شیخ الحدیث مولانا فاروق احمد راشدی
عالمانہ سادگی، وفا اور استقامت کی موت
شیخ الحدیث مولانا فاروق احمد راشدی
عالمانہ سادگی، وفا اور استقامت کی موت
ڈاکٹر فہد اللہ مراد
دس محرم 1448ھ کی شب لاہور سے بہ ذریعہ ٹرین ایک سفر پر نکلنا تھا کہ افطار کے وقت ایک حادثے کی خبر موصول ہوئی کہ جس نے ہمارے تمام تر معمولات کو تہہ و بالا کردیا وہ یہ کہ بقیۃ الاولیاء، زبدۃ العلما، نمونۂ سلف حضرت شیخ الحدیث مولانا فاروق احمد راشدی اس الم ناک دن میں مرحومین کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔ آپ کی وفات حسرت آیات پر ہم وفا، سادگی اور استقامت کا نوحہ پڑھیں گے۔
مولانا فاروق احمد راشدی کا اسم گرامی ان قابل تقلید ہستیوں میں شمار ہوتا ہے جن کا ذکر خیر ہمارے گھر کے مستقل معمولات میں شامل تھا۔ والد گرامی امام القرا حضرت قاری محمد یحییٰ رسول نگریؒ کا مبارک معمول تھا کہ اسلاف کے تذکرے سے اپنی مجالس کو آباد رکھتے اور اپنے آنسوؤں سے انھیں خراج تحسین پیش کرتے رہتے تھے ۔جن میں حضرت مولانا داؤد غزنوی، مولانا محمد اسماعیل سلفی، میاں محمد باقر، قاری اظہار احمد تھانوی، پیر جماعت علی شاہ ، مولانا احمد علی لاہوری، علامہ محمد یوسف کلکتوی، مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا محی الدین لکھوی، مولانا حافظ عبدالرزاق، مولانا قاری فاروق احمد، مولانا محمد صدیق کرپالوی جیسی نادرۂ روزگار ہستیاں شامل تھیں۔
زندہ علمامیں حضرت جن شیوخ کا بہ کثرت تذکرہ کرتے اور ان سے گاہے گاہے سلسلۂ ملاقات بھی رہتا، ان میں مولانا راشدیؒ بھی تھے۔ مولانا راشدیؒ سے آپ کا تعلق تلمذ کا تھا۔ مسجد چینیانوالی سے تجوید و قراءت سے فراغت کے بعد آپ درس نظامی کے لیے جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ تشریف لے گئے، جہاں ابتدائی تین سال تک تعلیم حاصل کی؛ وہیں مولانا راشدیؒ سے شرفِ تلمذ پایا۔ اس واقعہ کے بعد ہم نے حضرت والد گرامی کو ہمیشہ مولانا راشدی کے بارے رطب اللسان پایا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کی شخصیت عالمانہ سادگی کے باوصف ہمیشہ ہمارا گھریلو رومان رہی ہے۔
مولانا کی طبیعت میں سادگی کا وہ عنصر جسے ہم نے عنوان بنایا ہے، وہ تو ہر اس شخص پر آشکار ہوجاتا تھا جسے حضرت کی زیارت نصیب ہوئی ہے۔ عام طور پر سادہ جالی دار ٹوپی پہنے ہوئے کھلے سادہ لباس میں ملبوس ،وقار میں گندھے ہوئے، ہر قسم کی تصنع سے پاک نظروں کو خیرہ کرتے دکھائی دیتے تھے ۔بندہ نوازی اس سطح کی تھی کہ جب احقر ایک دفعہ والد گرامی کے ہم راہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا، ان دنوں ادارۂ محدث لاہور سے وابستہ تھا اور رشد قراء ت نمبر نئے نئے جاری ہوئے تھے۔ والد صاحب نے میرے بارے میں فرمایا کہ لاہور حضرت مدنی شفاہ اللّٰہ کے پاس ہوتا ہے؛ تو آپ فرمانے لگے: میں نے فہد اللّٰہ کے مضمون دیکھ رکھے ہیں؛ ساتھ ناصحانہ ارشاد فرمایا کہ آپ کی نثر تھوڑی مشکل ہے، اُسے آسان کرو۔
ہمارے لیے اس سے بڑا کیا اعزاز تھا کہ وہ شخصیت جو والد گرامی کے اُستاد ہیں، ہمارے الفاظ کو بھی زیر نظر رکھتے ہیں۔
وفا آپ کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی جس کی ایک قابل رشک مثال یہ ہے کہ زندگی بھر اپنے اُستاد گرامی حضرت مولانا ابوالبرکات احمدؒ کے ارشاد کے مطابق ان کی مسند کے نہ صرف امین رہے بل کہ ہر طرح کے مصائب و آلام میں ثابت قدم رہے؛ حتیٰ کہ حضرت استاد گرامی کی ذاتِ مبارک اور مدرسے کی انتظامیہ میں سے کسی ایک کو انتخاب کا موقع ملتا تو ہمیشہ قرعۂ انتخاب استاد گرامی کے نام آتا۔ اس پر ایک واقعہ شاہد عدل ہے کہ حضرت مولانا ابوالبرکاتؒ کے فرزند ارجمند مولانا عبدالسمیع عاصم بھی حضرت راشدی کے زیر سایہ جامعہ اسلامیہ میں پڑھاتے تھے۔
