مولانا امین احسن اصلاحی کی
مفسرین اور فقہا پر الزام تراشیاں اور ان کی حقیقت
مولانا امین احسن اصلاحی کی
مفسرین اور فقہا پر الزام تراشیاں اور ان کی حقیقت
پروفیسر محمد رفیق
علم و دانش کی دنیا بڑی وسیع ہے ، نت نئی دنیائیں دریافت ہوتی رہتی ہیں ۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جو نئی چیز دریافت کرے دنیا کے سامنے پیش کرے اور اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ قدیم نظریات پر تنقید کرے ۔ البتہ اس حوالے سے ایک بات ذہن میں رہے کہ سائنسی دریافتوں اور دینی علوم میں ایک واضح فرق ہے ۔ سائنس کا میدان انسانی تجربات کا میدان ہے ، ممکن ہے کہ کوئی سائنس کا ماہر اور تجربہ کار علم کے سمندر میں دوسروں سے زیادہ گہرائی میں غوطہ زن ہو اور پہلوں سے مختلف چیز نکال لائے یا جو قدیم نظریات کو غلط ثابت کردے۔لیکن دینی علوم کا منبع قرآن و سنت ہے ، کوئی نیا منبع ایجاد کیا جاسکتا ہے نہ قرآن و سنت میں وارد کسی چیز کا انکار کیا جاسکتا ہے ۔ انسان کی تمام تر علمی تگ ودو قرآن و سنت کی حدود میں رہے گی ۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی غامق جوہری کوئی گوہر نایاب ڈھونڈ لائے ، کوئی نکتہ ور نیا نکتہ پیش کردے ، کوئی کھوجی دور کی کوڑی کھوج لائے جس سے پہلے لوگ ناواقف ہوں ، لیکن ایسا ممکن نہیں کہ چودہ سو سالہ تاریخ میں صحابہ کرام سے لے کر آج تک کروڑوں علماء کرام میں سے کسی ایک نے بھی قرآن مجید کی آیت یا کسی حدیث رسول کا درست مفہوم سمجھا ہی نہیں ہو ۔ کوئی شخص اٹھے اور نعرہ لگادے کہ مجھ سے پہلے سب جاہل تھے ، قرآن و سنت کو درست طریقے سے سمجھنے کی مجھ سے پہلے کسی میں صلاحیت ہی نہ تھی ۔
متجددین اور منکرین حدیث کا یہی طریقہ واردات اور انداز تکلم ہے وہ اپنے سے پہلے تفہیم دین پر زندگیاں کھپانے والے تمام علماء کرام کو یک قلم غلط اور گنوار قرار دے دیتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بغیر وہ امت سے الگ تھلگ نظریات کو پیش نہیں کرسکتے ۔
مولانا امین احسن اصلاحی کے مبلغ علم کا حال آپ گذشتہ شمارے میں دیکھ چکے ہیں ، اس کے علی الرغم انہوں نے امت کے مفسرین کرام کے بارے میں متجددین اور منکرین حدیث کی طرح اپنی جن’’ علمی اور قیمتی‘‘ آراء کا اظہار کیا ہے ، انہیں بھی ملاحظہ فرمالیجئے :
- سورۃ المؤمن (40/51) کی آیت
﴿اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ۰۰۵۱﴾ [المؤمن: 51]
’’ بے شک ہم مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی اور اس دن بھی بھی مدد کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔‘‘
کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین کرام کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ
’’ اس آیت کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑی الجھن پیش آئی ہے ، اس لیے کہ اس میں نہایت صراحت کے ساتھ اس بات کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں بھی مدد فرماتا ہے ۔ اس الجھن کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات کے سامنے وہ فرق واضح طور پر نہیں ہے جو رسول اور نبی کے درمیان ہے [1]۔‘‘
- سورۃ مریم (19/71) کی آیت :
