مشترکہ دفاعی معاہدہ...مثاقِ مکہ
مشترکہ دفاعی معاہدہ...مثاقِ مکہ
دنیا میں وہ قومیں ہمیشہ اہمیت کی حامل رہی ہیں جنہوں نے اپنے عسکری اور دفاعی معاملات کو اہمیت دی۔ جن اقوام نے اس حوالے سے تساہل کا مظاہرہ کیا، وہ اقوام کمزور رہیں اور کئی مرتبہ انہیں بیرونی جارحیت کا نشانہ بننا پڑا۔ تاریخِ عالم اس حقیقت کی گواہ ہے کہ امن کی خواہش اپنی جگہ ایک قابلِ قدر جذبہ ہے، لیکن امن کےقیام کے لیے قوت، تیاری، نظم، اتحاد اور بروقت فیصلہ بھی نہایت اہم ہے۔ جو قوم اپنی آزادی، سرحدوں، قومی مفادات اور تہذیبی تشخص کے تحفظ کی صلاحیت پر توجہ نہیں دیتی وہ بالآخر دوسروں کے فیصلوں کے تابع ہو کر رہ جاتی ہے۔
کتاب و سنت نے دفاعی صلاحیت، تیاری اور قوت کے حصول کو بہت اہمیت دی ہے۔
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ ﴾
[الأنفال: 60]
’’ جہاں تک تم سے ہو سکے ان کے مقابلے کے لیے قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو، تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن پر رعب قائم کر سکو۔‘‘
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام کی نظر میں قوت کے حصول اور اظہار کا مقصد ظلم، جارحیت یا دوسروں کے حقوق غصب کرنا نہیں بلکہ ظلم و جارحیت کو روکنا، کمزوروں کی حفاظت کرنا اور امن کو یقینی بنانا ہے۔ چنانچہ ایک مضبوط دفاعی قوت دراصل پائیدار امن کی ضمانت دیتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی حیاتِ مبارکہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کو غیر معمولی اہمیت دی تھی۔ اس حوالے سے بعض اہم احادیث درج ذیل ہیں:
- حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے، جنت میں کسی کے لیے ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے اور جو شخص اللہ کے راستے میں شام کو نکلے یا صبح کو تو وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے[1]۔‘‘
- حضرت سلمان سے روایت ہے، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
’’ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرہ دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر پہرہ دینے والا فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کر رہا تھا آئندہ بھی جاری رہے گا، اس کے لیے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ امتحان لینے والے سے محفوظ رہے گا[2]۔‘‘
- حضرت فضالہ بن عبید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ہر شخص کا عمل اس کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے، مورچہ زن کے سوا، اس کے عمل میں قیامت تک اضافہ ہوتا رہتا ہے اور وہ قبر کے عذاب یا منکر و نکیر کے سوال و جواب سے بھی امن میں رہتا ہے۔‘‘
- حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:
’’دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہِ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو[3]۔‘‘
نبی کریم ﷺ خود بھی اسلامی سرحدوں کے دفاع میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے۔ اس حوالے سے حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ایک آواز سنائی دی تو اہلِ مدینہ گھبرا گئے ۔ رسول کریم ﷺ ابوطلحہ کے گھوڑے پر، جس کی پیٹھ ننگی تھی، حقیقتِ حال معلوم کرنے کے لیے تنہا اطرافِ مدینہ میں سب سے آگے تشریف لے گئے۔ واپس آئے تو تلوار آپ ﷺ کی گردن میں حمائل تھی اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں، گھبرانے کی کوئی بات نہیں[4]۔‘‘
مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ اسلامی سرحدوں کا دفاع، دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے تیاری اور مسلمانوں کی جان و مال، عزت اور آزادی کی حفاظت اسلام میں کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔
گزشتہ کئی عشروں سے بہت سے مسلمان ممالک اپنے دفاع کے حوالے سے کمزوری کا شکار رہے ہیں، جبکہ بہت سے غیر مسلم اور مغربی ممالک نے دفاعی ٹیکنالوجی، عسکری تحقیق، انٹیلی جنس، فضائی قوت، بحری طاقت، سائبر جنگ، خلائی ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ سازی کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ اس دفاعی برتری کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
فلسطین کا مسئلہ اس حقیقت کی ایک المناک مثال ہے۔ اسرائیل کی عسکری طاقت نے خطے میں طاقت کا ایسا عدم توازن قائم کیا ہے جس کے باعث فلسطینی عوام مسلسل ایک پیچیدہ اور طویل بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کا مسئلہ بھی جنوبی ایشیا میں کئی دہائیوں سے ایک اہم تنازع کی صورت میں موجود ہے۔اس طوالت کی وجہ بھارت کی عسکری قوت اور اس کی بنیاد پر کی جانے والی جارحیت ہے ۔یہ صورتِ حال دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس احساس کو تقویت دیتی رہی ہے کہ امتِ مسلمہ کو جذبات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم، معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، دفاع، سفارت کاری اور باہمی تعاون کے میدانوں میں حقیقی قوت پیدا کرنا ہوگی۔
موجودہ دور میں دفاع صرف توپ، ٹینک اور جنگی طیارے کا نام نہیں رہا۔ آج دفاع میں سیٹلائٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر، میزائل ڈیفنس، انٹیلی جنس، خلائی نگرانی، جدید مواصلاتی نظام، سائبر انٹیلی جنس اور دفاعی صنعت سب شامل ہیں۔ جس ملک کے پاس جدید تحقیق اور سائنسی بنیاد نہ ہو، وہ روایتی اسلحہ رکھنے کے باوجود اپنے دفاع کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔
موجودہ دنیا میں دفاعی اعتبار سے اتحاد اور معاہدوں کی بھی غیر معمولی اہمیت ہے۔ مغربی ممالک نے نیٹو کی صورت میں ایک ایسا اجتماعی دفاعی نظم قائم کیا جس نے کئی دہائیوں تک یورپ اور شمالی اوقیانوس کے خطے میں طاقت کا ایک تاثر قائم کیے رکھا۔ اس معاہدے سے نہ صرف یورپ محفوظ ہوا ہے ، بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں ۔
اس نظم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ایک رکن کو درپیش سنگین فوجی خطرہ محض اس ملک کا ذاتی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اتحادیوں کے لیے بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں مسلم دنیا کے پاس طویل عرصے تک کوئی ایسا جامع اور مؤثر اجتماعی دفاعی نظم موجود نہیں تھا جس میں مختلف طاقتور مسلم ممالک ایک مشترکہ دفاعی تصور کے تحت باقاعدہ طور پر اکٹھے ہوں۔اسی پس منظر میں ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
عالمِ اسلام کے مسلمان اس وقت خوشی اور مسرت سے لبریز ہوگئے جب ان کی تشنہ آرزوئیں اور
برس ہا برس کی نیک تمنائیں ایک نئی شکل میں حقیقت کا رنگ اختیار کرتی دکھائی دیں۔
7 اگست 2026ء کو پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ (Makkah/Mecca Joint Defence Agreement) پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران طے پایا، جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے۔
معاہدے کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے یہ طے کیا کہ ان میں سے کسی ایک ریاست پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں کو مزید مضبوط بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی غیر معمولی سطح پر پہنچ چکی ہے اور سعودی عرب سمیت خطے کے کئی ممالک اپنی سلامتی کے بارے میں نئے سوالات کا سامنا کر رہے ہیں
سعودی عرب ، ترکی یا پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف جارحانہ اتحاد نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت دفاعی، اجتماعی سلامتی اور علاقائی استحکام کی ہے ۔
اس تاریخی معاہدے کے تینوں فریق دنیائے اسلام میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں اور ہر ایک اپنی جگہ ایک منفرد قوت رکھتا ہے۔
