومسلم، 2756.
[30] مجموع الفتاوى، 3 /231.
[31] مجموع الفتاوى، 32 /239.
[32] سير أعلام النبلاء، 14 /40.
[33] سير أعلام النبلاء، 14 /374-376.
[34] اور نووی و ابن حجر سے زیادہ اس وصف کا حق دار کون ہو سکتا ہے؟.
[35] سير أعلام النبلاء، 5 /271.
[36] اور نووی و ابن حجر سے زیادہ اس وصف کا حق دار کون ہو سکتا ہے؟.
[37] أعلام الموقعين، 5 /235.
[38] مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة، 1 /176.
[39] تقرير القواعد وتحرير الفوائد، 1 /56.
[40] توضيح الكافية الشافية، ص 244-246.
[41] مجموع الفتاوى، 35 /100.
[42] بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية، 3 /538.
[43] درء التعارض، 6 /292.
[44] درء تعارض العقل والنقل، 2 /101-103.
[45] فتاوى اللجنة الدائمة، المجموعة الثانية، برئاسة ابن باز، 2 /410-411.
[46] فتاوى اللجنة الدائمة، المجموعة الأولى، برئاسة ابن باز، 3 /220.
[47] مجموع فتاوى ابن باز، 28 /256.
[48] مجموع فتاوى ومقالات متنوعة، 3 /72.
[49] البداية والنهاية، 17 /20-21.
[50] مجموع الفتاوى، 3 /281.
[51] شرح العقيدة الأصفهانية، ص 127.
[52] مجموع الفتاوى، 32 /240.
[53] طبقات علماء الحديث، 3 /329.
[54] سير أعلام النبلاء، 18 /163-169.
[55] تاريخ الإسلام، 10 /95.
[56] البداية والنهاية، 16 /9.
[57] دیکھیے: شرح العقيدة الأصفهانية، ص 184؛ نقض المنطق، ص 94؛ بيان تلبيس الجهمية،
8 /487، وغیرہ.
[58] طبقات علماء الحديث، 4 /214.
[59] سير أعلام النبلاء، 23 /140-143. نیز دیکھیے: تاريخ الإسلام، 14 /455-457.
[60] الوابل الصيب، ص 58.
[61] طبقات الشافعيين، ص 857-858.
[62] ذيل طبقات الحنابلة، ابن رجب، 2 /319.
[63] الدرر السنية في الأجوبة النجدية، 15 /104.
[64] مجموع الفتاوى، 2 /244.
[65] مجموع الفتاوى، 1 /347.
[66] تاريخ الإسلام، 14 /933-935.
[67] طبقات الشافعيين، ص 873-875.
[68] ذيل طبقات الحنابلة، 4 /69.
[69] ذيل طبقات الحنابلة، 2 /192.
[70] مجموعة الرسائل والمسائل النجدية، الجزء الرابع، القسم الثاني، ص 623.
[71] الدرر السنية في الأجوبة النجدية، 10 /262.
[72] دیکھیے: مجموع الفتاوى، 8 /382؛ الإيمان الأوسط، ص 581.
[73] طبقات علماء الحديث، 4 /254.
[74] تاريخ الإسلام، 15 /324-332.
[75] تذكرة الحفاظ، 4 /174.
[76] جلاء الأفهام، ص 545؛ ص 239.
[77] البداية والنهاية، 17 /540-541
[78] طبقات الشافعيين، ص 909-913.
[79] جامع العلوم والحكم، 1 /56.
[80] الدرر السنية في الأجوبة النجدية، 10 /313.
[81] الدرر السنية في الأجوبة النجدية، 4 /319.
[82] الدرر السنية في الأجوبة النجدية، 8 /270.
[83] الدرر السنية في الأجوبة النجدية، 15 /301.
[84] مجموع فتاوى ابن باز، 17 /151.
[85] شرح رياض الصالحين، 1 /11-12.
[86] شرح الأربعين النووية، ص 3-4
[87] جامع المسائل، 9 /72.
[88] طبقات علماء الحديث، 4 /265.
[89] تذكرة الحفاظ، 4 /181-182.
[90] البداية والنهاية، 18 /29-31.
[91] ذيل طبقات الحنابلة، 4 /82.
[92] ذيل طبقات الحنابلة، ابن رجب، 4 /99.
[93] الدرر السنية في الأجوبة النجدية، 4 /241.
[94] مجموعة الرسائل والمسائل النجدية، 1 /436
[95] الدرر السنية في الأجوبة النجدية، 1 /228.
[96] الدرر السنية في الأجوبة النجدية، 4 /251.
[97] فتاوى اللجنة الدائمة، المجموعة الثانية، برئاسة ابن باز، 2 /410-411.
[98] مجموع فتاوى ابن باز، 28 /47.
[99] حوالۂ سابق.
[100] الرد الوافر، ابن ناصر الدين، ص 60.
[101] تقريظ لابن حجر على الرد الوافر، ص 12-15.
[102] حوالۂ سابق. یہ تقریظ حافظ ابن حجر نے اپنے ہاتھ سے لکھی، اور اسے ان کے شاگرد سخاوی نے اپنی کتاب الجواهر
والدرر، 2 /736 میں مکمل نقل کیا ہے.
[103] الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة، 1 /168.
[104] طبقات الحفاظ، ص 520-521.
[105] دیکھیے: كتاب نَقضُ دعوى انتِسابِ الأشاعِرةِ لأهلِ السُّنَّةِ والجماعةِ.