ایک موقع پر مولانا عبدالسمیع کے انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں دراڑ آگئی جس پر انھوں نے ان کی خدمات واپس کردیں۔ حضرت راشدیؒ کا تعلق مولانا عاصم سے ایک استاد ادارہ کا نہیں تھا بل کہ وہ ان میں اپنے نادرۂ روزگار استاد کا عکس دیکھتے تھے۔ حضرت راشدیؒ نے اس اختلاف کو رفع کروانے کی بہت کوشش کی اور بتایا کہ یہ کوئی استاد نہیں بل کہ مولانا کے فرزند ہیں لیکن انتظامیہ اپنی راے پر جمی رہی؛ بالآخر مولانا نے اپنا آخری فیصلہ سنایا کہ استاد گرامی کے بیٹے کے ہم راہ ان کا شاگر دبھی رختِ سفر باندھے گا ۔
دوستانہ وفا کا عالم یہ تھا کہ مولانا محمد علی جانبار صاحب ِانجاز الحاجہ شرح ابن ماجہ آپ کے ہم درس تھے۔ زندگی بھر ان سے دوستی کا تعلق اس شدت سے نبھایا کہ ایک مثال بن گئی۔ ان کے صحت کے دنوں مہینے میں دو بار ملاقات کا سلسلہ قائم رہا لیکن جب مولانا جانبار علیل ہوگئے تو ہر ہفتے انھیں دیکھنے جاتے اور گھنٹوں بیٹھ کر دوستانہ یادوں کو تازہ کرکے بیماری اور نقاہت کے بوجھ کو ہلکا کرتے۔
استقامت کا عالم یہ تھا کہ پینسٹھ برس کی اپنی تدریسی ذمہ داری کے آخری روز بھی اپنے اسباق پڑھائے اور پھر حکومتی شیڈول پر نو دس محرم کی جامعہ میں عمومی تعطیل ہوگئی۔ اگلے روز کچھ علالت کا صدمہ برداشت کیا اور دس محرم کو بارگاہِ ایزدی میں بندۂ وفا شعار کے طور پر حاضر ہوگئے۔ رحمه الله تعالیٰ وأسکنه فسیح جنانة
آپ کی اسی عملی استقامت کا نتیجہ ہے کہ جماعت کے کبار اعلام جوکہ خود اپنی زندگی میں ایک بزم تھے، نے آپ سے زانوے تلمذ طے کیے اور آپ کی دعاؤں سے بزم علم و ہنر کے آفتاب بنے جن میں سرفہرست حضرت والد گرامی امام القراء قاری محمد یحییٰ رسول نگری، حضرت شیخ المجودین والمقرئین قاری محمد ادریس عاصم لاہوری، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اعظم گوجرانوالہ، الشیخ مولانا ثناء اللّٰہ زاہدی، مولانا ڈاکٹر عبدالرشید اظہر اور مولانا حفیظ الرحمن لکھوی ایسے اصحاب علم و فضل شامل ہیں۔
استقامت اور ذمہ دارانہ تدریس کا یہ عالم تھا کہ تدریس میں ناغے سے نفرت کی حد تک بیر تھا اور اگر کسی استاد اور طالب کے بارے معلوم ہوتا کہ وہ ناغہ نہیں کرتا تو اسے انعام سے نوازتے اور خوب حوصلہ افزائی کرتے۔ ایک مرتبہ جامعہ اسلامیہ کے استاد اور حضرت مولانا ابوالبرکات کے لخت جگر مولانا عبدالسمیع عاصم نے جامعہ اسلامیہ میں تقریب بخاری کے دوران یہ اعلان کردیا کہ جامعہ میں کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے سبق کا ناغہ نہیں کیا تو اُسے انعام سے نوازا جائے گا۔ ساتھ یہ بھی خبر دی کہ الحمدللہ آپ کے اساتذہ میں چھے مبارک ہستیاں ایسی ہیں کہ جنھوں نے سال بھر سبق میں ایک ناغہ بھی نہیں کیا! حضرت راشدیؒ نے جب اپنے اساتذہ کی اس ذمہ دارانہ روش کے بارے میں برسرِ مجلس یہ اعلان سنا تو فرطِ جذبات سے فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے اور چھے کے چھے اساتذہ کی خدمت میں انعامی رقم پیش فرمائی۔