﴿وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّاۚ۰۰۷۱﴾ [مريم: 71]
’’ اور تم میں سے کوئی نہیں جس کا دوزخ پر سے گزر نہ ہو۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے طے شدہ
بات ہے ۔‘‘
کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں :
’’ آیت کی یہ تاویل بالکل واضح ہے لیکن ہمارے مفسرین نے اس کا مخاطب تمام بنی نوع انسان کو مان لیا ہے ، چنانچہ وہ ہر شخص کے لیے ، خواہ نیک ہو یا بد ، جہنم سے گزرنا ضروری قرار دیتے ہیں ۔ بس اتنی خیریت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جہنم پر پل صراط کے نام سے ایک پل ہوگا جس پر سے نیک لوگ تو گزر جائیں گے ، البتہ وہ لوگ جہنم میں پڑے چھوڑ دیے جائیں گے جو برے ہوں گے۔ یہ غلط فہمی مفسرین کو صرف اسلوبِ کلام کے نہ سمجھنے کے سبب سے ہوئی ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ ان کی اکثر لغزشیں اسی چیز کا نتیجہ ہیں ۔‘‘
- سورۃ الصافات (37/28) کی تفسیر کے تحت لکھا ہے کہ :
’’ ﴿ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْيَمِيْنِ۰۰۲۸﴾ کے ٹکڑے کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑی الجھن پیش آئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات اسلوبِ کلام کی اس ندرت کو نہیں سمجھ سکے جو یہاں ملحوظ ہے [2]۔‘‘
- سورۃ الاحزاب (33/49-52) کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں :
’’ اس مجموعہ ٔ آیات (49-52) کے پس منظر کو بھی اچھی طرح ذہن نشیں کر لیجئے کہ اس میں بھی بڑا ایجاز ہے جس کے سبب سے مفسرین کو بڑی الجھن پیش آئی ہے [3]۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ صاحب تدبر قرآن جملہ مفسرین کرام کے بارے میں درج ذیل آراء رکھتے ہیں :
- ان حضرات کو نبی اور رسول کا فرق معلوم نہیں ۔
- یہ حضرات عربیت کے اسلوبِ کلام اور ا س کی ندرت کو نہیں سمجھتے ۔
- یہ حضرات قرآن کے اسلوب ’’ایجاز ‘‘ سے ناواقف ہیں ۔
اب ہم ان کی ان آراء کا علمی جائزہ لیں گے :
صاحب تدبر قرآن کی رائے میں نبی اور رسول کے درمیان یہ فرق ہے کہ کوئی نبی تو کسی وقت قتل ہوسکتا ہے مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا ۔ مگر مفسرین کے نزدیک نبی اور رسول میں اس طرح کا کوئی فرق نہیں ہوتا ، بلکہ وہ قرآن کے نصوص کی بنیاد پر یہ مانتے ہیں کہ یہود نے بعض رسولوں کو قتل بھی کیا تھا جیساکہ سورۃ البقرۃ (2/87) ، سورۃ آل عمران (3/183) اور سورۃ المائدۃ (5/70) سے ثابت ہے ۔ ہم اس مسئلے پر اسے پہلے ’’ تفسیر کی غلطیاں ‘‘ کے عنوان کے تحت تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں ۔
جہاں تک ان کی اس الزام تراشی کا تعلق ہے کہ جملہ مفسرین نہ تو عربیت کے اسلوب کلام ہی سے واقف تھے اور نہ قرآن کے اسلوب ایجاز سے ، تو اس بارے میں ہم صرف یہ عرض کریں گے کہ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں
اب امت ِ مسلمہ کے فقہا ء کرام کے بارے میں بھی صاحب تدبر قرآن کی ’’ گوہر افشانیاں ‘‘ اس سے پہلے ’’تفسیر کی غلطیاں ‘‘ کے عنوان کے تحت ہم نے صاحب تدبر قرآن کی کی بعض غلطیوں کی نشاندھی کرتے ہوئے ان کی اس غلطی بلکہ گمراہی کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے جو وہ شادی شدہ زانی کے لے حدِ رجم کی شرعی سزا کو نہیں مانتے ۔