پاکستان، اللہ کے فضل و کرم سے دنیا کی واحد جوہری ہتھیار رکھنے والی مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ اس کے پاس ایک بڑی فوج، جوہری ڈیٹرنس، میزائل ٹیکنالوجی، فضائی صلاحیت، دفاعی پیداوار کا تجربہ اور خطے میں ایک اہم جغرافیائی محلِ وقوع موجود ہے۔اس کی مسلح افواج کو کئی دہائیوں کا دفاعی تجربہ حاصل ہے اور ملک نے مختلف النوع سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ مئی 2025ء میں پاک بہارت جنگ میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت کھل کر سامنے آئی جس کا پوری دنیا کے ماہرین نے اعتراف کیا ۔اس کی فوجی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اس کا جغرافیہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین، افغانستان، اور خلیجی خطے کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے...یہی وجہ ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت اس معاہدے کو ایک منفرد اسٹریٹجک وزن عطا کرتی ہے۔
سعودی عرب عالمِ اسلام کا ایک نمایاں ترین ملک ہے۔ اس کے پاس بے پناہ معاشی وسائل، اہم جغرافیائی محلِ وقوع، توانائی کے وسیع ذخائر اور خطے میں نمایاں سیاسی اثر و رسوخ موجود ہے۔سب سے بڑھ کر حرمین شریفین کی تولیت کی وجہ سے پوری امتِ مسلمہ کے دل اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ شاہ فیصل مرحوم اور شاہ فہد مرحوم جیسے سعودی حکمرانوں کی اسلام اور ملتِ اسلامیہ سے وابستگی بھی مسلم دنیا کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ حرمین شریفین کی خدمت اور قرآن مجید کی اشاعت و ترویج کے میدان میں سعودی عرب نے بھی طویل عرصے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی دفاعی سلامتی صرف سعودی عرب کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خلیجی خطے، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
پاکستان کے اپنے قیام سے لے کر آج تک سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاع، معیشت، دینی اخوت ،عوامی روابط اور باہمی تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔
ترکی بھی عالمِ اسلام کی ایک اہم طاقت ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے اس کی حیثیت انتہائی منفرد ہے کیونکہ یہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔
ترکیہ کی ایک بڑی طاقت اس کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت ہے۔ ڈرونز، بغیر پائلٹ دفاعی نظام، بحری ٹیکنالوجی، بکتر بند گاڑیاں، میزائل اور مختلف جدید دفاعی نظاموں میں ترکی نے گزشتہ برسوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے میں پاکستان کی عسکری صلاحیت، سعودی عرب کی معاشی و جغرافیائی قوت اور ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی باہم مل کر ایک نئی نوعیت کی اسٹریٹجک شراکت داری تشکیل دے سکتی ہیں۔
اس معاہدے کو صرف جنگی اتحاد سمجھنا شاید اس کی مکمل تصویر نہیں ہوگی۔ اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ تین ممالک نے اپنی اجتماعی سلامتی کو ایک مشترکہ دینی اور نظریاتی وحدت کے ساتھ جوڑنے کا آغاز کیا ہے۔
دفاعی تعاون اگر درست سمت میں آگے بڑھتا ہے تو اس کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں۔ جیساکہ ترکی نے بعد میں معاہدے کے حوالے سے دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور جدید عسکری شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی بات کی ہے۔ تاہم معاہدے کا مکمل قانونی متن عوامی سطح پر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس کی تمام عملی شقوں کو حتمی شکل میں بیان کرنا قبل از وقت ہوگا۔
اس معاہدے کے بعد پاکستان کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔پاکستان کو اب صرف یہ نہیں دیکھنا کہ اس معاہدے سے وہ سیاسی یا سفارتی فائدہ کتنا حاصل کرسکتا ہے، بلکہ اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور امن پسند دفاعی شراکت دار ہے۔