جامعہ اسلامیہ میں معلمانہ ذمہ داری کا یہ ولولہ حضرت والد گرامی کے بہ قول مولانا ابوالبرکات کی ذات باکمال سے پیدا ہوا تھا۔ آپ اپنے دورِ نظامت میں اس قدر ہمہ جہت منتظم اور معلم تھے کہ آج اس کی پابندی تو درکنار سوچنا بھی محال ہے۔ آپ نے بے پناہ تدریسی مصروفیات کے ساتھ جامعہ کی جملہ انتظامی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر ڈال رکھا تھا؛ مثلاً وہ طلبہ کا داخلہ خود کرتے، اسمبلی کا اہتمام اور طلبہ کی حاضری خود لگاتے۔ رات کو بھی طلبہ کی حاضری کا اہتمام کرتے۔ مطالعہ میں بھی طلبہ کی نگرانی فرماتے۔ یہاں تک جامعہ کی لائبریری کی ذمہ داری بھی خود پر ڈال رکھی تھی؛ کتابوں کا اجرا اور انھیں جمع بھی خود فرماتے۔ یہ وہ اوصافِ حمیدہ ہیں جو مولانا راشدیؒ کو اپنے شفیق مربی سے ملے تھے جنھیں زندگی بھر اسی طرح کامل قلندرانہ شان سے نبھاتے رہے۔ مولانا راشدی نے شان استغنا بھی اپنے شیخ سے وراثت میں پائی تھی آپ تدریسی ذمہ داریوں کے بعد عصر کے وقت ایک مطب پر بھی بیٹھتے تھے اور خانگی ذمہ داریوں کے لیے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ یہی روش حضرت مولانا ابوالبرکات کی تھی کہ اپنے ذاتی کاموں میں طلبہ تک کو زحمت دینا گوارہ نہیں کرتے تھے۔ دینی تعلیم سے وابستہ اکثر افراد فقیرانہ زندگی بسر کرتے ہیں اور قوت لایموت ہی ان کا روزگار ہوتا ہے۔ اس سے دیگر اشواق دینی ودنیوی کے لیے کچھ رقم پس انداز کرنا عام طور پر ممکن نہیں ہوتا، لہٰذا بہت سارے علما شوق کے باوصف حج مبارک تک کا سفر نہیں کرپاتے ۔ ایک دفعہ مولانا ابو البرکات کے ایک عقیدت مند نے حج کے خرچ کے لیے جو کچھ سرمایۂ ضرورت تھا، سب خدمت میں پیش کرکے عرض کی کہ آپ حج فرمالیں۔ آپ نے یہ کہہ کر وہ رقم واپس کردی کہ حج زادِ راہ کی شرط پر فرض ہے کیوں میرے پاس اس قدر مال ہی نہیں ہے، اس لیے مجھ سے یہ فرض ہی ساقط ہے؛ آپ اپنا مال اپنی ضروریات میں استعمال فرمالیں۔ یہ وہ قلندرانہ شان ہے کہ فقیروں کے حضور شاہوں کا بھی گزر نہیں ہونے دیتا۔ ہمیں بھی مالک ارض و سما انھی اخلاق حمیدہ کا پیکر بنادے۔ آمین!
شاید یہی وہ عالمان باصفا تھے جن کے بارے میں شورش مرحوم نے کہا تھا:
زیادہ دن نہیں گزرے یہاں کچھ لوگ رہتے تھے جو دل محسوس کرتا تھا علی الاعلان کہتے تھے
گریباں چاک دیوانوں میں ہوتا تھا شمار ان کا قضا سے کھیلتے تھے وقت کے الزام سہتے تھے
آپ کے سوگواران میں ہر صاحب علم اور طالب دین شامل ہے لیکن خاندان میں آپ نے پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
بڑے صاحب زادے جناب عبدالسمیع صاحب وفاقی دارالحکومت میں ایک محکمہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ منجھلے جناب مولانا عبدالباسط صاحب سرکاری تعلیمی ادارے میں خدمات کے ساتھ ساتھ جامعہ اسلامیہ میں بھی وقت دیتے ہیں۔ درمیانے صاحب زادے جناب مولانا عبدالماجد کلیم آپ کے علمی وارث ہیں اور آپ کے زیر سایہ درس و تدریس کی خدمات انجام دیتے رہے۔ آخری دونوں بیٹے جناب عبدالاحد اور جناب عبد الواجد میڈیسن کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ عبدالواحد صاحب حاذق طبیب ہیں اور والد گرامی کی مستند طبابت کے امین ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر سب سوگواران کو صبر و جمیل عنایت فرمائےاور مولانا گرامی کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
علماے ربانیین جوکہ کسی سیاسی یا قومی منصب پر نہ ہوں، ان کا پہلا استقبال جنازے کی شکل میں ہوتا ہے۔ ہم احباب کے ہم راہ جب گیارہ محرم بہ روز ہفتہ کو گوجرانوالہ مکرم مسجد پہنچے تو دیکھا پورے ملک کے طول و عرض کے علماے کرام، قراے عظام اور طلباے علومِ نبوت کے قافلے جوق در جوق پہنچ رہے ہیں۔ پورے مرکز میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی حسب وصیت مولانا حافظ عبدالماجد کلیم صاحب نے امامت کروائی اور ہزاروں شائقین علم کے آنسوؤں اور پرکیف دعاؤں کی چھاؤں میں آپ کو اپنے اساتذہ کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا؛ اللهم اغفرله وارحمه وارفع درجته فی علیین۔