لیکن تعجب ہے کہ اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے سورۃ النور (24/2) کی تفسیر کے تحت تمام فقہاء اسلام کی متفقہ رائے اور اجماع کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’ ہمارے فقہا کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے مجرم کی حالتوں میں سے ایک حالت کو مناطِ حکم قرار دے دیا ، درآں حالیکہ اس کا تعلق مناطِ حکم سے نہیں ہے، اس طرح کی چیزیں تو ہر جرم کی سزا نافذ کرتے وقت ملحوظ رکھی جاتی ہیں [4]۔ ‘‘
اور اسی مسئلے پر بحث کے دوران میں امتِ مسلمہ کے تمام فقہا کی اخلاقیات کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ :
’’ ہمارے فقہا میں یہ بڑی کمزوری ہے کہ جب وہ اپنے حریف سے مناظرہ پر آتے ہیں تو جو اینٹ پتھر انہیں ہاتھ آجائے وہ اس کے سر پر دے مارتے ہیں ۔ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ اس کی زد خود دین پر کہاں تک پڑتی ہے[5] ۔‘‘
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ایک ایسا آدمی امت کے جملہ مفسرین کرام اور تمام فقہائے عظام کے خلاف زبان درازی کرتا ہے جس کے اپنے مبلغِ علم کا حال یہ ہے کہ
- اسے لقب اور کنیت کا فرق معلوم نہیں [6]۔
- جو ہمیں اطلاع دیتا ہے کہ وہ ابلیس مرچکا ہے جس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا [7]۔
- جسے بُعد المشرقین (مشرق و مغرب کی دوری ) کے معنیٰ معلوم نہیں [8]۔
- جو فرشتوں کو بھی انسانوں اور جنات کی طرح شرعی طور پر مکلف سمجھتا ہے [9]۔
- جسے یہ علم نہیں کہ قرآن کی ایک سے زیادہ (سبعہ یا عشرہ ) متواتر قراءتیں ہیں[10] ۔
- جو قرآن کے حروف مقطعات کو ان سورتوں کے نام قرار دیتا ہے جن کے شروع میں وہ وارد ہوئے ہیں اور اس طرح وہ ’’ الم ‘‘ کو سورۃ البقرۃ ، سورۃ آل عمران ، سورۃ العنکبوت اور سورۃ الروم کا ایک ہی مشترکہ نام قررا دیتا ہے [11]۔
- جو سورۃ الاخلاص کی فضیلت میں وارد صحیح حدیث کہ یہ سورۃ ثلث قرآن کے برابر ہے کو ’’ عارفوں کا قول ‘‘ سمجھتا ہے [12]۔
- جو قرآنی آیات کے فواصل (آخری ہم آہنگ الفاظ ) کو شاعری کے قافیے قرار دیتا ہے [13]۔
- جسے یہ تک معلوم نہیں کہ سورۃ الفاتحہ سات آیات پر مشتمل سورۃ ہے [14]۔
- جو احادیث قدسیہ سمیت سینکڑوں احادیث صحیحہ کا منکر ہے اور شادی شدہ زانی کے لیے سنت اور اجماع سے ثابت حد رجم کا انکاری ہے [15]۔
- جسے اصول فقہ کی اصطلاح ’’ اجماع ‘‘ کی صحیح تعریف تک معلوم نہیں [16]۔
- جسے ’’ ید ‘‘ (ہاتھ ) اور ’’ اید ‘‘ (طاقت و قدرت ) جیسے الفاظ کے معنیٰ کا فرق معلوم نہیں [17]۔
- جو یہ نہیں جانتا کہ صحیح حدیث کی رو سے گناہ گار مسلمان جہنم میں اپنی سزا بھگتنے کے بعد بالآخر جنت میں داخل ہوں گے [18]۔
- جو قرآن میں مذکور انبیاء کے معجزات کو تسلیم نہیں کرتا اور ان کی غلط تاویلیں کرتا ہے [19]۔
ایسے شخص کو کیونکر یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کے محترم اکابر مفسرین اور فقہائے کرام کے خلاف زبان درازی کرے ، ان کے فہم و بصیرت پر طعن کرے ، ان کی اخلاقیات پر عیب لگائے اور دین میں انہیں ساقط الاعتبار ٹھہرائے ؟
ایاز قدر خود بشناس !