اگر پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت کو سفارتی بصیرت، اقتصادی استحکام، جدید ٹیکنالوجی اور دانش مندانہ خارجہ پالیسی کے ساتھ جوڑ دے تو اس کا عالمی کردار آنے والے برسوں میں مزید بڑھ سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان امن، خودمختاری، قومی مفاد اور اجتماعی سلامتی کے اصولوں کو سامنے رکھے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے سامنے آنے کے بعد بعض حلقوں میں اسے ’’اسلامی نیٹو‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے، لیکن فی الحال اس تعبیر کو احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ نیٹو ایک انتہائی منظم، طویل عرصے سے قائم اور وسیع ادارہ جاتی ڈھانچہ رکھنے والا اتحاد ہے۔ مکہ معاہدہ اس مرحلے پر صرف تین ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ ہے اور اس کے مکمل عملی ڈھانچے، کمانڈ سسٹم، تعیناتی کے طریقۂ کار اور دیگر تفصیلات کے بارے میں ابھی مزید معلومات درکار ہیں۔البتہ اس معاہدے کو ایک مثبت ابتدائی قدم ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔
اگر مستقبل میں مزید مسلم ممالک اس نوعیت کے دفاعی تعاون میں شریک ہوتے ہیں، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی وجود میں آتی ہے، باقاعدہ مشقیں ہوتی ہیں، انٹیلی جنس شیئرنگ کا نظام قائم ہوتا ہے، دفاعی صنعتیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑتی ہیں اور مشترکہ کمانڈ و رابطہ کاری کے مؤثر ادارے تشکیل پاتے ہیں تو یہ معاہدہ مسلم دنیا کے اجتماعی دفاع کے ایک بڑے تصور کی بنیاد بن سکتا ہے۔ جیساکہ ترکی کی جانب سے مصر کے ساتھ بھی رابطوں کا ذکر سامنے آیا ہے۔
اگر مصر، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا یا دوسرے مسلم ممالک مختلف سطحوں پر دفاعی تعاون کے نظام میں شامل ہوتے ہیں تو مسلم دنیا کے پاس ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل پانے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے جو صرف عسکری اعتبار سے نہیں بلکہ سیاسی، اقتصادی اور تکنیکی اعتبار سے بھی اہم ہو۔
اس معاہدے نے عالمی سطح پر نئی اسٹریٹجک بحث کو جنم دیا ہے ۔ بعض تجزیوں میں اسے پاکستان کے لیے ایک اضافی سفارتی اور دفاعی وزن کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس حوالےسے بھارت اسرائیل نے باقاعدہ اعلیٰ سطحی رابطے بھی قائم کیےہیں ۔
اس موقع پر اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ امتِ مسلمہ کو اس وقت مزید جنگوں سے بڑھ کرایسی طاقت کی ضرورت ہے جو جنگ کو روک سکے۔
قرآن مجید نے مسلمانوں کو باہمی اختلاف سے بچنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا ہے[5]۔ اسلام کا اجتماعی تصور صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ نظم، تعاون، مشاورت، ذمہ داری اور باہمی نصرت کا تقاضا بھی کرتا ہے۔
مکہ معاہدے کی اصل روح بھی اسی وقت مضبوط ہوسکتی ہے جب تینوں ممالک ایک دوسرے کی طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کی کمزوریوں کو دور کریں۔
پاکستان کے پاس افرادی اور عسکری تجربہ ہے۔ترکیہ کے پاس دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور جدید عسکری تحقیق کا وسیع تجربہ ہے۔اور سعودی عرب کے پاس غیر معمولی مالی وسائل، توانائی کی قوت، جغرافیائی اہمیت اور عالمِ اسلام میں منفرد مذہبی و سیاسی مقام ہے۔
اگر مکہ دفاعی تعاون کو ایک حقیقی اور پائیدار قوت بنانا ہے تو اسے مسلم دنیا کے وسیع تر اقتصادی، علمی اور صنعتی تعاون کے ساتھ جوڑنا ہوگا ۔
اگر یہ تینوں قوتیں ایک دوسرے کی تکمیل بن جائیں تو اس تعاون کے اثرات محض فوجی میدان تک محدود نہیں رہیں گے۔بلکہ زندگی کے تمام شعبوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان شاء اللہ
اس معاہدے کی سب سے بڑی علامتی اہمیت شاید یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں میں ایک نئے تصور کو جنم دیا ہے کہ مسلم ممالک اپنی سلامتی کے معاملات میں زیادہ خود انحصار ہوسکتے ہیں۔