آخر میں ہم عرض کریں گے کہ ’’ تفسیر تدبر قرآن ‘‘ بنیادی طور پر ایک بدعی ، باہم متناقص اور متنازعہ تفسیر ہے جس کے مصنف نے ٹھیک ٹھیک تفسیر بالرائے مذموم کا ارتکاب کیا ہے۔
اس موقع پر اصلاحی صاحب کے متعلق دوسرے علماء کی آرا بھی لی جائیں :
- اصلاحی صاحب کے ایک ہمدرد ناقد اور جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے سابق رکن اور مرکزی رہنما و امیر مولانا گوہر رحمن مرحوم نے ان کے اور ان کے استاذ مونالا فراہی کے بارے میں لکھا ہے کہ :
’’ مولانا فراہی اور ان کے ترجمان مولانا اصلاحی عربیت کے ماہر تھے اور عربی لغات پر ان کو عبور حاصل تھا لیکن احادیث رسول ﷺ ، آثار صحابہ و تابعین اور امت مسلمہ کے ہزاروں محدثین ، مفسرین اور فقہا کے تدبر و تفقہ کو نظر انداز کرکے ، یا ان پر صرف ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر خالص اپنی عربی دانی کی بنیاد پر تفسیر کرنا اور اسلاف کے تدبر کو پس پشت ڈال کر صرف اپنے اور اپنے شیخ کے تدبر پر اعتماد کرنا بہت بڑی خود اعتمادی اور بے احتیاطی ہے جو کبھی کبھی خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے [20]۔‘‘
- پروفیسر ڈاکٹر ابو ہشام محمد ادریس اپنی کتاب ’’ قرآن کریم اور اس کے چند مباحث ‘‘ میں تفہیم تدبر قرآن کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ تدبر قرآن : مولانا امین احسن اصلاحی اس تفسیر کے مؤلف ہیں۔ آٹھ جلدوں کی یہ ایک ضخیم اردو تفسیر ہے۔ یہ تفسیر بہت عمدہ ہوتی اگر سلف صالحین کے منہج کے مطابق لکھی جاتی ۔ اس لئے کہ مؤلف کا قلم اپنے مدعا کو بیان کرنے میں جاندار ہے۔ تفسیر میں قرآن کی تفسیر قرآنی آیات سے کی گئی ہے مگر استشہاد کے طور پر عربی محاورات ، اشعار اور لغت کو زیادہ اہمیت دی ہے جب کہ ان عربی محاورات اور اشعار کے مآخذ کا علم تک نہیں ہوتا کہ کہاں سے مستفاد ہیں۔ حدیث رسول سے استشہاد پوری کتاب میں شاید دو چار مقامات میں ہو۔ حالانکہ صاحب کتاب کی سیرت اور زمانہ وحالات ذکر کئے بغیر کوئی بھی تفسیر گہنی سی ہوتی ہے۔ مولانا مرحوم نے اپنی تفسیر کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی ہے گو وہ جدید سہی مگر ان میں معتزلی خیالات کی بھر پور تر جمانی کا حق ادا کر دیا ہے۔ اسی تجدد کا رنگ یا نتیجہ ہے کہ تفسیر میں نصوص سے استدلال کی کمی اور عقلی ترجیح نمایاں نظر آتی ہے۔ نظم قرآن، آیات و سور کا باہمی ربط تدبر قرآن کی جان ہیں اور بہترین و عمدہ انداز میں اس کو واضح کیا گیا ہے۔
مولانا نے بعض اجماعی مسائل کو اپنے فہم کے مطابق سخت کلامی کے ساتھ رد کیا اور متنازعہ بھی بنا دیا اور جوانداز گفتگو اس موقع پر اپنایا وہ مولانا جیسے پایہ کے عالم دین کو زیب نہیں دیتا۔ حروف سبعہ پر بھی مولانا کو خاصا اعتراض تھا ، امام زہری جیسے بلند پایہ محدث و بہادر فقیہ سے مستشرقین کی طرح انہیں بھی کد تھی ، رجم محصن جیسے اجتماعی مسئلے سے بھی کھلا اختلاف رکھتے تھے۔ احادیث رسول کو مشکوک بنانے میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ مزاج کی سختی نے انہیں کسی بھی عالم ، فقیہ، محدث، مفسر سے استفادہ یا ان کے ذکرِ خیر کی سبیل نہیں دکھائی۔ محض اپنی منفر دفکر کے عاشق تھے اور اس کے راہی ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس تفسیر کے مثبت و منفی اثرات دونوں سے قاری کو آگاہ کرے۔ آمین[21]۔
- مسلک اہل حدیث کے معروف عالم مولانا صلاح الدین یوسف اصلاحی صاحب کے متعلق کھتے ہیں:
’’ اصلاحی صاحب دنیا سے جاچکے ہیں ، اب ان سے کس نے بغض و عناد رکھا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ وہ شروح بخاری (دو جلدیں ) اور تفسیر تدبر قرآن (9 جلدیں) کی صورت میں گمراہی کا بہت بڑا پلندہ چھوڑ گئے ہیں [22]۔‘‘
’’ تدبر قرآن گمراہانہ افکار کی ایک شاہ کار تفسیر ہے لیکن ابھی عام لوگوں سے یہ حقیقت مخفی ہے ۔‘‘
’’ ہمارے نزدیک وہ (اصلاحی صاحب ) برصغیر پاک و ہند کے خطرناک ترین منکر حدیث ہیں [23]۔‘‘
سیدنا مسیح کا مشہور فرمان ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اصلاحی صاحب کی فکر خبیثہ کے شجر سے جاوید غامدی ، خالد ظہیر ، خورشید ندیم اور عمار یاسر جیسے برگ و بار پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے مقتدا و پیشوا کی گمراہیوں میں اضافے کرکے اسے ضلالتوں کی انتہا تک پہنچادیا ہے ۔
[1] تدبر قرآن :7/49
[2] تدبر قرآن :6/463
[3] تدبر قرآن :6/248
[4] تدبر قرآن :5/374
[5] تدبر قرآن : 5/367
[6] تدبر قرآن : 9/632
[7] تدبر قرآن : 9/677
[8] تدبر قرآن : 7/222-223
[9] تدبر قرآن : 1/164-165
[10] تدبر قرآن :5/99-8/7،8
[11] تدبر قرآن :1/81،83۔ 2/9۔4/188
[12] تدبر قرآن :9/649
[13] تدبر قرآن :6/388- 9/515
[14] تدبر قرآن :4/376،377
[15] تدبر قرآن :7/91۔5/374
[16] تدبر قرآن :2/325
[17] تدبر قرآن :7/626
[18] تدبر قرآن :2/361
[19] تدبر قرآن : 5/71
[20] علوم القرآن : 2/646 ، ناشر مکتبہ تفہیم القرآن ، مردان
[21] ابو ہشام ، قرآن کریم اور اس کے چند مباحث ، ص 281-282
[22] مولانا امین احسن اصلاحی (اپنے حدیثی و تفسیری نظریات کی روشنی میں ) ص 46 ، المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر ، کراچی
[23] ایضا ، ص 134