طویل عرصے سے مسلم دنیا کے بہت سے ممالک اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بڑی طاقتوں پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ اس انحصار نے کئی مرتبہ ان کی خارجہ پالیسی کو محدود کیا۔اگر مسلم ممالک اپنی مشترکہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں تو وہ عالمی طاقتوں سے دشمنی کیے بغیر اپنے لیے زیادہ متوازن اور باوقار خارجہ پالیسی اختیار کرسکتے ہیں۔
اس معاہدے میں ’’ مکہ ‘‘ کا نام بھی ایک علامتی معنی رکھتا ہے۔اگر اس سرزمین پر ہونے والا یہ دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کو باہمی احترام، اتحاد، تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کی طرف لے جاتا ہے تو اس کی معنوی اہمیت ایک سیاسی معاہدے سے کہیں بڑھ کر زندگی کے تمام شعبوں میں تعاون کی اساس بن سکتا ہے ۔
کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنا آسان مرحلہ ہوتا ہے، اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
اس پورے معاملے میں پاکستان کی ذمہ داری خاص طور پر اہم ہے۔اسے اپنی جوہری صلاحیت کو محض طاقت کے اظہار کے بجائے ذمہ دارانہ دفاعی ڈیٹرنس کے طور پر برقرار رکھنا ہوگا۔ اپنی روایتی فوجی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت اور سفارت کاری کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔
ماضی میں مختلف مسلم ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں پاکستان نے کردار نہایت شاندار رہا ہے۔ اب اگر پاکستان اپنے تجربے کی بنیاد پر سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرتا ہے اور دوسرے مسلم ممالک کے ساتھ بھی تعمیری تعلقات کو آگے بڑھاتا ہے تو اس کا عالمی کردار یقیناً بڑھ سکتا ہے۔
یہ معاہدہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس کے عملی اثرات آنے والے برسوں میں مزید واضح ہوں گے۔ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک اسے کس حد تک ادارہ جاتی شکل دیتے ہیں اور دفاعی تعاون کو محض اعلانات سے نکال کر عملی منصوبوں میں تبدیل کرتے ہیں۔
بہرحال اس معاہدے نے ایک اہم پیغام ضرور دیا ہے:
مسلم دنیا اگر اپنی قوتوں کو منتشر رکھنے کے بجائے ایک دوسرے کے تجربات، وسائل، ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے تو وہ عالمی نظام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو صرف جذباتی اتحاد نہیں بلکہ علم کا اتحاد، معیشت کا اتحاد، ٹیکنالوجی کا اتحاد، سفارت کاری کا اتحاد اور دفاعی تعاون درکار ہے۔
اگر مکہ معاہدہ اس بڑے سفر کا پہلا قدم ہے۔ اگر اس کے بعد مزید مسلم ممالک بھی باہمی اعتماد، خودمختاری، امن، دفاع اور تعاون کے اصولوں پر آگے بڑھتے ہیں تو ممکن ہے کہ آج کا یہ چھوٹا سا دائرہ کل ایک وسیع تر مسلم دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد بن جائے۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جغرافیائی اہمیت، افرادی قوت، عسکری صلاحیت اور جوہری دفاع جیسی غیر معمولی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ ان صلاحیتوں کا بہترین استعمال یہی ہے کہ پاکستان امتِ مسلمہ کے اندر اختلافات کم کرنے، دفاعی خود انحصاری بڑھانے، مظلوموں کے لیے مؤثر سفارتی آواز بننے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔
دعا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ہونے والا یہ معاہدہ محض کاغذ پر لکھی ہوئی چند سطروں تک محدود نہ رہے بلکہ حقیقی امن، باہمی اعتماد، دفاعی خود انحصاری اور امتِ مسلمہ کے بہتر مستقبل کا ذریعہ بنے۔
اللہ تعالیٰ بلادِ اسلامیہ کی حفاظت فرمائے، مسلم ممالک کو باہمی اتحاد و اتفاق نصیب فرمائے، مسلمانوں کو علم، سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت اور دفاع کے میدانوں میں ترقی عطا فرمائے، مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور تمام مسلم ممالک کو استحکام اورترقی کی شاہراہ پر چلائے آمین
(حافظ ابتسام الٰہی ظہیر )
[1] صحيح بخاری :2892
[2] صحيح مسلم :1913
[3] سنن ترمذی :1639
[4] صحيح بخاری :2908، صحيح مسلم :2307
[5] سورۃ آل عمران : 103